انسان عام طور پر اپنی زندگی میں تین مرحلوں سے گزرتا ہے۔ وہ اس حال میں پیدا ہوتا ہے کہ اس کی آنکھیں بند ہوتی ہیں، زبان قوت گویائی سے محروم ہوتی ہے، پاؤں میں چلنے کی طاقت نہیں ہوتی، عقل و شعور کے اعتبار سے بھی وہ ایک ناقص وجود ہوتا ہے۔ پھر قدرت کے ہاتھوں آہستہ آہستہ اس کی نشوونما ہوتی ہے، اور جب وہ بڑھتے بڑھتے جوانی کی منزل میں داخل ہو جاتا ہے تو اس کی ساری صلاحیتیں اور قوتیں عروج پر ہوتی ہیں، اس کی طبیعت میں مہم جوئی کا جذبہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات پرمشقت راستوں پر چلنے اور خطرات کے طوفانوں سے کھیلنے میں اسے لطف آتا ہے۔ پھر اللہ تعالی کی طرف سے اس کی تمام قوتوں اور صلاحیتوں میں انحطاط شروع ہوتا ہے، جس شخص کو کل دوڑنے، بھاگنے اور کود پھاند کرنے میں مزہ آتا تھا، اب وہ دو قدم چلنے میں کسی انسان یا لاٹھی کا محتاج ہوتا ہے۔
گویا ایک طرح سے پھر اس کا بچپن لوٹ آتا ہے اور اس کی انتہا اپنی کیفیت کے اعتبار سے اس کی ابتدا کے ہم پایہ نظر آتی ہے، لیکن عمر کے ان دونوں مرحلوں میں فرق یہ ہے کہ بچہ پورے خاندان کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے والدین، دادا، دادی، نانا اور نانی میں محبت و شفقت کے جو غیر معمولی جذبات رکھے ہیں، اس کے تحت اسے سب کی چاہت حاصل ہوتی ہے، لیکن بوڑھوں اور معذوروں کو یہ توجہ حاصل نہیں ہوتی۔ اور بدقسمتی سے موجودہ دور میں یہ بے توجہی بڑھتی ہی جا رہی ہے، کیونکہ اس وقت دنیا پر مغربی تہذیب کا بول بالا ہے اور اس تہذیب کی بنیاد خود غرضی اور مفاد پرستی ہے۔ جس شخص سے مستقبل میں کوئی غرض وابستہ نہ ہو اسے بوجھ تصور کیا جاتا ہے، اسی لیے بوڑھے ماں باپ اور خاندان کے معذور افراد تکلیف دہ بے توجہی کا شکار ہیں۔ خاص کر اگر اولاد میں اللہ کا خوف نہ ہو تو والدین ایک بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔
والدین سے حسنِ سلوک کی اسلامی تعلیمات
قرآن مجید میں اللہ نے یہ حکم دیا کہ ’’جب والدین میں سے کوئی بڑھاپے کو پہنچ جائے تو انھیں اف بھی نہ کہو اور نہ ان کو جھڑکو، بلکہ ان سے نرم گفتگو کیا کرو۔‘‘ (سورۃ الاسراء: ۲۴) مقصد یہ کہ کوئی بھی ایسا کلمہ ان کی شان میں زبان سے مت نکالو جس سے ان کی تعظیم میں فرق آتا ہو، یا جس کلمہ سے ان کے دل کو رنج پہنچتا ہو۔
حضرت مجاہدؒ سے نقل کیا گیا ہے کہ اگر وہ بوڑھے ہو جائیں اور تمہیں ان کا پیشاب پاخانہ دھونا پڑ جائے تو کبھی اف بھی نہ کرو، جیسا کہ وہ بچپن میں تمہارا پیشاب پاخانہ دھوتے رہے ہیں۔ (الدر المنثور: ۵/۲۲۴)
علامہ جصاص رازیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ہشام بن عروہؒ نے اس آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ والدین کی ہر جائز خواہش اور چاہت پوری کر لیا کرو: ’’و قال ھشام بن عروہ عن أبیہ واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ: قال لا تمتنعھا شیأ یریدانہ۔‘‘ (احکام القرآن للجصاص: ۲۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص ذلیل و خوار ہو، وہ شخص ذلیل و خوار ہو، وہ شخص ذلیل و خوار ہو (تین مرتبہ یہ بد دعا فرمائی) عرض کیا گیا: کون؟ یارسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جس نے اپنے ماں باپ دونوں کو یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا، پھر ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوا۔ (مسلم، کتاب البر والصلۃ، ج: ۲، ص: ۳۱۴)
اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے امام نوویؒ فرماتے ہیں: ’’وقال النوویؒ: معناہ أن برہما عند کبرہما وضعفہما بالخدمۃ والنفقۃ وغیر ذلک سبب لدخول الجنۃ، فمن قصر فی ذلک فاتہ دخول الجنۃ۔‘‘ (مرقات،ج:۷، ص:۳۰۸۰) والدین کے ساتھ حسن سلوک یہ ہے کہ ان کے بڑھاپے اور کمزوری کے زمانے میں ان کی خوب خدمت کی جائے اور ان کے مکمل اخراجات اٹھائے جائیں اور یہی چیز جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔ ان کی خدمت اور اخراجات میں غفلت اور کوتاہی سے کام لینا جنت سے محرومی کا ذریعہ ہے:
شریعت نے جتنا زیادہ بوڑھوں کے حقوق پر زور دیا ہے اور اس کی طرف توجہ دلائی ہے، افسوس کہ اتنا ہی زیادہ ان کے حقوق سے بے توجہی برتی جاتی ہے۔ اور ان کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جاتا ہے کہ گویا وہ زائد از ضرورت کوئی شئے ہے۔ آج شاید یہ سب سے زیادہ مظلوم طبقہ ہے، جن کے حقوق کے لیے کوئی آواز اٹھانے والا نہیں۔ انسانی حقوق کا نعرہ لگانے والی تنظیمیں بھی اس سلسلے میں خاموش تماشائی دکھائی دیتی ہیں۔
اولڈ ایج ہاؤس (دارالمعمرین) اور اس کی شرعی حیثیت
اس پس منظر میں بوڑھے اور سن رسیدہ لوگوں کے حقوق کے سلسلے میں ایک اہم مسئلہ اولڈ ایج ہاؤس (Old Age House) کے قیام کا ہے، چنانچہ مغربی ملکوں میں عمر دراز لوگوں کے لیے ہاسٹل بنا دیئے گئے ہیں۔ اور اب پاکستان میں بھی جگہ جگہ ایسے ہاسٹل بن رہے ہیں جن میں نوجوان اپنے بزرگوں کو داخل کر دیتے ہیں۔ اس میں ایک پہلو یہ ہے کہ ان عمر دراز حضرات کو ایک جگہ اپنی ضروریات کی چیزیں مہیا ہو جاتی ہیں اور اپنے ہم عمر لوگ مل جاتے ہیں۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کی محبت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسان کی چاہت ہوتی ہے کہ اپنے بال بچوں کے درمیان رہے، اولاد اور اولاد کی اولاد کو دیکھ کر اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔
ایسے ہاسٹلوں میں ان کی یہ خواہش ایک حسرت بن جاتی ہے۔ ایسے ہاسٹلوں کے متعلق شریعت کا نقطہ نظر کیا ہے؟ نیز کوئی اپنے بزرگوں کو ایسے ہاسٹلوں میں قیام پر مجبور کر سکتا ہے یا نہیں؟
والدین کے حقوق اور خدمت کے متعلق اوپر ذکر کردہ قرآن و حدیث کے اس تاکیدی حکم سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی ہر ممکن خدمت کی جائے، ان کی منشا کا بھرپور لحاظ رکھا جائے، جس طرح وہ زندگی بسر کرنا چاہیں، ان کی خواہشات کا احترام کیا جائے۔ اس سلسلے میں پیش آمدہ دشواریوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا جائے، بلکہ خدمت کے اس موقع کو غنیمت جانا جائے اور اسے اپنے لیے سعادت اور برکت کا ذریعہ سمجھا جائے۔ اور ظاہر ہے کہ ان کی خدمت کا کامل حق تو اسی وقت ادا ہوگا جبکہ وہ اپنے اہل خانہ کے درمیان زندگی بسر کریں۔ اگر انہیں بوڑھوں کے کسی ہاسٹل میں ڈال دیا جائے گا، تو ان کی خدمت کا موقع فراہم نہ ہوگا۔ خاص کر بڑھاپے کی اس عمر میں طبیعت زیادہ خراب ہوتی ہے اور صحت روبہ زوال ہوتی ہے، خدمت و مدد کی بار بار ضرورت پڑتی ہے۔ ان کی جیسی نگہداشت ہونی چاہیے، ہاسٹل میں ویسی نہیں ہو پاتی۔
دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ مغربی تہذیب اور مغربی حیات کا بول بالا ہے جس کی موجوں نے آج معاشرتی نشیمن کو تہہ و بالا اور خاندانی نظام کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ مغربی تمدن اور تہذیب کا علمی اور نفسیاتی جائزہ لینے والے اس پر متفق ہیں کہ اس کی بنیاد خود غرضی، مفاد پرستی اور مشترکہ مادی منفعت پر ہے۔ ساری مغربی دنیا کا پورا معاشرہ ایک تجارتی کمپنی کے اصولوں پر عامل اور گامزن ہے۔ وہاں انسان صرف ایک مشین یا محض تاجر بن کر رہ گیا ہے۔ عائلی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے، نہ اخلاص نہ محبت، نہ ایک دوسرے سے کوئی ربط اور تعلق۔ یہ مغربی تہذیب کے جراثیم ہیں، جس نے انسان کو حواس باختہ کر دیا ہے، اس کے دل و دماغ پر مادیت کے پردے ڈال دیئے ہیں اور اس کے احساسات کو مردہ کر دیا ہے۔ آگے کے اقتباس سے وہاں کی تہذیب و تمدن اور وہاں رہنے والے لوگوں کی انسانیت نوازی اور اپنے والدین کے لیے جذبۂ ہمدردی کا اندازہ لگائیں۔
حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صاحب اپنے سفرنامہ ’’دو مہینے امریکہ میں‘‘ وہاں کے خاندانی حالات اور والدین و اولاد کے باہمی تعلقات کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:
’’یہاں والدین اولاد کے صرف جوان ہونے تک اپنے کو ایک حد تک ذمہ دار سمجھتے ہیں، اور درمیان درمیان میں ان بچوں کے ذہن میں یہ خیال پیدا کرتے ہیں کہ آدمی کو خود اپنی کمائی سے اپنے مصارف پورے کرنے چاہئیں۔ ان کی تعطیلات میں ان کو وقتی طور پر ملازمت کر لینے یا کوئی آمدنی والا کام کرنے کا شوق دلاتے ہیں۔ اور جیسے ہی ان کی عمر کمانے کی ہو جاتی ہے، ان کو خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ اولاد بھی بڑی ہو کر اس رویہ کا جواب اپنے خود غرضانہ رویے سے دیتی ہے کہ ہر شخص اپنی کمائی سے فائدہ اٹھائے۔ نہ کما سکتا ہو تو حکومت اس کی ذمہ داری لے یا پھر اس کی قسمت ہے، بھگتے۔ کوئی ایک دوسرے کا ذمہ دار کیسے ہو سکتا ہے، جبکہ ہر شخص کی کمائی اس کی ضرورت اور مصارف کے مطابق ہے۔ اسی سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد لوگوں کی حالت عجیب ہوتی ہے۔ اعزہ سے ملاقات، اہل تعلق کی مزاج پرسی اور ہمدردی سے وہ بالکل محروم رہتا ہے، اپنا وقت خود ہی گزارنا پڑتا ہے۔ بوڑھوں کی دلبستگی کے لیے اگر بیوی کے لیے شوہر اور شوہر کے لیے بیوی نہیں ہے، تو کوئی دلبستگی کرنے والا نہیں، بہت کسی نے کیا تو اتوار کے روز چند منٹ آکر مل گیا اور اپنے ہاتھ کچھ پھول یا گلدستے اظہار تعلق کے لیے ہدیۃ لے آیا۔‘‘ (دو مہینے امریکہ میں: ۲۵۶، ۲۵۷)
مذکورہ بالا اقتباس سے معلوم ہوا کہ ’’بوڑھوں کے ہاسٹل‘‘ مغربی نظام کا عطیہ اور غیر اسلامی و مادی فکر کا نتیجہ ہیں، جو اسلام کے عطا کردہ لازوال اور فلاحی معاشرتی نظام کے بالکل مخالف ہے، لہٰذا عام حالات میں بوڑھوں یا معذوروں کو بوجھ سمجھ کر ان کو ہاسٹل کے حوالہ کرنا اور وہاں قیام پر مجبور کرنا نہ شرعا جائز ہے اور نہ عقلا اس کی گنجائش ہے۔
البتہ ایسے بے سہارا معذور اور بوڑھے حضرات جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اور دربدر ٹھوکریں کھانے اور ادھر ادھر مارے مارے پھرنے پر مجبور ہو کر لاوارث بن گئے ہوں تو ایسی صورت میں ان کے لیے اس غرض سے ہاسٹل قائم کرنا اور اس میں ان کی ضروریات و سہولیات مہیا کرنا، تاکہ وہ اپنی زندگی کے بقیہ ایام باعزت طور پر گزار سکیں اور دربدر کی ٹھوکریں کھانے سے محفوظ رہیں، ایک مناسب اقدام معلوم ہوتا ہے، خواہ یہ ہاسٹل حکومت کی طرف سے قائم کیے جائیں یا رفاہی اور سماجی تنظیموں کی طرف سے۔
واضح رہے کہ یہ مسئلہ کا کوئی مستقل حل نہیں ہے، اصل طریقہ وہی ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے کہ ان کو گھروں میں رکھ کر ان کی خدمت کی جائے، لہٰذا بوڑھوں کے متعلق معاشرے کے ہر فرد میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ بوڑھے حضرات انسانی سماج کا عضو معطل یا اس کے لیے بار گراں یا زمین کا بوجھ نہیں ہیں، بلکہ وہ بیش قیمت سرمایہ ہیں اور ہر اعتبار سے انسانی تکریم کے مستحق ہیں، ان کی خدمت اپنی سعادت سمجھ کر کی جائے۔
مجبوری کی صورت میں معذور اور بوڑھے حضرات کا ہاسٹل کی طرف منتقل ہونے کی مختلف صورتیں اور ان کے احکام کا خلاصہ ملاحظہ کیجئے:
- اولاد گھر میں موجود ہو اور بوڑھے ماں باپ کی خدمت کرنے میں کوئی دقت نہ ہو، نیز ان کو گھر میں رہنے کی خواہش ہو تو ایسی صورت میں اولاد پر بوڑھے والدین کی خدمت واجب ہے، ہاسٹل کے حوالہ کرنا جائز نہیں۔
- اولاد گھر میں موجود نہ ہو اور باپ کی خواہش گھر میں رہنے کی ہو تو اگر اولاد مستطیع ہو تو بوڑھے ماں باپ کے لیے خادم کا انتظام کرنا واجب ہے۔ ہاسٹل کے حوالہ کرنا جائز نہیں۔
- اگر گھر میں بوڑھے باپ کے ساتھ نامناسب برتاؤ ہوتا ہو اور اس کی وجہ سے وہ ہاسٹل میں منتقل ہونا چاہتے ہوں تو اولاد پر لازم ہے کہ ماحول تبدیل کریں، خوشگوار فضا بنائیں اور بوڑھے باپ کو راحت پہنچائیں اور انہیں ہاسٹل منتقل نہ ہونے دیں۔
- اگر اولاد معاشی مجبوری یا کسی اور حقیقی مجبوری کی وجہ سے یا تنگ دستی کی بنیاد پر خادم نہیں رکھ سکتی ہو، یا اولاد ہی نہ ہو اور دوسرے رشتہ دار صحیح خدمت نہیں کر پا رہے ہوں تو پھر ان کے لیے ہاسٹل منتقل ہونے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
آخر میں اس بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ نوجوان نسل میں یہ شعور اور احساس پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ عمر ڈھلنے اور شباب رخصت ہونے کے بعد ان کو بھی اس تلخ حقیقت اور دشوار مرحلہ سے گزرنا ہے، اس لیے وہ اپنے بوڑھوں اور بزرگوں کی خدمت اور اطاعت کریں۔ نیز ان کے ساتھ ہمدردی اور محبت و تعلق کا ایسا نمونہ پیش کریں، جس سے خوشگوار فضا قائم ہو اور آنے والی نسل ذہنی و فکری طور پر اپنے بوڑھوں کی خدمت کے لیے خوش دلی سے آمادہ رہے۔

