سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۳)

رفیق اعظم بادشاہ:

سر، سپریم کورٹ نے حال ہی میں اس بنا پر پہلی بیوی کا نکاح فسخ کیا کہ اس بندے نے پہلی بیوی کی مرضی کے بغیر دوسری شادی کی تھی۔ تو اس پر چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب نعیمی صاحب نے بھی بیان دیا کہ اگرچہ یہ فیصلہ ملکی قانون سے مطابقت رکھتا ہے لیکن شریعت سے متصادم ہے۔ تو اس حوالے سے آپ کچھ رہنمائی فرمائیں گے؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:

دیکھیں، اس میں تھوڑا پس منظر واضح کرنا ہوگا۔ انگریز جب یہاں آئے اور برِصغیر پر انھوں نے اپنا تسلط قائم کیا، تو ابتدا میں ان کی پالیسی یہ رہی کہ عائلی تنازعات مسلمانوں کے قاضی خود ہی ان کا فیصلہ کریں، اور انگریز جج یہ مقدمات نہ سنے۔

پھر کچھ عرصے بعد جب آہستہ آہستہ ان کی گرفت مضبوط ہوتی گئی تو انھوں نے قاضیوں کو ختم کر دیا اور ان کی جگہ اپنے جج بٹھا دیے؛ لیکن انگریز جج کو تو اسلامی قانون کا پتہ ہی نہیں تھا، پھر نکاح، طلاق، وراثت وغیرہ کا فیصلہ وہ کیسے کرتا؟ تو اس کی معاونت کے لیے مفتی کو رکھ دیا۔ یعنی اب قاضی کی حیثیت ختم ہو گئی، جج انگریز ہوگا اور مسلمان مفتی اس کی معاونت کرے گا۔

پھر ایک تیسرا مرحلہ آیا جب انگریزوں نے یہ دیکھا کہ مسلمان مفتی زیادہ تر چند مخصوص کتابوں کا رخ کرتے ہیں، اور وہیں سے مسئلہ نکال کے بتاتے ہیں، جیسے ہدایہ ہے، کیونکہ تقریباً‌ سارے ہی حنفی تھے، شیعہ کے لیے شرائع الاسلام تھی۔ تو انھوں نے سوچا کہ کیوں نہ ان کا ترجمہ کر لیں؟ تو چارلس ہملٹن نے غالباً 1791ء میں ہدایہ کا جو ترجمہ کیا، آج تک، یعنی 250 سال بعد بھی، ہماری عدالتیں اس ترجمے پر انحصار کرتی ہیں۔

رفیق اعظم بادشاہ:

عربی سے انگریزی؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:

یہ اچھا سوال ہے، کیونکہ ہملٹن ہے کو عربی نہیں آتی تھی، البتہ فارسی اسے آتی تھی، تو اس نے ہدایہ کے فارسی ترجمے کی بنیاد پر انگریزی ترجمہ کیا۔ تو یہ شوربے کا شوربہ ہے۔ پھر آپ جانتے ہیں کہ ہدایہ تو اصل میں شرح ہے۔ اور اصل متن بدایۃ المبتدی ہے۔ متن اور شرح میں فرق ہے، مرتبے میں بھی اور اس میں بھی کہ کس طرح ان کو دیکھنا چاہیے۔ یہ فرق بھی اس کی سمجھ میں نہیں آیا۔ کئی دیگر مسائل بھی ہیں۔ پھر جو شخص اسلامی قانون سے واقف ہی نہ ہو، وہ اسلامی قانون کی ایک اہم کتاب کا ترجمہ کیسے کر سکتا ہے، بالخصوص جبکہ اس کو اس زبان کا بھی علم نہ ہو؟ بہرحال اس نے جو ترجمہ کیا، اس پر عدالتوں کے فیصلے ہوئے۔ اب جج انگریز ہے، وہ انگریزی قانون کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ترجمے پر انحصار کرتے ہوئے فیصلہ کر رہا ہے۔ اس میں ظاہر ہے کافی مسائل پیدا ہوئے اور وہ مسائل آج تک چلے آ رہے ہیں۔

تو عائلی امور پر انگریزوں کے وقت میں بھی کوئی خاص قانون سازی نہیں ہوئی۔ زیادہ تر اصول یہ اپنایا گیا کہ نکاح، طلاق، وراثت، ہبہ، وقف اور اس طرح کے دیگر مسائل میں شریعت پر فیصلہ ہوگا، اگر وہاں قانون سازی نہ ہوئی ہو۔ لیکن شریعت پر فیصلہ وہ جج کرے گا جس کو شریعت کا کچھ علم نہیں ہے۔

مثال کے طور پر اب اگر کوئی خاتون فسخِ نکاح چاہتی ہے تو اس کے لیے فسخ کے کچھ اسباب ہونے چاہئیں، جو حنفی فقہ میں معلوم ہیں، انھی پر فسخِ نکاح ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ مسلمانوں کے نظام میں قاضی کے پاس جو اختیارات ہوتے ہیں، وہ انگریزوں کے نظام میں جج کے پاس نہیں ہوتے۔ تو اگر کسی خاتون پر ظلم ہو رہا ہے، کسی یتیم کا مال کھایا جا رہا ہے، کوئی اور اس طرح کا مسئلہ ہے، تو اس میں قاضی کے ذمے بہت کام ہوتا ہے اور ان کے حقوق کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔

چند سال پہلے میں چند ججوں کا وفد لے کر گیا تھا ، ترکی اور اردن کے نظامِ عدل کا مطالعہ کرنے کے لیے۔ اردن میں عثمانی خلافت کے دور کی کچھ چیزیں اب تک باقی ہیں ۔ اس میں ایک قاضی کا نام تھا، قاضی حقوق القاصرین، یعنی وہ لوگ جو اپنے حقوق کا خود تحفظ نہیں کر سکتے، ان کے حقوق کا تحفظ یہ قاضی کرتا ہے۔ اسی طرح ایک اور ان کا ادارہ تھا جس کو انھوں نے نام دیا ہوا تھا، الإصلاح الأسري، یعنی family reconciliation، تو وہاں کوئی بھی تنازع عدالت میں جانے سے پہلے الاصلاح الاسری کے پاس جاتا ہے اور وہاں وہ ان کے درمیان اصلاح صلح کی کوشش کرتے ہیں۔ اور نہیں ہوا تو پھر جو ذمہ دار ہو، یعنی مسئلہ جس کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، تو یہ ادارہ اس کا تعین کرتا ہے، پھر اس کے بعد معاملہ عدالت میں جاتا ہے۔

یہاں ہمارے ہاں عائلی امور میں اصلاح کا معاملہ بہت زیادہ ناقص ہے اور وہ طلاق کے بعد والے مرحلے میں ہے، جو مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961ء کے تحت ہے۔ اسی طرح جو دوسری یا تیسری یا چوتھی شادی کے لیے طریقِ کار اس آرڈی نینس کی دفعہ 6 میں طے کیا گیا ہے، اس میں بھی اس کونسل کا، جس کو یہاں ثالثی کونسل کا نام دیا گیا ہے، کردار ہے۔ اس ثالثی کونسل کا سربراہ یونین کونسل کا چیئرمین یا ناظم ہوتا ہے، اور ایک اس میں شوہر کی جانب سے نمائندہ ہوتا ہے ، اور ایک بیوی کی جانب سے۔ یہ کونسل متعین کرتی ہے کہ اس شوہر کو دوسری شادی کی اجازت دی جائے یا نہ دی جائے، اور اگر دی جائے تو کن شرائط کے تحت۔ ہمارے ہاں دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت کی بات کی جاتی ہے ، جبکہ قانون میں اصل ضرورت اس کونسل کی اجازت کی ہوتی ہے۔ اگر اس کی اجازت کے بغیر اس نے اگلی شادی کی، دوسری، تیسری یا چوتھی ، تو قانون اس شادی کو ناجائز نہیں کہتا لیکن اس پر کچھ اثرات مرتب کرتا ہے۔

ان اثرات میں ایک یہ ہے کہ اگر پہلی بیوی کا مہر ابھی تک اس نے نہیں ادا کیا تو وہ ادا کرنا اب اس پر فوراً‌ لازم ہو جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اس شوہر کو کچھ سزائے قید اور کچھ جرمانے کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ تیسرا یہ کہ اس کے پاس پہلے سے موجود بیوی یا بیویاں ہیں، تو اس کو یا ان کو یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے نکاح کی تنسیخ کے لیے دعویٰ دائر کریں۔ یعنی خلع نہیں، بلکہ فسخِ نکاح کے لیے دعویٰ دائر کریں۔ یہ تبدیلیاں مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961ء نے کی ہیں ۔

آپ نے خلع کا ذکر کیا، وہ بات اہم ہے، اس کی طرف آنے سے پہلے ہم 1939ء کا جو تنسیخِ نکاح کا قانون ہے، اس پر بات کریں گے۔ جیسے میں نے کہا، انگریزوں کے دور میں ان امور پر قانون سازی بہت کم ہوئی ہے۔ تو جو چند ایک چیزیں ہیں ان میں ایک یہ قانون ہے، مسلم تنسیخِ نکاح کا قانون 1939ء، Dissolution of Muslim Marriages Act، اس کے پیچھے بھی ایک لمبی کہانی ہے۔

انگریزوں کے زیرِ تسلط ہندوستان میں کئی مسائل تھے، جہاں عورتوں پر اگر ظلم ہوتا تھا تو ظالم شوہر سے نجات کے لیے ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ کیونکہ جو فسخِ نکاح کے مخصوص اسباب تھے تو وہ یا تو میسر نہیں تھے، یا اگر تھے تو ان کا عدالت میں ثابت کرنا بہت مشکل تھا۔ جیسے میں نے عرض کیا، مسلمانوں کا قاضی تو اب نہیں تھا، جس کے پاس بہت سارے اختیارات ہوتے تھے۔ اب تو یہاں تو انگریز جج بیٹھا ہوا تھا، اس کے سامنے تو آپ نے ساری چیزیں رکھنی ہیں، ثابت کرنا ہے، وہ ازخود کچھ نہیں کر سکتا۔ انکوائری کمیشن وغیرہ کا کوئی تصور بھی نہیں تھا۔ تو کسی نے ایسی خواتین کو یہ مشورہ دیا کہ وہ مرتد ہو جائیں، جا کر کلیسا سے سند لے لیں کہ یہ عیسائی ہو گئی ہے۔ تو اس کا نکاح ختم ہو جائے گا، پھر بعد میں وہ واپس مسلمان ہو جائے۔

مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اس پر ابتدائی فتویٰ یہ دیا تھا کہ یہ طریقہ ہے تو غلط، لیکن اس طرح فسخِ نکاح ہو جاتا ہے۔ بعد میں انھوں نے اس پر جب ازسرنو غور کیا اور دیگر علماء کرام کو بھی بٹھایا تو اس کے بعد انھوں نے فتوی دیا، اور یہ دونوں فتویٰ آپ کو امداد الفتاویٰ میں مل جاتے ہیں، اس میں انھوں نے یہ کہا کہ نہیں، ایک تو اس سے ازخود نکاح نہیں ختم ہوتا، اب بھی فسخِ نکاح کے لیے عدالت کا فیصلہ چاہیے ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ کسی کو کفر کا مشورہ دینا بھی تو کفر ہے، تو اگر کوئی مفتی کسی عورت کو یہ مشورہ دے کہ تم کافر ہو جاؤ، تو وہ تو خود کافر ہو گیا ہے۔ اور اس عورت کو تو اس نے یہ مشورہ دیا، خود اس کی اپنی بیوی اب اس پر حرام ہو گئی ہے ، اور اُس کو اِس کے ساتھ نکاح پر مجبور بھی نہیں کیا جا سکتا، وہ آزاد ہو گئی ہے۔

مزید انھوں نے یہ کہا کہ اب اس مسئلے کا حل نکالنا ہے کیونکہ یہ تو بہت بڑا مسئلہ ہے، پورا ملک اس میں الجھا ہوا ہے، اور ایسی خواتین کے لیے کیا کریں؟ پھر انھوں نے اس پہ سوچنا شروع کیا کہ کیا مالکی مذہب میں جو فسخِ نکاح کے دیگر اسباب ہیں، ان کی بنا پر فتویٰ دیا جا سکتا ہے اور نکاح فسخ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ پہلے تو یہ بذاتِ خود ایک بڑا مسئلہ تھا کہ فتویٰ بمذہب الغیر۔ پھر مذہب الغیر میں اس فتویٰ کے حدود اور قیود کیا ہیں، وہ بھی متعین کرنے ہیں۔ یہ سارا کام کیا۔ انھوں نے مالکی فقہاء کے ساتھ خط و کتابت بھی کی اور بہت تفصیلی بحثیں بھی ہوئیں اور آخر میں الحیلہ الناجزہ کے نام سے جو تفصیلی ان کا فتویٰ آیا تو اس نے یوں کہیں کہ بنیاد رکھی۔

پھر اسی بنیاد پر قانون ساز مجلس میں مسلمان ارکان نے بل پیش کیا، جسے کاظمی بل کہا جاتا ہے۔ کاظمی بل نے اسبابِ فسخِ نکاح میں اضافہ اور اس پر قانون سازی کی بات کی۔ ظاہر ہے کہ اسمبلی میں اور لوگ بھی ہوتے ہیں، تو منظور ہوتے ہوتے اس قانون کی شکل کچھ اور بن گئی۔ جو اصل شکل تھی وہ کچھ اور تھی، جو تھانوی صاحب نے اور دیگر علماء نے تجویز کی تھی۔ لیکن بہرحال بڑی حد تک کہ یہ ان کی رائے پر مبنی ہے۔ تو تنسیخِ نکاح کا قانون آگیا 1939ء میں۔ یہ قانون اب بھی موجود ہے۔ اس کی دفعہ 2 میں فسخِ نکاح کے متعدد اسباب ذکر کیے گئے ہیں ۔

اب جب جنرل ایوب خان 1961ء کا عائلی قوانین آرڈیننس لے آئے، جس میں یہ کہا گیا کہ دوسری شادی پر اگر اس نے ثالثی کونسل سے اجازت نہیں لی تھی ، تو پھر پہلی بیوی کو یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ فسخِ نکاح کے لیے دعوی دائر کرے۔ تو یہ بات بھی اس تنسیخِ نکاح والے قانون میں شامل کر لی گئی۔ یہ دوسری بات ہوئی۔

تیسری چیز خلع ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا تھا۔ اسلامی قانون میں صدیوں سے خلع کا تصور یہ ہے کہ مرد اور عورت آپس میں سمجھوتہ کر لیتے ہیں کہ شوہر اسے طلاق دے گا اور اس کا کچھ عوض عورت اسے ادا کر دیتی ہے؛ یعنی شوہر طلاق نہیں دینا چاہتا، عورت رہنا نہیں چاہتی، وہ آپس میں بحث مباحثے اور سمجھوتے کے بعد اس نتیجے تک پہنچ جاتے ہیں کہ عورت کچھ ادائیگی کرے گی جس کے عوض میں شوہر اسے آزاد کر دے گا۔ گویا یہ ایک طرح سے out of court settlement، اور باہم طے پانے والا سمجھوتہ ہے، جس کو یوں کہیں کہ عدالت کی سند حاصل ہو جاتی ہے۔ خلع کا اصل طریقہ یہ ہے۔ یہ فریقین کے درمیان عقد ہے، معاہدہ ہے۔

رفیق اعظم بادشاہ:

لیکن عمومی طور پر تو پاکستان میں لوگ خلع کا کچھ اور تصور لیتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:

میں وہی بتانے جا رہا ہوں کیونکہ اس کو سمجھے بغیر اس مسئلے کو، جس پر آپ نے سوال اٹھایا ہے، سمجھا نہیں جا سکتا۔ 1952ء میں لاہور ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ (سعیدہ خانم بنام محمد سمیع) آیا جس میں خاتون نے یہ کہا کہ وہ شوہر سے آزادی چاہتی ہے، لیکن جو اسباب تنسیخِ نکاح کے قانون کی دفعہ 2 میں ذکر ہیں، ان میں کوئی بھی سبب پایا نہیں جاتا تھا۔ تو لاہور ہائی کورٹ میں ان دنوں پاکستان کے بڑے مشہور مسیحی جج تھے، جسٹس کارنیلیس، انھوں نے فیصلہ دیا کہ جب ان اسباب میں کوئی سبب موجود نہیں ہے تو آپ کا نکاح فسخ نہیں کیا جا سکتا۔

کچھ عرصے بعد 1959ء میں لاہور ہائی کورٹ میں ہی ایک اور کیس آیا (بلقیس فاطمہ بنام نجم الاکرام قریشی)، اس میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک اور جج صاحب تھے، اور وہ مسلمان جج تھے، جسٹس بدیع الزمان کیکاؤس، انھوں نے یہ کہا کہ جب عورت رہنا نہیں چاہتی تو اس کو مجبور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ پھر یہ حدود اللہ کی پامالی کریں گے، اس لیے حدود اللہ کی ماپالی سے بچانے کے لیے عدالت ان کا نکاح فسخ کر دیتی ہے۔ یہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ تھا اور اس پر بھی کافی تنقید ہوئی لیکن اتنا زیادہ اس کا اثر نہیں رہا۔

مزید کچھ عرصے بعد 1967ء میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا (خورشید بی بی بنام بابو محمد امین)۔ اب چونکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تھا تو وہ ظاہر ہے پورے ملک میں نافذ ہوا، اور اس وقت مشرقی پاکستان بھی ہمارے ساتھ تھا تو وہاں بھی نافذ ہوا۔ اس میں چیف جسٹس ایس اے رحمان نے یہ طے کیا کہ مسلمان خاتون کو خلع کے لیے کسی سبب کی ضرورت نہیں ہے۔

رفیق اعظم بادشاہ:

مطلب تنسیخِ نکاح کے قانون میں جن اسباب کا ذکر ہے، ان میں سے کسی کی بھی ضرورت نہیں۔

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:

بس وہ رہنا نہیں چاہتی، تو اب میاں بیوی حدود اللہ میں رہ نہیں سکتے، اور ہم ان کو مجبور نہیں کر سکتے، تو ہم ان کا نکاح فسخ کر دیں گے۔ اس ”عدالتی خلع“ پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے، لیکن اس فیصلے کے نتیجے میں تنسیخِ نکاح کا قانون یکسر غیر ضروری ہو گیا۔ اب وہ کاغذات میں موجود ہے لیکن اب اس پر فیصلے نہیں ہوتے (معطل ہو گیا۔ رفیق) معطل ہوگیا کیونکہ اگر مثال کے طور پر خاتون یہ کہتی ہے اسے نفقہ نہیں دیا جا رہا، تو ایک تو اسے ثابت کرنا ہوگا۔ اس کو کہتے ہیں یہ fault based ہے، یعنی آپ نے fault، غلطی، ثابت کرنی ہوگی دوسرے فریق کی۔ دوسرا یہ کہ اگر وہ نان نفقہ دینے پر آمادہ ہو جائے اور اپنی راہیں راہ سیدھی کر لے، تو فسخِ نکاح کا سبب ختم ہو جاتا ہے۔ اور بھی مسائل ہیں۔ یہاں تو آپ نے سیدھا سادا راستہ بنا لیا کہ بس خاتون آتی ہے اور وہ کہتی ہے کہ اسے نہیں رہنا، تو اسے کوئی اور سبب بتانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔

بعد میں جنرل مشرف نے فیملی کورٹس ایکٹ میں بھی ایک تبدیلی کی اور اس میں فیملی کورٹ کو پابند کیا کہ پہلی تاریخ میں ہی، اِدھر سے دعویٰ آ گیا، اِدھر سے جوابِ دعویٰ آ گیا، یہاں مدعیہ ہے، اور یہاں مدعا علیہ ہے، اگر ان کے درمیان اصلاح نہیں ہو سکی تو عدالت پر لازم ہے کہ وہ نکاح فسخ کر دے۔ اس نے ایک طرح سے یوں کہیں اس خلع کو automatic، خود کار، کر دیا۔ اب بھی فیملی کورٹس اس میں کچھ تذبذب کا اظہار کرتی ہیں، لیکن اگر قانون کے لفظ پر غور کریں تو اس میں عدالت کے لیے کوئی گنجائش نہیں، اس نے لازماً‌ دینا ہی دینا ہے۔

اس سے یہ مسئلہ بھی ہوا کہ مہر کا کیا ہوگا، اور وہ عوض کیا ہوگا جو شوہر کو دیا جائے گا؟ بیوی مہر کا پچیس فی صد یا پچاس فیصد لوٹائے گی یا پورا لوٹائے گی؟ اب عدالتیں کرتی کیا ہیں؟ نکاح تو ختم کر دیتی ہیں؛ اور مہر کا جھگڑا چلتا رہتا ہے، کہ مہر ادا کیا گیا تھا یا نہیں، جہیز کا سامان کتنا تھا، واپس کیا گیا یا نہیں، وغیرہ۔

میں نے یہ تین الگ قوانین آپ کے سامنے رکھے: عائلی قانون ، تنسیخِ نکاح قانون اور فیملی کورٹس ایکٹ ۔ ان تینوں کے ساتھ مل کر ہمارے سامنے بڑا مسئلہ عدالتی خلع کا بنتا ہے۔

آپ نے پوچھا تھا کہ شریعت کورٹ نے کیا کیا ہے؟ میں نے شریعت کورٹ میں اس مقدمے کا ذکر کیا تھا جس میں زمانہ طالب علمی میں میں نے عدالت کی معاونت کی تھی، لیکن میں نے صرف یتیم پوتے کی وراثت والی دفعہ 4 کے متعلق دلائل دیے تھے ۔ اس مقدمے میں دفعہ 6 بھی زیرِ بحث آئی تھی جس میں دوسری شادی کے لیے ثالثی کونسل کی اجازت ضروری قرار دی گئی ہے۔ دیگر لوگوں کے دلائل کے تجزیے کے بعد شریعت کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ یہ قانون شریعت سے متصادم نہیں ہے۔ البتہ اس نے یتیم پوتے کی وراثت کے متعلق دفعہ 4 اور طلاق مؤثر کرنے کے طریقِ کار کے متعلق دفعہ 7 کو شریعت سے متصادم قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دسمبر 1999ء سے اپیلیں معلق ہیں، یعنی 25 سال ہو گئے ہیں اور اس کی سماعت نہیں ہو رہی۔ بہرحال شریعت کورٹ کہہ چکی ہے کہ دفعہ 6 شریعت سے متصادم نہیں ہے۔ اسی طرح ایک اور مقدمے میں شریعت کورٹ نے عدالتی خلع کو بھی جائز کہا ہے اور قرار دیا ہے کہ یہ بھی شریعت سے متصادم نہیں ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ جب عدالتی خلع، جس کے لیے کسی سبب کی ضرورت نہیں ہے، اس کے متعلق شریعت کورٹ نے قرار دیا ہے کہ یہ شریعت سے متصادم نہیں ہے، تو ایسی صورت جس میں خاتون کے پاس کوئی سبب موجود ہو، اس کو شریعت کورٹ کیسے ناجائز کہے گی؟ اس لیے جب اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب نعیمی صاحب نے ذکر کیا کہ یہ فیصلہ ملکی قانون کے تو مطابق ہے لیکن شریعت سے متصادم ہے، تو میں نے اس پر لکھا تھا کہ شریعت سے یہ متصادم ہے یا نہیں، یہ تو مستقل سوال ہے، لیکن یہ بحث اس فیصلے سے نہیں شروع کرنی چاہیے، یہ پیچھے سے شروع کرنی ہے کیونکہ جب تک آپ عدالتی خلع والے معاملے کو حل نہیں کرتے، یہ مسئلہ بھی لا ینحل رہے گا۔ عدالتی خلع کے لیے تو کسی سبب کی ضرورت نہیں ہے، یہاں تو سبب موجود ہے۔ اس عدالتی خلع بلاسبب کو شریعت کورٹ جائز قرار دے چکی ہے، تو یہاں خلع یا فسخِ نکاح بالسبب کو وہ کیسے غلط کہے گی؟ عدالتی خلع کا تو سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ وہ طلاق ہے یا فسخ ہے؟ اس نے تو دونوں کو خلط ملط کر دیا ہے اور طلاق اور فسخ کا فرق ہی ختم کر دیا ہے۔

پس اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کو آپ فسخِ نکاح کا سبب مان لیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بلا سبب بھی عدالت نکاح فسخ کر سکتی ہے۔ اس لیے اگر ہدف بنانا ہے تو اُس کو ہدف بنائیں۔

باقی رہا یہ سوال کہ شریعت سے متصادم ہے یا نہیں ہے، تو ہمارے نظام میں اس کا فیصلہ شریعت کورٹ کرتی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل تو اپنی رائے دیتی ہے، اسے فیصلے کی حیثیت حاصل نہیں ہوتی۔ یہاں تو اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی نہیں رائے دی ہے، بلکہ صرف چیئرمین صاحب نے رائے دی ہے۔ ٹھیک ہے وہ اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس بلائیں اور اس پر کونسل کی رائے بھی آ جائے، تو بہت اچھی بات ہے، لیکن قانونی پوزیشن یہ ہے کہ کیا چیز شریعت کے مطابق ہے اور کیا نہیں ہے؟ اس سلسلے میں شریعت کورٹ کا فیصلہ نافذ ہوتا ہے، الّا یہ کہ شریعت ایپلیٹ بینچ اسے ختم کر دے۔ اب چونکہ یہ معاملہ شریعت ایپلیٹ بینچ میں معلق ہے تو ساری توانائی اس پر مرکوز کرنی چاہیے کہ شریعت ایپلیٹ بینچ فیصلہ کرے۔ بے شک آپ اس کو اپنی رائے کا قائل کرنے کی کوشش کریں تاکہ وہ آپ کی رائے کے مطابق فیصلہ دے دے۔ اس کے بعد ہم یہ کہیں گے کہ اب، شریعت سے متصادم ہے یا نہیں، اب یہ والا فیصلہ نافذ ہو گیا۔ تو فی الوقت تو آپ کی جو رائے ہے وہ آپ کی انفرادی رائے ہے، اگر کونسل نے بھی اس کو اپنا لیا، تو یہ کونسل کی رائے بن جائے گی، لیکن فیصلے کی حیثیت تو بہرحال شریعت کورٹ کے فیصلے کو ہو گی، یا شریعت ایپلیٹ بینچ کے فیصلے کو ہو گی، یعنی اس فیصلے کی کہ کیا چیز شریعت سے متصادم ہے اور کیا نہیں ہے۔

https://youtu.be/PXcGGfZugQo
اقساط

(الشریعہ — فروری ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — فروری ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۲

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۸)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۲)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۲)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۳)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۲)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

غلامی اور اسلام
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مذہبی القابات اور ہماری بے اعتدالیاں
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۱)
پروفیسر خورشید احمد

قائد اعظم کے افکار اور آج کا پاکستان
ڈاکٹر محمد طاہر القادری

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کا مسئلہ
مولانا فضل الرحمٰن خلیل

The Demands of Our Geographical Defence
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’اسلامی قانونِ وراثت‘‘
ڈاکٹر قبلہ ایاز
ڈاکٹر انعام اللہ
اسلامی نظریاتی کونسل

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

افغانستان میں نیا فوجداری قانون: حقیقت اور افسانے کے بیچ!
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ائمہ مساجد کے لیے حکومتِ پنجاب کا وظیفہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا حافظ عامر حبیب

جامعہ اشرفیہ لاہور کا مدارسِ دینیہ کنونشن اور تعزیتی دورہ
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

کہوٹہ لاء کالج میں علامہ زاہد الراشدی صاحب کے دو اہم خطبے
سید علی محی الدین شاہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter