’’اسلامی قانونِ وراثت‘‘
پیش لفظ، عرض مرتب، پہلا باب، فہرست مشمولات

(اسلامی نظریاتی کونسل کے مرتب کردہ ’’اسلامی قانونِ وراثت ۲۰۱۹ء‘‘ کے منتخب حصے یہاں پیش کیے جا رہے ہیں، آخر میں کونسل کی ویب سائیٹ کے مطبوعات والے حصے کا لنک مہیا کیا گیا ہے۔)

پیش لفظ

اسلامی احکام میں سے ایک اہم حکم تقسیمِ وراثت ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم میں اکثر احکام کے اصول کو اجمالی انداز میں مختصر بیان کیا گیا ہے لیکن وراثت کے احکام کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ ہر وارث کا حصہ مقرر کیا گیا ہے، مزید یہ کہ ان تمام حصوں کی تفصیلات بیان کرنے سے قبل ان کو ’’نصیبًا مفروضًا‘‘ یعنی (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) مقرر کردہ حصے قرار دیا، تاکہ عمل کرتے ہوئے یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ خود علیم و خبیر ذات نے مقرر کئے ہیں، اور ان تمام حصوں کی جزوی تفصیلات تک ذکر کے بعد آخر میں ارشاد ہوتا ہے: ’’تلک حدود اللہ‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ حدیں ہیں، اور ساتھ ہی ان کی پیروی پر نعمتوں کے وعدے اور عدمِ اطاعت پر وعید بھی مذکور ہے، لہٰذا مسلم معاشرے کی انفرادی اور اجتماعی زندگی قرآن و سنت میں منضبط احکام کے تحت گزارنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس حکمِ وراثت پر عمل کیا جائے۔

علمی دنیا میں وراثت کے موضوع پر بیش بہا مواد موجود ہے جو خالص فقہی اسلوب یا عوامی انداز میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس سے اہلِ علم اور عوام یکساں مستفید ہو رہے ہیں۔ وراثت کے احکام و مسائل پر قانونی زبان میں کتب ناپید ہیں، محمڈن لاء نامی کتاب موجود ہے جس سے عدالتیں اور وکلا مستفید ہو رہے ہیں لیکن یہ کتاب اپنے اندر نہ تو جامعیت رکھتی ہے اور نہ ہی پوری طرح ان احکام کو درست انداز میں سمیٹتی ہے۔ اس لیے اسلامی نظریاتی کونسل نے ۲۰۹ویں اجلاس مؤرخہ ۷ جنوری ۲۰۱۸ء میں یہ فیصلہ کیا کہ

’’اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے وراثت کے شرعی احکام کو قانون کی زبان میں مرتب کیا جائے اور ماہرینِ قانون کی رہنمائی کے لیے کونسل کی سفارش کی شکل میں منظور کیا جائے‘‘۔

اس فیصلہ کی عملی صورت بہت سے علمی و تحقیقی مراحل سے گزری جس کی تفصیلات ڈائریکٹر جنرل (شعبہ تحقیق) نے ’عرضِ مرتب‘ کے تحت ذکر کی ہیں۔ ان سے واضح ہوتا ہے کہ کس قدر عرق ریزی سے کام لے کر یہ قانونی مسودہ تیار کیا گیا ہے۔ اس کی حتمی تیاری میں تقریباً دو سال کا عرصہ صَرف ہوا اور کونسل نے اپنے ۲۱۷ویں اجلاس ۷-۸ جنوری ۲۰۲۰ء میں اس کی منظوری دیتے ہوئے وزارتِ قانون کو ارسال کرنے اور اسے اردو و انگریزی زبان میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا، فی الحال یہ اردو ایڈیشن ہے عنقریب اس کا انگریزی ایڈیشن بھی منظر عام پر آجائے۔

اس مجموعہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی تیاری میں مفتیان کرام اور ماہرینِ قانون نے حصہ لیا، ملکِ عزیز کے تمام مکاتبِ فکر کے دارالافتاؤں سے اس کی تصدیق و توثیق کرائی گئی اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسے مؤقر آئینی ادارے نے اس کی منظوری دی۔

جناب مولانا مفتی امداد اللہ (سابق رکن کونسل و استاد الحدیث و ناظمِ تعلیمات جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹاؤن، کراچی)، جناب علامہ افتخار حسین نقوی (رکن کونسل)، ڈاکٹر انوار اللہ (سابق سینئر ریسرچ ایڈوائز وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد، سابق اسلامک لیگل سپیشلسٹ وزارتِ مذہبی امور برونائی دارالسلام، ڈائریکٹر جنرل ریسرچ)، ڈاکٹر انعام اللہ (سینئر ریسرچ آفیسر)، مفتی غلام ماجد، اور ریسرچ اسسٹنٹ مفتی شرف الدین اشرف نے ’’احکامِ میراث پر مشتمل مسودہ قانون‘‘ کے علمی، فقہی اور قانونی انداز میں ترتیب و تدوین کی خدمات سرانجام دیں۔ شعبہ ریسرچ کے دیگر رفقاء نے انتظامی معاونت فراہم کی اور کمپوزنگ و پروف ریڈنگ کے مراحل بحسن و خوبی سر انجام دیے۔ تمام معزز اراکینِ کونسل نے قیمتی علمی آراء پیش کیں۔

میں ان تمام حضرات کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ یہ وقیع علمی کام ججز، وکلاء، علماء، مفتیان کرام، دینی مدارس اور قانون کے طلباء اور عوام الناس کے لیے یکساں مفید ہو گا۔

قبلہ ایاز

پی ایچ ڈی، ایڈنبرا

چیئرمین

عرضِ مرتب

حدیثِ نبوی ہے کہ علمِ میراث سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، اس لیے کہ سب سے پہلے یہ علم اٹھا دیا جائے گا۔ نیز ارشادِ نبوی ہے کہ علمِ میراث سیکھو، یہ آدھا علم ہے۔ علمِ میراث کی اسی اہمیت کے پیشِ نظر قرآن مجید میں ورثاء کے حصے خود خالقِ کائنات نے مقرر کر کے نازل فرمائے، اس لیے کہ علمِ میراث انسانوں بالخصوص معاشرے کے کمزور طبقات (خواتین، یتیم بچوں) کے مالی حقوق کی حفاظت کا ضامن ہے۔

عملی زندگی میں بھی اس علم کی قدر و منزلت مسلّم ہے، اسی لیے دارالافتاؤں میں بھیجے جانے والے سوالات میں سب سے زیادہ تعداد میراث کے متعلق ہوتی ہے۔ اسی طرح عدالتوں میں زیر بحث خاندانی تنازعات کا معتد بہ حصہ تقسیمِ جائیداد اور تقسیمِ وراثت سے متعلق ہوتا ہے۔ تقسیمِ وراثت سے متعلق مقدمات میں فیصلہ کرنے کے لیے یا تو فتاویٰ کا سہارا لیا جاتا ہے یا پھر محمڈن لاء نامی کتاب کا، جس کو پارسی مذہب کے پیروکار ڈی ایف مُلا (Dinshah Fardunji Mulla) نے تصنیف کیا ہے۔ عدالتوں میں اسی کتاب کو معتبر مانا جاتا ہے۔ تاہم اس کے بعض مندرجات شرعی حوالے سے محلِ نظر ہیں۔ اس لیے اس کتاب کی بعض دفعات کو قرآن و سنت کے خلاف قرار دلانے کے لیے مسز نجات ویلفیئر فاؤنڈیشن نے ایک آئینی درخواست وفاقی شرعی عدالت میں دائر کی، وفاقی شرعی عدالت نے اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کی، کونسل نے ۲۰۹ویں اجلاس (۱۷ جنوری ۲۰۱۸ء) میں غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا کہ:

’’مناسب یہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے وراثت کے شرعی احکام کو قانون کی زبان میں مرتب کیا جائے اور ماہرینِ قانون کی رہنمائی کے لئے کونسل کی سفارش کی شکل میں منظور کیا جائے۔
معزز رکن کونسل جناب مولانا امداد اللہ وراثت کے شرعی احکام کو قانون کی زبان میں ڈرافٹ کریں اور آنے والے اجلاس میں کونسل کے غور و خوض کے لیے پیش فرمائیں۔‘‘

معزز رکن کونسل جناب مولانا مفتی امداد اللہ (ناظم تعلیمات و استاد الحدیث جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹاؤن) نے احکامِ میراث پر مشتمل مسودہ مرتب کیا، جس کی کونسل نے ۲۱۰ویں اجلاس (۸ فروری ۲۰۱۸ء) میں تحسین کی، اور چند ترمیمات اور اضافے تجویز کیے، نیز ہدایت کی کہ مسودہ کے مندرجات کے بارے میں تمام مکاتب کے مستند دارالافتاؤں سے بھی آراء حاصل کی جائیں۔ چنانچہ مختلف دارالافتاؤں کو یہ مسودہ ارسال کیا گیا۔ 

دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی نے پورے مسودہ کی ایک سے زائد خواندگیاں کر کے مناسب اصلاح و ترمیم اور تسہیل کرنے کے بعد مورخہ ۲۲ اپریل ۲۰۱۹ء کو دفتر کونسل ارسال کر دیا۔ جامعہ عثمانیہ پشاور نے مسودہ کی تائید و تحسین کی اور چند مفید مشورے بھی دیے۔ وفاق المدارس السلفیہ نے مسودہ کے بعض مقامات میں ترمیم و اضافہ اور بعض مقامات میں حذف و تبدیلی کا مشورہ دیا۔ معزز اراکین کونسل جناب حافظ فضل الرحیم صاحب نے جامعہ اشرفیہ، لاہور کے دارالافتاء اور جناب مولانا راغب نعیمی صاحب نے جامعہ نعیمیہ، لاہور کے دارالافتاء میں خواندگی کرائی۔ علاوہ ازیں، بعض معزز اراکین کونسل کی طرف سے بھی جوابی مراسلے موصول ہوئے، جن میں انہوں نے بعض مقامات کی اصلاح اور مناسب ترامیم کی نشان دہی کی۔

بعد ازاں، شعبہ ریسرچ کی تجویز پر جناب چیئرمین نے جناب ڈاکٹر انوار اللہ (سابق سینئر ریسرچ ایڈوائز وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد و سابق اسلامک لیگل سپیشلسٹ وزارتِ مذہبی امور برونائی دارالسلام) کو مذکورہ مسودہ کی قانونی زبان میں تسوید کی ذمہ داری سونپی اور ان کی معاونت کے لئے شعبہ ریسرچ کے مندرجہ ذیل افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی:

۱۔ جناب ڈاکٹر انعام اللہ (ڈی جی ریسرچ)

۲۔ جناب مفتی غلام ماجد (سینئر ریسرچ آفیسر)

۳۔ جناب مفتی شرف الدین (ریسرچ اسسٹنٹ)

جناب ڈاکٹر غلام دستگیر شاہین (سینئر ریسرچ آفیسر) و جناب محمد رضا (ریسرچ آفیسر) بھی وقتاً فوقتاً اس تحقیقی اور فنی کام میں کمیٹی کے ساتھ تعاون کرتے رہے۔ 

کمیٹی نے مسلسل پانچ ماہ کام کیا اور قانونی زبان میں حتمی مسودہ مرتب کیا، جس کے دو حصے بنائے گئے: پہلا حصہ فقہ حنفی پر مشتمل ہے، اور خوش آئند بات یہ ہے کہ مکتبِ اہلِ حدیث کے ہاں بھی میراث کے یہی احکام ہیں۔ جبکہ دوسرا حصہ فقہ جعفریہ کے مطابق ہے، جس کے لیے علامہ سید افتخار حسین نقوی (رکن کونسل) کی کتاب ’’مسلم عائلی قوانین بمطابق فقہ جعفری‘‘ کو بنیاد بنایا گیا۔ پہلا حصہ تیرہ (۱۳) ابواب پر مشتمل ہے، جس میں کُل چھیالیس (۴۶) دفعات ہیں، جبکہ دوسرا حصہ چھ ابواب پر مشتمل ہے، جس میں کُل بیس (۲۰) دفعات ہیں۔ اس لحاظ سے پورا مسودہ چھیاسٹھ (۶۶) دفعات پر مشتمل ہے۔

قانونی زبان میں مرتب حتمی مسودہ اراکینِ کونسل اور مدونِ اول جناب مولانا مفتی امداد اللہ (سابق رکن کو نسل) کو برائے مطالعہ و آراء ارسال کیا گیا۔ معزز اراکینِ کونسل جناب ڈاکٹر عبد الحکیم اکبری اور جناب محمد شفیق خان پسروری نے تحریری ملاحظات پیش کیے، جبکہ مفتی امداد اللہ صاحب نے بھی تفصیلی ملاحظات دفتر کونسل ارسال کیے، ان ملاحظات کے ساتھ یہ مسودہ کونسل کے ۲۱۶ویں اجلاس میں برائے منظوری پیش کیا گیا۔ کونسل نے غور و خوض کے بعد اصولی طور پر مسودہ کی منظوری، اور ہدایت کی، کہ تسوید کرنے والی کمیٹی ملاحظات کا جائزہ لے کر مناسب تبدیلیاں و ترامیم شامل کرے۔

جناب ڈاکٹر انوار اللہ صاحب چونکہ دوبارہ برونائی تشریف لے جانے کی وجہ سے موجود نہیں تھے، اس لیے راقم (ڈاکٹر انعام، ڈائریکٹر جنرل ریسرچ) کی سربراہی میں کمیٹی کے متعدد اجلاس منعقد ہوئے، اور ملاحظات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اکثر ملاحظات لفظی ترمیم و تعبیر یا ترتیب سے متعلق تھے، اس لیے جہاں ضروری سمجھا گیا، مناسب ترمیم یا تصحیح کر دی گئی۔ تاہم مفتی امداد اللہ صاحب کے دو ملاحظات (بیت المال کا وجود اور حقوقِ مجردہ (کاپی رائٹ وغیرہ) کا ترکہ ہونا) پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت تھی۔ اس لیے شعبہ تحقیق کے رائے کے ساتھ کونسل کی منظوری کے لیے اجلاس نمبر ۲۱۷ (۷-۸ جنوری ۲۰۲۰ء) میں پیش کیے گئے۔ کونسل نے قرار دیا کہ موجودہ حالات میں دونوں مسائل میں شعبہ ریسرچ کی رائے زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے، جبکہ کونسل کی سابقہ سفارش بھی یہی ہے، اس لیے اس رائے کو اختیار کیا جائے۔ 

کونسل نے مسودہ قانونِ وراثت کی حتمی منظوری دی، اور ہدایت کی کہ اس مسودہ کو اردو / انگریزی زبان میں طباعت کا اہتمام کیا جائے، اور حکومت کے پاس قانون سازی کے لیے ارسال کیا جائے۔ 

امیدِ واثق ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل جیسے آئینی ادارے کا مرتب کردہ ’’اسلامی قانونِ وراثت‘‘ عدالتوں اور قانون کے پیشے سے متعلق تمام افراد کے لیے مفید ثابت ہو گا۔ نیز فقہ و قانون کی تدریس کے عصری و دینی ادارے اور علمِ میراث سے دلچسپی رکھنے والے تمام اہلِ علم اور عام لوگ اس سے استفادہ کریں گے۔

انعام اللہ

(پی ایچ ڈی، علومِ اسلامیہ)

ڈائریکٹر جنرل (ریسرچ)

اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان

پہلا باب — ابتدائیہ

تمہید

ہر گاہ کہ قرینِ مصلحت ہے کہ وراثت سے متعلق قرآن و سنت کے احکامات اور ان پر مبنی فقہی آراء اور اجتہادات کو عصری قوانین کی طرح مدون کیا جائے تاکہ شریعت اور آئین کے اغراض و مقاصد میں سے وراثت کا اہم مقصد حاصل کیا جائے جس کو قرآن و سنت میں امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ لہٰذا درج ذیل قانونِ وراثت وضع کیا جاتا ہے۔

دفعہ ۱ — مختصر عنوان، وسعت، اطلاق و آغازِ نفاذ

(۱) یہ قانون اسلامی قانونِ وراثت ۲۰۱۹ء کے نام سے موسوم ہو گا اور سرکاری جریدے میں نوٹیفیکیشن کے ذریعے سربراہِ ریاست کی منظوری سے وزارتِ قانون و انصاف کی طرف سے متعین کردہ تاریخ سے نافذ العمل ہو گا۔

(۲) ضمنی دفعہ ۱ کے تحت مذکورہ قانون کی مختلف دفعات یا کسی دفعہ کے مختلف مقاصد کے لیے مختلف تاریخیں متعین کی جا سکتی ہیں۔

(۳) اس قانون کا اطلاق پاکستان کے تمام مسلم شہریوں پر ہو گا۔

دفعہ ۲ — تعریفات

تاوقتیکہ اس قانون میں سیاق و سباق سے کچھ اور مترشح ہوتا ہو، مندرجہ ذیل الفاظ سے وہی معنی مراد ہوں گے جو ان کے سامنے درج ہیں۔

۱۔ اخیافی بھائی: ماں شریک بھائی

۲۔ اخیافی بہن: ماں شریک بہن

۳۔ اخیافی چچا: باپ کا وہ بھائی جو ماں شریک ہو۔

۴۔ ارتداد: ارتداد سے مراد کسی مسلمان کی طرف سے دینِ اسلام کا ترک ہے، جس میں ضروریاتِ دین بشمول حضرت محمد ﷺ کی ختمِ نبوت میں سے کسی ایک کا انکار کرنا شامل ہے۔

۵۔ بیت المال: اس سے ’’پاکستان بیت المال ایکٹ ۱۹۹۱ء‘‘ کے تحت قائم کردہ ادارہ مراد ہے۔

۶۔ ترکہ: وہ مال جس کا میت وفات کے وقت مالک ہو اور اس کے ساتھ براہ راست کسی اور شخص کا حق متعلق نہ ہو، خواہ وہ مال پاکستان میں ہو یا بیرون پاکستان ہو۔

۷۔ تقدیری موت: میت کو زندہ تصور کرتے ہوئے اس کی حقیقی موت قرار دی جائے، مثلاً‌ جنین (بچہ جو ماں کے پیٹ میں ہو) کو کوئی صدمہ پہنچا کر شکمِ مادر سے علیحدہ کر دیا جائے۔

۸۔ جد صحیح: وہ مذکر جس کا میت سے رشتہ جوڑنے میں کسی مؤنث کا واسطہ نہ ہو، جیسے دادا (باپ کا باپ)، اس میں ماں کا واسطہ درمیان میں نہیں ہے۔

۹۔ جدہ صحیحہ: وہ مؤنث جس کا میت سے رشتہ جوڑنے میں جد فاسد کا واسطہ نہ ہو، جیسے دادی اور نانی کہ ان کا رشتہ میت سے جوڑنے میں نانا یعنی جد فاسد کا واسطہ درمیان میں نہیں ہے۔

۱۰۔ جد فاسد: وہ مذکر جس کا میت سے رشتہ جوڑنے میں مؤنث کا واسطہ ہو، جیسے نانا (ماں کا باپ) اس میں مؤنث یعنی ماں کا واسطہ درمیان میں ہے۔

۱۱۔ جدہ فاسدہ: وہ مؤنث جس کا میت سے رشتہ جوڑنے میں جد فاسد کا واسطہ ہو، جیسے نانا کی ماں کہ اس کا رشتہ میت سے جوڑنے میں نانا یعنی جد فاسد کا واسطہ درمیان میں ہے۔

۱۲۔ حقیقی موت: کسی شخص کا رشتہ حیات بدن سے منقطع ہو جائے، جس کا علم مشاہدہ یا گواہ کے ذریعہ ہو جائے۔

۱۳۔ حکمی موت: کسی شخص کی موت و حیات کی اطلاع نہ ہو یا اس کی حیات نامعلوم ہو اور مجاز عدالت تحقیق کر کے اسے مردہ قرار دے کر اس کی موت کا حکم جاری کر دے، مثلاً گم شدہ شخص کو تاریخِ گمشدگی سے عدالت مردہ قرار دے دے۔

۱۴۔ ذوی الارحام: میت کے وہ رشتہ دار جو نہ اصحابِ فروض ہوں اور نہ ہی عصبہ ہوں۔

۱۵۔ ذوی الفروض: وہ ورثا ہیں جن کے حصے قرآن، سنت یا اجماعِ امت میں متعین ہیں۔

۱۶۔ سبب: سبب سے مراد زوجیت کا تعلق ہے جو میت اور وارث کے درمیان نکاح صحیح کے سبب قائم ہو۔

۱۷۔ طلاق بائن: وہ طلاق جس کے بعد طلاق دینے والا اپنی مطلقہ عورت کو نئے عقد کے بغیر رشتہ زوجیت میں نہ لوٹا سکے۔

۱۸۔ طلاق رجعی: وہ طلاق جس میں عدت کے دوران شوہر اپنی مطلقہ عورت کو نئے عقد کے بغیر رشتہ زوجیت میں واپس لوٹانے کا اختیار رکھتا ہو۔

۱۹۔ طلاق فار: وہ طلاق بائن یا طلاق مغلظ جو شوہر نے اپنی بیوی کو اپنے مرضِ موت میں دی ہو۔

۲۰۔ طلاق مغلظ: وہ طلاق جس میں شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے جس کے بعد شوہر کے لیے نہ رجوع کا حق باقی رہتا ہے اور نہ ہی شرعی تقاضے پورے کئے بغیر وہ اس بیوی سے دوبارہ نکاح کر سکتا ہے۔

۲۱۔ عدت: وہ مقررہ مدت جو عورت پر نکاح کے اثرات ختم ہونے کے لیے گزارنا لازم ہوتی ہے۔

۲۲۔ عصبہ: میت کے وہ رشتہ دار جو ذوی الفروض سے بچا ہوا ترکہ لے لیتے ہیں، اور اگر ذوی الفروض نہ ہوں تو تمام ترکہ کے مستحق ہوتے ہیں۔

۲۳۔ علاتی بہن: باپ شریک بہن

۲۴۔ علاتی بھائی: باپ شریک بھائی

۲۵۔ علاتی چچا: باپ کا وہ بھائی جو باپ شریک ہو۔

۲۶۔ قتل بالسبب: اس سے مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۳۲۱ میں مذکور تعریف مراد ہے۔

۲۷۔ لعان: اس سے جرم قذف (نفاذِ حد) کے آرڈیننس کی دفعہ ۱۴ میں مذکور تعریف مراد ہے۔

۲۸۔ مفقود: وہ شخص جو غائب ہو جائے اور کسی طرح بھی معلوم نہ ہو کہ وہ زندہ ہے یا نہیں، اسے مفقود کہتے ہیں۔

۲۹۔ مقرلہ بالنسب علی الغیر: وہ شخص جس کے نسب کو میت نے دوسرے اشخاص سے متعلق کر کے تسلیم کیا ہو، اور ان اشخاص نے اس نسب کو تسلیم نہ کیا ہو، مثلاً‌ کسی مجہول النسب کے متعلق کہا ہو، یہ میرا بھائی یا چچا ہے۔

۳۰۔ مرضِ موت: مرضِ موت وہ مرض جس میں مرض بڑھتا جائے اور موت کا خوف غالب ہو، نیز جس میں مرد مریض مکان سے باہر اپنے کاروبار کے سلسلے میں نکلنے سے عاجز ہو، اور اگر مریض عورت ہو تو گھر کے کام کاج سے عاجز ہو اور ایک سال کے اندر مریض کا انتقال ہو جائے۔

۳۱۔ مانع ارث: کوئی ایسا ذاتی وصف جو سببِ وراثت کے ہوتے ہوئے وراثت سے محرومی کا باعث ہو۔

۳۲۔ مورث: وہ میت جس کا ترکہ اس کے ورثا میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

۳۳۔ موصی لہ عام: وہ شخص جس کے لیے میت نے اپنے کُل مال کی وصیت کی ہو۔

۳۴۔ مولی الموالات (وارث بذریعہ معاہدہ): وہ شخص جو کسی لاوارث سے معاہدہ کرتا ہے کہ اگر اس پر کوئی تاوان یا دیت لازم ہوئی تو وہ اس کو ادا کرے گا اور اس کے معاوضہ میں اس لاوارث شخص سے حقِ وراثت حاصل کرے گا۔

۳۵۔ نکاح باطل: وہ نکاح جو اسلام میں ممنوع اور حرام ہو، جیسے محارم کا آپس میں نکاح۔

۳۶۔ نکاح فاسد: وہ نکاح جس میں نکاح کی شروط میں سے کوئی شرط پوری نہ کی گئی ہو، مثلاً بغیر گواہوں کے نکاح۔

۳۷۔ نسب: نسب سے مراد وہ قرابت ہے جو وارث اور مورث کے درمیان خونی رشتہ کی بنیاد پر ہو۔

۳۸۔ وارث: وہ شخص جو اسبابِ میراث میں سے کسی سبب کی وجہ سے وراثت کا مستحق ہو۔

۳۹۔ وراثت: وراثت ایک ایسا غیر اختیاری انتقالِ عمل ہے جس کے ذریعے میت کا ترکہ اس کے ورثا کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ اسی کو میراث بھی کہا جاتا ہے۔

۴۰۔ وصیت: اس سے قانونِ جانشینی ۱۹۲۵ء کی دفعہ ۲ (ایچ) میں مذکور تعریف مراد ہے۔


فہرست مشمولات

پیش لفظ

عرض مرتب

اسلامی نظریاتی کونسل، دستوری تاریخ کے آئینے میں

کونسل کا انتظامی ڈھانچہ

کونسل کی مطبوعات

پہلا باب — ابتدائیہ

تمہید

مختصر عنوان، وسعت، اطلاق و آغازِ نفاذ

تعریفات

حصہ اوّل: وراثت بمطابق سنی فقہ (حنفی و اہل حدیث)

دوسرا باب — ارکان و موجباتِ وراثت

ارکانِ وراثت (بمطابق فقہ حنفی)

مورث اور وارث کی شرائط

وارث کی نوعیتِ قرابت

موجباتِ وراثت

نسبی قرابت کی قسمیں

سبب کے ذریعہ استحقاقِ وراثت کیلئے شرائط

ترکہ

تیسرا باب — مستحقینِ وراثت کی ترتیب

مستحقینِ وراثت

موانع وراثت

چوتھا باب — موانع وراثت

موانع وراثت

پانچواں باب — ترکہ سے حقوق

ترکہ کے حقوق

چھٹا باب — ذوی الفروض اور ان کے حصے

ذوی الفروض کے حصے

ذوی الفروض کی تعداد

شوہر کا حصہ

بیوی کا حصہ

باپ کا حصہ

ماں کا حصہ

جد صحیح (دادا) کا حصہ

جدہ صحیحہ (دادی، نانی) کا حصہ

بیٹی کا حصہ

پوتی کا حصہ

حقیقی بہن کا حصہ

علاتی بہن کا حصہ

اخیافی بہن کا حصہ

ساتواں باب — عصبہ کے حصے

عصبہ کی اقسام

عصبہ بنفسہ میں ترجیح کا طریقہ

عصبہ میں تقسیمِ وراثت کا طریقہ

آٹھواں باب — ذوی الارحام اور ان کے حصے

ذوی الارحام کے استحقاقِ وراثت اور اقسام

ذوی الارحام میں ترکہ تقسیم کرنے کا طریقہ

پہلی قسم کے ذوی الارحام میں ترکہ تقسیم کرنے کا طریقہ

دوسری قسم کے ذوی الارحام میں تقسیمِ ترکہ

ذوی الارحام کی تیسری قسم میں تقسیمِ ترکہ

ذوی الارحام کی چوتھی قسم میں تقسیمِ ترکہ

نواں باب — بقیہ ورثا

مولی الموالات، مقرلہ بالنسب علی الغير، موصی لہ عام اور بیت المال

دسواں باب — رد (واپس لوٹانا)

رد کے مسائل

گیارہواں باب — حجب

حجب کا معنی اور اقسام

بارہواں باب — مخصوص ورثا

حمل (ماں کے پیٹ میں بچہ) کی وراثت

مفقود کی وراثت

خنثیٰ کی وراثت

ولد الزنا اور ولد اللعان کی وراثت

مرتد

سوتیلے ماں باپ اور متبنیٰ کی وراثت

تیرہواں باب — عول، مناسخہ اور تخارج

عول

مناسخہ

تخارج

حصہ دوم: وراثت بمطابق فقہ جعفری

پہلا باب — ارکان و موجباتِ وراثت

ارکانِ وراثت (بمطابق فقہ جعفری)

مورث اور وارث کی شرائط

موجباتِ وراثت

سبب کی اقسام

ترکہ کی تفصیل

دوسرا باب — موانع وراثت

موانع وراثت

تیسرا باب — ترکہ سے متعلق حقوق

ترکہ سے متعلق حقوق

چوتھا باب — ورثا کے طبقات اور ان کے حصے

ورثا کے طبقے

طبقاتِ ثلاثہ کے علاوہ ورثا

پہلے طبقہ میں وراثت کے طریقے

دوسرے طبقے کے ورثا

دوسرے طبقے کے باقی ورثا کے حصے

تیسرے طبقے کے ورثا کے حصے

پانچواں باب — میاں اور بیوی کی وراثت

میاں اور بیوی کی وراثت

چھٹا باب — مخصوص ورثا

مرتد کی وراثت

لعان، زنا اور زنا بالجبر سے پیدا شدہ بچے کی وراثت

حمل کی وراثت

مفقود کی وراثت

خنثیٰ کی وراثت

اولادِ متعہ کی وراثت

https://cii.gov.pk/publications


دین اور معاشرہ

()

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۸)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۲)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۲)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۳)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۲)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

نجلاء ٹیمی کیپلر کا قبولِ اسلام
ایٹرنل پیسنجر

مذہبی القابات اور ہماری بے اعتدالیاں
مفتی سید انور شاہ

’’اسلامی قانونِ وراثت‘‘
ڈاکٹر قبلہ ایاز
ڈاکٹر انعام اللہ
اسلامی نظریاتی کونسل

27 ویں ترمیم پر وکلا اور قانون کے اساتذہ کا مکالمہ (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

قیام پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود
پروفیسر خورشید احمد

قائد اعظم کے افکار اور آج کا پاکستان
ڈاکٹر محمد طاہر القادری

قائد اعظم محمد علی جناح کی حیات و خدمات (۱)
ویکی پیڈیا
ادارہ الشریعہ

ائمہ مساجد کے لیے حکومتِ پنجاب کا وظیفہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا حافظ عامر حبیب

جامعہ اشرفیہ لاہور میں تحفظِ مدارس دینیہ کنونشن اور تعزیتی اجتماع
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter