غلامی اور اسلام

جوناتھن براون نے اپنی کتاب Slavery and Islam کے آخر میں درست طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ انسانی تکریم کا اسلامی تصور اور جدید مغربی تصور، دو مختلف سانچے ہیں، چنانچہ غلامی سے متعلق اسلام کے نقطہ نظر کو کسی بھی استدلالی کھینچ تان سے کام لے کر مغربی ذہن کے لیے قابل فہم نہیں بنایا جا سکتا۔ انفرادی حریت اور مساوات جس مفہوم میں مغربی اخلاقیات میں قدر مانی جاتی ہے، اس مفہوم میں اسلام میں نہیں مانی جاتی، اور غلامی کے سوال کا براہ راست تعلق اسی خاص قدر سے ہے۔ اس نوعیت کے اختلاف کی ایک اور مثال جانوروں کو انسانی خوراک بنانے کا مسئلہ ہے، اور ہندی مذاہب کا تصور اہمسا جس اخلاقی اصول پر استوار ہے، اس کے لحاظ سے اسلام کے تصور ذبح وقربان کو قابل فہم بنانے کا کوئی بھی طریقہ یا استدلال کارآمد نہیں ہو سکتا۔

البتہ یہ سوال اہم ہے کہ جب غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب اور حکم اسلام میں بھی دیا گیا اور اس کے لیے بہت سے شرعی وقانونی اقدامات بھی عمل میں لائے گئے تو یہ غلامی کو اخلاقی برائی مانے بغیر کیونکر ممکن ہے؟ اور اگر یہ اخلاقی برائی تھی تو اس کا کسی بھی درجے میں قانونی جواز آخر کیوں تسلیم کیا گیا؟ خصوصاً‌ نبی علیہ السلام نے اپنی ذاتی زندگی میں اس کی گنجائش کیوں رکھی؟ اس کی وضاحت یہ ہے کہ اسلام کا تصور اخلاق دو پہلووں پر مشتمل ہے، ایک ایجابی اور دوسرا سلبی۔ سورہ نحل کی مذکورہ آیت میں ایجابی اخلاقیات کا ذکر عدل واحسان اور ایتائے ذی القربیٰ سے ہوا ہے اور سلبی اخلاقیات کا فحشاء، منکر اور بغی کے عنوان سے۔

اگر حریت فرد اور مساوات کو مطلق اور باقی ہر اخلاقی قدر پر حاوی قدر مانا جائے تو کسی انسان کا غلام بننا، چاہے اس کے پیچھے جو بھی سماجی جواز موجود ہو، یہ ’’بغی’’ کے تحت آتا ہے۔ جدید مغربی تصور اخلاقی یہی پوزیشن رکھتا ہے، چنانچہ کسی بھی صورت میں اس کا جواز تسلیم نہیں کرتا۔ لیکن اگر حریت اور مساوات over riding principle نہیں، بلکہ دیگر اخلاقی اصولوں اور سماجی ضرورتوں کو ساتھ رکھ کر ان کی قدر طے کی جائے گی، جیسا کہ اسلام کا زاویہ نظر ہے، تو پھر انسان کا کسی دوسرے انسان کی ملکیت بن جانا فی نفسہ ’’بغی’’ شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں، ایجابی اخلاقیات میں سے ’’احسان’’ کے تحت اس کی ترغیب دی جا سکتی ہے کہ اس کو آزاد کر دیا جائے یا آزادی کے حصول میں اس کی مدد کی جائے۔

اسلام نے اس معاملے میں یہ طریقہ اختیار کیا کہ غلام بنانے کے بعض طریقوں (مثلاً‌ بردہ فروشی یا مالی واجبات کے عوض میں غلام بنانے) کو ناجائز قرار دے کر ’’بغی’’ میں شمار کیا اور ان پر پابندی لگا دی، جبکہ پہلے سے موجود غلاموں اور جنگ میں قیدی بننے والوں کو اس زمرے میں شمار نہیں کیا، بلکہ ’’احسان’’ کے اصول کے تحت ان کی آزادی کی ترغیب دی اور جب تک غلام، غلام رہیں، ان کے ساتھ برتاو کے حوالے سے اخلاقی وقانونی حدود مقرر کر دیں۔ مزید یہ کہ اپنی اخلاقی تعلیم سے اس کی بنیاد بھی مہیا کر دی کہ سماجی اور تمدنی حالات کی تبدیلی سے انسانوں کو غلام بنانے کی صورتیں بالکل ختم کرنا ممکن ہو اور انسانوں کے مابین غلامی کا برا ہونا ایک ’’معروف’’ کا درجہ اختیار کر لے تو مذہبی شعور بھی اس کو ایک مثبت پیش رفت سمجھ کر اس کی تائید میں کھڑا ہو جائے، جیسا کہ دور جدید کی اسلامی فکر مجموعی طور پر کھڑی ہے۔

دین و حکمت

(الشریعہ — فروری ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — فروری ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۲

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۸)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۲)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۲)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۳)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۲)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

غلامی اور اسلام
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مذہبی القابات اور ہماری بے اعتدالیاں
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۱)
پروفیسر خورشید احمد

قائد اعظم کے افکار اور آج کا پاکستان
ڈاکٹر محمد طاہر القادری

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کا مسئلہ
مولانا فضل الرحمٰن خلیل

The Demands of Our Geographical Defence
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’اسلامی قانونِ وراثت‘‘
ڈاکٹر قبلہ ایاز
ڈاکٹر انعام اللہ
اسلامی نظریاتی کونسل

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

افغانستان میں نیا فوجداری قانون: حقیقت اور افسانے کے بیچ!
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ائمہ مساجد کے لیے حکومتِ پنجاب کا وظیفہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا حافظ عامر حبیب

جامعہ اشرفیہ لاہور کا مدارسِ دینیہ کنونشن اور تعزیتی دورہ
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

کہوٹہ لاء کالج میں علامہ زاہد الراشدی صاحب کے دو اہم خطبے
سید علی محی الدین شاہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter