کل، 3 دسمبر 2025ء کو، شعبۂ شریعہ و قانون، شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام ہم نے 27 ویں آئینی ترمیم پر وکلا اور قانون کے اساتذہ کی گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا۔
پروگرام کا آغاز قرآن مجید کی سورۃ العصر کی تلاوت سے کیا گیا جس میں تیزی سے گزرتے وقت کی گواہی پیش کر کے یہ حقیقت ثابت کی گئی ہے کہ انسان خسارے میں ہے، سواے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، اچھے کام کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو سچائی اور ثابت قدمی کی نصیحت کرتے رہے۔ اس کے بعد میں نے موضوع کا تعارف پیش کرتے ہوئے یاد دہانی کی کہ آئین پر چونکہ ملک کا سارا نظام چلایا جاتا ہے اور چونکہ قوم کی فلاح و بہبود اور مستقبل کا انحصار آئین کی تعبیر پر ہوتا ہے، اس لیے یہ بہت حساس معاملہ ہوتا ہے۔ اس ضمن میں میں نے امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان مارشل کے اس مشہور جملے کا حوالہ دیا جو انھوں نے 1819ء میں ’مک کلوچ بنام میری لینڈ‘ مقدمے میں لکھا تھا: ’’ہمیں ہر گز یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ جس کا مفہوم ہم متعین کر رہے ہیں وہ (کوئی عام قانون نہیں بلکہ) آئین ہے۔‘‘ میں نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ امریکی آئین میں 239 سالوں میں 27 ترامیم کی گئی ہیں، جبکہ ہم نے 27 ترامیم کا ہدف 52 سالوں میں ہی حاصل کر لیا ہے۔
27 ویں ترمیم کے متعلق پاکستانی معاشرے میں اٹھائے گئے سوالات میں موجودہ پارلیمان کے متعلق اس سوال کا بھی میں نے ذکر کیا کہ فارم 45 اور فارم 47 پر تنازعے کی وجہ سے کیا موجودہ پارلیمان کو آئین میں ترمیم کا حق حاصل بھی ہے یا نہیں؟ اس بات پر بھی میں نے خصوصاً بات کی کہ اس ترمیم میں جتنی دور رس نتائج کی حامل تبدیلیاں لائی گئی ہیں، ان کا تقاضا یہ تھا کہ اس ترمیم سے قبل عوامی سطح پر تفصیلی مباحثہ ہوتا اور پارلیمان میں بھی اتنا غور و فکر کیا جاتا جتنا 18 ویں ترمیم کے موقع پر سینیٹر رضا ربانی صاحب کی سربراہی میں کام کرنے والی کمیٹی نے کیا تھا۔
تیسرا سوال میں نے یہ پیش کیا کہ کیا یہ ترمیم محض ایک ترمیم ہے یا یہ نئی آئین سازی کی گئی ہے اور اگر یہ نئی آئین سازی ہے، تو کیا پارلیمان کو، جو کہ آئین کی پیداوار ہے، نئی آئین سازی کا اختیار حاصل ہے؟ اس ضمن میں میں نے اس تنازعے کا ذکر کیا جو ہمارے قانونی حلقوں میں پایا جاتا ہے کہ کیا پارلیمان آئین میں کسی طرح کی بھی ترمیم کر سکتی ہے یا اس کے یہ اختیارات محدود ہیں؟ کیا ہمارے آئین کی کوئی ’بنیادی ساخت‘ ہے یا چند امتیازی خصوصیات ہیں جن میں تبدیلی کو ترمیم کے بجائے نئی آئین سازی کہا جائے گا؟
ایک اور اہم سوال صدر اور افواجِ پاکستان سے ’قومی سورماؤں‘ (national heros) کو قانون سے دی جانے والی غیر معمولی استثنا کی وسعت کے متعلق میں نے پیش کیا کیونکہ اس استثنا کی مثال اسلامی قانون یا تاریخ میں دور کی بات ہے، معاصر دنیا میں بھی کسی ملک میں نہیں پائی جاتی۔
یہ سوال بھی میں نے ذکر کیا کہ کیا اس ترمیم سے ہمارے وفاقی نظام پر کچھ اثر پڑا ہے اور کیا اس نئے نظام پر وفاق کی اکائیوں میں بے اطمینانی پائی جاتی ہے؟
سب سے اہم سوال عدلیہ کی آزادی کے متعلق ہے کہ کیا سپریم کورٹ سے آئینی اختیارِ سماعت چھین کر، ایک نئی آئینی عدالت قائم کر کے، جیوڈیشل کمیشن کی ساخت تبدیل کر کے اور ججوں کے ٹرانسفر اور دیگر امور سے متعلق نیا نظام تشکیل دے کر اس ترمیم نے عدلیہ کی آزادی پر قدغن لگا دیے ہیں یا یہ محض انتظامی نوعیت کی تبدیلیاں ہیں؟
میں نے بعض حلقوں کی جانب سے ذکر کیے گئے اس ’جواز‘ یا ’محرک‘ پر بھی بات کی کہ پچھلے ڈیڑھ عشرے میں عدلیہ کی جانب سے حکومت اور پارلیمان کو جس طرح دیوار سے لگانے کا کام کیا گیا، 27 ویں ترمیم دراصل اس کا ردّ عمل ہے۔ ساتھ ہی میں نے ردّ عمل کی نفسیات سے پیدا ہونے والے مسائل پر بھی توجہ دلائی کیونکہ اس طرح پہلے سے موجود مسائل حل ہونے کے بجائے نئے اور زیادہ پیچیدہ مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔
میں وکلا اور قانون کے اساتذہ کے درمیان مکالمے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ قانونی نظام کی بہتری کے لیے اس طرح کے مکالمے اور مباحثے کی اشد ضرورت ہے۔
آخر میں میں نے 27 ویں ترمیم کے متعلق اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی کمیشن کے چیئرمین کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کا متن پڑھا جس میں اس ترمیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر عطاء اللہ خان وٹو
میری تمہیدی گزارشات کے بعد ڈاکٹر عطاء اللہ خان وٹو نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور آئین کی تعریف سے بات شروع کر کے واضح کیا کہ آئین کا کام اقتدارِ اعلیٰ اور حاکمیت کو ایک فرد یا ادارے میں مرتکز ہونے سے روکنا، اسے متعدد افراد یا اداروں میں تقسیم کرنا، اور ان افراد یا اداروں کی حدود متعین کرنا ہے۔ اسی لیے جن ممالک میں بھی تحریری آئین موجود ہیں، ان میں ’اختیارات کی علیحدگی‘ (separation of powers) کا اصول بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کا آپس میں سرے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو کیونکہ اس طرح حکومت کا نظام ہی معطل ہو جاتا ہے۔ اس کے بجائے حکومت کی ان تینوں شاخوں کو آئین میں ایک دوسرے پر نظر رکھنے اور ایک دوسرے کی طاقت کو متوازن کرنے (checks and balances) کا بندوبست بھی ہوتا ہے۔ اس بندوبست کا مؤثر ہونا نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہوتا ہے، لیکن جب ایک شاخ دوسری شاخ کے کام میں مداخلت کرے، تو اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے نظام میں ایک نوع کا تناؤ مستقل موجود رہتا ہے۔
ڈاکٹر وٹو نے 27 ویں ترمیم پر اس پہلو سے تنقید کی کہ اس میں ’’چیف جسٹس آف پاکستان‘‘ کے منصبِ جلیل کو بھی متاثر کر دیا ہے۔ چنانچہ ایک طرف یہ خطاب سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس کو ان کی مدتِ ملازمت تک دیا گیا، جو کسی مخصوص فرد کے لیے قانون سازی کی ایک مثال ہے، تو دوسری طرف یہ بھی طے کر دیا ہے کہ آئندہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور آئینی عدالت کے چیف جسٹس جو سینیئر ہو، تو وہ اس خطاب کا مستحق ہوگا۔ انھوں نے جیوڈیشل کمیشن کے رکن کے لیے ’ٹیکنو کریٹ‘ کی تعریف پر بھی اعتراض کیا جس میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ اس نے 16 سال کی تعلیم حاصل کی ہو۔ انھوں نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اس تعریف نے علماء کو ٹیکنو کریٹ کی تعریف سے خارج کر دیا ہے کیونکہ درسِ نظامی کا دورانیہ 8 سال پر مشتمل ہوتا ہے۔
سید احمد حسن شاہ
ان کے بعد سید احمد حسن شاہ، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، نے تفصیل سے اظہارِ خیال کیا۔ انھوں نے پہلے ’گول میز‘ کے تصور کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہر کوئی مختلف زاویوں سے بات کر سکتا ہے اور مقصود غور و فکر کی دعوت دینا ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’مباحثہ‘ (debate) کی باری اس کے بعد آتی ہے جس میں کوئی اس ترمیم کے خلاف اور کوئی اس کے حق میں خلاف بولتا ہے؛ اور ’دستاویزِ عمل‘ (working paper) سب سے آخر میں آتی ہے جس میں مستقبل کے لیے لائحۂ عمل بنایا جاتا اور تجاویز و سفارشات پیش کی جاتی ہیں۔ انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے ہاں آئینی امور پر گفتگو کا معیار بہت گر گیا ہے جس کے لیے اقبال کی اصطلاح ’بد آموزی‘ استعمال کی۔
ترامیم کی تعداد کے مسئلے پر انھوں نے کہا کہ ہر ملک اپنے حالات کے مطابق کم یا زیادہ ترامیم کرتا ہے، مثلاً بھارت اب تک 106 اور جرمنی 66 ترامیم کر چکا ہے، جبکہ جاپان نے ایک بھی ترمیم نہیں کی۔ انھوں نے پاکستان کے آئین کے حوالے سے ان تین ترامیم کا بھی ذکر کیا (نویں، گیارھویں اور پندرھویں) جو آئین میں مذکور طریقِ کار پورا نہ ہونے کے سبب سے نافذ نہیں ہو سکیں اور اس وجہ سے انھیں گنتی سے خارج کیا جائے، تو ہمارے پاس 24 ترامیم بچتی ہیں۔ انھوں نے خصوصاً نویں ترمیم کا حوالہ دیا جس میں قرار دیا گیا تھا کہ قرآن و سنت کو ملک کے سب سے بالاتر قانون کی حیثیت حاصل ہوگی۔ اس ترمیم کو سینیٹ نے منظور کیا تھا، لیکن قومی اسمبلی سے اس کی منظور نہیں ہو سکی کیونکہ وہ اس وقت تحلیل ہو چکی تھی۔ پندرھویں ترمیم بھی اس موضوع پر تھی، لیکن اسے پارلیمان کے کسی بھی ایوان سے منظوری سے قبل ہی واپس لے لیا گیا تھا۔
27 ویں ترمیم کا تجزیہ کرتے ہوئے انھوں نے ذکر کیا کہ اس ترمیم کے ذریعے کل 55 تبدیلیاں لائی گئی ہیں جن میں کچھ کا تعلق عدلیہ سے، کچھ کا مسلح افواج سے اور کچھ کا صدر اور قومی سورماؤں کے لیے استثنا کے ساتھ ہے۔ استثنا کے مسئلے پر انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جب اس کے مفہوم اور حدود پر آئینی عدالت میں بحث آئے گی، تو ملک کے اعلیٰ آئینی و قانونی دماغ اس پر تفصیلی بحث کے ذریعے اس کی نوک پلک سنوار لیں گے۔
سب سے زیادہ تنقید عدلیہ میں لائی جانے والی تبدیلیوں پر کی جاتی ہے، لیکن اس ضمن میں انھوں نے واضح کیا کہ 1996ء میں ’ججز کیس‘ کے فیصلے کے ذریعے سپریم کورٹ نے یہ قرار دے کر کہ ججوں کی تعیناتی میں چیف جسٹس کے ساتھ ہونے والی مشاورت کا ’بامعنی‘ ہونا ضروری ہے، معاملہ اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ 2010ء میں پارلیمان نے 18 ویں ترمیم کے ذریعے جیوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کر کے انھیں اس معاملے میں بااختیار کیا اور توازن کو پارلیمان کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کی، تو سپریم کورٹ اس کی راہ میں حائل ہو گئی اور مجبوراً پارلیمان کو 19 ویں ترمیم کرنی پڑی، جس کے بعد پارلیمانی کمیٹی کی حیثیت محض ربر سٹیمپ کی حد تک رہ گئی اور کنٹرول پھر عدلیہ نے لے لیا۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ 1996ء سے 2024ء تک جب ’عدلیہ کی آزادی‘ کے عنوان سے عدلیہ میں تعیناتیاں خود عدلیہ ہی کرتی تھی، تو کیا اس سے نظام میں کچھ بہتری لائی جا سکی تھی؟
انھوں نے اس نکتے پر بھی زور دیا کہ اصل اہمیت تعیناتی کرنے والے فرد یا فورم کی نہیں، بلکہ تعینات کیے جانے والے افراد کی ہوتی ہے۔ اگر جج خود آزاد ہوں اور وہ قانون پر عمل کرتے ہوئے منصفانہ فیصلے دیں، تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ان کی تعیناتی کس نے کی تھی؟ انھوں آمروں کے دور میں تعینات کیے گئے بعض ججوں کی مثالیں بھی دیں جو اپنے فیصلوں کی وجہ سے ملک کے مایہ ناز ججوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر عزیز الرحمان
پروفیسر ڈاکٹر عزیز الرحمان صاحب نے پہلے تو ٹاک شوز، میڈیا اور معاشرے میں عمومی طور پر 27 ویں ترمیم کے متعلق جاری بحث کے معیار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم آئینی اور قانونی اصولوں کے تجزیے کے بجائے سیاسی نعروں اور جذباتی تقریروں کے ذریعے تعصبات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ انھوں نے راؤنڈ ٹیبل کے انعقاد پر شعبۂ شریعہ و قانون، شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بحث کو ایک اور زاویے سے اٹھایا اور اس طرف توجہ دلائی کہ پچھلے ڈیڑھ عشرے سے سیاسی امور میں عدلیہ کے بہت زیادہ متحرک ہونے کی بنا پر ہمارے ہاں بات ’قانونی دستوریت‘ (legal constitutionalism) سے ’سیاسی دستوریت‘ (political constitutionalism) کی طرف چلی گئی تھی جس نے عدلیہ کو بھی سیاسی رنگ دے دیا تھا۔ انھوں نے کارل شمٹ کے منہجِ فکر کو بنیاد بنا کر عدلیہ و مقننہ کے درمیان جاری کشمکش کا تجزیہ کیا اور یہ اہم نتیجہ نکالا کہ پاکستان میں آئین کسی عمرانی معاہدے کا نہیں، بلکہ اشرافیہ اور طاقت کے ستونوں کے درمیان سمجھوتے کا نام ہے اور ہر کچھ عرصے بعد طاقت کے توازن میں تبدیلی کے بعد اس سمجھوتے میں تبدیلی ہو جاتی ہے۔
جناب جاوید اقبال بانڈے
جناب جاوید اقبال بانڈے نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے آئین کی کچھ امتیازی خصوصیات (salient features) ہیں جنھیں ترامیم کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کو تبدیل کرنے کا مطلب نئی آئین سازی ہے، اور نئی آئین سازی کا اختیار اس پارلیمان کو حاصل نہیں ہے جو خود موجودہ آئین کی پیداوار ہے۔ ان امتیازی خصوصیات میں انھوں نے اسلامیت، وفاقیت، پارلیمانی حکومت، اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد عدلیہ کا ذکر کیا۔ انھوں نے 27 ویں ترمیم میں مقرر کیے گئے اس اصول پر بھی تنقید کی کہ سپریم کورٹ کے نظائر کی پابندی وفاقی آئینی عدالت پر لازم نہیں ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ نظائر کی پابندی ہمارے نظام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے خاتمے سے بہت سنگین مسائل پیدا ہوں گے۔ سب سے اہم بات انھوں نے یہ ذکر کی کہ 27 ویں ترمیم کے ’اسباب‘ پر بات بھی ضروری ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ اس ترمیم کے ’مقاصد‘ پر بات کی جائے کیونکہ اس teleological perspective سے ہی اس ترمیم کے دور رس نتائج کا صحیح ادراک ممکن ہوگا۔ انھوں نے خصوصاً اس پہلو کی نشاندہی کی کہ عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان توازن میں اب انتظامیہ کا پلڑا بہت بھاری ہوگیا ہے۔
ڈاکٹر عدنان خان
ڈاکٹر عدنان خان نے گفتگو کا آغاز اس بات سے کیا، لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے آئین میں اتنی ترامیم کی ہیں، تو سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ ترامیم ’ہم‘ نے کی ہیں؟ انھوں نے کہا کہ یہ دعویٰ تو وہ ارکانِ پارلیمان بھی نہیں کر سکتے جنھوں نے 27 ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ انھوں نے بحث میں اس بات کا بھی اضافہ کیا کہ 27 ویں ترمیم کی درست تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ اسے 26 ویں ترمیم اور اس سے قبل سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ کے ساتھ اور ان کے تسلسل میں دیکھا جائے کیونکہ عدلیہ پر تسلط کا آغاز وہاں سے ہوا۔
انھوں نے ایک اہم نکتہ یہ ذکر کیا کہ ان کی رائے میں 27 ویں ترمیم نہ ہی محض ترمیم ہے، اور نہ ہی محض نئی آئین سازی، بلکہ اس نے ہمارے آئینی نظام کو یکسر ختم کر دیا ہے۔ اس کی وضاحت میں انھوں نے کہا کہ اگر دیوانی قانون سے ڈگری کے اجرا، یا فوجداری قانون سے ایف آئی آر اور شکایت کے اندراج کی دفعات ختم کر دی جائیں، تو چاہے باقی سارے دیوانی قوانین اور فوجداری قوانین موجود رہیں، دیوانی اور فوجداری نظامِ انصاف باقی نہیں رہے گا۔ اسی طرح آئین کے نفاذ کے لیے ہائی کورٹ کے پاس دفعہ 199 اور سپریم کورٹ کے پاس دفعہ 184 کے تحت اختیارات تھے اور جب انھی اختیارات پر ڈاکا پڑا، تو باقی آئینی دفعات کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
انھوں نے مزید ذکر کیا کہ 27 ویں ترمیم کے ذریعے ہمارے وفاقی نظام کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے کیونکہ اب صوبوں میں موجود اعلیٰ عدلیہ (ہائی کورٹ) کو مرکزی عدلیہ کے ماتحت عدلیہ کی حیثیت دے دی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل ہمارے عدالتی نظام میں سپریم کورٹ کو یہ اختیار تو حاصل تھا کہ وہ ہائی کورٹ کے کسی فیصلے کو اپیل میں تبدیل یا ختم کر دے، لیکن ہائی کورٹ کے انتظامی امور یا اندرونی امور یا ہائی کورٹ کے ماتحت ضلعی عدلیہ پر سپریم کورٹ کو کوئی انتظامی اختیار حاصل نہیں تھا۔ انھوں نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی جبری ریٹائرمنٹ کے طریقے وضع کرنے پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ ایک جانب چیف جسٹس کے عہدے پر تعیناتی کے لیے ترغیب (incentive) مقرر کرنا اور دوسری جانب حکومت کے لیے ناپسندیدہ ججوں کو ٹرانسفر کرنے اور جبری ریٹائر کرنے کا اختیار تخلیق کر کے عدل و انصاف کے نظام کو تلپٹ کر کے رکھ دیا گیا ہے۔
(جاری)

