’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘

پیشِ گفتار

حارث پبلی کیشنز کے لیے یہ کسی اعزاز سے کم نہیں کہ اسلامی دنیا میں پہلی مرتبہ کسی طباعتی مکتبہ سے علامہ شبلی نعمانی کی کتاب ’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘ کا اردو ترجمہ شائع ہونے جا رہا ہے۔ علامہ شبلی نعمانی کی بابت بہت کچھ لکھا گیا، اس لیے اپنے اس ’’پیشِ گفتار‘‘ میں ان کی بابت مزید لکھنا اضاعتِ وقت ہوگا اور کچھ سود مند نہ رہے گا۔ تاہم یہ سطور لکھتے ہوئے ہمیں اپنے ایک ہندوستانی رفیق رشید ودود صاحب کی علامہ شبلی پر لکھی کچھ سطریں بڑی شدت سے یاد آ رہی ہیں۔ چلیں، آئیے آپ حضرات کو بھی رشید ودود صاحب کے علامہ شبلی پر لکھے ان خیالات کی سیر کرواتے ہیں۔ رشید ودود صاحب لکھتے ہیں:

’’مصر میں مقیم ایک شامی نژاد عیسائی مؤرخ اور ناول نگار ’جرجی زیدان‘ تھا، شبلی سے اس کی یاد اللہ تھی، اس کے رسالے ‘الہلال’ کے لیے شبلی مضامین بھی لکھا کرتے تھے، اسی نے پانچ جلدوں میں ’تاریخ التمدن الاسلامی‘ لکھی۔
اسی اثنا میں ایک مصری فاضل ڈاکٹر محمود لبیب نے شبلی کو خط لکھا کہ ایسا کوئی رسالہ بتائیے جس میں اسلامی آلات کی تفصیل ہو۔ شبلی نے جرجی زیدان کو لکھا کہ رسالہ ڈاکٹر صاحب کو دے دیا جائے، لیکن ساتھ میں جرجی زیدان کی استشراقی فکر پر بھی تبصرہ کر دیا کہ: ’اس کتاب میں بہت سے افتراءات اور ابلہ فریبیاں ہیں، اس کتاب کی تصنیف سے جرجی زیدان کا سب سے اہم مقصد غالباً‌ عربوں کی تحقیر اور عجمیوں کی ترجیح ہے‘۔ (اوکما قال)
جواب میں ڈاکٹر صاحب نے شبلی کی تائید کی۔ اسی دوران استاذ کے اشارے پر سید سلیمان نے الندوہ میں مضمون ’تمدنِ اسلامی مصنفۂ جرجی زیدان اور اس کی فریب کاریاں‘ لکھا۔ یہ مضمون الندوہ میں اکتوبر ۱۹۰۸ء کو شائع ہوا۔ اس مضمون میں ڈاکٹر محمود لبیب کا مفصل خط موجود ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے لکھا تھا کہ:
’میں نے تمدنِ اسلامی کا نہایت غور و فکر سے مطالعہ کیا ہے، اس کتاب کا نام ’التمدن الاسلامی‘ کے بجائے ’برباد کنندۂ تمدنِ اسلامی‘ ہوتا تو بہتر ہوتا۔’ (او کما قال)
طوالت کے خوف سے ہم اس خط کے مندرجات پر تبصرہ نہیں کریں گے، لیکن یہ خط واقعی اس قابل ہے کہ پورے کا پورا نقل کر دیا جاتا۔ تفصیل کے لیے ‘الندوہ’ کی جلد پنجم سے رجوع کریں۔
ڈاکٹر یوسف ہارویز علی گڑھ میں پروفیسر تھے، ان کی تجویز سے ’تاریخ التمدن الاسلامی‘ کے کچھ حصے ‘عالم’ اور ‘فاضل’ کے امتحانات میں شامل کر لیے گئے۔ شبلی نے ابوالکلام آزاد اور ریاض حسن خاں کے نام خطوط میں اپنے رنج و غم کا اظہار کیا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارگولیوس نے ’تاریخ التمدن الاسلامی‘ کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اسی اثنا میں ٹائمز کے ایک مضمون میں کتب خانہ اسکندریہ جلانے کا الزام ایک بار پھر حضرت عمر فاروقؓ پر رکھا گیا اور حوالہ ’تاریخ التمدن الاسلامی‘ کا دیا گیا۔ ان حالات سے متاثر ہو کر شبلی مجبور ہوئے کہ ’تاریخ التمدن الاسلامی‘ کا مفصل رد لکھیں۔ یہ رد لکھنا کوئی آسان کام نہ تھا، ہزاروں صفحات پڑھ کر لکھنا تھا تاکہ ’تاریخ التمدن الاسلامی‘ کی بے اعتباری ہر کس و ناکس پر آشکارہ ہو جائے۔ شبلی نے جنوں کی حکایات خونچکاں کچھ اس محنت سے لکھی کہ ایک آنکھ میں پانی اتر آیا۔ رمضان کا مہینہ تھا، برسات کی امس اور حبس بھی شبلی کا حوصلہ نہیں توڑ سکی۔ کتاب مکمل ہوئی، اس کا اردو خلاصہ ‘الندوہ’ میں شائع ہوا اور اصل عربی کتاب ’الانتقاد علی تاریخ التمدن الاسلامی‘ کے نام سے پہلے لکھنؤ، پھر مصر میں شائع ہوئی۔ رشید رضا نے کہا کہ:
‘میں خود بھی تردید کرنا چاہتا تھا لیکن جرجی زیدان کے مکائد اس قدر پھیلے ہوئے تھے کہ ان کو سمیٹ کر یکجا کرنا اور ان کی تردید کرنا قابو میں نہ آتا تھا، آپ نے اس پر قابو پا لیا اور تردید کر دی۔’ (او کما قال)
عربوں کی تحقیر اور بنو امیہ کی تنقیص پر شبلی تڑپ اٹھے، ’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘ میں جرجی زیدان جیسے مستشرق کے لیے شمشیر براں بن گئے۔ آج کے فضلائے ندوہ اس آئینے میں اپنی تصویر دیکھ سکتے ہیں، اس کے بعد وہ خود فیصلہ کریں کہ وہ شبلی کا دم بھرتے ہیں یا مستشرقین کا؟‘‘

رشید ودود صاحب اپنی ایک دوسری تحریر میں اسی موضوع سے متعلق مزید رقم طراز ہیں:

’’نسیم حجازی کے ناولز پڑھ پڑھ کر ہمارا دماغ اس حد تک خراب ہوا کہ ہم بھی خلفائے بنو امیہ کو کوسنے لگے، بالخصوص سلیمان بن عبد الملک تو ہماری نظر میں کسی ولن سے کم نہیں تھا۔ ذرا بڑے ہوئے تو پتہ چلا کہ یزید تو سلیمان سے بھی دو ہاتھ آگے تھا۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ ناول نگاروں اور انشا پردازوں سے ہماری جان بہت جلد چھوٹ گئی۔ اردو زبان میں تاریخ نویسی کا فریضہ زیادہ تر انشا پرداز اور ناول نگار حضرات نے انجام دیا ہے۔ محمد حسین آزاد کی انشا پردازی گپ تو چھوڑ سکتی ہے لیکن تاریخ نویسی ان کے بس کی بات نہیں۔ ہر انشا پرداز شبلی کی طرح خوش قسمت نہیں ہوتا۔ شبلی انشا پرداز بعد میں تھے اور مؤرخ پہلے تھے۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں شبلی نعمانی کی تاریخ نگاری پر گفتگو کم ہی کی جاتی ہے، حالانکہ شبلی ایسے تاریخ نویس ہیں جنہوں نے تاریخ سازوں کا پردہ چاک کر کے رکھ دیا ہے۔ کتب خانہ اسکندریہ کے جلانے کا الزام ہو یا تاج محل کے معماروں کے نام، اورنگ زیب عالمگیر پر لگائے جانے والے الزامات کا جائزہ ہو یا ‘الفاروق’ کی تصنیف، ہر جگہ شبلی کی تاریخ نویسی نمایاں ہے۔ شبلی مروت کے قائل نہیں تھے لیکن متعصب بھی نہیں تھے، اس لیے کہ وہ تاریخ نویس کے فرائض سے آگاہ تھے، اصل مصادر تک ان کی رسائی تھی، اسی لیے وہ کہیں کنفیوژن کا شکار نہیں ہوئے۔
‘الفاروق’ کی تصنیف کے وقت سر سید چاہتے تھے کہ شبلی یہ کتاب نہ لکھیں، اس لیے کہ کہیں شیعہ دوست ناراض نہ ہو جائیں، لیکن شبلی شبلی تھے۔ حالانکہ سر سید کو جس شیعہ دوست کا خیال خاطر تھا، انہوں نے تقیہ سے کام لے کر ‘الفاروق’ کی تصنیف پر مسرت کا اظہار کیا تھا، لیکن اگر وہ نفرت کا اظہار بھی کرتے تب بھی شبلی وہی کرتے جو ایک تاریخ نویس کا فرض ہوتا ہے۔
شبلی خلفائے بنو امیہ کے مداح کبھی نہیں رہے، لیکن جرجی زیدان جیسے مستشرق نے جب ’تاریخ التمدن الاسلامی‘ لکھ کر تاریخ سازی کرنی چاہی تو شبلی فورً‌ا حرکت میں آگئے اور انہوں نے زیدان کی کتاب کا تنقیدی جائزہ ’الانتقاد علی تاریخ التمدن الاسلامی‘ کے نام سے کیا۔ زیدان نے اپنی اس کتاب میں خلفائے بنو امیہ بالخصوص عربوں کی جم کر ہجو کی، لیکن شبلی نے زیدان کے ہفوات کا تاروپود ایسا بکھیر دیا کہ رشید رضا بھی خوش ہوئے بنا نہیں رہ سکے۔‘‘

امید ہے کہ رشید ودود صاحب کے خیالات کے مطالعہ کے بعد قارئین کو علامہ شبلی نعمانی کی زیر نظر کتاب کے پس منظر سے کسی قدر شناسائی حاصل ہو گئی ہو گی۔

اس کتاب کی طباعت کے سلسلے میں سب سے پہلے تو اللہ عزوجل کے حضور شکر گزار ہوں کہ اُس مالک نے اس احقر کو اس قابل بنایا کہ وہ یہ کام کر سکے۔ اگر اس کی مدد شاملِ حال نہ ہو تو کوئی کام ممکن نہیں۔ اسی کے کرم سے یہ کام ہو سکا ہے اور اس کام کی ہر اچھائی صرف اسی ذاتِ باری تعالیٰ کے سبب سے ہے۔

اس مالکِ کُل کے شکریہ کے بعد ڈاکٹر محمد بلال ابراہیم بربری حفظہ اللہ کا شکریہ ادا کروں گا کہ ان کے تعاون کے بغیر یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچنا ناممکن تھا۔ انہوں نے حقیقتاً دن رات محنت کر کے اس کتاب کے ترجمہ کو تخلیق کیا ہے، کیونکہ علامہ شبلی جیسے انشا پرداز کی عربی کتاب کا اردو ترجمہ خود اپنے اندر بہت بڑا چیلنج تھا جہاں قاری کتاب کا ترجمہ پڑھتے ہوئے بھی علامہ شبلی کی قلمکاری و انشا پردازی کو ذہن میں رکھے گا اور ایسا کرنے میں یقیناً قاری بھی مجبور ہے، لیکن یہ چیز مترجم کے بوجھ اور ذمہ داری کو بہت بڑھا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہوئی کہ اس مختصر سی کتاب کے ترجمے میں ہمارے دوست بلال بربری صاحب کو دانتوں پسینہ آ گیا، لیکن الحمد للہ جب ترجمہ مکمل ہو کر سامنے آیا تو ان کے لیے دل سے دعائیں ہی نکلیں۔ اللہ ان کو اس کتاب کے ترجمہ کرنے پر جزائے خیر سے نوازے۔ ساتھ ہی اپنے عزیز دوست محمد صہیب نذیر، بلال احمد راؤ، راشد جمال اور بھائیوں جیسے بہنوئی اویس رضوی صاحب کا شکریہ ادا کروں گا کہ ان حضرات کے تعاون کی وجہ سے ہی حارث پبلی کیشنز اس قابل ہو سکا ہے کہ اپنے قارئین کے لیے اس طور کی وقیع کتب کی نشر و اشاعت کر سکے۔ مالکِ کائنات ان احباب کو اس تعاون و مساعی پر بہترین اجر سے نوازے اور یومِ آخرت سرخرو فرمائے۔

کسی بھی کام میں کمال صرف اس ذاتِ بے ہمتا کو ہی سزاوار ہے، مخلوق کا کام تو غلطیوں سے پُر ہوتا ہے۔ پھر بھی اپنے تئیں پوری کوشش کی ہے کہ اس کتاب میں کوئی غلطی کوئی کمی نہ رہ جائے، تاہم اس کے باوجود اگر کوئی کمی یا غلطی رہ جائے تو قارئین سے التماس ہے کہ اس بابت مطلع فرمائیں، ان شاء اللہ ایجابی طریق سے آئی ہر تنقید کو سر آنکھوں پر رکھا جائے گا۔

محمد فہد حارث — حارث پبلی کیشنز، متحدہ عرب امارات، ۱۶ نومبر ۲۰۲۴ء، مطابق ۱۴ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۶ ہجری

عرضِ مترجم

عربی زبان کی گہرائی و گیرائی اور اس کے مقابلے میں ریختہ کی کم مائیگی کے جاننے والے، فنِ ترجمہ کاری کے رموز سے آشنا، اور مولانا شبلی رحمہ اللہ (۱۸۵۷ء - ۱۹۱۴ء) کے مقامِ علم و ادب کے شناسا کے لیے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ عربی زبان میں مولاناؒ کی کسی علمی کاوش کو ریختہ میں کچھ اس انداز سے منتقل کرنا کہ ترجمے میں مولاناؒ کے اسلوب و انداز کی کچھ نہ کچھ جھلک بہرحال نظر آئے، کتنا صبر آزما اور کٹھن کام ہو سکتا ہے۔ گیسوئے اردو تو اب بھی منت پذیر شانہ ہے، جب کہ عربی زبان کا حال یہ ہے کہ ایک اندازے کے مطابق؛ تلوار کے لیے کم و بیش ایک ہزار (۱۰۰۰)، شیر کے لیے پونے سات سو (۶۷۰)، سانپ کے لیے پانچ سو (۵۰۰)، شہد کے لیے اَسی (۸۰) اور پتھر کے لیے ستر (۷۰) مترادف مفردات موجود ہیں (المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام، ڈاکٹر جواد علی، ج: ۸، ص: ۵۵۱، ط: منشورات شریف الرضی)۔ ترجمہ کاری کا تجربہ رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ قوامیس اور لغات سامنے رکھ کر ایک زبان میں لکھی تحریر کو محض دوسری زبان میں منتقل کر دینے کو ترجمہ کہنا درست نہیں۔ قابلِ تعریف اور لائقِ تحسین مترجم وہی ہوتا ہے جو اصل متن اور ترجمے دونوں کی زبانوں کی پختہ معرفت رکھتا ہو، الفاظ کے آہنگ کو سمجھتا ہو، دونوں زبانوں میں مستعمل تعبیرات اور جملوں کے زیر و بم اور نشیب و فراز سے واقف ہو، اور متن کے سیاق و سباق کو دیکھ کر ماتن کے ماتھے پر چڑھی تیوری، پھٹی آنکھ اور لبوں پر پھیلے قہقہے کو چشمِ تصور سے دیکھ کر اس کے غیظ و غضب، تعجب و تحیر اور خوشی و مسرت کو ترجمے میں ڈھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہو۔

جہاں تک مولانا شبلیؒ کے علمی و ادبی مقام کا تعلق ہے تو سید سلیمان ندویؒ (۱۸۸۴ء - ۱۹۵۳ء) کو سنیے، کہتے ہیں:

’’مولانا (شبلیؒ) نے اپنے لیے بیان کی سہولت، عبارت کی روانی, ترتیب کی خوبی، عام فہم الفاظ کے انتخاب اور تشبیہ و استعارہ کی عمدگی سے وہ طرز نکالا کہ ان کی کتابیں ادب و انشا کا اعلیٰ نمونہ قرار پائیں اور تعلیم یافتہ تو تعلیم یافتہ، حضراتِ علماء کو بھی بالآخر اس کی تقلید سے چارہ نہ رہا اور اب تو وہ علمی و مذہبی علوم کی ٹکسالی زبان بن گئی ہے۔‘‘ (حیاتِ شبلی، ص: ۲۳)

ایسے بلند و بالا علمی و ادبی قامت والی شخصیت کی ترجمانی کا منصب سنبھالنا کیا کوئی آسان کام ہے؟ ہرگز نہیں! جناب فہد حارث صاحب نے جب ’’الانتقاد‘‘ کا ترجمہ کروانے کی خواہش کا اظہار کیا تو موضوع کی اہمیت اور اردو خوان طبقے کے لیے اس کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے، مولانا شبلیؒ سے فکری انسیت و ہم آہنگی، آپؒ کے علمی شاہ کار ’’سیرۃ النبی ﷺ‘‘ سے والہانہ تعلق و شغف اور آپ کے قلمِ گہر بار کے نتائج و حاصلات سے محبت و مودت کی بنا پر زیادہ سوچے سمجھے بغیر ترجمہ کرنے کی پیشکش نہ صرف قبول کی بل کہ جناب سے اصرار کیا کہ ایک علمی کام میں وقتی مصروفیت کی وجہ سے اس کام کو شروع کرنے اور پھر پایہ تکمیل تک پہنچانے میں تاخیر ہونا عین ممکن ہے، اس تاخیر کو برداشت کر لیا جائے، توفیقِ ایزدی شاملِ حال رہی تو یہ کام میں ہی کروں گا۔ جناب نے یوں ہمت بندھائی کہ: ’’جی! تاخیر کا مسئلہ نہیں، یہ کام آپ نے ہی کرنا ہے!‘‘ حوصلہ افزائی کرنے والے ایسے دوستوں کا میسر آنا بھی یقیناً‌ نعمتِ الٰہی ہے، علمی ترقی میں اہلِ تعلق کی حوصلہ افزائی کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے!

جذبات کی تپش جب ذرا ٹھنڈی ہوئی اور باقاعدہ کام شروع کیا تو پتہ چلا کہ میں نے ایک بھاری ذمہ داری اٹھا لی ہے، اور ایسا محسوس ہوا کہ شاید حق ادا نہ ہو سکے۔ بطور نمونہ ابتدائی چند صفحات کا ترجمہ کر کے اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ: ’’اس ترجمے کو دیکھ کر رائے دیں، یہ مہم جاری رکھوں یا اس قیمتی پتھر کو بوسہ دے کر دوبارہ اپنی جگہ پر ہی رکھ دوں؟‘‘ جناب نے ترجمے میں سلاست کی کمی کے سقم کی نشان دہی کرتے ہوئے نظر ثانی و اصلاح کرنے اور ساتھ ہی کام جاری رکھنے کو کہا تو حوصلہ بڑھا اور پھر مقدور بھر کوشش سے آہستہ آہستہ کم و بیش آٹھ ماہ کے عرصے — جو عام معمول سے زیادہ مدت ہے — میں ترجمہ بالآخر مکمل ہو گیا، والحمد للہ۔ شبلی رحمہ اللہ کی ترجمانی کی اس مشکل مہم میں کہاں تک کامیابی ہوئی ہے؟ امید ہے کہ قارئین اپنے منصفانہ نقد و تبصرے کے ذریعے اس سوال کے جواب سے ممنون فرمائیں گے۔

مولانا شبلیؒ اور سید سلیمان ندویؒ کی ’’حیاتِ شبلی‘‘

سید سلیمان ندویؒ نے اپنے دلچسپ علمی و ادبی انداز میں شبلیؒ کے حالاتِ زندگی بہ نام ’’حیاتِ شبلی‘‘ لکھے ہیں۔ اس سوانح کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ایک قدردان شاگرد نے اپنے مایہ ناز استاذ کے ساتھ اپنے مخلصانہ تعلق کا بھرپور حق ادا کیا ہے۔ دیگر کتب کی طرح ’’حیاتِ شبلی‘‘ سید صاحبؒ کی مقبول ادبی کاوش ہے۔ شبلیؒ کو جاننے کے خواہش مند ’’حیاتِ شبلی‘‘ سے علمی و ادبی حظ اٹھا سکتے ہیں۔ عرضِ مترجم کی محدود گنجائش کے پیشِ نظر شبلیؒ کے مختصر تعارف، آپؒ کے معتقدین اور منتقدین کے رویہ افراط و تفریط کی تفہیم، اور اس بابت درست سمت کی نشاندہی کے لیے ’’حیاتِ شبلی‘‘ سے کچھ اقتباسات پیشِ خدمت ہیں:

’’محبت و عقیدت کی نظر جہاں مخدوموں کی بہت سی خامیوں کے دیکھنے سے قاصر رہتی ہے، وہاں بدگمانوں کی نگاہیں سب سے پہلے ان ہی پر پڑتی ہیں، اور ان کے تکرار و اعادے میں ان کو ایسی لذت ملتی ہے کہ وہ ممکن کمالات سے بھی اغماض برت جاتی ہیں۔ لیکن یہ دونوں باتیں درحقیقت نفسیاتِ فطرت کے مطابق ہیں اور اس میں معتقد و منتقد دونوں ہی معذور ہیں۔‘‘
’’مولانا کا رنگ ان قدیم علمائے دین کا نہ تھا، جن کا پاک مشغلہ صرف خانقاہوں میں رشد و ہدایت اور مدرسوں میں درس و تدریس ہے … بل کہ یہ عہدِ جدید کے سب سے پہلے عالم کی زندگی کے سوانح ہیں، جن میں قدیم کے ساتھ ساتھ ایسے جدید رجحانات بھی پہلو بہ پہلو ہیں جو عہدِ قدیم کی مانوس نگاہوں میں کبھی کبھی کھٹک پیدا کر دیتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے عہد میں ایک نئے دور کی بنیاد پڑی، اس لیے وہ قدیم و جدید کے ایسے سنگم بنے جس میں دونوں دریاؤں کے دھارے آکر مل گئے تھے۔ وہ ہمارے قدیم اور مذہبی علوم کے عالم بھی تھے اور جدید علوم کے بہت سے آرا و خیالات سے واقف بھی تھے، قدیم علماء کی صحبت بھی اٹھائی تھی اور جدید تعلیم کے ارکان اور جدید تعلیم یافتوں کی صحبت میں بھی رہے تھے۔ ساتھ ہی محقق بھی تھے، ادیب بھی تھے، شاعر بھی تھے، انشا پرداز بھی تھے، خطیب بھی تھے، مؤرخ بھی تھے، متکلم بھی تھے، مفکر بھی تھے، مصلح بھی تھے، سیاسی بھی تھے، ماہرِ تعلیم بھی تھے، اور نئے زمانے کے اقتضاءات اور مطالبات کے مقابلے میں بہت سی باتوں میں انقلابی بھی تھے۔ لیکن بہرحال شبلی، شبلی تھے، جنیدؒ و شبلیؒ نہ تھے۔‘‘ (حیاتِ شبلی، ص: ۶، ۷)

’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘ مطبوعہ درۃ الغواص

ترجمہ کرتے وقت میرے پیشِ نظر سن ۲۰۱۹ء میں مصر کے طباعتی ادارے ‘درۃ الغواص’ سے ’’الانتقاد‘‘ کا شایع شدہ ایڈیشن رہا ہے۔ یہ نسخہ دراصل مجموعۂ مضامینِ شبلیؒ ہے۔ ابتدا میں مقدمۂ تحقیق ہے، جس میں محققِ کتاب؛ جناب ڈاکٹر محمد اجمل ایوب اصلاحی نے ’’الانتقاد‘‘ کا سببِ تالیف، اس کے موضوعات کی ترتیب، منہج و اہمیت، ایڈیشنز، اور زیر نظر ایڈیشن کے منہجِ تحقیق پر گفتگو کی ہے۔ نیز اس مجموعے میں شامل شبلیؒ کے دو اور مضامین؛ ’’الجزیۃ والاسلام‘‘ اور ’’ملخص بحث مکتبۃ الاسکندریۃ‘‘ کا اجمالی تعارف بھی پیش کیا ہے۔

اس کے بعد ’’الانتقاد‘‘ کا متن شروع ہوتا ہے، جو حواشی سمیت تقریباً‌ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ ’’الانتقاد‘‘ کے بعد؛ ’’الجزیۃ والاسلام‘‘ اور ’’مکتبۃ الاسکندریۃ‘‘ پیش کیے گئے ہیں اور پھر ‘ضمائم’ کے عنوان سے سب سے پہلے شبلیؒ کے مجلہ ‘الہلال’ کے مدیر جرجی زیدان کو بھیجے گئے دو علمی خطوط ہیں۔ یہ دونوں خطوط مجلے کے خطوط کے لیے مختص حصے ’’باب المراسلات‘‘ میں شائع بھی ہوئے ہیں۔ کتاب؛ ’’الف لیلۃ ولیلۃ‘‘ کی تالیف کیسے عمل میں آئی؟ پہلا خط اس سوال کے جواب میں ہے، جب کہ دوسرا خط ’’عبداللہ بن مقفع‘‘ کے مسلمان ہونے کے متعلق بعض اہلِ علم میں پائے جانے والے اضطراب کی تحقیق سے متعلق ہے۔

اس کے بعد شبلیؒ اور جرجی زیدان کی باہمی خط و کتابت میں سے دو خطوط درج ہیں۔ پہلے خط میں شبلیؒ نے ’’تاریخ التمدن الاسلامی‘‘ کا نسخہ بھیجنے پر جرجی زیدان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے طرزِ تحریر اور مباحث کی پیشکش سے متعلق کچھ تجاویز دی ہیں، جب کہ دوسرے خط میں جرجی زیدان نے شبلیؒ سے اس بات کا شکوہ کیا ہے کہ انہوں نے ’’تاریخ التمدن الاسلامی‘‘ پر لکھے نقد میں ان پر ایسے جارحانہ شخصی حملے کیوں کیے ہیں؟ یہ خط ناقص ہے۔

مجموعے کے آخر میں مجلہ ‘المنار’ کے مدیر سید رشید رضا کی مولانا شبلیؒ اور ’’الانتقاد‘‘ کے بارے میں شائع ہونے والی تحریریں شامل کی گئی ہیں، جن میں ’’الانتقاد‘‘ پر رشید رضا کے لکھے مقدمے سمیت چھ تحریریں ہیں۔

’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘ کا اردو ترجمہ

اس نقد کی ضرورت و اہمیت کے بارے میں سید رشید رضا اور محققِ کتاب؛ ڈاکٹر اجمل ایوب اصلاحی نے تفصیل سے جو کچھ لکھا ہے، اس پر مزید خامہ فرسائی تکرار ہو گی۔ اس تفصیل کا اجمال یہ ہے کہ اس نقد کے ذریعے مولانا شبلیؒ اسلامی تاریخ اور خاص طور پر اس کے ابتدائی ادوار کے متعلق جرجی زیدان سمیت مستشرقین کی پھیلائی ہوئی بعض بڑی غلط فہمیوں کی اصلاح کرنا چاہتے تھے۔ چونکہ جرجی زیدان کی کتاب عربی زبان میں تھی، اس لیے مولاناؒ نے نقد کے لیے بھی عربی زبان کا انتخاب کیا تاکہ سب سے پہلے عربی زبان میں اس تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں کی فکر و نظر میں سرایت کرنے والے زہر کا تریاق ہو سکے۔ مذکورہ تاریخ کے ترکی زبان میں ترجمہ ہو جانے کے بعد اہلِ علم نے اس نقد کے بھی ترکی زبان میں ترجمہ کرنے کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی۔

میری معلومات کے مطابق تاحال جرجی زیدان کی تاریخ کے صرف پہلے حصے کا اردو ترجمہ ہوا ہے، جس کے مترجم محمد حلیم انصاری ردولوی ہیں۔ پاکستان میں اس کا پہلا ایڈیشن سن ۱۹۶۴ء میں شیخ شوکت علی اینڈ سنز، تاجران کتب، بندر روڈ، کراچی سے شایع ہوا۔ اردو ترجمہ ہو جانے کے بعد ضرورت اس امر کی تھی کہ شبلیؒ کے نقد کا بھی اردو ترجمہ ہو جاتا۔ باعثِ تعجب ہے کہ اب تک پاک و ہند میں کسی کی توجہ اس طرف مبذول نہ ہوئی تھی، جب کہ بصد افسوس موجودہ زمانے میں جابجا دیکھا جاتا ہے کہ پاک و ہند سمیت دنیا بھر میں بسنے والا اردو خوان طبقہ بھی اسلامی تاریخ کے بارے میں مستشرقین کی پھیلائی ہوئی انہی غلط فہمیوں کا شکار بل کہ ان کا پرچارک ہے اور اس نقد کے استفادے سے محروم ہے۔ بفضلہٖ تعالیٰ اس نقد کے اردو ترجمے کی ضرورت پوری کرنے کی سعادت اس مترجم کے حصے میں آئی!

چونکہ ’’الجزیۃ والاسلام‘‘ اور ’’مکتبۃ الاسکندریۃ‘‘ دونوں مضامین مولانا نے اصلاً‌ اردو زبان ہی میں لکھے تھے اور صرف ’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘ کا ترجمہ مقصود تھا، اس لیے مجموعۂ مضامین پر مشتمل ‘درۃ الغواص’ کے ایڈیشن میں سے ترجمے کے لیے میں نے ڈاکٹر محمد اجمل کا مقدمۂ تحقیق، ’’الانتقاد‘‘ کا متن بمع حواشی محقق، اور ضمائم میں سے ’’الانتقاد‘‘ کے بارے میں شبلیؒ اور جرجی کی باہمی خط و کتابت اور علامہ رشید رضا کی تحریرات کا انتخاب کیا ہے۔ نیز مقدمۂ تحقیق میں سے ’’الجزیۃ والاسلام‘‘ اور ’’ملخص بحث مکتبۃ الاسکندریۃ‘‘ کے متعلق محقق کا لکھا تعارفی نوٹ بھی اس ترجمے میں شامل نہیں کیا گیا۔

سلاست اور روانی برقرار رکھنے کے لیے حسبِ عادت الفاظ کی لغوی معنویت اور تعبیر و ترکیب کے اعتبار سے جملوں کی ساخت کی رعایت رکھتے ہوئے لفظی اردو ترجمے کی بجائے بامحاورہ ترجمانی کی کوشش کی گئی ہے۔ ذوقی اختلاف کی وجہ سے تو اصلاح و ترمیم کی گنجائش غالب و اقبال کے کلام میں بھی نکل سکتی ہے، البتہ ایسی فنی غلطی، جس کی وجہ سے عبارت کا مفہوم کچھ سے کچھ اور ہو جائے، کی اصلاح بے حد ضروری ہوتی ہے۔ ایسی اغلاط کی نشان دہی کو نہ صرف کھلے دل سے قبول کیا جائے گا بل کہ اگلے ایڈیشن میں توجہ دلانے والے کے شکریے کے ساتھ غلطی کی اصلاح کر دی جائے گی۔

اللہ تعالیٰ کے حضور دست بہ دعا ہوں کہ وہ اس کوشش کو بار آور فرمائے، اردو خوان طبقے کے لیے نافع بنائے اور اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت سے نوازے! آمین۔

وصلی اللہ وسلم علیٰ سید المرسلین نبینا محمد و علیٰ آلہ و صحبہ اجمعین۔

محمد بلال ابراہیم بربری — لیکچرار، شعبۂ علومِ اسلامیہ، اسلام آباد ماڈل کالج برائے طلباء (ڈگری)، سہالہ، اسلام آباد۔ ۴ ربیع الاول ۱۴۴۶ھ، ۱۰ اگست ۲۰۲۴ء


haris.publications@gmail.com

سیرت و تاریخ
تعارف مطبوعات

(الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۷

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۳)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۴)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

کیا سنن دارقطنی علل کی کتاب ہے؟
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

محاضراتِ فقہ (۲)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۷)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۴)
محمد سراج اسرار

’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘
محمد فہد حارث
محمد بلال ابراہیم بربری

اوقات ضائع کرنے کا موبائل فون سے بڑا راستہ کوئی نہیں
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

شب بیداری: برکتیں، انعامات اور فلاح
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت
مفتی سید انور شاہ

کاروباری خسارے: اسباب، حکمتیں اور حل
مولانا عبد المتین

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۱)
حافظ مجددی

ہماری جامعات میں اسلامی قانون کی تعلیم
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

امریکہ اور اسرائیل نے اپنی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے
پروفیسر جان میئرشائیمر
ٹکر کارلسن

مغرب — یہود مخالف کیسے بنا؟
حامد میر

ترکیہ اور اسرائیل کے دشمنی میں بدلنے والے دوستانہ تعلقات
میپ اینڈ مِتھ

بھارت: سیاسی صورتحال اور تہذیبی مسائل
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

Arab Nationalism and Its Impact on the Muslim World
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

تلاش

شماریات