افغانستان کا قانون بنیادی طور پر حنفی مذہب پر مبنی ہے اور وہاں طالبان کی حکومت سے قبل بھی آئین اور قانون میں اس کی تصریح تھی کہ جہاں قانون خاموش ہو، وہاں حنفی مذہب پر عمل ہوگا، اور یہ کہ فوجداری نظام میں قصاص اور حدود میں حنفی مذہب پر عمل ہوگا اور حکومت کے بنائے ہوئے قانون کا اطلاق صرف تعزیر کے دائرے میں ہوگا۔ اب طالبان نے تعزیری قانون کو بھی حنفی اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔
چند دنوں سے مسلسل ایسی خبریں اور تجزیے نظر آئے جن میں اِس نئے فوجداری قانون کے متعلق دعوے کیے گئے تھے کہ:
- اس کے ذریعے غلامی کو دوبارہ زندہ کیا گیا ہے اور اب مخالفین کو غلام بنانے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا؛
- اس نے معاشرے کو ہندوؤں کی چار ذاتوں کی طرح چار طبقات میں تقسیم کر دیا ہے (کئی ایک نے اسے بھارت کے ساتھ قربت کا اثر بھی قرار دیا)؛
- اس میں نجی سطح پر افراد کو بھی سزا دینے کا اختیار دے دیا گیا ہے؛
- اس میں بچوں کو بھی سزا دینے کی اجازت دی گئی ہے؛ اور
- اپنے سوا دیگر فرقوں کو سزائیں دینے کی گنجائش بھی پیدا کر لی گئی ہے۔
یہ تنقیدات سوشل میڈیا کے علاوہ پاکستان کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر بھی نشر کی گئیں۔1
ان تنقیدات کو پڑھ کر ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ تنقید کرنے والے یا تو غلط فہمی کا شکار ہیں یا بد نیتی میں مبتلا ہیں۔ تاہم اس موضوع پر لکھنے سے قبل میں نے اس قانون کا پورا متن پڑھنا ضروری سمجھا۔ چنانچہ اب جبکہ میں نے یہ قانون پڑھ لیا ہے، تو میں پورے اعتماد کے ساتھ کہتا ہوں کہ جو لوگ مندرجہ بالا تنقیدات کر رہے ہیں، انھوں نے یا تو یہ قانون پڑھا ہی نہیں، یا پڑھا ہے تو سمجھا نہیں، یا سمجھا ہے تو بدنیتی کا شکار ہیں۔
اس قانون کا ماخذ
بنیادی طور پر یہ قانون کتبِ فقہ میں موجود کتاب الحدود اور کتاب التعزیر کی جزئیات پر مبنی ہے اور ان میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو فقہ پڑھنے والوں کے لیے انوکھی ہو۔ قانون کا مسودہ بنانے والوں نے کوشش کی ہے کہ ہر ہر شق اور دفعہ کے لیے کسی فقہی عبارت کا حوالہ حاشیے میں دیا جائے۔ چنانچہ جس کسی کو اس قانون پر تنقید کا شوق ہے، وہ پہلا کام یہ کرے کہ مذکورہ عبارات اور حوالوں کا جائزہ لے کر بتائے کہ ان سے اخذ و استنباط میں کیا غلطی ہوئی ہے؟ یا اگر اخذ و استنباط میں غلطی نہیں ہوئی ہے، تو پھر تنقید کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ مذکورہ فقہی جزیئات کیوں غلط ہیں؟
جہاں تک اس قانون کی فقہ کے ساتھ ہم آہنگی یا تصادم کا سوال ہے، اس کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ الگ الگ جزئیات میں اتنا مسئلہ نہیں ہے، لیکن دو بنیادی امور ایسے ہیں جن میں اس قانون کے مدونین اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے ہیں جن میں بیسویں صدی عیسوی کے بہت سے عرب و عجم کے مؤلفین مبتلا ہوئے تھے، اور اس غلط فہمی کا اثر اس قانون کے پیش کرنے (presentation) پر پڑا ہے۔ میں ان دو امور کی تھوڑی وضاحت کروں گا جس کے بعد امید ہے کہ اس قانون کے متعلق کئی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو جائے گا۔
ایک تیسرے امر کا تعلق بھی presentation سے ہی ہے، لیکن وہ فقہ کے بارے میں نہیں، بلکہ فوجداری نظام کے بارے میں ہے۔ اس کی وضاحت بھی ضروری ہے۔
ان تین امور کی وضاحت کے بعد تنقید کے لیے صرف وہ بعض دفعات رہ جاتی ہیں جہاں سزا کی شدت یا تخفیف پر متعدد آرا پائی جا سکتی ہیں۔ ان میں چند ایک دفعات کی میں نشاندہی کروں گا۔ اس کے بعد اس قانون کے بعض قابلِ تحسین پہلوؤں کا بھی ذکر کروں گا، وباللہ التوفیق۔
پہلا امر: حق اللہ کی خلاف ورزی پر تعزیری سزا
حنفی فقہاے کرام نے اسلامی فوجداری قانون کا نظام جس بنیاد پر وضع کیا ہے، وہ ”حقوق کی تقسیم“ ہے۔ اس تقسیم کی درست تفہیم کے ذریعے ہی اسلامی فوجداری قانون کے متعلق بہت ساری غلط فہمیوں کو دور کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس تقسیم میں تین الگ نوعیت کے حقوق پائے جاتے ہیں: حق اللہ، حق العبد اور حق الامام/حق السلطان۔ حدود سزاؤں کے متعلق حنفی فقہاے کرام یہ کہتے ہیں کہ ان کا تعلق حق اللہ سے ہے؛ تعزیر کو وہ حق العبد قرار دیتے ہیں اور حق الامام/حق السلطان کی خلاف ورزی پر کارروائی کو وہ ”سیاسہ“ قرار دیتے ہیں۔ قصاص کے متعلق وہ قرار دیتے ہیں کہ یہ ”حقِ مشترک“ ہے (یعنی یہاں حق اللہ اور حق العبد دونوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے) اور اس وجہ سے یہاں کچھ اثرات حدود کی طرح ہیں اور کچھ تعزیر کی طرح۔ ان اثرات پر میں نے اپنے انگریزی اور اردو مقالات میں تفصیل سے بات کی ہے۔
فقہاے کرام نے اپنی کتب میں زیادہ تر حق اللہ کے متعلق سزاؤں کی تفصیل دی ہے، اور حق العبد کی خلاف ورزی کی سزا (تعزیر) پر بھی زیادہ تر اُن امور پر بات کی ہے جن پر بحث حق اللہ کی بحث کی تکمیل کے لیے ضروری تھی۔ جہاں تک حق الامام/حق السلطان کی خلاف ورزی پر سزا کی بات ہے (سیاسہ)، تو عموماً فقہاے کرام اس کی تفصیل میں نہیں جاتے اور قرار دیتے ہیں کہ اس کی تفصیل طے کرنا حکمران کا کام ہے (وما وراء ذلک من السیاسۃ موکول إلی الإمام واجتھادہ)۔
انیسویں صدی عیسوی میں جب مسلم دنیا پر غیر مسلموں کا غلبہ ہوا اور کئی مسلم ممالک میں غیر مسلموں کا قانونی نظام نافذ کیا گیا، تو حق الامام/حق السلطان کے دائرے میں غیر مسلم قابضین نے اپنے قوانین نافذ کیے۔ جب بیسویں صدی کے نصفِ ثانی میں مسلم ممالک نے آزادی حاصل کی اور کئی ممالک میں اسلامی فوجداری قانون کے نفاذ کی بات ہوئی اور اس مقصد کے لیے فقہی کتب کا رخ کیا گیا، تو وہاں زیادہ تر بحث حدود، قصاص اور کسی حد تک تعزیر کے متعلق جزئیات اور اصول ملے، لیکن سیاسہ پر بحث بہت کم نظر آئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیسویں صدی میں لکھی گئی کتب میں عموماً سیاسہ کے تصور کو نظر انداز کیا گیا، الا ما شاء اللہ۔ حنفی فقہاے کرام نے فوجداری نظام میں سیاسہ کا اصول کیسے برتا ہے، میرے پی ایچ ڈی کے مقالے میں اس کی تفصیل دی گئی ہے اور یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ معاصر دنیا کے پیچیدہ مسائل کا حل اس تصور کے ذریعے کیسے دیا جا سکتا ہے؟
بیسویں صدی کے مؤلفین عام طور پر اس غلط فہمی میں بھی مبتلا ہو گئے کہ حق اللہ اور حق الامام/حق السلطان ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ اس غلط فہمی کی ایک وجہ یہ تھی کہ مغربی قوانین میں عموماً حقوق کو دو قسموں میں تقسیم مانا جاتا ہے: فرد کا حق، معاشرے/ریاست کا حق، یعنی private right اور public right۔ چنانچہ ان مؤلفین نے حق العبد کو private right کہا اور ساتھ ہی قرار دیا کہ حق اللہ سے مراد public right ہے۔ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کیونکہ حق جس کا ہوتا ہے، معافی کا اختیار بھی اسی کے پاس ہوتا ہے۔ چنانچہ جب فقہاے کرام کہتے ہیں کہ حدود سزائیں حقوق اللہ ہیں، تو ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حدود کی معافی کا اختیار متاثرہ فرد کے پاس بھی نہیں ہے اور حکمران کے پاس بھی نہیں ہے۔ دوسری طرف وہ صراحتاً قرار دیتے ہیں کہ حق الامام/حق السلطان کی خلاف ورزی پر دی جانے والی سزا کو حکمران معاف کر سکتا ہے۔
غلط فہمی کی دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ فقہاے کرام کے ہاں ایسی عبارات مل جاتی ہیں کہ حق اللہ کے فوائد پورے معاشرے کو ملتے ہیں اور اس کی خلاف ورزی کا نقصان بھی سب کو ہوتا ہے، یعنی یہ انفرادی معاملہ نہیں ہے۔ تاہم چونکہ انھی عبارات میں آگے لکھا ہوتا ہے کہ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کا اختیار کسی کو نہیں دیا تاکہ یہ فوائد ضائع نہ ہوں، اس لیے جو شخص پوری عبارت پڑھتا ہے وہ اس غلط فہمی میں نہیں پڑتا۔
تاہم اچھے خاصے نامی گرامی اہلِ علم (جیسے عبد القادر عودہ شہید، وہبہ الزحیلی رحمہما اللہ) بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے، تو اس کی وجہ ایک اور تھی۔ وہ یہ کہ شافعی فقہاے کرام کے ہاں حقوق کی تقسیم اس طرح نہیں پائی جاتی اور ان کے ہاں بعض حدود کو حق العبد کہا جاتا ہے، اور وہ حقوق اللہ میں بھی تعزیر کے قائل ہیں۔ چنانچہ بیسویں صدی کے مؤلفین تو ایک طرف، متاخرین حنفی فقہاے کرام میں بھی کئی ایک اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ حق اللہ میں تعزیر دی جا سکتی ہے۔ البتہ متاخرین میں بھی جنھوں نے تلفیق سے گریز اور اصولوں پر ارتکاز کیا اور متقدمین کی کتب سے جڑے رہے، انھوں نے اس معاملے میں اصولی تناقض کی طرف توجہ بھی دلائی اور بعض نے یہاں تک کہا کہ حق اللہ میں دی جانے والی تعزیر کو کوئی معاف نہیں کر سکتا کیونکہ حق اللہ کی معافی کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔
پس وجوہات کچھ بھی ہوں، بیسویں صدی کے مؤلفین عموماً حقوق کی حنفی تقسیم کے متعلق غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں، اور وہ غلط فہمی افغانستان کے جاری کردہ اس نئے قانون میں بھی نظر آتی ہے۔ چنانچہ اس قانون میں ایک جانب حق اللہ اور حق الامام/حق السلطان کو یکساں قرار دیا گیا ہے، دوسری جانب کئی مقامات پر حق السلطان کو قاضی، امیر یا امیر المؤمنین کی اجازت اور مرضی پر منحصر کر دیا ہے۔ عبد القادر عودہ، ابو زہرہ، وہبہ الزحیلی اور ایسے ہی دیگر مؤلفین کے کام پر انحصار کے نتیجے میں ایسا ہونا حیران کن نہیں ہے۔
میں نے ایک تفصیلی مقالے [میں] متاخرین کی عبارات کا تفصیلی تجزیہ کر کے دکھایا ہے کہ جن امور کو متاخرین ”حق اللہ میں تعزیر“ کہتے ہیں، وہ دراصل ”سیاسہ“ کی مثالیں ہیں۔ یہی اس نئے قانون میں مذکور ”حق اللہ میں تعزیر“ کے متعلق بھی کہا جا سکتا ہے۔ چنانچہ مثلاً لہو لعب کی محفل برپا کرنے یا رمضان میں برسرِ عام کھانا پینے پر سزا ہو، تو اس کا مقصد معاشرتی بگاڑ کو روکنا ہوتا ہے اور اس وجہ سے اس سزا میں تخفیف اور معافی کی بھی گنجائش ہوتی ہے۔ اسی طرح اس نئے قانون میں ”حق اللہ میں تعزیر“ کی بعض دوسری قسمیں دراصل وہ امور ہیں جن کو معاصر قانون میں preventive measures کہا جاتا ہے، یعنی جرائم کے ارتکاب سے قبل انھیں روکنے کی تدابیر، اور ایسے امور میں افراد کو نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کا کہہ کر ان کو یہ لائسنس نہیں دیا جا رہا کہ وہ عدالتی کارروائی کے بغیر کسی کو ”سزا“ دے دیں، بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ دنگا فساد کر رہے ہیں، یا کوئی اور جرم کر رہے ہیں، انھیں روکا جائے، اور ضروری ہو اور ممکن ہو، تو پکڑ کر قانون کے حوالے کیا جائے۔ کیا خود ہمارے ہاں ضابطۂ فوجداری میں ایسی صورتیں موجود نہیں ہیں جہاں نجی سطح پر افراد کو بھی یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو گرفتار کر کے جلد از جلد پولیس کے حوالے کر دیں؟2
دوسرا امر: تعزیر اور تادیب کا تعلق
جیسے ایک جانب حق اللہ اور حق الامام/حق السلطان میں فرق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے کئی سنجیدہ مسائل پیدا ہوئے ہیں، ایسے ہی دوسری جانب سزا اور تادیب میں فرق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے بھی الجھنیں پیدا ہوئی ہیں۔
حدیث مبارک میں آیا ہے کہ بچہ دس سال کا ہو جائے اور وہ نماز نہ پڑھے، تو اسے مارنے کی اجازت ہے۔ اسی طرح عورت کے نشوز کی صورت میں قرآن کریم نے شوہر کو اسے مارنے کی اجازت دی ہے جس کی قیود و حدود حدیث میں بیان ہوئی ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات کسی فوجی دستے کا امیر اپنے ماتحتوں کو زجر و توبیخ کرتا ہے، یا استاد شاگردوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہے۔ ان سارے امور کو فقہاے کرام نے تعزیر کے تحت ذکر کیا ہے۔
تاہم اس سے متوازی ایک حقیقت یہ ہے کہ فقہاے کرام نے بچے کے متعلق پوری صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ اسے ”سزا“ (عقوبۃ) نہیں دی جا سکتی کیونکہ سزا کی اہلیت (أھلیۃ العقوبۃ) کے لیے عقل و بلوغ دونوں کا ہونا ضروری ہے۔ پھر ”بچے کو تعزیر“ سے کیا مراد ہے؟ فقہاے کرام نے واضح کیا ہے کہ اس سے مراد انھیں ادب سکھانا، یعنی ان کی تادیب، ہے۔ اسی لیے انھوں نے اس تعزیر میں، جو تادیب کی نوعیت کی ہے، اور اس تعزیر میں، جو سزا کی نوعیت کی ہے، فرق کیا ہے۔ مثلاً وہ یہ بتاتے ہیں کہ بچے کی تادیب کرتے ہوئے اسے ایسا نہیں مارنا چاہیے کہ اس کے بدن پر نشان بنے، یا جلد پھٹ جائے، نہ ہی اسے مارنے کے لیے چھڑی/ڈنڈے کا استعمال کر سکتے ہیں۔ نیز انھوں نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ اگر کسی نے ایسا کیا، تو الٹا اس شخص کو تعزیری سزا دی جائے گی۔ یہی حکم بیوی کی تادیب کرنے والے شوہر یا ماتحت کی تادیب افسر کے لیے ہے۔3
افغانستان کے اس نئے فوجداری قانون میں جہاں بچے یا بیوی کی تعزیر کی بات کی گئی ہے، اس سے مراد یہی تادیب والی تعزیر ہے، نہ کہ سزا۔ تاہم تعزیری قانون میں اس کے ذکر سے بعض لوگوں کو غلط فہمی لاحق ہوئی ہے، اور بعض کو پروپیگنڈا کا موقع میسر آگیا ہے، حالانکہ اسی قانون میں یہ تصریح بھی کی گئی ہے کہ تادیب میں مذکورہ بالا حدود کی خلاف ورزی کرنے والے کو تعزیری سزا دی جائے گی، بلکہ اس میں تو معلّم (استاد) کے لیے بھی ایسی تعزیری سزا مقرر کی گئی ہے، اگر اس نے شاگردوں کی تادیب میں حدود سے تجاوز کیا۔ حیرت ہے کہ ان دفعات کی موجودگی میں غلط فہمی کے لیے گنجائش کہاں سے نکل آئی ہے؟ تاہم اگر تادیب سے متعلق امور کو یا تو تعزیری قانون میں ذکر ہی نہ کیا جاتا، یا انھیں الگ الگ مقامات پر ذکر کرنے کے بجاے ”تادیب“ کے عنوان سے ایک مستقل باب قائم کر کے ان امور کو وہاں اکٹھے ذکر کیا جاتا، تو شاید یہ غلط فہمی پیدا نہ ہوتی، اگرچہ پروپیگنڈا کرنے والے پھر بھی پروپیگنڈا کرتے۔
تاہم ایک مسئلہ اور بھی ہے جو زیادہ پیچیدہ ہے۔ فقہاے کرام نے تعزیر کی بعض صورتوں میں قرار دیا ہے کہ جس فرد کا حق متاثر ہوا ہے، اس کے پاس تعزیر کے نفاذ کا اختیار ہے۔ ان قسموں کا تجزیہ کیا جائے، تو یہ بھی دراصل تادیب کی صورتیں ہیں، نہ کہ سزا کی۔ نیز فقہاے کرام نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ تعزیر کی بعض صورتوں کے لیے باقاعدہ ”دعوی“ عدالت میں دائر کرنا ضروری ہے، اور ایسی صورت میں تعزیر کے نفاذ کا اختیار بھی قاضی یا حکمران کے پاس ہی ہے۔ یہاں بھی ”حقوق کی قسموں“ کی بنا پر تجزیہ کریں، تو یہ قسم دراصل ”سیاسہ“ ہے اور یہاں متاثر ہونے والا حق دراصل حق الامام/ حق السلطان ہے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ حق الامام/ حق السلطان سے مراد حکمران کا ذاتی حق نہیں، بلکہ قوم کے وکیل کی حیثیت سے اس کا حق ہے، اور اصلاً یہ لوگوں کا اجتماعی حق ہے جس کا نفاذ حکمران/قاضی ان کے نمائندے/وکیل کی حیثیت سے کرتا ہے۔
تعزیر کی اس قسم میں، جو اصل میں سیاسہ ہے، اور اس قسم میں جو تادیب ہے، بنیادی فرق یہ ہے کہ یہ سزا ہے اور وہ سزا نہیں ہے۔ نیز یہاں یہ فرق بھی اہم ہے کہ قصاص یا حدود کے باب میں جب تعزیر دی جاتی ہے، تو اس کا نفاذ بھی حکمران/قاضی کا کام ہے، اور قانوناً وہ بھی سیاسہ ہی ہے۔ تاہم اس میں کوڑے لگانے کی زیادہ سے زیادہ حد بھی مقررہ ہے، اور اس سے تجاوز ممکن نہیں ہے۔ وہ حد 39 کوڑوں کی ہے۔ تعزیر/سیاسہ کی دیگر قسموں میں سزاؤں کی دیگر شکلیں بھی ہو سکتی ہیں، جیسے سزاے قید یا جرم کی بعض انتہائی صورتوں میں سزاے موت۔
افغانستان کے اس نئے قانون میں یہ تینوں قسمیں (تادیب، جو اصل میں سزا نہیں ہے؛ تعزیر جس میں 39 کوڑوں سے زیادہ سزا نہیں ہوسکتی؛ اور تعزیر جس میں سزاؤں کی دیگر شکلیں بھی ہو سکتی ہیں، اور بعض صورتوں میں سزاے موت بھی ہو سکتی ہے) باہم مختلط اور گڈ مڈ ہو گئی ہیں۔ اس وجہ سے اگرچہ اس قانون میں تصریح کی گئی ہے کہ کہاں تعزیر کے لیے دعویٰ کی ضرورت ہے اور کہاں نہیں ہے، لیکن چونکہ یہ باتیں غیر مرتب انداز میں اور بکھری ہوئی ہیں، اس لیے غلط فہمیوں اور پروپیگنڈا کا امکان موجود ہے۔ تاہم اس میں بھی قصور اس قانون کے بنانے والوں سے زیادہ بیسیوں صدی کے مؤلفین کا، اور کسی حد تک متاخرین فقہاے کرام کا ہے۔ یہاں بھی چونکہ مسئلہ صرف ترتیب اور پیش کرنے کے انداز سے ہے، اس لیے معمولی تغییر اور محنت سے اسے بہتر کیا جا سکتا ہے، اور اس کے لیے بہت زیادہ کاوش کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
تیسرا امر: جرم ثابت ہونا اور سزا کی مقدار کا تعین
فوجداری نظام میں یہ امر مسلّم ہے کہ جرم کا ثابت ہونا اور اس پر سزا کی مقدار کا تعین دو الگ امور ہیں۔ چنانچہ فوجداری مقدمے میں اس لحاظ سے دو الگ مرحلے ہوتے ہیں: پہلے عدالت میں کسی فرد کو مجرم ثابت کیا جاتا ہے، اس کے بعد اس کا تعین کیا جاتا ہے کہ اسے کتنی سزا دی جائے؟
جرم ثابت کیسے ہوتا ہے؟ اس کے لیے تفصیلی ضوابط قانونِ شہادت میں دیے جاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ مجرم ایک مقررہ ضابطے پر عدالت کے سامنے باقاعدہ اقرارِ جرم کرے؛ یا یہ کہ جرم کے ثبوت کے لیے گواہی کا معیار کیا ہوگا، اور قرائن و دیگر امور سے جرم کیسے ثابت ہو گا؟ اسی طرح بعض قوانین میں خصوصی ضوابط بھی دیے جا سکتے ہیں، مثلاً بعض قوانین میں گنجائش ہوتی ہے کہ استغاثہ اور ملزم آپس میں سمجھوتہ (plea bargain) کریں۔ عموماً ایسے سمجھوتے کے بعد سزا کی مقدار یا نوعیت میں ملزم کو کچھ فائدہ یا تخفیف کا امکان ہوتا ہے۔
ایک بار جرم ثابت ہوگیا، تو اس کے بعد اگلا مرحلہ یہ آتا ہے کہ اب اس جرم پر کون سی سزا دی جائے، اور یہ کہ اس سزا کی مقدار کتنی ہو؟ بعض اوقات قانون میں جرم کی ایک ہی سزا متعین ہوتی ہے (جیسے اسلامی قانون میں حدود سزائیں ہیں)، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی جرم پر ایک سے زائد سزائیں مقرر شدہ ہوتی ہیں (جیسے ”سزاے موت یا عمر قید“)۔ اس دوسری صورت میں عدالت کونسی سزا دے گی؟ اسی طرح بعض اوقات سزا کی مقدار مقرر ہوتی ہے (جیسے حدِ قذف میں 80 کوڑے ہیں)، لیکن اکثر اوقات قانون میں صرف سزا کی زیادہ سے زیادہ مقدار مقرر شدہ ہوتی ہے (جیسے ”دس سال تک قید“)۔ اس مؤخر الذکر معاملے میں (مجرم کا جرم ثابت ہو چکنے کے بعد) عدالت نے یہ تعین کرنا ہوتا ہے کہ مجرم کو کتنی سزا دی جائے؟ کیا ان امور میں عدالت اپنی ”مرضی“ (discretion) سے فیصلہ کرتی ہے؟ یا عدالت پر کچھ اصولوں اور ضوابط کی پابندی لازم ہوتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں ایک اہم عنصر یہ ہے کہ سزا کا مقصد کیا ہے؟
اس آخری سوال کے جواب میں ”سزاؤں کے نظریات“ کا فہم مفید ثابت ہوتا ہے۔ سزا کے مقصد/مقاصد کی توضیح کے لیے قانون کے فلاسفہ اور سماجیات کے ماہرین نے متعدد نظریات دیے ہیں، مثلاً عبرت، بدلہ، انتقام کی آگ سرد کرنا اور اصلاح۔ ان میں ہر نظریے میں متعدد سوالات پر غور کیا جاتا ہے، مثلاً عبرت سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ کہ مجرم، جسے سزا دی جا رہی ہے، عبرت پکڑے اور آئندہ جرم کے ارتکاب سے باز رہے؟ یا یہ کہ دوسرے اس سے عبرت پکڑیں اور وہ اس جرم سے باز رہیں؟ یا دونوں کے لیے عبرت؟ ان میں ہر سوال کے جواب میں بہت تفصیلی بحثیں ہیں جن کے تجزیے کی اس وقت گنجائش نہیں ہے۔ مختصراً اتنا ذکر کرنا کافی ہوگا کہ اسلامی قانون کے ماہرین نے بالعموم حد کی سزا کا مقصد ”زجر“ ذکر کیا ہے، یعنی مجرم خود اور دوسرے بھی آئندہ یہ جرم نہ کریں؛ جبکہ ”تعزیری سزا“ کا مقصد عموماً یہ بتایا جاتا ہے کہ مجرم کی ”اصلاح“ ہو جائے؛ اور ”سیاسہ“ سزا، بالخصوص جہاں سزاے موت دی جا رہی ہو، کا مقصد یہ بتایا جاتا ہے، کہ مجرم کے فساد سے معاشرے کو بچایا جائے۔
پاکستان اور بھارت جیسے ممالک کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں فوجداری قانون میں اکثر جرائم پر ایک سے زیادہ سزائیں رکھی گئی ہیں، اکثر جرائم پر سزا کی مقدار میں اچھی خاصی گنجائش چھوڑی گئی ہے (مثلاً بعض اوقات مقرر ہوتا ہے: ”کم سے کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال“؛ اکثر اوقات لکھا ہوتا ہے: ”زیادہ سے زیادہ دس سال قید“، یا ”زیادہ سے زیادہ دس لاکھ روپے جرمانہ“)، اور اس کے باوجود قانون میں کوئی اصول نہیں لکھے گئے کہ کسی ایک سزا کا تعین، یا سزا میں کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ مقدار کا تعین جج کیسے کرتا ہے؟ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی جرم میں ایک عدالت مجرم کو تین سال کی سزا، اور دوسری عدالت دس سال کی سزا دے دیتی ہے؛ اور بعض اوقات ایک ہی عدالت ایک ہی جرم میں ایک مجرم کو یہ، اور دوسرے مجرم کو وہ سزا دے دیتی ہے۔ توہینِ عدالت کی سزا کو ہی دیکھ لیجیے۔ سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو سزا دی تھی ”عدالت کے برخاست ہونے تک“، اور پھر اگلے ہی لمحے عدالت برخاست کر دی گئی۔ چنانچہ انھیں بس ایک لمحے کی ہی سزا دی گئی۔ (تاہم چونکہ اب وہ سزا یافتہ مجرم ہوگئے، اس لیے وہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے لیے نا اہل ہو گئے۔) پاکستان اور بھارت دونوں کی سپریم کورٹ نے کئی مقدمات میں اس طرف توجہ دی ہے، لیکن تا حال اس معاملے میں نہ وہاں اور نہ ہی ہمارے ہاں کوئی قانون سازی ہوئی ہے۔
دوسری طرف امریکا اور بعض یورپی ممالک میں اس موضوع پر ججوں کی رہنمائی کے لیے تفصیلی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ان ہدایات کی پابندی عدالت پر لازم نہیں ہوتی، لیکن جج سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سزا کا تعین کرتے وقت ان ہدایات کو مدِّ نظر رکھے گا۔ البتہ انگلینڈ اور ویلز نے ججوں پر ان ہدایات کی پابندی لازم کی ہے۔ چونکہ عام طور پر انگلینڈ اور ویلز کے اس نظام کو معاصر دنیا میں ایک اچھے نمونے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اس لیے اس کے متعلق مختصراً نوٹ کیجیے کہ سزا یا اس کی مقدار کے تعین میں جج جن امور کو دیکھتا ہے، ان میں درج ذیل شامل ہیں:
- جرم کرنے والے کی نیت، نیز اس کی جانب سے اعتماد شکنی
- متاثرہ فرد/افراد کو پہنچایا گیا نقصان
- پہلے اسے سزا ہوئی ہے یا نہیں؟
- عہدے کا غلط استعمال
- نفرت پر مبنی طرزِ عمل
- ندامت
- کم عمری
- ذہنی صحت
- جلد اقرارِ جرم
اس بحث کی روشنی میں افغانستان کے نئے فوجداری قانون میں اگر تعزیری سزا کے لیے یہ اصول طے کیا گیا ہے کہ بعض لوگوں کو کوڑے لگانے یا قید کرنے کے بجاے صرف تنبیہ کرنا کافی ہوتا ہے، بعض کو عدالت میں بلا کر ان کی سرزنش کرنی پڑتی ہے، بعض کو جسمانی سزا دینی ضروری ہوتی ہے، کسی کو کم کسی کو زیادہ؛ تو اس پر اس سے زیادہ اعتراض یہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کا سوءِ استعمال ممکن ہے، لیکن پھر سوال یہ ہے کہ کون سا قانون ایسا ہے جس کا سوءِ استعمال ممکن نہ ہو؟ نیز کیا ہمارے ہاں جو نظام ہے اس کا سوءِ استعمال نہیں ہو رہا؟ کیونکہ ہمارے ہاں تو سرے سے ایسی کوئی ہدایات یا اصول ہیں ہی نہیں اور جج مرضی سے فیصلہ کرنے کے لیے خود کو آزاد سمجھتے ہیں۔
اس پر اس بات کا اضافہ کیجیے کہ افغانستان کے اس نئے فوجداری قانون میں یہ اصول بھی طے کیا گیا ہے کہ بعض صورتوں میں جج کو بھی تعزیری سزا ہو سکتی ہے۔ یہ ایسی بات ہے جس کا ہمارے ہاں تا حال کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ اس شق کی موجودگی میں کیا اس قانون کے سوءِ استعمال کو بڑی حد تک روکنے کا بندوبست نہیں کیا گیا؟
پھر یہ ہنگامہ، اے خدا، کیا ہے!
اس قانون کے چند قابلِ تحسین پہلو
یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ اس قانون کے بہت سارے قابلِ تحسین پہلو ناقدین کی توجہ نہیں پا سکے ہیں اور ان پر سرے سے بات ہی نہیں ہو رہی۔ ان میں سے چند ایک امور کی طرف پچھلی سطور میں اشارہ کیا گیا، جیسے:
تعزیری سزائیں
بعض واضح طور پر غیر شرعی فیصلوں پر قاضی کے لیے تعزیر کی بات ہے، یا بچے کی تادیب میں حد سے تجاوز کرنے والے استاد کی بطورِ تعزیر عہدے سے معزولی کا حکم ہے۔ اسی طرح بیوی کی تادیب میں حد سے تجاوز کرنے والے شوہر کے لیے بھی تعزیری سزا مقرر کی گئی ہے۔ ہمارے ہاں سکولوں اور مدرسوں میں بچوں کو شدید جسمانی سزاؤں کے خلاف یا اسی طرح گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی یا تو کی نہیں گئی، یا کی گئی ہے تو وہ اسلامی اصولوں کے بجاے مغربی تصورات سے ماخوذ ہے اور اس وجہ سے معاشرے کے لیے یکسر اجنبی ہے۔ ایسے میں افغانستان میں اسلامی اصولوں کی روشنی میں ان موضوعات پر تعزیری سزائیں مقرر کرنے کی تحسین ہونی چاہیے تھی، لیکن تعصب اور پروپیگنڈا کے شکار لوگوں کو اس کی توفیق نہیں ہوئی۔
جرمانے کی سزا
اس قانون کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں جرمانے کی سزا سرے سے ہی نہیں، بلکہ جرمانے کو (جسے اس قانون میں ”تعزیر بأخذ المال“ کہا گیا ہے) صراحتاً ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ یادش بخیر، 2022ء میں جب میں بین الاقوامی قانونِ جنگ کے ایک تربیتی پروگرام کے لیے افغانستان گیا تھا، تو وہاں علمی حلقوں میں یہ مسئلہ زیرِ بحث تھا اور بعض لوگوں کا خیال تھا کہ ٹریفک کے مسئلے کے حل کے لیے چالان اور جرمانہ ضروری ہے، لیکن حنفی فقہ میں چونکہ تعزیر بالمال ناجائز ہے تو وہ سوال کرتے تھے کہ اس کا حل کیا ہے؟ ایک مجلس میں یہ سوال اٹھا، تو ایک بزرگ عالمِ دین نے کہا کہ تعزیر بالمال کو جہاں حنفی فقہاء نے ناجائز کہا ہے، وہاں مراد تعزیر بأخذ المال ہے، اور یہ کہ بعض صورتوں میں ”تعزیر بإتلاف المال“ جائز ہے (جیسے مثلاً مجرموں سے منشیات برآمد کی گئیں اور بعد میں انھیں تلف کیا گیا)۔ اس پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ کیا ٹریفک پولیس اوور سپیڈنگ پر گاڑی کا شیشہ توڑے گی؟ میں نے عرض کیا کہ ایک تو شیشہ توڑنے کے بجاے وہ گاڑی کو روک کر اس کے ٹائر سے ہوا بھی نکال سکتی ہے، لیکن تعزیر بالمال کی ایک تیسری صورت بھی ہے جسے فقہاے کرام نے جائز کہا ہے، اور وہ ”تعزیر بحبس المال“ ہے، تو آپ اس کی گاڑی روک لیں، اور پھر بے شک ایک گھنٹے بعد اسے جانے دیں، تو امید ہے کہ ایک گھنٹے کی اس تاخیر سے اوور سپیڈنگ کا بھوت نکل جائے گا۔
اب جب اس نئے قانون کا متن میں نے پڑھا اور اس میں دیکھا کہ تعزیر بأخذ المال کو ناجائز، اور تعزیر بحبس المال اور تعزیر بإتلاف المال کو جائز قرار دیا ہے، اور ان جائز قسموں کے لیے حدود اور قیود مقرر کی گئی ہیں، تو بے حد خوشی ہوئی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ ہماری اس گفتگو کا اثر ہے، لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ اس قانون کے بنانے والوں نے فقہی ذخیرے کا بغور مطالعہ کیا اور یہ امر قابلِ تحسین ہے۔
منشیات پر سزائیں
اسی طرح منشیات کی روک تھام کے لیے اس قانون میں مخصوص پودوں کی کاشت سے لے کر منشیات بنانے، ان کی خرید و فروخت، ملک کے اندر یا باہر سمگلنگ اور دیگر متعلقہ جرائم پر تعزیری سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ یہ امر قابلِ غور ہے کہ افغانستان میں طالبان کی پچھلی حکومت (1996ء-2001ء) میں بھی منشیات کا کاروبار زوال کا شکار ہوا تھا، لیکن کرزئی حکومت اور پھر اشرف غنی حکومت میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ناک تلے اس کاروبار نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی، اور طالبان کی حکومت کے آنے کے بعد 2022ء سے پھر اس کاروبار کو شدید نقصان ہوا ہے۔ ان نئی اور سخت سزاؤں سے معاملہ مزید بہتری کی طرف جائے گا، لیکن مجال ہے کہ ناقدین اس پہلو پر بات کریں۔
توہینِ رسالت کی سزا
سب سے زیادہ قابلِ تحسین پہلو اس قانون کا یہ ہے کہ اس میں رسول اللہ ﷺ اور دیگر انبیاے کرام کی شان میں گستاخی پر سزا میں یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ مجرم کی توبہ کی صورت میں اسے سزاے موت کے بجاے بطورِ تعزیر 6 سال تک سزاے قید دی جائے گی۔ معلوم امر ہے کہ پاکستان میں ایک تو اس جرم پر سزاے موت مع جرمانے کی سزا کا قانون ہے، اور اس میں پہلے سزاے موت کی جگہ عمر قید کی سزا کا امکان تھا، لیکن وفاقی شرعی عدالت کے 1990ء کے فیصلے کے بعد وہ امکان ختم کر دیا گیا ہے؛ دوسرے، پاکستانی قانون میں توبہ پر سزا کے ساقط ہونے یا اس میں تخفیف کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی، بلکہ قانون یہ ہے کہ بہر صورت مجرم کو سزاے موت اور جرمانے کی سزا دینی ہے؛ تیسرے، پاکستان کے قانون میں یہ سزا صرف رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی پر ہے، اور دیگر انبیاے کرام کی شان میں گستاخی پر دس سال تک قید کی سزا یا جرمانہ یا دونوں سزائیں جاتی ہیں۔ انبیاے کرام کے درمیان اس تفریق کی کوئی گنجائش اسلامی قانون میں نہیں ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں، تو افغانستان کا قانون پاکستان کے قانون سے بہت بہتر ہے۔ کیا پاکستان میں ایسے مجرم کی توبہ کی بنا پر اس کی سزا میں تخفیف کے لیے قانون میں ترمیم کی بات کی جا سکتی ہے؟
البتہ ایک اہم مسئلہ باقی رہتا ہے۔ اس قانون میں توہینِ رسالت کے مسئلے میں یہ کہا گیا ہے کہ اس دفعہ کا اطلاق مسلمان پر ہوتا ہے کیونکہ یہ جرم کر کے وہ مرتد ہو جاتا ہے۔ یہاں تک تو بات حنفی مذہب کے مطابق ہے، لیکن اس کے آگے یہ کہا گیا ہے کہ مرتد ہونے کے بعد وہ تعزیر کا مستحق ہو جاتا ہے، اور یہ کہ اگر یہ جرم توبہ کے بغیر ثابت ہو، تو قاضی اسے امام (حکمران) کی اجازت سے بطور تعزیر سزاے موت دے گا۔ اس پر سوال یہ ہے کہ کیا حنفی مذہب کی رو سے مرتد کی سزا حد نہیں ہے؟ بیسویں صدی کے بعض مؤلفین کو غلط فہمی ہوئی تھی کہ چونکہ مرتد کی سزا توبہ سے ساقط ہو جاتی ہے، اور دیگر حدود سزائیں حد سے ساقط نہیں ہوتیں، اس لیے مرتد کی سزا حد نہیں ہے۔ امام سرخسی اور علامہ شامی کی تصریحات اس موضوع پر میں بارہا ذکر کر چکا ہوں۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ مرتد کی سزا کی علت کے دو اجزا ہیں: ایک، کفر؛ اور دوسرا، کفر کے بعد اس پر اصرار۔ چنانچہ اگر مسلمان کفر کرے، تو وہ مرتد ہو جاتا ہے اور سزاے موت کا مستحق ہو جاتا ہے اگر وہ کفر پر جما رہے؛ چنانچہ اگر وہ کفر کے بعد اس پر اصرار نہ کرے، بلکہ توبہ کر لے، تو علت باقی نہیں رہتی جس کی وجہ سے اس کی سزا ساقط ہو جاتی ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قانون کے حاشیے میں جو فقہی عبارات نقل کی گئی ہیں، ان میں توبہ نہ کرنے کی صورت میں سزاے موت، جبکہ توبہ کے بعد تعزیری سزا کی گنجائش بتائی گئی ہے، جبکہ اس قانون میں توبہ نہ کرنے کی صورت میں بطورِ تعزیر سزاے موت کی بات کی گئی ہے۔
حواشی
(1) پاکستان کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کی ویب گاہوں پر ایسی خبروں کے لیے دیکھیے:
https://tinyurl.com/taliban-dastoor-2026-january
(2) میرا یہ مقالہ درج ذیل پر پڑھا جاسکتا ہے۔ یہ مقالہ انگریزی میں ہے۔ اس موضوع پر اردو میں میرا مقالہ میری کتاب ”مقالاتِ شریعت“ میں شامل ہے۔ یہ کتاب ورلڈ ویو پبلشرز لاہور نے 2023ء میں شائع کی ہے:
https://papers.ssrn.com/sol3/papers.cfm?abstract_id=2238520
(3) اس موضوع پر میرے اس مقالے میں اور کتاب میں، جس کا حوالہ پیچھے دیا گیا، تفصیلات موجود ہیں۔ نیز وفاقی شرعی عدالت میں گھریلو تشدد کے متعلق قانون پر عدالت کی معاونت کےلیے لکھے گئے نوٹ میں بھی تفصیلات دے چکا ہوں۔
