ممتاز عالمِ دین مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی اور نامور نغمہ نگار جاوید اختر کے درمیان کانسٹیٹیوشن کلب، دہلی، بھارت میں ۲۰ دسمبر ۲۰۲۵ء کو ’’کیا خدا موجود ہے؟‘‘ کے موضوع پر دو گھنٹے دورانیہ کا ایک مباحثہ منعقد ہوا جس کی نظامت معروف صحافی ابھیسار شرما نے کی۔ مباحثہ کا ضابطہ کچھ اس طرح تھا کہ فریقین کی جانب سے گفتگو کے متعدد ادوار کے علاوہ سامعین کے سوالات و جوابات کا دور بھی ہوا:
- ابتدائی استدلالی گفتگو کا دور — دس منٹ فی کس
- پہلا تردیدی / جوابِ دعویٰ کا دور — سات منٹ فی کس
- دوسرا استدلالی گفتگو کا دور — سات منٹ فی کس
- دوسرا تردیدی / جوابِ دعویٰ کا دور — پانچ منٹ فی کس
- جرح اور سوال و جواب کا دور — دو دو منٹ پر مشتمل چار چار سوالات فی کس (سولہ منٹ)
- اختتامی گفتگو — پانچ منٹ فی کس
- سامعین کے سوال و جواب — تیس منٹ
مباحثہ کے بعد مفتی یاسر ندیم الواجدی اور مفتی شمائل ندوی نے Post Debate Analysis (بعد از بحث تجزیہ) کی ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی جس کی گفتگو ضروری تسہیل کے ساتھ یہاں قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔
(ادارہ الشریعہ)
مفتی یاسر ندیم الواجدی: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ تمام دیکھنے والوں کا آج کی اس پاڈکاسٹ میں استقبال ہے۔ آج کا یہ دن بڑا تاریخی دن ہے، ابھی چند گھنٹے پہلے ہم کانسٹیٹیوشن کلب سے یہاں پہنچے ہیں، اور تقریباً دس لاکھ سے زائد لوگ چند گھنٹوں میں ہی ایک ایسی بحث دیکھ چکے ہیں کہ جس میں اس تصور کو واضح انداز سے ثابت کیا گیا ہے کہ خدا موجود ہے، ہمیشہ سے موجود ہے، اور ہمیشہ موجود رہے گا۔ اور آج کی اس بحث سے یہ پتہ چل گیا ہے کہ الحادی دنیا دلائل کے معاملے میں کتنی دیوالیہ ہوتی ہے۔
مخالف دلائل سے مایوسی
مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی، اور اسی طریقے سے مشہور ملحد اور گیت نگار جاوید اختر کے درمیان یہ جو بحث ہوئی ہے، اس کا لوگوں کو شدت سے انتظار تھا، اور بہت بڑی تعداد میں لوگ مایوس اس معنی میں ہوئے ہیں کہ، میں خود یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید کچھ مضبوط دلائل ملحدین کی طرف سے آئیں گے اور ملاحدہ شاید کوئی نئی دلیل پیش کر پائیں گے۔ ہم اس میدان میں ایک عرصے سے کام کر رہے ہیں اور میں ہمیشہ یہ دعوے کے ساتھ کہتا آ رہا ہوں کہ الحاد بغیر کسی دلیل کے ایک بے بنیاد عمارت کے اوپر کھڑا ہوا ہے۔ اور الحمد للہ یہ بات پھر سچ ثابت ہوئی۔
اسی طریقے سے ایک اور بات جو میں اکثر و بیشتر کہتا ہوں اور شاید لوگوں نے یہ بات کہتے ہوئے مجھے سنا ہوگا کہ تقریباً ستر سے اسی فیصد صورتوں میں الحاد کی وجہ ذہنی صدمہ (Mental Trauma) ہوتی ہے، اور شاید یہی وجہ جاوید اختر صاحب کے تعلق سے بھی کہی جا سکتی ہے۔ اور اس کی ایک وجہ ہے، یہ کوئی انہوں نے ڈھکی چھپی بات نہیں کہی ہے، اس لیے میں اس کو ظاہر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا ہوں۔ بحث سے پہلے جب ہماری جاوید صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ہم سے یہ کہا کہ بھئی مجھے آپ اس بات پہ قائل کر دیں کہ آٹھ سال کی عمر سے لے کر آگے تک جو میں نے مختلف مصیبتیں جھیلی ہیں، تو کیا خدا اس کی تلافی کرے گا یا نہیں کرے گا؟ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جو بچپن میں مینٹل ٹراما کا وہ شکار ہو گئے تھے تو یہی وجہ ہے کہ وہ اس کی توجیہ نہیں کر پائے اور خدا کا انکار کر بیٹھے۔
بحث کون جیتا کون ہارا، یہ ایک الگ موضوع ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تمام کے تمام لوگ اس بات کے اوپر متفق ہوں گے کہ ایسے تمام لوگ ہماری دعاؤں کے مستحق ہیں، میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ جاوید صاحب کو ہدایت دے، وہ اس دنیا سے ایمان کا کلمہ پڑھ کر جائیں، اور خود دوسروں کے لیے بھی وہ ہدایت کا سبب بنیں۔
جہاں تک آج کی بحث کا تعلق ہے تو مفتی شمائل احمد عبد اللہ، ماشاء اللہ آج کے دن کے ہیرو ہیں، تو سب سے پہلے تو میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ توفیق دی ہے کہ آپ یہ وحدانیت کا اور خدا کے وجود کا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کریں، تو ایک بار پھر مبارک باد، اور اب آپ کچھ اپنے کلمات کا اضافہ کیجیے۔
مفتی شمائل ندوی: جزاکم اللہ خیرًا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، میں آپ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، اور اس کے علاوہ ہمارے جتنے مسلمان ہیں، بھائی بہن، جنہوں نے ہمارے لیے دعائیں کی ہیں اور بڑا اہتمام کیا تھا اس بحث سے پہلے، تو بس اللہ کے فضل کے بعد آپ حضرات کی محنتوں اور توجہ اور دعاؤں کا ہی نتیجہ ہے کہ جو کچھ میں کہہ سکا۔
یہ بات آپ نے بالکل صحیح کہی کہ ہم نے توقع نہیں کی تھی کہ جناب جاوید اختر صاحب وہی باتیں کریں گے جو اکثر کرتے آئے ہیں، بلکہ ہم نے یہ سوچا تھا کہ شاید کوئی علمی انداز میں گفتگو ہو گی۔ اور میں نے تو یہ ارادہ کیا ہوا تھا کہ کئی سارے دلائل میں وہاں پہ پیش کروں گا، صرف Argument of Contingency (دلیلِ امکان/حدوث) نہیں۔ لیکن انہیں کنٹنجنسی ہی سمجھ میں نہیں آرہی تھی، تو اسے سمجھانے میں ہی دو گھنٹے گزر گئے۔ تو الحمد للہ، بہرحال جو ہوا اللہ کا فضل رہا، اور اللہ کا فضل ہے کہ حق بات سامنے واضح آ گئی۔ اور اللہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ انہیں بھی ہدایت دے۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: ماشاء اللہ اس بحث سے کئی ساری ایسی چیزیں ہیں یا نتائج ہیں کہ جن کو بڑا خوش آئند کہا جا سکتا ہے۔ مثلاً، ایک بات تو یہی کہ بڑے مضبوط انداز سے الحاد کے خلاف یہ مقدمہ قائم ہوا ہے۔ دوسرا جو اس کا بڑا مثبت نتیجہ نکلا ہے وہ یہ کہ شاید ابھی تک لوگ یہ سمجھتے آ رہے تھے کہ یہ جو ٹی وی مباحثوں پر نام نہاد مولانا جاتے ہیں، جن کا کام سوائے چیخنے چلانے کے کچھ نہیں ہوتا، اور چونکہ چینلوں کو TRP بھی چاہیے، تو کچھ پانچ ہزار کا تھیلا ان کو پکڑا دیا جاتا ہے کہ تم چیخو بندروں کی طرح، تو یہ جو تاثر ہے، یہ ختم ہوا ہے، اور اس کو بہت پہلے ختم ہونا تھا، لیکن اس بحث نے تو ماشاء اللہ وہ کام کیا ہے کہ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
باہمی احترام کے ماحول میں مباحثوں کی ریت
مفتی شمائل ندوی: جی بالکل صحیح فرمایا آپ نے، بالخصوص ہمارے جو اس وقت ملک کے حالات ہیں، ان حالات میں اس طرح دو الگ الگ نظریاتی دنیا کے لوگوں کا بیٹھ کر باعزت انداز میں، علمی انداز میں، ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کرنے کی کوشش کرنا، یہ میں سمجھتا ہوں یہ خود میں ایک سنگِ میل ہے۔ اور اس کے ذریعے سے ان شاء اللہ آگے بھی راستے ہموار ہوں گے کہ ہم اگر مختلف نظریات سے تعلق رکھنے والے ہیں تو تشدد کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ساتھ میں بیٹھ جائیں، چائے پی لیں، اور ساتھ میں ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کر لیں، آپ کو سمجھ میں آئے تو قبول کریں، نہ سمجھ میں آئے تو نہ قبول کریں، یہ بہت اچھی ابتدا ہوئی ہے۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: ایک صحافی نے بحث کے بعد مجھ سے آ کر یہ پوچھا کہ یہ جو بحث ہوئی ہے، اس کا آپ کیا فائدہ دیکھتے ہیں؟ تو میں نے اس سے یہ کہا کہ کم سے کم انڈیا میں یہ پیغام بڑی مضبوطی کے ساتھ گیا ہے کہ علمی ماحول میں ان حساس موضوعات کے اوپر گفتگو ہو سکتی ہے۔ تو اس نے بڑی انوکھی بات کہی مجھ سے، اس نے کہا، انڈیا کا کیا مطلب، ساری دنیا میں ایسا ہی ہے، بحثیں ان موضوعات پر ہوتی ہی نہیں ہیں۔ میں نے کہا نہیں، آپ غلط ہیں، یورپ میں، امریکہ میں، دنیا کے اکثر ممالک میں ان موضوعات کے اوپر مباحثے ہوتے ہیں، بڑے ہی علمی ماحول میں گفتگو ہوتی ہے، دونوں طرف سے دلائل آتے ہیں، اور الحمد للہ ہم حق کا جو مقدمہ ہے وہ بڑے واضح انداز سے پیش کرتے ہیں۔
مباحثہ کے موضوع کا انتخاب
مفتی شمائل ندوی: ایک صحافی نے مجھ سے بھی کچھ اسی طرح کا سوال پوچھا تھا، اس نے کہا کہ باقی چیزوں کو چھوڑ کر ?Does God Exist (کیا خدا کا وجود ہے؟) پر ہی کیوں بات ہوئی؟ تو ہم نے کہا کہ بھئی ہمارے نزدیک ’’خدا کی موجودگی‘‘ جو ہے وہ درحقیقت سب سے بڑا مسئلہ ہے، اور خدا پر ایمان لانا یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے، چونکہ باقی ساری چیزیں ثانوی درجے کی چیز ہیں۔ ہمارے لیے، ہم اس دنیا میں آئے ہیں، ہماری زندگی کا مقصد جو ہے وہ اللہ کو راضی کرنا ہے، اللہ کی اطاعت کرنا ہے۔ تو یہ سوال دراصل اس بنیاد پر مبنی ہے کہ آپ اس چیز کو ایک ثانوی اور نجی چیز سمجھ رہے ہیں، اور سمجھ رہے ہیں کہ اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے، آپ کو صرف مادی اور Materialistic ترقی کرنی ہے۔ یہی نظریہ دراصل مغربی دنیا نے دیا ہے کہ کس طریقے سے لوگوں کو مادیت میں مبتلا کر دیا جائے۔ اور الحمد للہ، اللہ نے چاہا تو یہ ایک بہت بڑا سبب بنے گا کہ حق لوگوں تک پہنچے اور سمجھیں کہ ہم اس دنیا میں کیوں آئے ہیں اور ہماری زندگی کا اصل مقصد کیا ہے۔
مذاہب کتنے پرانے ہیں؟
مفتی یاسر ندیم الواجدی: ضرور، ماشاء اللہ۔ اچھا، بحث میں کچھ موضوعات زیر بحث آئے، اور ویسے تو آپ نے ماشاء اللہ وافی شافی جواب دیا وہاں پر، اور میں سمجھتا ہوں کہ جو شخص بھی اس دو گھنٹے کی بحث کو دیکھے گا، تو جن موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے، ان موضوعات کے اوپر اس کو اچھی معلومات فراہم ہوگی۔ لیکن چند باتیں ہیں جن کو محدود وقت کی وجہ سے، اور اس وقت جو ماحول ہوتا ہے کہ اس میں آپ کو پانچ باتیں کہنی ہیں، وقت کم ہے، اس میں سے دو باتیں آپ نے کہہ دیں اور تین باتیں رہ گئیں۔ تو اس لیے Post Debate Analysis (بعد از بحث تجزیہ) کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ جو بات رہ جائے اس کو بعد میں ذکر کر دیا جائے۔
جاوید صاحب نے ایک بات کہی اور وہ یہ کہ مذاہب کی تاریخ چند ہزار سال سے زیادہ نہیں ہے، یعنی سات آٹھ ہزار سال، اور انسان اس سے پہلے کا ہے، اور یہ جو مذاہب شروع کیے ہیں یہ تعلیم یافتہ لوگوں نے کیے ہیں۔ لیکن ساتھ میں انہوں نے ایک چیز کا اضافہ کیا ہے، وہ یہ کہ مذہب ایک عرصے تک رہا اور اس کے بعد وہ ختم ہو گیا، پھر دوسرا مذہب آیا، پھر تیسرا مذہب آیا، اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ خدا فانی ہے۔
مفتی شمائل ندوی: جی۔ اصل میں ان کی پوری توجہ موضوع سے ہٹ کے مذہب پر رہی، چونکہ اکثر وہ مذاہب پر ہی بات کرتے آئے ہیں۔ اور مجھے لگتا ہے کہ ’’خدا کی موجودگی‘‘ پہ شاید ان کی پہلی بحث ہے، مجھے نہیں نظر آئی، تو وہ ’’خدا کی موجودگی‘‘ سے سیدھا مذاہب پر آ رہے تھے۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: نہیں، اصلی بندے سے پہلی بحث ہے۔ یہ بہت اہم پوائنٹ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ’’جشنِ ریختہ‘‘ تو تھا نہیں کہ اس میں مثلاً کوئی صحافی خاتون یا کوئی مرد بیٹھ گیا اور اس نے کبھی غالب کا شعر پڑھ دیا اور انہوں نے پانچ اشعار کا اضافہ کر دیا، اور پھر مضطر کے کچھ اشعار …
مفتی شمائل ندوی: شاید وہ یہی سوچ کر آئے تھے میرے خیال سے۔
اہلِ مذہب کے موقف کی مضبوطی
مفتی یاسر ندیم الواجدی: تو وہ یہ سوچ کر آئے تھے کہ میں کچھ بھی پھینک دوں گا، یا کچھ بھی کہہ دوں گا۔ تو اس طرح نہیں ہوا کرتا، اور A good lesson has been learnt (ایک اچھی مثال قائم ہوئی ہے)۔ نہ صرف ان کے ذریعے، بلکہ جتنے بھی لوگ تھے جو الحاد کی طرف سے پیش ہوئے تھے حاضرین میں، ان کو بھی یہ پتہ چل گیا کہ اہلِ مذہب کے پاس جو مقدمہ ہے وہ بہت مضبوط ہے۔
مفتی شمائل ندوی: بہت مضبوط ہے۔ اور یہ صرف انہی کا نہیں بلکہ پوری الحادی دنیا کا یہ ایک طریقہ رہتا ہے کہ وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ الحاد Default Position (اصل/ابتدائی کیفیت) ہے۔ جبکہ ایسا نہیں ہے، اگر ہم تاریخ میں دیکھیں تو جو بہت سب سے پہلا جو ملتا ہے ملحد، یا الحاد کی فلاسفی جو ملتی ہے، اگر ہم ہندوستان سے ہی لیں تو تقریباً وہ میرے خیال سے پانچ سو سے چھ سو سال Before Common Era ہے (قبلِ دورِ عام / قبل از مسیح)۔ اور اس سے پہلے بھی مذاہب کی ہمارے پاس تصدیقات موجود ہیں، آثار ظاہر ہوئے ہیں، اور پتہ چلا ہے کہ ان تہذیبوں کے ہاں اس پہلے سے خدا کا تصور موجود تھا۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: بلکہ ہر مذہب میں اگر خدا تصور ہے، صحیح یا غلط اِس سے قطع نظر، تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جب سے مذاہب ہیں تب سے انسانیت اس بات کے اوپر متفق ہے کہ خدا ہے۔ خدا کی تشریح میں ہی تو اختلاف ہوا ہے۔ یہ تو عالمگیر سچائی ہوئی۔
مفتی شمائل ندوی: صحیح، اور جہاں تک ان کا یہ کہنا ہے کہ مذاہب آئے اور چلے گئے، خدا فانی ہو گیا۔ تو وہ مذہب غلط تھا اس لیے فنا ہو گیا، اس کا خدا کہاں فانی ہوا، خدا تو باقی ہے، صحیح مذہب آج بھی باقی ہے۔
ایمان و یقین اور عقیدہ و اعتقاد کا فرق
مفتی یاسر ندیم الواجدی: ہر مذہب Faith مانگتا ہے۔
مفتی شمائل ندوی: یہ تو ایسے سر درد والی چیز ہے، پتہ نہیں یہ اس خول میں مبتلا ہیں، وہ اس سے کیوں نہیں باہر آ رہے ہیں۔ اصل میں رچرڈ ڈاکنز نے یہ ذکر کیا ہے کہ Faith اور Belief میں فرق ہے۔ فیتھ وہ ہے جو غیر منطقی ہے اور اس کے پیچھے ثبوت نہ ہو۔ اور بیلیف یہ ہے جو ثبوت رکھتا ہو، منطقی ہو، اور خود آپ اس کا تجربہ کر سکتے ہوں۔
تو وہ ان کا اپنا ہے بھی نہیں، انہوں نے وہاں سے لیا، اور اس پہ ان کو پورا فیتھ ہے۔ اس پہ وہ غور نہیں کر رہے ہیں کہ صحیح ہے کہ نہیں ہے۔ تو وہ ہمیشہ سے ہر بحث میں یہی کہتے آئے ہیں، اسی لیے میں نے ان کو واضح کیا کہ بھئی فیتھ صحیح بھی ہو سکتا ہے، غلط بھی ہو سکتا ہے، آپ جو فیتھ کی ڈیفینیشن بیان کر رہے ہیں، وہ بلائنڈ فیتھ (اندھا عقیدہ) ہے، اس کو تو ہم بھی نہیں مانتے ہیں۔
انسان کی بے مقصد و ترتیب پیدائش کا تصور
مفتی یاسر ندیم الواجدی: دو باتیں انہوں نے اور کہی ہیں۔ ایک بات انہوں نے یہ کہی کہ انسان کی پیدائش Random ہے (کسی منصوبے یا ترتیب کے بغیر)۔ اور دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ انصاف انسانی تصور ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے اس وقت بھی جواب دیا تھا، لیکن پھر بھی اس کی تھوڑی وضاحت کریں۔
مفتی شمائل ندوی: انسان کی پیدائش رینڈم ہے، یہ تو ظاہر ہے کہ ان کے نظریہ کے اعتبار سے ہے۔ ہمارے نظریہ کے اعتبار سے بالکل واضح ہے کہ ہم اس دنیا میں ایک مقصد کے تحت بھیجے گئے ہیں۔ اب ان حضرات کی طرف سے سوال یہ ہوتا ہے کہ بھئی اگر ہم بھیجے گئے ہیں اس دنیا میں، تو خدا نے ہم سے پوچھا کیوں نہیں؟ اسی لیے وہ اپنے آپ کو کہتے ہیں کہ ہم رینڈملی آگئے ہیں۔ تو یہ سمجھنا چاہیے کہ خدا کا اور انسان کا درجہ کیا ہے۔ وہ خدا ہے، آپ کا ملازم تھوڑا ہی ہے جو آپ سے پوچھے گا۔ تو ہم اس دنیا میں آئے، یہ آپ کو لگ رہا ہے کہ رینڈم ہے، جبکہ ایسا نہیں ہے، ایک مقصد کے تحت آئے ہیں۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: دوسری بات یہ کہ یہ جو Randomness (بے ترتیبی) ہے نا، تو اس کا جو پوائنٹ آف ریفرنس ہے، وہ ہم ہیں، خدا نہیں ہے۔ یعنی ہمارے لیے ایک انسان کی پیدائش رینڈم ہے، کسی کو پہلے سے پتہ نہیں ہوتا کہ دس سال کے بعد کون اس دنیا میں آئے گا، ہمیں ایسا لگتا ہے کہ رینڈملی کوئی انسان آ گیا، لیکن خدا کے۔
مفتی شمائل ندوی: Lack of Information (معلومات کی کمی) ہے۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: بالکل، تو یہ Argument from Ignorance ہے (دلیلِ لاحاصل / کم علمی پر مبنی)۔
مفتی شمال ندوی: اور یہ چیز میں نے اپنی ابتدائی گفتگو میں بتائی تھی کہ ان کے جواب کی بنیاد یا تو Argument from Ignorance ہی ہو گا، یا پھر یہ کہ وہ Dogmatic Answer (ہٹ دھرم جواب) دیں گے۔
انصاف کے انسانی تصور ہونے کا موقف
مفتی یاسر ندیم الواجدی: انصاف انسانی تصور ہے۔
مفتی شمائل ندوی: یہ تو سمجھ میں آگیا، وہ آگے پیچھے کرتے رہے۔ انصاف انسانی تصور ہے، اور انہوں نے کہا کہ نیچر میں انصاف نہیں پایا جاتا ہے۔ تو میں نے کہا کہ اگر نیچر میں انصاف نہیں پایا جاتا ہے، تو اس کا مطلب انصاف کا نہ ہونا نیچرل ہے۔ تو آپ کیوں جدوجہد کر رہے ہیں انصاف کو لانے کے لیے؟ اور انصاف اگر لوگوں کا بنایا ہوا ہے تو پھر مسئلہ وہی Objective اور Subjective والا آتا ہے کہ آپ کیسے فیصلہ کریں گے کہ انصاف اچھی چیز ہے یا بری چیز ہے؟ آپ کے نزدیک انصاف اس لیے اچھی چیز ہے چونکہ سماجی اتفاقِ رائے ہے۔ سماجی اتفاقِ رائے تو ایسی چیز ہے جو ہر زمانے میں، یعنی ہر پچاس سال میں سو سال میں تبدیل ہو جائے، اس کی تو کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ جبکہ انصاف ایک ایسی چیز ہے جو کہ Objectively Morally True ہے (معروضی و اخلاقی طور پر مانی ہوئی سچائی)۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے کوئی ایسی مضبوط بنیاد چاہیے جو سماجی اتفاقِ رائے سے یا ذاتی ترجیح سے تبدیل نہ ہو بلکہ ہر زمان و مکان کے لیے یکساں رہے۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: ’’انصاف نیچر میں موجود نہیں ہے، اور انسانی تصور ہے‘‘، یہ دراصل خدا کے وجود کی دلیل ہے۔ وہ اس طریقے سے کہ اگر انصاف قدرتی دنیا میں ہر جگہ موجود ہوتا، جانوروں میں ہوتا، شیر، پرندوں میں ہوتا، اور پتھروں میں ہوتا، تو آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ بھئی، انسان اس دنیا کا حصہ ہے تو اس میں بھی ہے۔ لیکن کہیں نہیں ہے، انسان میں ہے، اور انسان ہی مکلف ہے، تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ By Design (ساختی) ہے، By Evolution (انقلابی) نہیں ہے۔ (صحیح، بالکل صحیح۔ مفتی شمائل)۔ تو یہ ایک بہت مضبوط دلیل ہے جو وہ ہمارے ہاتھ میں پکڑا رہے ہیں کہ یہ دلیل آپ میرے خلاف دے دیں۔
اہلِ مذاہب پر سوال کی حوصلہ شکنی کا الزام
اچھا، ایک اور جو غلط فہمی ہے ملحدین کی، میرے خیال سے اس کو کلیئر کرنا بہت ضروری ہے۔ اور مجھے اس کا اندازہ ہے کہ اس وقت اس کو کلیئر نہیں کیا جا سکتا تھا، چونکہ ہماری جو بحث تھی وہ ’’خدا کی موجودگی‘‘ پر تھی، وہ مذہب کے اوپر نہیں تھی۔ اور وہ غلط فہمی یہ ہے کہ اہلِ مذاہب کے یہاں سوال کرنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، کہا جاتا ہے کہ سوال مت کرو۔ اور جو لوگ سوال کرتے ہیں وہ ترقی کر کے کہاں تک پہنچ گئے، اور جن لوگوں نے سوال کی حوصلہ شکنی کی، وہ آج کہاں پڑے ہوئے ہیں۔ تو یہ جو غلط فہمی ہے، اس کو ذرا کلیئر کیجیے۔
مفتی شمائل ندوی: میں نے وہاں پر یہ بات کہی تھی کہ مذاہب، ظاہر ہے بالخصوص اسلام، سوال کرنے کی حوصلہ شکنی نہیں کرتا، ہاں، بے جا سوال کرنے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ تو صحیح سوال اور غلط سوال، کہاں سوال کرنا چاہیے، کہاں نہیں کرنا چاہیے، یہ دراصل فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اب ایک انسان اللہ سے بے جا سوالات کرے، جیسے کہ وہ کرتے آئے ہیں۔ والعیاذ باللہ، ان کے الفاظ ہیں کہ وہ ہے تو پھر اس کی کیا مجال ہو گی، میں پوچھوں گا اور یہ کروں گا۔ تو ظاہر ہے یہ بے جا چیزیں ہیں۔ تو یہاں پر آپ کو سوال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ چونکہ جب آپ نے خدا کی موجودگی کو تسلیم کر لیا تو آپ نے اس کی اتھارٹی کو مان لیا ہے۔ اب جس کی اتھارٹی کو آپ نے تسلیم کر لیا ہے تو اب اس سے سوال نہیں ہوگا۔
ہاں، اس اتھارٹی کو تسلیم کرنے کی تلاش میں، جب تک آپ اس راستے میں ہیں، ظاہر ہے سوال کرنا ہے۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے ’’فسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون‘‘ (النحل ۴۳) کہ تم علماء سے سوال کرو، اہلِ علم سے سوال کرو، جاننے والوں سے سوال کرو، اگر تمہارے پاس علم نہیں ہے۔
تو یہ بھی دراصل ایک ہٹ دھرمی کا موقف ہے، جو الحادی دنیا کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے، کہ مذہب تو دباتے ہیں۔ اچھا، ایسا ہو سکتا ہے کہ ماضی میں بہت سے مذاہب ایسے گزرے ہوں، اور ابھی بھی ایسے مذاہب ہوں، جو ان چیزوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہوں، لیکن ظاہر ہے اگر وہ کرتے ہیں تو ہم تو اسے سپورٹ نہیں کرتے۔ ہم تو اس مذہب کے قائل ہیں جو صحیح مذہب ہے۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: یہ جو میں نے ابھی کہا کہ اس وقت اس سوال کا جواب اس طریقے سے دینا ممکن نہیں تھا، چونکہ بحث مذہب پر نہیں ہے، ورنہ قرآن کریم نے واضح طور سے یہ کہہ دیا کہ ’’لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسؤکم‘‘ (المائدۃ ۱۰۱)۔ یہ ’’ان تبدلکم تسؤکم‘‘ کا جو اضافہ ہے وہ خود بتا رہا ہے کہ مطلق سوال سے منع نہیں کیا جا رہا ہے، بلکہ ایسے بے جا سوالات سے منع کیا جا رہا ہے جو نقصان دہ ہیں، وہ خود آپ کے لیے نقصان دہ ہیں۔ تو یہ جو ان لوگوں کی طرف سے ایک غلط فہمی پھیلائی جاتی ہے، اس کو ٹھیک کرنا بہت ضروری تھا۔
اسی طریقے سے اگر آپ ہماری تاریخ کو دیکھیں، خدا کی ذات اور خدا کی صفات کے تعلق سے، میں سمجھتا ہوں کہ جتنا غوروخوض ماضی میں ہو چکا ہے، بالکل ابتدائی دور میں، معتزلہ کے دور میں اور اس کے بعد، تو وہ پوری کی پوری اعلیٰ روایت، تاریخ اور علمی ذخیرہ آج بھی ہمارے پاس موجود ہے، اور بہت سے نصابات میں، جو اسلامی تدریس کے اور اسلامی تعلیمات کے نصاب ہیں، ان میں پڑھایا جاتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ معتزلہ نے سب سے پہلے صفات کا انکار کیا۔ کیا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بھئی آج کوئی ایسا کر کے دکھا دے۔ بھئی، معتزلہ نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو صفات سے الگ کر دیا، اور کہا کہ اس کی کوئی صفت نہیں ہے، تو کیا ان کی گردنیں مار دی گئیں؟ یا یہ کہا گیا کہ تمہیں سوال کرنے کا حق نہیں ہے؟ تو یہ ایک بہت ہی بڑا دھوکہ ہے کہ جو ان لوگوں کی طرف سے پھیلایا جاتا ہے۔
قرآن میں ڈائناسور کا تذکرہ کیوں نہیں؟
ایک بڑا بچگانہ سوال آیا اور میں تو بہت زیادہ حیرت زدہ رہ گیا۔ اور حیرت کی وجہ یہ رہی کہ جب میں نے اس موضوع کے اوپر کام کرنا شروع کیا، آن لائن اور سوشل میڈیا کے اوپر میں آیا، تو بالکل ابتدائی دنوں میں، غالباً یہ بات ہے 2016ء یا 2017ء کی، تو اس وقت جو بہت کم عقل قسم کے اسلام مخالف ہوا کرتے تھے، وہ آ کے یہ سوال کیا کرتے تھے کہ قرآن میں ڈائناسور کا تذکرہ کیوں نہیں ہے۔ (بڑے تعجب کی بات ہے۔ مفتی شمائل)۔ میں حیرت زدہ رہ گیا کہ جاوید صاحب کے یہاں ابھی تک علمی پختگی کیوں نہیں آئی۔
مفتی شمائل ندوی: اصل میں اب تک وہ رَسل کو ہی پڑھ رہے ہیں۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: وہ اب تک رسل کو ہی پڑھ رہے ہیں، جی ہاں۔ تو آپ کا جو جواب تھا وہ بڑا زبردست تھا ماشاءاللہ کہ قرآن ہدایت کے لیے ہے، وہ جیوگرافی یا زوالوجی، یا اس طرح کے مضامین کا احاطہ کرنے کے لیے نہیں ہے۔ کچھ چیزوں کا اس میں مظاہرِ فطرت کے تحت تذکرہ آ گیا، وہ بات الگ ہے۔
ممکن الوجود اور واجب الوجود کی بحث
اچھا، اب آ جاتے ہیں ہم اس عظیم الشان لفظ کی طرف کہ جس کو ہمارے جاوید صاحب آخر تک سمجھ نہیں پائے۔
مفتی شمائل ندوی: Contingency
مفتی یاسر ندیم الواجدی: جی ہاں، کنٹِنجنسی۔ مجھے تشویش ہے کہ کہیں لوگ جاوید صاحب کی چڑ نہ رکھ دیں ’’کنٹنجنسی‘‘۔ ان کے ٹویٹر وغیرہ پر یہ لفظ ٹائپ نہ کرنے لگ جائیں۔ یعنی میں اس کی حوصلہ افزائی نہیں کر رہا ہوں، براہ مہربانی مجھے غلط مت سمجھیے گا، لیکن ایسا ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک بہت ہی معمولی دلیل، معمولی اس معنی میں کہ تمام داعیین جو اس میدان میں کام کر رہے ہیں، یا جو مباحثے کرتے ہیں، جن کو ان موضوعات سے دلچسپی ہے، چاہے وہ اِس طرف کے ہوں یا اُس طرف کے، یعنی وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ہوں، وہ Argument of Contingency سے واقف ہیں۔ آپ اتنا بڑا چہرہ ہیں الحاد کا اس ملک میں، اور آپ بحث کرنے کے لیے آئے ہیں، اور نیشنل پلیٹ فارم کے اوپر بحث کرنے کے لیے آئے ہیں، راجدھانی میں وہ بحث ہو رہی ہے، اور آپ یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ آرگومنٹ آف کنٹنجنسی ہوتا کیا ہے۔
مفتی شمائل ندوی: جبکہ وضاحت کی گئی کئی مرتبہ، اردو میں بھی اور ہر طریقے سے۔ آپ نے بھی کھڑے ہو کر سوال کیا ان سے اور Infinite Regress (لامتناہی تسلسل) کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن اس کے بعد بھی نہیں سمجھ سکے، بڑا تعجب ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب جس عمر میں وہ پہنچ گئے ہیں، جیسے، اب ظاہر ہے الحادی دنیا الگ ہے، ہماری دنیا میں جب اس عمر میں کوئی پہنچ جائے اور دیندار ہوں، تو گوشہ نشینی اختیار کرتے ہیں وہ حضرات، اور دعا کرتے ہیں، ہم ان سے دعا کی درخواست کرتے ہیں۔ اب انہیں اپنی دنیا میں گوشہ نشین بن جانا چاہیے، اب ان چیزوں میں نہیں پڑنا چاہیے، بلکہ توجہ دیں کہ بھئی کیا بات ہے، حقیقت کو تلاش کرنے کی کوشش کریں، اپنے حد تک رکھیں، چونکہ ایک بحث کے اندر۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: الیکٹران اور نیوٹران کی تسبیح پڑھیں۔
مفتی شمائل ندوی: ایک بحث کے اندر، دو گھنٹوں کے اندر، کتنی جگہ وہ اپنے آپ سے ہی تضاد کر رہے ہیں، اگر ہم اس کو دوبارہ دیکھیں۔ جب ہم اخلاقیات کی بات کرنے آئے تو وہ کہہ رہے ہیں کہ سوسائٹی سے اخلاقیات طے ہوں گی۔ ہم نے کہا، آپ نازی جرمنی کو سپورٹ کرتے ہیں؟ نہیں، کرۂ ارضی۔ تو کرۂ ارضی میں اکثریت مذہب اور خدا کو مانتی ہے، آپ نہیں مانتے۔ پھر آخر میں کہہ رہے ہیں کہ میں اکثریت والی بات واپس لیتا ہوں۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: وہ بہت اہم پوائنٹ تھا، بہت اہم پوائنٹ تھا۔ اچھا، یہ جو آرگومنٹ آف کنٹنجنسی ہے، یقیناً لوگوں نے اس کو سمجھ لیا، لیکن پھر بھی ہمارے ناظرین کے لیے اس کو مختصر انداز میں سمجھائیے۔
مفتی شمائل ندوی: دیکھیں، اس کائنات کی ہر چیز کنٹینجنٹ ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ موجود ہو بھی سکتی تھی اور نہیں بھی ہو سکتی تھی، یعنی اس کا موجود ہونا کوئی ضروری چیز نہیں تھی۔ اور اگر موجود ہوتی تو مختلف قوانین کے ذریعے بھی ہو سکتی تھی، یعنی ابھی جو قوانینِ قدرت چل رہے ہیں، ہو سکتا ہے کوئی اور قوانینِ قدرت ہوتے۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: میں علمِ کلام کے طلبہ کے لیے اضافہ کر دوں، اسی کو ممکن الوجود کہا جاتا ہے ’’ما کان وجودہ عدمہ سواءً‘‘ (وہ چیز جس کے ہونے یا نہ ہونے کا امکان برابر ہو)۔
مفتی شمائل ندوی: تو جو ممکن الوجود ہو گا، جو کنٹِنجنٹ ہو گا، وہ ظاہر ہے کسی اور کے اوپر انحصار کرے گا اپنے وجود کے لیے۔ اب وہ کس کے اوپر انحصار کرتا ہے؟ ہم یہ دیکھیں گے کہ بھئی، کیا وہ چیز بھی کنٹینجنٹ ہے، ممکن الوجود ہے؟
مفتی یاسر ندیم الواجدی: اچھا، اور یہاں پر بھی اس کا اضافہ ضروری ہے، لوگ پوچھتے ہیں بھئی کیوں ہوگا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایک چیز کا وجود اور عدم دونوں برابر ہیں، یہ ترازو کے دو پلڑے ہیں، تو کسی ایک پلڑے کے بھاری ہونے کے لیے اس میں وزن ڈالنا ضروری ہے۔ یہ وزن ہے ارادے کا۔ تو کسی نہ کسی نے تو ارادہ کیا ہوگا نا کہ جس نے عدم پر وجود کو ترجیح دی ہوگی۔ اس لیے کنٹینجنسی ہے۔
مفتی شمائل ندوی: تو یہاں سے لاجیکلی، عقلی طور پہ، ہم اس Necessary Being تک پہنچتے ہیں جو واجب الوجود ہے۔ یعنی جس کا موجود نہ ہونا ناممکن ہے، کیونکہ اگر وہ موجود نہ ہو تو ظاہر ہے یہ ساری چیزیں وجود میں نہیں آ سکتیں۔ اور اس واجب الوجود ذات کا خودمختار ہونا، ازلی ہونا، علیم ہونا، خودکفیل ہونا، اور ایک ہونا، یہ بالکل ضروری ہے۔ تو یہ جب باتیں میں نے کہیں تو آخر میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’اِن کے نزدیک تو عقل سے ہم خدا کو جان ہی نہیں سکتے‘‘۔ یعنی یہ تضاد ہے۔ یعنی پوری بحث اس پہ تھی کہ عقل کے ذریعے ہم خدا کے وجود کو کیسے جانیں؟ اور آپ وہ نہیں سمجھ پا رہے، اور اخیر میں کہہ رہے ہیں: ’’آپ تو کہہ رہے ہیں کہ عقل سے ہم سمجھ نہیں سکتے‘‘۔ تو میرے خیال ہے یہ اُن کی عمر کا تقاضا تھا۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: اسی طریقے سے وہ Infinite Regress اور تسلسل کو بھی نہیں سمجھ پائے، بلکہ حیرت ناک بات یہ ہے کہ جب میں نے ان سے یہ سوال کیا کہ آپ اس کو درست سمجھتے ہیں یا نہیں، تو انہوں نے کہا میں درست سمجھتا ہوں۔
مفتی شمائل ندوی: میرے خیال سے وہ سمجھ ہی نہیں پائے Infinite Regress کیا ہے، اس لیے انہوں نے کہہ دیا۔ اور آپ نے بڑی اچھی مثال دی کہ کئی سارے شعراء ایک ساتھ کھڑے ہوں، اور مان لیں کہ جاوید اختر صاحب سب سے آگے ہوں، اور وہ کہیں کہ میں اس وقت تک شاعری نہیں لکھوں گا جب تک پیچھے والا نہ لکھے، اور وہ کہے کہ میں نہیں لکھوں گا جب تک پیچھے والا نہ لکھے۔ تو یہ تسلسل ہو جائے گا، تسلسل باطل ہے۔ اس طریقے سے چلتا رہا لامتناہی طور پر، اور اگر کہیں ہم نہیں رکیں گے تو شاعری وجود میں ہی نہیں آئے گی۔ یعنی شاعری اگر وجود میں آئی تو اس کا مطلب ہے کوئی ایک ایسا شاعر ہے جو اپنے پیچھے والے پہ انحصار نہیں کرتا، وہ خودمختار ہے۔ اسی طریقے سے اس کائنات کے جو اسباب ہیں، اگر یہ لامتناہی تسلسل ہوتا، تو ہم اور آپ یہاں پہ آج موجود ہی نہیں ہوتے، پاڈکاسٹ ہی نہیں کر رہے ہوتے۔ ہم یہاں موجود ہیں، اس کا مطلب ہے، کوئی ایک خودمختار ذات ہے جو کسی اور کے اوپر انحصار نہیں کرتی، اس نے اپنے ارادے سے فیصلہ لیا ہے۔
مباحثہ میں علمِ کلام کا کردار
مفتی یاسر ندیم الواجدی: علمِ کلام کے طلبہ کی آسانی کے لیے کہہ دوں کہ اگر عِلّت اولیٰ نہ ہو تو معلولِ اخیر نہیں ہو سکتا (ماشاء اللہ۔ مفتی شمائل)۔ اچھا، یہ بتائیں کہ اس میں علمِ کلام کا کتنا کردار رہا، آپ کی بحث میں، آپ کے لیے؟
مفتی شمائل ندوی: پورا علمِ کلام ہی تھا، اور کیا تھا؟
مفتی یاسر ندیم الواجدی: ایک ہے آپ اس کو پیش کر رہے ہیں، ماشاء اللہ، اور ایک یہ کہ علمِ کلام کے جو مباحث ہیں، جیسے تسلسل ہے، دلیلِ توقف ہے، تو ماشاء اللہ چونکہ آپ نے اس سے استفادہ کیا ہے، تو یہ بڑی خوش آئند بات رہی۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ علمِ کلام کو فرسودہ علم سمجھا جانے لگا تھا۔
مفتی شمائل ندوی: میں سمجھتا ہوں کہ علم فرسودہ نہیں ہے، البتہ اصطلاحات ضرور فرسودہ ہو گئی ہیں، ان کو تھوڑا سا ریفائن کرنا چاہیے اور جدید علمِ کلام کی طرف لانا چاہیے۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: یہی بات ہے کہ جب ہم علمِ کلام کی تجدید کی بات کرتے ہیں نا، تو تجدیدِ لسان، یعنی زبان کی تجدید کو چھوڑ کر ہم مواد (دلائل) کی تجدید پر چلے جاتے ہیں۔ (ہاں، یہ ایک پرابلم ہے، مفتی شمائل)۔ تو لوگ یہی نہیں سمجھتے کہ علمِ کلام کی تجدید کا کیا مطلب ہے۔ یعنی میں اس بات سے متفق ہوں کہ آج کی آپ کی جو بحث کامیاب رہی ہے وہ اس لیے کہ جو اصطلاحات اور دقیق مباحث علمِ کلام کے اندر پائے جاتے ہیں عربی میں، آپ نے ان کو انگلش کے قالب میں ڈھال کر لوگوں کے سامنے پیش کیا اور لوگوں کو سمجھ میں آگیا۔ اگر آپ تسلسل، اور دور، اور دلیلِ توقف، اور یہ سب کہہ رہے ہوتے ہیں، اور معلولِ اخیر اور عِلّتِ اولیٰ، تو یا تو میں سمجھ رہا ہوتا، یا آپ سمجھ رہے ہوتے۔
مفتی شمائل ندوی: صحیح بات ہے۔ اور اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، اس میں آپ کا بہت بڑا کردار ہے۔
تصرّفِ الٰہی (تقدیر اور دعا) کا عقیدہ
مفتی یاسر ندیم الواجدی: بارک اللہ فیکم۔ اچھا، ایک سوال جو بہت اہم ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی Interference (تصرفِ الٰہی) اور دعا، اس کے تعلق سے آپ کیا کہیں گے؟ یعنی یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ اگر خدا نے ہر چیز کو مقرر کر دیا اور اب وہ ہٹ گیا، جیسے چیزیں چلنی چاہئیں ویسے چل رہی ہیں، ایک مکینکی انداز میں، تو پھر دعا مانگنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے، تو دعا مانگنے کی ضرورت ہے۔
مفتی شمائل ندوی: ایسا تو نہیں ہے کہ مکینکی انداز میں یہ دنیا چل رہی ہے، بلکہ اللہ رب العالمین ہر لمحے اس نظام کو چلا رہا ہے اور اس کی تدبیر کر رہا ہے۔ انسانی زندگی میں بنیادی طور پر دو قسم کے احوال آتے ہیں: ایک وہ ہیں جن پہ اس کا اختیار نہیں ہوتا ہے، اور دوسرا وہ ہے جس پہ اس کا اختیار ہوتا ہے۔ مثال کے طور پہ ہم اختیار کا استعمال کر کے اعمال کرتے ہیں، اعمال کو انجام دیتے ہیں، آپ چاہے اچھا عمل کریں، یا برا عمل کریں۔ بہت سے حالات ایسے ہوتے ہیں جہاں پہ ہمارا اختیار نہیں ہے، مثلاً کوئی حادثہ ہو گیا، یا کوئی ایسی چیز آگئی جسے ہم تبدیل نہیں کر سکتے ہیں، تو وہ براہ راست اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ تو دعا کی اہمیت اس لیے بھی باقی رہتی ہے چونکہ ایک طرف وہ حالات بھی ہیں جہاں پہ آپ کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور اللہ کا مکمل کنٹرول ہے۔
دوسری چیز، جب ہم کوئی عمل اپنے اختیار سے بھی کیوں نہ کر رہے ہوں، اللہ کی توفیق ضروری ہوتی ہے، اس لیے اللہ سے دعا مانگنے کا حکم خود اللہ نے دیا۔ اور اگرچہ ایسا ممکن ہے کہ ہم جو مانگ رہے ہیں اللہ سے، وہ ہمیں اِس دنیا میں نہ ملے، لیکن اس کی جو جزا ہے وہ اللہ کے ہاں متعین ہے۔ اسی لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کو عبادت قرار دیا، تو ظاہر ہے یہ مستقل ایک عبادت ہے۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: یعنی بالفاظِ دیگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم دعا مانگتے ہیں تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ وہ دعا اسی انداز سے قبول ہوگی جس انداز سے ہم چاہ رہے ہیں۔ یعنی ہو سکتا ہے کہ وہ اجر کی صورت میں قبول ہو جائے، ہو سکتا ہے کہ وہ تاخیر کی صورت میں قبول ہو جائے۔ ایک بات۔
دوسری بات یہ بھی ہے کہ ہمیں کیا معلوم کہ دعا کس انداز سے قبول ہوگی۔ ہمارا کام تو دعا مانگنا ہے (وہ الحکیم ہے، ہم الحکیم نہیں ہیں، مفتی شمائل)۔ ٹھیک۔
تیسری بات یہ ہے کہ، ایک بات ’’شرح عقائد‘‘ میں لکھی ہوئی ہے، میں تمام لوگوں کے ساتھ اس کو شیئر کرنا چاہوں گا۔ یہ مبحث وہاں آیا ہے اور اس میں تفتازانی یہ فرماتے ہیں۔ وہ ایک حدیث ہے جس کے تحت یہ کلام ہے کہ ’’لا یرد القدر الی الدعاء‘‘ کہ تقدیر کو صرف دعا بدلتی ہے۔ اب یہاں سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا دعا سے واقعی تقدیر بدل جاتی ہے؟ تو اس کا جواب انہوں نے یہ دیا ہے کہ مثلاً ایک انسان ہے، اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہے کہ یہ دعا مانگے گا اور دعا مانگ کر فلاں کام ہوگا۔ یہ دعا بھی چونکہ عبادت ہے، تو اگر یہ دعا مانگے گا نیکی کی، تو اس کی عمر ساٹھ سال ہوگی، اور دعا نہیں مانگے گا تو اس کی عمر چالیس سال ہوگی۔ لیکن چونکہ اللہ کے علم میں ہے کہ دعا مانگے گا تو وہ ہر حال میں دعا مانگتا ہے۔ تو دعا نہ مانگنے کی صورت میں عمر کی جو اہلیت ہے وہ چالیس سال ہے، اور مانگنے کی صورت میں عمر کی جو اہلیت ہے وہ ساٹھ سال ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔
یعنی جو میں نے اضافہ کیا ہے، بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ جو مباحث آج کانسٹیٹیوشن کلب میں ہو رہے تھے، یہ تو تفتازانی نے ایک ہزار سال پہلے لکھ دیا۔ بات یہ ہے کہ ہمارے جو طلباء ہیں، اساتذہ ہیں، میں ان کی توجہ اکثر و بیشتر اس طرف مبذول کراتا ہوں کہ آپ کے پاس ایک مضبوط علمی روایت ہے، اس مضبوط علمی روایت کو صرف پیش کرنے کا سلیقہ چاہیے، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
سائنس ’کیوں‘ کا جواب نہیں دیتی
ایک آخری نکتہ میں ذکر کروں گا اور اس کے بعد ان شاء اللہ اپنی گفتگو کا اختتام کرتے ہیں۔ ملحدوں سے ایک سوال ضرور کیا جانا چاہیے کہ بھئی، یہ کیا وجہ ہے کہ انسان ہی کے اندر اتنا شعور آیا ہے کہ وہ If A Then B کا سوال کرتا ہے۔ یہ سوال گھوڑا، گدھا، بکرا، یہ سب کیوں نہیں کرتے؟ (جبکہ ڈاروِن ایولوشن کے قائل ہیں وہ، مفتی شمائل)۔ ڈاروِن ایولوشن کے قائل ہیں سب، ایولوشن ہوا ہے۔ تو کہیں گے، نہیں، اصل میں وہ انسان کے اندر جو نیورانز ہیں، نیوروسیلز ہیں، وہ زیادہ ہیں۔ تو اگر یہ دیکھا جائے تو بھئی ہاتھی کے اندر زیادہ ہیں۔ وہ کہیں گے، نہیں، اصل میں فرنٹل لوب میں جو نیوروسیلز ہیں، وہ زیادہ ہیں۔ تو ٹھیک ہے، یہ آپ نے ’’کیسے‘‘ کا جواب دیا۔ آپ نے کہا، اس لیے شعور ہے کہ اس کے فرنٹل لوب میں نیوروسیلز زیادہ ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیوں زیادہ ہیں؟ ’’کیوں‘‘ کا جواب سائنس کبھی نہیں دے پاتی۔
مفتی شمائل ندوی: کبھی نہیں دے سکتی، وہ میکینزم کو ہی بتاتی ہے۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: جی ہاں۔ تو چلیں مفتی صاحب، بہت اچھا لگا کہ آج۔
غزہ کی نسل کشی سے خدا کی عدمِ موجودگی پر دلیل
مفتی شمائل ندوی: ایک چیز اور ہے جس کا ذکر میں کروں گا، جو نظر آیا، اور صرف انہی کے ساتھ نہیں، اور بھی جو دیگر ملحدین ہیں، وہ یہ ہے کہ جب ان کے پاس کوئی منطقی دلیل نہیں ہوتی تو فوراً جذباتی دلیل پہ آجاتے ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ کیسے غزہ کے مسئلے کو انہوں نے اٹھایا۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: ہاں، وہ پوائنٹ ذکر کرنا بہت ضروری تھا، جی ہاں۔
مفتی شمائل ندوی: تو پوری بحث میں ان کے پاس کوئی جواب نہیں رہا، اب وہ جذباتی طور پر لوگوں کو ابھارنے لگ گئے کہ بھئی غزہ میں اتنا قتل ہو رہا ہے، اور یہ ہو رہا ہے اور وہ ہو رہا ہے۔ میں نے ان سے یہ سوال کیا کہ بھئی، اگر بالفرض مان لیں کہ خدا نہیں ہے، تو آپ بتائیے کہ پھر اس ظلم کا اور ان کی مصیبتوں کا کیا ہوگا؟ اور آپ کیسے شَر کو طے کرتے ہیں؟ اب وہاں جا کے ان کے پاس کوئی ڈھنگ کا جواب نہیں رہا۔ چونکہ معروضی طور پر شَر کا موجود ہونا بھی درحقیقت خدا کے ہونے کی دلیل ہے۔ باقی ہمارے نظریہ کے اعتبار سے ہم اس دنیا میں ٹیسٹ کے لیے آئے ہیں، ہمارا امتحان ہو رہا ہے، ہماری آزمائش ہو رہی ہے۔ کیا صحابہ کرامؓ نے قربانیاں نہیں دیں؟ جس طرح آج غزہ کے مسلمان قربانی دے رہے ہیں، صحابہؓ نے بھی دیں اور تاریخِ اسلامی میں سب نے دیں۔ اور الحمد للہ ابھی بھی جو غزہ میں شہید ہو رہے ہیں وہ دین سے دور نہیں ہو رہے، اور دین سے قریب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: صحیح بات ہے۔ اچھا، یہ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں، بہت سے لوگ، یعنی ملحدین میں سے، کہ بھئی آپ نے غزہ کی جو نسل کشی ہے اس کو جسٹیفائی کر دیا (توجیہ کر دی / جواز دے دیا)۔
مفتی شمائل ندوی: اصل میں اسے کہتے ہیں Straw Man Fallacy, where you misrepresent your opponent آپ اپنے سامنے والے کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں۔ بھئی، ہم سے زیادہ اور کون ہمدردی رکھے گا غزہ والوں سے؟ آپ تو ایک ملحد ہیں، آپ کے پاس تو اخلاقیات کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے، آپ تھوڑی رکھیں گے۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: یعنی ان کا جو پورا موقف ہے غزہ کے تعلق سے، وہ اس مفروضے کے اوپر مبنی ہے کہ چونکہ (۱) اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے، (۲) چونکہ آپ دعا مانگ سکتے ہیں، (۳) تو آپ دعا مانگ کے رکوا دیں۔ یہ کیوں نہیں کروا رہے؟
مفتی شمائل ندوی: یہ تو سمجھ رہے ہیں کہ آٹومیٹک، جیسے بٹن کو دباتے ہیں، ویسے ریموٹ کی طرح اللہ کام کرے، والعیاذ باللہ تعالیٰ۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: (۱) قادرِ مطلق ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے، (۲) ہم دعا مانگتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے، (۳) لیکن ہم دعا مانگ کر کام کروا دیں۔ اِن دو شروع کے مقدمات اور تیسرے مقدمے میں کوئی تلازم نہیں ہے۔
مفتی شمائل ندوی: صحیح۔ اللہ اس وقت کرے گا جب وہ جانتا ہے کہ بہتر ہو، اور جب وہ کرنا چاہے گا، ہمارے اعتبار سے نہیں کرے گا۔
امت کو مبارکباد
مفتی یاسر ندیم الواجدی: بالکل، ماشاء اللہ۔ ایک مرتبہ پھر آپ کے توسط سے پوری امت کو مبارکباد۔
مفتی شمائل ندوی: جزاکم اللہ خیرًا۔ الحمد للہ۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی: اور یہ ایک بہت بڑا دن ہے اور بہت بڑا موقع ہے۔ ’’الاسلام یعلو ولا یعلیٰ علیہ‘‘۔ ’’وقل جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا‘‘ (بنی اسرائیل ۸۱)۔ جزاکم اللہ خیرا الجزاء۔
مفتی شمائل ندوی: الحمد للہ، بارک اللہ فیکم۔ ’’بل نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ فاذا ہو زاھق ولکم الویل ما تصفون‘‘ (الانبیاء ۱۸)۔

