فرض کریں کہ ایران کو شکست ہو جاتی ہے تو اس کے بعد کیا یہ ’’کلیش آف سویلائزیشن‘‘، یہ تہذیبوں کا تصادم جو ہے، یہ ختم ہو جائے گا؟ کیا دنیا بھر میں مسلمان ختم ہو جائیں گے؟ ایسا تو بالکل ہو ہی نہیں سکتا، ایک مسلمان ملک شکست کھا سکتا ہے لیکن مسلمان تو ختم نہیں ہو سکتے۔ آخرکار ہوگا کیا؟ اب اس کے لیے میں آپ کو ایک بڑی دلچسپ بات بتانے جا رہا ہوں کہ اَلٹیمیٹلی، اینڈ گیم کیا ہے؟
اینڈ گیم یہ ہے کہ مسلمانوں کا تیا پانچا کرنے کے بعد، اگر یہ کامیاب ہو جاتے ہیں سازش میں، ایران کے بعد یہ باری باری باقی مسلمان ممالک کی طرف بھی آئیں گے، تو اس کے بعد اینڈ گیم کیا ہوگی، کہ پھر یہ جو نیتن یاہو جیسے صیہونی ہیں، اس کے بعد یہ امریکہ اور یورپ کو سبق سکھانے کا ایجنڈا لے کے سامنے آئیں گے۔ اور یہ بات میں کوئی ایسے نہیں کر رہا، میرے پاس بہت سے دستاویزی ثبوت ہیں، لیکن آج میں آپ کو جو ڈاکومنٹری ایویڈنس دکھانے جا رہا ہوں، وہ یہ کتاب ہے۔ یہ کتاب آپ دیکھ رہے ہیں، اس کتاب کا نام ہے
How the West Became Antisemitic?
’’اینٹی سیمیٹِک‘‘ کا مطلب ہے، جو یہودیوں کا مخالف ہوتا ہے۔ تو یہ کتاب لکھی ہے ایوان جی مارکوس نے، یہ ایک امریکن یونیورسٹی میں استاد ہیں، انہوں نے لکھا ہے کہ مغرب جو ہے یہ یہودیوں کا مخالف کیسے بنا؟ اس کی پوری انہوں نے ہسٹری لکھی ہے۔ اب اس کتاب میں انہوں نے اپنی ریسرچ کے ذریعے جو ہسٹری لکھی ہے کہ یہ جو یہودی انتہا پسند ہیں یا زائنسٹ (صیہونی) ہیں، یہ کرسچیئنٹی کے کتنے خلاف ہیں۔ مسیحیت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہ کتنی نفرت کرتے ہیں۔ یہ جو باتیں اس کتاب میں لکھی گئی ہیں میں وہ دوہرا نہیں سکتا۔ میرے سامنے ہیں یہ چیزیں۔ یہ جتنی توہین مسلمانوں کی یا قرآن پاک کی یا نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کرتے ہیں، یہ اتنی ہی توہین کرسچیئنٹی کی بھی کرتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی کرتے ہیں۔ یہودی انتہا پسند، جن کو میں صیہونی کہتا ہوں۔ میں تمام یہودیوں کی بات نہیں کر رہا۔
تو اس کتاب میں انہوں نے بتایا ہے جی کہ بہت سے جو یورپی ممالک ہیں، ان میں جو یہودیوں سے نفرت کی جاتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہودی جو ہیں، ماضی میں بہت توہین آمیز رویہ اختیار کرتے رہے ہیں کرسچیئنٹی کے بارے میں اور کراس (صلیب) کے بارے میں، اس کی یہ توہین کرتے رہے ہیں۔ اس کی پوری انہوں نے ہسٹری دی ہے اور اس کتاب میں انہوں نے یہ لکھا ہے کہ بالآخر، یہ جو رویہ ہے کچھ یہودی انتہاپسندوں کا، جو ابھی بھی کسی نہ کسی شکل میں سامنے آتا ہے، یہ اگر تبدیل نہ ہوا تو پھر یورپ میں جو یہودی ہیں ان کی موجودگی بہت سی مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔
تو یہ اگر کلیش آف سولائزیشن جاری رہا تو آخر میں یہ جو زائنسٹ ہیں یا صیہونی ہیں، جن کا اس وقت سب سے بڑا لیڈر نیتن یاہو ہے، اس کا پھر اگلا حملہ کرسچیئنٹی پہ ہو گا۔ اسلام اور مسلمانوں سے فارغ ہونے کے بعد یہ کرسچیئنٹی پہ حملہ کریں گے۔ اور یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا، یہ امریکہ کے ایک سکالر کی لکھی ہوئی کتاب ہے، اس میں یہ لکھا ہوا ہے۔


















