۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۱)
تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کا متفقہ موقف

علماء کرام کے متفقہ بائیس دستوری نکات ۱۹۵۱ء

اسلامی دستور کے وہ بائیس نکات جو جنوری ۱۹۵۱ء میں پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندہ علماء نے متفقہ طور پر مرتب کر کے شائع کیے:

  1. اصل حاکم تشریعی و تکوینی حیثیت سے اللہ رب العالمین ہے۔
  2. ملک کا قانون کتاب و سنت پر مبنی ہوگا اور کوئی ایسا قانون نہ بنایا جا سکے گا، نہ کوئی ایسا حکم دیا جا سکے گا جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔ (تشریحی نوٹ): اگر ملک میں پہلے سے کچھ ایسے قوانین جاری ہوں جو کتاب و سنت کے خلاف ہوں تو اس کی تصریح بھی ضروری ہے کہ وہ بتدریج ایک معینہ مدت کے اندر منسوخ، یا شریعت کے مطابق تبدیل کر دیے جائیں گے۔
  3. مملکت کسی جغرافیائی، نسلی، لسانی، یا کسی اور تصور پر نہیں بلکہ ان اصول و مقاصد پر مبنی ہو گی جن کی اساس اسلام کا پیش کیا ہوا ضابطۂ حیات ہے۔
  4. اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ قرآن و سنت کے بتائے ہوئے معروفات کو قائم کرے، منکرات کو مٹائے، اور شعائرِ اسلام کے احیا و اعلا اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری اسلامی تعلیم کا انتظام کرے۔
  5. اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانانِ عالم کے رشتۂ اتحاد و اخوت کو قوی سے قوی تر کرنے اور ریاست کے مسلم باشندوں کے درمیان عصبیتِ جاہلیہ کی بنیادوں پر نسلی و لسانی، علاقائی یا دیگر مادی امتیازات کے ابھرنے کی راہیں مسدود کر کے ملتِ اسلامیہ کی وحدت کے تحفظ و استحکام کا انتظام کرے۔
  6. مملکت بلا امتیاز مذہب و نسل وغیرہ تمام ایسے لوگوں کی لابدی انسانی ضروریات یعنی غذا، لباس، مسکن، معالجہ اور قیام کی کفیل ہو گی جو اکتسابِ رزق کے قابل نہ ہوں، یا نہ رہے ہوں، یا عارضی طور پر بے روزگار ہوں، یا بیماری یا دوسرے وجوہ سے فی الحال سعئ اکتساب پر قادر نہ ہوں۔
  7. باشندگانِ ملک کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو شریعتِ اسلامیہ نے ان کو عطا کیے ہیں۔ یعنی حدودِ قانون کے اندر تحفظِ جان و مال و آبرو، آزادئ مذہب و مسلک، آزادئ عبادت، آزادئ ذات، آزادئ اظہارِ رائے، آزادئ نقل و حرکت، آزادئ اجتماع، آزادئ اکتسابِ رزق، ترقی کے مواقع میں یکسانی، اور رفاہی ادارت سے استفادہ کا حق۔
  8. مذکورہ بالا حقوق میں سے کسی شہری کا کوئی حق اسلامی قانون کی سندِ جواز کے بغیر کسی وقت سلب نہ کیا جائے گا۔ اور کسی جرم کے الزام میں کسی کو بغیر فراہمئ موقعِ صفائی و فیصلۂ عدالت کوئی سزا نہ دی جائے گی۔
  9. مسلّمہ اسلامی فرقوں کو حدودِ قانون کے اندر پوری مذہبی آزادی حاصل ہو گی۔ انہیں اپنے پیروؤں کو اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا حق حاصل ہوگا۔ وہ اپنے خیالات کی آزادی کے ساتھ اشاعت کر سکیں گے۔ ان کے شخصی معاملات کے فیصلے ان کے اپنے فقہی مذہب کے مطابق ہوں گے اور ایسا انتظام کرنا مناسب ہوگا کہ انہی کے قاضی یہ فیصلہ کریں۔
  10. غیر مسلم باشندگانِ مملکت کو حدودِ قانون کے اندر مذہب و عبادت، تہذیب و ثقافت اور مذہبی تعلیم کی پوری آزادی حاصل ہو گی۔ اور انہیں اپنے شخصی معاملات کا فیصلہ اپنے مذہبی قانون یا رسم و رواج کے مطابق کرانے کا حق حاصل ہوگا۔
  11. غیر مسلم باشندگانِ مملکت سے حدودِ شرعیہ کے اندر جو معاہدات کیے گئے ہوں، ان کی پابندی لازمی ہوگی۔ اور جن حقوقِ شہری کا ذکر دفعہ نمبر ۷ میں کیا گیا ہے، ان میں غیر مسلم باشندگانِ ملک برابر کے شریک ہوں گے۔
  12. رئیسِ مملکت کا مسلمان مرد ہونا ضروری ہے۔ جس کے تدین، صلاحیت اور اصابتِ رائے پر جمہور یا ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد ہو۔
  13. رئیسِ مملکت ہی نظمِ مملکت کا اصل ذمہ دار ہو گا، البتہ وہ اپنے اختیارات کا کوئی جزو کسی فرد یا جماعت کو تفویض کر سکتا ہے۔
  14. رئیسِ مملکت کی حکومت مستبدانہ نہیں بلکہ شورائی ہو گی، یعنی وہ ارکانِ حکومت اور منتخب نمائندگانِ جمہور سے مشورہ لے کر اپنے فرائض انجام دے گا۔
  15. رئیسِ مملکت کو یہ حق حاصل نہ ہو گا کہ وہ دستور کو کلاً یا جزواً‌ معطل کر کے شوریٰ کے بغیر حکومت کرنے لگے۔
  16. جو جماعت رئیسِ مملکت کے انتخاب کی مجاز ہو گی، وہ کثرتِ رائے سے اسے معزول کرنے کی بھی مجاز ہو گی۔
  17. رئیسِ مملکت شہری حقوق میں عامۃ المسلمین کے برابر ہو گا اور قانونی مواخذہ سے بالاتر نہ ہو گا۔
  18. ارکان و عمّالِ حکومت اور عام شہریوں کے لیے ایک ہی قانون و ضابطہ ہو گا اور دونوں پر عام عدالتیں ہی اس کو نافذ کریں گی۔
  19. محکمہ عدلیہ، محکمہ انتظامیہ سے علیحدہ اور آزاد ہوگا تاکہ عدلیہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ہیئتِ انتظامیہ سے اثر پذیر نہ ہو۔
  20. ایسے افکار و نظریات کی تبلیغ و اشاعت ممنوع ہو گی جو مملکتِ اسلامی کے اساسی اصول و مبادی کے انہدام کا باعث ہوں۔
  21. ملک کے مختلف ولایات و اقطاع مملکتِ واحدہ کے اجزاءِ انتظامی متصور ہوں گے۔ ان کی حیثیت نسلی، لسانی یا قبائلی واحدہ جات کی نہیں بلکہ محض انتظامی علاقوں کی ہو گی، جنہیں انتظامی اختیارات کے پیش نظر مرکزی سیادت کے تابع انتظامی اختیارات سپرد کرنا جائز ہوگا، مگر انہیں مرکز سے علیحدگی کا حق حاصل نہ ہو گا۔
  22. دستور کی کوئی ایسی تعبیر معتبر نہ ہو گی جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔

دستوری سفارشات رپورٹ ۱۹۵۲ء پر علماء کرام کی ترمیمات و اضافہ جات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

جنوری ۱۹۵۱ء میں تمام اسلامی فرقوں اور گروہوں کے معتمد علیہ علماء کا جو اجتماع دستورِ اسلامی کے مسائل پر غور کرنے کے لیے کراچی میں منعقد ہوا تھا، اس کے مرتب کردہ ۲۲ اصول ’’اسلامی مملکت کے بنیادی اصول‘‘ کے نام سے منظر عام پر آ چکے ہیں اور بفضلِ خدا مسلم پبلک میں قبولِ عام بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ابتداء میں یہ خیال تھا کہ کسی قریبی وقت میں دوبارہ یہ اجتماع منعقد کر کے ان اصولوں کے مطابق ایک دستور کا خاکہ بھی مرتب کر دیا جائے۔ لیکن بعد میں یہی مناسب سمجھا گیا کہ مجلس دستور ساز کی مقرر کردہ بنیادی اصولوں کی کمیٹی جب اپنی رپورٹ پیش کرے، اس وقت ہی یہ اجتماع منعقد کیا جائے اور اس رپورٹ کو مدارِ بحث بنا کر جس قسم کی اصلاحات اس میں ضروری سمجھی جائیں، کر دی جائیں۔ چنانچہ ۲۲ دسمبر ۱۹۵۲ء کو جب مجلس دستور ساز میں مذکورہ بالا رپورٹ پیش ہو گئی تو اس اجتماع کے دوبارہ منعقد کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا اور اس میں شرکت کے لیے انہی اصحاب کو دعوت دی گئی جو جنوری ۱۹۵۱ء کے اجتماع میں مدعو تھے۔

۱۱ جنوری ۱۹۵۳ء کو کراچی میں یہ اجتماع منعقد ہوا اور ۱۸ جنوری تک ۹ اجلاس مختلف اوقات میں حسبِ ذیل اصحاب کے زیر صدارت منعقد ہوئے: حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب۔ حضرت مولانا سید سلیمان صاحب ندوی۔ حضرت مولانا ابوالحسنات صاحب۔ حضرت مولانا داؤد غزنوی صاحب۔ حضرت مولانا ظفر احمد صاحب عثمانی۔

ان اجلاسوں میں پوری رپورٹ پر غور کیا گیا۔ اگرچہ مدارِ بحث مذکورہ بالا رپورٹ کا مستند اردو ترجمہ رہا، جو حکومتِ پاکستان کی طرف سے شائع ہوا تھا، لیکن چونکہ ترجمہ میں بکثرت نقائص تھے اس لیے رپورٹ کے مصنفین کا منشاء سمجھنے کے لیے اصل انگریزی رپورٹ کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا۔

اجتماع کی کارروائی میں بڑی سہولت ہو جاتی اگر مجلس دستور ساز کے قائم کیے ہوئے تعلیماتِ اسلامیہ بورڈ کی تجاویز بہم پہنچ جاتیں۔ لیکن افسوس ہے کہ مجلس دستور ساز کے صدر نے اس اجتماع کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع دینا پسند نہیں کیا۔

الحمد للہ کہ اس اجتماع میں تمام فیصلے بالاتفاق کیے گئے ہیں جنہیں اطلاعِ عام کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔

ترمیمات

مملکت کی پالیسی کے رہنما اصول

اسلامی طرزِ زندگی کا مروِّج نظامِ تعلیم

پیراگراف ۲ شق (۲) ضمن (الف):

رپورٹ میں اس ضمن کی موجودہ عبارت سے یہ گنجائش نکلتی ہے کہ حکومت نظامِ تعلیم کو سابق انگریزی دور کی بنیادوں پر برقرار رکھتے ہوئے صرف اس امر کی کوشش کرے کہ مسلمانوں کے لیے بس قرآن مجید کی تعلیم لازم کر دے۔ اور مسلمانوں کو یہ بتانے کے لیے کہ کس قسم کی زندگی قرآن مجید اور سنتِ رسول کے مطابق ہوتی ہے، دینیات کا ایک کورس مقرر کر دے۔ لیکن یہ انتظام کسی طرح بھی تعلیم اور تربیت کی ان خرابیوں کو دور کرنے کے لیے کافی نہیں ہے جو سابق ملحدانہ نظامِ تعلیم کے بدولت پیدا ہو رہی تھیں۔ لہٰذا ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس ضمن کے موجودہ الفاظ کو حسبِ ذیل الفاظ سے بدل دیا جائے:

’’مسلمانوں کے لیے قرآن مجید اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے اور ملک کے نظامِ تعلیم میں ایسی اصلاحات کی جائیں جن سے مسلمان اپنی زندگی کو قرآن مجید اور سنتِ رسول کے مطابق ڈھالنے کے قابل ہو سکیں۔‘‘

فواحش کا سدِباب

پیراگراف ۲ شق (۲) ضمن (ب): 

اس ضمن میں رپورٹ کی موجودہ تجویز دو لحاظ سے ناقص ہے: ایک یہ کہ وہ صرف شراب خوری کو ممنوع کرتی ہے، نہ کہ شراب فروشی اور شراب سازی وغیرہ کو بھی، اور دوسرے مسکرات کے بارے میں خاموش ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ شراب، جوئے اور عصمت فروشی کے انسداد کے لیے کسی مدت کا تعین نہیں کرتی، جس سے اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی مملکت پاکستان میں یہ فواحش غیر معین مدت تک جاری رہیں گے۔ لہٰذا ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کی موجودہ عبارت کی جگہ یہ عبارت رکھی جائے:

’’ہر قسم کی مسکرات، جوئے اور عصمت فروشی کا تاریخِ نفاذِ دستور سے زیادہ سے زیادہ تین سال کے اندر قانون سازی کے ذریعہ مکمل انسداد کیا جائے۔‘‘

خلافِ اسلام قوانین کی تبدیلی 

پیراگراف ۲ شق (۴): 

اس شق میں رپورٹ کے مصنفین نے موجودہ قوانینِ ملکی کو کتاب و سنت کے مطابق تبدیل کرنے کے لیے کسی مدت کا تعین نہیں کیا ہے۔ جس سے یہ اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ نفاذِ دستور سے پہلے کے خلافِ اسلام قوانین غیر معین مدت تک ملک میں نافذ رہیں گے، حالانکہ یہ قابلِ برداشت نہیں ہے۔ اس لیے ہم اس شق کو بدل کر حسبِ ذیل صورت میں رکھنا ضروری سمجھتے ہیں:

شق (۴) ضمن (الف): ’’موجودہ قوانین کو پانچ سال کے اندر کتاب و سنت کے مطابق تبدیل کر دینے کا مناسب انتظام کیا جائے۔‘‘
شق (۴) ضمن (ب): ’’قرآن پاک اور سنت کے وہ احکام جو قانونی صورت میں نافذ کیے جا سکتے ہیں ان کی تدوین و تنفیذ کے لیے مناسب کارروائی کی جائے۔ البتہ کوئی قانون جو مسلمانوں کے شخصی معاملات سے متعلق ہو، ہر فرقے کے لیے کتاب و سنت کے اس مفہوم کی روشنی میں بنایا جائے گا جو اس کے نزدیک مستند ہو۔ اور کوئی فرقہ دوسرے فرقے کی تعبیر کا پابند نہ ہو گا۔ نہ کوئی قانون ایسا بنایا جائے گا جس سے کسی فرقے کے مراسم و فرائضِ مذہبی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہو۔‘‘

بلا امتیازِ مذہب و قوم بنیادی ضروریات 

پیراگراف ۲ شق (۶):

اس شق کی موجودہ عبارت کے بجائے ہمارے نزدیک یہ عبارت مناسب ہو گی: 

’’مملکت کی کوشش ہونی چاہیے کہ بلا امتیاز مذہب و ملت پاکستان کے تمام شہریوں کے لیے کھانے، کپڑے، مکان، تعلیم اور طبی امداد جیسی بنیادی ضروریاتِ زندگی کا انتظام کرے۔ خصوصاً‌ ان کے لیے جو بیروزگاری، کمزوری، بیماری، یا ایسی ہی کسی دوسری وجہ سے عارضی یا مستقل طور پر اپنی روزی کمانے کے قابل نہ ہوں۔‘‘

معاشی پالیسی اسلام کے اصولوں پر 

پیراگراف ۲ شق (۷):

اس شق میں اس امر کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ مملکت کی معاشی پالیسی اسلام کے اصولِ عدل پر مبنی ہو گی۔ اس لیے موجودہ عبارت کی جگہ یہ عبارت ہونی چاہیے:

’’مملکت کی معاشی پالیسی اسلام کے اصولِ عدلِ عمرانی پر مبنی ہونی چاہیے اور بلا امتیاز مذہب، نسل یا رنگ عوام کی ہر قسم کی بہبودی کا انتظام کیا جائے اور اس پر اس طرح عملدرآمد ہونا چاہیے کہ‘‘

مزدوروں اور کسانوں کے حقوق 

پیراگراف ۲ شق (۷) ضمن (ج):

اس شق میں اگرچہ مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کا مفہوم بہت وسیع ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ محنت پیشہ اور زراعت پیشہ لوگوں کے معاوضوں کا معاملہ اتنی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کا الگ ذکر کر دینا اور اس امر کی صراحت کرنا ضروری ہے کہ ملک میں اس طبقہ کے معاوضوں کا معیار کم از کم اس حد تک پر رکھا جائے گا کہ ان کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں۔ لہٰذا ہماری رائے میں موجودہ عبارت کی جگہ یہ عبارت ہونی چاہیے:

’’مزدوروں اور کسانوں کے حقوق اور معاوضوں کا ایسا منصفانہ معیار مقرر کیا جائے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہیں اور ان سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جا سکے۔‘‘

تعصبات کا خاتمہ

پیراگراف ۲ شق (۱۰):

اس شق میں رپورٹ کی موجودہ عبارت ناقص ہے اور یہ نقص خصوصیت کے ساتھ نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ لسانی تعصبات کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ لہٰذا ہمارے نزدیک اس کو حسبِ ذیل عبارت سے بدلنا چاہیے:

’’مملکت کے لیے لازم ہونا چاہیے کہ وہ پاکستانی مسلمانوں میں سے جغرافیائی، قبائلی، نسلی اور لسانی، اور اسی قسم کے دوسرے غیر اسلامی جذبات دور کرنے؛ اور ان میں یہ جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرے کہ وہ ملتِ اسلامیہ کی سالمیت، وحدت و استحکام اور اس طرز فکر کے لوازمات؛ اور اس مقصد کو سب سے مقدم رکھیں جس کی تکمیل کے لیے پاکستان قائم ہوا تھا۔

https://iili.io/CzlUADG.jpg

(جاری)

دستور و قانون

(الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۷

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۳)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۴)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

کیا سنن دارقطنی علل کی کتاب ہے؟
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

محاضراتِ فقہ (۲)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۷)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۴)
محمد سراج اسرار

’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘
محمد فہد حارث
محمد بلال ابراہیم بربری

اوقات ضائع کرنے کا موبائل فون سے بڑا راستہ کوئی نہیں
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

شب بیداری: برکتیں، انعامات اور فلاح
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت
مفتی سید انور شاہ

کاروباری خسارے: اسباب، حکمتیں اور حل
مولانا عبد المتین

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۱)
حافظ مجددی

ہماری جامعات میں اسلامی قانون کی تعلیم
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

امریکہ اور اسرائیل نے اپنی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے
پروفیسر جان میئرشائیمر
ٹکر کارلسن

مغرب — یہود مخالف کیسے بنا؟
حامد میر

ترکیہ اور اسرائیل کے دشمنی میں بدلنے والے دوستانہ تعلقات
میپ اینڈ مِتھ

بھارت: سیاسی صورتحال اور تہذیبی مسائل
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

Arab Nationalism and Its Impact on the Muslim World
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

تلاش

شماریات