رفیق اعظم بادشاہ
کل مضامین:
4
سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۴)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کے متعلق آئین کی دفعہ 203 ڈی، ذیلی دفعہ 2 میں جنرل ضیاء الحق نے 1984ء میں ایک شرط کا اضافہ کیا ۔ وفاقی شرعی عدالت بھی انھوں نے 1980ء میں بنائی، پھر اس شرط کا اضافہ بھی انھوں...
سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۳)
انگریز جب یہاں آئے، ہندوستان پر انہوں نے اپنا تسلط قائم کیا، برصغیر پر، تو ابتدا میں ان کی پالیسی یہ رہی کہ عائلی تنازعات، مسلمانوں کے قاضی خود ہی ان کا فیصلہ کریں، اور انگریز جج یہ مقدمات نہ سنے۔ پھر کچھ عرصے بعد انہوں...
سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۲)
میرا تعلق الحمد للہ ایک علمی گھرانے سے ہے، جو علمی بھی ہے اور اس کا عملی سیاست میں بھی کردار رہا ہے۔ میرے دادا مرحوم علامہ مفتی مدرار اللہ مدرار نقشبندی قائد اعظم کے قریبی ساتھیوں میں تھے۔ انھوں نے عملی طور پر اپنی سیاسی...
سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۱)
السلام علیکم، میں ہوں رفیق اعظم بادشاہ۔ آج بنوریہ میڈیا کے پوڈ کاسٹ میں ہمارے مہمان ہیں ہمارے ہر دل عزیز استاد پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد صاحب۔ ڈاکٹر صاحب نے حال ہی میں بطور سیکرٹری چیف جسٹس آف پاکستان خدمات سرانجام...
| 1-4 (4) |
