ہمارے آئین کا کہنا ہے کہ پاکستان ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ ہے، یہاں حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے، یہاں لوگوں کے پاس اختیارات ایک ’’مقدس امانت‘‘ کے طور پر ہیں جنھیں وہ اللہ تعالیٰ کی ’’مقرر کردہ حدود کے اندر‘‘ اپنے ’’منتخب نمائندوں کے ذریعے‘‘ استعمال کریں گے۔ آئین نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ ’’قرآن و سنت میں مذکور اسلامی احکام‘‘ سے متصادم کوئی قانون پاکستان میں نہیں بنایا جائے گا اور رائج الوقت تمام قوانین کو ان احکام سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ پاکستان کے قانون نے عدالتوں پر یہ بھی لازم کیا ہے کہ وہ تمام قوانین کی ایسی تعبیر کریں جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو۔
ان آئینی اور قانونی اصولوں کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ پاکستان کی جامعات میں اسلامی قانون کو ہی ملکی قانون کی حیثیت سے پڑھایا جاتا، اس کے اصولوں پر غور کیا جاتا، اس سے احکام مستنبط کرنے کے طریقے سکھائے جاتے، معاصر مسائل پر ان کی تطبیق کی مشقیں کرائی جاتیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ رائج الوقت قوانین کی اسلامی تعبیر کی تربیت دی جاتی، لیکن عملاً ہماری جامعات میں کیا ہو رہا ہے؟
اس سوال پر غور سے پہلے دیکھیں کہ ہماری جامعات ’’اسلامی قانون‘‘ کہتی کسے ہیں؟ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد اور چار دیگر جامعات (جن میں تین خیبر پختونخوا میں ہیں) کو مستثنیٰ کر کے باقی تمام جامعات کا حال یہ ہے کہ اسلامی قانون کے نام پر ان کے ہاں دو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں: ایک ڈنشا فردون جی ملّا کی ’محمڈن لا‘ اور ایک سر عبد الرحیم کی ’اسلامک جوریسپروڈنس‘۔ دونوں کتابوں پر صدی بیت چکی۔
- پہلی کتاب کے مصنف ایک پارسی تھے جو اعلیٰ پائے کے وکیل تھے لیکن جنہیں اسلامی قانون کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں تھا۔ انھوں نے یہ کیا کہ نکاح، طلاق، وراثت وغیرہ، جنھیں ’’مسلم شخصی قانون‘‘ کہا جاتا تھا، میں عدالتی فیصلوں پر غور کر کے ان میں رائج اصول مستخرج کر کے انھیں دفعہ وار مرتب کیا۔ سو سال قبل یہ وکیلوں کے لیے ایک مفید کام تھا، لیکن انگریزوں کی غلامی میں انگریزوں کے نظام کے تحت چند مخصوص امور میں دیے گئے فیصلوں اور ایک آزاد اسلامی جمہوریہ میں قرآن و سنت کے احکام پر مبنی قانون میں زمین و آسمان کا فرق ہونا چاہیے۔
- سر عبد الرحیم کی کتاب بھی اپنے وقت پر ایک اچھی کتاب تھی لیکن پلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ اسلامی قانون کے متعلق مستشرقین کے پروپیگنڈا کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے اور فقہ و اصول فقہ پر بہترین کتابیں اور مقالات آ چکے ہیں۔ پھر بھی اس قدیم کتاب سے چپکے رہنے کی کیا وجہ ہے؟
انگریزوں نے جب برصغیر پر اپنا تسلط جمانا شروع کیا، تو ان کی نظر پہلے محصولات — بالخصوص زرعی زمین پر محصول — کے قانون پر تھی۔ ان امور اور دیوانی کے اختیارات پر تسلط کے بعد انھوں نے جرم و سزا کے قانون اور دیگر امور کی طرف توجہ دی، لیکن ’’شخصی امور‘‘ میں ’’عدمِ مداخلت‘‘ کی ’’پالیسی‘‘ پر گامزن رہے تاکہ ’’رعایا‘‘ بھڑک نہ اٹھے۔
چنانچہ ابتدا میں مسلمان قاضیوں کو نکاح، طلاق وغیرہ کے فیصلے کرنے تک محدود کر دیا۔ پھر ان قاضیوں کی جگہ اپنے ’’جج‘‘ بٹھا دیے اور ان قاضیوں کو بطورِ مفتی ’’جج کا معاون‘‘ بنا دیا کیونکہ ججوں کو اسلامی قانون کا علم نہیں تھا۔ کچھ عرصے بعد اسلامی قانون کی ان کتابوں کے ترجمے کرائے جن سے عام طور پر مفتی کسی مسئلے کا حکم نکالتے تھے، جیسے حنفی فقہ میں ’ہدایہ‘ اور اثنا عشری فقہ میں ’شرائع الاسلام‘۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ چارلس ہملٹن — جس نے ہدایہ کا ترجمہ کیا — کو عربی آتی ہی نہیں تھی اور اس نے فارسی ترجمے سے انگریزی میں ترجمہ کیا، لیکن یہ شوربے کا شوربہ آج بھی ہماری عدالتوں میں اسلامی قانون کا بنیادی ماخذ سمجھا جاتا ہے۔ اسی کو پڑھ کر ہمارے جج فیصلے کرتے آئے ہیں۔ پھر ان فیصلوں سے ڈی ایف ملّا کی کتاب بنی، جو آج تک ہماری جامعات میں نصابی کتاب کے طور پر پڑھائی جاتی ہے اور جسے ہمارے جج آج تک اسلامی قانون کی سب سے مستند کتاب سمجھتے ہیں۔
اصولِ فقہ یعنی اسلامی قانون کے تصور، اس کے مآخذ، اور اس سے استنباط سے متعلق امور کے علم کی کہانی اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔ جوزف شاخٹ جیسے مستشرقین نے یہ مفروضات پیش کیے تھے کہ اصولِ فقہ اور فقہ کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اصولِ فقہ کا ڈھانچا تو امام شافعی نے کھڑا کیا جبکہ فقہ تو امام شافعی کی پیدائش سے بھی دو عشرے قبل مکمل طور پر وجود میں آچکی تھی اور یہ کہ فقہ صرف کتابوں میں پائی جاتی تھی جبکہ عملی دنیا میں سارا نظام حکمرانوں کے فرامین پر چلتا تھا۔ یوں مسلمانوں کے قانونی نظام میں نظریے اور عمل کا تضاد پایا جاتا تھا۔ آج تک ہمارے قانون دانوں اور ججوں کی اکثریت ان مفروضوں کو حقیقت کے طور پر قبول کیے ہوئے ہے۔
ایک اور ظلم یہ ہوا ہے کہ ان نصابی کتب میں حنفی، شافعی اور دیگر فقہی مذاہب کو ’’فرقوں‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے حالانکہ فقہی مذہب دراصل اسلامی قانون کی تعبیر و تشریح کا ایک مستحکم نظام ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ’’مغربی جورِس پروڈنس‘‘ پڑھاتے ہوئے ’قانونِ فطرت‘ کے علم برداروں (Naturalists) اور ’قانونِ وضعی‘ کے ماننے والوں (Positivists Legal)، یا ’لذت پسندی‘ (Utilitarianism) اور ’قانونی عملیت پسندی‘ (Legal Realism) کے اختلاف کو ’فرقہ وارانہ اختلاف‘ کا عنوان نہیں دیا جاتا، بلکہ انھیں قانون کو دیکھنے اور اس کی تعبیر و تشریح کے مختلف نظریات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ نصاب پڑھنے والے اگر مسلمانوں کے فقہی اختلافات دیکھ کر یہ سوال اٹھائیں کہ پاکستان میں ’کس کی شریعت‘ نافذ کی جائے گی، تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔ البتہ یہ سوال اٹھانے والے کبھی اس پر غور نہیں کرتے کہ آئین و قانون کی تعبیر کے متعلق مختلف نظریات کی موجودگی میں پاکستان میں ’کس کا آئین‘ یا ’کس کا قانون‘ نافذ کیا جائے گا؟ وجہ واضح ہے۔ جیسا کہ ذکر کیا گیا، پاکستان کے آئین و قانون کی رو سے عدالتوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قوانین کو اسلامی اصولوں پر پرکھیں اور ان کا ایسا مفہوم متعین کریں جو ان اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔ یہ ذمہ داری صرف نکاح و طلاق کے قانون اور نہ صرف حدود و قصاص کے قانون کے لیے نہیں بلکہ تمام قوانین کے لیے ہے۔
اس لیے بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پاکستانی جامعات میں اسلامی قانون کو بہت سارے قوانین کے درمیان محض ایک اور قانون کے طور پر نہیں، بلکہ ملک کے اصل قانون کے طور پر پڑھایا جانا چاہیے اور قانون کی ڈگری کے ہر کورس میں اسلامی قانون کے اصولوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔ اسی طرح ہماری عدالتوں کو اس مفروضے سے بھی جان چھڑانی ہے کہ اسلام ہمارے آئین میں صرف ’اسلامی دفعات‘ کے باب تک محدود ہے۔ (حالانکہ) ہمارے آئینی نظام کی اساس یہ ہے کہ ہمارا پورا آئین اسلامی ہے اور ہر ہر دفعہ اور ہر ہر شق کی تعبیر اسلامی اصولوں پر کرنی لازم ہے۔ باقی رہی اسلامی یونیورسٹی اور دیگر چند جامعات میں اسلامی قانون کی تعلیم کی بات، تو اس پر کسی اور وقت بات کریں گے، ان شاء اللہ۔


















