اصول سے فروع یا فروع سے اصول؟ حنفی اصولی منہج اور جدید نظریۂ قانون کا تقابلی مطالعہ
یہاں ایک دفعہ پھر ہم شروع کریں گے جورس پروڈنس (اصولِ قانون) کی ایک بحث سے۔ اور میں آپ کو صرف یاد دلانا چاہتا ہوں جو پچھلی نشست میں ہم نے گفتگو کی تھی، اس میں ہم نے دو مناہج ذکر کیے، اصول الفقہ کی کتابوں میں جو ذکر کیے جاتے ہیں: متکلمین کا منہج یہ ہے کہ ہم اصول سے فروع کی طرف جاتے ہیں اور فقہا کا منہج یہ ہے کہ ہم فروع سے اصول کی طرف جاتے ہیں۔ کچھ اسی طرح کی بحث جورس پروڈنس میں بھی پائی جاتی ہے:
- ایک کو ہم پازیٹیو جورس پروڈنس کہتے ہیں، جن کا فوکس اس بات پر ہوتا ہے کہ جج کرتے کیا ہیں؟ یہاں گویا ہم فروع سے اصول کی طرف جاتے ہیں۔ ججز کے فیصلوں کو سامنے رکھ کر ہم ان کے اصول معلوم کرتے ہیں اور پھر ان کا آگے دیگر مسائل پر اطلاق کرتے ہیں۔
- ایک نارمیٹیو جورس پروڈنس کے نام سے زاویۂ نظر ہے، جس میں اس پر بات ہوتی ہے کہ ججوں کو کرنا کیا چاہیے؟ گویا وہاں اصول سے فروع کی طرف جایا جاتا ہے، پہلے اصول طے کیے جاتے ہیں۔
آپ لیگل پازیٹیوزم کو پازیٹیو جورس پروڈنس کی ایک مثال سمجھ لیں، اور نیچرلزم کو نارمیٹیو جورس پروڈنس کی ایک مثال سمجھ لیں۔ اچھا، اِس بحث کی روشنی میں ’عام‘ کی دلالت کی مثال لے لیتے ہیں۔ اور یہاں پہلا سوال یہ ہے کہ حنفی اصول یا حنفی منہج کی بنیادی خصوصیات واضح کرنے کے لیے میں نے اس مسئلے کو کیوں چنا ہے، یہ مسئلہ کیوں اہم ہے؟ حنفی جو زاویۂ نظر ہے اور جو اصولی نظام ہے، اس کا ذائقہ معلوم کرنے کے لیے ہم نے مثال کے طور پر یہ مسئلہ کیوں چنا ہے؟ اس کی وجہ آپ کے خیال میں کیا ہو سکتی ہے؟ ’عام‘ ہی کیوں؟ یعنی بحثیں تو اور بھی بہت ساری ہیں اور ہر ایک کی اپنی اہمیت ہے، لیکن ’عام‘ کے مسئلے کی اہمیت زیادہ کیوں ہے؟
طالب علم:
اس لیے کہ یہ زیادہ وسیع ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ اس کے اندر بہت زیادہ دقتِ نظری کے ساتھ بحث کی جا سکتی ہے اور اس میں بہت سے پہلوؤں پر گفتگو کر سکتے ہیں۔ اس میں مزید تخصیص کا چونکہ امکان رہتا ہے، اس وجہ سے۔ چونکہ خاص تو بالکل ہی خاص ہو جاتا ہے، اس پر تو سمجھ لیں ایک طرح سے وہ یونیورسل ٹروتھ کی طرح رہے گا۔ اور پھر جب مشترک اور مؤول کی طرف جاتے ہیں تو وہ مشترک میں بھی پھر دو اپنی اپنی رائے کے مطابق باتیں چلی جاتی ہیں تاویل کرنے کے بعد …
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
آپ کی بات کو میں اس طرح اگر پیش کروں تو کیا یہ درست ہوگا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ خاص کی قطعیت پر تو کوئی بڑا اختلاف نہیں پایا جاتا، مشترک کی ظنیت بھی معلوم ہے، لیکن عام میں تو اچھی خاصی بحث پائی جاتی ہے کہ قطعی ہے یا ظنی ہے، اور مخصوص منہ البعض ہے تو کیا ہے؟ اور قبل از تخصیص اور بعد از تخصیص میں فرق ہے یا نہیں ہے؟
طالب علم:
یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر دو مناہج احناف اور شوافع کے آپس میں تطبیق کے اندر واضح فرق سمجھ آ جاتا ہے۔ اور اس کی بنیادی وجہ ہے کہ احناف کے نزدیک عام قطعی ہے، شوافع کے نزدیک عام ظنی ہے۔ اس کی بنیاد پر خبرِ آحاد سے کیا تخصیص کی جا سکتی ہے، ممکن ہے یا نہیں ہے، احناف اس کے قائل نہیں ہیں جبکہ شوافع اس کے قائل ہیں۔
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
بالکل، یہ بھی اس بحث کو چننے کی ایک وجہ ہے کہ یہاں، کیا عام کی تخصیص خبرِ واحد سے کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ ایک فریق قائل ہے، ایک نہیں قائل۔ اور اس وجہ سے بہت سارے مسائل پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ یہ بھی ایک وجہ ہے، یقیناً۔
طالب علم:
عام کی بنیاد پر قواعد تشکیل پاتے ہیں۔ اور قواعد کی وجہ سے ہم لوگ پازیٹو جورسپروڈنس کو سمجھ سکتے ہیں اور نارمیٹیو ……
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
ہاں، میں اصل میں اس پہلو کی طرف آنا چاہ رہا تھا، بہت شکریہ۔ یہ جو ’عام‘ ہے (جنرل ورڈ جس کو کہا جاتا ہے) کیا اس کی عمومیت (جنرلیٹی) میں سارے لوگ شامل ہیں یا نہیں؟ اور اگر سارے لوگ شامل ہیں تو کیا قطعی طور پر شامل ہیں یا نہیں؟ اس کا بہت گہرا تعلق اُس بحث سے ہے جو میں نے پچھلی گفتگو میں آپ کے سامنے رکھی کہ جہاں بظاہر قانون خاموش ہو، وہاں جج کیا کرتے ہیں؟ رونالڈ ڈورکن نے کہا تھا وہاں جج قانون کے عام اصولوں کا استعمال کرتے ہیں۔ مختلف جزئیات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس سے وہ ایک عام اصول اخذ کر لیتے ہیں اور پھر اس کا اطلاق کرتے ہیں ان مسائل میں جہاں آپ کو کوئی مخصوص جزئیہ نہیں ملتا۔ یہ صرف ڈورکن کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ حنفی جو زاویۂ نظر ہے اور حنفی جو نظام ہے، اس میں اس اصول کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اور ہمارے استاذ محترم پروفیسر عمران احسن خان نیازی صاحب نے تو حنفی اصولی نظام کو نام ہی ’’تھیوری آف جنرل پرنسپلز‘‘ کا دیا ہے کہ یہ قواعدِ عامہ کا نظریہ ہے۔
عام اصولوں کا نظریہ، کہ حنفی کرتے یہ ہیں کہ وہ کسی نص سے ایک عام اصول اخذ کر لیتے ہیں۔ اور چونکہ عام ان کے نزدیک قطعی ہے، تو اس وجہ سے وہ بہت سارے مسائل پر اس کا اطلاق کرتے ہیں، اور اس کے اطلاق سے کسی کو نکالنے کے لیے قطعی دلیل مانگتے ہیں۔ تو اس وجہ سے جب ان کو عام اصول مل جاتا ہے، تو یوں کہیں کہ ایک بہت بڑا ہتھیار مل گیا ہے یا ایک بہت بڑا خزانہ مل گیا ہے، جس کا اطلاق بہت سارے مسائل پر ہوتا ہے۔ اور بھی بہت سی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ چونکہ حنفی عام کی قطعیت کے قائل تھے اور اس کی بنا پر وہ عام اصولوں کا استخراج کر کے عملی مسائل پر ان کا اطلاق کرتے تھے، تو فقہ کا بہت بڑا ذخیرہ بہت جلدی وجود میں آیا۔ بقول جوزف شاخٹ ۱۳۲ ہجری میں ساری فقہ وجود میں آ چکی تھی، اس کی ایک بڑی وجہ یہ عام اصولوں کا استعمال ہے، قواعدِ عامہ کا استعمال ہے، جو حنفی نظام کی ایک بڑی خصوصیت ہے۔
اس مسئلے کی اہمیت ایک اور پہلو سے بھی ہے۔ بعض لوگ، جیسے میں نے پچھلی نشست میں مختصرًا عرض کیا، دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ حنفی اصول نہیں ہے، بعض بڑے بزرگوں نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے، اور کہتے ہیں کہ ایک تو امام ابوحنیفہؒ سے اصول روایت نہیں ہیں، بعد کے لوگوں نے مستخرج کیے ہیں۔ اور پھر یہ کہ عام کو قطعی کہنا، یہ تو عیسیٰ بن ابان رحمہ اللہ کا قول ہے اور یہ حنفی اصول نہیں ہے۔ تو یہ بھی ایک پہلو ہے۔ ہم یہ دیکھنا چاہیں گے کہ کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا واقعی اصولوں کا امام ابوحنیفہؒ سے براہِ راست قول کے ذریعے روایت کرنا ضروری ہے؟ یا اصول کی روایت کا کوئی اور بھی طریقہ ہے؟ کیا اصول صرف قولاً روایت کیے جاتے ہیں کہ امام ابوحنیفہؒ کھڑے ہو کر آپ کے سامنے کہیں، یا کوئی بندہ حدثنا یا اخبرنا کہہ کر امام ابوحنیفہؒ تک اپنی متصل سند کے ساتھ پہنچے اور پھر کہے کہ امام ابوحنیفہؒ نے فلاں موقع پر سب کے سامنے یہ کہا کہ میرے نزدیک عام قطعی ہے؟
بھئی، ابھی کچھ دیر پہلے ہم نے مضاربہ کا ایک جزئیہ ذکر کیا، وہ امام محمدؒ نے لکھا ہے، کتاب المضاربہ میں ہے، کتاب الاصل میں ہے، کہ اگر مضارب اور رب المال کا اختلاف ہو عموم اور خصوص میں، ایک کہتا ہے کہ عام ہے، دوسرا کہتا ہے خاص ہے، اور دونوں کے پاس کوئی دلیل نہ ہو، تو ہم یہ دیکھیں گے کہ عام کا قائل کون ہے، ہم اس کی بات مانیں گے، کیونکہ وہ مقتضائے عقد کے مطابق ہے۔ ہم نے اس کا تجزیہ کر کے نتیجہ یہ نکالا کہ مقتضائے عقد کی بنیاد پر فیصلہ اس لیے کیا کہ عام اور خاص برابر ہیں، ورنہ اگر خاص قطعی ہوتا اور عام ظنی ہوتا تو پھر تو خاص کو ترجیح دی جاتی۔ یہ برابر ہیں۔ اور چونکہ خاص قطعی ہے تو عام بھی قطعی ہے۔ یہ کہاں سے معلوم ہوا؟ یہ مضاربہ کے اس جزئیے سے معلوم ہوا۔ یہ جزئیہ امام محمدؒ نے لکھا ہے اور وہ کتاب الاصل میں کہتے ہیں کہ اس میں جتنے بھی مسائل ہیں وہ ابوحنیفہؒ، ابو یوسفؒ اور محمدؒ کے ہیں، اور جہاں اختلاف ہے تو میں نے بتا دیا ہے۔ جبکہ یہاں انہوں نے کوئی اختلاف نقل نہیں کیا۔ اور نہ صرف انہوں نے، بلکہ کہیں سے بھی اس مسئلے میں کوئی اختلاف ابوحنیفہؒ سے روایت نہیں ہے۔ یہی فقہ حنفی کی مسلسل روایت ہے ابوحنیفہؒ سے لے کر آج تک کی۔ تو اس کے مطابق تو عام قطعی ہے، جیسے خاص قطعی ہے۔ تو کیا اس کے لیے امام ابوحنیفہؒ سے براہِ راست یہ قول روایت کرنا ضروری ہے کہ ’’میرے نزدیک عام قطعی ہے‘‘؟ اس پہلو سے آگے مزید بھی میں کچھ تفصیل دینا چاہوں گا۔
دوسری بات، جس کی طرف عمر نے اشارہ کیا، کہ یہ اصول ہماری ناقص رائے میں حنفی منہج کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کہ عام قطعی ہے، کیونکہ حنفی جو منہج ہے، وہ عام اصولوں کے اطلاق کا نظریہ ہے، جنرل پرنسپلز کا نظریہ ہے، اور اس کا انحصار عام کی قطعیت پر ہے۔ کیا یہ اصول حضرت عیسیٰ بن ابانؒ نے وضع کیا ہے؟ ایسا نہیں ہے۔ جیسے میں نے کہا، متاخرین میں سے اور معاصرین میں سے بعض بزرگوں نے یہ کہا ہے، لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔
کچھ لوگوں نے ایک اور پہلو سے بھی بات کی ہے — جس کی طرف میں نے پچھلی نشست میں مختصراً اشارہ کیا تھا، اب اس کی کچھ تفصیل دینے کا وقت آ گیا ہے — کہ یہ گویا کوئی جغرافیائی قسم کی تقسیم ہے۔ عراقی مشائخ یہ کہتے ہیں اور سمرقندی مشائخ وہ کہتے ہیں۔ ٹھیک ہے، مشائخ سمرقند کا بھی ذکر آتا ہے کتابوں میں، مشائخ العراق کا بھی ذکر آتا ہے، لیکن جو اصولی بحث ہے وہ جغرافیہ پر مبنی نہیں ہے۔ اس موضوع پر ایک مشہور صاحب ہیثم عبد الحمید علی خزنہ نے اس طرح کی رائے قائم کی ہے، اور وہاں سے ہمارے لوگ بعض اوقات بغیر حوالہ دیے نقل کر کے بات کرتے ہیں، ان کی کتاب ہے ’’الإختلافات الأصولية بين مدرستی العراق وسمرقند وأثرها فی أصول الفقه الحنفی‘‘ جس میں انہوں نے مشائخ عراق اور مشائخ سمرقند کے درمیان تین بڑے اختلافی مسائل ذکر کیے ہیں۔ اس پر اُن کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے۔ ان میں ایک مسئلہ عام کی دلالت کا ہے۔
اس میں ان کی بات کا خلاصہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ پہلی تین صدیوں میں جو غالب منہج تھا وہ اہلِ عراق کا تھا، جو عام کی قطعیت کے قائل تھے۔ چوتھی صدی ہجری میں سمرقند کے مشائخ کا مسلک سامنے آیا، جو امام ابو منصور الماتریدیؒ کے زیر اثر سمرقند اور آس پاس علاقوں میں پھیل گیا، جو عام کی ظنیت کے قائل تھے۔ لیکن پانچویں صدی ہجری تک جاتے جاتے امام دبوسیؒ نے دونوں مدارس یا دونوں زاویہ ہائے نظر کو جمع کیا اور انہوں نے اس مسئلے میں اہلِ عراق کی رائے کو ترجیح دی۔ اور پھر امام بزدویؒ اور امام سرخسیؒ نے بھی اس پر مزید اپنی قوت صَرف کی، تو پانچویں صدی ہجری کے اختتام تک یہ مذہب غالب ہو گیا اور حنفی مذہب یہ قرار پایا کہ عام قطعی ہے۔ یعنی پہلی تین صدیوں میں مشائخِ عراق عام کی قطعیت کے قائل تھے، چوتھی صدی ہجری میں مشائخِ سمرقند کا ظنیت کا قول بھی سامنے آیا، پانچویں صدی ہجری میں امام دبوسیؒ اور پھر امام سرخسیؒ اور امام بزدویؒ نے عام کی قطعیت کے حق میں ووٹ دے دیا۔
یہاں تک کہنے کے بعد وہ آخر میں یہ بحث بھی کرتے ہیں کہ یہ عام کی قطعیت والی رائے آخر کیوں راجح قرار پائی؟ وہ کہتے ہیں، امام ماتریدیؒ اور ان کے زیر اثر بعض فقہاء، جو ظنیت کے قائل تھے، تو وہ دراصل عقیدے کی بحث کی وجہ سے اس کی ظنیت کے قائل تھے۔ عقیدے کی بحث کیسے؟ وہ ایسے کہ وہ چونکہ معتزلہ کے خلاف تھے اور معتزلہ عقائد کے باب میں عمومات سے استدلال کرتے تھے۔ ان کا جو عدل کا تصور تھا اور حسن و قبح کا جو ان کا سارا نظام تھا، وہ عمومات پر قائم تھا۔ جبکہ یہ اس کے قائل نہیں تھے، تو انہوں نے عام کو ظنی کر دیا۔
اچھا، دلچسپ بات یہ ہے کہ امام سرخسیؒ کو یہ سمرقند اور ماتریدی سکول میں شمار کرتے ہیں اور صحیح کرتے ہیں۔ وہ معتزلہ کے خلاف ہیں، اس کے باوجود عام کی قطعیت کے قائل ہیں۔ گویا عام کی قطعیت اور اعتزال کا آپس میں کوئی لزوم کا تعلق ہے ہی نہیں۔ آپ عام کی قطعیت کے قائل ہوتے ہوئے بھی غیر معتزلی ہو سکتے ہیں، کیونکہ آپ اِس مخصوص عام کو ظنی مانتے ہیں، اس بنا پر کہ اِس کو اُس قطعی نے ظنی کر دیا ہے۔ اِس مخصوص عام کی ظنیت کیا ہے؟ جہاں اس کی تخصیص ہوئی ہے، وہاں تو بالکل ہوئی ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ سارے ہی عمومات قطعیہ ہیں، ہم تو صرف اصول کی بات کرتے ہیں کہ اصولاً جو عام ہے وہ قطعی ہے، جب تک اس کی تخصیص نہ ہو جائے کسی قطعی دلیل سے۔ تو اگر ہوئی ہے تو ہم اس کے قائل ہیں۔ اور اسی بنا پر ہم معتزلہ سے آگے چلے جاتے ہیں، ہم ان سے کہتے ہیں کہ نہیں یار، یہ جو آپ یہاں اس عموم سے یہ استدلال کرتے ہیں، اس عموم کی تو تخصیص ہو چکی ہے۔ تو عام کی قطعیت کے قائل ہونے کے باوجود بھی ضروری نہیں کہ آپ معتزلی ہوں۔ ہیثم عبد الحمید صاحب خود بھی یہ مانتے ہیں۔
دوسری وجہ زیادہ اہم ہے، اور ہمارے نزدیک تو اصل وجہ ہی یہی ہے۔ اور ہماری آج کی جو بحث ہے، وہ میں اسی نکتے کی طرف بار بار لا رہا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ عام کی قطعیت کے حق میں فقہی جزئیات موجود تھیں۔ بھئی، ہم یہی تو کہتے ہیں کہ ہمارے اصول تو فقہی جزئیات سے معلوم ہوتے ہیں۔ اس سے مراد ظاہر الروایہ کی جزئیات ہیں۔ ظاہر الروایہ ہی تو ہمارے اصول ہیں۔ آپ اصول بیان کرنے کا صرف یہ طریقہ سمجھتے ہیں کہ کوئی الفاظ میں بتائے کہ ’’عام قطعی ہے‘‘؟ ہم مسائل کے ذریعے آپ کو بتا دیتے ہیں کہ ہمارے اصول کیا ہیں۔ اس کو ’’کیس میتھڈ‘‘ کہتے ہیں، یہ میں نے نیازی صاحب کا حوالہ دیا تھا پچھلے لیکچر کے شروع میں۔ روسکو پاؤنڈ ایک بڑا مشہور قانونی فلسفی گزرا ہے جس نے مختلف قانونی نظریات اور مذاہب پر تفصیلی بحثیں کی ہیں۔ روسکو پاؤنڈ جیسا شخص — ’’ہدایہ‘‘ کا کوئی ٹیکسٹ اس نے کہیں پڑھا ہوگا — اس کا حوالہ دے کر کہتا ہے This is the beginning of the case method، یہ کیس میتھڈ کی ابتدا ہے۔ اس بیچارے کو یہ معلوم نہیں تھا کہ صاحبِ ہدایہ سے پہلے (کیس میتھڈ کی) پانچ صدیاں ہیں۔
ظاہر الروایہ کی کوئی کتاب: کتاب الاصل، الجامع الصغیر، الجامع الکبیر، السیر الصغیر، السیر الکبیر، الزیادات، یا اس کے علاوہ بھی فقہ حنفی کی کوئی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں، کہ جس کو ہم جزئیہ کہتے ہیں وہ کیا ہوتا ہے؟ کیس ہی تو ہوتا ہے۔ ایک مسئلہ ہوتا ہے کہ اگر فلاں نے بیوی سے ان الفاظ میں یہ یہ کہا۔ لوگ کہتے ہیں کہ یار ان لوگوں کو کیا پڑی تھی کہ طلاق کے اتنے پیچیدہ پیچیدہ جملے انہوں نے گھڑ لیے؟ بھئی، وہ آپ کو طلاق دینے کے پیچیدہ جملے گھڑ کر نہیں سکھا رہے، وہ آپ کو ان کیسز کے ذریعے قانونی اصول سمجھا رہے ہیں۔ اچھا، بعض لوگ کہتے ہیں امام ابوحنیفہؒ اور حنفی فقہاء نے تو ایسے ایسے کیس فرض کیے ہوئے ہیں کہ ان کی وفات سے ہزار بارہ سو سال گزرنے کے بعد بھی آج تک وہ کبھی وقوع پذیر نہیں ہوا۔ ہاں، تو کس نے کہا تھا کہ ان کا وقوع پذیر ہونا ضروری ہے؟
بعض لوگ اس کا فائدہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے اتنا سوچا کہ اگر ’’یوں ہو‘‘ تاکہ بعد والوں کو آسانی ہو۔ ٹھیک ہے، اس کا فائدہ یہ بھی ہے، میں اس کے فائدہ ہونے سے انکار نہیں کرتا، لیکن مقصدِ اصلی اس کا یہ نہیں تھا۔ اس کا اصل مقصد آپ کو قانونی زاویۂ نظر سکھانا تھا، اس کی ٹریننگ تھی کہ لیگل ریزننگ (قانونی استدلال) جس کو کہا جاتا ہے، وہ کیسے کی جاتی ہے؟ نیازی صاحب کو اور بعض دیگر اساتذہ کو دیکھتے ہوئے میں نے خود اپنے سٹوڈنٹس کے ساتھ اسی طرح کا طرز اختیار کیا ہے۔ ظاہر ہے بچوں کے ساتھ تھوڑی نرمی بھی کرنی پڑتی ہے تو بعض اوقات ان کو سیدھا سادھا سوال بھی دے دیتے ہیں کہ ’’عام قطعی ہوتا ہے یا ظنی ہوتا ہے؟‘‘ لیکن عام طور پر — چاہے انٹرنیشنل لاء کا کورس ہو، کریمنل لاء کا ہو، فیملی لاء کا ہو، کسی اور قانون کا ہو — میں ان کے سامنے کیس بنا کر پیش کر دیتا ہوں کہ اب اس کا خود ہی فیصلہ کر لیں۔ میں تین صفحوں میں حقائق ذکر کر دیتا ہوں اور آخر میں ایک سطر کا سوال ہوتا ہے۔ اگر انہوں نے کلاسز اٹینڈ کی ہوں اور ریزننگ کا طریقہ انہیں آتا ہو، تو وہ جواب دے لیں گے، ورنہ نہیں دے سکیں گے۔ یہ تو ٹریننگ کا طریقہ ہوتا ہے۔
انٹرنیشنل ہیومینیٹیرین لاء پڑھاتے ہوئے ہم نے ایک تصویر لوگوں کے سامنے رکھی۔ چونکہ ہم ان کو مسلسل بتاتے ہیں کہ جنگ میں بچوں کو نہیں مارنا، ہسپتال پر حملہ نہیں کرنا، وغیرہ وغیرہ۔ تو پہلے دن کے اختتام پر ان سے کچھ بھی پوچھیں کہ یہ کام کر سکتے ہیں تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ نہیں۔ مثلاً، درخت کاٹ سکتے ہیں؟ کہا: نہیں۔ پوچھا: کیوں نہیں کاٹ سکتے؟ کہا: درخت کاٹنا تو فساد ہے۔ کہا: تو جنگ کونسا اچھا کام ہے، جنگ میں آپ دشمن کا بندہ مار سکتے ہیں تو درخت کیوں نہیں کاٹ سکتے؟ اس پر میں نے ان سے کہا کہ ہمارے ایک بزرگ کسی دوسرے بزرگ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ ہر بات کے جواب میں ’نہیں‘ کہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان کو آپ سے اتفاق بھی ہو تو وہ کہیں گے: نہیں، مجھے آپ سے اتفاق ہے۔
بہرحال، کورس کے شرکاء کے سامنے میں نے ایک تصویر رکھی، جس میں نیچے سے ایک بندے نے فائر کر کے اوپر ایک جہاز کو نشانہ بنا لیا ہے، اور جہاز کا پائلٹ پیراشوٹ کے ذریعے اتر رہا ہے۔ تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اس پائلٹ کو، جو فائٹر پائلٹ ہے، اس حالت میں نشانہ بنا سکتے ہیں جبکہ وہ پیراشوٹ کے ذریعے نیچے اتر رہا ہے؟ اکثر نے کہا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ جس وقت وہ جہاز میں تھا، اس وقت تو آپ نے نشانہ بنایا، تو اب کیوں نہیں؟ ہاں، کیونکہ اس وقت وہ بمباری کر رہا تھا۔ پائلٹ کسی طرح ایجیکٹ کرکے جہاز سے نکلا، اب وہ اتر رہا ہے:
- اگر اس کے ہاتھ میں بندوق ہے، یا وہ فائرنگ کرتے ہوئے اتر رہا ہے، تو کیوں نہیں ماریں گے؟
- اگر اس نے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں، تو نہیں ماریں گے۔
- اگر ابھی ہم شک میں ہیں کہ اس کے پاس بندوق ہے یا نہیں، تو ہم نشانہ باندھے ہوئے انتظار کریں گے، جب تک اس کی حالت واضح نہ ہو جائے، توقف کریں گے، نظر رکھیں گے۔
- اس کا پیراشوٹ کسی درخت میں الجھ گیا، یا بجلی کے کھمبے میں، اب اس کو اپنی جان کے لالے پڑے ہیں، اس وقت اس کو نہیں ماریں گے۔
تو ہر ہر فیکٹر سے فرق پڑتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ’’کیس میتھڈ‘‘ کے ذریعے دراصل فقہاء آپ کو اپنے اصول بتاتے ہیں۔ اور ہیثم عبدالحمید صاحب آخر میں فرماتے ہیں کہ فقہی جزئیات عام کی قطعیت کے حق میں تھے۔ یہ آخر میں کہنے کی بات نہیں تھی، یہ شروع میں کرنے کی بات تھی، کیونکہ اگر فقہی جزئیات اس کے حق میں تھے — فقہی جزئیات سے مراد امام ابوحنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ، امام محمدؒ اور اسی طرح دیگر جو مشائخ ہیں ان کی جزئیات ہیں — تو یوں کہیں کہ ان کو تو سپریم کورٹ کے فیصلوں کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ اب ماتحت عدالتیں تو اس سے آگے پیچھے نہیں جا سکتیں۔ تو ان فیصلوں کو جوں کا توں مانتے ہوئے، ہم نے آگے دیگر مسائل پر ان کا اطلاق کرنا ہے۔ تو ان فیصلوں سے ہمیں کیا اصول معلوم ہوا؟ قطعیت کا معلوم ہوا۔ مضاربہ کی مثال ہم نے ذکر کی، کچھ مثالیں اور بھی ابھی دیکھیں گے۔
- تو یہ جغرافیہ کا اثر نہیں تھا، عراقی بمقابلہ سمرقندی کا مسئلہ نہیں تھا۔
- اسی طرح یہ عقائد کے اختلاف کا، یعنی معتزلی بمقابلہ ماتریدی کا مسئلہ نہیں تھا۔
- نہ ہی یہ تاریخی ارتقاء کا مسئلہ تھا کہ پہلی تین صدیوں میں یہ تھا، چوتھی میں وہ ہوا، پانچویں میں وہ ہوا۔ بھئی پانچویں صدی میں، ابھی ہم دیکھیں گے کہ امام سرخسیؒ اپنی جانب سے بات نہیں کر رہے، لیکن یہ دیکھنے سے پہلے میں اس میں سے چند اقتباسات آپ کے سامنے بھی رکھوں گا۔
میں آپ کی خدمت میں بس یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ پڑھتے ہوئے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ چلیں، آپ تو سارے اصحابِ علم ہیں، لیکن میں آپ کو اپنا طریقہ بتاتا ہوں کہ یہ پڑھتے ہوئے میں کیا کرتا ہوں اور کیا نہیں کرتا۔
پہلی بات، میں یہ نہیں دیکھتا کہ احناف کے نزدیک عام قطعی کیوں ہے؟ سمجھنے کے لیے ساری بحث پڑھنی ضروری ہے کہ آخر احناف اس نتیجے تک کیوں پہنچے ہیں کہ عام قطعی ہوتا ہے۔ اور جو عام کی قطعیت کے خلاف دوسروں کے دلائل ہیں، ان کا وہ کیا جواب دیتے ہیں، وہ سمجھنا ضروری ہے۔ لیکن چونکہ میں مقلد ہوں اور میں ان اصولوں کا پابند ہوں، میں ان سے آگے پیچھے نہیں جا سکتا، اس لیے میرے لیے اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ احناف کے نزدیک عام قطعی ہے یا نہیں ہے؟ کیوں ہے یا کیوں نہیں ہے کا سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے۔ وہ عام کو ظنی کیوں نہیں مانتے؟ جو لوگ ظنی مانتے ہیں، ان کا جواب وہ کیا دیتے ہیں؟ یہ سارے دلائل اہم ہیں، انہیں سمجھنا چاہیے۔ لیکن بطور اس مذہب کے متبع اور مقلد کے میری پوزیشن کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ میں یہ معلوم کروں کہ مذہب ہے کیا؟
اور یہ معلوم کیسے کرنا ہے؟ یہ دیکھنا اور معلوم کرنا ہے مسائل سے۔ ابھی امام سرخسیؒ ہمیں بتائیں گے۔ لیکن اُس مسئلے میں حنفیوں نے یہ رائے کیوں قائم کی ہے؟ اِس مسئلے میں حنفیوں یہ رائے کیوں قائم کی ہے؟ یہ درست ہے یا غلط ہے؟ میں اس بحث میں بھی نہیں جا سکتا۔ امام ابوحنیفہؒ یا امام محمدؒ نے اس مسئلے کا جو حکم بتایا ہے، وہی حکم ہے۔ میرا کام صرف یہ دیکھنا ہے کہ اس حکم سے اصول کیا معلوم ہوتا ہے؟ اس حکم کی درستی یا نادرستی معلوم کرنا، یہ میرے اختیار میں بھی نہیں ہے اور میرا دردِ سر بھی نہیں ہے۔ میرے نزدیک اس مسئلے میں جو اُن کا حکم ہے، وہ درست ہے۔ اس مسئلے میں جو انہوں نے حکم متعین کیا ہے، اس کو جوں کا توں مان کر ان سے اصول معلوم کرنے ہیں۔ یہ طریقہ ہے۔


















