بھارت: سیاسی صورتحال اور تہذیبی مسائل

حالیہ انتخابی ’’کامیابی’’ سے بی جے پی کا ایجنڈا بظاہر ایک قدم اور آگے بڑھا ہے۔ اگر کامیابی کے گزشتہ مراحل کو سامنے رکھ لیا جائے تو تصویر زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔

  1. قومی سیاست میں کانگریس کو حاشیائی کردار پر لے آنا
  2. سیاسی طاقت کو مرکز میں مجتمع کر لینا
  3. ریاستی اداروں کو ہندو نیشنلزم کے بیانیے کے ساتھ ہم آہنگ بنا لینا
  4. مسلم شناخت کو سیاسی، اقتصادی اور سماجی طور پر عدم تحفظ کا واضح احساس دلانا، اور اب
  5. علاقائی سیاسی قوتوں کو ریاستی طاقت کے استعمال سے میدان سیاست میں مزید کمزور کر دینا۔

گویا طاقت کے ارتکاز کا ایجنڈا اپنی تکمیل کو پہنچ رہا ہے اور سیاسی طاقت کو جہاں سے بھی کوئی چیلنج آ سکتا تھا، اس کو بڑی حد تک دور کر لیا گیا ہے۔ اس مرحلے تک پہنچنے کے بعد کسی بھی بیانیے کی قوت کا اصل امتحان ہوتا ہے، کیونکہ جدید جمہوری سیاست میں طاقت کا ارتکاز بذات خود مقصود نہیں ہوتا، بلکہ کچھ وعدوں اور اہداف کی تکمیل کا ذریعہ ہوتا ہے۔ طاقت کے ارتکاز کی صورت حال میں ان وعدوں کی تکمیل میں ناکامی ایک چیلنج پیدا کرتی ہے اور بیانیے کی کمزوریاں ایکسپوز ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ بی جے پی کا بیانیہ بھی اس مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

بھارتی سماج کا سب سے بڑا اور پرانا تہذیبی مسئلہ عدم مساوات اور ذات پات کا نظام ہے۔ اس کو جڑ سے ختم کرنے کی کوئی تہذیبی کوشش ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکی اور سیاسی و اقتصادی طاقت کے ڈھانچے میں یہ مسلسل خود کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ بی جے پی نے یقیناً‌ پس ماندہ ہندو طبقوں کے لیے سہولیات کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے، لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں اس طرح کی مساعی عدم مساوات اور طبقاتی فرق کو ختم کرنے کے بجائے مزید نمایاں کرنے کا موجب بن جاتی ہیں۔ زیادہ بعید نہیں کہ جیسے پون صدی پہلے سماجی جدیدیت کے وعدوں کے خلاف ہندو سماج کی مزاحمت نے ڈاکٹر امبیدکر جیسے لوگوں کو پیدا کیا تھا، اسی طرح ترقی اور خوشحالی وغیرہ کے معاشی وعدوں کے خلاف گہری طبقاتی مزاحمت مزید ایسے کسی ردعمل کے ظہور کا موجب بن جائے۔

بی جے پی اپنے، طاقت کے ارتکاز کے ایجنڈے کی وجہ سے دیگر سیاسی قوتوں کو اپنا مشترک حریف بنانے کا راستہ تو پہلے ہی لے چکی ہے اور انتخابی نظام کی maneuvering نے اس مخاصمت کو زیادہ گہرا کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ معاشی بہتری اور سماجی انصاف کی فراہمی کے وعدے جب زمینی چیلنجز سے نبردآزما ہوں گے تو ہندوستانی سماج کی بنیادی مشکلات اور بی جے پی کے بیانیے کی عملی محدودیتیں مزید ابھر کر سامنے آئیں گی۔ افراتفری، انتشار، کشمکش، تشدد اور تصادم اس سارے عمل کا لازمی حصہ ہے۔ مسلمان تو بے چارے اس ساری کشمکش میں پتہ نہیں کہاں سے کہاں پہنچ جائیں گے، لیکن ہندو تہذیب اور ہندو سماج بظاہر ایک بڑے تحول کی طرف بڑھ رہا ہے۔

والعلم عند اللہ

حالات و مشاہدات

(الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۷

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۳)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۴)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

کیا سنن دارقطنی علل کی کتاب ہے؟
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

محاضراتِ فقہ (۲)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۷)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۴)
محمد سراج اسرار

’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘
محمد فہد حارث
محمد بلال ابراہیم بربری

اوقات ضائع کرنے کا موبائل فون سے بڑا راستہ کوئی نہیں
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

شب بیداری: برکتیں، انعامات اور فلاح
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت
مفتی سید انور شاہ

کاروباری خسارے: اسباب، حکمتیں اور حل
مولانا عبد المتین

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۱)
حافظ مجددی

ہماری جامعات میں اسلامی قانون کی تعلیم
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

امریکہ اور اسرائیل نے اپنی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے
پروفیسر جان میئرشائیمر
ٹکر کارلسن

مغرب — یہود مخالف کیسے بنا؟
حامد میر

ترکیہ اور اسرائیل کے دشمنی میں بدلنے والے دوستانہ تعلقات
میپ اینڈ مِتھ

بھارت: سیاسی صورتحال اور تہذیبی مسائل
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

Arab Nationalism and Its Impact on the Muslim World
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

تلاش

شماریات