غزالی کے اصولِ تعبیر
تمہید
اس کتاب کے گزشتہ حصے میں ہم نے نظریۂ ارتقا سے متعلق مابعد الطبیعیاتی مسائل کا جائزہ لیا تھا اور یہ دیکھا تھا کہ اشعری نقطۂ نظر سے ان مسائل کا جواب کس طرح دیا جا سکتا ہے۔ ہماری بحث کا حاصل یہ تھا کہ جب ان مسائل کو اشعری فکری فریم ورک میں رکھ کر ضروری توضیحات اور علمی باریکیوں کے ساتھ دیکھا جائے تو ان میں سے کوئی مسئلہ بھی کوئی ایسا سنگین اعتراض پیدا نہیں کرتا جس کا اطمینان بخش جواب نہ دیا جا سکے۔
کتاب کے اس آخری حصے میں ہم بحث کے نصوصی پہلوؤں کا تجزیہ کریں گے، جہاں نظریۂ ارتقا کو قرآن اور احادیث کی تعلیمات کے بالمقابل رکھ کر دیکھا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے یہ باب غزالی کی تحریروں سے نصوص کی تعبیر و تفسیر کے ان اصولوں کو نمایاں کرنے کی کوشش کرے گا جو ہماری بحث سے متعلق ہیں۔
یہ کام بظاہر جتنا آسان دکھائی دیتا ہے، حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ دشوار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غزالی سے منسوب کوئی ایسا قابلِ ذکر تفسیری ذخیرہ موجود نہیں—یا کم از کم ایسا ذخیرہ ہم تک نہیں پہنچا جو وقت کی کسوٹی پر قائم رہا ہو۔ اس لیے ہمیں ان کی مختلف تصانیف اور رسائل سے استفادہ کرنا ہوگا، جن میں انہوں نے اپنے اصولِ تعبیر کو مختلف مقامات پر بیان کیا ہے۔ بعد ازاں انہی اصولوں کو نظریۂ ارتقا کے تناظر میں اسلامی نصوص کی تعبیر پر منطبق کیا جا سکے گا (Hourani 1984; Griffel 2009)۔
تاہم اس طریقۂ کار کے ساتھ ایک اہم دشواری یہ بھی پیش آتی ہے کہ غزالی کی ہر تصنیف کے سیاق و سباق کو درست طور پر سمجھا جائے اور یہ متعین کیا جائے کہ وہ کسی خاص کتاب میں کس علمی حیثیت سے گفتگو کر رہے ہیں۔ جیسا کہ اس کتاب کے تعارف میں واضح کیا گیا ہے، غزالی کی فکر کو کسی ایک متعین خانے میں رکھنا بعض اوقات خاصا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ ان کی تحریروں میں مختلف نوعیت کے علمی اسالیب اور مباحث پائے جاتے ہیں۔ کہیں وہ ایک متکلم کی حیثیت سے لکھتے ہیں، کہیں فقیہ کے طور پر، اور بعض مقامات پر ایک صوفی مفکر کی حیثیت سے اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
ان مختلف علمی حیثیتوں کے فرق کو یوں سمجھا جا سکتا ہے: ایک متکلم کی بنیادی دلچسپی عقائد اور ایمانی تصورات کی توضیح اور ان کے دفاع سے ہوتی ہے۔ اس علمی مباحثے کا ایک اہم حصہ یہ متعین کرنا بھی ہے کہ کون سا عقیدہ اہلِ سنت کے مسلمہ دائرے میں آتا ہے، کون سا انحراف یا بدعت کے زمرے میں شمار ہوتا ہے، اور کون سا قول کفر قرار پاتا ہے۔
اس کے برعکس ایک فقیہ کی توجہ بنیادی طور پر قانونی اور شرعی مسائل پر مرکوز ہوتی ہے۔ فقہی بحث میں اصولی اخلاقیات اور عملی اخلاقیات، دونوں کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ اسلامی تناظر میں اس عمل کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے بنیادی نصوص، یعنی قرآن اور حدیث، سے فقہی اصول اخذ کیے جائیں اور ایسا منہج تشکیل دیا جائے جسے مختلف حالات اور مسائل پر یکساں اور منظم انداز میں منطبق کیا جا سکے۔ اس دائرے میں شخصی عبادات، مثلاً نماز اور روزے کے احکام، بھی شامل ہیں اور روزمرہ زندگی کے معاملات، مثلاً وصیت اور مالی لین دین سے متعلق قوانین بھی۔
ایک صوفی مفکر کی بنیادی توجہ معرفتِ الٰہی کے حصول پر ہوتی ہے۔ اس تصور کے مطابق دعاؤں، اذکار اور عبادات کے ذریعے انسان روحانی مدارج طے کر سکتا ہے اور خدا کی ایسی معرفت حاصل کر سکتا ہے جو محض عقلی استدلال اور حسی ادراک کی حدود سے ماورا ہوتی ہے۔
ان علمی حیثیتوں کے باہمی فرق کی وجہ سے ہر قسم کے مباحثے میں زور، موضوعات کی نوعیت، دائرۂ بحث، زبان اور طریقۂ استدلال مختلف ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اہلِ علم نے غزالی کے وسیع علمی ذخیرے میں بظاہر پائی جانے والی داخلی کشمکشوں اور تناؤ کی نشان دہی کی ہے (Gianotti 2000; Moosa 2005; Griffel 2009)۔
چونکہ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ متعین کرنا ہے کہ اسلام اور نظریۂ ارتقا کس حد تک ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتے ہیں، اس لیے یہاں ہماری توجہ بنیادی طور پر غزالی کی حیثیتِ متکلم پر مرکوز رہے گی۔ دوسرے لفظوں میں، اصل سوال یہ ہے کہ اعتقادی نقطۂ نظر سے نظریۂ ارتقا اسلامی نصوص کے ساتھ کس حد تک مطابقت رکھتا ہے؟
یہ طرزِ تحقیق خاصا معقول معلوم ہوتا ہے، کیونکہ کسی عقیدے کو دین کا لازمی حصہ قرار دینے کے لیے نص کے ثبوت اور اس کی دلالت، دونوں میں نہایت اعلیٰ درجے کی قطعیت درکار ہوتی ہے۔ ان دونوں پہلوؤں کی وضاحت آگے چل کر کی جائے گی۔ اس سخت علمی معیار کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اگر اسلامی نصوص حضرت آدمؑ کی تخلیق کی مخصوص تفصیلات کے بارے میں پوری طرح واضح نہیں ہیں، اور یہی اس پوری بحث کا سب سے اہم پہلو ہے، تو یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ اسلام اور نظریۂ ارتقا لازماً ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔
البتہ اگر کسی واضح نص کو ایسی تاویل پر محمول کیا جائے جس کی خود نص میں کوئی گنجائش یا بنیاد موجود نہ ہو تو ایسی تعبیر اعتقادی اعتبار سے مسئلہ بن جاتی ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ غزالی کے نزدیک کسی تعبیر کے اعتقادی طور پر قابلِ قبول یا ناقابلِ قبول ہونے کے مختلف درجات ہیں۔ اس کا انتہائی درجہ وہ ہے جہاں کوئی تعبیر انسان کو دائرۂ اسلام سے خارج کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی مسلمان اسلامی نصوص سے شرک کا مفہوم اخذ کرے، حالاں کہ ان میں بار بار نہایت واضح اور غیر مبہم انداز میں خالص توحید کا اثبات کیا گیا ہے، تو ایسی تعبیر اسے دائرۂ اسلام سے خارج کرنے کا موجب بن سکتی ہے۔
اس کے مقابلے میں نسبتاً کم سنگین صورت یہ ہے کہ کوئی مسلمان ایسی آیت کی مجازی تعبیر کرے جس کا تعلق ایمان کے بنیادی عقائد سے نہ ہو۔ ایسی صورت میں اس پر کفر یا خروج از اسلام کا حکم عائد نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ غزالی کے اصولِ تعبیر میں اس بات کا فیصلہ کہ کوئی تعبیر اعتقادی طور پر قبول کی جا سکتی ہے یا نہیں، اس امر پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ متعلقہ مسئلہ دین کے بنیادی امور سے تعلق رکھتا ہے یا ثانوی امور سے۔
اس باب کی ترتیب درج ذیل ہوگی۔ پہلے حصے میں ہم غزالی کے ایک مختصر رسالے، تاویل کا کلی قانون "قانون التاویل" (آئندہ اسے کلی قانون کہا جائے گا) کا جائزہ لیں گے، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ عقل اور وحی کے باہمی تعلق کی بحث کو کس طرح مرتب کرتے ہیں۔ اس سے ہمیں ان کے اصولِ تعبیر کو اس کے درست علمی سیاق میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔
دوسرے حصے میں اس بات پر گفتگو ہوگی کہ غزالی سائنس اور قرآن کے باہمی تعلق کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے اس موضوع پر اپنی کتاب "جواہر القرآن" (آئندہ اسے جواہر کہا جائے گا) میں مختصر بحث کی ہے۔
تیسرے حصے میں یہ واضح کیا جائے گا کہ غزالی اپنے اعتقادی فریم ورک کے اندر تعبیر و تاویل کو کس طرح سمجھتے ہیں۔ اس بحث سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ اسلامی نصوص کی تعبیر کرتے ہوئے ان کے نزدیک کون سے اعتقادی امور داؤ پر لگ سکتے ہیں۔
چوتھے حصے میں غزالی کے منہجِ تعبیر کے عملی مراحل کا جائزہ لیا جائے گا۔ اپنی کتاب اسلام اور زندقہ کے درمیان امتیاز کا فیصلہ کن معیار"فيصل التفرقة بين الإسلام والزندقة" (آئندہ اسے معیار کہا جائے گا) میں وہ لفظی اور غیر لفظی تعبیرات کے درمیان فرق قائم کرتے ہیں۔ جیسا کہ آگے واضح ہوگا، وہ اسلامی نصوص کو سمجھنے کے پانچ مختلف درجات بیان کرتے ہیں۔
پانچویں اور آخری حصے میں ایک متکلم کی حیثیت سے غزالی کے اصولِ تعبیر میں احادیث کے کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس حصے میں یہ بھی واضح کیا جائے گا کہ مختلف علمی تخصصات رکھنے والے اہلِ علم احادیث کے معاملے میں مختلف نوعیت کی احتیاط اور حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم دیکھیں گے، متکلمین، فقہا، محدثین اور صوفیا، احادیث کی جانچ اور ان کے اطلاق کے لیے یکساں علمی و معرفتی معیارات اختیار نہیں کرتے۔
اس فرق کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ اس سے واضح ہوگا کہ غزالی کا اعتقادی نقطۂ نظر، فقیہ اور صوفی مفکر کی حیثیت سے ان کے نقطۂ نظر سے کس طرح مختلف اور ممتاز ہے۔ مجموعی طور پر یہ باب، باب 10 میں نظریۂ ارتقا سے متعلق قرآنی آیات اور احادیث کو سمجھنے اور ان کی تعبیر متعین کرنے میں ہماری رہنمائی کرے گا۔ اس سے بھی بڑھ کر، یہ بحث ہمیں یہ جاننے میں مدد دے گی کہ باب 4 میں زیرِ بحث آنے والی مختلف آرا سے غزالی کہاں اور کس بنیاد پر اتفاق یا اختلاف کر سکتے ہیں۔
عقل اور وحی
غزالی کلی قانون میں عقل اور وحی کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے حوالے سے پانچ مختلف مواقف بیان کرتے ہیں، اگرچہ وہ یہ واضح نہیں کرتے کہ ان میں سے ہر موقف سے ان کی مراد کون سے مخصوص افراد یا گروہ ہیں۔¹ ان مواقف کو ایک تدریجی سلسلے کی صورت میں ترتیب دیا جا سکتا ہے، جیسا کہ اصل کتاب کے صفحہ 259 پر موجود جدول میں دکھایا گیا ہے۔
بائیں جانب سے آغاز کریں تو پہلا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو وحی کی مطلق حاکمیت کے قائل ہیں۔ غزالی واضح کرتے ہیں کہ اس گروہ کے افراد نصوص میں اس قدر منہمک اور ان سے اس حد تک وابستہ ہوتے ہیں کہ وہ عقل کو رد کرنے پر بھی آمادہ ہو جاتے ہیں، خواہ اس کے نتیجے میں تناقض ہی کیوں نہ تسلیم کرنا پڑے: “شاید وہ یہ کہنے سے بھی نہ ہچکچائیں کہ کسی شخص کا بیک وقت دو مقامات پر موجود ہونا خدا کی قدرت میں ہے” (Al-Ghazālī 1998, 49)۔
جیسا کہ باب 6 میں بیان ہو چکا ہے، غزالی کے نزدیک منطقی محالات کو واقع کرنا خدا کی قدرت کے دائرے میں نہیں آتا۔ چونکہ ایک شخص کا بیک وقت دو مقامات پر موجود ہونا منطقی تناقض کو مستلزم ہے، اس لیے خدا کے لیے بھی ایسا کرنا ناممکن ہے۔ نتیجتاً نص کی ایسی تعبیر بھی اصولِ تعبیر کے اعتبار سے ناممکن قرار پاتی ہے۔ اس موقف کے حامی وحی کو اس قدر بالادست حیثیت دیتے ہیں کہ اگر نص میں ایسی کوئی بات مذکور ہو تو وہ اسے بھی قبول کر لیں گے۔
دوسرا گروہ، یعنی عقل کی مطلق حاکمیت کے قائل، اس سلسلے کے بالکل دوسرے سرے پر واقع ہے۔ اس موقف میں عقل کو مکمل بالادستی حاصل ہوتی ہے اور وہ وحی کی تعبیر کو پوری طرح اپنے تابع رکھتی ہے:
انہوں نے اپنی تحقیق کو عقل تک محدود رکھا اور نصوص کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی۔ اگر نصوص میں کوئی ایسی بات سنتے جو ان کی عقل کے موافق ہوتی تو اسے قبول کر لیتے، لیکن اگر کوئی بات ان کی عقل سے متصادم ہوتی تو دعویٰ کرتے کہ یہ ان امور میں سے ہے جنہیں انبیا نے محض تصوراتی انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک انبیا کو عام لوگوں کی ذہنی سطح پر اتر کر بات کرنا پڑتی تھی، اور کبھی ایسا بھی ضروری ہوتا تھا کہ وہ کسی حقیقت کو اس انداز سے بیان کریں جو نفسِ امر کے مطابق نہ ہو۔ چنانچہ جو بات بھی ان کی عقل کے موافق نہ ہوتی، وہ اسی طرح اس کی تاویل کر دیتے۔ انہوں نے عقل پسندی میں اس قدر غلو کیا کہ کفر تک جا پہنچے، کیونکہ مصلحتِ عامہ کے نام پر انہوں نے انبیا، علیہم الصلاۃ والسلام، کی طرف خلافِ واقع بات منسوب کی (Al-Ghazālī 1998, 49)۔
غزالی اس مخصوص تصنیف میں یہ واضح نہیں کرتے کہ اس گروہ کے لوگ کس نوعیت کی آرا رکھتے تھے۔ تاہم قرینِ قیاس ہے کہ ان کا اشارہ مسلم فلاسفہ کی طرف ہے، یعنی ان مفکرین کی طرف جو ابن سینا کی طرح یونانی فلسفیانہ روایت کی پیروی کرتے تھے، جن پر انہوں نے اپنی معروف تنقیدی تصنیف "تہافت الفلاسفہ" میں نقد کیا ہے۔ اس کتاب میں غزالی مسلم فلاسفہ کے اختیار کردہ سترہ مسائل کو بدعت و انحراف کے زمرے میں شمار کرتے ہیں، جبکہ تین مسائل کو کفر کا موجب قرار دیتے ہیں۔ ان میں عالم کے ازلی ہونے کا عقیدہ، جسمانی حشر کا انکار، اور یہ نظریہ شامل ہے کہ خدا کو جزئیات کا علم نہیں (Al-Ghazālī 2000a)۔
بالخصوص نصوص اور نظریۂ ارتقا سے متعلق ہماری بحث کے تناظر میں، معجزات کے بارے میں فلاسفہ کے موقف پر غزالی کی تنقید خاص اہمیت رکھتی ہے۔ غزالی کے نظریۂ عادت اور سببیت میں معجزات کا وقوع ممکن ہے، جیسا کہ باب 6 میں بیان ہو چکا ہے۔ لیکن بعض لوگ انہیں اس لیے رد کر سکتے ہیں کہ وہ ان کے مابعد الطبیعیاتی فریم ورک سے مطابقت نہیں رکھتے۔ جیسا کہ باب 4 میں زیرِ بحث آ چکا ہے، غزالی ابن سینا پر اس وجہ سے تنقید کے لیے مشہور ہیں کہ وہ معجزات کے امکان کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ ابن سینا کے فکری فریم ورک کا ایک بنیادی تصور یہ ہے کہ قوانینِ فطرت اٹل اور غیر متغیر ہیں، اور یہ تصور معجزات کے امکان کی نفی کرتا ہے (Richardson 2020)۔ اسی بنا پر انہوں نے اسلامی نصوص میں مذکور معجزات کی مجازی تعبیر کی۔ معجزات کے بارے میں ابن سینا کے موقف کا خلاصہ غزالی یوں بیان کرتے ہیں:
جو شخص فطرت کے معمول کے طریقوں کو لازمی اور غیر متغیر قرار دیتا ہے، وہ ان تمام معجزات کو ناممکن سمجھتا ہے۔ چنانچہ فلاسفہ نے قرآن میں مردوں کو زندہ کیے جانے کے بیان کی مجازی تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد علم کی زندگی کے ذریعے جہالت کی موت کا خاتمہ ہے۔ اسی طرح انہوں نے عصا کے جادوگروں کے جادو کو نگل جانے کی یہ تعبیر کی کہ اس سے مراد وہ خدا کی حجت ہے جو موسیٰ کے ہاتھ پر ظاہر ہوئی اور جس نے خدا کے منکروں کے شبہات کو باطل کر دیا۔ جہاں تک شقِ قمر کا تعلق ہے، وہ اکثر اس واقعے کے وقوع ہی سے انکار کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کے بارے میں کوئی صحیح، متواتر اور یقینی روایت موجود نہیں (Al-Ghazālī 2000a, 163)۔
ایسے دعووں کے جواب میں غزالی کہتے ہیں:
ہم ان کے اس انکار کو رد کرتے ہیں کہ عصا کا سانپ بن جانا، مردوں کا دوبارہ زندہ ہونا اور اسی نوع کے دیگر معجزات ممکن نہیں۔ اسی بنا پر اس مسئلے میں تفصیلی بحث ضروری ہو جاتی ہے، تاکہ معجزات کا اثبات کیا جا سکے اور ایک دوسرے اہم مقصد کی تائید بھی ہو، یعنی اس بات کی حمایت جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے (Al-Ghazālī 2000a, 165)۔
یہاں ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ غزالی کے نزدیک اسلامی نصوص میں مذکور معجزات کا انکار یا ان کی ازسرِنو مجازی تعبیر درست نہیں، کیونکہ یہ واقعات منطقی طور پر ممکن ہیں اور اسی بنا پر قدرتِ الٰہی کے دائرے میں آتے ہیں۔ یہ اس بات کی ایک نہایت واضح مثال ہے کہ کسی شخص کا اعتقادی یا مابعد الطبیعیاتی پس منظر اس کے اصولِ تعبیر کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔ متن پر پہلے سے قائم مفروضات مسلط کرنے اور متن سے اس کا مفہوم اخذ کرنے کے باہمی تعلق کو پیشِ نظر رکھنا باب 10 میں خاص طور پر اہم ہوگا، جہاں ہم ان مختلف طریقوں کا جائزہ لیں گے جن کے ذریعے لوگوں نے نظریۂ ارتقا کو اسلامی نصوص سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔
دوسرے گروہ کے ضمن میں انبیا کی صداقت و دیانت کے بارے میں غزالی کے تبصرے کو ملحوظ رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ یہ نکتہ کلی قانون میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جس کا ہم آگے چل کر تجزیہ کریں گے۔ مختصراً یہ کہ غزالی کے نزدیک بلا ضرورت کسی نص کی غیر لفظی یا مجازی تعبیر اختیار کرنا ایک سنگین اعتقادی معاملہ ہے۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے، یا یہ نتیجہ لازم آتا ہے، کہ انبیا نے خدا سے وحی پانے کے بعد اپنے مخاطبین سے کلی یا جزوی طور پر خلافِ واقع بات کہی۔ انبیا کی طرف کسی بھی نوع کا کذب منسوب کرنا غزالی کے نزدیک ایک ناقابلِ عبور حد ہے۔ اسی لیے یہ حیرت کی بات نہیں کہ غزالی دوسرے گروہ کو پہلے گروہ کے مقابلے میں زیادہ مسئلہ خیز قرار دیتے ہیں (Al-Ghazālī 1988, 49)۔
تیسرا گروہ، یعنی عقل پر زیادہ اعتماد رکھنے والے، وحی کو بھی ایک حد تک اہمیت دیتا ہے، لیکن تعبیر میں فیصلہ کن حیثیت اب بھی عقل ہی کو حاصل رہتی ہے:
تیسرے گروہ نے عقل کو بنیاد بنایا اور اس پر تفصیل سے غور کیا، لیکن نصوص کی طرف بہت کم توجہ دی۔ چنانچہ ان کا سامنا ان مقامات سے نہیں ہوا جو پہلی نظر اور ابتدائی تاثر میں باہم متناقض، ایک دوسرے سے متصادم یا عقل کے خلاف دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کی تہہ تک جانے کی کوشش نہیں کی۔ البتہ جب ان کے سامنے ایسی روایات آئیں جو عقل سے متصادم معلوم ہوتی تھیں تو انہوں نے انہیں رد کر دیا، نظر انداز کر دیا یا ان کے راویوں کو جھوٹا قرار دیا۔ اس سے صرف وہ نصوص مستثنیٰ تھیں جو تواتر کے ذریعے منقول تھیں، جیسے قرآن، یا ایسی احادیث جن کے الفاظ کی تاویل آسانی سے کی جا سکتی تھی۔ جن روایات کی تاویل انہیں مشکل محسوس ہوئی، انہیں انہوں نے رد کر دیا تاکہ دور ازکار تاویلات سے بچ سکیں۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ موقف کس قدر خطرناک ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ان صحیح روایات کو بھی رد کر دیا جاتا ہے جو انہی ثقہ راویوں کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں جن کے واسطے سے اسلامی نصوص ہم تک منتقل ہوئے ہیں (Al-Ghazālī 1998, 50)۔
اس تبصرے کی کچھ وضاحت ضروری ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ غزالی اس گروہ پر دو اعتراضات کرتے ہیں۔ پہلا اعتراض محض غفلت سے متعلق ہے؛ ممکن ہے کہ انہوں نے کسی مخصوص مسئلے پر اسلامی نصوص کا پوری طرح جائزہ ہی نہ لیا ہو۔ دوسرا اعتراض خاص طور پر احادیث سے متعلق ہے۔ اس نکتے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کی تاریخی روایت اور احادیث کی تاریخی روایت کے درمیان فرق کیا جائے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن اپنی روایت کے ہر مرحلے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے ذریعے منتقل ہوا ہے کہ یہ تصور کرنا مضحکہ خیز ہوگا کہ مختلف اور ایک دوسرے سے آزاد افراد نے باہمی سازش کے تحت اس کے متن کو مرتب کیا ہو۔ اس نوع کی روایت کو تواتر کہا جاتا ہے، اور جو خبر اس طریقے سے ہم تک پہنچے اسے متواتر کہا جاتا ہے۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے براعظم انٹارکٹیکا کی مثال لی جا سکتی ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ کبھی وہاں نہیں گئے، لیکن ہمیں اس کے وجود کا علم اساتذہ، کتابوں، انٹرنیٹ، تصاویر اور معلومات کے مختلف ذرائع سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں اتنے زیادہ اور باہم مستقل ذرائع موجود ہیں کہ اس کے وجود پر شک کرنا بے معنی ہوگا۔ انٹارکٹیکا کے وجود سے متعلق ہمارا علم متواتر ہے، جبکہ وہ متعدد آزاد ذرائع جو اس علم کی تصدیق کرتے ہیں، مجموعی طور پر تواتر کہلاتے ہیں۔
اسی طرح قرآن کی صدیوں پر محیط روایت کا ایک نہایت مضبوط تاریخی ریکارڈ موجود ہے، اسی لیے مسلمانوں نے اس کی تاریخی صحت کو کبھی سنجیدہ طور پر محلِ نزاع نہیں بنایا۔ لیکن احادیث کے بارے میں یہی بات بلا تفریق نہیں کہی جا سکتی۔ احادیث مسلمانوں کے لیے قرآن کے ساتھ ایک بنیادی ماخذ ہیں، لیکن ان میں سے ہر روایت کو قرآن جیسی تاریخی مضبوطی حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اصولِ حدیث کے نام سے ایک مستقل علمی شعبہ وجود میں آیا، جس کے ذریعے مضبوط احادیث کو کمزور روایات سے الگ کیا جاتا ہے، جیسا کہ باب 3 میں اشارہ کیا جا چکا ہے۔
قرآن اور بعض احادیث متواتر ہیں، لیکن ایسی احادیث بھی موجود ہیں جو متواتر نہیں۔ انہیں آحاد کہا جاتا ہے، اور انہیں خبر واحد یا خبرِ آحاد بھی کہا جاتا ہے۔ علم و یقین کے اعتبار سے ان کا درجہ متواتر روایات سے کم ہوتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لازماً بے فائدہ یا مردود ہیں۔ محدثین نے مختلف اصولی طریقے وضع کیے ہیں جن کے ذریعے ایسی احادیث کو بھی مضبوط درجے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر متعدد احادیث ایک ہی مضمون بیان کرتی ہوں، اگرچہ ہر روایت انفرادی طور پر کمزور ہو، تو باہمی تائید کے باعث ان کی مجموعی قوت بڑھ سکتی ہے اور ان کا معرفتی درجہ بلند ہو سکتا ہے۔
اس پس منظر میں غزالی کو اس گروہ سے یہ شکایت ہے کہ جب انہیں ایسی احادیث میں کوئی بات عقل کے خلاف محسوس ہوتی ہے تو وہ یا تو انہیں فوراً رد کر دیتے ہیں، یا ان کے مفہوم کو اپنے پہلے سے قائم شدہ نظریات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، وہ ایسی احادیث کے ساتھ نہایت عجلت اور غیر محتاط انداز میں معاملہ کرتے ہیں اور ان کی جانچ کے لیے درکار اصولی و منہجی توجہ نہیں دیتے۔ احادیث کے بارے میں اس سے کہیں زیادہ تفصیل بیان کی جا سکتی ہے، اور آگے کی بحث میں ایسا کیا بھی جائے گا، لیکن اس مقام پر غزالی کے مذکورہ بیان کی وضاحت کے لیے اتنی گفتگو کافی ہے۔
چوتھا گروہ، یعنی وحی پر زیادہ اعتماد رکھنے والے، تیسرے گروہ کے بالمقابل ہے۔ اس موقف میں نصوص کو سمجھتے ہوئے عقل کو کسی حد تک پیشِ نظر تو رکھا جاتا ہے، لیکن اکثر اسے مناسب توجہ نہیں دی جاتی:
چوتھے گروہ نے نصوص کو بنیاد بنایا اور ان پر تفصیل سے غور کیا۔ وہ بڑی تعداد میں نصوص سے واقف تھے، لیکن عقل سے گریز کرتے تھے اور اس کی گہرائی میں نہیں اترتے تھے۔ عقل اور نصوص کے درمیان تعارض انہیں صرف عقلی علوم کے بعض ضمنی اور حاشیائی مسائل میں دکھائی دیتا تھا۔ تاہم چونکہ عقل سے ان کی واقفیت وسیع نہ تھی اور انہوں نے اس میں گہرا غور نہیں کیا تھا، اس لیے عقلی محالات ان پر واضح نہیں ہوتے تھے؛ کیونکہ بعض امور کا محال ہونا اسی وقت سمجھ میں آتا ہے جب متعدد مسلسل مقدمات پر مبنی نہایت دقیق اور طویل تحقیق کی جائے (Al-Ghazālī 1998, 50)۔
غزالی اس گروہ پر بنیادی اعتراض یہ کرتے ہیں کہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ بعض آیات کو عقل کے اصولوں کی روشنی میں ازسرِنو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ بعض نامعقول عقائد اختیار کر لیتے ہیں۔ غزالی چوتھے گروہ کی غلطی واضح کرنے کے لیے ان آیات کی مثال دیتے ہیں جن میں خدا کے بارے میں جہت کا تاثر دینے والے الفاظ آئے ہیں:
ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو یہ نہیں جانتا کہ خدا کا کسی جگہ میں ہونا ناممکن ہے، لہٰذا وہ 'اوپر'، 'مستوی ہونے' اور اس نوع کے دیگر تمام الفاظ کی تاویل کو غیر ضروری سمجھتا ہے جو مکان پر دلالت کرتے ہیں (Al-Ghazālī 1998, 51)۔
چونکہ کلامی و فلسفیانہ دلائل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا مکان سے ماورا ہے اور ان جدلیاتی دلائل کو پوری طرح سمجھنے میں وقت لگ سکتا ہے، اس لیے اس علم سے محرومی اس گروہ کے لوگوں کو خدا کی طرف جہت منسوب کرنے جیسی غلطیوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔
آخر میں پانچواں گروہ، یعنی اعتدال پسند، عقل اور وحی دونوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک دوسرے کے حوالے سے دونوں کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ غزالی کے مطابق جو شخص دونوں دائروں سے متعلق علوم میں مہارت رکھتا ہو، وہ تعارض کے مواقع پر نسبتاً آسانی سے مناسب تعبیر تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم غزالی کے نزدیک بعض مواقع ناگزیر طور پر ایسے پیش آتے ہیں جہاں تطبیق مشکل ہو جاتی ہے اور انسان کو درج ذیل دو صورتوں میں سے کسی ایک کا سامنا کرنا پڑتا ہے:
... ناگزیر طور پر دو ایسی صورتیں باقی رہ جاتی ہیں جن میں تاویل دشوار ہوتی ہے: پہلی وہ صورت ہے جس میں انسان کو ایسی دور ازکار تاویلات اختیار کرنا پڑتی ہیں جنہیں عقل قبول کرنے سے جھجکتی ہے؛ اور دوسری وہ صورت ہے جس میں سرے سے یہ طے نہیں ہو پاتا کہ تاویل کس طرح کی جائے... جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ ان دونوں صورتوں سے بچ نکلا ہے، اس کی وجہ یا تو عقلی علوم میں اس کی کمزوری اور عقلی محالات سے ناواقفیت ہے، جس کے باعث وہ اس چیز کو ممکن سمجھ لیتا ہے جس کے ناممکن ہونے کا اسے علم نہیں؛ یا پھر روایات کے مطالعے میں اس کی کمی ہے، جس کی وجہ سے اس کے سامنے بہت سی ایسی انفرادی روایات نہیں آتیں جو عقل سے متصادم دکھائی دیتی ہیں (Al-Ghazālī 1998, 52)۔
جو لوگ اس مرحلے تک پہنچ جائیں، غزالی انہیں تین نصیحتیں کرتے ہیں۔ پہلی نصیحت یہ ہے کہ انسان اپنی حدود کو پہچانے، اس کام میں عاجزی اختیار کرے اور یہ تسلیم کرے کہ ممکن ہے وہ ہر چیز کا علم نہ رکھتا ہو:
پہلی نصیحت یہ ہے کہ انسان ان تمام امور کو جان لینے کی خواہش نہ کرے، اور میری اس پوری گفتگو کا مقصود بھی یہی تھا۔ اس نوع کا علم ایسی چیز نہیں جس کے حصول کی حرص کی جائے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد پڑھنا چاہیے: "اور تمہیں علم میں سے بہت تھوڑا ہی دیا گیا ہے، (القرآن 17:85)۔
دوسری نصیحت یہ ہے کہ انسان عقل کی گواہی کا کبھی انکار نہ کرے، کیونکہ عقل جھوٹ نہیں بولتی۔ اگر عقل جھوٹ بول سکتی، تو ممکن تھا کہ وہ نصوص کی صداقت ثابت کرنے میں بھی جھوٹ بولتی، حالاں کہ نصوص کے برحق ہونے کا علم ہمیں عقل ہی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے (Al-Ghazālī 1998, 52)۔
اس نکتے میں غزالی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خود نصوص کی صداقت بھی عقل ہی کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ جب خدا لوگوں کی طرف انبیا بھیجتا ہے تو ان کی نبوت کی صداقت ثابت کرنے کے لیے انہیں معجزات عطا کرتا ہے، اور ان معجزات کو پہچاننے اور ان سے استدلال کرنے کے لیے عقل کا استعمال ضروری ہوتا ہے۔ لہٰذا جب نصوص کی صداقت ہی عقل کے ذریعے ثابت ہوتی ہے تو اس کے بعد عقل کی صحت پر سوال اٹھانا ایک مغالطہ ہے۔ غزالی اس سلسلے میں ایک حدیث کی مثال دیتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت کے دن موت کو ایک مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا اور پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا۔ غزالی واضح کرتے ہیں کہ موت کوئی محسوس اور مادی شے نہیں بلکہ ایک حالت ہے، اس لیے حقیقتاً اسے"قتل" یا "ذبح" نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ اس حدیث کو اس کے ظاہری مفہوم پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بجائے اس کی تعبیر یوں کی جانی چاہیے کہ آخرت کی زندگی کبھی ختم نہیں ہوگی، کیونکہ وہاں دوبارہ موت واقع نہیں ہوگی، اور مینڈھے کا ذبح کیا جانا اسی حقیقت کی علامتی نمائندگی ہے۔ اس طرح یہ طے کرنے میں کہ نصوص سے کیا معنی مراد لیے جا سکتے ہیں اور کیا نہیں، عقل ایک نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے (Al-Ghazālī 1998, 53)۔
تیسری نصیحت یہ ہے کہ جب کسی عبارت کی مختلف ممکنہ تعبیرات باہم متعارض ہوں تو کسی ایک تعبیر کو قطعی طور پر متعین کرنے سے گریز کیا جائے۔ محض گمان اور قیاس کی بنیاد پر یہ فیصلہ کرنا کہ خدا یا اس کے رسول کی مراد کیا تھی، نہایت خطرناک ہے۔ کسی متکلم کی مراد اسی وقت یقینی طور پر معلوم ہو سکتی ہے جب وہ خود اسے واضح کرے۔ اگر وہ اپنی مراد بیان نہ کرے تو اسے کیسے معلوم کیا جا سکتا ہے؟ الا یہ کہ تمام ممکنہ معانی محدود ہوں اور ان میں سے ایک کے سوا باقی سب کا بطلان ثابت ہو جائے (Al-Ghazālī 1998, 53)۔
غزالی اس نکتے پر اس لیے زور دیتے ہیں کہ مبہم نصوص کے بارے میں خدا کی مراد کا اندازہ لگانے کے اخروی نتائج ہو سکتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی خاص تعبیر کو محض ایک ممکنہ تعبیر کے بجائے قطعی اور حتمی تعبیر قرار دے دے تو ممکن ہے کہ قیامت کے دن خدا اس سے اس دعوے کے بارے میں بازپرس کرے۔ اسی لیے قیاس و گمان کی بنیاد پر کسی تعبیر کو زبردستی متعین کرنے کے مقابلے میں توقف اور تفویض زیادہ محفوظ طرزِ عمل ہے:
یہ طرزِ عمل قیامت کے دن زیادہ سلامتی کا باعث ہے، کیونکہ بعید نہیں کہ اس روز اس شخص سے اس کے فیصلوں کے بارے میں سوال کیا جائے، اسے ان کا جواب دہ ٹھہرایا جائے اور اس سے کہا جائے: ‘تم نے ہمارے بارے میں محض گمان کی بنیاد پر فیصلہ کیا تھا (Al-Ghazālī 1998, 54)۔
قرآن میں متعدد آیات ایسی ہیں جن میں یہ تصور بیان ہوا ہے کہ آخرت میں انسان کے اعمال تولے جائیں گے۔ غزالی اسے اس بات کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ بعض نصوص کی ایک سے زیادہ تعبیرات ممکن ہوتی ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے بارے میں قطعی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا:
مثال کے طور پر اگر تم پر یہ واضح ہو جائے کہ خود اعمال کو تولا نہیں جا سکتا، اور اعمال کے تولے جانے سے متعلق روایت تمہارے سامنے آئے، تو تمہیں یا تو لفظ "تولنے" کی تاویل کرنا ہوگی یا لفظ "اعمال" کی۔ ممکن ہے کہ یہاں "اعمال" کا لفظ مجازی طور پر استعمال ہوا ہو اور اس سے مراد اعمال نامے ہوں جن میں اعمال درج کیے جاتے ہیں؛ چنانچہ دراصل یہی اعمال نامے تولے جائیں گے (Al-Ghazālī 1998, 53–54)۔
دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے کہ مجازی استعمال لفظ"تولنے" میں ہو اور اس سے مراد اس کا نتیجہ، یعنی اعمال کی مقدار کا تعین ہو، کیونکہ تولنے کی حقیقت یہی ہے۔ وزن اور پیمائش، دونوں کسی چیز کی مقدار متعین کرنے کے طریقے ہیں۔
اب اگر تم عقل یا نص کی کسی دلیل کے بغیر یہ فیصلہ کر لو کہ تاویل لفظ "اعمال" کی ہونی چاہیے، نہ کہ لفظ "تولنے" کی، یا لفظ "تولنے" کی ہونی چاہیے، نہ کہ لفظ "اعمال" کی، تو تم محض اندازے کی بنیاد پر خدا اور اس کی مراد کے بارے میں فیصلہ کر رہے ہو، اور اندازہ و گمان جہالت کے مترادف ہیں۔
مختصر یہ کہ غزالی اس بات کو قابلِ قبول سمجھتے ہیں کہ بعض نصوص کی تعبیر کے بارے میں کوئی غیر قطعی موقف اختیار کیا جائے۔اس نکتے کے ضمن میں یہ بات بھی مفید ہوگی کہ غزالی اعتقادی توقف سے بھی کام لیتے ہیں، جس کا تصور باب 4 میں زیرِ بحث آ چکا ہے۔ اس سے مراد کسی مسئلے میں سرے سے فیصلہ نہ کرنا ہے، کیونکہ نصوص اس کے بارے میں خاموش ہیں۔ یہ صورت اس صورت سے مختلف ہے جس میں نص تو موجود ہیں، لیکن ان کا مفہوم مبہم ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اگر کسی معاملے کا نصوص میں ذکر ہی نہ ہو تو کوئی شخص اس کے اثبات یا نفی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
غزالی کلی قانون میں اس مسئلے پر گفتگو نہیں کرتے، لیکن اس کی ایک مثال ان کی شہرۂ آفاق تصنیف "احیاء علوم الدین" (آئندہ اسے احیاء کہا جائے گا) میں ملتی ہے۔ ایک مقام پر وہ اسلام میں کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کے تصور پر بحث کرتے ہیں۔ صغیرہ گناہ نماز اور دعا کے ذریعے معاف ہو سکتے ہیں، لیکن کبیرہ گناہوں کے باعث انسان کو ایک مدت تک جہنم کا عذاب بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
غزالی کے مطابق کسی گناہ کے کبیرہ یا صغیرہ ہونے کا قطعی علم صرف نص ہی سے حاصل ہو سکتا ہے، کیونکہ اس فرق کا تعلق اس بات سے ہے کہ ہماری روزمرہ کی فرض نمازیں آخرت میں ان گناہوں کا کفارہ بنیں گی یا نہیں۔ لہٰذا یہ ایسا فقہی حکم نہیں جس کے نتائج دنیاوی زندگی میں مرتب ہوتے ہوں اور جس کے لیے شریعت نے واضح احکام مقرر کیے ہوں، بلکہ اس کا تعلق آخرت سے ہے۔ چنانچہ اگر نصوص اس مسئلے میں خاموش ہوں تو ہمارے لیے لازم ہے کہ اس گناہ کے کبیرہ یا صغیرہ ہونے کے بارے میں فیصلہ کرنے سے رک جائیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ غزالی اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ایسے امور کا غیر واضح رہنا زیادہ بہتر ہے، کیونکہ اس بارے میں قطعی علم نہ ہونا اہلِ ایمان کو گناہوں سے زیادہ محتاط رہنے میں مدد دے سکتا ہے:
…کبیرہ گناہ سے مراد وہ گناہ ہے جس کا کفارہ، شرعی اعتبار سے، فرض نمازوں کی ادائیگی سے نہیں ہوتا۔ اس کی تین قسمیں ہیں: وہ گناہ جن کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہے کہ فرض نمازیں ان کا کفارہ نہیں بنتیں؛ وہ گناہ جن کا کفارہ فرض نمازوں سے ہو جانا چاہیے؛ اور وہ گناہ جن کے بارے میں ہمیں توقف اختیار کرنا لازم ہے۔ جن امور میں توقف کیا جاتا ہے، ان میں بعض ایسے ہیں جن کے بارے میں کفارہ ہونے یا نہ ہونے کا اثبات محض ظن پر مبنی ہوتا ہے، جبکہ بعض میں مکمل شک پایا جاتا ہے۔ اس شک کو دور کرنے کا واحد ذریعہ قرآن یا سنت کی نص ہے، اور جب ایسی کوئی نص دستیاب نہ ہو تو اس شک کو ختم کرنے کی کوشش بھی ممکن نہیں رہتی (Al-Ghazālī 2018, 23)۔
اگر یہ کہا جائے کہ اس بحث سے تو یہ لازم آتا ہے کہ کبیرہ گناہ کی تعریف جاننا ممکن نہیں، پھر شریعت کسی ایسی چیز کو کیسے موضوع بنا سکتی ہے جس کی تعریف ہی ممکن نہ ہو؟ تو یہ بات ذہن میں رکھیں کہ جن امور کا تعلق دنیاوی احکام سے نہ ہو، ان میں ابہام کی گنجائش ہوتی ہے، کیونکہ قانونی ذمہ داری اور مؤاخذے کا دائرہ دنیاوی زندگی سے ہے۔ کسی فعل کو خاص طور پر "کبیرہ گناہ" قرار دینا اس فعل سے متعلق کوئی دنیاوی حکم نہیں۔
درحقیقت جن افعال پر کوئی مقررہ شرعی سزا لازم آتی ہے، وہ اپنے نام اور نوعیت کے اعتبار سے معلوم ہیں، جیسے چوری، زنا اور اسی نوع کے دوسرے جرائم۔ اس کے برعکس کسی گناہ کے کبیرہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پانچ وقت کی نمازیں اس کا کفارہ نہیں بنتیں۔ اس مسئلے کا تعلق آخرت سے ہے، اور اس میں ابہام کا باقی رہنا زیادہ بہتر ہے، تاکہ لوگ محتاط رہیں اور گناہوں سے بچنے کی پوری کوشش کریں۔ بصورتِ دیگر وہ صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتے رہیں گے اور یہ بھروسا رکھیں گے کہ ان کی نمازیں ان گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی۔
اس طرح جن مسائل کا نصوص میں ذکر نہ ہو، ان کے بارے میں فیصلہ معطل رکھنا غزالی کے اصولِ تعبیر کا ایک اہم حصہ معلوم ہوتا ہے۔ اسی پر عقل اور وحی کے باہمی توازن سے متعلق غزالی کی بحث مکمل ہوتی ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ غزالی پانچویں، یعنی اعتدال پسند گروہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ عقل اور وحی کے درمیان مکمل اور قطعی ہم آہنگی قائم کرنے میں یہ گروہ کہاں تک جا سکتا ہے اور اس حوالے سے ان کے تحفظات کیا ہیں۔ اس مختصر جائزے سے تین اہم نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔
اول، غزالی عقل اور وحی دونوں کو اصولِ تعبیر میں نہایت اہم اور بنیادی عنصر سمجھتے ہیں۔ دوم، غزالی کے نزدیک ہر مسئلے میں کوئی قطعی جواب موجود ہونا ضروری نہیں۔ بعض اوقات یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ کسی مخصوص نص کی متعدد تعبیرات ممکن ہیں۔ جب کسی ایک تعبیر کے حق میں واضح دلیل موجود نہ ہو تو کسی خاص رائے کو زبردستی حتمی قرار دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اس اعتبار سے غزالی علمی تواضع کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ اسے آخرت کی جواب دہی سے جوڑتے ہیں۔ جب نص واضح نہ ہو تو خدا کی طرف منسوب کر کے کوئی قطعی بات کہنا آخرت میں مؤاخذے کا باعث بن سکتا ہے۔ سوم، غزالی اعتقادی توقف کو بخوشی اختیار کرتے ہیں۔ اگر نصوص کسی مسئلے کے بارے میں خاموش ہوں تو ان سے اس مسئلے کے اثبات یا نفی، کسی بھی جانب استدلال نہیں کیا جا سکتا۔
سائنس اور اصولِ تعبیر
غزالی کے اصولِ تعبیر کا ایک اور پہلو، جو ہماری بحث سے متعلق ہے، ان علوم کے بارے میں ان کا رویہ ہے جنہیں آج ہم طبعی علوم کہتے ہیں، اور یہ کہ وہ ان علوم کی روشنی میں اسلامی نصوص کو کس طرح دیکھتے تھے۔ باب 6 میں ہم نے دیکھا تھا کہ غزالی کے نظریۂ کسبِ اسباب میں طبیعی سببیت اپنی ذات میں لازمی نہیں، بلکہ قدرتی مظاہر کا ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل طور پر واقع ہونا ہے۔ اسی لیے وہ معجزات کے امکان اور واقعیت کو تسلیم کرتے ہیں، جیسا کہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں۔
تاہم غزالی کے نظریۂ علم میں طبیعی دنیا کے اندر اس مسلسل تلازم کا باقاعدہ اور مکرر مشاہدہ ایک نہایت مضبوط درجے کا یقین پیدا کرتا ہے، اور اس سے سائنس کا انکار لازم نہیں آتا۔ ان کی متعدد تحریروں میں اس مفہوم کے بیانات ملتے ہیں (Al-Ghazālī 1987, 553–554; Al-Ghazālī 2013a, 19)۔ ایک مقام پر وہ یہاں تک زور دیتے ہیں کہ دین کی بالادستی ثابت کرنے کے لیے ہیئت جیسے طبعی علوم کا انکار نہیں کرنا چاہیے:
ملحدین کے لیے سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہوتی ہے کہ دین کا کوئی مدافع یہ اعلان کر دے کہ یہ ہیئتی دلائل اور ان جیسے دوسرے حقائق دین کے خلاف ہیں۔ کیونکہ جب دین کے دفاع میں پیش کیے جانے والے ایسے دلائل کو اس کی صداقت کی شرط بنا دیا جائے تو ملحد کے لیے دین کی تردید کا راستہ آسان ہو جاتا ہے (Al-Ghazālī 2000a, 7)۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ غزالی طبعی علوم کو نہ تو دین کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی انہیں مذہب سے متصادم قرار دیتے ہیں (Malik 2021)۔ بلکہ وہ قرآن میں مذکور قدرتی مظاہر سے استدلال کرتے ہوئے متعلقہ موضوعات میں سائنسی ماہرین کی علمی حیثیت اور اختصاص کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے جواہر میں اس بات کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن کی اس آیت پر غور کیجیے: اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے (القرآن 26:80)۔ غزالی اس آیت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اس ایک فعل کی حقیقت صرف وہی شخص جان سکتا ہے جو علمِ طب سے پوری طرح واقف ہو، کیونکہ علمِ طب کا مفہوم اس کے سوا کچھ نہیں کہ بیماریوں کی تمام اقسام، ان کی علامات، ان کے علاج اور علاج کے ذرائع کا علم حاصل کیا جائے (Al-Ghazālī 2013b, 30)۔
ایک اور آیت اجرامِ فلکی کی نہایت منظم اور دقیق حرکت کی طرف اشارہ کرتی ہے: سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں (القرآن 55:5)۔ اس آیت اور اجرامِ فلکی کی حرکت سے متعلق دوسری آیات کے بارے میں غزالی لکھتے ہیں:
سورج اور چاند کے ایک مقررہ حساب کے مطابق حرکت کرنے کی حقیقی معنویت صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو آسمانوں اور زمین کی ساخت و ترکیب سے واقف ہو، اور یہ بذاتِ خود ایک علم ہے، یعنی علمِ ہیئت (Al-Ghazālī 2013b, 31)۔
ان اقتباسات سے واضح ہوتا ہے کہ غزالی سائنس مخالف نہیں تھے؛ بلکہ وہ اسلامی نصوص اور طبعی علوم کے درمیان ایک باہمی مناسبت پر مبنی، اگرچہ غیر قطعی، تعلق کے قائل تھے۔ تاہم یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ جواہر میں غزالی ان مختلف علوم کا ذکر کرتے ہیں جن سے قرآن کی معنوی گہرائیوں کو سمجھنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔ ان میں علمِ کلام، فقہ، علمِ لغت، علمِ قرات، علومِ تصوف اور طبعی علوم سمیت متعدد شعبے شامل ہیں (Al-Ghazālī 2013b, 18–28; Tamer 2015)۔ اس بنا پر غزالی کے نزدیک سائنس قرآن کو سمجھنے کے متعدد ذرائع میں سے صرف ایک ذریعہ ہے۔ اس نکتے کی وضاحت اس لیے اہم ہے کہ ایک فکری رجحان قرآن میں "سائنسی اعجاز" کا قائل ہونا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ جدید سائنسی تصورات قرآن میں براہِ راست اور بہ آسانی موجود ہیں (Guessoum 2011; Bigliardi 2014)۔ غزالی غالباً اس طرزِ فکر کی تائید نہ کرتے۔ ایک طرف سائنس کو قرآن کے متن میں زبردستی تلاش کرنے اور دوسری طرف طبعی علوم کو یکسر مسترد کر دینے کے بجائے انہوں نے دونوں کے درمیان مناسبت اور ربط کا متوازن راستہ اختیار کیا۔ قرآن انسان کو خدا کی کاریگری سمجھنے کے لیے عالمِ فطرت کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے، لیکن وہ خود سائنسی تفصیلات کی کتاب نہیں ہے (Tamer 2015, 74)۔
چونکہ خدا ہر شے کا خالق ہے اور قرآن کا ایک بڑا حصہ قارئین کو عالمِ فطرت میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، اس لیے قرآن مسلمانوں کو دنیا دیکھنے اور سمجھنے کا ایک بنیادی زاویۂ نظر فراہم کرتا ہے (Tamer 2015, 72)۔ مثال کے طور پر غزالی سورۂ فاتحہ کی ایک آیت پر غور کرتے ہوئے خدا کی رحمت کا ذکر کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ ہر جانور کو اس کے مقصد کے لیے نہایت موزوں انداز میں تخلیق کیا گیا ہے۔ شہد کی مکھی کی مثال میں وہ قاری کو چھتے کی ہندسی ساخت پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں، جو دوسری ممکنہ شکلوں کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ جگہ مہیا کرتی ہے۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: یہ خدا کی کاریگری کے عجائب اور اپنی مخلوق پر اس کے لطف و رحمت کی ایک مثال ہے(Al-Ghazālī 2013b, 52–53)۔
اسی بنا پر اطالوی محقق ماسیمو کیمپانینی بجا طور پر بجا طور پر لکھتے ہیں کہ غزالی قرآن کو تمام علوم کا ذخیرہ نہیں، بلکہ علوم تک رسائی فراہم کرنے والی رہنما کلید سمجھتے ہیں: قرآن میں 'تمام علوم' موجود نہیں، لیکن بلاشبہ اس میں وہ کلیدیں موجود ہیں جو تمام علوم تک رسائی فراہم کرتی ہیں (Campanini 2011, 35)۔ اس طرح واضح ہوتا ہے کہ غزالی کے نزدیک سائنس اور نصوص ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور دونوں ایک دوسرے کی بہتر تفہیم میں مدد دے سکتے ہیں۔
تاہم سوال یہ ہے کہ غزالی ایک طرف معجزات کو ان کے ظاہری معنی میں قبول کرتے ہیں اور دوسری طرف سائنسی مظاہر کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں، تو ان دونوں رویوں میں مطابقت کیسے قائم ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب ان کے اس منہج میں پوشیدہ ہے جس کے تحت وہ نصوص کی لفظی اور مجازی تعبیر کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ اگلے حصے میں اسی موضوع کا جائزہ لیا جائے گا۔
علمِ کلام اور اصولِ تعبیر
غزالی اپنی کتاب معیار میں یہ اصول بیان کرتے ہیں کہ اسلامی نصوص کو کن مواقع پر ظاہری و لفظی معنی میں لیا جانا چاہیے اور کن مواقع پر غیر لفظی یا مجازی تعبیر اختیار کی جا سکتی ہے۔ تاہم ان کے اس منہج کو درست سیاق میں سمجھنے کے لیے ان اعتقادی بنیادوں کا جائزہ لینا ضروری ہے جن پر یہ قائم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غزالی کے اصولِ تعبیر کو ان کے اعتقادی تصورات کی روشنی میں دیکھے بغیر پوری طرح سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔
یہ پورا رسالہ بنیادی طور پر اس سوال سے بحث کرتا ہے کہ نصوص کی تعبیر یا کسی تفسیری رائے کے باعث کسی شخص پر کفر کا حکم کب عائد کیا جا سکتا ہے، یعنی اسے دائرۂ اسلام سے خارج کب قرار دیا جا سکتا ہے۔ غزالی کے نزدیک کفر کی تعریف یہ ہے کہ کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرے۔ اس کے برعکس ایمان یہ ہے کہ انسان رسول اللہ ﷺ کی بیان کردہ حقائق کو دل کی گہرائی سے سچا تسلیم کرے (Al-Ghazālī 2002, 92)۔ چونکہ قرآن اللہ کے کلام کی حیثیت سے رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا، اور رسول اللہ ﷺ کو ایسا سچا انسان مانا جاتا ہے جس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، اس لیے نصوص کو اصولاً ان کے ظاہر اور متبادر معنی پر محمول کیا جانا چاہیے، جب تک کہ انہیں کسی دوسرے معنی میں لینے کی کوئی مضبوط دلیل موجود نہ ہو، اگرچہ اس اصول کے ساتھ بعض قیود بھی ہیں جن کی وضاحت آگے آئے گی۔
غزالی کے مطابق اگر کسی شخص کے پاس ظاہری معنی سے ہٹ کر غیر لفظی یا مجازی تعبیر اختیار کرنے کے لیے کوئی قطعی اور برہانی دلیل موجود نہ ہو تو وہ خطا کا مرتکب ہوتا ہے (Al-Ghazālī 2002, 104; Griffel 2009, 112)۔ چنانچہ اسلامی نصوص کی من مانی تعبیر، خصوصاً کسی نہایت مضبوط دلیل کے بغیر، ایک باطل طرزِ عمل ہے۔
تاہم ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ کفر کا حکم صرف اسی وقت عائد ہو سکتا ہے جب کوئی شخص ایمان کے بنیادی عقائد کی غیر لفظی یا مجازی تعبیر کرے۔ غزالی لکھتے ہیں: اگر ان کی مجازی تعبیر کا تعلق کسی ایسے مسئلے سے ہو جو عقیدے کے بنیادی اصولوں اور لازمی تقاضوں سے متعلق نہ ہو تو ہم انہیں کافر قرار نہیں دیتے (Al-Ghazālī 2002, 107)۔ یہاں فطری طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ عقیدے کے بنیادی اصول کون سے ہیں؟ غزالی تین امور کو ایمان کی بنیاد قرار دیتے ہیں: بنیادی اصول یہ ہیں کہ اللہ کے وجود، اس کے رسول کی نبوت اور یومِ آخرت کی حقیقت کو تسلیم کیا جائے (Al-Ghazālī 2002, 112)۔
غزالی کے نزدیک جب تک کوئی شخص اسلامی نصوص میں ان تینوں بنیادی عقائد کو محض استعارہ یا مجاز قرار نہیں دیتا، اس پر کفر کا حکم عائد نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ثانوی مسائل کا کیا حکم ہے؟ اس سلسلے میں غزالی ایک اہم قید کا اضافہ کرتے ہیں:
جان لو کہ اصولی طور پر کسی بھی ثانوی مسئلے میں کسی شخص کو کافر قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ اس کی صرف ایک استثنائی صورت ہے: وہ شخص کسی ایسے دینی عقیدے یا حکم کا انکار کرے جو رسول اللہ ﷺ سے معلوم ہوا ہو اور تواتر کے ذریعے ہم تک پہنچا ہو (Al-Ghazālī 2002, 112)۔
یہ نکتہ تاریخی روایت سے متعلق ہماری سابقہ بحث سے وابستہ ہے۔ قرآن اور بعض احادیث تواتر کے درجے تک پہنچی ہیں، اس لیے ان کی تاریخی صحت میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ چنانچہ اگر کوئی شخص ان کا انکار کرے تو اس پر کفر کا حکم عائد ہوگا، کیونکہ ان کا انکار دراصل رسول اللہ ﷺ کو جھوٹا قرار دینے کے مترادف ہے:
جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ رسول اللہ ﷺ نے جھوٹ کہا تھا، اسے کافر قرار دینا لازم ہے، خواہ اس کا یہ دعویٰ کسی ثانوی مسئلے ہی سے متعلق کیوں نہ ہو۔ مثال کے طور پر اگر کوئی یہ کہے کہ مکہ میں موجود یہ گھر وہ کعبہ نہیں ہے جس کا حج کرنے کا اللہ نے لوگوں کو حکم دیا ہے، تو یہ قول کفر ہوگا؛ کیونکہ یہ دعویٰ اس امر کے خلاف ہے جو رسول اللہ ﷺ سے تواتر کے ذریعے ثابت ہو چکا ہے۔ اور اگر وہ شخص گرفت سے بچنے کے لیے یہ انکار کرے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی صراحت کے ساتھ یہ فرمایا ہی نہیں کہ یہی گھر کعبہ ہے، تو اس کا یہ انکار بھی اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا (Al-Ghazālī 2002, 113)۔
تاہم غزالی اس معاملے میں بھی کسی قدر نرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں: یہاں بھی بعض مسائل میں زیادہ سے زیادہ اسے خطاکار قرار دیا جا سکتا ہے... یا پھر اسے بدعت کا مرتکب ٹھہرایا جا سکتا ہے (Al-Ghazālī 2002, 112–113)۔ غزالی یہاں "بدعت" سے اعتقادی انحراف مراد لیتے ہیں، جو اہلِ سنت کے مسلمہ عقیدے اور کفر کے درمیان ایک درجہ ہے۔ چنانچہ کسی ایسے غیر بنیادی عقیدے کا انکار، جو تواتر سے منقول نص سے ثابت ہو اور اس بنا پر متواتر ہو، اگرچہ مسلمہ عقیدے سے انحراف شمار ہو سکتا ہے، لیکن لازماً کفر کے حکم کا موجب نہیں بنتا۔
آخر میں غزالی خبرِ آحاد کے ذخیرے کے بارے میں اپنا موقف بالکل واضح کر دیتے ہیں: یقیناً اگر کوئی شخص کسی خبرِ واحد کی صحت کا انکار کرے تو اسے کافر قرار دینا لازم نہیں ہوگا۔
ان نکات کی وضاحت کے بعد غزالی اپنے موقف کا خلاصہ یوں بیان کرتے ہیں:
جہاں تک پہلے تین بنیادی اصولوں، یعنی خدا، رسول اور یومِ آخرت، نیز ان نصوص کا تعلق ہے جو تواتر کے ذریعے منقول ہوئی ہوں، اپنی ذات میں کسی مجازی تعبیر کی گنجائش نہ رکھتی ہوں، اور جن کے مضمون کے خلاف کسی قطعی عقلی دلیل کا تصور بھی ممکن نہ ہو، تو ان کی مخالفت دراصل انہیں صاف اور صریح جھوٹ قرار دینا ہے؛ مثلاً جسمانی حشر، جنت اور جہنم کا انکار۔ البتہ جو نصوص مجازی تعبیر کی گنجائش رکھتی ہوں، خواہ وہ تاویل بظاہر کتنی ہی بعید کیوں نہ ہو، ان کے بارے میں اس عقلی دلیل کا جائزہ لیا جائے گا جس کی بنیاد پر مجازی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ اگر وہ دلیل قطعی ہو تو اسے قبول کرنا لازم ہوگا۔ لیکن اگر عقلی دلیل قطعی نہ ہو، بلکہ صرف غالب گمان پیدا کرتی ہو، اور اس تعبیر سے دین کو کوئی نقصان بھی نہ پہنچتا ہو، تو ایسی رائے کفر نہیں بلکہ بدعت شمار ہوگی۔ رہے وہ امور جو بظاہر دین کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں، تو ان کا حکم متعین کرنا اہلِ علم کے اجتہاد اور ظنی تحقیق پر موقوف ہوگا۔ ممکن ہے کہ وہ کسی شخص کو کافر قرار دینے کی بنیاد بنیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ نہ بنیں (Al-Ghazālī 2002, 114)۔
واضح ہے کہ غزالی کے نزدیک تین بنیادی عقائد خدا، رسول اور آخرت پر ایمان رکھنا لازم ہے۔ اسی طرح ان متواتر نصوص کو بھی تسلیم کرنا ضروری ہے جو مجازی تعبیر کی گنجائش نہیں رکھتیں۔ بصورتِ دیگر کسی شخص پر کفر کا حکم عائد ہو سکتا ہے۔ ان کے علاوہ بہت سے ایسے درمیانی اور غیر واضح مسائل ہیں جن کا فیصلہ ہر معاملے کی نوعیت کو الگ الگ دیکھ کر کرنا ہوگا۔
یہی وہ اعتقادی پس منظر ہے جس میں غزالی کے اصولِ تعبیر کو سمجھا جانا چاہیے۔ جیسا کہ واضح ہے، غزالی کفر کے حکم کے لیے ایک نسبتاً محدود، لیکن واضح اور سیدھا معیار مقرر کرتے ہیں۔ یہ نکتہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ باب 4 میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ بعض اہلِ فکر نے انسانی ارتقا کے عقیدے کو دائرۂ اسلام سے خروج کا موجب قرار دیا ہے (Keller 2011)۔ اس کے برعکس غزالی کا فریم ورک اس وقت تک خاصی گنجائش فراہم کرتا ہے جب تک کوئی تعبیر ایمان کے تین بنیادی اصولوں اور متواتر نصوص سے متصادم نہ ہو۔
حضرت آدمؑ کی تخلیق کا واقعہ، بذاتِ خود، غزالی کے بیان کردہ بنیادی عقائد سے متصادم نہیں۔ چنانچہ اگر نظریۂ ارتقا میں کوئی اعتقادی اشکال موجود ہے تو اسے کسی متواتر نص کے ساتھ اس کے تعارض کی بنیاد پر ثابت کرنا ہوگا، اور اس صورت میں بھی شرط یہ ہے کہ وہ نص مجازی تعبیر کی گنجائش نہ رکھتی ہو۔ آیا واقعی ایسی صورت پائی جاتی ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ باب 10 میں کیا جائے گا۔



















