کہوٹہ لاء کالج قانون کی معیاری تعلیم دینے والا ایک ایسا ادارہ ہے جس نے مختصر عرصے میں اپنی ایک منفرد اور امتیازی شناخت اور پہچان قائم کی ہے اور ترقی کے سفر کی جانب گامزن ہے۔ اس کالج میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کے لئے نصابی مضامین کے ساتھ مزید وسعت نظر پیدا کرنے، علم کی مختلف اطراف و جہات سے انہیں آگاہی بخشنے، مختلف موضوعات پر عبور رکھنے والی مستند شخصیات سے استفادے کا ذوق پروان چڑھانے، اور اپنے خاص مضمون کے علاوہ باقی علمی دنیا سے بھی واقفیت پیدا کرنے کے لئے اہلِ علم شخصیات کے توسیعی خطبات کا ایک جاندار اور ٹھوس سلسلہ بھی قائم ہے جہاں مختلف ایام میں ملکی سطح کی شخصیات تشریف لاتی ہیں اور وہ شخصیات اپنے طویل تعلیمی تجربات اور مطالعے کے نتائج کا نچوڑ پیش کرتے ہیں اور طلباء و طالبات نہایت ذوق و شوق سے ان کے خیالات کو سن کر اپنے فہم و شعور میں اضافے کے ساتھ سوال و جواب اور تعمیری مکالمے کے ذریعے علم کے میدانوں میں آگے سے آگے بڑھنے اور بہتر سے بہتر کی تلاش کی جستجو کو جگاتے ہیں۔
تعلیم و تربیت اور سیکھنے و سکھانے کا یہ سارا عمل اور اسی طرز کے دیگر متعدد ادارے علم دوست شخصیت، تعلیمی میدان میں طویل اور گہرے تجربات کے حامل، مربیانہ اوصاف سے متصف، صاحبِ فکر و نظر اور اہل علم کے قدردان جناب صاحبزادہ ڈاکٹر ساجد الرحمٰن صاحب کی زیر سرپرستی چل رہے ہیں اور اِن اداروں میں اپنے فن اور موضوع کے لائق و فائق اساتذہ کرام، جناب صاحبزادہ عمیر ہاشم صاحب، اور اس کالج کے سی ای او جناب بیرسٹر صاحبزادہ عزیر ہاشم صاحب کی قیادت میں ہیرے تراشنے کی مشکل مہم کو سر کر رہے ہیں۔
توسیعی خطبات کے اسی سلسلے میں دورِ حاضر کے ایک نہایت اہم موضوع قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کے اصول و ضوابط اور بدلتے حالات میں ان بنیادی مصادر سے اعتقادی، عملی، سیاسی، سماجی، قانونی اور معاشی رہنمائی حاصل کرنے کے معتبر، معیاری، مستند اور درست طریقہ کار کی تشریح و وضاحت کے لئے، علومِ اسلامیہ کے نامور محقق، ماہرِ تعلیم، مشکل اور دقیق فنی مباحث کو ہر سطح اور درجہ رکھنے والوں کے لئے نہایت آسان اور عام فہم بنانے کی صلاحیت سے مالامال شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی صاحب بھی دو دن لیکچر پیش کرنے کے لئے تشریف لائے اور اپنے علم و فضل کے موتی بکھیرے۔ ستائیس و اٹھائیس جنوری کی اِن علمی نشستوں میں مولانا صاحب نے اس مشکل موضوع کا احاطہ معتدد اطراف سے کیا، اور مولانا راشدی صاحب نے اس حوالے سے اپنے گہرے مطالعے اور افکار کے نتائج کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ دلچسپ انداز و اسلوب میں سیرت و حدیث میں موجود واقعات کی مثالوں سے واضح فرمایا، اور دین کے تمام مسلّمہ مصادر کا ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہونے اور ان کی تشریح و تعبیر میں کسی ایک کو بھی نظر انداز کرنے یا تسلسل سے چلے آنے والے طریقہ کار سے انحراف کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں اور تضادات کو خوبصورت مثالوں سے واضح فرمایا۔
ان لیکچرز کی سماعت طلباء و طالبات نے پورے انہماک و استغراق کے ساتھ کی اور پھر ان کی جانب سے کیے جانے والے سوالات سے واضح ہوا کہ اس مضمون کو سمجھنے میں انہوں نے خاصی دلچسپی اور ذوق و شوق کا مظاہرہ کیا۔ اور دونوں دن آخر میں جناب صاحبزادہ ڈاکٹر ساجد الرحمٰن صاحب نے پوری گفتگو کا نچوڑ اور خلاصہ سامعین و سامعات کے سامنے رکھا اور مولانا راشدی صاحب کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اس دورے میں مولانا راشدی صاحب نے پورے ادارے کا تفصیلی معائنہ بھی فرمایا اور قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کے لئے اس ادارے کو ہر اعتبار سے ایک آئیڈیل اور مثالی ادارہ قرار دیا۔
————————
خطبات کے لنکس:
