آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۲)

آثار السنن پر اہل علم کے تبصرے

آثارالسنن کے متعلق عالم اسلام کے مشہور حنفی عالم و محقق علامہ زاہد الکوثری لکھتے ہیں:

’’وہا ہو العلامۃ مولانا ظہیر حسن النیموی رحمہ اللہ قد الف کتابہ (آثار السنن) فی جزاین لطیفین، وجمع فیہما الاحادیث المتعلقۃ بالطہارۃ والصلاۃ علی اختلاف مذاہب الفقہاء، وتکلم علی کل حدیث منہا جرحا وتعدیلا علی طریقۃ المحدثین، واجاد فیما عمل کل الاجادۃ، وکان یرید ان یجری علی طریقتہ ہذہ الی آخر ابواب الفقہ لکن المنیۃ حالت دون امنیتہ رحمہ اللہ۔ وہذا الکتاب مطبوع بالہند طبعا حجریا الا ان اہل العلم تخاطفوہ بعد طبعہ، فمن الصعب الظفر بنسخۃ منہ الا اذا اعید طبعہ۔‘‘14

مولانا ابومحفوظ الکریم معصومی لکھتے ہیں:

’’علامہ نیموی کی مشہور تصنیف آثار السنن اپنے خصائص و مزایا کے لحاظ سے شاہکار سمجھی جاتی ہے، علامہ نیموی کے پاس قلمی نوادر کا گراں بہا ذخیرہ تھا، جو ۱۹۴۶ء کے طوفانِ حوادث میں بالکل برباد ہوگیا، اور اب صرف اس کی یاد باقی ہے، انہوں نے مخطوطات کے تجسس میں کہاں کہاں کی خاک چھانی، اس کا اندازہ ان نسخ عتیقہ کے حوالجات سے معلوم ہو سکتا ہے جو آثار السنن کی تعلیق اور ان کے بہتیرے فروعی رسائل میں بکثرت نظر آتے ہیں، حدیث میں نیموی کا درجہ اتنا بلند تھا کہ حسبِ بیان مولانا سعید احمد صاحب اکبر آبادی عمید مدرسۂ عالیہ کلکتہ محدث نبیل علامہ جلیل حضرت شاہ انورکشمیری رحمۃ اللہ علیہ نیموی کو شوکانی پر ترجیح دیتے تھے’’۔

مفتی فیضان الرحمٰن کمال جنہوں نے آثار السنن کی توضیح و تشریح کی ہے، لکھتے ہیں:

’’غیر منقسم ہندوستان میں فقہ حنفی کے علمی دفاع میں اس کتاب کو اولیت حاصل ہے، علامہ ظہیر احسن المعروف بہ شوق نیموی نے بڑی جانفشانی سے کتاب و سنت کے گوشہ گوشہ سے مسائل فقہ حنفی کے ثبوت پر ناقابل تردید دلائل جمع کر دئے ہیں، کاش کہ آپ کی یہ تصنیف پایہ تکمیل کو پہنچتی، مگر بایں قدر بھی اللہ تعالیٰ کی جانب سے نعمت عظمیٰ اور فقہ حنفی کے لئے قیاس کن زگلستان من بہار مرا کا مصداق ہے‘‘۔15

آثار السنن کے اسلوب پر مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے بہت ہی عالمانہ محاکمہ کیا ہے، انہوں نے لکھا ہے:

آثار السنن کا اسلوب مقدسی کی کتاب العمدۃ، ابن تیمیہ کی منتقیٰ حافظ ابن حجر کی بلوغ المرام اور خطیب تبریزی کی مشکاۃ جیسا ہے لیکن نقدِ رواۃ اور بحثِ جرح و تعدیل میں اس کتاب کا اپنا امتیاز ہے جو اس کو ان کتابوں کے ساتھ ساتھ زیلعی کی نصب الرایہ، مرتضیٰ بلگرامی کی عقود الجواہر المنیفہ اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی فتح المنان سے بھی ممتاز کرتی ہے، لیکن ان تمام کتابوں میں آثار السنن کا اسلوب بلوغ المرام سے زیادہ قریب ہے۔
ان کے بقول علامہ شوق نیموی نے اس سے پوری طرح استفادہ کیا ہے، باون حدیثیں بھی وہی آثار السنن میں درج کی ہیں جو بلوغ المرام کے متعلقہ ابواب میں موجود ہیں، البتہ نقدِ رواۃ اور جرح و تعدیل میں حافظ ابن حجر سے تحقیق کے ساتھ اختلاف کیا ہے، اس کے بعد مولانا نے اس کی چند مثالیں بھی پیش کی ہیں، اس کے بعد انہوں نے بتایا ہے کہ بلوغ المرام ہی کی طرح حضرت نیموی نے کتابوں کا مکمل حوالہ دینے کے بجائے علامات کا استعمال کیا ہے۔16

مولانا نے اس پر استدراک بھی کیا ہے کہ ڈاکٹر عتیق الرحمٰن قاسمی نے اس کو حضرت نیموی کا وضع کردہ بتایا ہے جب کہ یہ اصطلاحات حافظ ابن حجر نے بھی استعمال کی ہیں۔ اس کے بعد بلوغ المرام پر مولانا نے آثار السنن کی فوقیت کے چند پہلو ذکر کئے ہیں، اور اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، جن میں موافق و مخالف روایات کا استخراج اور متعارض احادیث کے مابین تطبیق اہم ہیں۔

البتہ ایک اہم بات یہ ہے کہ آمین بالجہر کے سلسلہ میں ایک عبارت میں مولانا عتیق الرحمٰن کے ساتھ مفتی ثناء الہدیٰ صاحب کو بھی یہ مغالطہ ہوا ہے کہ یہ قول مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کا ہے۔ ایسا نہیں ہے، مولانا نے نذیر حسین سے علامہ نیموی کی ملاقات کا کوئی ثبوت بھی نہیں ملتا، اور پھر وہ اہل حدیث ہو کر ایک حنفی مسئلہ کی توثیق کیوں کر سکتے تھے، یہ علامہ نیموی کے بھائی نذیر احسن ہیں، جو مکمل عالم نہیں تھے لیکن متوسطات تک کی کتابیں پڑھی تھیں، مولانا عبدالرشید نے نیموی اپنے انہی چچا سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے۔

مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی کے بقول:

’’خالص محدثانہ اور فقہی رنگ حنفی نقطہ نظر سے ہندوستان میں جو پہلی کتاب لکھی گئی ہے جہاں تک مجھے معلوم ہے، آثار السنن ہے، میری نگاہ میں اس کتاب کی بہت قدر و قیمت ہے، اور یہ مولانا ظہیر احسن کا تصنیفی شاہکار ہے‘‘۔17

حضرت کشمیری کا یہ معمول تھا کہ جو طلبہ دیوبند اور ڈابھیل سے فارغ ہو کر نکلتے تھے تو وصیت فرماتے کہ ہر ایک کے پاس یہ کتاب ہونی چاہئے، تمام کتبِ رجال پر آثار السنن کو ترجیح دیتے، اور فرماتے حضرت نیموی کی تحقیق کی داد ہے۔18

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں:

’’مولانا ظہیر احسن شوق نیموی کی کتاب آثار السنن محدثانہ نقد و نظر اور مذہب حنفی کی تائید میں ایک بلند پایہ تصنیف اور ہندوستان کی فنِ حدیث کی تصنیفات میں ایک وقیع و جدید اضافہ ہے‘‘۔19

ان کے علاوہ کچھ تاثرات معاصرین کے اعترافات کے ذیل میں بھی گذر چکے ہیں۔

آثار السنن کی دوسری جلد مکمل ہو کر جب شائع ہوئی تو ان کے وطن کے مشہور اخبار ہفتہ وار الپنچ پٹنہ نے، جس سے ان کا بھی تعلق تھا، اس پر نہایت عمدہ تبصرہ لکھا جو آثار السنن ہی کے عنوان سے ۲۳ جنوری ۱۹۰۴ء کے شمارہ میں شائع ہوا، اور اسی سال حضرت نیموی کا انتقال بھی ہوگیا، وہ پوری تحریر حسبِ ذیل ہے:

