اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۴)
آن لائن دائرۃ المعارف ویکی پیڈیا سے ماخوذ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

باب اول: شخصیت و کردار

نام و نسب اور کنیت و لقب

حضرت عمر رضی اللہ عنہ قریش کے خاندان بنو عدی سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد کا نام خطاب بن نفیل اور والدہ کا نام حنتمہ بنت ہاشم بن مغیرہ تھا۔ آپ کا نسب آٹھویں پشت میں عدی بن کعب کے مقام پر رسول اللہ ﷺ کے نسب مبارک سے جا ملتا ہے، اس طرح حضرت عمرؓ اور رسول اکرمؐ قریشی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مشہور کنیت ’’ابو حفص‘‘ تھی۔ روایات کے مطابق غزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروقؓ کی شجاعت، رعب اور پختگی کو دیکھتے ہوئے انہیں اس کنیت سے پکارا تھا، کیونکہ عربی زبان میں شیر کے بچے کو حفص کہتے ہیں۔ 

حضرت عمرؓ کا سب سے معروف لقب ’’فاروق‘‘ ہے، جس کے معنی ہیں حق اور باطل میں فرق کرنے والا، اس لیے کہ آپ کے اسلام لانے سے حق کو کھل کر اظہار کا موقع ملا اور مسلمانوں کو قوت حاصل ہوئی۔ روایات کے مطابق کنیت کی طرح یہ لقب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عطا کردہ ہیں۔ خلافت کے زمانے میں آپ ’’امیر المؤمنین‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے، اور تاریخ میں یہ لقب اختیار کرنے والے اولین خلیفہ شمار ہوتے ہیں۔

حلیہ مبارک اور لباس و غذا

حضرت عمر رضی اللہ عنہ بلند قامت، مضبوط جسم اور رعب دار شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کا رنگ گندمی مائل سفید تھا۔ جسمانی قوت اور جلالتِ شان ایسی تھی کہ دور سے ہی آپ کی شخصیت نمایاں دکھائی دیتی تھی۔ آپ کے کندھے چوڑے، ہاتھ پاؤں مضبوط اور آواز بلند تھی۔ چلتے تو تیزی اور وقار کے ساتھ چلتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں آپ اپنی ہیبت، جلال اور قوتِ ارادی کے اعتبار سے منفرد مقام رکھتے تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سادگی اور زہد کا عملی نمونہ تھے۔ خلافت جیسی عظیم ذمہ داری سنبھالنے کے باوجود آپ کا لباس نہایت سادہ ہوتا تھا، اکثر پیوند لگے ہوئے کپڑے استعمال فرماتے، عربوں کے قدیم طرز کے جوتے پہنتے، اور بیت المال سے اپنے لیے کسی قسم کی شاہانہ آسائش پسند نہ کرتے تھے۔ 

خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطابؓ کی روزمرہ کی خوراک انتہائی سادہ، معمولی اور زاہدانہ تھی۔ وہ بیت المال سے خود کو صرف اتنے وظیفے کا حقدار سمجھتے تھے جس سے ایک عام شہری کا گزارا ہو سکے۔ان کی روزمرہ غذا جَو کی خشک موٹی روٹی ہوتی تھی، جس پر زیتون کا تیل مل کر کھا لیا کرتے تھے، یا روٹی پر پگھلی ہوئی چربی یا گھی لگا لیتے تھے۔ حضرت عمرؓ کا طرز عمل اس اصول کے مطابق تھا کہ رعایا جس معیارِ زندگی پر ہو حاکم کو بھی اسی معیار پر رہنا چاہیے۔

ذریعۂ معاش اور ملکیت

اسلام قبول کرنے سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ تجارت سے وابستہ تھے اور مختلف علاقوں، مثلاً شام اور یمن کے تجارتی سفر کیا کرتے تھے۔ آپ لکھنا پڑھنا جانتے تھے، جو اس دور میں ایک خاص امتیاز سمجھا جاتا تھا۔ خلافت کے زمانے میں آپ نے اپنی ذاتی ضروریات کے لیے بیت المال سے صرف مقررہ وظیفہ لیا اور ذاتی کاروبار کو محدود کر دیا۔ آپ کے پاس کچھ زمینیں اور جائیدادیں بھی تھیں، جن میں خیبر کی زمین مشہور ہے جسے آپ نے اللہ کی راہ میں وقف کر دیا تھا۔

ازواج

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مختلف ادوار میں متعدد نکاح کیے۔ ان میں نمایاں ازواج درج ذیل ہیں:

  • زینب بنت مظعونؓ — آپ کی ابتدائی اور مشہور زوجہ تھیں۔ ان سے عبد الرحمٰنؓ، عبد اللہؓ، اور حفصہؓ پیدا ہوئے۔
  • ملیکہ بنت جرول — نکاح زمانۂ جاہلیت میں ہوا تھا۔ اسلام قبول نہ کرنے کے باعث بعد میں علیحدگی ہو گئی۔
  • قریبۃ بنت ابی امیہ — یہ بھی ابتدائی دور کی زوجہ تھیں۔ اسلام قبول نہ کرنے کی وجہ سے صلح حدیبیہ کے بعد علیحدگی ہوئی۔
  • جمیلہ بنت ثابتؓ (جن کا نام پہلے عاصیہ تھا) — انصار میں سے تھیں۔ ان سے عاصم بن عمرؒ پیدا ہوئے۔
  • عاتکہ بنت زیدؓ — مشہور صحابیہ تھیں، حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد حضرت زبیر بن العوامؓ کے نکاح میں آئیں۔
  • اُمِّ حکیم بنت حارثؓ — بعض روایات میں ان کا ذکر حضرت عمرؓ کی ازواج میں ملتا ہے۔
  • اُمِّ کلثوم بنت علیؓ — حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کی صاحبزادی تھیں، جن سے خاندان نبوت کے ساتھ نسبت پیدا کرنے کے لیے نکاح کیا۔ ان سے زیدؓ اور رقیہؓ پیدا ہوئے۔

ان ازواج سے آپ کی متعدد اولادیں ہوئیں اور ہر نکاح اپنے دور کے سماجی اور خاندانی حالات کے مطابق تھا۔

اولاد

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اولاد میں کئی جلیل القدر شخصیات شامل ہیں۔ 

بیٹوں میں:

  • عبد اللہ بن عمرؓ — مشہور صحابی، عبادت و اتباعِ سنت میں نہایت معروف، اور کثرت سے احادیث روایت کرنے والے جلیل القدر راوی تھے۔
  • عبید اللہ بن عمرؓ — ابتدائی اسلامی تاریخ میں معروف، اور بعض روایات کے مطابق انہوں نے حضرت عثمانؓ کے دور میں سیاسی و عسکری معاملات میں حصہ لیا۔
  • عاصم بن عمرؒ — تابعین میں شمار ہوتے ہیں، زہد و تقویٰ کے لیے معروف، اور ان کی نسل سے بعد میں حضرت عمر بن عبد العزیزؒ پیدا ہوئے۔
  • عبد الرحمٰن بن عمرؓ — ان کا ذکر تاریخی کتب میں کم تفصیل سے ملتا ہے اور وہ زیادہ تر نجی و خاندانی زندگی سے منسلک رہے۔
  • زید بن عمرؓ — ان کا انتقال کم عمری یا نوجوانی میں ہو گیا تھا، اس لیے ان کا تذکرہ تاریخی مصادر میں مختصر ملتا ہے۔

بیٹیوں میں:

  • حفصہ بنت عمرؓ  — نبی کریمؐ کی ازواجِ مطہرات میں شامل ہیں۔ قرآنِ مجید کے مصحف کی حفاظت میں اہم کردار کی وجہ سے اسلامی تاریخ میں نہایت بلند مقام رکھتی ہیں۔
  • رقیہ بنت عمرؓ — ان کا ذکر بعض تاریخی مصادر میں ملتا ہے، تاہم ان کی زندگی اور حالات کے بارے میں کم تفصیل دستیاب ہے۔

حضرت عمرؓ کی اولاد میں بالخصوص حضرت عبد اللہؓ اور حضرت حفصہؓ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اسلامی علوم میں مہارت کے ساتھ ساتھ زہد و تقویٰ میں بھی ممتاز مقام رکھتے تھے۔ جبکہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہونے کا شرف حاصل ہے اور ان کا شمار قرآنِ کریم کے ابتدائی صحائف کی محافظات میں ہوتا ہے۔

باب دوم: عہدِ جاہلیت و قبولِ اسلام (مکی زندگی)

قبل از اسلام حالات

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ ہجرتِ نبوی سے تقریباً چالیس سال پہلے پیدا ہوئے۔ بچپن اور نوجوانی کے حالات زیادہ واضح نہیں ملتے، تاہم جوانی میں آپ نے عرب معاشرے کے روایتی علوم و فنون جیسے نسب شناسی، سپہ گری، پہلوانی، خطابت اور خصوصاً گھڑ سواری میں مہارت حاصل کی۔ آپ نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا اور دورِ جاہلیت میں لکھنے پڑھنے والے چند افراد میں شامل تھے۔ پھر آپ نے تجارت کو ذریعہ معاش بنایا، مختلف علاقوں کے سفر کیے جس سے آپ کو وسیع تجربہ اور معاملہ فہمی حاصل ہوئی۔ انہی خوبیوں کی وجہ سے قریش نے آپ کو سفارتی ذمہ داریاں بھی دیں اور قبائلی تنازعات کے حل کے لیے آپ کو بطور نمائندہ بھیجا جاتا تھا۔

حضرت عمرؓ ستائیس سال کے لگ بھگ تھے جب اسلام کا ظہور ہوا۔ ابتدا میں انہوں نے سخت مخالفت کی، حتیٰ کہ اپنی ایک کنیز پر بھی سختی کی جس نے اسلام قبول کیا تھا۔ تاہم ان سختیوں کے باوجود اسلام کی دعوت کو روکا نہ جا سکا اور لوگ مسلسل اسلام قبول کرتے رہے۔ حضرت عمرؓ ابتدا میں اپنے خاندان اور قریش کے دوسرے سرداروں کی طرح دینِ اسلام کے سخت مخالف تھے اور مسلمانوں کو اپنا آبائی دین چھوڑنے کی وجہ سے ناپسند کرتے تھے۔ چنانچہ جب مسلمانوں کی مخالفت کا سلسلہ جاری تھا تو وہ اس میں پیش پیش رہے اور قریش کے نقطۂ نظر کے حامی تھے، جو نئے دین کو قریش کے اتحاد کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔

ابو جہل کی طرح عمر بن خطاب بھی قریش کے ان با اثر افراد میں سے تھے جو اسلام اور نبی کریم کی دشمنی میں سب سے آگے تھے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر انہی دونوں کے لیے یہ دعا فرمائی کہ خدایا! اسلام کو ابوجہل یا عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کے ذریعے عزت دے۔ اللہ رب العزت نے یہ دولت حضرت عمرؓ کے مقدر میں لکھ دی اور چند ہی دنوں بعد سب سے بڑا دشمن دینِ اسلام کا مددگار اور رسول اکرمؐ کا جان نثار بن گیا۔

قبولِ اسلام اور مابعد

نبوت کے چھٹے سال عمر بن خطاب کی زندگی میں ایک عظیم انقلاب آیا۔ روایات کے مطابق قریش کی زبردست مخالفت کے ماحول میں ایک روز انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کا ارادہ کر لیا۔ لیکن راستے میں حضرت نعیم بن عبد اللہؓ مل گئے جنہوں نے بتایا کہ ان کی اپنی بہن حضرت فاطمہ بنت خطابؓ اور بہنوئی حضرت سعید بن زیدؓ اسلام قبول کر چکے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ فوراً اپنی بہن کے گھر پہنچے جہاں ان کی بہن قرآن مجید کی تلاوت کر رہی تھیں۔ حضرت عمرؓ کے پہنچنے پر وہ خاموش ہوگئیں اور تلاوت کے صحیفے چھپا دیے، لیکن آواز ان کے کانوں میں پڑ چکی تھی۔ اس موقع پر پوچھ گچھ کے دوران حضرت عمرؓ کی اپنے بہنوئی کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس میں حضرت فاطمہؓ زخمی ہو گئیں، لیکن انہوں نے کہا کہ عمر جو چاہو کر لو مگر اسلام دل سے نہیں نکل سکتا۔ اس پر حضرت عمرؓ نرم پڑ گئے۔ پھر انہوں نے خواہش کی کہ جو قرآن پڑھا جا رہا تھا وہ انہیں سنایا جائے۔ ان کی بہن نے چند آیات انہیں سنائیں۔ اللہ کی قدرت کی قرآنی آیات سننے پر ان کے دل میں نرمی پیدا ہوئی اور وہ بے اختیار کلمۂ شہادت پڑھنے پر آمادہ ہو گئے۔

اس کے بعد حضرت عمرؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں معلوم کیا کہ آپ کہاں موجود ہیں۔ حضورؐ اس وقت صحابہ کرامؓ کے ساتھ دارِ ارقم میں مقیم تھے۔ حضرت عمرؓ وہاں پہنچے تو تلوار ان کے ہاتھ میں تھی، جس سے صحابہؓ کو کچھ تردد ہوا، مگر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسے اندر آنے دو، اگر خیر کے ارادے سے آیا ہے تو بہتر، ورنہ اسی کی تلوار سے اس کا معاملہ ختم کر دوں گا۔ جب حضرت عمرؓ اندر داخل ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عمر! کس ارادے سے آئے ہو؟ اللہ کے نبی کی پُراثر آواز سن کر حضرت عمرؓ پر رعب طاری ہوگیا اور انہوں نے نہایت عاجزی سے عرض کیا کہ وہ ایمان لانے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے ’’اللہ اکبر‘‘ فرمایا جس کی آواز سے اردگرد کی فضا گونج اٹھی اور صحابہ کرامؓ خوشی سے نہال ہو گئے۔

اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایمان کو خفیہ رکھنے کے بجائے کھلے عام اس کا اعلان کیا۔ انہوں نے قریش کی مخالفت اور ظلم و ستم کی پروا نہ کی اور مسلمانوں کو حرمِ کعبہ میں علانیہ نماز ادا کرنے کا حوصلہ دیا۔ ان کے اسلام لانے سے مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوئے اور اسلام کی دعوت زیادہ قوت کے ساتھ آگے بڑھنے لگی۔ مکہ مکرمہ کے بقیہ قیام کے دوران آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھرپور ساتھ دیا، کفار کی ایذا رسانیوں کا مقابلہ کیا اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہے۔

ہجرتِ مدینہ کے وقت بھی آپ نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کیا۔ جہاں اکثر مسلمان خفیہ طور پر ہجرت کر رہے تھے، وہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسلح ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کیا اور پھر علانیہ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اس طرح مکی دور کے اختتام تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام کے مضبوط ترین ستونوں اور رسول اکرمؐ کے نہایت وفادار ساتھیوں میں شمار ہونے لگے تھے۔

باب سوم: عہدِ رسالت و اشاعتِ اسلام (مدنی زندگی)

ہجرتِ مدینہ

جوں جوں مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا، اسی نسبت سے مشرکینِ قریش کے دلوں میں ان کے خلاف مخالفت اور دشمنی میں بھی شدت آتی گئی۔ ابتدا میں وہ زیادہ تر جاہلانہ جذبات اور وقتی غصے کے تحت مسلمانوں کو اذیت دیتے تھے، تاہم وقت کے ساتھ ان کے رویے میں تبدیلی آ گئی۔ اب ان کی مخالفت محض جذباتی نہیں رہی تھی بلکہ اس کے پیچھے معاشی مفادات اور سیاسی حکمتِ عملی بھی کارفرما تھی، جس کی بنا پر وہ مسلمانوں کی قوت کو کمزور کرنے کے درپے ہو گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر مسلمان اس دور میں اپنے ایمان پر استقامت نہ دکھاتے اور صبر و ثابت قدمی کا مظاہرہ نہ کرتے تو ایسے نامساعد حالات میں اپنے مقصد اور مشن پر قائم رہنا ان کے لیے نہایت دشوار بلکہ تقریباً ناممکن ہوتا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے بعد تقریباً ساڑھے چھ برس تک قریش کے مظالم جھیلتے رہے۔ جب مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت ملی تو وہ بھی اس سفر کے لیے تیار ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر وہ چند ساتھیوں کے ہمراہ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے، لیکن اس شان سے کہ پہلے مشرکین کے مجمعوں سے گزرتے ہوئے خانہ کعبہ پہنچے، اطمینان سے طواف کیا، نماز پڑھی، پھر مشرکین سے کہا: جس کا مقابلہ کرنے کا جذبہ ہو، وہ مکہ سے باہر آ کر مقابلہ کر لے۔ مگر کسی میں جرات نہ ہوئی، اور حضرت عمر مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔

مدینہ پہنچ کر وہ قبا میں حضرت رفاعہ بن عبدالمنذرؓ کے مہمان ہوئے۔ ان کے بعد بہت سے صحابہؓ نے ہجرت کی، یہاں تک کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مکہ کی وادیوں سے نکل کر مدینہ کی وادیوں میں جا پہنچے۔ نبی اکرمؐ نے مدینہ تشریف لانے کے بعد مہاجرین کا انصار کے ساتھ مواخات کا انتظام فرمایا۔ یعنی مکہ سے ہجرت کرنے والے صحابہ کرامؓ کا مدینہ کے مقیم صحابہ کرامؓ کے ساتھ بھائی چارہ قائم کر دیا۔ اس موقع پر انصار نے بے مثال ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مہاجر بھائیوں کو اپنے مال و اسباب میں آدھے کا حصہ دار بنا لیا۔ چنانچہ حضرت عمر کے برادرِ اسلام حضرت عتبان بن مالکؓ بنے، جو قبیلۂ بنی سالم کے معزز سردار تھے۔ جبکہ بعض روایات میں حضرت معاذ بن عفراءؓ کا ذکر بھی حضرت عمرؓ کے مواخاتی بھائی کے طور پر آتا ہے۔

مدینہ کا حال مکہ جیسا نہ تھا۔ یہاں اب آزادی اور اطمینان کا دور تھا۔ مسلمانوں کی تعداد روز بروز بڑھنے لگی تھی اور اب وقت آ گیا تھا کہ دین کے فرائض اور ارکان کو واضح اور متعین کیا جائے۔ نماز کا وقت ہوتا تو لوگ اندازے سے مسجد میں جمع ہو جاتے، مگر باقاعدہ اعلان کا کوئی واضح طریقہ موجود نہ تھا۔ بعض صحابہؓ نے مشورہ دیا کہ نماز کے وقت اعلان کے لیے کوئی مناسب طریقہ اختیار کیا جائے تاکہ سب لوگ آسانی سے جمع ہو سکیں۔ کچھ صحابہؓ نے ناقوس بجانے کی رائے دی، کچھ نے آگ روشن کرنے کا مشورہ دیا، مگر نبی کریمؐ نے ان طریقوں کو پسند نہیں فرمایا کیونکہ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کے طریقوں سے مشابہت رکھتے تھے۔ اسی دوران ایک انصاری صحابی حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب میں دکھایا گیا کہ ایک شخص نے ان کے پاس آ کر انہیں اذان کے الفاظ سکھائے۔ وہ صبح اٹھے اور فوراً نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا خواب عرض کیا۔ اسی دوران معلوم ہوا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی تقریباً اسی طرح کا خواب دیکھا ہے اور وہ بھی اس کی تائید کر رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ یہ سچا خواب ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اسی طریقے کو پسند فرمایا ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اپنی خوبصورت اور بلند آواز کے لیے مشہور تھے، چنانچہ آپؐ نے انہیں بلا کر اذان کے الفاظ سکھائے اور حکم دیا کہ نماز کے وقت یہی الفاظ بلند آواز سے کہے جائیں۔ حضرت بلالؓ نے پہلی اذان دی اور مدینہ کی فضا ’’اللہ اکبر، اللہ اکبر‘‘ کی صداؤں سے گونج اٹھی۔ یوں اسلام میں نماز کے اعلان کا بابرکت اور مستقل طریقہ یعنی اذان مقرر ہوا۔

غزوات

مدینہ طیبہ میں سب سے پہلا معرکہ بدر کا پیش آیا۔ اس جنگ میں حضرت عمرؓ اپنی رائے، تدبر، جانبازی اور پامردی کے ہر لحاظ سے نبی کریمؐ کے دست و بازو رہے۔ اس غزوہ میں حضرت عمرؓ نے اپنے رشتے کے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کر کے اس عزم و روایت کو تقویت دی کہ اسلام کے مقابلے میں قرابت اور محبت کے رشتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ بدر کا میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ قریش کے کم و بیش ستر آدمی مارے گئے اور تقریباً‌ اتنی ہی تعداد قیدیوں کی تھی جن میں قریش کے بعض سردار بھی تھے۔ چنانچہ یہ بحث چھڑ گئی کہ ان قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ لیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے۔ مگر حضرت عمرؓ نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ان سب کو قتل کر دینا چاہیے، اور وہ بھی اس طرح کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے ہاتھوں سے اپنے عزیز کو قتل کرے۔ نبی کریمؐ کی شفقت و رحمت نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی رائے کو پسند کیا اور قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا۔ مگر بعد میں قرآن کریم میں اس بارے میں یہ تنبیہ نازل ہوئی کہ کسی نبی کے لیے مناسب نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک وہ زمین میں خونریزی نہ کر لے۔

بدر کے بعد مدینہ کے یہودیوں سے لڑائی ہوئی اور انہیں جلاوطن کر دیا گیا۔ اسی طرح غزوہ سویق اور دیگر چھوٹے معرکے پیش آئے، اور حضرت عمرؓ ہر جنگ میں سرگرم رہے۔

پھر شوال ۳ ہجری میں احد کا معرکہ آیا۔ ایک طرف قریش کی تعداد تین ہزار تھی، جن میں دو سو سوار اور سات سو زرہ پوش تھے، جبکہ دوسری طرف مسلمانوں کی کل تعداد صرف سات سو تھی۔ سات شوال بروز ہفتہ لڑائی شروع ہوئی۔ نبی کریم نے حضرت عبد اللہ بن جبیرؓ کو پچاس تیر اندازوں کے ساتھ ایک پہاڑی کے درہ میں اور مسلم لشکر کے عقب میں تعینات کر دیا تھا تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کر سکے۔ مسلمانوں نے کافروں کی صفیں تہہ و بالا کر دیں، کفار شکست کھا کر بھاگنے لگے۔ لیکن مالِ غنیمت جمع ہوتے دیکھ کر ان میں سے اکثر تیر اندازوں نے یہ سمجھ کر اپنی جگہ چھوڑ دی کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔ اسی موقع پر خالد بن ولید نے، جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، عقب سے زوردار حملہ کر دیا۔ مسلمان اپنی غفلت میں اس اچانک حملے کو روک نہ سکے۔ یہاں تک کہ کفار خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئے حتیٰ کہ آپؐ کے دندان مبارک شہید ہو گئے، پیشانی پر زخم آیا اور رخساروں میں زرہ کڑیاں دھنس گئیں۔ جب جنگ کا رخ کسی قدر ہلکا ہوا تو نبی کریمؐ چند فدائیوں کے ساتھ پہاڑ پر تشریف لے گئے۔ اسی دوران خالد بن ولید کو ایک دستے کے ساتھ آتے دیکھ کر آپؐ نے فرمایا کہ خدایا! یہ لوگ یہاں تک نہ آنے پائیں۔ اس موقع پر حضرت عمرؓ ان جان نثار صحابہ میں شامل تھے جنہوں نے نبی کریمؐ کے دفاع میں ثابت قدمی دکھائی۔ ابو سفیان، جو قریش کا سالار تھا، درہ کے قریب پہنچ کر پکارنے لگا کہ کیا محمد اس گروہ میں ہیں؟ نبی کریم نے اشارے سے منع فرمایا کہ کوئی جواب نہ دے۔ ابو سفیان نے پھر عمر اور ابوبکر کا نام لے کر پوچھا۔ اور جب کوئی جواب نہ ملا تو بولا کہ ضرور یہ لوگ مارے گئے ہیں۔ اس پر حضرت عمرؓ سے نہ رہا گیا اور انہوں نے پکار کر کہا: اے دشمنِ خدا! ہم سب زندہ ہیں۔ اس پر ابو سفیان نے اپنے بتوں کا نعرہ لگایا تو نبی کریمؐ نے حضرت عمرؓ کو اللہ کے نام کا نعرہ لگانے کا حکم دیا۔

احد کے بعد ۳ ہجری میں حضرت عمرؓ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ ان کی صاحبزادی حضرت حفصہؓ نبی کریمؐ کے نکاح میں آئیں۔ ۴ ہجری میں بنو نضیر کو ان کی بدعہدی کی وجہ سے مدینہ سے جلاوطن کیا گیا اور اس واقعے میں بھی حضرت عمرؓ شریک رہے۔

۵ ہجری میں غزوہ خندق پیش آیا۔ روایات کے مطابق جب قریش اور دیگر قبائل کی بڑی فوج مدینہ پر حملہ آور ہونے کے لیے جمع ہو رہی تھی تو صحابہ کرامؓ میں مختلف دفاعی حکمتِ عملیاں زیر غور آئیں۔ اس موقع پر حضرت سلمان فارسیؓ نے فارس (ایران) کے جنگی طریقۂ دفاع کا ذکر کیا کہ وہاں بڑے حملوں سے بچنے کے لیے شہر کے گرد خندق کھود لی جاتی ہے۔ نبی کریمؐ نے اس تجویز کو پسند فرمایا اور اسی کے مطابق مدینہ کے شمالی حصے میں خندق کھودنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کام میں تمام صحابہؓ نے خود حصہ لیا اور یوں مسلمانوں نے ایک غیر معمولی دفاعی حکمتِ عملی کے ذریعے دشمن کا مقابلہ کیا۔ نبی کریم نے خندق کے کنارے صحابہؓ کو تعینات کیا تو ایک حصہ پر حضرت عمرؓ کو مامور کیا۔ ایک دن کافروں کے مقابلے میں حضرت عمرؓ اتنے مصروف رہے کہ عصر کی نماز قضا ہوتے ہوتے بچی۔ جب نبی کریمؐ کے پاس آ کر عرض کیا کہ آج کافروں نے نماز پڑھنے کا بھی موقع نہ دیا، تو آپؐ نے فرمایا کہ میں نے بھی اب تک عصر کی نماز نہیں پڑھی۔ جب اس محاصرے اور مقابلے کو تین چار ہفتے گزر گئے تو آخرکار اللہ تعالیٰ نے شدید آندھی کے ذریعے دشمن کے لشکر کو منتشر کر دیا، اور یوں یہ محاصرہ اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام ہو کر واپس پلٹ گیا۔

بیعتِ رضوان اور صلحِ حدیبیہ

۶ ہجری میں نبی کریم نے ارادہ فرمایا کہ کعبہ کی زیارت کریں۔ اس خیال سے کہ کسی کو لڑائی کا شبہ نہ ہو، آپؐ نے حکم دیا کہ کوئی ہتھیار باندھ کر نہ چلے۔ ذوالحلیفہ پہنچ کر حضرت عمرؓ کو خیال آیا کہ دشمنوں کے درمیان غیر مسلح جانا ٹھیک نہیں ہے۔ نبی کریم نے ان کی رائے کے مطابق مدینہ سے اسلحہ منگوا لیا۔ مکہ کے قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ قریش نے عہد کر لیا ہے کہ مسلمانوں کو مکہ میں قدم رکھنے نہیں دیں گے۔ نبی کریمؐ لڑائی نہیں چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے حضرت عثمان بن عفانؓ کو سفیر بنا کر بھیجا، لیکن قریش نے انہیں اپنے پاس روک لیا۔ جب کئی دن گزر گئے تو یہ خبر مشہور ہو گئی کہ وہ شہید کر دیے گئے ہیں۔ یہ خبر سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو صحابہؓ سے جہاد پر بیعت لی۔ قرآن مجید میں اس واقعے کے متعلق کہا گیا ہے کہ اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپؐ سے بیعت کر رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے بیعت سے پہلے ہی لڑائی کی تیاری شروع کر دی تھی، خبر ملی کہ نبی کریمؐ بیعت لے رہے ہیں، چنانچہ فوراً حاضر ہوئے اور جہاد کے لیے دستِ اقدس پر بیعت کی۔

آخر کار بہت بحث و تکرار کے بعد قریش اور مسلمانوں کے درمیان ایک معاہدے پر اتفاق ہو گیا۔ اس معاہدے میں یہ شرط بھی تھی کہ اگر قریش کا کوئی آدمی نبی کریم کے پاس چلا جائے تو اسے واپس کر دیا جائے گا، لیکن اگر مسلمانوں کا کوئی شخص قریش کے ہاتھ آ جائے تو اسے واپس نہ کرنے کا اختیار ہوگا۔ یہ شرط سن کر حضرت عمرؓ کی غیور طبیعت بے حد مضطرب ہوئی۔ وہ خود نبی کریمؐ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ جب ہم حق پر ہیں تو باطل سے اتنا دب کر کیوں صلح کریں؟ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں اور خدا کے حکم کے خلاف نہیں کر سکتا۔ بعد میں حضرت عمرؓ کو اپنی گفتگو پر ندامت ہوئی اور اس کے کفارہ میں انہوں نے صدقہ خیرات کیا۔ بالآخر یہ صلح کا معاہدہ لکھا گیا جس پر حضرت عمرؓ نے بھی دستخط کیے۔ مدینہ واپسی پر راستے میں سورۃ ’’انا فتحنا لک فتحا مبینا‘‘ نازل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو بلا کر یہ سورۃ سنائی اور فرمایا کہ آج ایسی سورہ نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔

۷ ہجری میں خیبر کا واقعہ پیش آیا۔ یہاں یہودیوں کے بڑے مضبوط قلعے تھے۔ پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ سپہ سالار ہوئے، پھر حضرت عمرؓ کو اس خدمت پر مامور کیا گیا، لیکن یہ فخر حضرت علی المرتضٰیؓ کے حصے میں آیا کہ رسول اکرمؐ نے انہیں عَلم عطا کیا اور ان کے ہاتھوں خیبر کا سردار مرحب مارا گیا اور خیبر فتح ہوا۔ نبی کریمؐ نے خیبر کی زمین مجاہدوں میں تقسیم کر دی۔ ایک ٹکڑا، جسے ثمغ کہتے تھے، حضرت عمرؓ کے حصے میں آیا۔ انہوں نے اس زمین کو اللہ کی راہ میں وقف کر دیا۔ یہ اسلامی تاریخ کے اولین اور مشہور اوقاف میں شمار ہوتا ہے۔

فتحِ مکہ

حدیبیہ کا معاہدہ جب قریش نے توڑ دیا تو ابو سفیان مدینہ آیا اور معذرت کی۔ وہ حضرت ابوبکرؓ اور پھر حضرت عمرؓ کے پاس بھی گیا کہ معاملہ طے کر دیں۔ مگر حضرت عمرؓ نے اس قدر سختی سے جواب دیا کہ وہ بالکل ناامید ہو گیا۔ اس کے بعد نبی کریم نے دس ہزار مجاہدین کے ساتھ رمضان ۸ ہجری میں مکہ کا قصد کیا۔ قریش میں مقابلے کی طاقت نہ تھی، اس لیے انہوں نے مزاحمت نہ کی۔ نبی کریم نہایت جاہ و جلال کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے اور کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا۔ پھر حضرت عمرؓ کو ساتھ لے کر مقامِ صفا پر لوگوں سے بیعت لینے کے لیے تشریف لائے۔ لوگ جوق در جوق آتے اور بیعت کرتے جاتے۔ جب عورتوں کی باری آئی تو نبی کریمؐ نے حضرت عمرؓ کو اشارہ کیا کہ تم ان سے بیعت لو۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے عورتوں کا ہاتھ چھوئے بغیر سورۃ الممتحنہ کی آیت ۱۲ میں مذکور شرائط کے مطابق ان سے درج ذیل باتوں کا عہد لیا تھا: 

  1. شرک نہ کرنا: اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔
  2. چوری نہ کرنا: نہ کسی عام چیز کی چوری کریں گی اور نہ شوہر کے مال میں خیانت کریں گی۔
  3. بدکاری/ زنا نہ کرنا: پاکدامنی کی زندگی گزاریں گی۔
  4. اولاد کو قتل نہ کرنا: جاہلیت کی طرح اپنی اولاد کو غربت یا عار کے خوف سے قتل یا دفن نہیں کریں گی۔
  5. بہتان نہ باندھنا: کسی پر جھوٹا الزام یا بہتان نہیں لگائیں گی۔
  6. نافرمانی نہ کرنا: معروف (دینی فرائض) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی نافرمانی نہیں کریں گی۔

غزوۂ حنین اور سفرِ تبوک

فتح مکہ کے بعد اسی سال ۸ ہجری میں ہوازن اور ثقیف کے قبائل کے ساتھ وہ معرکہ پیش آیا جو غزوۂ حنین کے نام سے مشہور ہے۔ مسلمانوں کا لشکر تقریباً بارہ ہزار افراد پر مشتمل تھا، اور بعض مسلمانوں کو اپنی کثرتِ تعداد پر فخر محسوس ہوا۔ تاہم وادی حنین میں دشمن کی اچانک تیراندازی اور گھات کے حملے سے ابتدا میں مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا ہو گیا۔ اس نازک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم اور ڈٹے رہنے والے صحابہ کرامؓ میں حضرت عمرؓ بھی شامل تھے۔ بعد ازاں مسلمان دوبارہ منظم ہوئے، بھرپور جوابی حملہ کیا اور اللہ تعالیٰ کی نصرت سے نمایاں فتح حاصل کی، جس کے نتیجے میں بہت سا مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔

پھر ۹ ہجری میں تبوک کا سفر ہوا۔ یہ خبر مشہور ہوئی کہ قیصر روم عرب پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے۔ نبی کریمؐ نے تمام صحابہؓ کو تیاری کا حکم دیا اور مالی اعانت کی ترغیب دلائی۔ بہت سے صحابہؓ نے بڑی رقمیں پیش کیں۔ حضرت عمرؓ نے اس موقع پر اپنے سارے مال و املاک کا آدھا حصہ لا کر نبی کریم کی خدمت میں پیش کیا۔ اسلحہ اور سامانِ رسد مہیا ہو جانے کے بعد مجاہدین نے تبوک کا رخ کیا۔ وہاں پہنچے تو دشمن مقابلے پر نہ آیا، چنانچہ چند روز قیام کے بعد سب لوگ واپس آ گئے۔

سریے اور اہم مہمات

غزوات کے علاوہ بھی حضرت عمرؓ مختلف سریوں اور اہم مہمات میں شریک رہے، جہاں انہوں نے اپنی غیرمعمولی شجاعت اور صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کی حیثیت مستحکم ہونے لگی، تو نبی کریم نے مختلف قبائل اور علاقوں میں چھوٹے چھوٹے دستے بھیجے۔ ان سریوں میں حضرت عمرؓ بھی شامل ہوتے۔ ان میں سے ایک اہم مہم سریہ نجد کی تھی، جس میں مسلمانوں نے دشمن قبائل کے خلاف کارروائی کی۔ اسی طرح جب قبیلہ بنو نضیر نے مدینہ میں غداری کی تو ان کے خلاف جو کارروائی ہوئی، اس میں بھی حضرت عمرؓ پیش پیش رہے۔ ان یہودیوں کو ان کی بدعہدی کی پاداش میں مدینہ سے جلاوطن کیا گیا۔ غزوہ خندق کے بعد جب مسلمانوں نے قبیلہ بنو قریظہ کے قلعوں کا محاصرہ کیا تو حضرت عمرؓ نے اس معرکے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی موجودگی نے مجاہدین کے حوصلے بلند کیے۔ صلح حدیبیہ کے بعد جب خیبر کی طرف پیش قدمی ہوئی تو اس مہم میں بھی حضرت عمرؓ نے اپنی بہادری کے جوہر دکھائے، اگرچہ قلعوں کو توڑنے کا فخر حضرت علیؓ کو حاصل ہوا۔ فتح مکہ کے بعد جب غزوہ حنین پیش آیا تو حضرت عمرؓ اس معرکے میں بھی ثابت قدم رہے۔ اسی طرح طائف کی طرف پیش قدمی میں بھی وہ نبی کریمؐ کے ہمرکاب تھے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری حج کیا، تو حضرت عمرؓ اس عظیم اجتماع میں بھی شریک تھے اور انہوں نے آخری خطبہ سن کر پوری امت تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

ان تمام محاذوں پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو ثابت قدمی اور جانفشانی کا مظاہرہ کیا، وہ بعد میں ان کی خلافت کے دور میں بھی نظر آیا۔ ان کی قیادت میں اسلامی ریاست نے غیر معمولی وسعت حاصل کی، اور حضرت عمرؓ کے دور کی فتوحات صرف جنگی قوت کا نتیجہ نہیں تھیں بلکہ انتظام، سیاست، فوجی حکمتِ عملی اور اس وقت کی بین الاقوامی صورتحال بھی اس کے عوامل تھے۔

وفاتِ رسولؐ اور خلافتِ ابی بکرؓ

۱۰ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ اس مبارک سفر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ حج سے واپسی کے بعد ربیع الاول کے آغاز میں رسول اکرمؐ علیل ہو گئے۔ تقریباً دس دن تک یہ کیفیت رہی، پھر ۱۲ ربیع الاول کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال فرمایا۔ آپؐ کی وفات کی خبر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر بجلی بن کر گری۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس صدمے سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ اللہ کے رسول دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ جو شخص یہ کہے گا کہ رسول اللہ کا انتقال ہو گیا ہے، وہ اس کی گردن اڑا دیں گے۔ ان کی یہ کیفیت شدید محبت، غم اور اضطراب کا نتیجہ تھی، نیز یہ اندیشہ بھی تھا کہ کہیں منافقین اس نازک موقع سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں میں انتشار نہ پھیلا دیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت کے مسئلے پر انصار کا ایک اجتماع سقیفہ بنی ساعدہ میں منعقد ہوا، جس سے ایک نازک صورتحال پیدا ہو گئی۔ ایسے وقت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بروقت وہاں پہنچے۔ انہوں نے نہایت دانشمندی، تدبر اور حسنِ استدلال کے ساتھ انصار اور مہاجرین کے درمیان گفتگو کی اور امت کو انتشار سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ طویل بحث و مباحثے کے بعد حضرت عمرؓ نے سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کی، جس کے بعد دیگر صحابہ کرامؓ نے بھی ان کی بیعت کر لی۔ اس طرح امتِ مسلمہ ایک بڑے اختلاف اور ممکنہ انتشار سے محفوظ رہی۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت تقریباً سوا دو سال تک قائم رہی۔ اس مختصر مگر نہایت اہم دور میں پیش آنے والے تمام بڑے معاملات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے معتمد ترین مشیر اور معاون رہے۔ قرآنِ مجید کی تدوین کا عظیم الشان کام بھی حضرت عمرؓ کی تجویز اور مسلسل اصرار کے نتیجے میں انجام پایا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے دورِ خلافت میں حضرت عمرؓ کی صلاحیتوں، فہم و فراست، عدل و انصاف اور انتظامی قابلیت کا قریب سے مشاہدہ کیا تھا، اس لیے انہیں یقین ہو گیا تھا کہ خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے حضرت عمرؓ سے زیادہ موزوں شخصیت موجود نہیں۔ چنانچہ اپنی وفات کے قریب انہوں نے اکابر صحابہ کرام سے مشورہ کرنے کے بعد حضرت عمرؓ کو اپنا جانشین نامزد کر دیا اور انہیں ایسی قیمتی نصیحتیں فرمائیں جو بعد میں ان کے دورِ خلافت میں بہترین رہنمائی اور دستورِ عمل ثابت ہوئیں۔

سیرت و تاریخ

اقساط

(الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۷

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۳)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۴)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

کیا سنن دارقطنی علل کی کتاب ہے؟
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

محاضراتِ فقہ (۲)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۷)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۴)
محمد سراج اسرار

’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘
محمد فہد حارث
محمد بلال ابراہیم بربری

اوقات ضائع کرنے کا موبائل فون سے بڑا راستہ کوئی نہیں
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

شب بیداری: برکتیں، انعامات اور فلاح
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت
مفتی سید انور شاہ

کاروباری خسارے: اسباب، حکمتیں اور حل
مولانا عبد المتین

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۱)
حافظ مجددی

ہماری جامعات میں اسلامی قانون کی تعلیم
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

امریکہ اور اسرائیل نے اپنی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے
پروفیسر جان میئرشائیمر
ٹکر کارلسن

مغرب — یہود مخالف کیسے بنا؟
حامد میر

ترکیہ اور اسرائیل کے دشمنی میں بدلنے والے دوستانہ تعلقات
میپ اینڈ مِتھ

بھارت: سیاسی صورتحال اور تہذیبی مسائل
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

Arab Nationalism and Its Impact on the Muslim World
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

تلاش

شماریات