ایک مجلس میں استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی سے ائمہ مساجد کو پنجاب حکومت کی طرف سے پچیس ہزار روپے سالانہ وظیفہ دینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے چند قابل غور سوالات اٹھائے جن پر حکومت، مساجد کمیٹیوں اور ائمہ مساجد تینوں کو توجہ دینی چاہیے:
- مساجد کا انتظام ان کی کمیٹیاں کر رہی ہیں۔ مساجد کے لیے تعاون کی رقم ان کمیٹیوں کی بجائے ائمہ مساجد کو دی جا رہی ہے جس سے کمیٹیوں اور ائمہ کے درمیان غلط فہمیاں اور بے اعتمادی پیدا ہو گی اور مساجد کا نظام ڈسٹرب ہو جائے گا۔
- ائمہ مساجد کو یہ وظیفہ ملنے کے بعد کمیٹیوں کی طرف سے دی جانے والی تنخواہ اور مراعات دونوں خطرے میں پڑ جائیں گی اور اکثر و بیشتر انتظامی کمیٹیاں ائمہ کی تنخواہیں روک دیں گی۔
- اس وظیفے کی کوئی قانونی ضمانت نہیں ہے کہ یہ حکومت اسے مسلسل جاری رکھے گی اور اس کی بھی کوئی قانونی گارنٹی نہیں ہے کہ اگلی حکومت یہ سلسلہ قائم رکھے گی، جس سے ائمہ مساجد فضا میں معلق ہو کر رہ جائیں گے۔
- اس وظیفہ کے ساتھ یہ بھی مختلف ذرائع سے کہا جا رہا ہے کہ ائمہ و خطباء کو اپنے بیانات و خطبات میں حکومتی پالیسی اور ہدایات کی پابندی کرنا ہو گی جس سے اس وظیفہ کی حیثیت ائمہ مساجد و خطباء کی زبان بندی کے مترادف ہو جائے گی اور وہ آزادی کے ساتھ دینی احکام و مسائل بیان نہیں کر سکیں گے۔
- حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اور ان کی پالیسیاں بھی ساتھ ہی بدل جاتی ہیں، جس کی وجہ سے ہر پانچ دس سال کے بعد ائمہ و خطباء کو بھی اپنے بیان و خطاب کا موضوع اور موقف تبدیل کرنا پڑے گا اور اس سے خود دین اور اس کے احکام و مسائل بازیچۂ اطفال بن کر رہ جائیں گے جو شریعت کی روح کے منافی ہے۔
- حکومت اگر اس معاملہ میں سنجیدہ ہے اور فی الواقع دین اور علماء کرام کی خدمت کرنا چاہتی ہے تو ہمارے تمام تر اختلاف کے باوجود اس کا صحیح راستہ یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ذریعہ باقاعدہ قانون سازی کر کے مساجد اور ائمہ کی کم از کم تنخواہ اور دیگر ضروریات کا تعین کر کے ان کی انتظامی کمیٹیوں کو اس کا پابند بنایا جائے اور تعاون کی رقم اس کے ساتھ مشروط کر کے ان کمیٹیوں کو فراہم کی جائے۔
- مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کو محکمہ اوقاف کے تحت لانے کی بجائے سوسائٹی ایکٹ کے تحت ان کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا جائے اور اس کے مطابق چلنے والی کمیٹیوں کو بجلی و گیس کے بلوں میں سہولت او ردیگر ضروری معاملات میں مالی تعاون فراہم کیا جائے، ورنہ اس کے علاوہ کوئی بھی صورت عملاً مساجد کے نظام کو ڈسٹرب کرنے او رافراتفری کا ماحول پیدا کرنے کا باعث ہو گی۔