’’خدا کا شکر و احسان ہے کہ اس وقت ہمارا صوبہ بہار علم و فضل میں کسی طرح دوسرے صوبہ سے کم نہیں ہے، گو علمِ دین کی تعلیم گاہیں بہت ہی کم ہیں، اور ہیں بھی تو تکمیل کے لئے ناکافی ہیں، اور ہمارا صوبہ لکھنؤ، دہلی، دیوبند، کانپور وغیرہ کے مدارس کا محتاج ہے، اور یہاں کے طلبہ کو تکمیل کے لئے پچھم جانا ہی پڑتا ہے، اس پر بھی اس صوبہ میں ایسے ایسے افراد موجود ہیں جن پر نہ صرف ہمارا صوبہ بہار بلکہ زمانہ ناز کرتا ہے، اور ناز کرتا رہے گا۔ اس وقت ہمارے صوبہ میں علماء کی تعداد اتنی کافی ہے کہ اگر محض وعظ و تصانیف سے قوم کے سدھارنے کا بیڑا اٹھالیں تو اس میں کوئی کلام نہیں کہ قوم سدھر جائے …… مگر ہاں جو علم کے مردِ میدان ہیں وہ اس وقت تک اپنی بیش بہا تصانیف سے زمانہ کو فیض پہنچا رہے ہیں۔ ان میں سے ہمارے فخرِ بہار علامہ زمن مولانا حکیم محمد ظہیر احسن صاحب شوق نیموی سلمہ اللہ القوی ہیں جن کی کتاب آثار السنن پر زمانہ جنتا فخر کرے کم ہے، اور احناف جتنا ناز کریں بجا ہے۔ ملک میں عموماً اور سلسلہ نصاب میں خصوصاً ایک ایسی کتاب کی کہ جس میں مختلف کتبِ احادیث سے وہ صحیح اور حسن حدیثیں جمع کی جائیں جو مذہب حنفی کی مؤید ہوں، سخت ضرورت تھی، جس کمی کو ہمارے فخر صوبہ بہار حضرت شوق نے پوری کی، جزاہ اللہ خیر الجزاء۔ اس وقت آثار السنن کے دونوں حصے ہمارے ہاتھ میں ہیں، ہم نے اس کے بعض بعض معرکۃ الآرا مقامات نہایت غور اور دلچسپی سے پڑھے، ایسا شافی اور کافی جواب لکھا ہے کہ سبحان اللہ! ہر بیان بجائے خود ایک مکمل کتاب ہے، اور ہر بحث قلّ ودلّ۔ آثار السنن اصل کتابِ حدیث ہے اور اس پر التعلیق الحسن عربی حاشیہ ہے۔ حدیث تو حدیث ہی ہے، تعلیق کی زبان عربی بھی ایسی پیاری ہے کہ سبحان اللہ! جابجا اس حاشیہ پر بھی حاشیہ ہے، جس کا نام تعلیق التعلیق ہے۔ دوسرا حاشیہ تو واقعی سونے میں سہاگہ ہے، ان حواشی میں محدثانہ ومحققانہ طور پر اکثر احادیث کے وہ علل غامضہ بیان کئے گئے ہیں، جن سے بڑی بڑی ضخیم کتابیں خالی ہیں۔ آثار السنن کے دیکھنے سے شبہ لگتا ہے کہ حضرت مولانا نے اس کتاب کی تالیف میں کیسی جاں کاہ محنت کی ہے، اور کس عرق ریزی اور دماغ سوزی سے اتنے مواد جمع کئے ہیں۔ پہلے حصے میں آمین، رفع یدین، قرات خلف الامام کے معرکہ الآرا مسائل کو اس وضاحت سے لکھا ہے کہ باید وشاید۔ شائقینِ علمِ حدیث اس کتاب کو ضرور دیکھیں، مسلمانوں کا کوئی گھر اور کوئی کتب خانہ ایسی فخرِ زمانہ کتاب سے ہرگز خالی نہ ہونا چاہئے۔ ہم حضرت مولانا کو ان کی اس اسلامی و دینی خدمت پر سچے دل سے مبارک باد دیتے ہیں، اور دعا کرتے ہیں کہ خدا آپ کو اس دینی خدمت پر صد و سی سال سلامت رکھے، آمین۔ آثار السنن دونوں حصے کی قیمت ایک ایک روپیہ ہے، اور جناب مولانا حکیم محمد ظہیر احسن صاحب شوق نیموی محلہ شاہ کی املی پٹنہ سے ملے گی۔‘‘

آثار السنن کی تالیف میں علامہ انور شاہ کشمیری کی شرکت

آثار السنن کے سلسلہ میں ایک معرکہ آرا بحث یہ بھی رہی ہے کہ اس کتاب کی تالیف و تصنیف میں علامہ شوق نیموی کے ساتھ علامہ انور شاہ کشمیری بھی شریک رہے ہیں، بلکہ اس کا آغاز درحقیقت علامہ کشمیری ہی کی ایک عبارت سے ہوگیا تھا جس کا جواب حضرت نیموی کے صاحبزادے مولانا عبدالرشید فوفانی نے دیا تھا۔

مولانا عبدالرشید فوقانی نیموی نے علامہ عبدالرحمٰن مبارک پوری کی ابکار المنن فی تنقید آثار السنن کا جواب دیتے ہوئے القول الحسن میں اس کا ذکر کیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:

’’فاقول واما ما قال الشیخ انور شاہ الکشمیری فی نیل الفرقدین فی مسئلۃ رفع الیدین فصل فی احادیث ترک الیدین ونبذ من الآثار وقد نقلت فیہ شیئا من التعلیق الحسن للشیخ النیموی مع ما زدت علیہ وکان الشیخ المرحوم حین تالیفہ ذلک الکتاب یرسل الی قطعۃ قطعۃ حتی انی کنت مرافقا فیہ وزدت علیہ اشیاء کثیرۃ بعدہ وانتہی کلامہ فمرادہ بلفز حین تالیفہ ہو بعد حین التالیف بتقدیر المضاف واقامۃ المضاف الیہ مقامہ یعنی کان الشیخ المرحوم بعد حین التالیف یرسل الی قطعۃ قطعۃ …… فلیس مراد الشیح الکشمیری ان النیموی قد ارسلہ الیہ حین تالیف ذلک الکتاب شیئا فشیئا وکیف فان الشیخ الکشمیری کان فی عہد تالیفہ آثارالسنن فی زمرۃ الطلبۃ ولم یکن فارغا من تحصیل العلوم فانہ فرغ فی السنۃ الثانیۃ عشر بعد الالف وثلاث مائۃ کما سیجئ بیانہ۔‘‘20

گرچہ اس سے پہلے انہوں نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے کہ مولانا عبد الرحمٰن مبارک پوری نے ابکار المنن یا کسی تحریر میں کسی اور اہل حدیث عالم نے ان کے کام کی اہمیت کم کرنے کے لئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہو کہ وہ تنہا ان کا کارنامہ نہیں بلکہ دیگر حنفی علماء بھی اس میں شریک ہیں۔

اس سلسلہ میں مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کی رائے ہے کہ زدت فیہ اشیاء سے ان کے حواشی کا مجموعہ الاتحاف لمذھب الاحناف مراد ہے۔21 یہ حواشی آثار السنن پر بہت جامع ہیں، اب تک مرتب ہو کر منظر عام پر نہیں آسکے ہیں لیکن مولانا یوسف بنوری، مولانا محمد میان سملکی اور علامہ کشمیری کے دیگر تلامذہ نے ان کے چند عکسی نسخے ان کی وفات کے بعد شائع کئے تھے جو متعدد اہلِ علم کے پاس ہیں اور اب انٹرنٹ پر بھی دستیاب ہیں۔

اس سلسلہ میں مولانا منظور نعمانی کی ایک تحریر بہت اہم ہے جو مذکورہ بالا حضرات کے پیش نظر نہیں تھی، اس سے اس پورے قضیے کا صحیح علم ہوتا ہے۔ مولانا منظور نعمانی لکھتے ہیں:

’’حضرت استاد [انور شاہ کشمیری] رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دن درس میں اس کتاب [آثار السنن] کے متعلق یہ واقعہ بیان فرمایا کہ جس زمانہ میں مولانا ظہیر احسن صاحب نیموی رحمۃ اللہ علیہ آثار السنن تالیف فرما رہے تھے انہوں نے اس کے کچھ اجزاء حضرت استاد رحمۃ اللہ علیہ (یعنی حضرت شیخ الہند) کی خدمت میں اس غرض سے بھیجے کہ کچھ ملاحظہ فرما کر مشورے دیں، اور جو اضافے فرمائے جا سکیں وہ اضافے فرما دیں، حضرت استاد رحمۃ اللہ علیہ نے ملاحظہ فرما کر وہ اجزاء واپس فرما دئے اور ان کو میرا پتہ لکھ دیا کہ آپ اس مقصد کے لئے اس پتہ پر خط و کتابت فرمائیں۔ میں اس زمانہ میں اپنے وطن (کشمیر) میں رہتا تھا، مولانا ظہیر احسن صاحب نے حضرت استاذ رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے مجھے خط لکھا اور اس طرح میری ان کی خط و کتابت شروع ہو گئی، اور پھر انہوں نے اپنی کتاب بھیجنی شروع فرمائی، جتنی لکھ لیتے تھے وہ مجھے بھیج دیتے تھے اور میں ان کے حکم کی تعمیل میں اضافے کرتا تھا۔ میں نے جو اضافے کئے وہ مقدار میں ان کی اصل کتاب سے زیادہ تھے، لیکن میرے یہ اضافے زیادہ معنوی بحثوں سے متعلق تھے کیوں کہ مولانا موصوف نے علل و اسانید کی بحثوں کے اضافہ کی گنجائش کسی کے لئے بہت کم چھوڑی تھی، مگر چوں کہ میری وہ معنوی بحثیں مولانا کے ذوق کی چیز نہیں تھی اور وہ اپنی کتاب میں خالص محدثین کے طرز پر علل واسانید ہی سے بحث کرنا چاہتے تھے، اس لئے انہوں نے میرے اس بات کے (یعنی علل واسانید کے متعلق) اضافے تو قبول فرمائے اور کتاب میں لے لئے لیکن معنوی مباحث تمام تر حذف کر دئے۔‘‘22

آگے مولانا نعمانی لکھتے ہیں:

’’ اس عاجز نے حضرت استاد سے یہ پوری بات درس میں خود سنی ہے، اور حضرت ہی کے ذریعہ یہ معلوم ہے کہ علامہ شوق نیموی جب تک رہے حضرت سے علمی مراسلت اور مشاورت کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ حضرت استاد رحمۃ اللہ علیہ ہی سے سنے ہوئے بعض جزئیات اس عاجز کو بھی یاد ہیں لیکن وہ خالص علمی باتیں ہیں اس مقالہ میں ان کا ذکر مناسب نہ ہوگا۔‘‘

اس سے بات واضح ہو جاتی ہے کہ اتحاف کے علاوہ موجودہ آثار السنن میں بھی کچھ اضافے علامہ کشمیری کے شریک ہیں لیکن وہ بہت زیادہ نہیں ہیں، اور نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت نیموی کا اپنا کوئی مقام نہیں تھا، کیوں کہ اس کے باوجود علامہ کشمیری ان سے جس طرح متاثر رہے اس کا اندازہ ان کے دو قصیدوں کے علاوہ ان کے تلامذہ کے مذکورہ بالا بیانات سے بھی کیا جا سکتا ہے جو اوپر گذر چکے ہیں۔ اور آثار السنن ہی وہ تصنیف ہے جس کی وجہ سے وہ حضرت نیموی سے متاثر ہوئے تھے۔

آثارالسنن کے ایڈیشن

آثار السنن کی پہلی جلد یعنی کتاب الصلاۃ حضرت نیموی نے تقریبا ۱۳۱۳ھ تک مکمل کر لی تھی جیسا کہ اوپر گذر چکا، لیکن انہوں نے اہلِ علم سے رائے لینا بھی شاید مناسب سمجھا ہوگا اور شاید اشاعت کے وسائل بھی نہ ہوں، اس لئے انہوں نے تبیان التحقیق کے نام اس اہم مباحث چند ورق میں شائع کئے تاکہ اہلِ علم رائے دے سکیں۔ اس کے بعد تقریباً‌ پانچ سال کے بعد ۱۳۱۹ھ میں اس کی پہلی جلد احسن المطابع پٹنہ سے شائع ہوئی۔ مولانا فوقانی نے اسی سنہ کا ذکر کیا ہے،23 مکمل کتاب ایک ساتھ چھپنے کے مصارف نہیں تھے اس لئے اس کو دو حصوں میں کر کے پہلی جلد شائع کر دی گئی۔ اسی سال ان کا بنگال کا سفر ہوا تو نواب ڈھاکہ نے واپسی میں کچھ ہدیہ پیش کرنا چاہا، حضرت نیموی نے ان سے عرض کیا کہ مجھے ہدیہ پیش کرنے کے بجائے آپ میری آثار السنن کا دوسرا حصہ چھپوا دیں، انہوں نے اس کا وعدہ کیا۔24 چنانچہ ۱۳۲۱ھ میں دوسرا حصہ بھی شائع ہوگیا، لیکن رئیس ڈھاکہ کی طرف سے نہیں، اس کی وضاحت آگے آئے گی۔25 اسی کے ایک سال کے بعد حضرت نیموی کی وفات ہوئی۔

آثار السنن کی طباعت کے متعلق مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے تفصیل سے اطلاع فراہم کی ہے، اور تلاش و تحقیق کے بعد تمام طباعتوں اور ایڈیشنوں کا جائزہ لیا ہے۔ چنانچہ ان کے مطابق آثار السنن کی پہلی جلد کی اشاعت ۱۳۲۱ھ میں احسن المطابع پٹنہ ہی سے ہوئی، لیکن یہ درست نہیں، یہ دوسری جلد کا سنہ اشاعت ہے۔ اس کو عبدالقادر مالک مطبع نے مصنف کی نگرانی میں عابد حسین سے کتابت کروا کر شائع کیا، اس میں طباعت کے اخراجات خود مصنف نے کسی اور کے تعاون سے ادا کئے تھے، وہ رقم اتنی نہیں تھی کہ پوری کتاب چھپ پاتی تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا، شاید اسی کی وجہ سے انہوں نے نواب ڈھاکہ سے دوسری جلد کی اشاعت کی گذارش کی تاکہ وہ کتاب چھپ سکے جیسا کہ انہوں نے اپنے سفرنامہ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ پہلی جلد کی اشاعت میں کوٹلی لوہاران ضلع سیالکوٹ (پنجاب پاکستان) کا مالی تعاون شامل تھا۔

اس میں علامہ نیموی نے جو اشتہار شائع کیا تھا وہ بہت اہم ہے اس لئے مکمل یہاں نقل کیا جاتا ہے:

’’واضح ہو کہ کئی برس سے یہ کتاب آثار السنن مع تعلیقات زیر تالیف ہے، چوں کہ اکثر احادیث کی تحقیق و تنقید میں محنتِ شاقہ ہوتی ہے اور مؤلف اس اثناء میں اکثر علائقِ گوناں گوں و عوارضِ مختلف میں مبتلا رہا، اس وجہ سے اس کتاب کی تالیف کا سلسلہ ہنوز آخر کتاب الصلاۃ سے نہیں بڑھا ہے، پیشتر مؤلف کا قصد تھا کہ پوری جلد اول کتاب الصلاۃ تک چھپوا کر شائع کی جائے مگر بوجہ کثرتِ مخارج و قلتِ مداخل زیور طبع کا پورا بندوبست نہ ہو سکا۔ آغازِ طبع میں دو ایک بار قیمت پیشگی کا اشتہار بھی دیا گیا تھا مگر اس کا نتیجہ بہت ہی کم ظاہر ہوا۔ کچھ دنوں کے بعد بعض مصالح کی وجہ سے یہ معاملہ نظر انداز کر کے جن کی قیمت پیشگی آئی تھی ان کو واپس کر دی گئی۔
بعض بعض حضرات خیر اندیشانِ مذہب نے اس کے طبع میں مالی اعانت بھی فرمائی۔ مگر وہ رقم چند اجزا کے لئے کافی تھی اور اس ضخیم کتاب کے چھپوانے میں زرکثیر درکار تھی، اس لئے مؤلف کا قصہ ناتمام ہی رہا، اور ادھر اکثر علماء زمانہ نے اپنا بے حد اشتیاق ظاہر فرما کر سخت تقاضا کرنا شروع کیا، ناچار جلد اول کے دو حصے کر کے حصہ اول جس میں اکثر ابواب کتاب الصلاۃ اور معرکۃ الآرا مباحث درج ہیں شائع کیا جاتا ہے۔‘‘

اس کا عربی خاتمہ حسبِ ذیل ہے، جو پہلی جلد کے اختتام پر فہرست سے پہلے حاشیہ پر ہے:

خاتمۃ الطبع 
الحمد للہ علی آلائہ والصلاۃ والسلام علی خیرانبیائہ، اما بعد فقد طبع الجزء الاول من الکتاب المستحسن الذی ہو من ابکارالمنن المسمی بآثارالسنن مع ما یتعلق بہ من التنقید والتحقیق المسمی بالتعلیق الحسن وتعلیق التعلیق علی ذمۃ المتمسک بذیل الاکابر ذی المعالی والمفاخر المولوی محمد عبدالقادری بالمطبعۃ القاردیۃ المسماۃ باحسن المطابع الواقعۃ فی عظیم آباد وحفظہا اللہ تعالی عن الفتن والفساد بحظ المتوسل بشفاء رسول الثقلین عابد حسین صانہ اللہ عن شقاوۃ الدارین وغفر لہ ولوالدیہ بحرمۃ سیدالحرمین، وذلک فی اواخر شہر رمضان الذی تنزل فیہ الرحمۃ والغفران 1319 من الہجرۃ النبویۃ علی صاحبہا ازکی السلام واتم التحیۃ۔

اس کے بعد دوسرا حصہ فورً‌ا نہیں چھپ سکا بلکہ شاید ایک سال کے بعد چھپا، اس میں گذشتہ تحریر کے ساتھ حسبِ ذیل تحریر تھی:

’’خدائے پاک کا ہزار شکر ہے کہ جب آثار السنن کا پہلا حصہ چھپ کر شائع ہوا اور اہلِ علم کی نظر سے گذرا تو اکثر علمائے نامدار نے نہایت تعریف و توصیف کے خطوط لکھ کر مؤلف کی ہمت بڑھائی، بلکہ بہت سے اہلِ علم نے یہ لکھا کہ اگر یہ کتاب آخر ابواب الصلاۃ تک چھپ جائے تو مدارس میں داخلِ درس کر دی جائے۔ پھر دوسرے حصہ کے اشتیاق میں برابر خطوط آتے رہے، مگر اس کی اشاعت میں حد سے زیادہ تاخیر ہوئی، سبب یہ کہ، مؤلف امسال مختلف امراض میں بہت بیمار رہا، حصہ اول کے جس قدر نسخے فروخت ہوئے ان کی قیمت معالجہ اور ذاتی اخراجات میں صَرف ہوتی گئی، اور کوئی دوسرا سامان اس کے طبع کا نہ ہو سکا، سن گذشتہ میں رئیس ڈھاکہ نے اس کے چھپوا دینے کا وعدہ کیا تھا مگر ایفائے وعدہ کی طرف توجہ نہیں فرمائی، غرض کہ مہینوں یہ حصہ عدمِ سامانِ زیورِ طبع کی وجہ سے اور مؤلف کی علالت کے سبب پڑا رہا، آخر تحریک بعض اکابر اہلِ فضل و عمائد ارباب دین حضرات دربھنگہ نے چندہ کر کے اس کے طبع میں کامل اعانت فرمائی۔ جن کی ہمت عالیہ کی وجہ سے آج یہ دوسرا حصہ بھی بفضلہ تعالیٰ چھپ کر منظر افروز عالم ہوتا ہے۔
مؤلف نے حصہ اول کے ٹائٹل پیج کے اشتہار میں یہ لکھا تھا کہ جن حضرات نے اس طبع میں اعانت فرمائی ہے ان کے نام نامی شکریہ کے ساتھ دوسرے حصے میں درج کئے جائیں گے، مگر یہ مضمون دیکھ کر اکثر معاونین نے تحریر فرمایا کہ جب حسبتہ للہ اس کے طبع میں مدد کی گئی ہے تو نام درج کرنے کی ضرورت نہیں۔ لہٰذا مؤلف ان حضرات کے نام نامی درج کرنے سے مجبور رہا، مگر اتنا لکھنا غیر مناسب نہیں کہ جس طرح یہ دوسرا حصہ حضرات دربھنگہ کے زر چندہ سے چھپا ہے، پہلا حصہ بیشتر حضرات کوٹلی لوہاران ضلع سیال کوٹ کی اعانت سے بتوجہ منشی محمد صادق صاحب مستری چھپا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرات معاونین کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کے دینی و دنیاوی مقاصد دلی بر لائے۔ آمین ثم آمین۔ کتبہ النیموی کان اللہ لہ۔‘‘

اس پہلے ایڈیشن کے بعد دوسرا ایڈیشن مؤلف کے فرزند مولانا عبد الرشید فوقانی نیموی کی نگرانی و اہتمام میں شائع ہوا، اس کی پہلی جلد مطبع قیومی کانپور میں شائع ہوئی تھی۔ یہ اشاعت راقم کی نظر سے نہیں گذری، نہ تلاش کے باوجود دستیاب ہو سکی، مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کی اطلاع کے مطابق یہ پہلی اشاعت کا عکس تھی اس لئے غلطیاں رہ گئی تھیں، چنانچہ شروع میں تیرہ صفحات کا اغلاط نامہ لگایا گیا، اور علامہ انور شاہ کشمیری کے قصائد میں سے صرف ایک قصیدہ شامل کتاب کیا گیا، دوسرے کو چھوڑ دیا گیا۔ اس پر سنہ طباعت نہیں ہے۔ مفتی صاحب کے بقول اس طباعت کے ہر صفحہ پر اوسطاً‌ پانچ غلطیاں ہیں۔26 اسی وجہ سے دوسرا حصہ اصح المعابع لکھنؤ سے شائع ہوا۔

دوسرا حصہ ۱۳۴۴ھ میں مطبع اصح المعابع لکھنؤ سے چھپ کر شائع ہوا تھا، یہ راقم کے پیش نظر ہے، اس کا خاتمہ حسبِ ذیل ہے:

الحمد للہ الملک العزیز العلام والصلاۃ والسلام علی رسولہ خیرالانام وآلہ واصحابہ البررۃ الکرام اما بعد فقد طبع الجزء الثانی من الکتاب المستحسن الذی ہو من ابکارالمنن المسمی بآثارالسنن مع ما یتعلق بہ من التعلیقات للعلامۃ الاجل والمحدث الاکمل الفاضل القمقمام الذی تاریخ ولادتہ ظہیرالاسلام (1278ہ)محمد بن علی المکنی بابی الخیر المدعو بظہیر احسن النیموی الظیم آبادی رحمہ اللہ ذوالایادی باصح المطابع الواقع فی لکنو فی شہر ذی الحجۃ سنۃ 1344 من الہجرۃ النبویۃ علی صاحبہا ازکی السلام والتحیۃ۔

شاید اسی ایڈیشن پر ماہنامہ معارف (اعظم گڑھ) مارچ ۱۹۲۲ء کے شمارہ میں مطبوعات جدیدہ کے ذیل میں آثار السنن کے نئے ایڈیشن کا تعارف ہے، گرچہ تبصرہ نگار کا نام درج نہیں ہے لیکن اغلب ہے کہ وہ علامہ سید سلیمان ندوی ہی کے قلم سے ہوگا۔ لکھتے ہیں:

’’مولانا محمد بن علی شوق نیموی عظیم آبادی مرحوم ہمارے ان علمائے متاخرین میں تھے، جن میں ہمارے علمائے متقدمین کے کارناموں کی جھلک پائی جاتی تھی۔ مولانا مرحوم غالی حنفی تھے، ان کا خیال تھا کہ چوں کہ علمائے احناف نے فقہ کے باعتبار حدیث کی طرف کم توجہ کی، اس لئے عام طور پر نوجوانوں کو حنفی مسائل زیادہ تر حدیث کے مخالف معلوم ہوتے ہیں، اسی ضرورت کو پیش نظر رکھ کر وہ آثار السنن کے نام سے کئی جلدوں میں ایک مجموعہ حدیث مرتب کرنا چاہتے تھے، جس سے حنفی مسائل کی صحت اور آثار و سنن سے ان کا ماخذ معلوم ہو۔ مرحوم اس مجموعہ کے صرف دو حصے مرتب کر سکے تھے کہ وفات پائی۔ یہ مجموعہ متعدد حیثیات سے قابلِ قدر ہے، فقہی ابواب پر اس کی ترتیب ہے، اور حنفی مسائل کی موید حدیثیں ان میں درج ہیں، جابجا احادیث پر نقد بھی ہے، اور فقہاء و محدثین کے مذاہب بھی بتلائے ہیں۔ پتہ رحمانیہ پریس مونگیر‘‘۔

تیسری اشاعت غالباً‌ دارالاشاعت اسلامیہ کولو ٹولہ کلکتہ سے ۱۳۷۶ھ میں ہوئی اور پھر یہی طباعت عام رہی، اس کے بعد مکتبہ رحیمیہ دیوبند نے ایک ایڈیشن شائع کیا، جس میں کوئی خاص کام نہیں ہے، بلکہ انہی تمام اغلاط کے ساتھ جو سابقہ ایڈیشنوں میں موجود تھے یہ کتاب چھپتی رہی۔

پاکستان کے مختلف مدارس میں یہ کتاب زیرِ درس رہی، اس لئے اس پر متعدد علمی کام منظر عام پر آئے، چنانچہ ایک ایڈیشن مکتبہ امدادیہ ملتان سے مولانا فیض احمد استاد حدیث قاسم العلوم ملتان کی تحقیق سے شائع ہوا، لیکن اس میں علامہ نیموی کے حاشیہ تعلیق التعلیق کو حذف کر دیا ہے، اس کے علاوہ اس میں کئی اغلاط ہیں جن پر مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ بعد میں جو ایڈیشن شائع ہوئے ان میں کچھ نہ کچھ اضافہ حواشی تھے اس لئے ان کا تذکرہ آثارالسنن پر علمی کام کے ذیل میں کیا گیا ہے۔

بہرحال ان تمام کوششوں کے باوجود ایک علمی و تحقیقی متن مطابق اصل مصنف کا کام اب بھی باقی اور ایک علمی قرض ہے۔


حواشی

  1. مقالات الکوثری بحوالہ تفہیم السنن
  2. درس آثار السنن بنوری ٹاؤن کراچی، ص ۱۰
  3. تفہیم السنن، ص ۸۴
  4. علامہ شوق نیموی حیات وخدمات، ص ۲۶۱
  5. القول الحسن ضمیمہ
  6. ہندوستانی مسلمان، ص ۵۰
  7. القول الحسن ص ۲۳
  8. تفہیم السنن، ص ۹۳
  9. حیاتِ نعمانی از مولانا عتیق الرحمٰن لکھنؤ ۲۰۱۴ء
  10. القول الحسن ص ۳۱۔ مفتی ثناء الہدیٰ صاحب نے دوسرا حصہ کے سنہ اشاعت کو پہلے کا سنہ اشاعت لکھا ہے، جب کہ جلد اول میں خود خاتمہ طبع موجود ہے۔
  11. سیر بنگال، ص ۲۳
  12. حوالہ سابق
  13. تفہیم السنن ۱۔ ص ۹۸

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث

اقساط

()

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۸)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۲)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۲)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۳)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۲)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

نجلاء ٹیمی کیپلر کا قبولِ اسلام
ایٹرنل پیسنجر

مذہبی القابات اور ہماری بے اعتدالیاں
مفتی سید انور شاہ

’’اسلامی قانونِ وراثت‘‘
ڈاکٹر قبلہ ایاز
ڈاکٹر انعام اللہ
اسلامی نظریاتی کونسل

27 ویں ترمیم پر وکلا اور قانون کے اساتذہ کا مکالمہ (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

قیام پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود
پروفیسر خورشید احمد

قائد اعظم کے افکار اور آج کا پاکستان
ڈاکٹر محمد طاہر القادری

قائد اعظم محمد علی جناح کی حیات و خدمات (۱)
ویکی پیڈیا
ادارہ الشریعہ

ائمہ مساجد کے لیے حکومتِ پنجاب کا وظیفہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا حافظ عامر حبیب

جامعہ اشرفیہ لاہور میں تحفظِ مدارس دینیہ کنونشن اور تعزیتی اجتماع
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter