رفیق اعظم بادشاہ:
ڈاکٹر صاحب، آپ سے ہم وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعہ ایپلیٹ بینچ پر، ان شاء اللہ مزید سوالات کریں گے، لیکن اس وقت ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کا تعلق ایک معروف علمی، دینی سیاسی خاندان سے ہے، تو کیا آپ اس بارے میں بتانا پسند فرمائیں گے؟ اس پس منظر کے بارے میں، اپنے تعلیمی سفر کے بارے میں، اپنے بارے میں، اپنے خاندان کے بارے میں؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
میرا تعلق الحمد للہ ایک علمی گھرانے سے ہے، جو علمی بھی ہے اور اس کا عملی سیاست میں بھی کردار رہا ہے۔ میرے دادا مرحوم علامہ مفتی مدرار اللہ مدرار نقشبندی قائد اعظم کے قریبی ساتھیوں میں تھے۔ انھوں نے عملی طور پر اپنی سیاسی زندگی کا آغاز مجلسِ احرار کے ساتھ کیا تھا اور بعد میں انھوں نے اپنی جمعیت علمائے سرحد کے نام سے تنظیم بنائی تھی۔ ان دنوں علماء کی جو بڑی تنظیم تھی، جمعیت علمائے ہند کے نام سے، یہ اس سے الگ تنظیم تھی۔ ہمارا صوبہ ان دنوں صوبہ سرحد کہلاتا تھا، تو اس میں میرے دادا مرحوم نے دیگر علماء کے ساتھ مل کر جمعیت علمائے سرحد بنائی تھی اور اس پلیٹ فارم سے وہ مسلم لیگ کو سپورٹ کرتے تھے اور قائد اعظم کے ساتھ ان کا تعلق تھا۔ ان کا اور ان کے بڑے بھائی مولانا محمد شعیبؒ کا اس تحریک میں بہت اہم کردار رہا۔
قائد اعظم نے جب برطانیہ سے واپس آ کر مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی اور 1937ء کے انتخابات کے بعد انھوں نے مسلم لیگ کو عوامی جماعت بنانے کی کوشش کی تو اس سلسلے میں صوبہ سرحد میں بھی انھوں نے مسلم لیگ کی تنظیمِ نو کی اور صوبائی مسلم لیگ بنائی تو اس کے پہلے صدر کے طور پر میرے دادا کے بڑے بھائی تھے مولانا محمد شعیبؒ کو منتخب کیا گیا۔ وہ صوبائی سطح پر مسلم لیگ کے پہلے صوبائی صدر تھے۔ 1937ء میں بھی، پھر 1938ء میں بھی۔
اسی طرح جو 1940ء میں قراردادِ لاہور کا مرحلہ آیا تو دونوں بھائی وہاں اس میں شریک ہوئے اور قائد اعظم کو اپنی جانب سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ پھر قائد اعظم کے کہنے پر اور ان کی ہدایت پر میرے دادا مرحوم نے قبائلی علاقوں کا بھی دورہ کیا اور وہاں قائد اعظم کا پیغام قبائلی عمائدین تک پہنچایا۔ وہاں جو روحانی بزرگ ہوتے تھے، باجوڑ میں، چارمنگ میں، دیگر قبائلی علاقوں میں، ہر جگہ جا کر انھوں نے قائد اعظم کا پیغام پہنچایا اور یوں کہیں کہ مسلم لیگ کو ایک عوامی جماعت بنانے میں ان کا بڑا کردار رہا۔
آپ جانتے ہیں کہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے بھی اپنے شاگردوں کو، خلفاء کو، مسلم لیگ اور قائد اعظم کا ساتھ دینے کی ہدایت کی تھی۔ پھر مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب رحمہ اللہ نے جب جمعیت علمائے اسلام قائم کی تو میرے دادا مرحوم نے اپنی جمعیت علمائے سرحد اس میں ضم کی اور پھر اس پلیٹ فارم سے ان کا مسلم لیگ کے ساتھ تعاون جاری رہا۔ ان کے نام قائد اعظم کے خطوط بھی ہیں۔ انھوں نے ریفرنڈم کو کامیاب بنانے میں بھی بڑا اہم کردار ادا کیا اور اس کے بعد بھی ان کی خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔
میرے والد صاحب مرحوم جناب اکرام اللہ شاہد بھی عملی سیاست میں بھی رہے، اور مردان کے چیئرمین بھی رہے، صوبائی اسمبلی کے رکن بھی رہے، پھر صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر بھی رہے۔ اسی طرح وہ علمی کاموں میں بھی، اپنی سیاست کے باوجود، اس میں مصروف رہے۔ اور ’’اقبال اور افغانستان‘‘ کے نام سے انھوں نے ایم فل کا مقالہ لکھا جو بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع ہوا۔ ان کی اور بھی کئی کتابیں ہیں۔
میں نے عام تعلیم حاصل کی ہے۔ میں نے پاکستان ایئر فورس کالج رسالپور سے ایف ایس سی کی۔ اس سے پہلے میٹرک مردان کے عام سرکاری سکول سے کیا، گورنمنٹ ہائی سکول نمبر دو مردان سے۔ بہت اچھے اساتذہ تھے ہمارے اللہ تعالیٰ ان سب کو بہترین اجر دے (آمین۔ رفیق) ایف ایس سی میں نے 1994ء میں کی۔ میری ایف ایس سی کے دوران (1993ء-1994ء میں) میرے دادا بیمار تھے اور صاحبِ فراش تھے، تو ان کے پاس جب کوئی مستفتی آتا تھا، تو خود لکھنا ان کے لیے مشکل ہو گیا تھا ۔ چنانچہ انھوں نے میری یہ ذمہ داری لگائی کہ میں ان کے ساتھ بیٹھ کے، جو وہ مجھے بتاتے، املا کراتے، میں لکھتا۔ تو مجھے یہ سعادت ملی کہ ان کی جو فتاویٰ کی کتاب یا رجسٹر ہے، تو اس میں ان کے ہاتھ کے علاوہ اگر کسی کا لکھا ہوا ہے تو میرا ہے۔ یوں کہیں کہ ان کی خصوصی نظر مجھ پہ رہی اور مجھے ان کی دعائیں بھی ملیں۔ میرے نانا، حکیم حافظ ضیاء الاسلامؒ، فاضلِ دیوبند تھے، بہت اعلیٰ پائے کے طبیب بھی تھے۔ ان کی دعاؤں کا سلسلہ بھی، الحمد للہ، رہا۔
چنانچہ میرا رجحان دینی علوم، بالخصوص فقہ کی طرف ہوگیا۔ میری ایف ایس سی پری میڈیکل میں تھی تو عام طور پر لوگ کہتے تھے میڈیکل کالج میں جائیں۔ میڈیکل کالج میں داخلے کا امکان بھی تھا۔ لیکن انھی دنوں میرے دادا کا انتقال بھی ہوا تو کچھ اس کا بھی اثر تھا۔ اس لیے تو میں نے ارادہ کیا کہ میں نے دینی تعلیم حاصل کرنی ہے۔ اس کے لیے پھر میں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ وہ ایک الگ دلچسپ کہانی ہے، کسی وقت اللہ موقع دے تو وہ بھی بیان کریں گے (جی ان شاء اللہ۔ رفیق)
اسلامی یونیورسٹی سے میں نے پھر ایل ایل بی آنرز شریعہ اینڈ لا کیا، اور اس کے بعد وہیں سے ایل ایل ایم شریعہ اینڈ لا کیا۔ میرا ایل ایل ایم کا مقالہ آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کے جواز پر تھا، بین الاقوامی قانون میں بھی اور اسلامی شریعت میں بھی۔ میں نے اسی دوران میں پشاور یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے بھی کیا۔ پھر بعد میں پی ایچ ڈی بھی اسلامی یونیورسٹی سے ہی کی۔ اس میں میرا مقالہ حنفی فقہ میں سیاسہ شرعیہ کے تصور پر تھا، بالخصوص جو حدود اور جنایات کے ابواب میں فقہاء نے سیاسہ شریعہ کا اصول کیسے برتا ہے اور اس اصول کی روشنی میں پاکستان میں فوجداری قوانین میں کیسے بہتری لائی جا سکتی ہے۔
