سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۱)

مقدمہ

"تفسیرِ سلف" ایک نہایت قیمتی علمی سرمایہ ہے، جو تفسیر کے ذخیرے میں ایک خاص مقام اور امتیاز رکھتی ہے۔ علمائے کرام نے مختلف ادوار میں اس تفسیر کی بڑی گہری توجہ کے ساتھ مختلف انداز سے خدمت کی، کبھی اس کی مرویات کو جمع کیا، کبھی ان کو منظم کیا، اور کبھی باہم ان کا تقابلی جائزہ لیا۔ یہ بات معروف ہے کہ سلف کی تفسیر سے متعلق کئی اہم اور متنوع مسائل وابستہ ہیں، جیسے خود "تفسیر" کے مفہوم کی نوعیت، جو اس طرزِ تفسیر میں نمایاں ہوتی ہے، اور کچھ تفسیری مصادر جیسے "اسرائیلی روایات"، جنہیں قدیم و جدید علماء کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح ان تفسیری مرویات کی اسناد، ضعیف روایات سے تعامل، اور دیگر کئی علمی و اصولی اشکالات بھی زیر بحث آتے ہیں۔

اسی پس منظر میں، ہم نے معروف محقق ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد سے گفتگو کی، جنہوں نے سلف کی تفسیر بالخصوص صحابہ کرامؓ کی تفسیر پر بھرپور کام کیا ہے۔ ان کی مفصل علمی کاوش "المفسرون من الصحابۃ: جمعا ودراسۃ وصفیۃ" اس میدان میں ایک اہم حوالہ مانی جاتی ہے۔

ہمارا یہ مکالمہ ڈاکٹر مشد کے ساتھ پانچ مرکزی نکات کے گرد گھومتا ہے:

  1. سلف کی تفسیر: مفہوم اور اس کی اہمیت کے بنیادی اسباب
  2. سلف کی تفسیر سے متعلق اختلافی مسائل اور اشکالات
  3. اصولِ تفسیر کی تدوین میں سلف کی تفسیر کا کردار
  4. صحابہ کرامؓ کی تفسیر
  5. سلف کی تفسیر اور اس کے اہم تحقیقی دائرہ کار

پہلا محور
سلف کی تفسیر: مفہوم اور اہمیت کے نمایاں اسباب

اس محور کے تحت مندرجہ ذیل موضوعات پر گفتگو کی جائے گی:

  1. تفسیرِ سلف کا متفقہ مفہوم اور سلف کی تعریف
  2. اہلِ لغت علماء (جیسے فراء اور زجاج) کو تفسیرِ سلف میں شامل نہ کرنے کی وجوہات
  3. تفسیرِ سلف کی امتیازی خصوصیات: متقدمین اور متاخرین میں فرق
  4. سلف کے تفسیری ورثے کی اہمیت: بنیادی اسباب

سوال 1: تفسیرِ سلف کا متفقہ مفہوم اور سلف کی تعریف 

تفسیر کے مفہوم کو وسعت اور مفسرین کے درمیان اختلاف کا سامنا ہے، کیونکہ تفسیری تصانیف میں پیش کردہ مواد نہایت مختلف اور نمایاں طور پر متنوع ہوتا ہے۔ تو کیا سلف کی تفسیر کا کوئی غالب اور قابلِ اعتماد مفہوم موجود ہے جس پر اتفاق ہو سکے؟ اور جب ہم "تفسیرِ سلف" کی بات کرتے ہیں تو سلف سے ہماری مراد کیا ہوتی ہے؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:

اس میں کوئی شک نہیں کہ اصطلاحات کو واضح کرنا اور مفاہیم کو متعین کرنا دینی علوم کے ان اہم ترین امور میں سے ہے جن پر خاص توجہ دی جانی چاہیے، اور یہ بالخصوص قرآنی علوم کے میدان میں نہایت پیچیدہ، نازک اور مشکل ترین مسائل میں سے ہے۔ اس کے باوجود افسوس کہ قرآنی مطالعات میں اس اہم مسئلے پر ویسا شعوری اور سنجیدہ اہتمام دکھائی نہیں دیتا، جیسا کہ ہونا چاہیے تھا، حالانکہ پچھلی دہائیوں میں اس میدان میں نمایاں علمی ترقی اور تالیفات کا انبار وجود میں آیا ہے۔ اس مسئلے کو نظرانداز کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غلط فہمیوں، الجھے ہوئے تصورات اور غیر درست نتائج کی بھرمار ہو جاتی ہے، اور یوں بہت سی علمی کاوشیں بے وقعت اور غیر معتبر ہو جاتی ہیں۔

علمائے تفسیر اور علومِ قرآن کے ماہرین نے تفسیر کے مفہوم کو واضح کرنے کی کوششیں ضرور کی ہیں، لیکن ان کی کاوشوں کا بغور جائزہ لینے سے ہمیں تین اہم باتیں سامنے آتی ہیں:

  1. انہوں نے "علمِ تفسیر" کے لیے جو تعریفی تصورات پیش کیے، ان میں نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔
  2. ان تعاریف کو عملی طور پر لاگو کرنے کے انداز میں بھی ان کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔
  3. اکثر مفسرین نے تفسیر کے مفہوم و ماہیت کی تطبیق و اطلاق کے حوالے سے ایک دوسرے پر کثرت سے تنقید کی ہے۔

ان تین مشاہدات سے ایک اہم نتیجہ نکلتا ہے: علمائے تفسیر نہ تو تفسیر کے مفہوم کی تعیین میں متفق ہیں اور نہ اس کے عملی اطلاق میں۔ اکثر اہلِ علم کے درمیان ان کے نظریہ اور عملی تطبیق میں فرق پایا جاتا ہے، اور وہ ایک دوسرے کی تطبیقات پر تنقید کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ مناسب نہیں کہ کوئی محقق اپنی طرف سے "علمِ تفسیر" کا ایک مفہوم متعین کرے اور پھر اسی کو معیار بنا کر تمام مفسرین کا محاسبہ شروع کر دے۔

درحقیقت، صحیح نقطۂ نظر یہ ہے کہ ہم تفسیر کا مفہوم ان عملی نمونوں سے اخذ کریں جو مفسرین نے اپنے تفسیری کاموں میں پیش کیے ہیں۔ یقیناً‌ یہ طریقہ وقت طلب اور محنت طلب ہے، لیکن اگر اس کے بغیر صرف نظری مباحث پر اکتفا کیا جائے، اور تفسیری کتابوں کے عملی اطلاق کو نظر انداز کر دیا جائے، تو نتائج غیر حقیقی ہوں گے اور وہ اصل حقیقت کی نمائندگی نہیں کریں گے۔

سلف کی تفسیر کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ اس میں قرآن سے متعلق کئی پہلوؤں پر مشتمل نہایت وسیع اور متنوع معلومات شامل ہیں۔ تاہم جب ان معلومات میں غور و فکر کیا جائے تو یہ بات نمایاں ہو جاتی ہے کہ سلف کی تفسیر میں غالب رجحان قرآن کے معانی کو واضح کرنے پر ہے، نہ کہ احکام کا استخراج، فوائد و لطائف، یا وعظ و نصیحت جیسی ضمنی چیزوں پر۔

یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تفسیری روایتوں کے اعداد و شمار سے بھی واضح ہو جاتی ہے۔ میں نے اپنی کتاب "المفسرون من الصحابۃ: جمعا ودراسۃ وصفیۃ" میں ان کی تفسیری مرویات کو ان کے مصادر کے اعتبار سے مرتب کیا، اور یہ مرویات تقریباً‌ دس ہزار آثار پر مشتمل ہیں۔ میں نے صحابہؓ کی ان مرویات کو ان کے تفسیری مصادر کے مطابق ترتیب دیا، اور یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ان کے ہاں تفسیری مرویات کا رجحان زیادہ تر قرآنی الفاظ کے معانی بیان کرنے پر تھا۔

ان میں سے تقریبا 15۔5٪ مرویات لغت (یعنی الفاظ کے لغوی معانی) پر مشتمل تھیں، تقریبا 13٪ روایات میں آیات کے اسبابِ نزول و احوالِ نزول کا بیان تھا، 10٪ میں اخبار بنی اسرائیل کا ذکر تھا، 3٪ مرویات قرآن کریم سے استدلال پر مشتمل تھیں، 1۔3٪ روایات سنتِ نبویہ سے متعلق تھیں، اور 0۔6٪ مرویات تاریخِ عرب سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس کے مقابلے میں سب سے بڑی نسبت یعنی 56٪ مرویات وہ تھیں جو تفسیر بالرای کے زمرے میں آتی ہیں (بمطابق اس اصطلاح کے جو میں نے اپنی تحقیق میں وضع کی ہے)۔ ان میں بھی اکثریت الفاظ کے معانی کی وضاحت سے متعلق ہے، جبکہ قلیل تعداد ان روایات کی ہے جو معانی کی تشریح کے علاوہ دیگر پہلوؤں سے تعلق رکھتی ہیں، من جملہ: دلائل و شواہد کا بیان، احکامِ شرعیہ کا استنباط، علمی فوائد، اخلاقی مواعظ، تفسیری لطائف، اور اسی قبیل کے دیگر امور جن کا بنیادی مقصد معنی کی توضیح نہیں ہوتا۔

اسی طرح سلف کی تفسیر میں استعمال ہونے والے بہت سے الفاظ بھی مختلف ہوتے تھے، جیسے: البیان، المعرفۃ، الفقہ، التاویل وغیرہ۔

جہاں تک "سلف" کے لغوی معنی کا تعلق ہے تو اس کا مفہوم "آگے بڑھنے والا" یا "پہلے آنے والا" ہے، اور یہی مفہوم قرآن و سنت میں بھی متعدد مقامات پر ملتا ہے۔ بعض تابعین کے آثار میں "سلف" کا اطلاق صحابہ کرامؓ پر بھی ہوا ہے، اور جو کوئی بھی آپ سے پہلے ہو، وہ لغوی اعتبار سے آپ کا "سلف" کہلائے گا۔ لہٰذا جب ہم "تفسیر سلف" کی بات کرتے ہیں، تو ہمارے پیش نظر وہ تین طبقے ہوتے ہیں:

  1. صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
  2. تابعین کرام رحمۃ اللہ علیہم اجمعین
  3. تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین

یہی تین طبقات وہ ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے بہترین افراد قرار دیا: "خیر الناس قرنی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم"۔ اکثر مفسرین "سلف" کی اصطلاح انہی تینوں طبقات کے لیے استعمال کرتے ہیں، اگرچہ بعض اوقات بعض لوگ تابعین یا تبع تابعین کے بعد کے افراد کو بھی اس میں شامل کرتے ہیں، مگر یہ شاذ و نادر مثالیں ہیں۔

سوال 2: اہلِ لغت علماء (جیسے فراء اور زجاج) کو تفسیرِ سلف میں شامل نہ کرنے کی وجوہات

مطالعہ و تحقیق کے حلقوں میں یہ بات معروف ہے کہ ان اہلِ لغت کو، جنہوں نے قرآن کے معانی پر لکھا ہے — جیسے فراء اور زجاج — انہیں تفسیرِ سلف کی اصطلاح سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ تو اس اخراج کی نمایاں وجوہات کیا ہیں؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:

اگر ہم محض زمانی معیار کو سامنے رکھیں، تو ہمیں نظر آتا ہے کہ بعض اہلِ لغت، تابعین کے بعد کے زمانے میں زندگی گزارنے والے افراد کے ہم عصر تھے۔ مثلاً‌: قطرب جن کی وفات 206 ہجری ہے، وہ مقاتل بن سلیمان (150 ہجری)، سعید بن ابی عروبۃ ( 156 ہجری)، اور سفیان ثوری (161 ہجری) کے ہم عصر تھے ۔ یہ سب تبع تابعین کے زمانے کے اکابر ہیں۔ تو اگر ہم صرف زمانی اعتبار سے دیکھیں، تو قطرب اور اس جیسے اہلِ لغت کو بھی سلف کے طبقے کا فرد مانا جا سکتا ہے۔ لیکن جب ہم عملی تفسیر کی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہم واضح فرق محسوس کرتے ہیں۔ مفسرین، سلف کے تینوں طبقات (صحابہ، تابعین، تبع تابعین) اور اہلِ لغت کے اقوال میں فرق کرتے ہیں۔

مثلاً‌: ابن جریر طبری اپنے تفسیر میں سلف کے اقوال کو بڑی کثرت سے نقل کرتے ہیں، اور ان کو "اہلِ تاویل" کا لقب دیتے ہیں، اور ان کے مقابلے میں اہلِ لغت کی آراء کو الگ رکھتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان علمی و طرزِ فہم کے لحاظ سے امتیاز موجود ہے۔

اسی طرح جن مفسرین کا اہم مقصد "تفسیرِ سلف" کے اقوال کو اپنی تصنیفات میں جمع کرنا ہوتا ہے، وہ بھی صرف انہی تین طبقوں (صحابہ، تابعین، تبع تابعین) کی آراء پر اکتفا کرتے ہیں، اور بعد کے اہلِ لغت کو شامل نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر سیوطی نے "الدر المنثور" میں یہ اصول اپنا رکھا کہ صرف ماثور تفسیر کو جمع کرے گا — یعنی نبی کریم ﷺ اور سلف کے تینوں طبقوں سے منقول اقوال۔ چنانچہ اس نے اہلِ لغت کے اقوال کو اس میں شامل نہیں کیا۔

اس فرق کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اہلِ لغت کی تفسیر میں لغوی پہلو کو حد درجہ غالب کر دیا گیا ہے، جب کہ سلف کی تفسیر میں صرف زبان پر اعتماد نہیں تھا بلکہ وہ دیگر بنیادی ذرائع — جیسے قرآن کی آیات کا باہمی ربط، حدیث، آثار صحابہ، اور اسباب نزول — پر بھی بھرپور انحصار کرتے تھے۔

اگرچہ بعض اہلِ لغت بھی ان ذرائع کو استعمال کرتے تھے، لیکن ان کے ہاں مرکزی حیثیت صرف زبان و لغت کو حاصل تھی، جبکہ دوسرے تمام پہلو بہت کمزور ہو جاتے تھے۔ اگر ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تفسیر کے انداز کو دیکھیں، تو ان کے آثار میں صرف 15٪ اقوال وہ ہیں جو کسی لفظ کے لغوی مفہوم کی وضاحت پر مشتمل ہیں۔ باقی تمام اقوال سیاق، حدیث، اسبابِ نزول اور دیگر تفسیری پہلوؤں سے متعلق ہیں۔ جب کہ اہلِ لغت کی بیشتر تفسیر صرف لغوی توضیح پر مرکوز ہوتی ہے۔

اسی وجہ سے کچھ علماء نے اہلِ لغت کی اس روش پر سخت تنقید کی، اور اسے سلف کے تفسیری منہج سے انحراف قرار دیا۔ اس حوالے سے کئی واقعات مشہور ہیں، جن میں سے ایک اصمعی (وفات: 216ھ) اور ابو عبیدہ (وفات: 210ھ) کے درمیان پیش آنے والا واقعہ بھی ہے: روایت ہے کہ اصمعی نے ابو عبیدہ کی کتاب "مجاز القرآن" پر اعتراض کیا اور کہا: "یہ شخص قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرتا ہے!" ابو عبیدہ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: "اصمعی کی مجلس کس دن ہوتی ہے؟" چنانچہ جب وہ دن آیا تو وہ گدھے پر سوار ہو کر اصمعی کی مجلس میں پہنچے، اتر کر ان سے سلام کیا، ان کے قریب بیٹھے، اور بات چیت شروع کی۔ پھر ان سے پوچھا: "ابو سعید! یہ بتاؤ، قرآن کریم میں 'خبز' (روٹی) کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کی کیا تفسیر ہے؟" اصمعی نے کہا: "خبز سے مراد وہی ہے جو ہم کھاتے ہیں اور پکاتے ہیں۔" ابو عبیدہ نے کہا: "تو پھر جان لو، میں نے بھی قرآن اسی طرح سمجھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "یحمل فوق راسہ خبزا تاکل الطیر منہ" (سورۂ یوسف، آیت: 36) میں نے اس آیت کو اپنی رائے سے نہیں سمجھا، بلکہ جو بات مجھے واضح ہوئی، میں نے وہی کہی، جیسے تم نے ابھی 'خبز' کی تعریف کی۔" پھر وہ گدھے پر سوار ہو کر واپس چلے گئے۔

سوال 3: تفسیرِ سلف کی امتیازی خصوصیات: متقدمین اور متاخرین میں فرق

سلف صالحین کے طبقہ کو تفسیرِ قرآن کے ساتھ نمایاں طور پر گہرا شغف رہا ہے۔ آپ کی تحقیق کی روشنی میں، خاص طور پر وہ کون سی نمایاں خصوصیات ہیں جو ان کی تفسیر میں پائی جاتی ہیں اور جو بعد کے مفسرین سے اس تفسیر کو ممتاز بناتی ہیں؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:

 اللہ سلف پر رحم کرے! وہ ایسے بلند ذوق، عمیق فہم اور باریک بینی کے حامل تھے کہ وہ ان نکتہ ہائے معنی تک فوری رسائی پا لیتے تھے، جن تک بعد والے لوگ عمر بھر کی محنت، تحقیق اور تفننِ خیال کے باوجود صرف اس کے گرد گھومنے تک ہی محدود رہ جاتے ہیں۔ سلف کی تفسیر بہت سی خصوصیات سے مزین ہے، بلکہ ہر مفسر کی اپنی انفرادی شان اور الگ شناخت ہے۔ بعض کی تفاسیر میں نصیحت و موعظت غالب ہے، کچھ میں فقہی بصیرت نمایاں ہے، اور بعض میں آیات کا عصری حالات پر اطلاق اور ان سے زندگی کے مسائل کا حل تلاش کرنا غالب نظر آتا ہے۔ یہ تمام پہلو تحقیق، تجزیے اور مکمل فہرست بندی کے قابل ہیں، لیکن اگر ہم مجموعی طور پر ان نمایاں خصوصیات کو دیکھیں جن میں سلف نے ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک کیا اور جو انہیں بعد والوں سے ممتاز کرتی ہیں، تو انہیں درج ذیل نکات میں سمیٹا جا سکتا ہے:

گہرائی کے ساتھ سادگی

ان کی تفاسیر میں دل کو چھو لینے والی معنوی گہرائی موجود ہوتی تھی، مگر پیچیدگی اور فلسفے سے پاک ہوتی تھی۔

اجمالی مفہوم پر توجہ

وہ آیات کے اجمالی اور کُلی مفہوم پر زور دیتے، تفصیلات میں الجھنے سے گریز کرتے۔

سیاقی معنی پر توجہ

وہ آیت کے معنی کو اس کے سیاق و سباق کی مناسبت سے سمجھتے،

لغوی موشگافیوں سے احتراز

ان کی تفسیر میں زبان و لغت کے نکتہ سنجیوں سے زیادہ آیات کے وسیع معانی پر زور ہوتا۔

سادہ اور رواں زبان

ان کے بیان کا انداز نہایت سادہ، فطری اور عام فہم ہوتا، جس میں مشکل الفاظ کی بھرمار نہیں ہوتی۔

نزولِ آیت کے حالات سے ربط

وہ آیات کی تفسیر کرتے وقت ان کے اسبابِ نزول اور وقتِ نزول کی کیفیات کو بھرپور اہمیت دیتے۔

دل نشین اسلوب

وہ مفہوم کو قریب لانے کے لیے کئی خوبصورت اسالیب اختیار کرتے تھے، مثلاً‌ سوال و جواب کا انداز، تکرار، خطاب، تقسیم، تاکید، اور محسوس چیزوں کی مثالیں دے کر بات کو واضح کرنا — یہ سب ان کی تفسیر کے نمایاں رنگ تھے۔

یہ وہ بنیادی خصوصیات ہیں جنہوں نے تفسیرِ سلف کو بعد کی تفسیری کاوشوں سے ممتاز کیا، اور جو آج بھی قرآن فہمی کے سنہرے اصولوں میں شمار ہوتی ہیں۔

سوال 4: سلف کے تفسیری ورثے کی اہمیت: بنیادی اسباب

آپ کی نظر میں سلف کے اس عظیم تفسیری ورثے کی اہمیت کے نمایاں اسباب کیا ہیں؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:

 سلف کے تفسیری ذخیرے کی اہمیت دو بنیادی پہلوؤں میں نمایاں طور پر سامنے آتی ہے: پہلا پہلو زمانہ ہے جس میں وہ لوگ زندہ تھے، اور دوسرا پہلو وہ شخصیات خود ہیں جنہوں نے یہ ورثہ چھوڑا۔

(1) زمانۂ نزولِ قرآن کے قریب ہونا

زمانۂ نزولِ قرآن کے قریب ہونا، ایک ایسا وصف ہے جو صرف سلف کو حاصل تھا، بعد کے لوگوں کو اس کا شرف حاصل نہ ہو سکا۔ اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے جیسے کسی نے مکہ میں نوفل قبیلے کے درمیان سکونت اختیار کی ہو اور دوسرا شخص ریگزار کے دور دراز مقام پر ٹھہرا ہو — گویا فرقِ مراتب از زمین تا آسمان!

سلف، خاص طور پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ عظیم امتیازات حاصل تھے۔ وہ عہدِ نبوت کے چشم دید گواہ تھے، وہ قرآن کے نزول کے لمحات کے گواہ تھے، انہوں نے وحی کے نزول کے ماحول کو جیا اور محسوس کیا، وہ ان حالات کے عینی شاہد تھے جن میں قرآن نازل ہوا، اور وہ ان اشخاص و اقوام کو بھی جانتے تھے جن کے متعلق آیات نازل ہوئیں۔ یہی امتیازات ایک حد تک تابعین کو بھی حاصل ہوئے، کیونکہ وہ صحابہؓ کے براہ راست شاگرد تھے، اور انہوں نے تفسیر کو انہی سے اخذ کیا۔ وہ زمانۂ وحی کے قریب تھے اور اس فکری و ایمانی فضا میں سانس لیتے تھے۔ اسی طرح تبع تابعین کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ وہ تابعین سے ان تفسیری روایات کو روایت کرتے اور ان سے براہ راست سیکھتے تھے۔

(2) سلف کی شخصیات کا باطنی و فکری امتیاز 

جہاں تک دوسرا پہلو یعنی سلف کی شخصیات کا باطنی و فکری امتیاز ہے، تو وہ بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی شخصیات کے چند نمایاں خصائص یہ ہیں: ان کے سینے حسد، کینہ، تعصب اور دنیا داری سے پاک تھے۔ ان کی نیتیں خالص اور اخلاص سے بھرپور تھیں۔ ان کا فہم عمیق، سلیم اور سادہ تھا۔ وہ اس زبان میں فطری طور پر مہارت رکھتے تھے جس میں قرآن نازل ہوا۔ ان کے دل مذہبی تعصبات سے پاک تھے۔ وہ نفس کی پیروی سے بچے ہوئے تھے۔ ان کے درمیان حقیقی اختلاف بھی نہایت کم تھا کیونکہ ان سب کا مرجع و ماخذ ایک ہی تھا اور ان کا منبع علم ایک ہی چشمہ تھا۔ اس یکجہتی، قربِ زمانہ، اخلاصِ نیت، سادہ فطرت اور قرآنی زبان سے فطری انس نے ان کے تفسیری ورثے کو ایک ایسا ناب اور بے مثل خزانہ بنا دیا ہے، جو بعد والوں کے لیے نہ صرف علمی حوالہ ہے بلکہ ہدایت کا روشن چراغ بھی۔

(جاری)

قرآن / علوم القرآن

(الشریعہ — جنوری ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جنوری ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۷)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۱)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۱)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

A Prophetic Lesson on News, Responsibility, and Restraint
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان مباحثے کا تجزیہ
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی

خدا کی زمان و مکان سے ماورائیت اور تصورِ ہمیشگی
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۲)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۱)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت کُعیبہ بنت سعد اسلمیہ رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

بیمار کی عیادت: ایک انسانی حق، ایک اخلاقی فریضہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

اولڈ ایج ہاؤس کی شرعی حیثیت
مفتی سید انور شاہ

27 ویں ترمیم پر وکلا اور قانون کے اساتذہ کا مکالمہ (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

زنا بالجبر یا زنا بالرضا؟ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ایک نظر
طاہر چودھری

حضرت پیر ذوالفقار نقشبندیؒ اور حضرت پیر عبدالرحیم نقشبندیؒ کی وفات پر اظہار تعزیت
مولانا حافظ اسعد عبید

مجلس اتحاد امت پاکستان کا اعلامیہ اور مطالبات
الخیر میڈیا سیل
مدارس نیوز

مجلس اتحادِ امت پاکستان کے متفقہ اعلامیہ کی بھرپور تائید
پروفیسر حافظ منیر احمد
پاکستان شریعت کونسل

الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام سالانہ ’’دورہ احکام القرآن و محاضراتِ علومِ قرآنی‘‘
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter