آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن نیموی (م ۱۳۲۲ھ)1 فقہ حنفی کی موید احادیث کا مقبول و مستند مجموعہ ہے، جس کو بے انتہا مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کی اور بھی متعدد تصانیف ہیں، علومِ اسلامیہ اور خالص اردو ادبیات کی جامعیت جس قدر ان کے یہاں ملتی ہے وہ کم ہی لوگوں کے حصہ میں آئی ہے۔ دنیائے ادب میں ان کی لسانی تحقیقات اور ان کی شاعری بھی اپنا مقام رکھتی ہے، لیکن جس کتاب نے ان کو شہرتِ عام کے خلعتِ دوام سے سرفراز کیا ہے، اور ان شاء اللہ آخرت میں بھی ان کی سرخروئی کا ذریعہ بنے گی، وہ ان کی مشہورِ زمانہ کتاب آثار السنن ہے، کاش اگر اس علمی منصوبے کا ایک بڑا حصہ بھی پورا ہو جاتا تو علمی دنیا کے لئے بہت اہم تحفہ ہوتا۔ حضرت نیموی نے اور بھی مذہبی اور فقہی رسائل لکھے لیکن ان کی شہرت صرف ایک زمانہ تک محدود رہی، بلکہ سچ یہ ہے کہ ان کی تصنیف آثار السنن کے بعد ہی ان کتابوں کو بھی زیادہ شہرت ملی۔
حضرت علامہ نیموی نے جس کام کا آغاز کیا اگر چہ وہ اس کو انجام تک پہنچانے سے قبل ہی عین عالمِ جوانی میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور اس طرح یہ کام ادھورا رہ گیا، لیکن اس فن کا نقشِ اولین بن کر بہت سے لوگوں کے لئے محرک ضرور بنا، اور لوگوں کے لئے کام کی راہ ہموار ہوئی۔ چنانچہ اس کے بعد ہی مولانا اشرف علی تھانوی کی نگرانی میں اس کام کا آغاز ہوا اور احیاء السنن کے نام سے اس کی ایک جلد منظر عام پر آئی، پھر وہ کام بھی تکمیل کو نہیں پہنچ سکا۔ اس کے بعد اعلاء السنن کے نام سے حضرت تھانوی نے اپنے بھانجہ مولانا ظفر احمد تھانوی سے اس کام کا آغاز کروایا، اور اس کے فورًا بعد ہی ان کے وطن عظیم آباد میں بھی الجامع الرضوی لکھی گئی، ان سب کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
مسلک حنفی کے مطابق احادیث کی جمع و تدوین و ترتیب کا کام تو ابتدائی صدیوں میں ہی شروع ہوگیا تھا، فقہ شافعی و مالکی کے مطابق روایات کے کئی مجموعے ابتدا ہی میں منظر عام پر آئے، فقہ حنفی میں اس سلسلہ کی اولین کوشش امام طحاوی کی تھی، جنہوں نے شرح معانی الآثار میں مکمل سند کے ساتھ اس ملک کی تائید میں روایات جمع کیں، پھر متعدد مجموعے منظر عام پر آئے۔ ہندوستان میں بھی گیارہویں اور بارہویں صدی میں دو مجموعے مرتب ہوئے، ایک حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی کی فتح المنان فی تائید مذہب النعمان اور دوسری علامہ مرتضیٰ زبیدی کی عقود الجواہر المنیفہ ہے۔ اول الذکر میں حدیث سے زیادہ فقہی مباحث ہیں اور ثانی الذکر نقدِ احادیث اور فنی مباحث سے خالی ہے، جیسا کہ مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی کی رائے ہے،2 مولانا کے بقول خالص محدثانہ اور فقہی نقطہ نظر سے جو کتاب سب سے پہلے لکھی گئی وہ آثار السنن ہے۔3
مشہور محقق و محدث علامہ ابو محفوظ الکریم معصومی (م۱۴۳۰ھ) نے بھی اسی طرح کی اطلاع فراہم کی ہے، انہوں نے لکھا ہے کہ فقہ حنفی کی حدیث سے تائید و توثیق میں علامہ شوق نیموی سے قبل کئی کتابیں منظر عام پر آچکی تھیں، لیکن بہت زیادہ اور جامع کام کی ضرورت پھر بھی باقی تھی۔ چنانچہ امام طحاوی کی مشہور کتاب شرح معانی الآثار اس سلسلہ کی ابتدائی کاوش ہے۔ اس کے بعد کچھ اور بھی کام منظر عام پر آئے۔
سرزمینِ ہند پر علامہ نیموی سے پہلے جو کام ہوا، وہ مولانا معصومی کے بقول حسبِ ذیل ہیں:
۱۔ الغرۃ المنیفہ فی ترجیح مذہب ابی حنیفہ۔ ابو حفص سراج الدین عمر بن اسحاق الہندی الغزنوی (۷۰۴۔ ۷۷۳ھ) کی تصنیف اس موضوع پر پہلی تصنیف ہے۔
۲۔ فتح المنان فی تائید مذہب النعمان۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی (م۱۰۵۲ھ) کی تصنیف۔
۳۔ عقود الجواہر المنیفۃ فی ادلۃ الامام ابی حنیفہ۔ علامہ سید مرتضیٰ بلگرامی زبیدی (م۱۲۰۵ھ)۔
۴۔ مولانا حافظ عبدالعلی نگرامی (م۱۲۹۶ھ) کی دو کتابیں نور الایمان فی تائید مذہب النعمان اور الیواقیت اللطیفۃ فی تائید مذہب ابی حنیفہ بھی اسی موضوع پر ہیں۔4
۵۔ زجاجۃ المصابیح از شیخ عبداللہ حیدرآبادی بھی اس سلسلہ کی اہم کتاب اور احادیث کا مجموعہ ہے۔
لیکن ان میں فقہی رنگ غالب تھا، نیز اس وقت فقہ حنفی کو اس قدر موردِ طعن بھی نہیں بنایا گیا تھا کہ اس موضوع کو توجہ حاصل ہوتی، لیکن علامہ نیموی کے بعد اس سلسلہ کا آغاز ہو گیا اور گرچہ وہ اس کام کو مکمل نہیں کر سکے لیکن کئی علمی اہم کتابیں منظر عام پر آئیں، اور تقریباً سب میں ان کی تحقیقات سے استفادہ کیا گیا، نیز علمائے احناف نے کتبِ حدیث کی جو شرحیں لکھیں ان میں بھی اس سے استفادہ کیا گیا۔ علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا اشرف علی تھانوی کے علمی کاموں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’حضرات اہل حدیث کے اس فرقہ کی طرف سے جو غالی ہے، اکثر حضرات حنفیہ پر یہ طعن کیا گیا ہے کہ حنفی مسائل کی تائید میں احادیث بہت کم ہیں، اور چوں کہ کتبِ حدیث زیادہ تر محدثین اور حضرات شوافع کی تالیف ہیں، اس لئے ان میں حنفیہ کی موید حدیثیں یکجا نہیں ہیں، گو امام محمد کی موطا، اور آثار اور قاضی ابویوسف کی کتاب الآثار اور مسند ابی حنفیہ مرتبہ خوارزمی اور امام طحاوی کی تصانیف سے ان کا جواب دیا جاتا رہا ہے مگر کتبِ صحاح و مسانید و مصنفات سے جو رائج اور محدثین میں مقبول ہیں چن کر ان احادیث و روایات کو یکجا نہیں کیا گیا تھا، جن سے مسائل حنفیہ کی تائید ہوتی تھی … یہ ضرورت ہمیشہ سے تھی، مگر اس زمانہ میں اہل حدیث کے ظہور و شیوع سے اس ضرورت کی اہمیت بہت بڑھ گئی تھی، چوں کہ اس تحریک کا آغاز پورب (عظیم آباد پٹنہ) سے ہوا اس لئے اس ضرورت کا احساس بھی پہلے یہیں کیا گیا، چنانچہ مولانا محمد بن ظہیر احسن شوق نیموی عظیم آبادی نے آثار السنن کے نام سے کتبِ حدیث سے التقاط کر کے اس قسم کی حدیثوں کو شائع کیا، اس کے دو ہی حصے شائع ہو سکے، اس کا دوسرا حصہ ۱۳۲۱ھ میں شائع ہوا۔ علمائے احناف نے اس کتاب کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا، یہاں تک کہ مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے جو اس زمانہ میں مدرسہ امینیہ دہلی میں مدرس تھے اس کی مدح میں عربی قصیدے لکھے، افسوس ہے کہ مولانا نیموی کی وفات سے ان کا یہ کام ناتمام رہا۔‘‘5
چنانچہ ان کے بعد مولانا تھانوی کو اس کا احساس ہوا اور انہوں نے احیاء السنن کے نام سے ایک مجموعہ احادیث مرتب کیا لیکن وہ مسودہ ضائع ہوگیا،6 کچھ دنوں کے بعد پھر مولانا تھانوی کو اس کا احساس ہوا اور انہوں نے جامع الآثار کے نام سے ایک مجموعہ کتاب الصلاۃ تک مرتب کیا، جو شائع ہوگیا، اس کے بعد حضرت تھانوی کی نگرانی میں مولانا ظفر احمد تھانوی نے اعلاء السنن کے نام سے اٹھارہ جلدوں اس کی تکمیل کی جو بڑے اہتمام سے منظر عام پر آئیں اور فقہ حنفی کا اہم ماخذ و مرجع بن گئیں۔ لیکن اس کے باوجود حضرت نیموی کی تحقیقات سے استفادہ کا سلسلہ جاری ہے، اور اختصار کی وجہ سے آثار السنن ہی پاکستان کے نصاب درس میں شامل ہے۔
علامہ نیموی کے بعد ان کے صوبہ بہار میں بھی اس موضوع پر کئی کام منظر عام پر آئے۔
چنانچہ اسی صدی میں چند دہائیوں کے بعد پٹنہ ہی میں مولانا ظفر الدین قادری (م۱۳۸۲ھ) نے الجامع الرضوی معروف بہ صحیح البھاری لکھی۔ اور اختصار و جامعیت کے ساتھ تمام ابواب فقہ کی صحیح حدیثیں مرتب کیں۔
اس کے بعد اس صوبہ کے ایک دوسرے عالم مولانا عمیم الاحسان مجددی برکتی (مونگیری شیخ پوروی ثم کلکتوی مدفون ڈھاکہ، متوفی ۱۳۹۵ھ) نے مدرسہ عالیہ کلکتہ کے دوران قیام ایک جامع کتاب فقہ السنن والآثار لکھی۔ اس میں الجامع الرضوی کے برعکس احادیث کی ترتیب کے ساتھ اس کے درجات بھی ذکر کئے گئے، جن میں جابجا علامہ شوق نیموی کے حوالے موجود ہیں۔
تیسرا کام ایک مدت کے بعد مولانا محمد قاسم (م۱۴۴۲ھ) صاحب مظفر پوری کے قلم سے منظر عام پر آیا۔ ادلۃ الحنفیۃ من الاحادیث النبویۃ علی المسائل الفقہیۃ کے عنوان سے ایک ملتانی عالم محمد عبداللہ بن مسلم پہلوی ملتانی (م۱۳۹۸ھ) شاگرد علامہ انور شاہ کشمیری نے اس کتاب کا آغاز کیا تھا لیکن پہلی جلد کے بعد وہ مزید جلدیں مرتب نہیں کر سکے تو مولانا محمد قاسم مظفر پوری نے مزید تین جلدیں لکھ کر اس کی تکمیل کی اور نہایت تحقیق سے کام کیا۔ ان کے برادر زادہ مشہور عالم مولانا رحمت اللہ ندوی کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ یہ کتاب چار جلدوں میں عالم عرب سے شائع ہوئی۔
یوں بھی مذکورہ بزرگوں کے پیش نظر وہ حالات نہیں تھے، جو حضرت شوق کے پیش نظر تھے، ان کا شہر عظیم آباد اور شہر غازی پور جہاں ان کا تعلیمی دور گذرا تھا دونوں اور ان کے مضافات علمائے اہل حدیث سے آباد تھے جن کی طرف سے فقہ حنفی پر اعتراضات ہوتے رہتے تھے، جیسا کہ علامہ سید سلیمان ندوی کی تحریر میں اوپر گذر چکا ہے۔
احیاء السنن اور اعلاء السنن سے لے کر ادلۃ الحنفیہ تک کی تمام کوششوں میں علامہ نیموی کی اپنی انفرادیت، اولیت اور عظمت برقرار ہے اور سب نے ان سے استفادہ کیا ہے، جس کا مطالعہ ایک مستقل موضوع ہے۔
کام کا آغاز
حضرت نیموی نے اس کام کا آغاز کب کیا، اس کے بارے میں کوئی ایسی صراحت نہیں ملتی، البتہ انہوں نے اپنی خود نوشت اور اپنے وطن کا تذکرہ یادگار وطن ۱۳۱۲ھ سے قبل مکمل کر لیا تھا، اس میں آثار السنن کے آغاز کا ذکر ہے، اس سے قبل ان کے شاگرد منشی بشیر بلیاوی کی تذکرۃ الشوق میں جو تقریباً ۱۳۰۵ھ میں مرتب ہو چکی تھی جب وہ لکھنؤ سے تعلیم مکمل کر کے واپس آئے تھے، اخیر میں مذکور ہے:
’’آج کل جناب ممدوح اپنے وطن میں تشریف رکھتے ہیں، اور وعظ و تلاوت قرآن و تدریس احادیث و فقہ و کتب دینیہ میں مشغول ہیں، اللہ تعالیٰ عمر میں برکت عطا کرے اور ہمیشہ مکروہات سے محفوظ رکھے، آمین ثم آمین۔‘‘7
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس کی تصنیف کا ذہن اسی وقت بنا چکے تھے، اور تقریباً ۱۱۔۱۳۱۰ھ (۱۸۹۵ء) میں اس کا آغاز بھی کر چکے تھے، اس لئے مولانا سید عبدالحی حسنی کا یہ کہنا بہ ظاہر درست نہیں معلوم ہوتا کہ وہ ایک مدت تک شعر و شاعری میں مشغول رہے بعد میں انہیں اس کتاب کی تصنیف کی توفیق ملی۔8 اس کے مطابق انہوں نے کتابوں کی تلاش بھی شروع کر دی تھی، اور ملک کے اہل علم سے کتابت کر کے بہت اچھا ذخیرہ فراہم کر لیا تھا، جو ان کی وفات کے بعد تک موجود تھا۔ اس کے علاوہ جہاں جہاں کسی نادر نسخہ کا علم ہوا منگوا کر اس سے استفادہ کیا، ممکن ہے اس کے لئے ملک کے سفر بھی کئے ہوں۔ بنگال کا سفر بھی وفات سے تین سال قبل اسی مقصد سے ہوا تھا اور انہوں نے کلکتہ کے ایشیاٹک سوسائیٹی کتب خانہ سے استفادہ کیا ہو۔ ادھر ان کے شہر پٹنہ میں کتب خانہ خدا بخش کا قیام بھی اسی دور میں ہوا تھا، یقیناً انہوں نے وہاں کے دس سالہ قیام میں بھی اس سے فائدہ اٹھایا ہوگا، گرچہ اس کا ذکر کہیں ان کی کسی تحریر میں نہیں ملتا۔ ان کے پاس کتابوں کا بہت اچھا ذخیرہ تھا، جو تقسیمِ ہند سے پہلے بہار میں رونما ہونے والے فساد ۱۹۴۶ء میں ضائع ہوگیا، جو چیزیں بچی تھیں وہ ان کے فرزند نے کتب خانہ خدا بخش پٹنہ کے حوالہ کر دیں۔ حالاں کہ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ علامہ شمس الحق عظیم آبادی کی طرح وہ بہت صاحبِ ثروت نہیں تھے، علامہ عظیم آبادی نے بھی اپنے وطن جو ان کے وطن سے قریب ہی تھا بہت ہی نادر ذخیرہ جمع کیا تھا جس کی تفصیل بھی قلمبند ہو چکی ہے9 اور اس کا بڑا حصہ کتب خانہ خدا بخش میں محفوظ بھی ہو گیا۔
حضرت نیموی کے فرزند مولانا عبد الرشید فوقانی (م۱۳۹۱ھ) نے اپنے رسالہ القول الحسن میں ان کی کتابوں کے اشتہارات اور دیگر حوالوں سے وہ تمام اقتباسات یکجا کر دئے ہیں جن میں آثار السنن کی تصنیف کا تکمیل کا ذکر آیا ہے، ان سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کس دور تک کتنا کام ہو چکا تھا اور خود مصنف کی نظر میں اس کا کیا مقام تھا، ان کے صاحبزادے لکھتے ہیں:
’’واعلم یا اخی ان النیموی شرع فی کتابہ آثارالسنن فی السنۃ السادسۃ بعد الالف وثلاث مائۃ من الہجرۃ النبویۃ بل من قبیلہا وفرغ من تحریر آخر ابواب الصلاۃ من ذ لک الکتاب فی الثالثۃ عشر بعد الالف وثلاث مائۃ کما صرح بنفسہ فی رسالتہ تبیان التحقیق قد طبعت من قبل المجلی، وہذا المجلی طبع عام الرابع عشر بعد الالف وثلاث مائۃ من الہجرۃ واما الدلیل علی ابتداء النیموی بتالیف آثارالسنن فی السنۃ السادسۃ بعد الالف وثلاث مائۃ فسنذکرہ فی ما سیاتی فانتظر وعلۃ التالیف لتبیان التحقیق عی ما رآہ النیموی من التاخیروالتعویق من بعض الوجوہ فی طباعۃ کتابہ آثارالسنن واتمامہ فلذلک اراد ان یری من کان علی عہدہ من اہل العلم ما فی آثارالسنن من تحقیقات جدیدۃ وفوائد غریبۃ من قبل طباعتہ فالتقط بعض تحقیقاتہ بعد الالتقاط ادخلہ فی تبیان التحقیق وکان من قبل ارسل قراطیس الاشتہارات الی البلاد وغیرہا من القری والقصبات واخبرہم بتلک الاشتہارات بانی اؤلف فی عصری ہذا کتابا فی فن الحدیث سمیتہ بآثارالسنن، فہذہ رسالتہ تبیان التحقیق قد طبعت من قبل آثارالسنن بخمس سنینن۔‘‘
ردسکین مطبوعہ ۱۳۱۲ھ کے اخیر میں یہ اعلان ہے:
’’یہ تو ظاہر ہے کہ حدیث میں پہلے بلوغ المرام یا مشکاۃ پڑھائی جاتی ہے اور ان کے مولف شافعی المذہب تھے، ان کتابوں میں زیادہ وہی حدیثیں ہیں جو مذہب امام شافعی کے مؤید اور مذہب حنفی کے خلاف ہیں، اس پر طرہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر معلم درپردہ غیر مقلد ہوتے ہیں، بے چارے اکثر طلبہ یہ ابتدائی کتابیں پڑھ کر مذہب حنفی سے بدعقیدہ ہو جاتے ہیں، پھر جب صحاح ستہ کی نوبت آتی ہے تو ان کے خیالات اور بھی بدل جاتے ہیں۔ علمائے حنفیہ نے کوئی ایسی کتاب قابلِ درس تالیف ہی نہیں کی کہ جس میں مختلف کتب احادیث کی وہ حدیثیں ہوں جن سے مذہب حنفی کی تائید ہوتی ہو، پھر بے چارے طلبہ ابتدا میں پڑھیں تو کیا اور ان کے عقائد درست رہیں تو کیوں کر۔ آخر بے چارے غیر مقلد نہ ہوں تو کیا ہوں، فقیر نے انہیں خیالات سے حدیث شریف میں آثار السنن نام ایک کتاب کی بنائے تالیف ڈالی ہے، اور ارادہ ہے کہ کتب متداولہ کے علاوہ عرب و عجم کے نایاب کتبِ احادیث سے حدیثیں انتخاب کر کے جمع کروں، اور حاشیہ پر اسناد لکھ دوں۔‘‘10
اسی سنہ میں تردید السیف چھپی تھی، اس میں اشتہار میں لکھتے ہیں:
’’بالفعل آثار السنن نام ایک کتاب حدیث شریف میں قابلِ درس بطور مشکاۃ مختلف کتبِ احادیث سے انتخاب کر کے تنقید اسانید کے ساتھ مع التعلیق الحسن علی آثار السنن میں لکھ رہا ہوں، جو حنفیہ کے لئے نہایت بکار آمد ہے، بفضلہ تعالیٰ کتاب الطہارت تمام ہو چکی ہے، کتاب الصلاۃ کے بھی اکثر ابواب لکھے جا چکے، میرا قصد ہے کہ ہندوستان کے نامی کتب خانوں مصر و روم و حجاز کی قلمی کتابوں سے بھی اس میں مدد لی جائے، امید کہ جن صاحب کے پاس حدیث شریف کی کوئی نایاب قلمی کتاب تو ہو تو اس سے مطلع فرمائیں گے، اگر مجھے ضرورت ہو گی خود پہنچ کر اس سے مستفید ہوں گا۔‘‘
اسی طرح جلاء العین مطبوعہ ۱۳۱۳ھ قومی پریس لکھنؤ کے ٹائٹل پیج صفحہ ۲ میں ہے کتاب الطہارت ختم ہو گئی، کتاب الصلاۃ بھی قریب الاختتام ہے، اور اسی رسالہ میں مولانا نیموی مرحوم لکھتے ہیں: ہر چند آثار السنن اور اس کی شرح موسوم بہ تعلیق الحسن کی تالیف کی وجہ سے مجھے اتنی مہلت کہاں کہ کوئی رسالہ لکھوں، مگر چوں کہ آج کل ایک صاحب نہایت مصر ہیں، اس لئے ناچار اپنے اوقات عزیز میں سے کچھ تھوڑا سا وقت نکال کر یہ رسالہ لکھ کے پیش کرتا ہوں، انتہی ملخصاً۔
جلاء العین کے اخیر میں آثار السنن کا تعارف ان الفاظ میں ملتا ہے:
’’آج کل ملک کی سخت ضرورت ہے کہ حدیث شریف میں کوئی ایسی کتاب قابلِ درس تالیف کی جائے جس میں مختلف کتبِ احادیث سے وہ صحیح حدیثیں جمع کی جائیں جو بیشتر صحیح اور مذہب حنفی کی موید ہوں۔ حضرات محدثین بہت کچھ تالیف کر گئے ہیں مگر افسوس اس قسم کی کتاب کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی۔ اگرچہ یہ کام سخت اہم ہے، مگر فقیر نے متوکلاً علی اللہ آثار السنن نام ایک کتاب لکھنا شروع کی ہے، جس کے ساتھ ہی عربی میں عمدہ شرح بھی لکھی جاتی ہے، جس کا نام التعلیق الحسن علی آثار السنن رکھا گیا ہے۔ کتاب الطہارہ ختم ہو گئی، کتاب الصلاۃ بھی قریب الاختتام ہے، ہر حدیث کے آخر میں بعد حوالہ مخرجین صحیح یا حسن یا ضعیف ہونے کا بھی بیان ہے، بلکہ حاشیہ میں ضروری مباحث کے علاوہ اور محدثین کی تصحیح و تضعیف بھی اکثر مواقع میں لکھی گئی ہے۔ ہندوستان کے نامی کتب خانوں کے علاوہ ان شاء اللہ تعالیٰ مصر و روم و حجاز کی قلمی کتابوں سے بھی اس میں مدد لی جائے گی۔ چوں کہ اکثر علماء کی رائے ہے کہ یہ کتاب نصابِ تعلیم میں داخل کر لی جائے، اور اکثر شائقین کو کتاب الصلاۃ ہی کا زیادہ اشتیاق ہے، لہٰذا قصد ہے کہ کتاب الصلاۃ ختم کر کے جلد اول چھپوا دی جائے۔ جس کی قیمت فی جلد … قرار پائی ہے۔‘‘
اشتہار رسالہ مجلی مطبوعہ ۱۳۱۴ھ حسبِ ذیل ہے:
’’فقیر نے متوکلاً علی اللہ آثار السنن نام ایک کتاب لکھنا شروع کی ہے، کتاب الطہارت اور کتاب الصلاۃ تمام ہو گئی ہے۔‘‘
ان عبارتوں سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ انہوں کب اس کا آغاز کیا اور کب پہلی جلد تکمیل کو پہنچی۔ اس کی اشاعت کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
اس سلسلہ میں حضرت علامہ نیموی کے خوابوں کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے جو انہوں نے اپنی کتاب آثار السنن اور عمدۃ العناقید میں ذکر کئے ہیں، اور اس کتاب کی تصنیف کی مناسبت ہی سے ذکر کئے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بہرحال ان کے اس کام میں تائید الہی اور دعائے نبوی شامل رہی ہے۔
التعلیق الحسن علی آثار السنن میں لکھتے ہیں:
’’انی رایت ذات لیلۃ فی المنام انی احمل فوق راسی جنازۃ النبی علیہ الصلاۃ والسلام فعبرت ہذہ الرؤیا الصالحۃ بان اکون حاملا لعلمہ ان شاءاللہ العلام ثم شمرت عن ساق الجد واشتغلت بالحدیث حتی وفقنی اللہ تعالی لتالیف آثارالسنن‘‘11
عمدۃ العناقید میں تحریر فرماتے ہیں
’’تشرفت ذات لیلۃ فی المنام برؤیۃ النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم رایتہ جالسا علی السریر وبجانبہ امراۃ بیضاء کالبدر المنیر فقال لی علیہ الصلاۃ والسلام انکحنی ہذہ المراۃ ذات الاکرام فذہبت الیہا وقلت لہا قد انکحتک النبی علیہ الصلاۃ والسلام فقالت قبلتہ بما حصل لہا من النعم فقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وطلبنی وذہب الی حجرۃ فذہبت علی اثرہ ودخلت فاستیقظت۔‘‘
ان کے فرزند مولانا فوقانی اس کی تاویل میں لکھتے ہیں:
’’لعل امراۃ بیضاء فی التاویل ہی الاحادیث الصحیحیۃ الواقعۃ فی سنن الآثار وقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم انکحنی ہذہ المراۃ اشارۃ الی ان نسبتہا الیہ صحیحۃ، والذہاب علی اثرہ والدخول فی حجرتہ والاستیقاظ بعدہ ان وفاۃ المؤلف قریب منہ، وکان الامر کذلک لانہ قد مات بعد رؤیتہا فی مدۃ یسیرۃ، ہذا ما خطر ببالی واللہ اعلم۔‘‘12
حضرت نیموی نے اپنی یادگار وطن میں اپنے حالات کے اخیر میں بھی اسی طرح کے خوابوں کا ذکر کیا ہے، لکھتے ہیں:
’’ایک دفعہ وعظ میں ایک نعتیہ شعر پڑھنے کا اتفاق ہوا، جس نے عجب مزا دیا، میں بھی نعت شریف میں ایک فارسی قصیدہ کہنا شروع کیا، جس شب کو میں نے تمام کیا خواب میں دیکھا کہ جناب رسالت مآب ﷺ مکہ معظمہ سے ہجرت کر کے ابھی مدینہ طیبہ تشریف لائے ہیں اور ایک جماعت میں رونق افروز ہیں، اور میں بھی جماعت میں شریک ہوں، اٹھ کر آپ سے ایک مسئلہ پوچھنے کا قصد کیا کہ آپ کی آنکھیں کھل گئیں، رویت پر شکر بجا لایا، اور بیداری پر سخت تاسف ہوا، اس قصیدے میں ایک شعر یہ بھی تھا
نقاب خویش بکشائی بخواہم جلوہ فرمائی
جمال پاک بنمائی کہ یابم نعمت عظمی
الحمد للہ کہ یہ شعر مقبول ہوگیا، میں نے اس قصیدے کا نام نعمت عظمی رکھا ……… اس متبرک خواب کے علاوہ میں اور رویائے صالحہ سے بھی شرف اندوز ہوا ہوں۔ ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ آں حضرت ﷺ کا جنازہ سر پر اٹھائے ہوئے ہوں، جس کی تعبیر دل نے یہ کہی کہ تو ان شاء اللہ تعالیٰ حاملِ علمِ نبوی ہوگا، اور واقعی اسی زمانہ سے مجھ کو دینیات خصوصاً حدیث شریف کا زیادہ شوق ہے، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔ ۔ ایک دفعہ خواب میں مدینہ طیبہ پہنچا، اور روضہ مبارک میں داخل ہوا، اندر چار قبریں نظر آئیں، ایک قبر حضرت عائشہ صدیقہ کی جو مربع نظر آئی اور تین قبریں مسنم دیکھیں، جن میں ایک آں حضرت ﷺ کی قبر مبارک تھی، اور دو صاحبین کی، اندر ایک پیر مرد کو جس کا چہرہ نہایت نورانی تھا، فرش بچھاتے ہوئے دیکھا، خواب ہی میں عجب سرور حاصل ہوا، اور بعد بیداری جو مسرت حاصل ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔ اللہم صل وسلم علیٰ سیدنا ونبینا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین‘‘۔13
حواشی
- ان کے حالات ان کی خود نوشت یادگار وطن میں ہیں، اس کے علاوہ ایک دو کتابیں پہلے بھی آچکی ہیں، ابھی حال میں راقم کا ایک مفصل مضمون چار قسطوں (مارچ تا جولائی ۲۰۲۵) میں ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ میں شائع ہو چکا ہے، اس کی طرف بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔
- علامہ شوق نیموی حیات وخدمات ص ۲۶۰
- حوالہ سابق
- برہان حوالہ سابق
- حکیم الامت کے آثار علمیہ مشمولہ مکاتبت سلیمان از مفتی محمد زید مظاہری، ص ۲۸۰ لکھنؤ
- حوالہ سابق
- سرمۂ تحقیق، ص ۵۶
- نزہۃ الخواطر جلد ۸ تذکرہ ظہیر احسن النیموی
- دیکھئے کتب خانہ ڈیاواں از مولانا ابوسلمہ شفیع احمد مشمولہ مضامین ابوسلمہ مرتبہ مولانا کفیل احمد ندوی کلکتہ ۲۰۲۳ء
- بحوالہ القول الحسن
- آثارالسنن ص ۲
- القول الحسن ص ۱۵۱
- یادگار وطن، ص ۱۰۰
(جاری)