ایل ایل ایم کے دوران میں ہی مجھے اللہ تعالیٰ نے موقع دیا اور مجھے سول جج کے طور پر تعینات کیا گیا، لیکن اسی دوران میں مجھے پشاور یونیورسٹی میں لیکچررشپ آفر ہوئی تو میں نے سول جج کا عہدہ چھوڑ کر پشاور یونیورسٹی میں تدریس شروع کی۔ پھر کچھ عرصے بعد واپس اپنی یونیورسٹی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں بطور لیکچرر آگیا؛ پھر آگے کا سلسلہ تو آپ جانتے ہیں؛ اسسٹنٹ پروفیسر، پھر ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبۂ قانون کی سربراہی، پھر شریعہ اکیڈمی کا ڈائریکٹر جنرل۔
رفیق اعظم بادشاہ:
عام طور پر جب کوئی طالب علم شریعہ اینڈ لا کے لیے آتا ہے اور اس کا پس منظر سکول اور کالج کا ہوتا ہے، نہ کہ مدرسے کا، تو پھر اتنی گہرائی میں فقہ اور اصولِ فقہ اور اس طرح کے مباحث میں بہت ہی گہرائی کے ساتھ، اس کی دسترس نہیں ہوتی۔ تو کیا آپ کا کوئی ایسا پس منظر تھا؟ آپ نے جس طرح بتایا کہ آپ کے دادا بہت بڑے مفتی تھے، لیکن کیا آپ نے ان سے کچھ پڑھا بھی؟ اصولِ فقہ، اصول حدیث اور دیگر علوم میں؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
میں نے باقاعدہ تو ان سے تفسیر، حدیث، فقہ، اصول اور دیگر علوم نہیں پڑھے لیکن میں ان کے ساتھ میں رہا۔ ان کی تربیت یقیناً تھی، ان کی نظر بھی تھی اور شفقت بھی تھی اور وقتاً فوقتاً انھوں نے مجھے مختلف چیزیں سمجھائیں۔ ان کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ وہ میرا بیکار سے بیکار قسم کا سوال بھی بہت توجہ سے سنتے اور پھر اپنے طریقے سے مجھے اس میں رہنمائی فراہم کرتے۔ ان کا بہت رعب اور دبدبہ تھا۔ میں ان کو دیکھ کر بات نہیں کر سکتا تھا۔ بس نظریں نیچی کر کے میں ان کے سامنے سوال اپنا عرض کرتا تھا؛ لیکن ان کی طرف سے بے حد شفقت ہوتی اور بہت محبت ہوتی۔ اسی طرح میرے نانا بھی تھے۔ ان کے سامنے تو اُن کی اپنی اولاد، یعنی میرے ماموں، سر پر ٹوپی رکھے بغیر بھی حاضر نہیں ہوتے تھے، لیکن ہمارے لیے ایسی کوئی پابندی نہیں تھی۔ میری نانی کہا کرتی تھیں کہ آپ لوگ اپنے نانا کی اتنی تعریف کرتے ہیں، آپ تک پہنچتے پہنچتے یقیناً وہ بہت اچھے ہو گئے ہیں۔
تو یقیناً ان بزرگوں کی شفقت اور دعائیں ہیں اور سب کچھ، جو کچھ بھی ہے، انھی کی برکت سے ہے۔ باقاعدہ میں نے ان سے نہیں پڑھا لیکن یہ آخری سال جو میں نے ان کے ساتھ گزارا، اس کی بہت برکت رہی۔ وہ نقشبندی سلسلے میں تھے اور وہ خواجہ عبد المالک صدیقیؒ، خانیوال، کے خلیفہ مُجاز تھے۔ میں نے بھی اپنے دادا سے نقشبندی سلسلے میں بیعت کی۔ کچھ عرصہ وظائف اور اوراد کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ بعد میں اور کاموں میں لگ گئے تو وہ چیزیں رہ گئیں۔ تو یہ جو آخری سال ڈیڑھ میں نے ان کے بہت قریب گزارا، تو اس کا اثر ہے میری اپروچ میں یا فقہ کے ساتھ دلچسپی میں۔ ویسے جو ان کے والد تھے یعنی میرے پردادا، تو لوگ فقہ میں تخصص کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔ تو شاید یہ معاملہ جینیٹک بھی ہو۔
اس کے بعد اسلامی یونیورسٹی میں مجھے اللہ تعالیٰ نے جو موقع دیا، یہاں جو اساتذہ دیے، انھوں نے جس طرح رہنمائی دی، جس طرح پڑھایا، وہ خاصے کی چیز تھی۔ مثال کے طور پر جنایات میں ہمارے استاذ تھے، ڈاکٹر سعد الجبالی۔ مصر سے تھے۔ وہ جس موضوع پر لیکچر دیتے، اختتام پر کہتے : ’’أنا کاتب فی ھذا الموضوع‘‘ ، اس پر میں نے لکھا ہوا ہے۔ کیا لکھا ہوا ہے؟ کوئی مقالہ، کوئی کتابچہ، بعض اوقات کتاب۔ جنایات کے دو کورسز ہم نے ان سے پڑھے، یعنی یوں کہیں کہ ہم نے ایک سال ان سے استفادہ کیا۔ اختتام پر ہم نے ان سے کہا کہ آپ نے جو اتنا کچھ لکھا ہے تو وہ تو کبھی ہمیں دکھائیں۔ کبھی کبھی وہ دے بھی دیتے تھے، فلاں صفحہ پڑھیں، فلاں جگہ یہ دیکھیں، وہ دیکھیں۔ لیکن ایک دن وہ سارا اکٹھا کر کے لائے تھے، اتنا بڑا بریف کیس تھا، انھوں نے کھولا، اس کے اندر مقالات ہی مقالات اور کتابیں ہی کتابیں، تو جنایات سے متعلق ہر موضوع پر ان کا کام تھا۔
پھر خصوصاً چند اساتذہ تھے جن کا بہت ہی زیادہ مجھ پہ احسان ہے۔ ان میں میں سب سے پہلے ذکر کرنا چاہوں گا پروفیسر ڈاکٹر محمد منیر صاحب کا کہ وہ ان دنوں بالکل نوجوان تھے اور بہت انرجیٹک۔ آج کل ان میں، ماشاء اللہ اتنی انرجی پائی جاتی ہے، تو ان دنوں تو آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کیا عالم رہا ہوگا۔ ان کا جورِسپروڈنس (اصولِ قانون) کے ساتھ خصوصی لگاؤ تھا، اور انٹرنیشنل لا (بین الاقوامی قانون) کے ساتھ، تو اس کا اثر ہم پر ہوا کہ ہماری دلچسپی بھی ان دو مضامین میں پیدا ہو گئی، ابتدا سے ہی۔ ان سے میں نے ایل ایل بی میں کوئی سات کورسز پڑھے، ایل ایل ایم میں بھی ان سے دو کورسز پڑھے، پھر پی ایچ ڈی میں وہ میرے مقالے کے نگران بھی رہے۔ تو ان کا بہت اثر ہے۔
اسی طرح جن کا میں خصوصاً ذکر کرنا چاہوں گا تو وہ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری صاحب تھے۔ بہت بڑے سکالر، بلکہ استاذ الاساتذہ۔ ان کے ساتھ جو چند سال میں نے گزارے، وہ میرا قیمتی سرمایہ ہیں۔ میرا ایک مقالہ مدوّن کر کے شائع کرنے میں انھوں نے دو سال لگائے۔ دارالاسلام اور دارالحرب پر میرا جو مقالہ انگریزی میں 2008ء میں شائع ہوا ہے، یہ میں نے 2006ء میں لکھا تھا ۔ پہلے، جیسے ان کا طریقہ تھا، نام وغیرہ ہٹا کر تبصرے کے لیے بھیج دیتے تھے، پاکستان کے اندر بھی، پاکستان سے باہر بھی۔ ان تبصروں کی روشنی میں آپ اپنے مقالے پر نظرِ ثانی کرتے، اس کے بعد ان کی میز تک چیز پہنچتی، اس کے بعد ان کا کام شروع ہو جاتا۔
تو وہ اس طرح کا سلسلہ تھا کہ مثال کے طور پر ایک مسودہ انھوں نے مدوّن کر کے مجھے فون کیا کہ اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو کل آپ تشریف لا سکتے ہیں؟ اس طرح بات کرتے۔ جی ضرور، میں کل آ جاتا ہوں۔ میں گیا تو انھوں نے مجھے بٹھایا، ظہر کے بعد عصر تک تقریباً دو ڈھائی گھنٹے اس مقالے پر انھوں نے میرے ساتھ بات کی، اور میں نے دیکھا کہ ہر ہر صفحہ انھوں نے ’’لہولہان‘‘ کیا ہوا تھا، یہاں وہاں، پتہ نہیں کیا کیا کچھ۔ بہت کچھ میں نے نوٹ کیا اور ان کا مدوّن کیا ہوا مسودہ بھی میں گھر لے آیا اور بیٹھ گیا۔ دو تین ہفتے میں میں نے ان کی تدوین اور گفتگو کی روشنی میں تفصیلی نظرِ ثانی کر کے ان کو بھیج دیا۔
میرا خیال تھا کہ اگلی دفعہ ان کی جانب سے مجھے شاباشی ملے گی۔ ان کا فون آیا اسی طرح ۔ میں گیا۔ انھوں نے شاباشی تو دی کہ آپ نے محنت کی ہے، لیکن یہ ذرا دیکھیے۔ اب جب انھوں نے دکھایا تو پھر اس کا ہر صفحہ اسی طرح لہولہان ہوا تھا۔ پھر دو ڈھائی گھنٹے کی بحث۔ ہوتے ہوتے اٹھارہ دفعہ وہ مقالہ انھوں نے مدوّن کیا (اٹھارہ دفعہ؟ رفیق) اٹھارہ دفعہ، اور کہا کہ اب بھی میرا جی اس سے نہیں بھرا لیکن مجھے رسالے کا پیٹ بھرنا ہے تو اس لیے اب یہ مقالہ ہم شائع کر دیتے ہیں۔ اس مقالے کو شائع ہونے میں دو سال لگے لیکن اس نے یوں کہیں میری سوچ، میرے زاویۂ نظر، تجزیے کا طریقہ، بات پیش کرنے کا سلیقہ، سب کچھ تبدیل کر دیا۔ اسی طرح انھوں نے بعد میں میرا ایک اور مقالہ بھی مدوّن کیا۔ وہ تصورِ دفاع پر ہے کہ بین الاقوامی قانون میں ریاست کے پاس دفاع کا جو حق ہے، اس کی کیا حدود ہیں، اور اسلامی قانون میں کیا ہیں۔ اس پہ بھی اسی طرح کا کام تھا۔ تو ان کا ظاہر ہے بہت بڑا کردار ہے۔
رفیق اعظم بادشاہ:
سر، یہ جو مقالات ہیں، ان کا اردو نسخہ بھی ہے تاکہ مدارس کے علماء و فضلاء بھی ان سے فائدہ اٹھائیں؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
ہاں، اس کا جواب میں دیتا ہوں، لیکن میں اپنے ایک اور استاذ کا ذکر ضرور کرنا چاہوں گا اور وہ ہیں ہمارے پروفیسر عمران احسن خان نیازی۔ وہ ایک اور ہی طرح کے آدمی ہیں اور جب ان کے ساتھ میرا تعلق بنا تو پھر تو دنیا ہی تبدیل ہو گئی؛ اور اصل میں جو فقہ کا اور اصول کا ذوق ہے تو وہ انھی کی وجہ سے ملا ہے۔ انھوں نے کس طرح میری تربیت کی اور کس طرح مجھے فقہ اور اصول کی دنیا میں داخل کرایا، اور پھر ایسے داخل کرایا کہ اب وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، کس طرح انھوں نے مجھے امام سرخسیؒ سے روشناس کرایا کہ وہ کس پائے کے فقیہ تھے، کس طرح انھوں نے مجھے اسلامی تراث اور فقہی تراث کی اہمیت سمجھائی، میرے ذہن میں بٹھائی، میرے دل میں راسخ کی، اور مجھے اپنے اس تہذیبی ورثے پر اعتماد بخشا، تو اس کو میں الفاظ میں نہیں بیان کر سکتا۔
تو یہ اصل میں یوں کہیں کہ ان اساتذہ کی برکت ہے جو کچھ بھی ہے۔ اور جو نہیں ہے تو ظاہر ہے وہ ہماری اپنی کمزوری کی وجہ سے نہیں ہے۔
مقالات کے متعلق آپ نے سوال کیا، تو جو دارالاسلام اور دارالحرب والا مقالہ ہے، یہ تو میں نے انگریزی میں لکھا تھا، لیکن بعد میں جو میری کتاب آئی ’’جہاد، مزاحمت اور بغاوت‘‘ کے عنوان سے، تو میں نے پھر اس میں اس کو اردو میں پیش کیا ہے۔ اس طرح جو تصورِ دفاع پر مقالہ تھا، وہ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔ تو تمام تو نہیں لیکن بہت سارا کام ایسا ہے جس کو میں نے بعد میں اردو کا جامہ پہنایا، یا کچھ کام پہلے اردو میں لکھا تھا، بعد میں انگریزی میں لکھا۔
تاہم ظاہر ہے کہ جب آپ ایک کام کرتے ہیں، کچھ عرصے بعد دوبارہ وہی کام کرتے ہیں تو اس میں بہت آپ کو تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔ پھر زبان کی وجہ سے بھی فرق پڑتا ہے، مخاطبین کی وجہ سے بھی فرق پڑتا ہے۔ یعنی اردو جو لوگ پڑھتے ہیں تو ان کے ذہن میں اور طرح کے سوالات ہیں، آپ ان کو ذہن میں رکھ کر لکھتے ہیں۔ انگریزی میں جو لکھتے ہیں تو ان کا اور طرح کا پس منظر ہوتا ہے، رجحان ہوتا ہے، اور طرح کے سوالات ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب مرحوم میرے چوتھے استاذ تھے جن کا میں لازماً ذکر کرنا چاہتا تھا۔ فقہ کے ساتھ، اصول کے ساتھ، پھر بین الاقوامی قانون کے ساتھ ان کی بھی گہری وابستگی تھی، پھر ان کا جو شفقت بھرا انداز تھا۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے ایسا عجیب ذہن دیا تھا کہ آپ ان سے کسی بھی وقت، کسی بھی موضوع پر، چاہے وہ فقہ کا ہو، سیرت کا ہو، حدیث کا ہو، تفسیر کا ہو، کوئی بھی سوال پوچھیں، وہ ایک لمحے کے لیے یوں سوچتے، بعض اوقات وہ یوں اپنی انگلیوں کو دیکھتے، اور ایک دو سیکنڈ بعد بولنا شروع کر دیتے۔ اچھا، وہ بولنا شروع کر دیتے تھے تو آپ کو حیرت ہوتی تھی کہ وہ کس ترتیب سے، کس طرح ایک ایک چیز بیان کر رہے ہیں۔ پہلے یہ، پھر اس کے بعد یہ ہوا، پھر اس میں دو چیزیں ہیں، ایک اس طرح، ایک اس طرح۔ سارا کچھ ان کے ذہن میں بالکل مرتّب موجود ہوتا (ایک کتاب کی طرح۔ رفیق) ایک کتاب کی طرح، آپ نے بس صرف بٹن کلک کیا، فولڈر کھلا اور فائل کھل گئی، اس میں دو تین سیکنڈ لگ گئے، اس کے بعد بس اب آپ کے سامنے کتاب کھلی پڑی ہے، پڑھتے جائیں، پڑھتے جائیں۔ مجھے حیرت ہوتی تھی کہ ان کا کتنا مرتب ذہن ہے۔ تو یہ ان کے کمالات تھے۔
انھوں نے ایک دفعہ مجھے یہ کہا کہ وہ بین الاقوامی قانون پر دو کتابیں لکھنا چاہتے ہیں، ایک عربی میں، اور ایک انگریزی میں۔ انھوں نے کہا کہ عربی میں فقہ کا حصہ زیادہ ہوگا اور قانون کا حصہ کم ہوگا؛ اور انگریزی میں اس کے برعکس تناسب ہوگا کیونکہ پڑھنے والوں کو مدنظر رکھ کر لکھا جاتا ہے۔ تو اس طرح کے فروق میرے کام میں بھی میں نے مدنظر رکھنے کی کوشش کی کیونکہ مخاطب کی رعایت ضروری ہے۔ تو وہ فرق تو ہوگا، لیکن جو کام میں نے انگریزی میں کیا ہے وہ اردو میں بھی ہے، اور جو اردو میں کیا ہے اس کا بھی بیشتر حصہ انگریزی میں موجود ہے۔
رفیق اعظم بادشاہ:
ابھی آپ نے کہا کہ آپ ایل ایل ایم میں ہی تھے کہ آپ بطور جج تعینات ہو گئے تھے۔ تو اسی طرح آپ ابھی طالب علم تھے تو اس وقت بھی کیا آپ کو عدالتوں میں بطور معاون جانے کے مواقع ملے ؟ کیونکہ جب ہم آپ سے پڑھتے تھے تو آپ اکثر بہت اچھے واقعات سنایا کرتے تھے؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
استاذ کے پاس بیان کرنے کے لیے واقعات ہی تو ہوتے ہیں۔ ہاں، یہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم تھا کہ مجھے زمانہ طالب علمی میں ہی یہ مواقع بھی ملے۔ ان میں ایک بڑا موقع وہ تھا، ابھی میں نے ایل ایل بی نہیں کی تھی، میرا تیسرا سال تھا، یہ 1997ء کی بات ہے کہ ان دنوں اخبارات میں ایک اشتہار مجھے نظر آیا کہ عائلی قوانین کے خلاف درخواستوں کی سماعت وفاقی شرعی عدالت میں جاری ہے، تو عوام الناس میں بھی اگر کوئی عدالت کے سامنے اپنی معروضات پیش کرنا چاہتا ہے تو وہ آ سکتا ہے۔
اسلامی یونیورسٹی میں ہمارے ایک بہت سینئر تھے، لیکن ہمارے ساتھ جن کا بہت ہی محبت کا تعلق تھا اور ہے، ڈاکٹر مطیع الرحمٰن صاحب، وہ وفاقی شرعی عدالت میں کام کرتے تھے۔ اکثر عصر کی نماز کے بعد مغرب تک ہم فیصل مسجد کے اردگرد یا ای سیون میں چہل قدمی کرتے تھے، تو کبھی وہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جاتے تھے۔ ان سے ذکر کیا تو انھوں نے مجھے لکھنے کی بہت ترغیب دی، اور یہ کریڈٹ میں ان کو دیتا ہوں کہ اگر وہ ترغیب نہ دیتے تو شاید مجھے لکھنے کا خیال ہی نہ آتا۔ انھوں نے کہا کہ آپ اس پر ضرور لکھیں۔
پھر میں نے والد صاحب کے ساتھ مشورہ کیا۔ میرے والد گرامی کا بہت ہی عجیب طرح کا مزاج تھا، انھوں نے جس طرح مختلف طریقوں سے میرا حوصلہ بڑھایا، میری رہنمائی کی، میرے لیے راستے بنائے اور پھر چلنے دیا، تو اللہ تعالیٰ ہی اس کا ان کو اجر دے سکتا ہے (آمین۔ رفیق) انھوں نے کہا کہ آپ ضرور اس پر لکھیں۔ میں نے لکھنا شروع کیا اور ہوتے ہوتے کوئی پچاس ساٹھ صفحے بن گئے، تو وہ میں نے وفاقی شرعی عدالت میں جمع کرائے۔ پھر وہاں سے مجھے بلاوا آیا تو میں گیا۔ ظاہر ہے نوجوانی کا عالم تھا، 1997ء میں میری عمر ہو گی 21 سال، اور ججز تو جس طرح وہ ہوتے ہیں (ڈیکورم ہوتا ہے ان کا۔ رفیق)، اور مجھ سے پہلے چند ایک وکیلوں کا جو انھوں نے حشر کیا وہ بھی مجھے نظر آیا تھا۔ والد صاحب بھی حوصلہ افزائی کے لیے میرے ساتھ گئے تھے۔ وہ بھی پاس بیٹھے تھے۔ تو میں نے دلائل دینے شروع کیے، پھر ایک دو ٹھوکریں کھانے کے بعد الحمد للہ بات چل پڑی، اور پھر بہت ہی دلچسپ سوال و جواب اور دلائل و جوابی دلائل کا ایک سلسلہ چلا۔ مجھے اس میں بڑا مزہ بھی آیا۔ مجھے پتہ نہیں چلا لیکن مجھے بعد میں ڈاکٹر مطیع الرحمٰن صاحب نے کہا کہ آپ نے تو کوئی چالیس منٹ دلائل دیے ہیں (سبحان اللہ۔ رفیق) میں ان کے ساتھ آفس میں بیٹھا تھا کہ اتنے میں چیف جسٹس، وفاقی شرعی عدالت، کے آفس سے فون آیا کہ اس نوجوان کو میرے چیمبر میں لے آئیں۔ میں وہاں گیا، تو انھوں نے اٹھ کر میرا استقبال کیا، مجھے داد دی، مجھے ساتھ بٹھایا، پھر چائے پلائی، اور کہا کہ فلاں فلاں سوالات رہتے ہیں، ان پر آپ کام کر کے دوبارہ آئیے گا۔ تو بس پھر وہاں سے وہ سلسلہ چل پڑا۔ یہ چیف جسٹس میاں محبوب احمد تھے۔ انھوں نے میری بہت حوصلہ افزائی کی اور مزید کام بھی دیا۔ ڈاکٹر فدا محمد خان صاحب بھی بینچ میں تھے، وہ خود بہت اچھے عالمِ دین بھی تھے اور قانون کے بھی ماہر تھے۔ تیسرے جج تھے جسٹس اعجاز یوسف، تو وہاں سے یہ سلسلہ چل پڑا۔
(جاری)

