کاروباری خسارے: اسباب، حکمتیں اور حل

کاروباری طبقے سے وابستہ افراد موجودہ مالی و معاشی بحران کے دور میں چند بنیادی باتیں پیش نظر رکھیں تو اس سے کام کرنے، حالات کو جاننے اور معاملات کو بہتر انداز میں چلانے میں آسانی ہو گی ان شاء اللہ۔

نظام الاوقات کی تقسیم کا اثر پوری زندگی پر

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ اپنے نظام الاوقات کو تقسیم کریں۔ اس میں اپنی نیند کا وقت، عبادت کا وقت، گھر والوں اور لوگوں کی خدمت کا وقت، اور کام کا وقت الگ الگ مقرر کریں۔ جب سب چیزیں ایک دوسرے میں خلط ملط ہو جاتی ہیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ کوئی کام درست طریقے سے ہو پاتا ہے اور نہ ہی گھر اور کاروبار کا نظام صحیح رہتا ہے۔ جب معاملات گڈمڈ ہو جائیں تو انسان ذہنی طور پر بھی پریشان ہو جاتا ہے، اور اس کی وجہ سے کاموں کی درست انجام دہی بھی متاثر ہوتی ہے۔ 

خاص طور پر جب نیند پوری نہ ہو، جب گھر والوں کو وقت نہ دیا جائے، یا جب لوگوں کے حقوق ادا نہ کیے جائیں اور میل جول مناسب نہ ہو، تو یہ چیزیں بھی ذہنی دباؤ اور پریشانی کا سبب بنتی ہیں۔ آپ اس بات کو اچھی طرح جان لیں کہ جسمانی مضبوطی سے زیادہ ضروری ذہنی مضبوطی اور ذہنی سکون ہے۔ کیونکہ جب انسان کی نیند متاثر ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں دماغ بھی کمزور ہوتا ہے، جسم بھی کمزور ہوتا ہے، اور بڑے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔ زیادہ سونا بھی نقصان دہ ہے اور کم سونا بھی مسائل کا سبب بنتا ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔

کاروباری امور کے چند بنیادی تقاضے

دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب آپ کسی کاروبار یا معاملے کا آغاز کریں تو استخارہ بھی کریں۔ یہ دیکھیں کہ آیا یہ کام مجھے کرنا چاہیے یا نہیں؟ کیا یہ کام میرے مزاج، صلاحیت اور حالات کے مطابق ہے یا نہیں؟ کیا اس کام کے لیے مجھ میں اہلیت و قابلیت موجود ہے؟ کیا میں اسے اچھے انداز میں انجام دے سکتا ہوں؟ اور کیا مجھے اس کام سے شوق اور دلچسپی بھی ہے یا نہیں؟ ان تمام چیزوں کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ صرف کام شروع کر دینا کافی نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ بہت سی دوسری چیزوں کو بھی سمجھنا پڑتا ہے۔

پھر ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ آپ اپنے کاروبار اور معاملات کی نگرانی خود کرتے ہیں یا کسی اور کے سپرد کر دیتے ہیں؟ اگر انسان اپنے کاموں پر خود نظر رکھے تو اس سے بہت فرق پڑتا ہے۔ کاموں کی نگرانی کرنا، ان کا حساب رکھنا، انہیں لکھنا، اور مستقل جائزہ لینا کامیابی کی بڑی علامت ہے۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے۔ 

بعض اوقات انسان کا کام بالکل درست ہوتا ہے، سب کچھ بظاہر ٹھیک چل رہا ہوتا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ کام مخلص لوگوں کے سپرد نہیں ہوتا۔ معاونین، منشی، مشورہ دینے والے یا ہاتھ بٹانے والے افراد بعض اوقات مخلص نہیں ہوتے، یا ذہنی طور پر کاروبار کے مقصد کے ساتھ جڑے ہوئے نہیں ہوتے۔ بعض لوگ آپ کے کام کے لیے وہ جذبۂ خلوص نہیں رکھتے جو خود آپ اپنے کام کے لیے رکھتے ہیں، اور اس وجہ سے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

چنانچہ پہلی ترجیح یہ ہو کہ انسان خود نگرانی کرے، اور دوسری یہ کہ مخلص، خیر خواہ اور قابل لوگوں کا انتخاب کرے۔ یاد رکھیں! صرف نیک ہونا کافی نہیں، قابل ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی دیانت دار تو ہو لیکن کام کرنا نہ جانتا ہو، تب بھی نقصان ہے۔ اور اگر کوئی کام کرنا جانتا ہو لیکن دیانت دار اور امانت دار نہ ہو، تب بھی نقصان ہے۔ اس لیے دیانت اور قابلیت، دونوں کا ہونا ضروری ہے۔

دنیا دنیا ہے، جنت نہیں ہے

تیسری اہم بات یہ سمجھنے کی ہے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے لیے بنائی ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی آزمائش میں مبتلا ہے، البتہ آزمائشوں کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ کسی کو مالی آزمائش دی جاتی ہے، کسی کو جسمانی بیماریوں میں مبتلا کیا جاتا ہے، کسی کو اولاد کی آزمائش پیش آتی ہے، کسی کو کاروبار اور روزگار کے مسائل درپیش ہوتے ہیں، کسی کو غربت کا سامنا ہوتا ہے، اور کسی کو زندگی گزارنے کی بنیادی ضروریات میں تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا ہر انسان کسی نہ کسی طریقے سے آزمائش میں ہے۔ یہ دنیا کا وہ قانون ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے، اور یہاں آزمائش کا نظام چلتا ہے، جبکہ مکمل انصاف کا قانون آخرت میں نافذ ہوگا۔

دنیا میں ہمیشہ ’’دو جمع دو چار‘‘ والا معاملہ نہیں ہوتا کہ انسان محنت کرے اور لازماً فائدہ ہی حاصل ہو، ایسا ہونا ضروری نہیں۔ آپ اپنے اردگرد بے شمار مثالیں دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ بہت کم محنت کرتے ہیں لیکن بہت زیادہ نفع کماتے ہیں، جبکہ بعض لوگ انتہائی محنت کے باوجود مناسب آمدنی حاصل نہیں کر پاتے۔ بعض اوقات تو انسان اپنی پوری کوشش کے باوجود مطلوبہ نتائج نہیں دیکھ پاتا۔ اس لیے ان معاملات کو سمجھنا  اور تسلیم کرنا ضروری ہے، تاکہ انسان ہر نقصان کو صرف اپنی ناکامی نہ سمجھے بلکہ اللہ کی حکمت کو بھی پیشِ نظر رکھے۔

آزمائشیں اور اللہ تعالیٰ کا قرب

ایک اہم بات یہ بھی سمجھنے کی ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو زیادہ آزمائشوں میں مبتلا فرماتے ہیں، اور انہی آزمائشوں کے ذریعے انہیں اپنے زیادہ قریب کر لیتے ہیں۔ بعض اوقات ایک انسان بیس سال عبادت کر کے اللہ تعالیٰ کے قرب کا ایک مقام حاصل کرتا ہے، لیکن دوسری طرف ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو شاید اتنی عبادت نہ کر پائے، مگر اس پر سخت آزمائشیں اور مصیبتیں آتی ہیں، اور وہ ان پر صبر کرتا ہے، برداشت کرتا ہے، لوگوں کے سامنے شکوہ شکایت نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اس کے صبر کی وجہ سے بلند درجات عطا فرماتے ہیں۔ بعض اوقات ایک لمحے کا صبر انسان کو وہ مقام عطا کر دیتا ہے جو طویل عبادتوں سے بھی حاصل نہیں ہوتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ آزمائشوں میں بندے کا صبر دیکھتے ہیں، اور جب بندہ ثابت قدم رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرما دیتے ہیں۔

مشکلات کا روحانی فائدہ

یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ اگر انسان کو ہر وقت آسانیاں ہی آسانیاں ملتی رہیں، ہر خواہش پوری ہوتی رہے، اور زندگی میں کوئی مشکل نہ آئے، تو اکثر انسان اللہ تعالیٰ سے غافل ہو جاتا ہے۔ لیکن جب انسان مشکلات، پریشانیوں اور آزمائشوں کا شکار ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب آتا ہے، دعا کرتا ہے، فریاد کرتا ہے، اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کرتا ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اپنے قریب کرنا چاہتے ہیں، اس لیے اسے آزمائشوں میں ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہو، اس سے مانگے، اس کے سامنے گڑگڑائے، اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کرے۔ مشکل حالات میں اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا بعض اوقات زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی اللہ تعالیٰ حالات ایسے پیدا فرما دیتے ہیں کہ بندہ اپنے رب کی طرف پلٹ آئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کا مانگنا پسند ہے۔

صبر کا اجر اور آخرت کی کامیابی

احادیثِ مبارکہ میں ان لوگوں کے لیے بڑی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں جو آزمائشوں میں صبر کرتے ہیں، خصوصاً وہ لوگ جو ہر شخص کے سامنے واویلا اور شکوہ شکایت نہیں کرتے۔ اگر کسی کو اللہ تعالیٰ مالی یا جسمانی آزمائش میں مبتلا کرے اور وہ صبر اختیار کرے، لوگوں کے سامنے مسلسل شکوہ نہ کرے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے، تو اللہ تعالیٰ اس صبر کو پسند فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندے کو آزمائش میں دیکھتے ہیں کہ اس نے صبر کیا، اور نعمت کے وقت شکر کیا، تو یہ بندہ اللہ کے ہاں بلند درجات کا مستحق بن جاتا ہے۔ یہ بات یاد رکھیں: اللہ تعالیٰ دے کر بھی آزماتے ہیں اور لے کر بھی آزماتے ہیں۔

ہم بخوبی جانتے ہیں کہ یہ دنیا ہی سب کچھ نہیں ہے، بلکہ اصل زندگی آخرت کی ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ جو لوگ دنیا میں صبر کرتے ہیں، آخرت میں انہیں ایسا عظیم اجر و ثواب دیا جائے گا کہ وہ تمنا کریں گے: کاش! دنیا میں ہم پر مزید آزمائشیں آتیں اور ہم ان پر صبر کرتے، تاکہ آج ہمیں مزید بلند درجات حاصل ہوتے۔ اس وقت انسان کو اندازہ ہوگا کہ صبر کا مقام کتنا بلند اور اس کا اجر کتنا عظیم تھا۔

اسی طرح احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جب ایک انسان جنت میں داخل ہوگا اور جنت کی راحتوں میں سے صرف ایک ہوا کا جھونکا اسے محسوس ہوگا تو اس سے پوچھا جائے گا: ’’کیا تم نے دنیا میں کبھی کوئی تکلیف دیکھی تھی؟‘‘ وہ جواب دے گا: ’’اللہ کی قسم! مجھے دنیا کی کوئی تکلیف یاد نہیں رہی۔‘‘ یعنی جنت کی ایک نعمت دنیا کی تمام پریشانیوں، دکھوں اور مصیبتوں کو بھلا دے گی۔

شکر کے کرشمے

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں نعمتوں کے بڑھنے کا سب سے بڑا ذریعہ شکر کو قرار دیا ہے۔ شکر ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے پاس موجود نعمتوں پر زیادہ غور کرے، ان کی قدر کرے، ان کا احساس کرے۔ اور جو چیزیں اس کے پاس موجود نہیں ہیں ان کے بارے میں ضرورت سے زیادہ پریشان نہ ہو۔ البتہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوشش چھوڑ دی جائے۔ انسان کوشش بھی کرے، بہتر حالات کی فکر بھی کرے، اور پریشانی کا احساس بھی ایک حد تک فطری ہے، لیکن اپنی پوری توجہ صرف محرومیوں پر مرکوز نہ کرے بلکہ ان نعمتوں کو بھی دیکھے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمائی ہیں۔ 

ذرا غور کریں! ایسی بے شمار نعمتیں ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں مگر بہت سے لوگ ان سے محروم ہیں۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس رہنے کے لیے مناسب گھر نہیں، بہت سے لوگ کاروبار کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، بعض کے پاس سرمایہ نہیں، بہت سے لوگ بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ان کے پاس کوئی آمدنی نہیں، اور بے شمار لوگ صحت، گھریلو مسائل یا دیگر پریشانیوں کا شکار ہیں۔

اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے سے کم تر حالات والے لوگوں پر بھی نظر رکھے۔ اس سے انسان کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزوں سے مجھے نوازا ہے جن سے دوسرے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ جو بندہ شکر ادا کرے گا، اللہ اس کی نعمتوں میں اضافہ فرمائے گا۔ یعنی انسان جتنا زیادہ اپنی موجودہ نعمتوں کی قدر کرے گا، اللہ تعالیٰ اتنا ہی اس کے لیے خیر اور برکت کے دروازے کھولیں گے۔

لیکن اگر انسان ناشکری اختیار کرے، ہر وقت شکایت کرتا رہے، اور یہ بھول جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے برسوں سے رزق دیا، کھلایا پلایا، عزت دی، مگر ایک یا دو سال کے نقصان پر پوری زندگی کو بھلا دے، تو یہ ناشکری کے انداز ہیں، اور ناشکری مزید مسائل کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

آخری بات

لہٰذا کاروباری نقصان، مالی بحران اور معاشی مشکلات کو صرف تباہی نہ سمجھیں، بلکہ ان کے اندر چھپی حکمتوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔ اپنی زندگی کو منظم کریں، نیند، عبادت، گھر والوں اور کام کرنے والوں کے حقوق ادا کریں، معاملات میں استخارہ اور مشورہ کریں، دیانت دار اور قابل معاونین کا انتخاب کریں، شکر اور صبر کو اپنائیں، اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط رکھیں۔ اللہ رب العزت سے امید ہے کہ جب مذکورہ تمام باتوں کو ذہن نشین کرلیا جائے تو اللہ تعالیٰ آپ کی پریشانیوں کو آسان فرمائے گا، آپ کے رزق میں برکت عطا فرمائے گا، آپ کے کاروبار میں خیر و عافیت نصیب فرمائے گا ان شاءاللہ۔

دین اور معاشرہ

(الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۷

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۳)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۴)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

کیا سنن دارقطنی علل کی کتاب ہے؟
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

محاضراتِ فقہ (۲)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۷)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۴)
محمد سراج اسرار

’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘
محمد فہد حارث
محمد بلال ابراہیم بربری

اوقات ضائع کرنے کا موبائل فون سے بڑا راستہ کوئی نہیں
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

شب بیداری: برکتیں، انعامات اور فلاح
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت
مفتی سید انور شاہ

کاروباری خسارے: اسباب، حکمتیں اور حل
مولانا عبد المتین

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۱)
حافظ مجددی

ہماری جامعات میں اسلامی قانون کی تعلیم
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

امریکہ اور اسرائیل نے اپنی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے
پروفیسر جان میئرشائیمر
ٹکر کارلسن

مغرب — یہود مخالف کیسے بنا؟
حامد میر

ترکیہ اور اسرائیل کے دشمنی میں بدلنے والے دوستانہ تعلقات
میپ اینڈ مِتھ

بھارت: سیاسی صورتحال اور تہذیبی مسائل
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

Arab Nationalism and Its Impact on the Muslim World
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

تلاش

شماریات