ترکیہ اور اسرائیل کے دشمنی میں بدلنے والے دوستانہ تعلقات

کچھ عرصہ پہلے مشرق وسطیٰ کو ہلا دینے والا ایک بیان سامنے آیا: 

’’ہم کسی بھی وقت اسرائیل میں داخل ہو سکتے ہیں۔‘‘ 

یہ بیان ترکیہ کی طرف سے جاری کیا گیا ہے جو کبھی اسرائیل کا قریبی اتحادی تھا۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیا تبدیلی آئی ہے؟ اور اس سے بھی اہم بات، کیا یہ محض سیاسی ڈرامہ ہے یا کسی حقیقی تنازع کا آغاز؟ کیونکہ اگر ترکیہ اور اسرائیل آمنے سامنے آ گئے تو یہ معاملہ علاقائی حدود میں نہیں رہے گا، بلکہ عالمی طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے۔

باہمی تعاون کے عروج کا دور (1949ء-1990ء)

ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی کہانی تنازع سے نہیں بلکہ تعاون سے شروع ہوتی ہے۔ 1949ء میں ترکیہ پہلا مسلم اکثریتی ملک بنا جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ اس وقت یہ ایک جرأت مندانہ قدم تھا، کیونکہ بیشتر عرب ممالک اسرائیل کو مکمل طور پر مسترد کر رہے تھے۔

1990ء کی دہائی تک ترکیہ اور اسرائیل عسکری طور پر ایک ساتھ کام کر رہے تھے۔ انٹیلیجنس کا تبادلہ جاری تھا، مشترکہ فضائی مشقیں ہو رہی تھیں، اسرائیل اعلیٰ درجے کا دفاعی نظام ترکیہ کو فراہم کر رہا تھا اور اس کے جنگی طیاروں کو جدید بنا رہا تھا۔

اسرائیل کو ایک مخالف علاقے میں اسٹریٹجک پارٹنر کی ضرورت تھی، اور ترکیہ اس کے لیے بہترین انتخاب تھا۔ یہاں کلاسیکی جغرافیائی سیاسی منطق کام کر رہی تھی: ’’میرے دشمن کا دشمن میرا دوست ہے۔‘‘ اس وقت عرب ممالک کے ساتھ ترکیہ کے تعلقات کشیدہ تھے، جبکہ اسرائیل تنہا تھا، چنانچہ دونوں نے اتحاد قائم کر لیا۔

ایک بہت ہی اہم بات یہ کہ ترکیہ نیٹو کا رکن تھا، جس کا مطلب تھا کہ وہ محض ایک علاقائی کھلاڑی نہیں تھا بلکہ اسے مغرب کی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔

تعلقات کے خاتمے کا دور (2008ء-2010ء)

2008ء میں اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا جس میں ہزاروں فلسطینی ہلاک ہوئے۔ عالمی سطح پر تنقید بڑھنے لگی جبکہ ترکیہ کی طرف سے ایک منفرد ردعمل سامنے آیا — یہ ردعمل سفارتی نہیں بلکہ جذباتی اور سیاسی تھا۔

2009ء میں ورلڈ اکنامک فورم کے اسٹیج پر رجب طیب اردگان نے اسرائیلی قیادت کا سامنا کرتے ہوئے کہا: ’’آپ کو قتل کرنا بخوبی آتا ہے‘‘ اور پھر وہ اسٹیج اٹھ کر چلے گئے۔ اس لمحے نے اردگان کی شخصیت کو راتوں رات ایک علاقائی رہنما سے پوری مسلم دنیا کے ہیرو میں تبدیل کر دیا۔ یہ بات اہم ہے کیونکہ یہاں سے ترکیہ کی شناخت ایک سیکولر مغرب کے حمایتی ملک سے مسلم دنیا کے رہنما کے طور پر ابھرنے لگی۔

2010ء میں ترکیہ کی طرف سے ایک انسانی امدادی قافلہ غزہ کی طرف روانہ ہوا جس میں خوراک، ادویات اور امدادی سامان تھا۔ اسرائیل نے بحری ناکہ بندی عائد کر رکھی تھی اور اس نے بین الاقوامی پانیوں میں قافلے کے جہازوں کو روک لیا۔ اس موقع پر اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں نو ترک شہری ہلاک ہوئے۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک اہم موڑ تھا۔ ردعمل کے طور پر ترکیہ نے اسرائیل کے سفیر کو نکال دیا، عسکری تعلقات منقطع ہو گئے اور اعتماد کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کے بعد سے یہ تعلقات کبھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئے۔

2016ء میں امریکہ کے دباؤ پر دونوں فریقوں نے تعلقات بحال کرنے کی کوشش کی۔ اسرائیل نے معاوضہ ادا کیا اور سفارتی تعلقات بحال ہو گئے۔ لیکن یہ دوستی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ایڈجسٹمنٹ ثابت ہوئی کیونکہ بظاہر مفاہمت ہونے کے باوجود اندرون خانہ دشمنی بڑھ رہی تھی۔

شام — اصل میدانِ جنگ (2011ء-2024ء)

13 سال کی جنگ اور ساڑھے چھ لاکھ سے زائد اموات کے بعد شام 2024ء میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ بشار الاسد حکومت کا خاتمہ ہوا اور اچانک ترکیہ کی حمایت یافتہ قوتوں نے شام کے اندر اثر و رسوخ حاصل کر لیا۔ ترکیہ کے لیے یہ برسوں کی محنت کا جغرافیائی سیاسی نتیجہ تھا۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک ترکیہ کے لیے شام ایک مسئلہ بنا رہا۔ لاکھوں شامی پناہ گزین ترکیہ میں داخل ہوئے، سرحد کے قریب کرد گروہ مضبوط ہوئے، اور ایران اور روس جیسے حریف اثر و رسوخ حاصل کرتے چلے گئے۔ لیکن اب صورتحال الٹ گئی ہے کیونکہ اب ترکیہ خود شام کی تشکیلِ نو کر رہا ہے۔

اسرائیل کے لیے یہ خوش کن خبر نہیں ہے۔ پہلے اسد کے تحت شام ایران کا حلیف تھا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن ہے، لیکن کم از کم وہ صورتحال قابلِ فہم تھی۔ اب ترکیہ کی حمایت یافتہ ایک نئی حکومت، جس کے اسلام پسند گروہوں سے تعلقات ہیں، اسرائیل کی سرحدوں کے قریب بیٹھی ہے۔ یہ غیر یقینی صورتحال ہے۔ جبکہ جغرافیائی سیاست میں غیر یقینی صورتحال دشمنوں سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔

بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد اسرائیل نے شام بھر میں فضائی حملے کر کے نہ صرف اس کے فوجی انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا بلکہ گولان کی پہاڑیوں کے قریب ایک بفر زون بھی قائم کیا تاکہ مستقبل کی کسی ممکنہ صورتحال کو ابھی سے کنٹرول کیا جا سکے۔

اب ترکیہ ایک مضبوط اور متحد شام چاہتا ہے۔ کرد خودمختاری ترکیہ کی سب سے بڑی تشویش ہے۔ اگر شام میں کرد علاقے خودمختار ہو گئے تو یہ خود ترکیہ کے اندر علیحدگی پسندی کی تحریک پیدا کر سکتا ہے۔

جبکہ اسرائیل ایک منقسم اور کمزور شام چاہتا ہے۔ منقسم شام کا مطلب ہے کوئی ایک مضبوط دشمن نہ ہو بلکہ متعدد چھوٹے گروہ ہوں جن کے درمیان اثر و رسوخ بڑھانے کی زیادہ گنجائش ہو۔

دونوں ممالک متضاد نتائج چاہتے ہیں۔ ترکیہ اتحاد چاہتا ہے، اسرائیل انتشار چاہتا ہے، جبکہ شام بیچ میں پھنسا ہوا ہے۔ یہ اب محض خانہ جنگی نہیں بلکہ دو علاقائی طاقتوں کا ایک پراکسی میدان جنگ ہے جو خاموشی سے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کی تشکیل کر رہا ہے۔

طاقت کی چار جہتی کشیدگی

فلسطین کا نعرہ

ترکیہ مسلم دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا تھا، سعودی عرب ہر طرف سے محتاط تھا، جبکہ ایران مختلف تنازعات میں مصروف تھا، اس صورتحال میں ترکیہ نے آگے بڑھ کر فلسطین کا نعرہ لگایا۔

نیٹو کی رکنیت

ترکیہ نیٹو کا رکن ہے، جو اسے ایک خاص سیاسی وزن دیتا ہے۔ اگر معاملات بگڑتے ہیں تو مغرب آسانی سے ترکیہ کو الگ تھلگ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع ہے جس کی بہت زیادہ جغرافیائی اہمیت ہے۔

توانائی کی جنگ

اسرائیل نے بحیرہ روم میں بڑے گیس کے ذخائر دریافت کیے ہیں، جبکہ ترکیہ یورپ کو پائپ لائنوں کے ذریعے توانائی فراہم کرنے کا پل بننا چاہتا ہے۔ اب دونوں ممالک ایک ہی مارکیٹ اور ایک ہی ہدف کے ساتھ براہ راست مسابقت میں ہیں۔

فوجی تیاری

گزشتہ دہائی کے دوران ترکیہ نے اپنی دفاعی صنعت کو زبردست وسعت دی ہے، ڈرونز سے لے کر بحری طاقت تک، اس کا مغرب پر اب پہلے جیسا انحصار نہیں ہے۔ دوسری طرف اسرائیل دنیا کی جدید ترین فوجی قوتوں میں سے ایک ہے، جس میں آئرن ڈوم جیسے میزائل دفاعی نظام اور انتہائی جدید انٹیلیجنس نیٹ ورک شامل ہیں۔ اب تصور کریں کہ دو تکنیکی طور پر جدید قوتیں ایک ہی خطے میں سرگرمِ عمل ہیں، ایسی قوتیں جو پراعتماد بھی ہیں اور جارحانہ بھی، اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

یہ معاملہ صرف ترکیہ اور اسرائیل کے باہمی تعلقات کا نہیں ہے، بلکہ توانائی کے کنٹرول، مسلم دنیا کی قیادت، جغرافیائی اثر و رسوخ، اور عالمی اتحاد کا بھی ہے۔ ترکیہ زمین کے سب سے اہم آبی گزرگاہوں میں سے ایک کو کنٹرول کرتا ہے، جو بحیرہ اسود کو بحیرہ روم سے ملاتا ہے۔ اگر ترکیہ اپنا رخ بدلتا ہے تو طاقت کا توازن بدل جاتا ہے۔ جغرافیائی سیاست میں کوئی مستقل دوست نہیں ہوتا، صرف مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ اور موجودہ صورتحال اس لیے خطرناک ہے کیونکہ دو تکنیکی طور پر جدید، پراعتماد، اور جارحانہ قوتیں ایک ہی خطے میں سرگرم عمل ہیں، جہاں کوئی واضح حدیں نہیں ہیں۔ 

ایک چھوٹی سی حرکت، ایک جھڑپ، یا ایک غلط اشارے سے کشمکش کا ایک بڑا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے — جو اتحادیوں کو کھینچ لائے، کشیدگی بڑھا دے، اور پورے خطے کو ایک بڑی صورتحال کی طرف لے جائے۔

https://youtu.be/oTyfN30f2gs

حالات و مشاہدات

(الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۷

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۳)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۴)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

کیا سنن دارقطنی علل کی کتاب ہے؟
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

محاضراتِ فقہ (۲)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۷)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۴)
محمد سراج اسرار

’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘
محمد فہد حارث
محمد بلال ابراہیم بربری

اوقات ضائع کرنے کا موبائل فون سے بڑا راستہ کوئی نہیں
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

شب بیداری: برکتیں، انعامات اور فلاح
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت
مفتی سید انور شاہ

کاروباری خسارے: اسباب، حکمتیں اور حل
مولانا عبد المتین

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۱)
حافظ مجددی

ہماری جامعات میں اسلامی قانون کی تعلیم
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

امریکہ اور اسرائیل نے اپنی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے
پروفیسر جان میئرشائیمر
ٹکر کارلسن

مغرب — یہود مخالف کیسے بنا؟
حامد میر

ترکیہ اور اسرائیل کے دشمنی میں بدلنے والے دوستانہ تعلقات
میپ اینڈ مِتھ

بھارت: سیاسی صورتحال اور تہذیبی مسائل
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

Arab Nationalism and Its Impact on the Muslim World
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

تلاش

شماریات