جامعہ اشرفیہ لاہور کا مدارسِ دینیہ کنونشن اور تعزیتی دورہ

تحفظِ مدارسِ دینیہ کنونشن

جامعہ اشرفیہ لاہور میں گیارہ جنوری کو لاہور و گوجرانوالہ ڈویژن کے دینی مدارس کا ایک اہم اور بامقصد تحفظِ مدارس دینیہ کنونشن منعقد ہوا، جس میں ملک کے جید علماء کرام، دینی مدارس کے ذمہ داران اور مختلف دینی تنظیموں کے نمائندہ وفود نے شرکت کی۔ اس اجتماع کا مقصد دینی مدارس کے تحفظ، آزادی، خودمختاری، نصاب اور انتظامی تشخص کے دفاع کے لیے مشترکہ موقف اور اجتماعی عزم کا اظہار تھا۔

کنونشن میں شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب، قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب اور دیگر اکابر علماء کرام نے خصوصی خطابات کیے۔ اجتماع سے حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب نے نہایت جامع، مدلل اور فکری خطاب فرمایا، جسے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب نے سراہتے ہوئے غیر معمولی اور بصیرت افروز قرار دیا۔

یہ اجتماع جامعہ اشرفیہ کے مہتمم، شیخ الحدیث، استاد العلماء حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفیؒ کے وصال کے بعد ایک تعزیتی اجتماع کی حیثیت بھی رکھتا تھا، جس میں مرحوم کی دینی، علمی اور تدریسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر حضرت شیخ الحدیث مولانا یوسف خان صاحب، مولانا حافظ زبیر الحسن صاحب، حضرت مولانا ارشد عبید صاحب، حافظ اجود عبید صاحب، حافظ اسد عبید صاحب اور دیگر اکابر و متعلقین نے شرکت کی۔

کنونشن میں تحفظِ مدارس کے حوالے سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دینی مدارس امتِ مسلمہ کا فکری و نظریاتی سرمایہ ہیں، جن کی آزادی، نصاب اور انتظامی خودمختاری پر کسی قسم کی مداخلت ناقابلِ قبول ہے، اور اس ضمن میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی قیادت کے ہر جائز مؤقف کی مکمل تائید کی جائے گی۔

امیر پاکستان شریعت کونسل، مفکرِ اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کی خصوصی ہدایت پر اس اجتماع میں پاکستان شریعت کونسل کی جانب سے ایک بھرپور وفد نے شرکت کی، جس میں: مولانا قاری محمد عثمان رمضان (سیکرٹری جنرل پنجاب)، حضرت ڈاکٹر حافظ عبدالواحد قریشی (امیر لاہور)، حضرت مولانا حافظ محمد عمر خان قارن (امیر گوجرانوالہ)، مولانا محمد جواد گلزار قاسمی اور دیگر ذمہ داران شامل تھے۔

وفدِ پاکستان شریعت کونسل نے دینی مدارس کے تحفظ، اتحادِ علماء اور ملی تشخص کے استحکام کے لیے ہر سطح پر جدوجہد کے عزم کی تجدید کی۔

مولانا زاہد الراشدی کا تعزیتی دورہ

امیرِ پاکستان شریعت کونسل، مفکرِ اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب جمعرات (۱۵ جنوری) کے روز بعد نمازِ مغرب جامعہ اشرفیہ لاہور تشریف لائے، جہاں انہوں نے جامعہ اشرفیہ کے مہتممِ اعلیٰ اور سرپرستِ وفاق المدارس العربیہ پاکستان، ممتاز عالمِ دین شیخ الحدیث حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی رحمہ اللہ کی تعزیت کی۔ اس موقع پر مولانا زاہد الراشدی صاحب نے حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی رحمہ اللہ کے لیے دعائے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی۔ تعزیتی ملاقات کے دوران انہوں نے حضرت مرحوم کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی، علمی و دینی رفاقت اور باہمی احترام کو یاد کرتے ہوئے پرانی یادیں تازہ کیں۔

صاحبزادگان سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی صاحب نے فرمایا کہ حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی رحمہ اللہ کے ساتھ ان کا تعلق نہایت گہرا، قلبی اور نیاز مندانہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دیگر اکابر کے ساتھ بھی تعلق رہا، مگر حضرت مرحوم کے ساتھ خصوصی رفاقت اور اعتماد کا تعلق تھا۔ انہوں نے مزید فرمایا: ہمارا نیاز مندی کا جو تعلق بزرگان کے ساتھ رہا ہے، ان شاء اللہ وہی تعلق آپ حضرات کے ساتھ بھی قائم رہے گا اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

تعزیت کے موقع پر صاحبزادہ مولانا زبیر حسن صاحب، حافظ اسعد عبید صاحب اور مولوی اویس حسن صاحب سے خصوصی ملاقات ہوئی، جبکہ مفتی شاہد عبید صاحب، حافظ ابراہیم نقشبندی صاحب اور مولانا مجیب الرحمٰن انقلابی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ وفد میں پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد عثمان رمضان، مولانا شمس الدین ایڈووکیٹ، حافظ پیر زبیر جمیل، بھائی طیب شبیر اور حافظ شاہد الرحمٰن میر شریک تھے، جبکہ نشست میں جامعہ اشرفیہ کے علماء کرام اور ذمہ داران بھی موجود تھے۔

بعد ازاں حافظ اسعد عبید صاحب اور مولانا زبیر حسن صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ ہمارے لیے بڑے ہیں، سرمایہ ہیں، اور ہمیں آپ کی رہنمائی اور دعاؤں کی ضرورت رہے گی۔

اخبار و آثار

(الشریعہ — فروری ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — فروری ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۲

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۸)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۲)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۲)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۳)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۲)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

غلامی اور اسلام
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

مذہبی القابات اور ہماری بے اعتدالیاں
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۱)
پروفیسر خورشید احمد

قائد اعظم کے افکار اور آج کا پاکستان
ڈاکٹر محمد طاہر القادری

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کا مسئلہ
مولانا فضل الرحمٰن خلیل

The Demands of Our Geographical Defence
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’اسلامی قانونِ وراثت‘‘
ڈاکٹر قبلہ ایاز
ڈاکٹر انعام اللہ
اسلامی نظریاتی کونسل

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

افغانستان میں نیا فوجداری قانون: حقیقت اور افسانے کے بیچ!
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ائمہ مساجد کے لیے حکومتِ پنجاب کا وظیفہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا حافظ عامر حبیب

جامعہ اشرفیہ لاہور کا مدارسِ دینیہ کنونشن اور تعزیتی دورہ
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

کہوٹہ لاء کالج میں علامہ زاہد الراشدی صاحب کے دو اہم خطبے
سید علی محی الدین شاہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter