دارالعلوم حقانیہ کا دورہ اور تعزیت
پروفیسر حافظ منیر احمد — سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے یکم جون ۲۰۲۶ء کو مولانا عبد القیوم حقانی، مولانا مفتی نعمان احمد اور پروفیسر حافظ منیر احمد کے ہمراہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں حضرت مولانا محمد ادریس کی شہادت اور حضرت مولانا مفتی سیف اللہ کی وفات پر ان کے اہل خاندان اور دارالعلوم کے اساتذہ سے تعزیت کی اور سرکردہ علماء کرام کی دینی و علمی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی وفات کو دینی و علمی حلقوں کے لئے گہرے صدمے کا باعث قرار دیا۔ اس موقع پر مولانا انور مسرور، مولانا عرفان الحق حقانی، مولانا اسامہ سمیع حقانی، مولانا خزیمہ سمیع اور دیگر حضرات موجود تھے۔ شرکاء اجلاس نے مرحوم علماء کرام کے لئے دعا کی کہ اللہ رب العزت انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور تمام لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یارب العالمین۔
دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی کا دورہ اور تعزیت
مولانا محمد سعد سعدی — رابطہ سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل
اسلام آباد (۲ جون ۲۰۲۶ء) پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی صاحب دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی تشریف لائے۔ جانشین شیخ القرآن مولانا اشرف علی صاحب رحمہ اللہ کی وفات پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ حضرت نے دوران ملاقات حضرت شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان اور قاضی احسان صاحب رحمہا اللہ سے اپنے دیرینہ مراسم و تعلقات اور ہر تحریک میں یکجا ہونے کے واقعات سنائے، اور مولانا اشرف علی صاحب رحمہ اللہ کی دہائیوں پر محیط خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا کہ جس تحمل اور نظم و ضبط کے ساتھ مولانا نے ادارے کو چلایا اور اس کو اپنے مقاصد پر قائم رکھا وہ قابل تحسین و تعریف ہے، اور ہمارا باہمی رشتہ اس نوعیت کا رہا کہ مختلف اہم امور میں مشاورت و تبادلہ خیال ہوتا رہتا تھا۔ حضرت مولانا اشرف علی صاحب کی وفات بلاشبہ مرکز تعلیم القرآن کے علاوہ راولپنڈی اسلام آباد کے تمام علماء و تحریکوں کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے لیکن امید ہے کہ ان کے نائبین اسی سمت چلتے ہوئے اس کمی کو ادارے پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
حضرت امیر مولانا زاہد الراشدی صاحب نے اپنی طرف سے اور اپنی جماعت کی طرف سے حسب سابق ہر موقع پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمٰن فاروقی، مفتی محمد نعمان، سردار زاہد منان اور راقم محمد سعد سعدی سمیت دیگر راہنما بھی موجود تھے۔
مولانا فضل الرحمٰن خلیل سے ملاقات
مولانا عبد الرؤف محمدی — ڈپٹی سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل
اسلام آباد (۲ جون ۲۰۲۶ءء) پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی اور انصار الامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمٰن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراہیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمٰن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔
مذکورہ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔
مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمٰن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔
انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔
اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔
آزادکشمیر کی صورتحال پر اظہارِ رنج و افسوس
پروفیسر حافظ منیر احمد — سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل
اسلام آباد (۱۵ جون ۲۰۲۶ء) پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی قائدین نے آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور حکومتی اداروں کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال، تصادم، تشدد اور انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے اور تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ حالات کو مزید بگاڑنے کے بجائے افہام و تفہیم، مذاکرات اور قومی ذمہ داری کا راستہ اختیار کیا جائے۔
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی، جنرل سیکرٹری مولانا عبد الرؤف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات حافظ منیر احمد اور دیگر قائدین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کے معاشی، سماجی اور شہری حقوق سے متعلق جائز مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور ان کے حل میں کسی قسم کی غیر ضروری تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کرے اور تمام متعلقہ حلقوں کے ساتھ مثبت اور نتیجہ خیز مذاکرات کا آغاز کرے۔
قائدین نے کہا کہ عوامی احتجاج ہرگز تصادم اور خونریزی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ حالیہ واقعات میں انسانی جانوں کا ضیاع اور متعدد افراد کا زخمی ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔ ایسے حالات میں طاقت کے استعمال، اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کے بجائے تحمل، بردباری اور حکمت کے ساتھ مسئلہ کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی دونوں کو ایسے اقدامات سے اجتناب کرنا چاہیے جو حالات کو مزید خراب کرنے کا سبب بنیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان شریعت کونسل آزاد کشمیر کے عوام کے جائز حقوق کی حمایت کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ عوامی مسائل کے حل اور بنیادی ضروریات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے حکومت فوری طور پر عوامی مطالبات کا جائزہ لے، قابل عمل اور جائز مطالبات کو تسلیم کرے اور عوامی بے چینی کے خاتمہ کے لیے واضح اور مؤثر اقدامات کا اعلان کرے۔
پاکستان شریعت کونسل کے قائدین نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ بعض عناصر عوامی حقوق کی تحریک اور احتجاجی سرگرمیوں کی آڑ میں پاکستان مخالف بیانیہ کو فروغ دینے اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں کشمیری عوام کی جدوجہد، قربانیوں اور پاکستان کے ساتھ ان کے تاریخی، مذہبی اور نظریاتی تعلقات کے منافی ہیں۔ پاکستان مخالف نعرے بازی اور بیانیہ دشمن قوتوں، بالخصوص بھارت، کے مفادات کو تقویت پہنچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے جس کی ہر سطح پر مذمت کی جانی چاہیے۔
قائدین نے عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی صفوں میں موجود ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرے اور انہیں تحریک سے الگ کرے جو عوامی حقوق کی جائز تحریک کو غلط رخ دے کر پاکستان مخالف مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ عوامی حقوق کی تحریک کو قومی مفادات اور کشمیر کاز کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھایا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی دشمن قوت کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔
پاکستان شریعت کونسل کے قائدین نے حکومت آزاد کشمیر، وفاقی حکومت اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ حالات کو معمول پر لانے، عوامی اعتماد کی بحالی اور مسائل کے مستقل حل کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تاکہ خطہ مزید کشیدگی اور انتشار سے محفوظ رہ سکے۔
دریں اثناء پاکستان شریعت کونسل کے رہنماؤں مولانا مفتی رویس خان ایوبی، مولانا عبدالرزاق، مولانا رشید احمد درخواستی، مولانا تنویر الحق تھانوی، مولانا شبیر احمد کشمیری، چوہدری خالد محمود ایڈووکیٹ، مولانا رمضان علوی، مولانا قاری اللہ داد، مفتی محمد نعمان پسروری، مولانا عبدالحفیظ محمدی، مولانا اسد اللہ غالب، مولانا عبدالحسیب خوستی، مولانا محمد امین، مولانا قاسم عباسی، مولانا حافظ علی محی الدین، مولانا قاری عثمان رمضان، سعید احمد اعوان، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا صاحبزادہ نصرالدین خان عمر، مفتی جعفر طیار، مولانا عطاء اللہ علوی، مولانا ڈاکٹر سیف الرحمن آرائیں، مولانا عبید الرحمن معاویہ، ذوالفقار گل ایڈووکیٹ اور دیگر نے بھی آزاد کشمیر کے حالیہ واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریق دانشمندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرامن حل کی طرف پیش قدمی کریں گے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لیے مغفرت، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔
محرم الحرام میں قیامِ امن کے ضابطۂ اخلاق پر عملدرآمد کی ضرورت
مولانا امجد محمود معاویہ — سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل پنجاب
پریس ریلیز (۱۵ جون ۲۰۲۶ء) جمعیت اہلسنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی رجسٹرڈ گوجرانوالہ کا سالانہ مشترکہ مشاورتی اجلاس جمعیت کے صدر پیر قاری محمد ریاض چشتی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر سے ہم مسلک جماعتوں کے قائدین، اور تمام حلقہ جات کے نمائندگان علماء کرام نے بھر پور شرکت کی۔ اجلاس میں جمعیت اہلسنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی رجسٹرڈ گوجرانوالہ کے سرپرست اعلیٰ مفکر اسلام شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور اجلاس کے شرکاء سے خطاب فرماتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ قیام امن کے لئے لازم ہے کہ ریاستی ادارے تمام مسالک کے اکابرین کا مشترکہ طے کیا ہوا ضابطہ اخلاق عملی اور قانونی طور پر نافذ کریں تاکہ کسی شر پسند کو مقدس شخصیات حضرات صحابہ کرام خلفاء راشدین، ازواج مطہرات اور اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کسی سطح پر بھی اشارے کنائے میں بھی توہین و تنقیص کی ناپاک جسارت کی جرات نہ ہو۔ اگر کسی بھی مسلک اور مکتبہ فکر سے کوئی توہین کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے خلاف فوری قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کسی مسلمان کی نہ کوئی دل آزاری کر سکے اور نہ شہر کے امن کو سبوتاژ کر سکے۔
علامہ زاہد الراشدی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مسلک دیوبند کی تمام جماعتوں کے قائدین اور جمعیت اہلسنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی رجسٹرڈ گوجرانوالہ کے تمام حلقہ جات کے نمائندگان قیام امن کے لیے حسبِ سابق امسال بھی ضلعی انتظامیہ، پولیس انتظامیہ، اور تمام اداروں کے معاون ہوں گے، بالخصوص ممبران امن کمیٹی، سفیران امن، حاجی بابر رضوان باجوہ ممبر کور کمیٹی کی قیادت میں محرم الحرام، صفر، ربیع الاول میں حسبِ معمول میدانِ عمل میں رہیں گے اور ضلع بھر میں قیام امن کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔
اس سلسلے میں شرکاء اجلاس نے امن کمیٹی کے فورم پہ کام کرنے والے ضلعی ممبران حاجی بابر رضوان باجوہ، مولانا جواد محمود قاسمی، قاضی ضیاء المحسن، مفتی محمد اسلم طارق، حافظ شہباز رسول اور ممبرانِ امن کمیٹی سٹی ڈویژن گوجرانوالہ مولانا امجد محمود معاویہ، حافظ عبد الجبار اور قاری محمد ریاض چشتی پہ مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ہر سطح پر قیامِ امن کی کوششوں میں اپنے مکمل تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس میں مولانا عبد الواحد رسولنگری، مولانا نور حسین عارف، حاجی بابر رضوان باجوہ، مولانا جواد محمود قاسمی، مولانا امجد محمود معاویہ، قاضی مراد اللہ، قاری عبد القیوم اعوان، مولانا عبیداللہ حیدری، سید احمد حسین زید، مولانا عمر حیات، قاری احسان اللہ قاسمی، مولانا عمر شکیل، قاری نعمان بابر، مولانا عبد الماجد، مولانا افضال کھٹانہ، مولانا عمران صدیقی، مفتی نعمان، مولانا ظہور فاروقی مفتی ناصر، رانا ذوالفقار، سعید الرحمن فاروقی، حافظ عبد الغفار اعوان، حافظ محمد یحییٰ، مولانا مجاہد حنیف، اکرام اللہ خان، حافظ عبد الجبار، عبد القادر عثمان، قاری فضل الرحمان، حفیظ الرحمان شاہ، قاری محبوب اور دیگر علماء کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
گوجرانوالہ میٹرو ٹنل منصوبہ اور تاجروں کے تحفظات
روزنامہ انقلابی دنیا گوجرانوالہ — ۱۵ جون ۲۰۲۶ء
گوجرانوالہ (سٹاف رپورٹر) سماجی و مذہبی رہنما (امیر پاکستان شریعت کونسل) ابوعمار زاہد الراشدی نے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کو ارسال کردہ ایک تحریری مراسلے میں گوجرانوالہ میٹرو بس منصوبے خصوصاً مجوزہ ٹنل اور تجارتی مراکز پر اس کے اثرات کے حوالے سے تاجروں کے تحفظات پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اخبارات اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبے میں متعدد بار تبدیلیاں کی گئی ہیں جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ عملی اقدامات سے قبل منصوبے کا جامع اور باریک بینی سے جائزہ نہیں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میٹرو بس منصوبہ خالصتاً شہری مفاد کے تناظر میں تشکیل دیا جانا چاہیے اور اب تک کی گئی تبدیلیوں کا ازسرنو جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ابو عمار زاہد الراشدی نے زور دیا کہ منصوبے سے متاثر ہونے والے تاجروں اور کاروباری حلقوں کے موقف کو سنجیدگی سے سنا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈروز کی مشاورت سے ایسے قابلِ عمل اقدامات کیے جائیں جو شہری سہولت اور کاروباری مفادات دونوں کے لیے مفید ہوں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مجوزہ شیرانوالہ باغ اور گوندلانوالہ اسٹیشنوں سے شہر کے مرکزی تجارتی مراکز کو خاطر خواہ فائدہ ملتا دکھائی نہیں دیتا۔ ان کے مطابق درمیان میں ریلوے اسٹیشن اور حمید بلڈنگ اسٹینڈ کے مقام پر اضافی اسٹیشن قائم کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے روزانہ کی بنیاد پر شہر آنے والے تاجروں، کاروباری افراد اور خریداروں کو براہ راست سہولت میسر آ سکے گی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے پر سست رفتاری اور تقریباً ۳۲ کلومیٹر طویل سڑکوں کی کھدائی کے باعث شہر کے کاروباری مرکز شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اس صورتحال میں منصوبے کو مختلف مراحل یا چار حصوں میں تقسیم کر کے بیک وقت مکمل کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کی جائے تاکہ متاثرہ علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں کی جلد بحالی ممکن بنائی جا سکے۔
ابوعمار زاہد الراشدی نے اپنے بیان میں کہا کہ تاجروں اور شہری حلقوں نے ہمیشہ ترقیاتی منصوبوں میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ تاہم جہاں شہریوں اور تاجروں کے جائز تحفظات کا تعلق ہو وہاں ان کی نشاندہی کرنا اور مسائل کے حل کے لیے کوشش کرنا بھی ایک ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ مخالفت برائے مخالفت کے قائل نہیں بلکہ مثبت اور تعمیری تجاویز کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تاجران و علماء کے مشترکہ فورم کی جانب سے معاملات میں رابطہ کاری اور تعاون کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس میں حاجی بابر رضوان باجوہ، حافظ امجد محمود معاویہ اور مولانا جواد محمود قاسمی شامل ہیں۔ کمیٹی تاجران، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے مسائل کے حل اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی کہ تاجروں اور شہریوں کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے کا جامع جائزہ لیا جائے اور متعلقہ اداروں کو ضروری اقدامات کی ہدایت جاری کی جائے تاکہ ترقیاتی منصوبہ عوامی توقعات کے مطابق کامیابی سے مکمل ہو سکے۔
مولانا عبد الرحمٰن یعقوب باوا کی وفات پر اظہار رنج و غم
حافظ محمد ابرار — شریک دورہ حدیث
اناللہ واناالیہ راجعون۔ آج ۱۸ جون ۲۰۲۶ء بروز جمعرات جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں بخاری شریف کے سبق کے بعد استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی مدظلہ العالی نے تحریک ختم نبوت کے ممتاز راہنما مولانا عبد الرحمٰن یعقوب باوا آف لندن کی وفات پر گہرے صدمے کا اظہار کیا اور ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا نیز جامعہ نصرۃ العلوم کے استاذ الحدیث مولانا مفتی فضل الہادی کے والد محترم کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور اس موقع پر دونوں مرحوم بزرگوں کی مغفرت کی دعا کی گئی۔ اللہ پاک کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور تمام لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں آمین یارب العالمین۔
گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مذمت
پروفیسر حافظ منیر احمد — سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل
اسلام آباد (۲۹ جون ۲۰۲۶ء) پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی قائدین نے جیو نیوز پر حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے نشر کرنے کے اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس اور حرمت ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی تقاضا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی گستاخی، بے ادبی یا توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی، جنرل سیکرٹری مولانا عبدالرؤف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات حافظ منیر احمد، سرپرست مولانا مفتی رویس خان ایوبی، نائب امیر مولانا عبدالرزاق، مولانا رشید احمد درخواستی، مولانا تنویر الحق تھانوی، مولانا شبیر احمد کشمیری، چوہدری خالد محمود ایڈووکیٹ، مولانا رمضان علوی، مولانا قاری اللہ داد، مفتی محمد نعمان پسروری، مولانا عبدالحفیظ محمدی، مولانا اسد اللہ غالب، مولانا عبدالحسیب خوستی، مولانا محمد امین، مولانا قاسم عباسی، مولانا حافظ علی محی الدین، مولانا قاری عثمان رمضان، سعید احمد اعوان، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا صاحبزادہ نصرالدین خان عمر، مفتی جعفر طیار، مولانا عطاء اللہ علوی، مولانا ڈاکٹر سیف الرحمٰن آرائیں، مولانا عبید الرحمٰن معاویہ اور ذوالفقار گل ایڈووکیٹ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ جیو نیوز کی اس نازیبا حرکت سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں۔ آزادیٔ اظہار کے نام پر انبیاء کرام علیہم السلام بالخصوص حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں کسی قسم کی گستاخی یا بے ادبی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ میڈیا اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر ایسے عناصر اور رویوں کی حوصلہ شکنی کریں جو دینی اقدار، اسلامی شعائر اور مسلمانوں کے عقائد و جذبات کو مجروح کرنے کا سبب بنیں۔
رہنماؤں نے حکومتِ پاکستان، پیمرا اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے قوم کے جذبات و احساسات کا احترام ناگزیر ہے۔
۳ ستمبر ۲۰۲۶ء کی ختم نبوت کانفرنس: علماء کا اہم مشاورتی اجلاس
روزنامہ حق سچ کا ترجمان لاہور — ۲۴ جون ۲۰۲۶ء
حافظ آباد (شان علی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع حافظ آباد کے زیر اہتمام ۳ ستمبر بروز جمعرات کچہری روڈ پر منعقد ہونے والی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلے میں اتوار کے روز مرکزی جامع مسجد قدیم حافظ آباد میں ضلع بھر کے علمائے کرام کا اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں کانفرنس کے انتظامی، تنظیمی اور دعوتی امور پر تفصیلی غوروخوض کیا گیا۔
اجلاس میں مولانا زاہد الراشدی (امیر پاکستان شریعت کونسل) نے خصوصی شرکت کی جبکہ صدارت حضرت مولانا محمد اشرف مجددی (ضلعی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ) نے کی۔ اجلاس کا انتظام حضرت مولانا مفتی محمد جمیل (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حافظ آباد) نے کیا جبکہ مولانا عبد الحنان صدیقی، مولانا حافظ نعمان، سعید اعوان، مولانا محمد عارف شامی اور ضلع بھر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس میں کانفرنس کی کامیابی کے لیے عوامی رابطہ مہم، دعوتی سرگرمیوں، انتظامات، مختلف کمیٹیوں کی ذمہ داریوں اور دیگر امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے منعقد ہونے والی یہ کانفرنس ضلع حافظ آباد کی ایک تاریخی اور یادگار دینی اجتماع ثابت ہو گی۔

















