ویڈیو کا تعارفی نوٹ: 23 مارچ 2017ء کو انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز (IPS) کی ٹیم اور اس کے رفقاء کے لیے ایک فیملی گیٹ ٹو گیدر اور فکری نشست کا اہتمام کیا گیا، جس میں آئی پی ایس کے بانی چیئرمین پروفیسر خورشید احمد صاحب نے خصوصی شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد ایک طرف یومِ پاکستان منانا تھا تو دوسری طرف پروفیسر صاحب کی زبانی تحریکِ پاکستان کی یادیں، قیامِ پاکستان کے احوال، اور ملک و ملّت اور عالمِ اسلام کے لیے ان کی تاحیات خدمات پر گفتگو کرنا تھا۔ اس اجتماع کی ایک اور انفرادیت یہ تھی کہ پروفیسر صاحب 23 مارچ 1932ء کو پیدا ہوئے تھے، اس لحاظ سے یہ ان کی 85ویں سالگرہ کا موقع بھی تھا۔
جناب خالد رحمان:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ آپ سب کو میں خوش آمدید کہتا ہوں، اپنی جانب سے بھی اور IPS (انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز) کے سارے ساتھیوں کی جانب سے بھی۔ ویسے تو آپ سب بھی آئی پی ایس ہی ہیں، اس لیے اس معنیٰ میں آپ اس تقریب میں اپنے آپ کو مہمان کی بجائے میزبان سمجھیں تو بھی [صحیح] ہے۔ اس تقریب کا ایک خصوصی حوالہ تو یہی ہے کہ ہم پروفیسر خورشید صاحب کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں اور ان سے کچھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ اس اعتبار سے ایک دلچسپ موقع ہمارے لیے ہے کہ جیسے کسی بچے کے ساتھ ہوتا ہے کہ جب آپ اسے کھلونوں کی دکان پہ لے جائیں، تو وہ تو ہر کھلونا خریدنا چاہتا۔ اور مشکل یہ ہوتی ہے کہ والدین تو ایک، زیادہ سے زیادہ دو کھلونے دلوانا چاہتے ہیں۔ ہمیں بھی یہ لگتا تھا کہ ہم آج بہت سارے کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن تقریب تو ایک ہی ہونی ہے۔ اسی لیے آپ کو جو دعوت نامہ ملا ہو گا، آپ نے شاید محسوس کیا ہو کہ اس کا ایک تاثر یہ تھا کہ ہم میں سے ہر ایک کو جیسے خورشید صاحب کے بارے میں کچھ بات کرنی ہو گی، یا بہت سے لوگوں نے یہ تاثر لیا۔ اور ہمیں بھی اس کا احساس ہوا جب بعض لوگوں نے اس حوالے سے بات چیت کی کہ اچھا، کیسے ہو گا پروگرام؟ ہمیں لگا کہ وہ توقع کر رہے ہیں کہ انہیں بھی بولنے کا موقع ملے گا کہ خورشید صاحب کو وہ کیسے دیکھتے ہیں۔ تو حقیقت میں ایک خواہش ہماری یہ تھی تو سہی لیکن شاید ہم اسے آج پورا نہیں کر سکیں گے۔
ایک اور بات یہ کہ آپ کو معلوم ہے آج تئیس مارچ ہے، یومِ پاکستان ہے۔ تو پاکستان ہم سب کی پہچان ہے اور تئیس مارچ پاکستان کی پہچان ہے۔ تو ہماری خواہش یہ بھی تھی ہم تئیس مارچ کے موقع پر جمع ہو جائیں۔ ایک اور بات یہ بھی ہمارے ذہن میں کافی عرصے سے تھی، اس سے پہلے بھی ایک دو بار ہم نے، آئی پی ایس سے وابستگان جو ہیں، ان کی فیملی گیٹ ٹو گیدر کی، کہ یہاں پہ ایک بار پھر ایسا موقع نکالیں اور فیملیز کی گیٹ ٹو گیدر ہو ، آئی پی ایس میں جمع ہوں ایک بار پھر۔
اور ایک اور پہلو یہ تھا کہ خورشید صاحب، آپ کو معلوم ہے، اپنی صحت کی وجہ سے بھی اور بعض دوسرے مسائل کی بنا پر گزشتہ کافی عرصہ اسلام آباد نہیں رہے۔ اب کوئی چھ مہینے سے یہاں موجود ہیں۔ اور جب خورشید بھائی آ رہے تھے یہاں تو ہمارا خیال تھا کہ ہم بہت سی نشستیں منعقد کریں گے۔ بہت سے دوست احباب جو ذکر کرتے تھے، مختلف موضوعات پہ، لیکن خدا کا کرنا یہ ہوا کہ یہاں رہتے ہوئے بھی صحت نے ساتھ نہیں دیا۔ اور خورشید صاحب نے آپریشن کرایا تھا آنکھ کا، اس میں اتفاق سے کچھ کمپلیکیشن ہو گئی، اور ابھی تک بھی وہ فُلی اس معنی میں آنکھ ریکور نہیں ہوئی۔ اور اب چند دن کے بعد خورشید بھائی جو ہیں وہ پھر دوبارہ ملک سے باہر جا رہے ہیں۔
تو ہم نے سوچا کم از کم ایک موقع ایسا نکال لیں کہ جس میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ ملاقات ہو جائے۔ اور یہ ملاقات اس طرح ہی ہو کہ آج ذہنوں میں جو بہت سے سوالات لوگوں کے آتے ہیں، پاکستان کے حوالے سے، اسلام کے حوالے سے، نوجوانوں کے حوالے سے۔ ان سوالات پر ہم خورشید صاحب کو دعوت دیں کہ وہ کچھ گفتگو ہمارے سامنے رکھ سکیں۔ اور یہ ایک طرح سے ان کا وژن بھی ہے، ان کی جانب سے رہنمائی بھی ہے جو ہمیں مل جائے گی۔ اور اس کے بعد آپ کے سوال جواب بھی ہو جائیں گے۔
لیکن جیسے میں نے کہا، وہ کھلونوں کی دکان پہ آ کے بہت سارے کھلونے بچے لینا چاہتے ہیں، تو مجھے بہت خوشی ہے کہ اکرم ذکی صاحب بھی ہمارے درمیان تشریف فرما ہیں۔ اور اکرم ذکی صاحب کی ایک بہت اچھی نظم کچھ عرصے قبل میری نگاہ سے گزری تھی۔ شاید بہت سے لوگوں کو علم نہ ہو کہ اکرم ذکی صاحب، باقاعدہ کلام بھی ہے ان کا، شاعری کرتے ہیں، اور جس طرح آپ ان کی گفتگو اور تقاریر سنتے ہیں، اسی طرح اس نظم میں بھی بہت عمدہ پیغام ہے نوجوانوں کے نام۔ تو میں نے ان سے درخواست کی کہ اس سے قبل کہ خورشید صاحب سے ہم سوال کریں، جو ندیم بھائی آپ کے سامنے پیش کر دیں گے، تو آپ کی اجازت سے ہم ذکی صاحب سے کہیں گے وہ اپنی نظم پیش کریں۔ تو ذکی صاحب آپ بیٹھ کے پیش کرنا چاہیں گے یا …
پروفیسر خورشید احمد: ہاں جی، بیٹھ کے ہی، آرام سے۔ (اتنے میں ذکی صاحب اپنی نشست سے اٹھ کھڑے ہوئے)۔
خالد رحمان: جیسے سہولت ہو۔ (ذکی صاحب مائیک پر تشریف لے آئے)۔ یہ نوجوانوں کے نام ہے اور اس اعتبار سے ذکی صاحب کھڑے ہو کے ہی پیش کرنا چاہیں گے۔
پروفیسر خورشید احمد: اچھا (قہقہہ)۔ (حاضرین بھی محظوظ ہوئے)۔
جناب اکرم ذکی:
پہلے تو میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ خورشید صاحب کو ان کی پچیسویں سالگرہ پر مبارکباد دیتا ہوں۔
پروفیسر خورشید احمد: پچاسی۔
حاضرین محظوظ ہوتے ہوئے: پچیاسویں۔
اکرم ذکی: پچاسی کو میں پچیس ہی سمجھتا ہوں۔ پچاس سال تو ایسے ہی گزر جاتے ہیں۔
خالد رحمان: اگر آپ اجازت دیں۔ ذکی صاحب یہ اس لیے کہہ رہے ہیں کہ اس کے نتیجے میں انہیں بھی چھبیس سال کا کہا جائے (ہر طرف قہقہے)۔
اکرم ذکی: مجھے یہ فخر حاصل ہے کہ ان کی پیدائش سے پہلے ان کے استقبال کے لیے میں اس زمین پہ آ چکا ہوا تھا۔ (حاضرین محظوظ ہوئے)۔ یہ بذاتِ خود ایک ادارہ ہیں۔ اور جو ادارہ انہوں نے بنا دیا ہے، وہ پاکستان کے بے شمار اداروں سے بہتر کام کر رہا ہے، تو میں اس کی بھی مبارکباد ان کو دینا چاہتا ہوں۔
میں نظم سنانے سے پہلے معذرت کروں گا: اسلام جو ہے وہ درمیانی راستہ بتاتا ہے۔ اور نہ ہمیں مغرب کی طرف جانے کی ضرورت ہے، اور نہ بہت پیچھے کی طرف۔ ہمارے کچھ علماء ہمیں اسلام سے پہلے کے دور میں لے جانا چاہتے ہیں۔ تو جو میرا ریفرنس ہے، وہ ان کے لیے ہے۔ تو یہ نظم بچوں کے لیے لکھی تھی، کچھ عرصہ [پہلے]، قائد اعظم کی وفات پر۔
مغرب کے طلسمات سے باہر نکلو
ملّا کی خرافات سے باہر نکلو
آزادئ افکار کی روشن کرو مشعل
ماضی کے توہمات سے باہر نکلو
نئے اپنی ترقی کے طریقے ڈھونڈو
فرسودہ رسومات سے باہر نکلو
اب کوئی مسیحا نہیں آنے والا
امیدِ کرامات سے باہر نکلو
تقدیر کی تعمیر ہے میدانِ عمل میں
گلیوں سے مکانات سے باہر نکلو
امن اور محبت کا اٹھا کر پرچم
خون ریز فسادات سے باہر نکلو
اللہ سے بھی مانگو خود بھی کرو ہمت
بگڑے ہوئے حالات سے باہر نکلو
تقدیر کے گھوڑے کی لگامیں تھامو
مایوسی کی ظلمات سے باہر نکلو
نئے عزم سے تاروں پہ کمندیں ڈالو
اور حدِ سماوات سے باہر نکلو
تخلیق کے کھل جائیں گے اسرار و رموز
منزل کو چلو ذات سے باہر نکلو
پروفیسر خورشید احمد: بہت خوب، بہت خوب، جزاک اللہ، بہت خوب۔
جناب ندیم:
بہت شکریہ سر۔ اصل میں جو سوالات ہم نے خورشید صاحب کے لیے ترتیب دیے ہیں، وہ بنیادی طور پہ قائد اعظم کا جو خطبۂ لاہور ہے، 1940ء کا جو اجلاس ہوا تھا، اس کے اندر سے ایک اقتباس ہے جو میں چاہتا ہوں کہ آپ کے سامنے بیان کر دوں، اور اس کے بعد پھر وہ سوالات پیش کروں۔ قائد اعظم نے یہ کہا تھا کہ:
’’قوم کی ہر تعریف کے مطابق مسلمان ایک قوم ہیں۔ ان کا اپنا وطن ہے، علاقہ ہے اور اپنی ریاست ہے۔ ہم اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن اور ہم آہنگی سے رہنا چاہتے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ ہم اپنے لوگوں کا آزاد اور خودمختار تشخص برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ ہمارے لوگ اپنی روحانی، تہذیبی، معاشی، سماجی اور سیاسی زندگی کو اپنی سوچ اور نظریات کے مطابق اس طرح استوار کریں جیسا کہ وہ چاہتے ہیں۔ ہماری قوم اپنے مقصد اور منزل کے حصول کے لیے کسی قسم کی دھمکی یا خطرات سے مرعوب نہیں ہو گی۔ میں اپنے لوگوں سے التجا کروں گا کہ تمام تر مشکلات اور مسائل کے باوجود ہمیں ہر اس قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے جو اس مقصد کو پانے کے لیے ضروری ہے۔‘‘
اس اقتباس کی روشنی میں کچھ سوالات ہم نے ترتیب دیے کہ جن کا جو تعلق ہے، وہ پاکستان سے، امتِ مسلمہ سے، نوجوانوں سے، خواتین سے، اور علم و تحقیق سے ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے کے طور پر وجود میں آیا تھا جو دنیا بھر کے لیے اسلام کے موجود دور میں قابلِ عمل بلکہ مفید اور بابرکت ہونے کا ثبوت پیش کرے۔ تاہم داخلی معاملات کے علاوہ بیرونی طور پر بھی دنیا میں آنے والی تبدیلیوں نے ایک ایسے عالمی نظام کو جنم دیا ہے جس میں ایک مختلف بلکہ متضاد نظام کا قیام مشکل نظر آتا ہے۔
- اس منظرنامے میں جو پہلا سوال ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی نگاہ میں پاکستان کو درپیش بڑے چیلنجز کیا ہیں اور ان چیلنجز کی موجودگی میں آپ مستقبل کا منظرنامہ کیا دیکھتے ہیں؟
- ہم ایک وسیع تر تناظر میں یہ جاننا چاہیں گے کہ مسلم دنیا اس وقت جس انتشار کا شکار ہے، اور خود اسلام کو مسلم معاشروں ہی میں جن سوالات کا سامنا ہے، ان کا بہتر جواب کیا ہے؟ نیز مغرب کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے تعلقات کے حوالے سے کیا نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت ہے؟
- یہ کچھ پیغام تو نوجوانوں کے لیے، ابھی ہمیں بہت عمدہ ایک پیغام ملا، لیکن ہمارے سوالوں میں بھی یہ اس انداز میں شامل ہے کہ نوجوان اپنی تعداد کے حوالے سے مسلم دنیا کا ایک بڑا سرمایہ ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں کے لیے بالخصوص آپ کیا نصیحت فرمائیں گے؟
- چوتھا سوال یہ ہے کہ مسلم معاشروں میں خواتین کا مقام اور کردار ہمیشہ سے مسلّمہ ہے۔ اِس وقت خواتین کا سماجی کردار تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ایسے میں خواتین کے حوالے سے معاشرے کا اور خود خواتین کا نقطۂ نظر اور اندازِ فکر و عمل کیا ہونا چاہیے؟
- اور آخری سوال کہ جو آپ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو ہے، علم و تحقیق کسی بھی تہذیب اور معاشرے کی ترقی کے لیے اہم ہیں، اس میں کھویا ہوا نشانِ راہ پانے کی کیا سبیل ہے؟
یہ بعض سوالات ہیں، ہماری خواہش ہو گی کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم اپنی رہنمائی کے لیے آپ سے درخواست کریں۔
پروفیسر خورشید احمد:
شکریہ بہت۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین، اما بعد، اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم، رب اشرح لی صدری ویسر لی امری واحلل عقدۃ من لسانی یفقہوا قولی۔
برادرانِ عزیز خالد رحمان، ندیم، میرے نہایت ہی عزیز محترم اور قابلِ احترام ساتھیو اور بھائیو، بہنو، بیٹیو! سب سے پہلے تو میں آپ کا اور خاص طور سے آئی پی ایس کے تمام ساتھیوں کا شکریہ ادا کروں گا کہ انہوں نے اس محفل کا انتظام کیا اور آپ نے شرکت کی۔ میں آپ کا بے حد ممنون ہوں۔ دیکھیں، سچی بات یہ ہے کہ میری زندگی سرپرائزز سے بھری ہوئی ہے۔ لیکن جب خالد رحمان بھائی نے مجھ سے کہا کہ ہم اس تئیس دسمبر (مارچ) کو ایک پروگرام کر رہے ہیں، آپ اس میں آئیں۔ تو میں نے کہا، سر آنکھوں پر۔ تو جب انہوں نے کہا کہ یہ تو آپ کی برتھ ڈے بھی ہے، تو میں تعجب میں پڑ گیا، میں نے کہا کہ یہ اڑتیس سال کے بعد کیسے یاد آ گیا ہمارے ساتھیوں کو! [آئی پی ایس کا قیام 1979ء میں ہوا]۔اور پھر جب نوفل کا ای میل دیکھا تو پھر میں گھبرایا کہ یہ تو فی الحقیقت ایک دھماکہ خیز موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ تو یہ میرے لیے ایک سرپرائز تھا۔
اس پہلو سے بھی کہ اس پچاسی سال میں اللہ کا بڑا کرم، اس کی عنایت ہے کہ اس نے مجھے یہ موقع دیا۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اس طریقے سے کوئی محفل منعقد ہو رہی ہے۔ بچے ضرور گھر پر مجھے مبارکباد دیتے رہے ہیں…کیک کھلاتے رہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر کبھی ہمارے ہاں یہ چیز نہیں ہوئی۔ اور غالباً اس کی وجہ یہی ہے کہ، یہ گویا کوئی غلط چیز نہیں ہے، لیکن بحیثیت مجموعی ہماری تاریخ کی روایت یہ نہیں ہے۔ ہماری تاریخ کی روایت اگر کوئی ہے تو وہ تو وہ ہے جو ایک شعر میں کسی نے سمو دیا ہے کہ؎
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
خالق نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی
یعنی جو مدت آپ لے کے آئے ہیں اللہ کے حضور سے، اور جو موقع آپ کو اس مہلت سے اور اس اپرچونیٹی سے فائدہ اٹھانے کا ہے، اب اس میں اور کمی ہو گئی ہے۔ تو خالق نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی۔ تو یہ ہماری روایت رہی ہے۔ لیکن بہرحال زمانے کا چلن ہے، دستور ہے، آپ نے بھی اس کا انعقاد کیا۔ میں بے حد ممنون ہوں، بہت بہت شکریہ۔
دوسری سرپرائز آپ نے دی سوالات کی شکل میں۔ اس پر مجھے یاد آیا کہ امیر خسرو، جو بڑے مشہور شاعر، بذلہ سنج، ادیب اور … ہیں، تو وہ ایک مرتبہ کسی دیہات میں گئے۔ پیاس لگی، کنویں پہ گئے پانی پینے کے لیے۔ کنویں پہ قبضہ تھا خواتین کا، اور وہ ان کو آگے نہیں بڑھنے دیتی تھیں۔ تو انہوں نے کہا کہ اب میں آپ سب کے جانے کا انتظار کروں، اس میں تو بڑا وقت لگے گا، مجھے موقع دیں کہ میں پانی پی لوں۔ اس اثنا میں کچھ نے پہچان لیا ان کو اور آپس میں کھسر پھسر شروع کر دی کہ یہ تو خسرو ہے، اس سے کہو پہلے کچھ ہمیں سنائے، پھر ہم اس کو موقع دیں گے۔ تو ایک نے فرمائش کی، موضوع دیا ان کو: ’’کھیر‘‘۔ دوسری نے کہا: ’’چرخا‘‘۔ تیسری نے کہا: ’’کتا‘‘۔ چوتھی نے کہا: ’’ڈھول‘‘۔ کہ پہلے ہمیں اس کے بارے میں کچھ کہو، پھر ہم لوگ اجازت دیں گے۔ تو امیر خسرو جیسا بذلہ سنج کہاں کون ہو سکتا تھا۔ انہوں نے فوراً کہا کہ ؎
کھیر پکائی جتن سے، چرخا دیا جلا
آیا کتا کھا گیا، تو بیٹھی ڈھول بجا
لا پانی پلا۔ لیکن میرا ساتھ یہ ہوا، انہوں نے چار نہیں پانچ سوال دے دیے۔ بہرحال میں کوشش کرتا ہوں کہ مختصراً ان کے بارے میں کچھ گزارشات پیش کروں۔ اور اس کا آغاز میں اس بات سے کرتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو بڑا خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک ایسے گھر میں پیدا کیا جو مسلمان گھرانہ ہے۔ کہیں بھی پیدا ہو سکتا تھا اور کچھ بھی میری قسمت ہو سکتی تھی۔ پھر ایسے ماں باپ اور گھر کا ماحول میسر کیا جس نے شروع ہی سے میری تربیت ایک خاص رُخ پر کی، اور وہ خیر کا اور اچھائی کا رُخ تھا۔ مجھے بالکل اپنے بچپن ہی میں علمی ادبی ماحول ملا۔ ہم قرول باغ میں رہتے تھے، جامعہ ملیہ قریب ہی تھی۔ اور ہر سال وہ محمد علی ٹرافی کمپی ٹیشن ہوا کرتے تھے۔ جس میں سپورٹس بھی تھے، نظم پڑھنے کا مقابلہ بھی ہوتا تھا، تقریر کا بھی ہوتا تھا، بچوں کے لیے، نوجوانوں کے لیے۔ میں نے سات آٹھ سال کی عمر میں نظم پڑھنے میں، مباحثوں میں حصہ لینے میں، اور سپورٹس میں شرکت کی۔ اور یہ جب ٹرافی کا ہوتا تھا تو تین دن کا پروگرام ہوتا تھا، وہیں ٹھہرنا پڑتا تھا اور زمین پر سونا ہوتا تھا، تو ایک کیمپنگ لائف تھی۔ یہ بڑے اہم تجربات تھے زندگی کے۔
پھر تحریکِ پاکستان، ہندو مسلم فسادات، آزادی کی تحریک۔ 1942ء میں آزادی کی تحریک کو قوت سے کچلنے کی برطانوی کوشش۔ پھر 1945ء / 1946ء کے انتخابات۔ میری پوری فیملی مسلم لیگ سے وابستہ تھی۔ میں بچوں کی انجمن کا سب سے ینگسٹ (کم عمر) صدر بنا تھا۔ اور بچہ مسلم لیگ کا دلی میں صدر منتخب ہوا۔ اینگلو عریبک ہائر سیکنڈری سکول میں میری سیکنڈری ایجوکیشن ہوئی، جو تحریکِ پاکستان کا مرکز تھا۔ اس کے بزمِ ادب کا مجھے سیکرٹری بننے کا شرف حاصل ہوا۔ اور ہر ہفتے کم از کم ہمارے جلوس آیا کرتے تھے اسمبلی کی طرف، پاکستان کی تائید کے لیے۔ الیکشن کی مہم میں شب و روز ہم نے کوشش کی۔ ڈاکٹر عبد الغنی قریشی ہمارے کینڈیڈیٹ تھے دلی میں، انہیں کامیاب کیا۔ میرے والد کے بہت گہرے دوست تھے وہ۔ یعنی یہ سب دور سے میں گزرا ہوں۔
پھر میں نے 3 جون کی تقریر بھی ریڈیو کے اوپر، اس زمانے میں ٹی وی نہیں ہوا کرتا تھا، اپنے کانوں سے سنی۔ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ پھر 3 ستمبر 1947ء کو مجھے اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔ اور گھر سے اس حالت میں ہم نکلے ہیں کہ ایک تانگے میں، جو کچھ ہمارے بدن پر تھا یا ہاتھوں میں تھا، بس اس کو لے کر ہم آگئے۔ اور پھر میرا گھر لُٹا، جلایا گیا۔ پھر جہاں ہم نے پناہ لی تھی، وہاں پر حملہ ہوا۔ اور کئی راتیں ایسی گزری ہیں کہ جس میں پوری پوری رات ہم جاگے ہیں، ایک مکان سے دوسرے میں۔ ایک رات مجھے یاد ہے کہ چھ جگہ ہم نے بدلیں ایک رات کے اندر۔ اور وہ رات وہ بھی تھی جس میں نے اپنی ناک سے خود انسانی چربی کے جلنے کی بدبو سونگھی ہے۔ پھر میں ایک مہینہ ریفیوجی کیمپ میں بھی رہا ہوں۔ ہمایوں کے قلعے پر جو کیمپ تھا، وہاں ہم رہے ہیں۔ وہاں ہم خدمت کرتے رہے ہیں۔ وہاں سے گاڑیاں جا رہی تھیں۔ پھر وہاں سے، چونکہ میرے والد الحمد للہ متمول لوگوں میں سے تھے، تو ہم نے پھر ہوائی جہاز سے آنے کا طے کیا۔ اور فیملی کا ایک حصہ دسمبر 1947ء، اور میں خود اور میرے والد اور میری والدہ 12 فروری 1948ء کو پاکستان منتقل ہوئے۔ اور اس کے بعد سے میں نے پھر وہ گھر یا وہ جگہ نہیں دیکھی۔ تو اِس سب دور سے میں گزرا ہوں۔ تو اس پہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مسلمان گھرانے میں مجھے پیدا کیا، اچھے گھرانے میں پیدا کیا، اور مجھے موقع اس نے دیا۔
پھر اس کے بعد جب ہم لاہور آگئے، تو میرے بڑے بھائی مجھ سے پہلے آ گئے تھے، انہیں ایف سی کالج میں داخلہ مل گیا۔ میں چونکہ آیا ہوں فروری میں، سال شروع ہو چکا تھا، تو مجھے کہیں داخلہ نہیں ملا۔ ایک ہی کالج تھا، ٹی آئی کالج، جو قادیانیوں کا تھا۔ اور ایف سی کالج کے بالکل پیچھے ایک ٹیمپریری جگہ تھی جہاں وہ کالج تھا۔ وہاں سے پھر وہ دیال سنگھ میں منتقل ہوئے۔ وہاں میں نے داخلہ لے لیا۔ اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ میرا دوسرا کلاس فیلو، بہار سے آئے ہوئے، وہ جو آج کل ڈاکٹر ای کیو، اقبال احمد، مشہور سوشلسٹ، جن کا انتقال ہو چکا ہے، ہم دونوں کلاس فیلو تھے اور اچھے دوست تھے۔ اور وہیں پر ہمیں پہلی مرتبہ سوشلزم اور اسلام کے بارے میں بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ اور ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ نوجوانوں کا مستقبل یا سوشلزم میں ہے یا اسلام میں۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ وہ سوشلزم کی طرف چلے گئے اور میں اسلام کی طرف آ گیا۔
1949ء میں پہلی مرتبہ مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے میں آشنا ہوا ہوں۔ الحمد للہ جو روایتی دینی زندگی ہے وہ ہم گزارتے تھے، لیکن یہ ذہن کہ اسلام کیا ہے؟ اسلام کیسا انسان چاہتا ہے؟ اسلام کیسا معاشرہ چاہتا ہے؟ اسلام تاریخ کو کس سمت میں لے جانا چاہتا ہے؟ اس کا ہمیں کوئی زیادہ شعور نہیں تھا۔ یہ 1949ء کے وسط سے جمعیت سے تعارف، پھر 1950ء میں میں جمعیت کا رکن بنا ہوں، جنوری میں۔ فوراً ہی بعد دو یا تین مہینے کے اندر ناظم کراچی منتخب ہو گیا۔ پھر ناظمِ سندھ، پھر ناظمِ اعلیٰ …… دونوں موجود ہیں، جنہیں 1951ء، 1952ء میں میں نے، جب یہ سکول میں تھے، جمعیت کا جو پہلا سٹڈی سرکل بنا تھا، اس میں مسلم سجاد اور محبوب علی اور سب ساتھی … شریک تھے۔ تو اس طرح پھر تحریکی زندگی کا آغاز ہوا۔ اور اس کے بعد کی چیزیں آپ کے سامنے ہیں۔
تو پہلا اللہ کا کرم یہ ہے کہ اس نے مسلمان گھرانے میں پیدا کیا۔ دوسرا یہ ہے کہ ایسا گھرانہ جس میں بہرحال دین کا شعور تھا اور اس نے میری زندگی کو ایک بہتر رخ کے اوپر ڈالا۔ پھر اس نے مجھے تحریکِ اسلامیہ کو جاننے کی توفیق دی۔ اور اس سے بھی پہلے ایک اور چیز یہ کہ وہ دور مجھے ملا جس میں تحریکِ اسلامی موجود تھی۔ اس لیے کہ ہماری تاریخ میں ایسے ادوار بھی گزرے ہیں کہ جن میں اسلام تو تھا لیکن اسلام کے لیے جدوجہد اور اسلام کے لیے اجتماعی اور دعوتی، اور تبدیلی کی جو رَو ہے، وہ نہیں تھی یا کمزور تھی۔ تو مجھے وہ دور ملا۔ اور پھر مجھے یہ توفیق بھی نصیب ہوئی کہ میں اس تحریک سے وابستہ ہوا ہوں۔ اور میری یہی دعا ہے کہ آخری سانس تک اسلام اور اسلامی تحریک کے ساتھ میرا رشتہ استوار رہے۔
اس پس منظر میں آئیے، جو سوالات آپ نے اٹھائے ہیں، ان پر تھوڑا سا غور و فکر کریں۔ بلاشبہ آج یہ ایک ایکسیڈنٹ (اتفاق) ہے کہ میری یومِ پیدائش بھی یہی ہے۔ لیکن اصل چیز یہ ہے کہ مارچ کی اہمیت ہماری تاریخ میں کم از کم تین پہلوؤں سے ہے۔
(جاری)
