کیا سنن دارقطنی علل کی کتاب ہے؟

مجھ سے حدیثِ نبوی اور مصادرِ حدیث سے لگاؤ رکھنے والے ایک صاحب نے سنن دارقطنی سے متعلق سوال کیا کہ اس کتاب میں کتبِ ’’سنن‘‘ کی ترتیب اختیار کی گئی ہے یا کتبِ ’’علل‘‘ کا طور و انداز اپنایا گیا ہے؟ ان کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

نام

اس کتاب کا نام ’’سنن‘‘ ہے، جسے حافظ حدیث امام ابوالحسن علی بن عمر بن احمد بن محمد دارقطنی (م۳۸۵ھ) نے تالیف فرمایا ہے۔ امام دارقطنی کی ’’سنن‘‘ کے علاوہ دیگر تصنیفات بھی ہیں، جن کے ناموں سے ہی ان میں موجود مضامین کی جھلک نظر آتی ہے۔ آپ نے کتاب ’’التتبع والالزامات ‘‘ لکھی، جس میں صحیحین کی ان احادیث کا تتبع کر کے نقد کیا، جو آپ کے نزدیک شرائطِ صحت پر پورا نہ اترتی تھیں، اسی طرح آپ نے ایسی احادیث کی نشان دہی بھی کی، جنھیں صحیحین میں درج کرنا ضروری تھا۔ آپ نے کتاب ’’العلل‘‘ تالیف کی، جس میں بے مثال انداز میں معلل احادیث جمع کیں۔ اسی طرح ’’کتاب السنن‘‘ تالیف فرمائی، جس کا نام مضمون کے مطابق ہے؛ کیوں کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ امام دار قطنی ’’علل‘‘ کے موضوع پر کتاب لکھیں اور نام اس کا ’’سنن‘‘ رکھیں۔

موضوع

اس کتاب میں دیگر کتبِ سنن مثلاً‌، سنن ابی داؤد، ترمذی اور نسائی کی طرح آں حضرت ﷺ کی احادیث بیان کی گئی ہیں۔ سنن کی ہر کتاب کی طرح اس کتاب کی بھی اپنی امتیازی خصوصیات ہیں۔ سنن ترمذی میں مذاہب کا بیان، فقہا کے اختلافات کا ذکر، صحت و حسن اور ضعف کے لحاظ سے احادیث کی درجہ بندی اور تعلیلِ احادیث ایسی کئی مباحث ملتی ہیں، جو دیگر کتب میں موجود نہیں۔ سنن ابو داؤد میں کثرت سے ابواب بندی اور فروعی مسائل کا ذکر، علل کا بیان اور اسنادی اختلافات کی طرف اشارہ ہے۔ یہ انداز دیگر کتابوں میں نہیں ملتا۔ اسی طرح سنن دارقطنی بھی اپنے اسلوب و منہج میں دوسری کتبِ سنن سے جداگانہ حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں امام دارقطنی نے صحیح و حسن احادیث کے ساتھ ضعیف، موضوع، مضطرب اور معلل احادیث ذکر کی ہیں۔ ان کی یہ کتاب فقہ، روات پر کلام، مختلف الحدیث اور علل کا مجموعہ ہے۔

احادیث کی اقسام

اس کتاب میں اسانید و طرق حدیث ملا کر تقریباً‌ پانچ ہزار احادیث موجود ہیں، جن کی مختلف اقسام ہیں:

صحیح و حسن

اس کتاب میں صحیح و حسن احادیث کی معتد بہ تعداد موجود ہے۔ کچھ احادیث ایسی ہیں جو صحیحین میں بھی پائی جاتی ہیں، کچھ احادیث دیگر محدثین کی شرائط پر پورا اترنے کی وجہ صحیح ہیں، جب کہ بعض احادیث پر امام دارقطنی نے خود صحت و حسن کا حکم لگایا ہے؛ چناں چہ آپ احادیث ذکر کرنے بعد فرماتے ہیں: ’’اس حدیث کی اسناد صحیح ہے، یا اس کی اسناد حسن ہے، یا یہ تمام اسانید صحیح ہیں‘‘، وغیرہ۔ اس کتاب میں اتنی بڑی تعداد میں صحیح و حسن احادیث پاے جانے کی بنا پر اسے کسی طور ’’علل‘‘ کی کتاب نہیں کہا جا سکتا۔

متابعات و شواہد

امام دارقطنی اپنی کتاب میں کثرت سے متابعات و شواہد ذکر کرتے ہیں۔ صحیح و ضعیف کی پروا کیے بغیر احادیث مسلسل بیان کیے جاتے ہیں۔ یہ اسلوب محدثین کے ہاں معروف ہے۔ امام مسلم نے اپنی صحیح اور امام نسائی نے اپنی سنن میں اسی اسلوب کو سامنے رکھ کر احادیث بیان کی ہیں۔ مثال کے طور پر، سنن دارقطنی میں ’’حدیث قلتین‘‘ وغیرہ کے طرق دیکھیے۔

مقطوع و موقوف

کتب ’’مصنفات‘‘ کی طرح امام دارقطنی اپنی کتاب میں موقوف و مقطوع احادیث و آثار سے بھی استدلال کرتے ہیں۔ انھوں نے امام بخاری کے تراجم ابواب کی پیروی کرتے ہوے موقوف و مقطوع آثار کو بیان کیا ہے۔

غریب، منکر و موضوع

علامہ محمد بن جعفر کتانی، جو ہمارے بہت سے شیوخ کے استاذ ہیں، فرماتے ہیں: ’’سنن دارقطنی غریب احادیث کا مجموعہ ہے۔ اس میں ضعیف، بلکہ موضوع احادیث بہت زیادہ ہیں‘‘1۔ حافظ حدیث امام ابن عبد الہادی رقم طراز ہیں: ’’امام دارقطنی اپنی کتاب میں غریب احادیث لاتے ہیں، کثرت سے ضعیف بلکہ موضوع احادیث ذکر کرتے ہیں اور بعض اوقات حدیث کی علت اور سبب ضعف و نکارت بھی بیان کرتے ہیں2۔ امام ذہبی کہتے ہیں: ’’سنن دارقطنی منکر احادیث کا گھر ہے‘‘۔

خصوصیات

فقہی مذاہب کی تائید میں احادیث و آثار

امام دارقطنی نے کتب فقہ کے منہج کو سامنے رکھ کر اپنی ’’سنن‘‘ کو ترتیب دیا ہے۔ فقہا کی طرح ابواب بندی کی ہے، جن میں فقہی مذاہب کے مستدلاتِ حدیث ذکر کیے ہیں، خواہ یہ احادیث ضعیف، غریب، منکر، شاذ بلکہ موضوع (من گھڑت) ہی کیوں نہ ہوں۔ قاضی ابو علی صفدی کا کہنا ہے: ’’امام دارقطنی نے مختلف فیہ مسائل میں فقہا کے مستدلات حدیث بیان کیے ہیں، اور جہاں تک ہو سکا ان احادیث میں موجود علتوں کی نشان دہی کی ہے3۔

غرائب حدیث

امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: ’’امام دارقطنی نے اپنی ’’سنن‘‘ غریب احادیث بیان کرنے کے لیے لکھی ہے۔ آپ حدیث بیان کرنے کے بعد اکثر (فنی حیثیت سے) اس پر حکم لگاتے ہیں۔ ایسی مباحث کے آپ سب سے بڑے عالم ہیں4۔ ابن تیمیہ مزید لکھتے ہیں: ’’حدیث میں کمال امامت کے باوجود آپ نے ’’سنن‘‘ اس لیے لکھی تاکہ اس میں فقہ سے متعلق غریب احادیث ذکر کر کے ان کے طرق جمع کیے جائیں؛ کیوں فقہ میں اسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے5۔ امام زیلعی فرماتے ہیں: ’’سنن دارقطنی معلل احادیث کا مجموعہ اور غریب احادیث کا سرچشمہ ہے‘‘۔

بیان علل

امام دارقطنی عبقری ناقد اور علامۂ علل ہیں۔ جہاں تک ہو سکے، آپ حدیث میں موجود علل کی نشان دہی کرتے ہیں۔ سنن دارقطنی میں روات کے تفرد کی کثرت سے نشان دہی کی گئی ہے اور احادیث کی علل کو بیان کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے شیخ عبد الفتاح ابو غدہ فرماتے ہیں: ’’حق یہ ہے کہ اس کتاب کا نام و عنوان ’’السنن المعلولۃ ‘‘ ہونا چاہیے ‘‘6۔

امام دارقطنی پر کوئی الزام نہیں

سنن دارقطنی میں، غریب، منکر اور موضوع احادیث کی موجودگی کا یہ مطلب نہیں کہ امام دارقطنی متساہل ہیں؛ کیوں کہ انھوں نے اس کتاب میں صحیح حدیث لانے کی شرط نہیں لگائی۔ ان کے علاوہ دیگر محدثین کے ہاں بھی یہ اسلوب پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، امام ترمذی کبھی کبھار ضعیف حدیث سے باب شروع کرتے ہیں اور اسی موضوع پر شیخین، یعنی بخاری و مسلم کی ذکر کردہ صحیح حدیث چھوڑ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری فرماتے ہیں: ’’سنن دارقطنی کا شمار سنت کے دواوین میں ہوتا ہے۔ اس میں تخریج حدیث کے لیے صحت کا التزام نہیں کیا گیا؛ لہٰذا اس میں صحیح، ضعیف اور واہی احادیث اور کثرت سے غریب احادیث پائی جاتی ہیں۔ امام دارقطنی نے ’’سنن‘‘ میں کئی روات کے بارے میں متروک کا حکم لگایا ہے۔ یہ پینسٹھ روات ہیں، جن میں پانچ روات کو متروک نہیں کہا جا سکتا۔ مزید براں اس کتاب میں چار وضاع (من گھڑت احادیث بیان کرنے والے) بھی ہیں‘‘7۔

سنن دارقطنی میں موجود ایک باطل حدیث ذکر کرنے کے بعد امام ابن القیم رقم طراز ہیں: ’’امام دارقطنی نے اس حدیث کو اس وجہ سے ذکر کیا ہے، تاکہ اس کے بطلان کا علم ہو جاے، وگرنہ امام دارقطنی کی شان بہت بلند ہے، وہ ایسی حدیث سے استدلال نہیں کر سکتے‘‘8۔

خلاصہ

سنن دارقطنی انداز و ترتیب میں کتب علل کی بجاے کتب سنن کے مشابہ ہے۔ اس میں صحیح و حسن اور اس سے فروتر درجے کی احادیث موجود ہیں۔ امام دارقطنی نے اس کتاب کا نام ’’سنن‘‘ رکھا ہے، اسی سے امام صاحب کا ہدف واضح ہو جاتا ہے۔ متقدمین حفاظِ حدیث میں سے کسی نے سنن دارقطنی کو علل کی کتاب نہیں کہا۔ اس میں علل احادیث کی نشان دہی سے کتاب کا مضمون بدل نہیں جاتا۔ امام دارقطنی جیسے بڑے محدث سے کوئی بعید نہیں کہ وہ فقہی احادیث کے لیے مخصوص کتاب میں ان کی علتیں بھی بیان کر دیں۔ حفاظ حدیث اپنی تالیفات میں یہ سب کرتے آے ہیں۔ کتاب کسی اور موضوع پر ہوتی ہے؛ لیکن اس میں احادیث کی علتیں بھی بیان کر دیتے ہیں۔ اس نکتے کی تشریح پہلے گزر چکی ہے۔ وللہ الحمد


حوالہ جات

1 ۔ الرسالة المستطرفة، ص: 32

2 ۔ الصارم المنکی فی الرد علی السبکی ، ص: 19

3 ۔ المعجم في أصحاب القاضي أبي علي الصفدي: ص: 79

4 ۔ تلخيص كتاب الاستغاثة ، ص: 20

5 ۔ الفتاوى الكبرى : 5/299

6 ۔ ملحق تحفة الأخبار ص: 154

7 ۔ مناهج البحث وتحقيق التراث ، ص: 178-179

8 ۔ إغاثة اللهفان : 1/317

حدیث و سنت / علوم الحدیث

(الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۷

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۳)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۴)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

کیا سنن دارقطنی علل کی کتاب ہے؟
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

محاضراتِ فقہ (۲)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۷)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۴)
محمد سراج اسرار

’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘
محمد فہد حارث
محمد بلال ابراہیم بربری

اوقات ضائع کرنے کا موبائل فون سے بڑا راستہ کوئی نہیں
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

شب بیداری: برکتیں، انعامات اور فلاح
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت
مفتی سید انور شاہ

کاروباری خسارے: اسباب، حکمتیں اور حل
مولانا عبد المتین

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۱)
حافظ مجددی

ہماری جامعات میں اسلامی قانون کی تعلیم
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

امریکہ اور اسرائیل نے اپنی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے
پروفیسر جان میئرشائیمر
ٹکر کارلسن

مغرب — یہود مخالف کیسے بنا؟
حامد میر

ترکیہ اور اسرائیل کے دشمنی میں بدلنے والے دوستانہ تعلقات
میپ اینڈ مِتھ

بھارت: سیاسی صورتحال اور تہذیبی مسائل
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

Arab Nationalism and Its Impact on the Muslim World
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

تلاش

شماریات