دوسرا محور
سلف کی تفسیر سے متعلق اختلافی مسائل اور اشکالات
اس محور میں تفسیرِ سلف پر وارد ہونے والے اعتراضات، متنازعہ مسائل اور ان کا علمی جائزہ پیش کیا جائے گا۔ اس میں درج ذیل موضوعات شامل ہیں:
- تفسیرِ سلف میں اسرائیلی روایات کی موجودگی: تجزیہ و تنقید
- تفسیرِ سلف میں ضعفِ اسناد پر اعتراضات: تجزیہ اور حل
- بعض محدثین کی جانب سے مفسرین سلف پر جرح و تعدیل: تجزیہ و حل
- حجیتِ تفسیرِ سلف اور اس سے مخالف اقوال کا حکم
- مفسرین سلف کی فکری مذاہب میں تقسیم: تنقیدی جائزہ
سوال 1: تفسیرِ سلف میں اسرائیلی روایات کی موجودگی: تجزیہ و تنقید
باوجود اس کے کہ محققین سلف کے تفسیری اقوال کو بڑی اہمیت دیتے ہیں، لیکن ان کی تفاسیر — خصوصاً تابعین اور تبع تابعین کی تفسیروں — میں اسرائیلی روایات کی موجودگی کو بعض ناقدین کی طرف سے سخت اعتراض کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ آپ کے نزدیک اس مسئلے کی نوعیت کیا ہے؟ اور کیا واقعی یہ بات تفسیر سلف میں کسی علمی خلل یا کمزوری کو ظاہر کرتی ہے؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
تفسیری علوم اور ان کے تحقیقی میدان میں پچھلی چند دہائیوں کے دوران جو تحقیقات سامنے آئیں، ان میں کئی نازک اور اہم موضوعات نمایاں ہوئے۔ بعض مرتبہ یہ موضوعات ورثۂ سلف کے غلط فہم پر مبنی تھے، اور بعض مرتبہ روایتی متون پر جذباتی اطلاق کی بنا پر سامنے آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان مسائل کے نتائج آپس میں متضاد ہوتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک کا پیچھے کوئی خاص پس منظر ہوتا ہے، کبھی جذباتی محرکات، اور کبھی امتِ مسلمہ کے موجودہ سیاسی و سماجی حالات۔
انہی میں سے ایک مسئلہ "اسرائیلی روایات" کا بھی ہے، جو گزشتہ چند دہائیوں میں غیر معمولی حد تک زیر بحث آیا۔ اس پر کئی کتابیں لکھی گئیں، جامعات میں تحقیقی مقالات اور تھیسسز لکھے گئے جن کا مقصد تفسیری کتب کو اسرائیلی اثرات سے "صاف کرنا" تھا۔ بعض ناقدین نے ان روایات کو تفسیری روایت کا عیب قرار دیا، یہاں تک کہ کسی مفسر کا ان روایات کو نقل کرنا بھی قابلِ اعتراض گردانا جانے لگا۔
یہاں مجھے ایک پی ایچ ڈی کے طالب علم کا واقعہ یاد آگیا جس نے تفسیر کے موضوع پر اپنی تحقیق پیش کی، لیکن اس کے مشرف اور مناقش نے یہ کہہ کر اس کی تحقیق کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا کہ "آپ کی پوری تحقیق مستشرقین کے لیے ایک سونے کی پلیٹ ہے"، صرف اس وجہ سے کہ اس تحقیق میں سلف کی تفسیری روایات کو جمع کرتے ہوئے بعض اسرائیلی روایات بھی شامل ہو گئی تھیں۔ یہاں تک کہ اس مناقش نے محقق سے یہ شرط لگا دی کہ وہ ان تمام اسرائیلی روایات کو اپنی تحقیق سے نکالے، ورنہ یہ مقالہ قابلِ قبول نہ ہو گا۔ اور وہ طالب علم دل برداشتہ ہو کر یہ شرط پوری کرنے پر مجبور ہوا۔
ہم حسنِ ظن رکھتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے پیچھے دین کی غیرت اور تحفظِ قرآن کا جذبہ ہوتا ہے، لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ علمی مسائل صرف غیرت یا جذبات سے حل نہیں ہوتے، ان کے لیے علمی بصیرت، تحقیقی توازن، اور حجت و دلیل کی بنیاد پر استدلال کی ضرورت ہوتی ہے۔ کتنے ہی مواقع آئے جب جذباتی شور، بغیر علمی بنیاد کے، قوموں اور نسلوں کو گمراہی کی طرف لے گیا۔
اسرائیلی روایات سے متعلق نبی اکرم ﷺ کی واضح ہدایات موجود ہیں، جن میں اجازت دی گئی ہے کہ بنی اسرائیل کی روایات کو روایت کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ نہ قرآن و سنت سے ٹکرائیں، اور نہ ان کی تصدیق یا تکذیب لازم ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انہی اصولوں کے تحت ایسی روایات بیان کیں، تابعین نے ان سے روایت کیں، اور تبع تابعین نے تابعین سے، پھر جلیل القدر مفسرین نے ان روایات کو اپنی تفاسیر میں مخصوص اصولوں کے ساتھ درج کیا۔
علمی دنیا میں یہ ایک مسلّم اصول ہے کہ کسی چیز پر حکم لگانے سے پہلے اس کا مکمل تصور حاصل کرنا ضروری ہے۔ تنقید صرف اس وقت معتبر ہو گی جب وہ علمی اصولوں پر مبنی ہو، جس میں غور و فکر، فہم، توازن اور مزاج کی گہرائی شامل ہو، بغیر عجلت اور تعصب کے۔
جب ہم عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابی کو دیکھتے ہیں — جن کے لیے رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی کہ "اللہم فقہہ فی الدین وعلمہ التاویل"، اور جن کے علم و فہم کی گواہی دیگر صحابہؓ نے دی — تو ہم پاتے ہیں کہ ان سے تقریباً 663 اسرائیلی روایات مروی ہیں، جو ان کی کل تفسیر کا تقریبا 10٪ بنتی ہیں۔ اسی طرح عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ — جو اپنے طلبہ پر سختی، دینی حساسیت، اور فکری غیرت کے حوالے سے معروف تھے — ان سے بھی 92 اسرائیلی روایات مروی ہیں، جن کی نسبت ان کی مجموعی تفسیری روایات کا (8%) بنتی ہے۔
جب ایسے بزرگ صحابہ، تابعین، اور تبع تابعین، جن کی دیانت، علم اور غیرت پر کوئی شک نہیں، ان روایات کو روایت کریں، اور جب طبری (310ھ)، ابن ابی حاتم (327ھ)، ابن عطیہ (541ھ)، ابو حیان (745ھ)، ابن کثیر (774ھ) جیسے جلیل القدر مفسرین انہیں اپنی تفاسیر میں جگہ دیں، تو پھر پورے مکتبِ تفسیر کو یکسر مسترد کرنا یا ان پر شک کرنا نہ عقلاً درست ہے نہ شرعاً منصفانہ۔ یہ امت کے چودہ سو سالہ فکری ورثے کو کسی سطحی تاثر، ذاتی رائے، یا علمی ناپختگی کی بنیاد پر مسترد کرنے کے مترادف ہوگا۔ ایسے میں اہلِ انصاف کا کام یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے سلف کے موقف کو اچھی طرح سمجھیں، اس کے محرکات کو پرکھیں، ان روایات کے استعمال کے مقاصد اور دائرہ کار کو واضح کریں، پھر علمی انداز میں اپنی رائے قائم کریں۔
اور جو کچھ میری تحقیق، میرے مطالعے اور سلف کی تفاسیر سے طویل وابستگی کے نتیجے میں میں نے پایا، وہ یہ ہے کہ سلف اور مفسرین نے ان اسرائیلی روایات کو دو بنیادوں پر ذکر کیا:
- نبی کریم ﷺ کی دی ہوئی اجازت پر اعتماد کرتے ہوئے، اور اس شرط کے ساتھ کہ یہ روایات شریعت سے نہ ٹکرائیں، نہ ان کی تصدیق کی جائے نہ تکذیب، بلکہ ان میں توقف کیا جائے۔ میرے ذاتی مطالعے میں صحابہؓ سے ایسی کوئی اسرائیلی روایت نہیں ملی جو اسلامی شریعت کے کسی اصول سے متصادم ہو۔
- یہ روایات تفصیلی وضاحت کے لیے نہیں بلکہ صرف کسی آیت کے عمومی مفہوم کی تشریح یا ایک اجمالی نکتہ کی وضاحت کے لیے نقل کی جاتی تھیں۔ جیسے کوئی شاعر ایک بیت سے کسی لفظ یا اسلوب کی وضاحت کرتا ہے، حالانکہ اس شعر میں بعض قبیح معانی بھی ہو سکتے ہیں، مگر مقصود صرف استشہاد ہوتا ہے، قبولِ مضمون نہیں۔ بعض مواقع پر قرآن کی آیات کے بعض مفاہیم واضح ہی نہیں ہوتے جب تک کہ اس طرح کی اسرائیلی روایت کی روشنی نہ ملے، جیسے قصۂ سامری یا حضرت سلیمانؑ کی آزمائش کے بعض پہلو۔
اسرائیلی روایات کی تفصیلات کے سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ ایک ایم فل کے طالب علم کے مقالے کے وائیوا میں، جو سلف کی تفسیری روایات کو جمع کرنے پر مبنی تھا، ممتحن خارجی نے اس ریسرچ اسکالر سے مسلسل پوچھ گچھ کی۔ اس نے جو روایتیں نقل کی تھی، وہ ان میں سے ہر چھوٹی بڑی بات پڑھ کر پوچھتے رہے: "کیا یہ صحیح ہے؟ کیا یہ درست ہے؟" ان میں سے ایک روایت یہ تھی کہ حضرت سلیمان علیٰ نبینا وعلیہ السلام جانوروں کے تنازعات کے بھی فیصلے فرماتے تھے۔ جب یہ بات مناقش اور مشرف مقالہ نے دیکھی تو اس نے طالب علم سے سوال کیا: "کیا حضرت سلیمانؑ جانوروں کے درمیان فیصلے کرتے تھے؟ کیا یہ ایک نبی کے شایانِ شان ہے کہ وہ خاص طور پر جانوروں کے لیے بیٹھیں اور ان کے مابین فیصلہ کریں؟"
مناقش کا یہ سوال انتہائی عجیب تھا، اور ان کی کم علمی اور کج فہمی پر دلالت کرتا تھا، اس لیے کہ قرآن خود گواہی دیتا ہے کہ اللہ نے سلیمانؑ کو پرندوں کی بولیاں سکھائیں، اور وہ چیونٹی کی بات پر مسکرائے۔ تو پھر اگر سلیمانؑ نے جانوروں کے تنازعات کا فیصلہ کیا ہو، تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟
آخر میں یہی کہوں گا کہ یہ معاملہ اب بھی ایک گہرے علمی جائزے اور تحقیق کا تقاضا کرتا ہے۔ سلف کی تفاسیر، ان کے آثار، اور ان اسرائیلی روایات کے استعمال کی پوری علمی روشنی میں ازسرِنو مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام انفرادی نہیں، بلکہ علمی اداروں، تحقیقاتی مراکز اور تخصص یافتہ اہلِ علم کی اجتماعی کوشش کا متقاضی ہے۔ اور اس حوالے سے "مرکز تفسیر" کی ویب سائٹ پر "اسرائیلیات فائل" ایک اہم علمی ذریعہ ہے، جس میں اس موضوع پر کئی گراں قدر تحقیقات اور نکتہ ہائے نظر جمع کیے گئے ہیں۔
آخر میں، یہ بھی واضح رہے کہ ان مسائل کے ساتھ ساتھ اب بھی تفسیر کی اسانید، قرآنی اعجاز، اور تدبرِ قرآن جیسے موضوعات تحقیق، تنقیح، اور تاریخی جائزے کے محتاج ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان اہم میدانوں میں کچھ نفع بخش خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔
سوال 2: تفسیرِ سلف میں ضعفِ اسناد پر اعتراضات: تجزیہ اور حل
تفسیرِ سلف کی وقعت گھٹانے اور اس کی افادیت کو کم کرنے کی ایک بڑی وجہ بعض محققین کے نزدیک ضعیف اسناد کا اشکال بھی ہے۔ آپ نے سلف کی تفاسیر پر بھرپور کام کیا ہے، آپ کے خیال میں اس مسئلے کی نوعیت کیا ہے اور اسے کیسے سمجھا جانا چاہیے؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
میں بار بار اس بات پر زور دیتا ہوں کہ ہم چودھویں یا پندرھویں صدی میں یکایک پیدا نہیں ہو گئے۔ ہم ایک ایسی امت سے تعلق رکھتے ہیں جس کا علمی ورثہ بے حد وسیع اور گہرا ہے۔ اگر ہم میں سے کوئی شخص عمر بھر ایک ہی علم کو سمجھنے، اس کی اصل روح تک پہنچنے، اور مصنف کے منشا کے مطابق اس کی باریکیوں کو جاننے میں لگا رہے، تب بھی مکمل احاطہ ممکن نہیں۔ لہٰذا ہمیں اس ورثے کا احترام کرنا چاہیے۔ کم از کم اتنا تو ضروری ہے کہ ہم اسے ویسے سمجھنے کی کوشش کریں جیسا کہ اس کے مصنفین کی منشا تھی۔ اگر ہم اس میں بھی پوری طرح کامیاب نہ ہو سکیں تو کم از کم اخلاص اور نیتِ خیر سے سمجھنے کی کوشش ضرور کریں تاکہ عند اللہ معذور ہوں۔
ہم سے پہلے بڑے بڑے امام اور علمی اکابر گزرے ہیں جن کی قدر و منزلت ہر میدانِ علم میں مسلّم ہے۔ جیسا کہ امام ابو عمرو بن العلاء رحمہ اللہ کا قول ہے: "ہم ان کے مقابلے میں ویسے ہی ہیں جیسے چھوٹے پودے بڑے اور لمبے درختوں کے سائے میں اگتے ہیں!"۔ لہٰذا جو لوگ "تحقیق" یا "تجدید" کی بات کرتے ہیں، تراثِ علمی کو سمجھے بغیر اس پر تنقید کرتے ہیں، وہ دراصل اپنی عقل کا مذاق بنا رہے ہوتے ہیں اور خیالی آرزوؤں میں جیتے ہیں۔ چنانچہ اس طرح کے نازک علمی معاملات میں ہمیں لازماً اس فن کے ائمہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اور ان کی تحریروں، اقوال اور عملی تطبیق کا باریک بینی سے مطالعہ کرنا چاہیے، تاکہ ان کی بنیادوں کو صحیح فہم کے ساتھ سمجھا جا سکے۔
یقیناً یہ کام آسان نہیں، بلکہ طویل صبر، گہری نظر، عبارتوں کی باریک تفہیم، متون کا تحقیقی جائزہ، جامع مطالعہ اور ان سے استنباط درکار ہے۔ اور جہاں تک "اسناد" اور ان سے متعلق مسائل کا تعلق ہے، تو یہ دراصل علمِ حدیث کا موضوع ہے، اور اس کا فہم بھی اسی علم کی روشنی میں ہونا چاہیے، یہ مسئلہ جمہور اکابر علماء کے لیے کبھی اشکال کا باعث نہیں رہا، بلکہ ان میں سے کئی ایسے تھے جو بیک وقت حدیث اور تفسیر دونوں میں امام مانے جاتے تھے، جیسے طبری (310ھ) اور ابن ابی حاتم (327ھ)۔ علمِ تفسیر میں ان دونوں کی تفسیروں کو وہ مقام حاصل ہے جو کسی اور کو میسر نہیں
دراصل یہ اشکال بعض متاخرین کی طرف سے پیدا ہوا جنہوں نے اس باب میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گویا اس میں دو منہج ہیں: ایک سخت گیر منہج اور دوسرا اسانید پر حکم لگانے میں نرم منہج۔ یا یہ کہ محدثین کا اسانیدِ تفسیر کے ساتھ تعامل کا ایک الگ منہج ہے اور غیر محدثین کا الگ۔ اور یہ بات حقیقت سے بالکل متصادم ہے، کیونکہ جو مسئلہ اصل میں پیدا ہوا وہ اس وجہ سے تھا کہ بعض ناقدین نے علمِ حدیث کے منہج کو مکمل طور پر سمجھا ہی نہیں۔ اہلِ حدیث نے اس میدان میں ایسا جامع، محتاط اور قابلِ انعطاف اصولی منہج ترتیب دیا ہے کہ وہ ہر طرح کی روایات کے ساتھ علمی توازن سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بات غلط فہمی پر مبنی ہے کہ وہ محض سند کے ظاہر پر حکم لگاتے ہیں۔ بلکہ اہلِ حدیث متن، سیاق، مصنف کی غرض، اور قرائن کو بھی شامل کرتے ہیں۔ یہ تمام پہلو آپس میں جڑے ہوئے ہیں، اور اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز کیا جائے تو نقد کا منہج ناقص ہو جاتا ہے، اور اس کے نتائج غیر معتبر ہوتے ہیں۔
اسی منہجِ نقد میں خرابی کی وجہ سے بعض معاصرین نے ایسی کتابیں تصنیف کیں، جن میں بہت سی تفسیری روایات محض سند کی کمزوری کے باعث حذف کر دی گئیں، یا صرف ان روایات کو قبول کیا گیا جنہیں وہ "صحیح" سمجھتے تھے، حالانکہ یہ رویہ تراثِ علمی کے ساتھ سخت زیادتی، تفسیر کی علمی روح کا مسخ کرنا، اور ایک صدیوں پر محیط علم کا ضیاع ہے۔
یہ ہے علمائے سلف کا عمومی منہج، جس پر وہ اس مسئلے میں عمل پیرا تھے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ مزید تحقیق، تدقیق، تتبع اور استقراء کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تمام تفسیری کتب کو فرداً فرداً پڑھیں، ان کے مناہج کو سمجھیں، اور ان کے عملی تطبیقات کو پرکھیں۔ یہ کوئی معمولی کام نہیں، بلکہ علمی اداروں، تحقیقی مراکز اور سنجیدہ اسکالرز کی اجتماعی کوشش چاہتا ہے۔
یہ تھے اس معاملے میں علماء کے عمومی منہج کے اہم نکات۔ البتہ یہ اہم موضوع مزید تحقیق و تدقیق کا تقاضا کرتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر تفسیر کا فرداً فرداً گہرائی سے جامع مطالعہ کیا جائے، ان میں مفسرین کے نظری اصولوں کو اکٹھا کیا جائے، ان کے عملی اطلاقات کا تجزیہ کیا جائے، اور یہ دیکھا جائے کہ آثار و روایات کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے ان کا بالکل واضح منہج کیا تھا، نیز یہ بھی جانا جائے کہ انہوں نے ان روایات کو کن کن مقامات پر استعمال کیا۔ یہ سب باریک نکات ہیں جو صرف اسی وقت سامنے آسکتے ہیں جب انسان طویل صبر و تامل، گہرے تجزیے اور باریک بینی سے کام لے۔
اور اس غلط منہج کا نقصان صرف تفسیر تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے دیگر تمام علوم کو بھی متاثر کیا، جیسے سیرت۔ اب ہمیں "صحیح سیرت" جیسی اصطلاحات سننے کو ملتی ہیں، اور بعض افراد نے مرفوع احادیث کے بارے میں بھی غلط فہمیاں پیدا کر دیں۔ اگر یہی انداز جاری رہا تو ممکن ہے کل کو شعر، ادب اور تاریخ بھی اسی کسوٹی پر پرکھے جانے لگیں۔
یہ طرزِ فکر مجھے ایک عرب کے واقعے کی یاد دلاتا ہے۔ کہا جاتا ہے ایک شخص عید بن لجیم نامی عرب کے پاس ایک عمدہ گھوڑا تھا۔ کسی نے کہا: "ہر عمدہ گھوڑے کا کوئی نام ہوتا ہے، تمہارے گھوڑے کا کیا نام ہے؟" اس نے جواب دیا: "ابھی تک کوئی نہیں رکھا۔" تو لوگوں نے اصرار کیا کہ "اس کا نام رکھو!" اس کے ذہن میں اعور نام آیا جو اسے اچھا لگا، اور اعور کا مطلب تھا "کانا"، یعنی ایک آنکھ والا۔ جب یہ نام اس کے ذہن میں آیا تو اس نے گھوڑے کا اسم بامسمّٰی کر دیا، یعنی اس نے فوراً ایک آنکھ نکال دی اور کہا: "اب اس کا نام ہے: الاعور (کانا)!"۔ یعنی جہاں اصل میں حفاظت مقصود تھی، وہاں نقصان کر بیٹھے۔ بس یہی حال ان لوگوں کا ہے جو علم کی حفاظت کے نام پر علم ہی کو مجروح کر رہے ہیں۔
سوال 3: بعض محدثین کی جانب سے مفسرین سلف پر جرح و تعدیل: تجزیہ و حل
تفسیرِ سلف سے متعلق ایک اور قابلِ توجہ اشکال یہ بھی ہے کہ اہلِ حدیث کی ایک بڑی تعداد نے تابعین اور تبع تابعین کے بہت سے راویوں کو ضعیف قرار دیا ہے۔ آپ کے نزدیک یہ اشکال کس حد تک معتبر ہے؟ اور اس کا درست علمی حل کیا ہے؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
یہ بات اپنی جگہ درست ہے، اور جو لوگ یہ بات کرتے ہیں وہ کوئی جھوٹ نہیں بولتے، لیکن ان کی بات اس شخص کی مانند ہے جو قرآن کی یہ آیت پڑھے: "فویل للمصلین" (تباہی ہے نمازیوں کے لیے)، اور آگے نہ پڑھے کہ اصل مراد کیا ہے۔
جیسا کہ میں نے پچھلے جواب میں وضاحت کی، اہلِ حدیث کسی بھی روایت کو پرکھنے میں ایک سے زیادہ پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہیں۔ ان میں ایک پہلو سند (یعنی راویوں کا سلسلہ) بھی ہے، جس پر ان کی بڑی باریک اور عالمانہ نظر ہوتی ہے۔ سند کا جائزہ لیتے ہوئے وہ راوی کے حفظ، دیانت، فہم، ضبط اور دیگر صفات کو پرکھتے ہیں۔ لیکن یہ بات سمجھنے کی ہے کہ کسی راوی کو حدیث میں ضعیف قرار دینا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ ہر علم میں ضعیف ہے۔ ممکن ہے وہ حدیث میں ضعیف ہو، مگر تفسیر، قراءت، لغت یا دیگر علوم میں امامت کا مقام رکھتا ہو۔
اس کی کئی نمایاں مثالیں موجود ہیں: امام عاصم بن ابی النجود (وفات: 127ھ)، جن کی قراءت آج بھی دنیا بھر میں معروف و مقبول ہے۔ وہ قراءت میں پختہ، مضبوط اور متقن تھے، لیکن حدیث کے باب میں ضعف کے حامل سمجھے جاتے تھے۔ ان کے شاگرد اور سوتیلا بیٹا بھی تھا، حفص بن سلیمان (وفات: 180ھ)، جن سے قرآن کی سب سے مشہور قراءت "روایت حفص عن عاصم" مروی ہے۔ وہ قراءت میں امام تھے، لیکن حدیث کے باب میں ضعیف شمار کیے گئے۔ اس کے برعکس، امام اعمش (سلیمان بن مہران)، وہ حدیث کے باب میں بہت ثقہ اور مضبوط راوی تھے، لیکن ان کی قراءت کو "شاذ" قراءتوں میں شمار کیا گیا، اور وہ قراء کے نزدیک معتبر نہیں مانی گئی۔
یہ بات زندگی کے ہر میدان میں مشاہدے میں آتی ہے۔ ایک شخص طب (میڈیکل) میں ماہر ہو سکتا ہے، لیکن انجینئرنگ کا ذرا سا فہم نہ رکھتا ہو۔ تو کیا ہم اس کی طبی مہارت کو رد کر دیں گے، صرف اس لیے کہ وہ انجینئرنگ نہیں جانتا؟ ہرگز نہیں! ہم اسی علم میں اس سے فائدہ اٹھائیں گے جس میں وہ ماہر ہے، اور باقی معاملات میں خاموشی اختیار کریں گے۔ یہی اصول علمائے حدیث نے بھی اپنایا۔ ان کے تصریحات اور تطبیقات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ وہ راویوں کی جانچ صرف فنِ حدیث تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ کس فن میں راوی قابلِ اعتماد ہے، اور کس فن میں نہیں۔ چنانچہ اگر کوئی راوی حدیث میں ضعیف ہو، تو اس سے تفسیر یا قراءت یا لغت میں روایت لینے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ وہ اس فن میں قابلِ اعتماد ہو۔ یہی علمی توازن اور فہم کا انصاف پر مبنی منہج ہے، اور یہی اہلِ علم کا اصل طریقہ رہا ہے۔
سوال 4: حجیتِ تفسیرِ سلف اور اس سے مخالف اقوال کا حکم
تفسیرِ سلف کی حجیت (یعنی اس کا واجب الاتباع ہونا) ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ماضی و حال کے علماء کے درمیان خاصا اختلاف رہا ہے۔ آج کے اہلِ علم کے مابین بھی اس پر بحث پائی جاتی ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ اگر کوئی نیا قول، سلف کے کسی قول سے واضح طور پر متصادم ہو تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ آپ اس مسئلے کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
یہ مسئلہ واقعی بہت اہم اور بنیادی نوعیت کا ہے۔ سلف کے فہم سے استدلال اور اس پر عمل کوئی نئی بات نہیں، بلکہ یہ ایک قدیم علمی رویہ ہے، جو عہدِ صحابہؓ ہی سے چلا آ رہا ہے اور علماء و ائمہ نے صدیوں سے اس پر اعتماد کیا ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ سلف کو جو فضیلت اور انفرادیت حاصل ہے، وہی ان کے فہم کو معتبر اور حجت بنانے کی بنیاد ہے، اور اس پر بے شمار آثار بھی وارد ہوئے ہیں۔
مثلاً: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے: "اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں جھانکا تو محمد ﷺ کا دل سب سے بہتر پایا، تو انہیں اپنی رسالت کے لیے منتخب فرمایا۔ پھر محمد ﷺ کے بعد لوگوں کے دلوں میں جھانکا تو صحابہؓ کے دل سب سے بہتر پائے، چنانچہ انہیں اپنے نبی کے وزیروں کے طور پر چن لیا، تاکہ وہ دین کی حفاظت کریں۔ تو جو بات صحابہؓ کے نزدیک اچھی، وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی، اور جو ان کے نزدیک بری، وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔"
اسی طرح عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خوارج کے ساتھ مناظرہ کرتے ہوئے فرمایا: "میں تمہیں مہاجرین و انصار، اور نبی ﷺ کے چچا کے صاحبزادے (یعنی علیؓ) کی طرف سے خطاب کر رہا ہوں۔ اور قرآن انہی پر نازل ہوا تھا، اس لیے وہ اس کے مفہوم کو تم سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔"
ایسے اقوال کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان کے تتبع سے ایک زبردست علمی روایت اور اصولی بنیاد سامنے آتی ہے۔ علمائے امت نے ان اقوال سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ قرآن و سنت کا جو فہم سلف کے درمیان اجماعی طور پر قائم ہو گیا ہو، وہی صحیح فہم ہے۔ اور جو بھی قول اس اجماعِ سلف کے خلاف ہو، وہ غلط اور گمراہی پر مبنی ہے۔ یہ ایک واضح اصول اور قابلِ اعتماد علمی قاعدہ ہے، اور قرآن کی تفسیر بھی اسی قاعدے کے تحت آتی ہے۔ تاہم جب ہم تفسیر کی پوری علمی روایت کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں کچھ ایسے آثار بھی ملتے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قرآن میں مزید تدبر، اجتہاد اور فہم کے امکانات موجود ہیں۔
مثلاً: ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک روز علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: "کیا آپ کے پاس قرآن کے علاوہ کوئی ایسا علم ہے جو عام لوگوں کے پاس نہیں؟" حضرت علیؓ نے فرمایا: "قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا، ہمارے پاس قرآن کے علاوہ کچھ نہیں، ہاں، قرآن کے فہم کی وہ صلاحیت جو کسی شخص کو عطا کی گئی ہو، وہ ایک الگ بات ہے۔"
اسی طرح حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "تم اس وقت تک مکمل فقیہ نہیں بن سکتے جب تک قرآن کے متعدد معانی و پہلو نظر نہ آئیں۔"
ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا فہم صرف ایک جامد سانچہ نہیں ہے، بلکہ تدبر، تامل، فہم و فراست سے اس میں نئے معانی اور حکمتیں اخذ کی جا سکتی ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ سلف کے اجماعی فہم سے متصادم نہ ہوں۔ چنانچہ اگر کوئی نیا قول علمی لحاظ سے معتبر ہے، اور سلف کے اجماع یا ان کے متفقہ فہم کے خلاف نہیں جاتا، تو پھر اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن اگر وہ نیا قول سلف کے اجماعی فہم کی نفی کرتا ہے، یا ان کے اجماع کو باطل قرار دیتا ہے، تو وہ قول درست نہیں اور اس کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
امام طبری (وفات: 310ھ) نے اپنی تفسیر کی تمہید میں بڑی وضاحت سے اس اصول کو بیان کیا۔ وہ فرماتے ہیں: "قرآن کی تفسیر میں حق بات کا سب سے زیادہ مستحق وہ مفسر ہے جو واضح دلیل رکھتا ہو، لیکن اس کی تفسیر سلف کے اقوال سے خارج نہ ہو، یعنی اس کا مطلب و مفہوم سلف کے بیان کردہ فہم کے دائرے میں آتا ہو۔"
امام طبری رحمہ اللہ کی اپنی تفسیر میں عملی طریقہ کار اس اصول کی تصدیق کرتا ہے جس کا انہوں نے مقدمے میں ذکر کیا ہے۔ وہ اکثر کسی قول کو غلط قرار دیتے ہیں، خواہ اس میں کوئی گنجائش نظر آئے، اور وضاحت کرتے ہیں کہ اسے رد کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ سلف کے اتفاق اور ان سے کثرت سے منقول روایات کے خلاف ہے۔
مثلاً ان کا قول: "یہ قول اہلِ علم کے موقف سے الگ ہے، اس کی کوئی بنیاد نہیں … اور تمام اہلِ تاویل کا اتفاق ہے کہ یہ آیت ابن حضرمی کے قتل کے معاملے میں نازل ہوئی"۔ اسی طرح ان کا یہ قول: "چونکہ حقیقتِ حال یہی ہے، اور اس مسئلے میں سلف کے درمیان کوئی نمایاں اختلاف بھی نہیں، اور جو بات ان کے درمیان معروف اور رائج تھی وہی حجت ہے، لہٰذا لازم ہے — اگرچہ اس میں دوسرے احتمالات بھی ہوں — کہ ہم اسی بات کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں جس کی درستی ان کی معتبر نقل سے ثابت ہو۔"
بلکہ امام طبری ایسے قول کو بھی غلط قرار دیتے ہیں جو سلف کے اجماع کے خلاف ہو، اگرچہ وہ قول خود سلف میں سے کسی فرد سے منقول ہو۔ اور ان کا منہج یہ ہے کہ وہ اکثریت کے اتفاق کو اجماع شمار کرتے ہیں۔ زیادہ تر مقامات جو میں نے اس نوعیت کے دیکھے، وہ آیات میں احکام سے متعلق اقوال کی وضاحت میں تھے۔
مثلاً ان کا قول: "محمد بن ابی موسیٰ سے جو بات منقول ہے، وہ اہلِ تاویل کے قول سے الگ ہونے کے ساتھ ساتھ ظاہر قرآن کے مفہوم سے بھی دور ہے۔" اسی طرح ان کا قول: "طاووس نے ابن عباس سے جو روایت کی ہے، وہ قول امت کے موقف کے خلاف ہے۔ کیونکہ سب کا اتفاق ہے کہ میت کے بھائی کو اس کے باپ کی موجودگی میں وراثت نہیں ملتی۔ تو ان کا اجماع ہی اس قول کی غلطی کی دلیل ہے۔" نیز ان کا قول: "جس نے یہ کہا کہ اس سے مراد وہ جانور ہے جسے مسلمان نے ذبح کیا لیکن اللہ کا نام لینا بھول گیا، تو یہ قول صحیح سے دور ہے، کیونکہ یہ شاذ ہے اور اس سے ہٹ کر ہے جس پر حجت کا اجماع ہے، اور یہی اس کی فاسد ہونے کی دلیل ہے۔"
البتہ جن مقامات پر امام طبری نے اہلِ لغت سے کوئی ممکنہ قول ذکر کیا جو سلف کے بعض افراد سے مختلف ہو لیکن ان کے اجماع کے خلاف نہ ہو، تو انہوں نے اسے درست مانا اور نہ تنقید کی نہ غلط قرار دیا۔ جیسے ان کا قول: "بعض نے کہا ہے کہ وہ کسی چیز پر ایمان نہیں رکھتے تھے، اور 'فقلیلا ما یؤمنون' اس حال میں کہا گیا جبکہ وہ سب پر کافر تھے، جیسے عرب کہتے ہیں: 'قلما رایت مثل ہذا قط' (میں نے کبھی اس جیسا نہیں دیکھا)۔"
یہ پورا مسئلہ مزید تتبع، تحقیق اور سلف کے آثار کے عمیق مطالعے کا متقاضی ہے۔ میں نے یہاں صرف امام طبری کی تفسیر کو بنیاد بنایا، کیونکہ انہوں نے سلف کی تفسیر کو بنیاد بنا کر پورا تفسیری منہج ترتیب دیا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم سلف کے اجماعی اقوال کو معلوم کرنے کی جامع کوشش کریں، اور ایسے اقوال کو یکجا کریں جن پر مفسرین نے صراحت کے ساتھ اتفاق ظاہر کیا ہے۔ یہ کام ایک بڑے تحقیقی منصوبے کا متقاضی ہے، جس میں ماہرین، ادارے اور محققین شریک ہوں، تاکہ اس مسئلے کی حقیقت اور حدود کو پوری امت کے سامنے صحیح علمی روشنی میں پیش کیا جا سکے، نہ کہ جیسا بعض سطحی مقالات اور جزوی فہم کے حامل محققین نے اسے بیان کیا ہے۔
سوال 5: مفسرین سلف کی فکری مذاہب میں تقسیم: تنقیدی جائزہ
محققین عام طور پر سلف کے مفسرین کو مختلف مدارسِ تفسیر اور تفسیری رجحانات میں تقسیم کرتے رہے ہیں، لیکن بعض معاصر علماء اس تقسیم کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں سمجھتے۔ آپ کے نزدیک کیا یہ تقسیم واقعی درست ہے؟
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:
سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ یہ تقسیم، جدید تحقیق کی پیداوار ہے۔ متقدمین میں سے کسی بھی امام یا مؤرخ نے سلف کے مفسرین کو "مدارس" یا "رجحانات" میں تقسیم نہیں کیا۔ نہ تو کتبِ تراجم میں، اور نہ ہی تفاسیر یا علومِ قرآن کی کتب میں اس طرز کی کوئی تقسیم ملتی ہے۔ سلف کی تفسیر کو ہمیشہ ان کے تین معروف طبقوں (صحابہ، تابعین، تبع تابعین) کے تناظر میں دیکھا گیا ہے، اور انہیں ایک ہی علمی نہج، ایک ہی فہم، اور ایک ہی منہج کا نمائندہ سمجھا گیا ہے۔
جب ہم تفسیر کو مدارس، رجحانات یا مذاہب میں تقسیم کرتے ہیں تو اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کے درمیان منہجی و اصولی اختلافات پائے جاتے ہیں، جیسے فقہ میں: "حنفی"، "شافعی"، یا کلام میں: "معتزلہ"، "رافضہ"، یا نحو میں: "بصری"، "کوفی" وغیرہ۔ ایسی اصطلاحات وہاں استعمال کی جاتی ہیں جہاں اصول، منہج اور طریقہ کار میں بنیادی فرق پایا جائے۔ لیکن سلف کی تفسیر کے معاملے میں یہ انداز درست نہیں، کیونکہ:
- اولاً: سلف کی تفسیر ایک ہی اصولی بنیاد پر استوار ہے۔ ان کے اصول، مصادر اور منہج ایک تھا۔ ان کے درمیان ایسا کوئی بنیادی منہجی اختلاف نہ تھا جس کی بنیاد پر انہیں الگ الگ "مدارس" یا "رجحانات" میں تقسیم کیا جا سکے۔
- ثانیاً: جن لوگوں نے یہ تقسیم کی، انہوں نے سلف کی تفاسیر کو جغرافیائی بنیاد پر تین بڑے "مدارس" میں بانٹ دیا: مکہ کا مدرسہ، مدینہ کا مدرسہ، عراق کا مدرسہ (بعض نے اسے مزید "بصرہ" اور "کوفہ" میں تقسیم کیا)، کبھی کبھار "طائف" کو بھی مکہ کے ساتھ شامل کر دیا جاتا ہے۔ شاید اس تقسیم کے پیچھے شیخ الاسلام ابن تیمیہ (وفات: 728ھ) کا وہ قول اثرانداز ہوا ہے جس میں انہوں نے فرمایا: "تفسیر کے باب میں اہلِ مکہ، اہلِ مدینہ اور اہلِ کوفہ سب سے زیادہ ماہر ہیں۔" مثلاً: شیخ محمد حسین الذہبی (وفات: 1397ھ) نے اپنی معروف کتاب التفسیر والمفسرون میں اسی قول کو بنیاد بنا کر یہ مدارس قائم کیے۔ لیکن درحقیقت ابن تیمیہ کا مقصد یہ نہ تھا کہ وہ ان مقامات کو الگ الگ "مذاہب و مدارس" مان رہے ہیں، بلکہ وہ صرف علم کی کثرت اور مہارت کی طرف اشارہ کر رہے تھے ، نہ کہ منہجی اختلاف یا اصولی تفرق کی طرف۔
- ثالثاً: یہ جغرافیائی تقسیم ایک اور پہلو سے بھی اشکال رکھتی ہے، وہ یہ کہ سلف کے بہت سے اکابر علماء کئی مقامات پر رہے، مختلف شہروں میں تعلیم دی اور طلبہ کی جماعتیں بنائیں۔ تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم ایسے عالم کو کس "مدرسہ" میں شمار کریں گے؟ مثلاً: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ اور یمن دونوں میں اقامت فرمائی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مکہ، طائف اور کوفہ تینوں مقامات پر تدریس کی اور ہر جگہ ان کے شاگرد موجود تھے جو ان سے علم حاصل کرتے تھے۔ تو کیا ہم انہیں مکہ کے مدرسے کا نمائندہ کہیں یا کوفہ کے؟ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تقسیم زیادہ تر مصنوعی اور محض ایک اجتہادی خاکہ ہے، جسے ابن تیمیہ کی ایک جزوی رائے کو غلط مفہوم دے کر تشکیل دیا گیا۔
مزید برآں، سلف صرف انہی تین شہروں تک محدود نہ تھے، بلکہ وہ شام، یمن، مصر اور دیگر علاقوں میں بھی موجود تھے، تو پھر ان علاقوں کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟
(جاری)
