(امریکہ اسرائیل ایران جنگ، روس یوکرین جنگ، ایٹمی حملوں کا خطرہ، عسکری قوت کا بدلتا عالمی توازن، امریکہ کی داخلی صورتحال اور اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات جیسے موضوعات پر ٹکر کارلسن اور پروفیسر جان میئرشائیمر کی گفتگو کا خلاصہ)
پروفیسر جان میئرشائیمر شکاگو یونیورسٹی میں سیاسیات کے ممتاز پروفیسر ہیں اور بین الاقوامی تعلقات کے متعلق حقیقت پسندانہ نظریہ کے حوالے سے معروف ہیں، جس کے مطابق بڑی طاقتیں سلامتی اور اثر و رسوخ کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مسلسل مسابقت کرتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کتاب ’’دی ٹریجڈی آف گریٹ پاور پالیٹکس‘‘ تصنیف کی، جبکہ اسٹیفن والٹ کے ساتھ مل کر ’’دی اسرائیل لابی اینڈ یو ایس فارن پالیسی‘‘ بھی لکھی۔ پروفیسر جان میئرشائیمر عالمی تنازعات پر ہونے والی بحثوں میں ایک نمایاں اور مؤثر آواز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ البتہ وہ اسرائیل کے سخت ناقد ہونے کے ناطے سے اسرائیلی لابی کے زیرعتاب بھی رہے ہیں جس میں ان کی بعض اہم تقاریر منسوخ ہوئیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے، جبکہ آج کے عالمی حالات کے حوالے سے ماضی میں ان کی طرف سے پیش کیے گئے تجزیے درست ثابت ہو رہے ہیں۔
ایران جنگ میں ظاہر ہونے والی امریکی قوت کی محدودیت
صدر ٹرمپ نے 23 مارچ سے اب تک 38 مرتبہ ایران کے ساتھ معاہدے کا اعلان کیا، لیکن ہر بار یہ غلط ثابت ہوا۔ ایران نے امریکہ پر حملہ کرنے کے بجائے خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا ہے، جہاں چھ خلیجی ریاستوں کو فوجی اور شہری انفراسٹرکچر دونوں میں شدید نقصان پہنچا ہے۔ امریکہ نے ایران کی فضائیہ اور بحریہ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن واحد اہم پیمانہ — آبنائے ہرمز پر کنٹرول — ایران کے پاس ہے، جبکہ جنگ سے پہلے ایران کا یہ کنٹرول نہیں تھا۔ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کو کھولنے میں ناکام رہی۔ اس جنگ نے امریکی طاقت کی تین اہم حدود کو بے نقاب کیا ہے:
فوجی طاقت کی حد
بڑے دفاعی بجٹ اور جدید ہتھیاروں کے باوجود امریکہ ایک محدود آبی راستہ (اسٹریٹ آف ہرمز) کو مکمل طور پر کھول یا کنٹرول نہیں کر سکا۔
معاشی انحصار کا اثر
اگرچہ امریکہ خود کو توانائی کے لحاظ سے خود کفیل سمجھتا ہے، لیکن عالمی تیل مارکیٹ کی قیمتیں اب بھی امریکی اندرونی قیمتوں کو متاثر کرتی ہیں۔
اخلاقی اثر و رسوخ میں کمی
امریکہ اب پہلے جیسا اخلاقی جواز اور عالمی اعتماد برقرار نہیں رکھ سکا، کیونکہ اس نے بعض کارروائیاں کھلے عام قبول کر لی ہیں جنہیں پہلے پوشیدہ رکھا جاتا تھا۔
ایران کے خلاف اہداف کے حصول میں ناکامی
ایران — جو پہلے ایک پسماندہ، پابندیوں میں گھرا اور تھیوکریٹک ملک تھا — جنگ کے بعد آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے اور عالمی معیشت میں ایک کھلاڑی بن گیا ہے۔ اب اس کی معیشت بہتر ہو گی کیونکہ پابندیاں ختم ہوں گی اور خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات بہتر ہوں گے۔ خلیج عرب میں امریکی اڈے جزوی تباہ ہو چکے ہیں یا انہیں کافی نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ فلسطینیوں کے لیے کھڑا ہونے کی وجہ سے عرب دنیا میں ایران کی مقبولیت بڑھ گئی ہے۔
امریکہ نے ایران کے حوالے سے چار اہداف رکھے تھے:
- ایران کے میزائل پروگرام کو ختم کرنا،
- اس کے جوہری پروگرام ختم کرنا،
- حزب اللہ، حوثیوں اور حماس کے لیے ایران کی حمایت ختم کرنا،
- ایران میں حکومت کی تبدیلی،
امریکہ یہ چاروں اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ چنانچہ اس جنگ نے درج ذیل امور ثابت کیے ہیں:
- امریکہ اب وہ واحد عالمی طاقت نہیں رہا جو اپنے فیصلوں کو آسانی سے دنیا پر نافذ کر سکے۔ چونکہ عالمی معیشت باہم انحصار کی بنیاد پر چلتی ہے، نیز توانائی اور اشیاء کی قیمتیں عالمی منڈی طے کرتی ہے، چنانچہ امریکہ اپنی مرضی سے نتائج کنٹرول نہیں کر سکتا۔
- امریکی صدر ملک کے حقیقی فیصلہ ساز نہیں ہیں، جیسا کہ یہ بتایا جاتا ہے کہ نیتن یاہو نے اس جنگ کا وقت اور جگہ طے کی۔
- امریکہ خودمختار ملک نہیں ہے بلکہ اس کی پالیسیاں مخصوص طبقات طے کرتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ امریکی عوام ووٹ کے ذریعے کچھ تبدیل نہیں کر سکتے۔ یہ احساس انتہائی خطرناک ہے اور معاشرے میں انتہا پسندی کو جنم دے سکتا ہے۔
یوکرین جنگ اور جوہری ہتھیاروں کا خطرہ
یوکرین، امریکی اور یورپی حمایت کے ساتھ، روس کے اندر گہرائی میں ڈرون اور میزائل حملے کر رہا ہے جو روسی انرجی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس میں روسی شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ یوکرین کو روس اسے ایک وجودی خطرہ سمجھتا ہے، جیسے (امریکہ کے لیے) کیوبا میں سوویت میزائل کا معاملہ تھا۔ سیرگی کاراگانوف جیسے روسی دانشور مطالبہ کر رہے ہیں کہ روایتی ہتھیاروں سے مشرقی یورپ پر حملہ کیا جائے اور اگر یہ کام نہ کیا تو محدود جوہری حملے کیے جائیں۔
مغرب کو لگتا ہے کہ روس پر دباؤ بڑھانے سے پیوٹن ہار مان لیں گے، لیکن یہ سوچ خطرناک ہے کیونکہ بڑی طاقتوں کو کونے میں دھکیلنا کبھی دانشمندی نہیں ثابت نہیں ہوئی۔ پیوٹن کو روس کے اندر تنقید کا سامنا ہے کہ وہ جنگ سختی سے نہیں لڑ رہے۔ وہ ہٹلر کی طرح نہیں ہیں بلکہ ایک اعتدال پسند رہنما ہیں جنہوں نے یوکرین کے شہریوں کو بچانے کی کوشش کی ہے، حالانکہ مغربی میڈیا اسے نظر انداز کرتا ہے۔
جنگ ختم کرنے میں ٹرمپ کی ناکامی
ٹرمپ چین کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے اور روس کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے تھے، اور انہوں نے یوکرین جنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا کہ وہ تو میں ایک دن میں کر دوں گے، لیکن وہ ناکام رہے۔ اس کی تین اہم وجوہات ہیں:
- سفارت کاری میں نااہلی،
- ڈیپ اسٹیٹ (امریکہ میں سرکاری اثرورسوخ رکھنے والوں) کی مزاحمت، کیونکہ بہت سے لوگ روس کے ساتھ مفاہمت نہیں چاہتے،
- اور ایران جنگ میں اتنی مصروفیت کہ یوکرین پر توجہ نہ دے سکے۔
مارچ و اپریل 2022ء میں یوکرین اور روس مذاکرات کے قریب تھے، لیکن بورس جانسن امریکی حمایت کے ساتھ آئے اور یوکرین کو مذاکرات سے الگ ہونے کو کہا کیونکہ مغرب کو لگا کہ پابندیاں اور یوکرینی فوج روس کو شکست دے سکتی ہے، حالانکہ 2023ء میں یوکرین کا بڑا حملہ ناکام رہا۔
پیوٹن کے بارے میں مغرب کا مغالطہ
مغرب میں ایک طرف کہا جاتا ہے کہ روس بہت کمزور ہے اور ہار رہا ہے، جبکہ دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ روس یورپ کو فتح کرنے والا ہے، حالانکہ دونوں ایک ساتھ سچ نہیں ہو سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ روس سست رفتاری سے جنگ جیت رہا ہے، لیکن پوری یوکرین کو فتح نہیں کرے گا اور نہ ہی مشرقی یورپ پر حملہ کرے گا کیونکہ نیشنلزم بہت طاقتور ہے۔ امریکہ روس کو بڑی طاقتوں کی صف سے نکالنا چاہتا ہے کیونکہ وہ پیوٹن کو پسند نہیں کرتے، جو یلسن کی طرح جھکا نہیں۔ لیکن روس کو کمزور کرنا انتہائی خطرناک ہو گا کیونکہ ایک بڑے جوہری ملک کو غیر مستحکم کرنا سب کے لیے خطرہ ہے۔
سلطنتوں کے زوال کی تاریخ
سلطنتیں دو بڑی وجوہات کی بنا پر گرتی ہیں:
نیشنلزم
لوگ اندرونی خود مختاری چاہتے ہیں اور اپنے اوپر کسی اور کی حکومت نہیں دیکھنا چاہتے۔
اقتصادی بوجھ
صنعتی انقلاب کے بعد سلطنتیں منافع بخش نہیں رہیں بلکہ ایک بوجھ بن گئیں۔ سوویت یونین نے مشرقی یورپ پر قبضہ کیا لیکن یہ اقتصادی طور پر منافع بخش نہ تھا۔ عوام نے 1953ء میں مشرقی جرمنی، 1956ء میں ہنگری اور 1968ء میں چیکوسلواکیہ میں مزاحمت کی۔ یعنی سلطنتیں آخر کار ٹوٹ جاتی ہیں۔ روسی اس سبق سے واقف ہیں اور وہ یورپ پر حملہ کرنا نہیں چاہتے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ اس سے مزاحمت اور نقصان ہوگا۔
اسرائیل اپنی ہی تباہی کی راہ پر
1948ء سے 1967ء تک اسرائیل انتہائی محتاط تھا کیونکہ امریکہ اس کا اتحادی نہیں تھا اور وہ دشمنوں کے سمندر میں گھرا ہوا تھا، لیکن وقت کے ساتھ امریکی حمایت اور اسرائیل لابی کی وجہ سے اسرائیل ایک بہت بڑی فوجی طاقت بن گیا۔ اس طاقت کے ساتھ اس میں حد کے اندر رہنے کا احساس ختم ہو گیا۔ آج اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے، یعنی ایک ایسی قوم نسل کشی کر رہی ہے جو خود کبھی نسل کشی کا شکار تھی۔ اور اسرائیل لبنان میں شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے، مسیحی دیہات تباہ کر رہا ہے اور بیروت پر بمباری کر رہا ہے۔ جبکہ امریکہ اس سب کی حمایت کر رہا ہے۔ اسرائیل کے لیے بہترین بات یہ ہوتی کہ امریکہ اسے سختی سے روکتا، لیکن اسرائیل لابی اس کی اجازت نہیں دیتی۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری
ٹرمپ شدید معاشی دباؤ میں ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز بند ہے اور امریکہ کے وسطی انتخابات قریب ہیں، اگر معیشت تباہ ہوئی تو ڈیموکریٹس کے پاس کنٹرول چلا جائے گا۔ اس لیے ٹرمپ کو معاہدہ چاہیے لیکن معاملہ اب ایران کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری طرف نیتن یاہو ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کرنا چاہتے جو ایران کو فاتح بنائے، تاہم اسرائیل امریکہ پر مکمل انحصار کرتا ہے اور امریکی امداد کے بغیر نہیں رہ سکتا، اس حوالے سے نیتن یاہو کو اندر سے بھی دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ اپوزیشن انہیں کمزور کہہ رہی ہے۔ چنانچہ ٹرمپ کو اسرائیل کے ساتھ سخت کھیل کھیلنا پڑے گا، چاہے یہ کتنا بھی ناممکن لگے۔ ٹرمپ کے پاس دو آپشنز ہیں:
- یا تو اسرائیل کی امداد بند کر دیں، جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔
- یا معاشی تباہی کا سامنا کریں۔
امریکہ کے لیے دو اہم سبق
- 2022ء سے 2024ء تک ڈرون اہم نہیں تھے اور توپ خانہ سب سے اہم تھا، لیکن ڈرون 2024ء کے بعد میدانِ جنگ کا بادشاہ بن گیا ہے۔ جبکہ امریکہ ڈرون ٹیکنالوجی میں پیچھے ہے اور اپنی اس کمزوری پر قابو پانے کی کوشش میں ہے، کیونکہ طیارہ بردار جنگی جہازوں کی افادیت پر ڈڑونز نے سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
- جنرل سلیمانی مذاکرات کے لیے آئے اور قتل کر دیے گئے۔ دھوکے سے مخالفین کو کمزور پوزیشن میں پھنسانا، یہ وہ رویہ ہے جس پر امریکہ پہلے دوسروں کو تنقید کا نشانہ بناتا تھا لیکن اب خود ایسا کر رہا ہے۔ اور اس رویے کا نتیجہ ’’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘‘ کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔
امریکی سیاست میں دوہری شہریت اور غیر ملکی اثر و رسوخ
بہت سے امریکی اپنے آبائی ممالک کی لابی کرتے ہیں — کیوبا، یوکرین، اسرائیل — جو کہ دوہری شہریت کا نتیجہ ہے۔ اگر آپ امریکہ آتے ہیں تو امریکی بنیں، صرف امریکی، اپنی اصلی شہریت ترک کریں، اور غیر ملکی مفادات کی لابی کرنا غلط ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ ملک کون سا ہے۔ (مثال کے طور پر) اٹلانٹک میگزین کے ایڈیٹر جیفری گولڈ برگ نے اسرائیلی جیل کیمپ میں بطور گارڈ رضاکارانہ خدمات انجام دیں — امریکی فوج میں نہیں بلکہ اسرائیلی فوج میں — اور اس کے باوجود وہ امریکی خارجہ پالیسی پر بہت زیادہ اثر رکھتے ہیں۔
دنیا تاریخی موڑ پر
دنیا ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے جہاں:
- امریکہ اور اسرائیل کی ساکھ کو بہت زیادہ نقصان پہنچ چکا ہے۔
- فوجی، اقتصادی اور اخلاقی طور پر امریکی طاقت محدود ثابت ہوئی ہے۔
- امریکی خودمختاری ختم ہو رہی ہے اور حقیقی فیصلے غیر ملکی رہنما کر رہے ہیں۔
- اسرائیل حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کی وجہ سے خود اپنی تباہی کی راہ پر ہے۔
- روس اور ایران دونوں جنگ کے باوجود مضبوط ہو رہے ہیں۔
- یوکرین جنگ میں جوہری ہتھیاروں کا خطرہ حقیقی ہے۔
- پولینڈ اور جرمنی جوہری ہتھیار حاصل کر سکتے ہیں جس سے یورپ میں ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو جائے گی۔
پروفیسر میئرشائیمر کہتے ہیں کہ وہ صبح اٹھ کر افسردہ ہو جاتے ہیں کہ انہیں اخبارات اور ویب سائٹس پڑھ کر بری خبروں سے واسطہ پڑے گا، لیکن یہ ایک دلچسپ دنیا ہے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرنا ایک بہت دلچسپ کام ہے۔ ان کے مطابق مشرقی یورپ اور مشرق وسطیٰ میں بڑے خطرات موجود ہیں اور امریکہ ان جنگوں سے کمزور ہو کر نکلے گا جبکہ اس کے مخالفین مضبوط ہوں گے۔


















