اس ہفتے میں دو اہم موضوع سامنے آئے ہیں اور دونوں بین الاقوامی بھی ہیں اور ہمارے قومی ایشوز بھی ہیں۔ ایک تو کانفرنس ہمارے قومی سطح کی، جس میں پاکستان بھر کے علماء تشریف لائے، اور اس میں ہمارے وزیر اعظم صاحب اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب بھی تشریف فرما تھے، اور بڑی خوبصورت گفتگو ہوئی، اور پاکستان کے بیانیے کو بڑے اچھے طریقے سے علماء کے سامنے پیش کیا گیا، اور علماء نے بھی یکجہتی کا اظہار کیا ہے اپنی پاک فوج کے ساتھ اور اپنی پاک آرمی کے ساتھ اور اپنی حکومت کے ساتھ۔
جہاں تک پاکستان میں دہشت گردی کا تعلق ہے ، پاکستان کی سالمیت کی بات ہے، تو پاکستان کی پوری قوم، علماء، مدارس، ہم سب کو جو ہیں وہ پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، اور سب نے یک زباں ہو کر فوج کی بھرپور سپورٹ کی ہے۔ اور جنرل صاحب زندہ باد کے نعرے بھی سننے میں آئے ہیں اور خود بھی میں وہاں موجود تھا۔
تو، بہت اچھی بات ہے، اور قومی ایشو پر علماء کا اور تمام مکاتب فکر کا اکٹھے ہونا، میں سمجھتا ہوں پاکستان کے لیے بہت اچھا شگون ہے۔ اور ہر موقع کے اوپر ایسا ہی رہا۔ اور پچھلے دنوں میں جب انڈیا کے ساتھ پاکستان کی جنگ لگی تو اس موقع کے اوپر بھی پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے بھی اور پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے بھی، پاکستان کے مشائخ نے، علماء نے بھی متفقہ طور پر اپنی پاک فوج کی بھرپور سپورٹ کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی قوم متحد ہے ، قومی ایشو پر جب بات آتی ہے تو وہاں آپ پاکستانی قوم کو منتشر نہیں دیکھتے بلکہ وہاں پاکستانی قوم آپ کو یک جاں نظر آتی ہے۔ اور یہی ہم نے اس کانفرنس کے اندر دیکھا جو چند روز پہلے ہوئی ہے اور پاکستان کا اصولی موقف بھی دہرایا گیا ہے۔
تو بعینہ اسی وقت، اسی دن، افغانستان کے ایک ہزار علماء نے کابل یونیورسٹی کے اندر بھی، میں سمجھتا ہوں کہ بڑی اچھی کانفرنس کی ہے اور پاکستان کے اس بیانیے کو، جو پاکستان ہمیشہ بین الاقوامی فورم پر یہ بات کہتا رہا ہے کہ جی ہمارے ملک میں دہشت گردی ہو رہی ہے، اور طالبان سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کو بند کیا جائے۔
تو، میرے خیال میں علماء نے بہت ہی عقل مندی کا مظاہرہ کیا ہے اور بڑے اچھے انداز کے اندر فتویٰ صادر کیا ہے کہ افغانستان کی سر زمین استعمال نہیں ہو گی۔ اور ہم یہی چاہتے ہیں، اور پاکستان کے احسانات بھی ہیں، پاکستان نے چالیس لاکھ مہاجرین کو پناہ دی، اور ہر مشکل گھڑی کے اندر پاکستان نے افغانستان کا ساتھ دیا ہے۔ تو میرے خیال میں اس احسان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ پاکستان کی سالمیت کو مقدم رکھا جائے۔ تو آج اگر طالبان نے یہ کیا ہے اور اللہ کرے کہ اس کے اوپر عملدرآمد بھی ہو جائے اور اس کے اوپر بھرپور طریقے سے۔ ہر وہ طاقتیں جو پاکستان کو غیر مستحکم کرتی ہیں، اگر طالبان ان کے خلاف کوئی اقدام کرتے ہیں، اور جس طریقے سے بیانیہ سامنے آیا ہے کہ ان کو باغی سمجھا جائے گا اور ان کے خلاف کارروائی ہو گی اور افغان سرزمین استعمال نہیں ہو گی۔ تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اور ان کو بھی ہم سمجھتے ہیں کہ ’’دیر آید درست آید‘‘۔ لیکن کاش کہ یہ چیز پہلے ہو جاتی تو آج یہ دونوں ملک جو ہیں کافی حد تک ترقی کر چکے ہوتے، لیکن اب بھی میں سمجھتا ہوں دور نہیں ہوا ہے، یعنی دیر تو ہوئی ہے لیکن دور نہیں ہوئے۔ اور آج بھی یہ دونوں طاقتیں اکٹھی ہو جائیں تو میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کے اندر پاکستان بھی ترقی کرے گا اور افغانستان بھی ترقی کرے گا۔ وما علینا الا البلاغ۔
