محاضراتِ فقہ (۲)

جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کا جائزہ لیتے ہیں، یعنی قرآن مجید اور سنت میں جو تعلیم بھی آپؐ نے دی ہے، اس کا جائزہ لیں، تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ زندگی کے تین بڑے میدان ہیں جن کے بارے میں شریعت میں رہنمائی موجود ہے۔ زندگی کے تین بڑے میدانوں کے بارے میں شریعتِ اسلامیہ نے رہنمائی دی ہے:

(1) — سب سے پہلی رہنمائی انسان کے ذہنی اور فکری معاملات کی ہے۔ اگر انسان ذہنی طور پر الجھنوں کا شکار ہو، ذہنی طور پر پریشان ہو، اس کو یہی پتہ نہ ہو کہ راستہ کدھر جاتا ہے؟ کامیابی کا راستہ کون سا ہے اور ناکامی کا کون سا ہے؟ تو وہ بیابان کی طرح بھٹکتا رہے گا اور اس میں سرگرداں رہے گا اور کبھی بھی صحیح راستے پر نہیں چل پائے گا۔ اس لیے سب سے پہلا کام شریعت نے یہ کیا ہے کہ وہ بنیادیں حقیقی طور پر متعین کر دیں جو انسان کے ذہنی رویے کی تشکیل کرتی ہیں۔ انسان سوچے تو کن خطوط پر سوچے؟ عقلی طور پر معاملات پر غور کرے تو کن حدود کا پابند ہو؟ بنیادی سوالات کیا ہیں جن کا جواب قرآن پاک میں دیا گیا ہے؟ تاکہ ان کی بنیاد پر وہ آگے تفصیلی سوالات کا جواب دے سکے۔

جب آپ سائنس پڑھتی ہیں، سائنس میں آپ کو مثال کے طور پر کیمسٹری میں بعض بنیادی تصورات اور اصول بتا دیے جاتے ہیں کہ کیمسٹری کے بنیادی اصول اور تصورات یہ ہیں۔ ان تصورات کو جاننے کے بعد آپ لیبارٹری میں کھڑی ہو جائیں اور جتنی مرضی تحقیق کریں، آپ کے لیے بہت آسان ہے، آپ بہت جلدی کیمسٹری میں بہت ترقی کر سکتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی خاتون کسی گاؤں اور دیہات سے آئی ہو، اس کو یہی نہ پتہ ہو کہ کیمسٹری کیا چیز ہوتی ہے، اس کو وہاں تازہ ترین اور اعلیٰ ترین لیبارٹری میں جا کر کھڑا کر دیں، وہ کچھ نہیں کر سکتی۔ کبھی ایک چیز کو توڑے گی، کبھی دوسری چیز کو خراب کرے گی، کبھی تیسری چیز کو بگاڑے گی۔ اس لیے کہ اسے وہ بنیادی مسائل ہی نہیں پتہ جن کی بنیاد پر اس کو استعمال کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ بنیادی سوالات بتا دیے ہیں کہ انسان کی کیمسٹری اور کائنات کی اس کیمسٹری کو کیسے استعمال کرنا ہے۔ یہ ایک تجربہ گاہ ہے، آپ تجربہ کیجیے۔ اگر آپ کے سامنے وہ سارے بنیادی تصورات اور ڈھانچے موجود ہیں جو قرآن پاک نے اس قوت کو استعمال کرنے کے لیے بتائے ہیں، تو آپ کے لیے بہت آسان ہے، چند منٹوں اور چند لمحوں، چند دنوں میں آپ وہ کچھ معلوم کر سکتی ہیں، جو وہ ناواقف اور ناخواندہ خاتون پچاس برس میں بھی معلوم نہیں کر سکتی، سو برس بھی وہاں کھڑی رہے تو کچھ نہیں کر سکتی، اس کے لیے وہ سب چیزیں بیکار ہیں۔

کم و بیش یہی تشبیہ ہے اس انسان کی جس کو وحی الٰہی کی رہنمائی حاصل نہ ہو اور وہ اس تجربہ گاہ میں کھڑا کر دیا جائے۔ یہ کیمسٹری اس کے سامنے ہو اور وہ اس کیمسٹری کو روز تباہ کیا کرے۔ روز اعلیٰ سے اعلیٰ قوتوں کو ضائع اور برباد کرے، تباہ کرے۔ لیکن اگر اس کے سامنے رہنمائی موجود ہے تو اس رہنمائی کی مدد سے وہ سالوں کا سفر منٹوں میں طے کر سکتا ہے، وہ صدیوں کا سفر سیکنڈوں میں طے کر سکتا ہے۔ یہ شریعت کی برکت اور رحمت ہے کہ اس نے انسانی زندگی کے بنیادی سوالات کا جواب دے دیا ہے۔

(2) — دوسری چیز جو شریعت نے بتائی ہے، وہ انسان کے احساسات اور جذبات ہیں۔ ہر انسان کے احساسات اور جذبات اس کے ساتھ لگے ہوتے ہیں۔ اگر احساسات اور جذبات اسٹیبل ہوں، مستحکم ہوں، تو پوری انسانی زندگی مستحکم ہوتی ہے۔ اگر جذبات اور احساسات مستحکم نہ ہوں تو انسان غیر مستحکم ہوتا ہے، اس کی زندگی اسٹیبل نہیں ہوتی۔ آپ نے دیکھا ہوگا بہت سے لوگ ہیں جو emotionally disturbed رہتے ہیں، جذباتی اعتبار سے پریشانی کے شکار رہتے ہیں، انہیں کبھی جذباتی سکون نہیں میسر ہوتا، ان کی زندگی کامیاب نہیں ہوتی۔ دنیا کی ساری نعمتیں میسر ہوں، لیکن جذباتی استحکام میسر نہ ہو تو وہ ساری نعمتیں بیکار ہیں۔ لیکن اگر کوئی نعمت نہ ہو، لیکن جذباتی طور پر استحکام ہو، تو انسان کی زندگی بڑی کامیاب ہوتی ہے۔

بعض اوقات چھوٹی سی چیز انسان کے استحکام کو خراب کر دیتی ہے۔ کچھ لوگ بڑی خوشی کے ماحول میں بیٹھے ہوں، انتہائی مسرت کا ماحول ہو، وہاں کسی شخص کو آکر یہ بتا دیا جائے کہ آپ کے فلاں قریب ترین عزیز کا انتقال ہو گیا ہے، اچانک اس کی کیفیت بدل جائے گی، وہ اس ماحول میں نہیں رہے گا۔ وہ جسمانی طور پر وہاں بیٹھا ہوگا، اس کے کان بھی ہوں گے، ناک بھی کام کر رہی ہوگی، آنکھ بھی کام کر رہی ہوگی، سب اعضا کام کر رہے ہوں گے، لیکن عملاً‌ وہ نہ سن رہا ہوگا، نہ دیکھ رہا ہوگا۔ ایک گھنٹے بعد پتہ چلے کہ نہیں، خبر غلط تھی، اس کے عزیز کا نہیں، اس کے ہم نام کسی اور کے عزیز کا انتقال ہوا تھا، وہ دوبارہ اس ماحول میں واپس آ جائے گا۔ اب آپ اس سے پوچھیں کہ فلاں نے کیا کہا تھا، اس کو یاد نہیں ہوگا۔ اس سے پوچھیں کہ اس دوران میں کیا ہوا تھا؟ کوئی ٹی وی چل رہا ہو تو ٹی وی پر کیا آیا تھا؟ اس کو پتہ نہیں ہوگا۔ استاد لیکچر دے رہا ہو تو اسے پتہ نہیں چلے گا کہ کیا کہا تھا۔ اس لیے کہ جذباتی طور پر اس وقت وہ مستحکم نہیں تھا۔

یہ اہمیت ہے جذباتی استحکام کی۔ یہ ایک اخلاقی اور روحانی تربیت چاہتا ہے، یہ وہ اخلاقی خصائص اور روحانی اوصاف چاہتا ہے جو قرآن مجید اور سنت نے انسانوں میں پیدا کیے ہیں اور پیدا کرنے کی تعلیم دی ہے۔ یہ شریعت کا دوسرا بنیادی حصہ ہے۔

(3) — تھوڑا سا غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ یہ دونوں حصے ایک تیسرے حصے کی تیاری کے لیے ہیں۔ انسان بنیادی سوالات کا جواب کیوں چاہتا ہے؟ اس لیے کہ زندگی گزارنے کا ڈھنگ بنانا ہے، اسے زندگی سنوارنے کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ انسان جذباتی استحکام کیوں چاہتا ہے؟ اس لیے کہ زندگی کامیابی سے گزارنی ہے۔ تو اصل میں زندگی گزارنے کی جو رہنمائی ہے، شریعت نے جو رہنمائی دی ہے، وہ شریعت کا تیسرا بنیادی حصہ ہے، جو سب سے اہم حصہ ہے۔ شریعت کا وہ حصہ جو انسان کی عملی زندگی کو استوار کرتا ہو، انسان کی ظاہری اور عملی زندگی کو جو حصہ منظم کرتا ہو، وہ شریعت کا تیسرا اور سب سے اہم حصہ ہے۔ یہ وہ حصہ ہے جس کو فقہ کہتے ہیں۔

فقہ کے لفظی معنی ہیں گہری بصیرت اور گہری فہم۔ کسی چیز کی گہری فہم کو عربی زبان میں فقہ کہتے ہیں۔ لیکن اس اصطلاحی اعتبار سے فقہ سے مراد ہے شریعت کے عملی احکام کا تفصیلی علم۔ وہ تفصیلی علم جو تفصیلی دلائل کی بنیاد پر ہو۔ یہ بات بڑی اہم ہے۔ فقہ کی دوبارہ تعریف کرتا ہوں، عربی کے الفاظ ہیں: ’’الفقہ ہو العلم بالاحکام الشرعیۃ العملیۃ عن ادلتہا التفصیلیۃ‘‘ کہ فقہ سے مراد شریعت کے اُن احکام کا علم ہے جو عملی زندگی سے تعلق رکھتے ہوں اور جو شریعت کے تفصیلی دلائل سے ماخوذ ہوں۔ اگر کوئی حکم انسان کی عملی زندگی سے تعلق رکھتا ہو، لیکن شریعت کے تفصیلی دلائل سے ماخوذ نہ ہو، وہ فقہ نہیں ہے۔ فقہ وہ ہے جو شریعت کے تفصیلی دلائل سے تعلق رکھتا ہو، ان سے ماخوذ ہو، اور اس کا انسان کی عملی زندگی سے تعلق ہو۔ مثال کے طور پر بہت سارے ایسے معاملات ہو سکتے ہیں جن کا تعلق انسان کی عقل سے ہو، جن کا تعلق احساسات سے ہو، وہ چیزیں شریعت کے احکام تو ہو سکتی ہیں، لیکن وہ فقہ کے احکام نہیں ہوں گے، اس لیے کہ ان کا تعلق انسان کی عملی زندگی سے نہیں ہو گا۔ انسان کی عملی زندگی سے تعلق ہو، لیکن شریعت کے تفصیلی دلائل پر مبنی نہ ہو، ان کا تعلق بھی فقہ سے نہیں ہے۔ 

مثال کے طور پر انگلستان میں ٹریفک کے قوانین میں کوئی چیز شریعت سے متعارض نہیں ہے۔ اس میں یہی لکھا ہوا ہے کہ اپنے رخ پر چلو، دوسرے کا حق نہ مارو، جب اِدھر سے لال بتی آئے تو رک جاؤ، ہری بتی ہو تو چلے جاؤ۔ جس کا رائیٹ پہلے آنے کا ہو وہ پہلے آئے گا، جس کا بعد میں آنے کا ہو وہ بعد میں آئے گا۔ یہ سب عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ ان میں کوئی چیز شریعت سے متعارض نہیں ہے، لیکن یہ فقہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ ان میں کوئی حکم بھی ایسا نہیں ہے جو براہ راست شریعت کے تفصیلی دلائل سے ماخوذ ہو۔ جو شریعت کے تفصیلی دلائل سے ماخوذ ہو گا، وہ فقہ ہو گی۔ کسی فقہ کی کتاب اٹھا کر دیکھیں تو آپ کو اس میں احکام ملیں گے، مثال کے طور پر یہ ملے گا کہ فلاں پانی پاک ہے، اس سے وضو کی جا سکتی ہے۔ مثلاً‌ بارش کا پانی پاک ہے، اس سے وضو جائز ہے۔ یہ ایک عملی بات ہے، وضو کرنا ایک عملی چیز ہے، اور پانی کے بارے میں ایک مسئلہ آپ کو بتایا جا رہا ہے۔ یہ فقہ ہے، اس لیے کہ اس کا تفصیلی دلائل سے تعلق ہے، قرآن پاک کی ایک آیت ہے اُس میں آیا ہے کہ ’’وانزلنا من السمآء مآءً‌ طہورا‘‘ (الفرقان ۴۸) ہم نے آسمان سے ایسا پانی اتارا جو پاک کرنے والا ہے۔ چونکہ بارش کے پانی کو قرآن مجید نے، شریعت نے پاک قرار دیا ہے، لہٰذا اس سے وضو کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک حکم ہوا جس کا تعلق تفصیلی دلائل کے ساتھ ہے، یعنی قرآن مجید کی متعلقہ آیت، یا سنت کی متعلقہ نص، کوئی حدیث ہو یا کسی صحابیؓ کا بیان ہو کہ حضورؐ کے زمانے میں یہ طریقہ تھا۔ اس سے براہ راست جب تک تعلق نہیں ہو گا، اس وقت تک اسے فقہ نہیں کہا جائے گا۔

فقہ کے لفظی معنی ہیں گہری بصیرت اور گہری فہم۔ آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اس مضمون کا گہری بصیرت سے کیا تعلق ہے؟ کیوں گہری بصیرت اس کو کہا گیا؟ اس مضمون کو گہری بصیرت کے نام سے کیوں یاد کیا گیا؟ تھوڑا سا غور کریں تو اس نام میں اور اس مضمون میں گہری مماثلت اور مشابہت پائی جاتی ہے، بڑی لطیف مناسبت پائی جاتی ہے، اس کا آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔ آپ سب نے قرآن پاک پڑھا ہے۔ قرآن پاک کی کل آیات چھ ہزار چھ سو سے کچھ زائد ہیں، غالباً‌ چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ یا اس کے لگ بھگ۔ کل احادیث جو ساری کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں، ان کی تعداد چالیس اور پچاس ہزار کے درمیان ہے۔ چالیس پچاس ہزار کے درمیان جو تعداد ہے، ان میں جو احادیث احکام سے متعلق ہیں، انسان کی زندگی کے عملی احکام سے متعلق ہیں، ان کی تعداد چار ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ قرآن پاک کی چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ آیات میں وہ آیات جن کا تعلق براہ راست عملی احکام سے ہے، ان کی تعداد چار سو سے زائد نہیں ہے۔ گویا شریعت کے چھپن ہزار چھ سو چھیاسٹھ کے قریب نصوص میں چار ہزار چار سو ہیں جن کا تعلق عملی احکام سے ہے، بقیہ کا تعلق دوسرے احکام سے، دوسرے معاملات سے ہے۔

اب یہ چار ہزار چار سو نصوص زندگی کے لامتناہی معاملات پر منطبق ہوتے ہیں۔ ہزاروں، لاکھوں، اربوں انسانوں کی زندگی میں لامتناہی معاملات ہیں جو ان چار ہزار چار سو نصوص سے ریگولیٹ ہو رہے ہیں، منضبط ہو رہے ہیں۔ آپ نے رات بستر پر آرام کیا، بستر پر سونا ایک عملی کام ہے۔ اس کے بعد صبح اٹھیں، وضو کی، نماز پڑھی، یہ ایک عملی کام ہے۔ ناشتہ کیا، یہ ایک عملی کام ہے۔ کپڑے استری کیے، دھوئے، یہ ایک عملی کام ہے۔ کپڑے بدلے، یہ عملی کام ہے۔ پھر گھر کے اور معاملات انجام دیے، یہ سب عملی کام تھے۔ یہاں تشریف آوری ہوئی، یہ عملی کام ہے۔ رات تک، اگلی صبح تک، اور زندگی کے آخری لمحے تک جو بھی ہوگا، یہ سارے عملی کام ہوں گے۔ ان سب کی رہنمائی ان چار ہزار چار سو نصوص میں موجود ہے۔ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے، میرا اور آپ کا چشمہ استعمال کرنا، آپ کا یہ سفید رنگ کا یا سرخ رنگ کا یا نیلے رنگ کا گاؤن استعمال کرنا، میرا یہ گلاس استعمال کرنا، اس پانی کو پینا، یہ سب لامتناہی اعمال ہیں، یہ ان چار ہزار چار سو نصوص کے کنٹرول میں ہیں۔ ان چار ہزار چار سو نصوص کی حیثیت اس لگام کی ہے جنہوں نے ان لامتناہی گھوڑوں کو اپنے قابو میں کیا ہوا ہے۔

انسانی اعمال اس کی خواہشات کے تابع ہیں۔ جب تک خواہشات نہ ہوں، ارادے نہ ہوں، اعمال جنم نہیں لے سکتے۔ خواہشات کے یہ گھوڑے، ان چار ہزار چار سو نصوص کی جو لگام ہے، اس کے ہاتھ میں ہیں، انہوں نے ان سب کو راہ راست پر رکھا ہوا ہے۔ یہ کتنا غیر معمولی کام ہے! جتنا غور کریں، دنیا کے کسی قانون میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ دنیا کے کسی نظام میں اس کی مثال نہیں ملتی کہ لامتناہی انسانوں کے لامتناہی معاملات ان چار ہزار چار سو نصوص کے ہاتھ میں ہیں۔ لیکن ان چار ہزار چار سو نصوص کو منطبق کیسے کیا جائے گا لامتناہی حالات پر؟ اس کے لیے بڑی گہری بصیرت کی ضرورت ہے، انتہائی گہری سوچ کی ضرورت ہے۔ یہ پورا عمل ایک انتہائی گہری فہم اور سوچ کا متقاضی ہے، اس لیے اس پورے عمل کو فقہ کے لفظ سے یاد کیا گیا۔ فقہ گویا وہ پروسس یا وہ عمل ہے جس کے نتیجے میں وہ تفصیلی ضابطے اور رہنمائیاں مرتب ہوتی ہیں جو انسانی زندگی کے لامتناہی گوشوں کو مربوط اور منظم کرتی ہیں۔

فقہ کی تعریف آپ کے سامنے آگئی اور یہ بھی واضح ہو گیا ہوگا کہ فقہ اور قانون دونوں ایک چیز نہیں ہے۔ قانون تو صرف اس کو کہتے ہیں کہ وہ ضابطہ جو کسی حکمران نے مقرر کیا ہو، اور عدالتیں اپنے مقدمات کا فیصلہ اس ضابطے کے تحت کرتی ہوں، اس کو قانون کہتے ہیں۔ ہم میں سے یہاں ڈیڑھ دو سو کے قریب لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، شاید ہم میں سے کبھی کسی کو کسی عدالت میں جانے کا موقع نہ ملا ہو۔ تو قانون کا ہونا یا نہ ہونا، عدالت میں اس کا تسلیم کیا جانا یا نہ کیا جانا، اس کا آپ کی روزمرہ زندگی سے زیادہ تعلق نہیں ہے۔ آپ کی زندگی کے مشکل سے دو فیصد معاملات ہوں گے جو کسی قانون کے براہ راست دائرے میں آتے ہوں گے، ملکی قانون کے۔ لیکن کوئی دائرہ، کوئی گوشہ ایسا نہیں جو فقہ کے دائرے میں نہ آتا ہو۔ آپ کی ہر جسمانی سرگرمی اور ہر عملی سرگرمی فقہ کے دائرے میں آئے گی۔ جبکہ قانون کے دائرے میں دو فیصد، ایک فیصد، آدھا فیصد چیزیں آئیں گی۔ اس سے اندازہ ہو جائے گا کہ فقہ کا دائرہ قانون کے دائرے سے سینکڑوں گنا بڑا ہے۔ اگر فقہ کے دائرے میں پانچ سو چیزیں آ رہی ہیں تو قانون کے دائرے میں دو چیزیں آئیں گی۔ اس لیے جس کو انگریزی میں لاء کہتے ہیں، یا اردو میں جس کے لیے قانون کی اصطلاح رائج ہے، وہ فقہ کے مشکل سے ایک دو فیصد کو کور کرتا ہے۔ بقیہ معاملات وہ ہیں جن کے لیے فقہ ہی کی اصطلاح استعمال کی جانی چاہیے، اس کے لیے قانون کی اصطلاح استعمال کرنا ایک محدود چیز کو لامحدود پر منطبق کرنے کے مترادف ہے۔

فقہ کی عملداری انسان کی پیدائش سے پہلے شروع ہو جاتی ہے اور پیدائش کے بعد تک جاری رہتی ہے۔ انسان کی پیدائش سے پہلے سے وہ فقہ کے دائرۂ کار میں آ جاتا ہے اور مرنے کے بعد تک اس پر فقہ کی عملداری جاری رہتی ہے۔ ایک مثال آپ کو دیتا ہوں: ایک شخص کا انتقال ہو گیا، مسٹر اے کا انتقال ہو گیا، مسٹر اے نے بہت سارے ورثاء چھوڑے۔ ایک بچہ انتقال کے چھ مہینے بعد پیدا ہوا۔ لیکن یہ بچہ جو چھ مہینے بعد پیدا ہوا ہے، اس بچے نے وراثت کی تقسیم کے عمل کو روک دیا۔ اس بچے نے یہ حکم دیا کہ چونکہ میں آنے والا ہوں، لہٰذا میرے باپ کی وراثت تقسیم نہ کی جائے، اس تقسیم کے عمل کو روک دیا جائے۔ اور تقسیم کا عمل روک دیا جائے گا، شریعت کے احکام کے مطابق اور پاکستان میں عدالتوں کے احکام کے مطابق۔ جب وہ بچہ دنیا میں آ جائے گا تو وہ اپنا حصہ لے گا، پھر بقیہ ورثاء کو حصہ ملے گا۔

پھر یہ بچہ ساٹھ سال، اسی سال، نوے سال جیا۔ نوے سال جینے کے بعد جب یہ دنیا سے جانے لگا تو اس نے ایک وقف قائم کر دیا۔ ایک بڑا ادارہ بنا دیا کہ مسجد ہو گی، اوپر درسگاہیں ہوں گی، اس کے نیچے دکانیں ہوں گی، اس کے ساتھ مسافر خانے ہوں گے اور یہاں غریب لوگ آ کے ٹھہرا کریں گے اور پڑھا کریں گے۔ وہ شخص دنیا سے چلا گیا۔ اب اگر یہ مسافر خانہ پانچ سو برس بھی موجود ہے، یہ مسجد اور درسگاہ پانچ سو برس بھی موجود ہیں، تو اسی مرنے والے کے فیصلے کے مطابق اس کا نظم کیا جائے گا۔ اس لیے کہ شریعت کا حکم ہے: ’’شرط الواقف کنص الشارع‘‘ کہ وقف کرنے والے کی شرط کی اسی طرح پیروی کی جائے گی جیسے شریعت کی نص کی پیروی کی جاتی ہے۔ اگر اس نے کہا تھا کہ یہاں صرف اندھے بچوں کو پڑھنے کی اجازت ہو گی، تو وہاں کوئی بینا بچہ نہیں پڑھ سکے گا، اس لیے کہ وہ اندھے بچوں کے لیے وقف ہے۔ اگر اس نے کہا ہو کہ یہاں صرف معذور بچوں کو تعلیم پانے کی اجازت ہو گی، تو یہاں صرف معذور بچے تعلیم پائیں گے، چلنے والا بچہ تعلیم نہیں پائے گا۔ کیوں؟ اس نے جو کہا تھا، اس کے مطابق اس وقف کا انتظام کیا جائے گا۔ اب اگر یہ وقف پانچ سو سال چلے، چار سو سال چلے، سو سال چلے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، اور اس مرنے والے کی وصیت اور وقف کے مطابق معاملات کو چلایا جائے گا۔ گویا فقہ کی عملداری اس کے انتقال کے بعد بھی اس کی جائیداد پر جاری ہے، جب تک وہ جائیداد موجود ہے اس وقت تک عملدرآمد ہوتا رہے گا۔ گویا انسانی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو فقہ کے دائرۂ کار اور فقہ کی عملداری سے باہر ہو۔

فقہ کے نام سے جو ذخیرہ ہمارے سامنے ہے، اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

(1) — ایک حصہ وہ ہے جس پر افراد عملدرآمد کریں گے۔ میں اپنی ذات پر عمل کروں گا، آپ اپنی ذات پر عمل کریں گی۔ میں اپنے اور اپنے اہلِ خاندان کی حد تک اس کا ذمہ دار ہوں، آپ اپنے اور اپنے اہلِ خاندان کی حد تک اس کی ذمہ دار ہیں۔ یہ وہ حصہ ہے جس کے بارے میں شریعت کا اصول ہے: ’’المسلم ملتزم احکام الاسلام حیث کان‘‘ کہ مسلمان جہاں بھی ہو، وہ احکامِ اسلام کا پابند ہے۔ اس حصے میں چار چیزیں شامل ہیں:

  1. عبادات — یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج اور ان سے متعلقہ احکام۔
  2. شخصی قوانین — یعنی نکاح، طلاق، وراثت اور وصیت کے احکام۔
  3. معاشی معاملات — یعنی ذاتی خرید و فروخت، لین دین، افراد کے درمیان کاروبار، تجارت۔
  4. معاشرتی معاملات — یعنی لوگوں کے درمیان میل جول، تعلق، لباس، خوراک، کھانا پینا۔

یہ چار چیزیں وہ ہیں جس میں احکامِ شریعت کا، احکامِ فقہ کا، ہر مسلمان ہر وقت اور ہر جگہ پابند ہے اور ہر حال میں پابند ہے۔ اگر کل مریخ پر آبادی دریافت ہو جائے، وہاں پلاٹ بکنے لگیں اور آپ کو پلاٹ مل جائے اور مریخ پر آپ جا کر بسیں، تو مریخ پر بھی نمازیں ادا کرنی ہوں گی، مریخ پر بھی روزے رکھنے ہوں گے، مریخ پر بھی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی، وہاں سے بھی حج کرنے کے لیے روئے زمین پر آنا پڑے گا۔ اس کے احکام کیا ہوں گے، میں نہیں جانتا۔ وہاں پر نمازوں کے اوقات کا تعین کیسے ہو گا، وہ بعد کی بات ہے۔ لیکن جو بھی تعین ہوگا، نمازیں ادا کرنی ہوں گی۔ وہاں بھی شراب پینا جائز نہیں ہوگا، چوری کرنا جائز نہیں ہوگا، معاملات اسی کے مطابق رہیں گے۔ نکاح و طلاق کے معاملات وہاں بھی شریعت کے مطابق ہوں گے۔ وہاں بھی نکاح و طلاق اور وراثت و وصیت کے احکام کی خلاف ورزی جائز نہیں ہوگی۔ شراب وہاں بھی حرام رہے گی۔ حجاب کے احکام وہاں بھی ہوں گے، پردہ وہاں بھی ہوگا۔ یہ چار وہ چیزیں ہیں جو ہر جگہ، ہر وقت، ہر حال میں مسلمان کو انفرادی طور پر عمل کرنے کی ہیں۔

(2) — دوسرا حصہ فقہ کے احکام کا وہ ہے کہ جو حکومت یا ریاست کے کرنے کی چیزیں ہیں۔ اگر مسلمانوں کی ریاست ہو گی تو وہ ان احکام پر عملدرآمد کرے گی۔ اور مسلمانوں کی ریاست اگر نہیں ہو گی تو پھر افراد ان احکام کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے۔ شریعت نے مثال کے طور پر فوجداری احکام دیے ہیں۔ چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے، قصاص کا حکم دیا ہے، شریعت نے شراب نوشی پر اسی کوڑے یا چالیس کوڑوں کی سزا دی ہے۔ افراد کو یہ اجازت نہیں ہے کہ کل آپ نے دیکھا کہ چوری ہو گئی، آپ نے گنڈاسہ لیا اور ہاتھ کاٹ دیا۔ یہ آپ کا یا میرا یا افراد کے کرنے کا کام نہیں ہے۔ یہ حکومت کا، ریاست کے اداروں کا کرنے کا کام ہے۔ اس کے لیے افراد مکلف نہیں ہیں۔ اگر آپ اسرائیل میں رہتی ہوں خدانخواستہ، یا کسی اور غیر مسلم ملک میں، اور وہاں چوری ہو، تو آپ سے قیامت میں نہیں پوچھا جائے گا کہ فلاں شخص نے امریکہ میں چوری کی تھی، تم نے اس کا ہاتھ کیوں نہیں کاٹا؟ اس لیے کہ یہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، شریعت نے آپ سے نہیں کہا۔ شریعت نے حکمرانوں سے کہا ہے، حکمرانوں کو یہ کام کرنا چاہیے۔ یہ بھی چار چیزیں ہیں:

  1. سب سے پہلی چیز ہے اسلام کا دستوری قانون، جس پر آگے چل کر ایک دن گفتگو ہوگی۔
  2. دوسری چیز ہے اسلام کا فوجداری قانون، جس پر آگے چل کر ایک دن گفتگو کریں گے۔
  3. تیسری چیز ہے اسلام کا قانونِ ضابطہ، یعنی پروسیجر اینڈ لاء، اس پر بھی اختصار سے بات کریں گے۔
  4. اور چوتھی چیز ہے اسلام کا بین الاقوامی قانون کہ اسلام کی ریاست کے تعلقات دوسری ریاستوں سے، یا مسلمانوں کے تعلقات دوسرے مذاہب سے کیسے ہوں؟

یہ وہ چیزیں ہیں جو فقہ کے تمام مضامین کو کور کرتی ہیں۔ یہ آٹھ بنیادی ابواب ہیں، یا آٹھ بنیادی موضوعات ہیں، جو فقہِ اسلامی کے بیشتر حصے پر محیط ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ایک دو چیزیں جزوی طور پر ہیں، لیکن بڑے بڑے ابواب یہ چار ہیں۔ ان کو سمجھنے کی خاطر مختلف عنوانات کے تحت مختلف لوگوں نے بیان کیا ہے۔ بعض نے کہا کہ شریعت کے احکام میں دو چیزیں ہیں: عادات اور عبادات۔ کچھ نے کہا کہ شریعت میں عبادات اور معاملات ہیں۔ کچھ نے کہا معاملات، عادات اور عبادات تین چیزیں ہیں۔ لیکن یہ ساری تقسیمیں سمجھنے کی خاطر ہیں اور طلبہ کی آسانی کی خاطر ہیں۔ جو ابواب ہیں، وہ سب کتابوں میں ایک جیسے ہیں۔

  • اس میں آغاز طہارت و پاکیزگی کے مسائل سے ہوتا ہے، اس لیے کہ انسان کو سب سے پہلے ضرورت جن احکام کی پڑتی ہے، وہ یہی مسائل ہیں۔ اگر آج اس وقت کوئی شخص مسلمان ہو جائے، پونے تین بجے، تو سب سے پہلے شریعت کے جس حکم کی تعمیل کرنی پڑے گی وہ ظہر کی نماز ہے۔ اس سے کہیں گے: بھائی صاحب، ابھی ظہر کی نماز کا وقت ختم نہیں ہوا، آپ عاقل بالغ ہیں، نماز ادا کریں۔ نماز ادا کرنے کے لیے پہلی بات آپ اسے کہیں گے: جا کر غسل کرو۔ غسل کے لیے اس کو بتانا ہوگا کہ پاک پانی کون سا ہے، ناپاک کون سا ہے… سب سے پہلا مسئلہ جو پیدا ہوگا، وہ پاکی اور ناپاکی کا ہوگا۔ اس کے بعد نماز کا ہوگا۔ اب چند دن کے بعد رمضان آ رہا ہے، رمضان آئے گا تو اسے روزے رکھنے ہوں گے۔ ممکن ہے وہ بوڑھا ہو، کمزور ہو، بچہ ہو، روزے نہ رکھ سکتا ہو۔ سال بھر کے بعد زکوٰۃ کا مسئلہ پیدا ہوگا تو زکوٰۃ کے احکام آئیں گے۔ گویا سب سے پہلے عبادات سے اس کو واسطہ پڑے گا۔
  • پھر واسطہ پڑے گا شخصی قوانین سے۔ وہ ایک خاندان کا رکن ہوگا، ممکن ہے اس کے بیوی بچے ہوں، اس کے ماں باپ ہوں، بہن بھائی ہوں۔ ان سے کیسے معاملہ کرے؟ ان سے تعلقات کو کیسے منظم کرے؟ تو شخصی قوانین کی ضرورت پیش آئے گی۔
  • پھر اس کو بازار میں جا کر خرید و فروخت بھی کرنی ہو گی، اس کے لیے معاملات کے احکام درکار ہوں گے۔
  • پھر اس کو یہ بتانا ہوگا کہ حلال کیا ہے؟ حرام کیا ہے؟ پردے کے آداب کیا ہیں؟ افراد مردوں اور خواتین کے درمیان میل جول کی حدود کیا ہیں؟

یہ معاملات اس کو بتانے ہوں گے، اس کی پابندی وہ کرے گا۔ تو فقہ کی کتابوں میں اسی ترتیب سے یہ احکام لکھے ہوئے ہیں۔ اور جتنی زیادہ ضرورت مسلمانوں کو جن احکام کی پڑتی ہے وہ پہلے ہیں، اور جتنی کم ضرورت پڑتی ہے وہ بعد میں ہیں۔ یہ وہ ذخیرہ ہے جس کو فقہ کہتے ہیں۔ 

آپ نے اندازہ کیا ہو گا کہ اپنی وسعت اور جامعیت میں یہ دنیا کے تمام قوانین سے بڑھ کر ہے۔ دنیا کے تمام قوانین یا تو ان معاملات سے بحث کرتے ہیں جن میں دو انسانوں کے درمیان کوئی میل جول یا لین دین کا تعلق ہوتا ہو۔ یا وہاں واسطہ رکھتے ہیں جہاں انسان نے کوئی غلطی کر دی ہو یا جرم سرزد ہو گیا ہو۔ ان دو کے علاوہ اکثر و بیشتر قوانین میں کوئی نوٹس نہیں لیا گیا کہ انسانی زندگی اس کے علاوہ بھی ہوتی ہے۔ جہاں دو افراد کے درمیان لین دین ہے اس کو منظم کرنے کے لیے، یا انسان سے غلطی ہو گئی تو اس غلطی کی سزا دینے کے لیے۔ اس کے علاوہ دنیا کے قوانین کو اکثر و بیشتر دلچسپی نہیں ہوتی کہ انسانی زندگی میں اور کیا کیا ہو رہا ہے۔ جبکہ فقہِ اسلامی کی دلچسپی آپ کے رات کو بستر پر سونے سے لے کر اگلی رات سونے تک، اور جب تک یہ زندگی ہے اس وقت کے آخری لمحے تک ہے۔ اس کے بعد بھی فقہ بتائے گی کہ کیسے آپ کو اور مجھے ڈسپوز آف (تکفین و تدفین) کریں، دنیا سے رخصت کیسے کریں۔ گویا استقبال کرنے سے لے کر رخصت کرنے تک کے تمام مدارج اور ایک ایک چیز کے بارے میں ہدایت اور رہنمائی موجود ہے۔ یہ ذخیرہ اپنی وسعت اور جامعیت کے اعتبار سے دنیا کے تمام ذخیروں سے ممتاز اور نمایاں ہے۔

پھر دنیا کے قوانین ایک اعتبار سے دو حصوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں: کچھ قوانین ہیں جو مذہبی قوانین ہیں، کچھ قوانین ہیں جو دنیاوی یا غیر مذہبی قوانین ہیں۔ ان دونوں کا دائرۂ کار دنیا میں ہر جگہ الگ الگ ہے۔ پنڈت، پروہت، پادری، یہ مذہبی قوانین سے بحث کرتے ہیں۔ عدالتیں، وکیل، قاضی، یہ دنیاوی قوانین سے بحث کرتے ہیں۔ اسلام میں یہ دونوں قوانین ملے جلے ہیں۔ جن کتابوں میں دنیا کے قوانین لکھے ہیں، انہی میں دین کے قوانین بھی لکھے ہوئے ہیں۔ جن کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ رات کو نمازِ تہجد کیسے ادا کی جائے، انہی میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ اگر آپ بطور وزیر خارجہ معاہدہ کریں تو کیسے کریں۔ اگر آپ فوج کے سربراہ ہیں، میدانِ جنگ میں لڑ رہے ہیں تو آپ جنگ کو کیسے منظم کریں، یہ بھی انہی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ جس قرآن مجید سے یہ رہنمائی ملی ہے کہ آپ کا تعلق پڑوسیوں سے کیسے ہونا چاہیے، اسی قرآن مجید سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ معاشرے میں جرائم کا سدباب کیسے کیا جائے، چور کو سزا کیسے دی جائے، قاتل کو سزا کیسے دی جائے۔ گویا اسلامی نظام میں یا اسلامی فقہ میں اس بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہے کہ معاملے کا تعلق خالص مذہبی یا روحانیات کے دائرے سے ہے، یا اس کا تعلق خالص دنیا و مادیات کے دائرے سے ہے۔ ان دونوں دائروں سے ایک جگہ بحث ہو رہی ہے اور ان دونوں میں کوئی تعارض یا ثنویت یا دوئی نہیں ہے۔

یہ دوئی جب انسانی معاشرے میں پیدا ہوتی ہے تو انسانی معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ جب انسانی معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے تو انسانی شخصیت دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، پھر انسانی زندگی میں وحدت کا پیدا کرنا ممکن نہیں رہتا۔ یہ بات دنیا کے قدیم مذاہب نے نہیں سمجھی، یا سمجھی تو اس کو بھلا دیا۔ اس بھلانے کے نتیجے میں ان کا مذہب، ان کی تہذیبیں، ان کی ثقافتیں، ان کے معاشرے سب دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ کہیں تین میں، کہیں چار میں، کہیں پانچ میں، اور یہ تقسیم در تقسیم کا عمل پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ جب تک مسلمان وحدت کے اس تصور پر کاربند رہے: ’’فی الدنیا حسنۃ وفی الاٰخرۃ حسنۃ‘‘ (البقرۃ ۲۰۱) ایک ہی نماز میں، جو خالص دینی عبادت ہے، خالص روحانی معاملہ ہے، لیکن اس میں دنیا کی بہتری کا سوال پہلے ہے، آخرت کی بہتری کا سوال بعد میں ہے۔ اس لیے کہ دنیا پہلے ہے، آخرت بعد میں ہے۔ تو قرآن مجید نے، شریعت نے ان دونوں کو ایک کر دیا ہے اور فقہِ اسلامی میں یہ دونوں چیزیں اس طرح یکجا ہو گئی ہیں کہ ان دونوں کو الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔

آغازِ اسلام میں جب فقہاءِ اسلام فقہ کے قوانین اور احکام کو مرتب کر رہے تھے، اس وقت تک تو یہ صورتحال تھی کہ جب کوئی نیا مسئلہ پیش آتا تھا تو فقہاءِ اسلام اس کا جواب دے دیا کرتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کے پاس — حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے پاس قرآن پاک کا علم بھی تھا اور سنت کا علم بھی تھا۔ جب کسی شخص کو مسئلہ پیش آتا تھا، ان کے پاس جاتا تھا کہ یہ مسئلہ بتا دیجیے، وہ بتا دیا کرتے تھے۔ اس طرح ایک ایک کر کے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے اجتہادات جمع ہوتے گئے۔ حضرت علیؓ کے پاس لوگ جایا کرتے تھے، ان کے اجتہادات جمع ہوتے گئے۔ حضرت عمر فاروقؓ، عبد اللہ بن عمرؓ، بڑے بڑے صحابہ کے اجتہادات ایک ایک کر کے جمع ہوتے گئے اور تابعین ان کو مرتب کرتے گئے۔ پھر تابعین کے اجتہادات لوگوں کے پاس پہنچتے گئے، وہ جمع ہوتے گئے، کتابی شکل میں مرتب ہوتے گئے۔ پہلی صدی ہجری میں یہ سارا کام ہو گیا۔ صحابہ کرامؓ نے جتنا قرآن پاک کو سمجھا اور اس سے جو احکام نکالے، وہ انہوں نے تابعین تک منتقل کر دیے۔ تابعین نے جتنا سمجھا اور جو احکام مرتب کیے، وہ انہوں نے تبع تابعین تک منتقل کر دیے۔ تبع تابعین نے اپنے شاگردوں تک منتقل کر دیے۔ جب شاگردوں کا زمانہ آیا، تبع تابعین اور تبع تابعین کے شاگردوں کا، تو انہوں نے الگ الگ کتابیں مرتب کرنی شروع کیں۔ یعنی قرآن پاک کی تفسیر اور حدیث کے مجموعوں سے الگ کچھ کتابیں، جن میں تفصیلی احکام لکھے گئے۔ 

ان میں سب سے پہلی کتاب کس نے لکھی؟ یہ کہنا بڑا مشکل ہے، لیکن آج جو کتابیں موجود ہیں، ان میں قدیم ترین کتاب ’’کتاب المجموع‘‘ ہے جو امام زید بن علیؒ نے لکھی تھی۔ امام زید بن علیؒ، حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے تھے اور امام زین العابدینؒ کے صاحبزادے تھے۔ یہ علیؒ وہی ہیں جو زین العابدینؒ کہلاتے ہیں۔ امام زید بن علی زین العابدینؒ بن حسینؓ بن علیؓ بن ابی طالب۔ سب سے پہلی کتاب انہوں لکھی تھی ان عملی احکام پر، جن کو آج فقہ کہتے ہیں۔ اس کتاب کا نام تھا ’’کتاب المجموع‘‘۔ یہ کتاب پہلی صدی ہجری کے اواخر میں اور دوسری صدی ہجری کے اوائل میں لکھی گئی۔ آج اس سے پہلے لکھی جانے والی کوئی کتاب فقہ کی ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔

اس کے بعد دوسری کتاب جو ہمارے پاس آئی ہے، وہ امام ابوحنیفہؒ کے شاگردوں کی اور امام ابوحنیفہؒ کے معاصر فقہاء کی کتابیں ہیں۔ امام مالکؒ، امام اوزاعیؒ، امام ابو یوسفؒ، ان کا تفصیلی تذکرہ میں بعد میں کروں گا۔ لیکن جب دوسری صدی ہجری کا آغاز ہوا اور دنیائے اسلام کی حدود دن بہ دن پھیلتی چلی گئیں، تو روزانہ ایسے مسائل کی ضرورت پیش آ رہی تھی۔ اور اس بات کا خطرہ موجود تھا کہ کسی قابلِ اعتماد اور مستند فقیہ کی عدم موجودگی میں لوگ کم علمی سے غلط فیصلہ نہ کر لیں، یا کسی کم علم آدمی سے جا کر پوچھ لیں اور غلط رائے قائم نہ کر لیں۔ اس زمانے میں دنیائے اسلام کی حدود چین سے لے کر اسپین تک پھیلی ہوئی تھی۔ اسپین اور فرانس کی سرحد کے درمیان ایک پہاڑ آتا ہے لے پیرینے (Les Pyrenees)۔ لے پیرینے کی حدود سے لے کر پورا اسپین، آدھا پرتگال، پورا شمالی افریقہ، پورا مڈل ایسٹ، پورا افغانستان، پورا سنٹرل ایشیا، پورا ایران اور چین کی سرحد تک، یہ حدود تھیں دنیائے اسلام کی۔ اب یہاں اس کا امکان موجود تھا کہ کسی گاؤں میں، کسی دیہات میں، کسی سرحدی علاقے میں، کسی نو مسلموں کی بستی میں کوئی ایسا آدمی ہو جس کو مسئلہ پیش آئے اور وہاں کوئی جواب دینے والا فقیہ موجود نہ ہو، یا موجود ہو لیکن وہ کچا فقیہ ہو، یا کچا نہ ہو لیکن اس معاملے میں رہنمائی اس کے پاس موجود نہ ہو، تو غلط جواب دے دے، تو اللہ اور رسول کی شریعت کو لوگ غلط سمجھ لیں، اس پر غلط طریقے سے عمل کریں۔

ان حالات میں بعض فقہاءِ اسلام نے یہ محسوس کیا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ نئے نئے مسائل کا سوچ سوچ کر جواب تلاش کیا جائے۔ بجائے اس کے کہ ہم انتظار میں بیٹھیں کہ کوئی آ کر پوچھے تو ہم جواب دیں۔ ہم انتظار نہ کریں، بلکہ ازخود سوچ کر معاملات پر غور کرتے جائیں اور نئے نئے سوالات کا جواب سوچ سوچ کر دیتے جائیں۔ یہ فقہ کا وہ حصہ ہے جس کو ’’فقہِ تقدیری‘‘ کہتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ اس کو پسند نہیں کرتے تھے، کہ بغیر اس کے کہ معاملہ واقعتاً‌ پیش آئے، ازخود سوچ سوچ کر جواب دیا جائے۔ اس لیے انہوں نے اس کام کو نہیں کیا۔ بعد میں اس ضرورت کا احساس ہوا کہ ایسا ہونا چاہیے، تو تبع تابعین اور ان کے شاگردوں کے زمانے میں یہ عمل شروع ہوا۔ جب یہ عمل شروع ہوا تو بہت سے حضرات نے اپنی زندگیاں اس کام کے لیے وقف کر دیں۔ امام ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام ابن جریر طبریؒ، امام اوزاعیؒ، سفیان ثوریؒ۔ اس طرح کے درجنوں حضرات تھے جنہوں نے اس کام کو کیا اور معاملات پر غور کر کر کے، ان کے احکام تلاش کر کر کے وہ کتابوں میں مرتب کرتے گئے۔ یہ وہ چیز تھی جس کو فقہِ تقدیری کہتے تھے، جس کے نتیجے میں کہا جاتا ہے کہ امام ابوحنیفہؒ نے کم و بیش چوراسی ہزار مسائل کا جواب سوچا اور مرتب کرایا، ان کے شاگردوں نے کم و بیش پانچ لاکھ مسائل کا جواب سوچا اور مرتب کرایا، ان کے شاگردوں کے شاگردوں نے مزید پانچ لاکھ مسائل کا جواب سوچا۔ اس طرح صرف امام ابوحنیفہؒ اور ان کے شاگردوں اور شاگردوں کے شاگردوں نے دس لاکھ چوراسی ہزار مسائل پر غور و خوض کیا اور ان کے احکام مرتب کروائے۔

امام شافعیؒ نے آٹھ جلدوں میں ایک انسائیکلوپیڈیا لکھا، جس کی ایک ایک جلد اتنی ضخیم ہے۔ اس میں کتنے مسائل ہیں میں نہیں جانتا، لیکن وہ لاکھوں میں ضرور ہیں۔ زندگی کے ایک ایک مسئلے کے بارے میں، جو امام شافعیؒ کے ذہن میں آیا، وہ سوچتے گئے، جواب دیتے گئے۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ قرآن پاک کی ایک آیت کو لے لیتے تھے، اس آیت پر غور کرتے رہتے تھے، اپنے شاگردوں سے تبادلۂ خیال کرتے رہتے تھے، اور جو جو مسائل ان سے سوچ سوچ کر نکلتے جاتے تھے، وہ لکھتے جاتے تھے۔ پھر احادیث کو لیتے تھے، سوچتے رہتے تھے، ایک ایک حدیث سے جو مسائل نکلتے رہتے تھے، وہ لکھتے رہتے تھے۔ اس طرح سے انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں جو ایک بڑی کتاب کی شکل میں جمع ہیں جس کو ’’کتاب الام‘‘ کہتے ہیں۔

یہ سلسلہ دوسری صدی ہجری سے جاری رہا اور کئی سو سال تک جاری رہا۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسا فقہی ذخیرہ مرتب ہوا جو دنیا کی پوری تاریخ میں بے مثال و بے نظیر ہے۔ نہ صرف انسانی علوم کی تاریخ میں بلکہ مسلمانوں کی تاریخ میں اس کی مثال کسی اور علمی کاوش میں نہیں ملتی۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی تفقیہ کا نتیجہ ہے۔ اس میں لاکھوں بہترین دماغوں نے حصہ لیا ہے۔ اس میں لاکھوں انسانوں کے لاکھوں دن اور لاکھوں راتیں بسر ہوئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں یہ کتابیں، جن سے آج کتب خانے بھرے ہوئے ہیں، ہمارے سامنے ہیں۔ 

یہ کام خلا میں نہیں ہوا۔ یہ روزمرہ کے حقائق کے جواب میں ہوا ہے، روزمرہ تہذیبی ضروریات کے جواب میں ہوا ہے، روزمرہ حکومتوں کے مسائل کا جواب دینے کے طور پر ہوا ہے۔ اس لیے انسانی زندگی کے روزمرہ سے، اسلامی تہذیب و تمدن کے حقائق سے، اسلامی ثقافت کو روز پیش آنے والے مسائل و معاملات سے اس کا گہرا ربط اور تعلق تھا۔ اس لیے ایک لمحے کے لیے بھی اس کی حیثیت محض کسی نظری رائے کی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک عملی ہدایت نامہ تھا جو لاکھوں فقہاءِ اسلام کروڑوں انسانوں کو روزانہ شب و روز فراہم کر رہے تھے۔ اس کی اساس قرآن پاک اور سنت میں ہے۔ اس کا تعلق اخلاق سے انتہائی گہرا ہے۔ دنیا کے سیکولر قوانین کی طرح یہ کوئی غیر اخلاقی یا لااخلاقی نظام نہیں ہے، اخلاق کے بارے میں یہ غیر جانبدار نہیں ہے۔ بلکہ، جیسا کہ ہم دیکھیں گے آگے چل کر، یہ اخلاق سے گہری طور پر مربوط ہے۔ ہر حکم کے براہ راست اخلاقی اور روحانی ثمرات ہیں۔ قرآن پاک کی سینکڑوں آیات میں، جہاں فقہی احکام بتائے گئے ہیں، وہاں اس کے روحانی اور اخلاقی ثمرات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے:

’’لعلکم تتقون‘‘ — اس سے تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہوگا،

’’لعلکم تذّکرون‘‘ — اس سے تم اللہ کو یاد رکھو گے،

’’وفی القصاص حیاۃ‘‘ — قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے،

’’کیلا یکون دولۃ بین الاغنیآء منکم‘‘ — اس طرح مال و دولت تمہارے دولتمندوں کے درمیان ہی گردش نہیں کرے گا۔

گویا ہر چیز کے ثمرات، اخلاقی نتائج اور روحانی برکات کی نشاندہی کی گئی، ہر قانون کے ساتھ۔ گویا اسلام میں فقہی احکام، قانون، مذہبی ہدایات، اخلاقی برکات، روحانی ثمرات، یہ ساری چیزیں ایک جگہ مربوط ہیں اور ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں انسانی مزاج اور نفسیات کا اس طرح لحاظ رکھا گیا ہے کہ کوئی حکم اور کوئی ضابطہ انسانی نفسیات اور انسانی مزاج اور کرامتِ آدم سے [غیر] ہم آہنگ نہیں ہے۔

رات میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا، علامہ بدر الدین عینی ؒ کا نام آپ نے سنا ہوگا، جن بہنوں نے حدیث کے محاضرات میں شرکت کی ہے، انہوں نے کئی بار سنا ہوگا۔ علامہ بدر الدین عینی ؒ بڑے فقیہ تھے، انہوں نے صحیح بخاری کی ایک شرح بھی لکھی تھی۔ ان کی ایک کتاب ہے ’’البنایہ‘‘ جو ’’ہدایہ‘‘ کی شرح ہے، اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص سفر پر جا رہا ہو اور اس کے پاس پانی نہ ہو، لیکن ہمراہی کے پاس پانی ہو، تو کیا اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہمراہی سے پانی مانگ کر وضو کرے؟ یا وہ بغیر پانی مانگے تیمم کر کے کام چلا سکتا ہے؟ اس پر فقہاءِ اسلام نے بحث کی ہے، پوری بحث اس کتاب کے دس بارہ صفحات میں لکھی ہوئی ہے۔ 

بعض فقہاء کا کہنا ہے کہ شریعت نے ہاتھ پھیلانے سے منع کیا ہے، شریعت نے کرامتِ آدم کا حکم دیا ہے، انسانی عزت کو برقرار رکھا ہے، ہاتھ پھیلانے سے کرامت میں فرق آتا ہے، انسانی عزت کو بٹا لگتا ہے۔ اس لیے کسی بھی کام کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا، شریعت نے اس کا پابند نہیں کیا۔ لہٰذا شریعت میں اس کی اجازت ہونی چاہیے کہ وہ شخص تیمم کر کے نماز پڑھ لے اور اس کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرے کہ مجھے پانی دے دو۔ پھر انہوں نے ایک سوال یہ اٹھایا کہ اگر اِس شخص کے پاس پیسے ہیں اور وہ شخص پانی قیمتاً‌ دینے کو تیار ہے، تو کس قیمت پر پانی لیا جا سکتا ہے؟ 

اس سے یہ اندازہ ہوگا کہ فقہاءِ اسلام نے انسانی مزاج اور نفسیات کا کتنا لحاظ رکھا ہے کہ انسان دوسرے سے کوئی چیز مانگنے سے تامل کرتا ہے۔ جتنی بھی بے تکلفی ہو، مجھے پیاس لگ رہی ہو اور آپ کے پاس پانی ہو تو شاید میں مانگنے میں تامل کروں، اس لیے کہ وہ آپ کے پینے کے لیے ہے۔ تو شریعت میں ایک ایسی چیز، جس کو انسان کا ذہن اور نفس اِبا کرتا ہے مانگنے سے، اس کا مکلف نہیں کیا کہ آپ زبردستی لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔ یہ انسانی مزاج اور نفسیات کے لحاظ کی بات ہے، اس کی مثال میں اور آگے چل کر گفتگو میں عرض کروں گا۔

یہ وہ چند بنیادی خصائص ہیں جو فقہِ اسلامی میں پائے جاتے ہیں۔ فقہِ اسلامی اپنی جدت کے اعتبار سے، نوعیت کے اعتبار سے، اپنی خصوصیات کے اعتبار سے، نہ صرف پوری انسانی تاریخ میں بلکہ اسلامی علوم و فنون کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے اور اسے گلدستۂ اسلام کا گلِ سَر سَبد بلا شک و شبہ کہا جا سکتا ہے۔

سوالات

سوال: 

فقہِ تقدیری کیا اختلاف کا باعث نہ بنی، چونکہ اُن کا پوائنٹ آف ویو میں فرق ہو سکتا ہے؟

جواب: 

فقہی معاملات میں اختلاف بری چیز نہیں ہے۔ اختلاف اچھی چیز ہے اگر وہ شریعت کی حدود کے اندر ہو، اور ہر شخص یہ سمجھتا ہو کہ یہ میری فہم ہے جس میں غلطی کا امکان ہے، اور یہ ایک دوسرے فقیہ کی فہم ہے جس میں درستی کا امکان ہے۔ جب تک یہ بات ہو تو اختلاف سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ صحابہ کرامؓ میں بھی ایک سے زائد آرا موجود تھیں، جس کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔ اگر ان اختلافی آرا کو دین بنا دیا جائے، یا شریعت کا قائم مقام سمجھ لیا جائے، اس سے خرابی پیدا ہوتی ہے۔ اگر کسی ایک فقیہ کی فہم ہے، اس سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے، اس میں غلطی کا امکان موجود رہتا ہے۔

جو چیز غلطی سے مبرا ہے، جس میں سو فیصد صحت ہی صحت ہے، وہ صرف اللہ کے رسول کا ارشاد ہے اور قرآن پاک کی آیت ہے۔ اس کے علاوہ ہر انسان کی فہم میں، ہر انسان کی بصیرت میں، ہر انسان کے اجتہاد میں غلطی کا امکان رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجتہد صحیح نتیجہ پر پہنچتا ہے تو اس کو دو اجر ملیں گے، اگر غلطی کرے گا تو اس کو ایک اجر ملے گا۔ اس کا مطلب، غلطی بھی وہاں اللہ کی نظر میں پسندیدہ ہے۔ مجتہد کی غلطی اللہ کی نظر میں ایسی ہے کہ جیسے آپ کا ایک چھوٹا عزیز بچہ ہو، جس نے ابھی چلنا سیکھا ہو، اور آپ اسے بلائیں، جب وہ گرتا ہے تو آپ کو اس پہ بڑا پیار آتا ہے، اس پہ بھی آپ ایک دم اٹھا کر گود میں لے لیتی ہیں۔ تو گویا انسان ایک بچے کی طرح ہے، انسان اپنی محدود عقل و بصیرت سے اللہ کا حکم معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس میں اخلاص سے غلطی کرتا ہے، تو وہ غلطی بھی اللہ کو پسندیدہ ہے۔

سوال: 

آپ نے جو آخری مثال دی، اس سے تو لگتا ہے کہ فقہ شریعت کے مقابلے میں گنجلک، کوئی الجھی ہوئی چیز ہے۔

جواب: 

نہیں، فقہ گنجلک چیز نہیں ہے۔ فقہ ایک ناگزیر چیز ہے۔ شریعت پر جب بھی عملدرآمد عملی زندگی میں ہو گا، اسی کو فقہ کہتے ہیں۔ فقہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جائے گی، پھیلتی چلی جائے گی۔ آپ کو معاملات میں رہنمائی کی ضرورت پڑے گی۔ اگر پہلے دن سے یہ ارادہ ہو کہ شریعت پر عمل کرنا ہے، اللہ اور اس کے رسول کے منشا کو زندگی میں ڈھالنا ہے، تو پھر انسان خودبخود اس کے مطابق زندگی کو ڈھالتا چلا جاتا ہے۔ لیکن اگر پہلے دن سے ہی یہ ہو کہ اس میں کیڑے نکالنے ہیں، اس میں مشکلات کی نشاندہی کرنی ہے، تو آسان سے آسان چیز میں لوگ مشکلات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دنیا یہ نہیں دیکھتی کہ اُن کے ہاں مشکلات کتنی ہیں۔

آج سے کئی سال پہلے میں نے ایک کتاب دیکھی تھی، اتنی ضخیم کتاب تھی، کم و بیش آٹھ سو نو سو صفحے کی ہو گی، اس میں انگریزی پروٹوکول کے آداب لکھے ہوئے تھے۔ اس میں ایک پورا چیپٹر اِس پر تھا کہ جب کھانے کی میز پر مہمان کو بٹھاؤ تو اس کے آداب کیا ہوں، برتن کیسے رکھے جائیں، مہمان کو کیسے بٹھایا جائے؟ تو ہمارے ایک بزرگ دوست تھے، مجھ سے بہت بڑے تھے عمر میں، وہ مغرب کی ہر چیز کے بڑے قائل تھے اور مسلمانوں کی ہر چیز کے بڑے ناقد تھے۔ وہ یہ کہا کرتے تھے کہ مسلمانوں نے فقہ کے نام پر دین کو پیچیدہ کر دیا ہے۔ میں نے کہا، مسلمانوں نے پیچیدہ کیا ہو یا نہ کیا ہو، یہ بتائیے، انگریز نے پیچیدہ کر رکھا ہے۔ مسلمان سیدھا فرش پر بیٹھ کر کھا لیتا ہے، ایک برتن میں دو آدمی کھا لیتے ہیں، کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہوتا۔ انہوں نے کھانا کھانے پر یہ سو صفحے لکھے ہیں کہ ترتیب کیا ہو۔ چونکہ وہاں اعتراض نہیں، اس لیے وہ چیز اچھی معلوم ہوتی ہے۔ شریعت کے معاملے میں چونکہ تامل ہوتا ہے، اس لیے یہاں کی ہلکی اور آسان چیز بھی پیچیدہ معلوم ہوتی ہے۔

فقہ میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ آپ فقہ کی کتاب اٹھا کر دیکھیں، آپ کو لگے گا کہ بڑی ریشنل اور بڑی سائنٹیفک اور ایک سسٹیمیٹک چیز ہے۔ آسان سے آسان چیز ان لوگوں کے لیے مشکل ہوتی ہے جنہوں نے اس کو پڑھا نہ ہو۔ جب پڑھ لیا ہو تو بہت آسان معلوم ہوتی ہے۔ آپ دو چار سال فقہ کی کتابیں پڑھیں، آپ کو بہت آسان اور بہت لبرل اور بہت سائنٹیفک معلوم ہو گی۔

سوال: 

ایک بہن نے پوچھا ہے کہ کچھ لوگ اسلامی فقہ کو ریوائز کر رہے ہیں۔

جواب: 

اسلامی فقہ ریوائز ہوتی رہتی ہے مستقل۔ کوئی دور ایسا نہیں کہ فقہ میں ریویژن اور ری ریویژن کا عمل نہ ہوتا رہتا ہو۔ اس لیے کہ انسانی حالات بدلتے رہتے ہیں، انسانی مزاج اور مسائل بدلتے رہتے ہیں۔ جب مسائل بدلتے ہیں، حالات بدلتے رہتے ہیں، تو جس دور کے فقہاء ہیں، وہ اس دور کے لحاظ سے ان مسائل پر غور کرتے رہتے ہیں، نئی ہدایت اور رہنمائی دیتے رہتے ہیں۔ اس لیے یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ آج اسے کرنے کی ضرورت پیش آئے، یہ تو شروع سے ہو رہی ہے۔

https://youtu.be/rmxuGx0Mnd8

فقہ / اصول فقہ

اقساط
  • محاضراتِ فقہ (۱)
    محاضرہ اول    —    فقہِ اسلامی: علومِ اسلامیہ کا گلِ سَر سَبد
  • محاضراتِ فقہ (۲)
    محاضرہ اول    —    فقہِ اسلامی: علومِ اسلامیہ کا گلِ سَر سَبد

(الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۷

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۳)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۴)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

کیا سنن دارقطنی علل کی کتاب ہے؟
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

محاضراتِ فقہ (۲)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۷)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۴)
محمد سراج اسرار

’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘
محمد فہد حارث
محمد بلال ابراہیم بربری

اوقات ضائع کرنے کا موبائل فون سے بڑا راستہ کوئی نہیں
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

شب بیداری: برکتیں، انعامات اور فلاح
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت
مفتی سید انور شاہ

کاروباری خسارے: اسباب، حکمتیں اور حل
مولانا عبد المتین

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۱)
حافظ مجددی

ہماری جامعات میں اسلامی قانون کی تعلیم
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

امریکہ اور اسرائیل نے اپنی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے
پروفیسر جان میئرشائیمر
ٹکر کارلسن

مغرب — یہود مخالف کیسے بنا؟
حامد میر

ترکیہ اور اسرائیل کے دشمنی میں بدلنے والے دوستانہ تعلقات
میپ اینڈ مِتھ

بھارت: سیاسی صورتحال اور تہذیبی مسائل
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

Arab Nationalism and Its Impact on the Muslim World
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

تلاش

شماریات