مجلس اتحاد امت پاکستان کا اعلامیہ اور مطالبات

مجلس اتحادِ امت پاکستان کے زیرِ انتظام تمام مکاتبِ فکر اور دینی تنظیموں کا مشاورتی و علمی نمائندہ اجتماع منعقدہ یکم رجب 1447ھ مطابق 22 دسمبر 2025ء بروز پیر، کراچی کا اعلامیہ اور مطالبات ’’الخیر میڈیا سیل‘‘ اور ’’مدارس نیوز‘‘ کے شکریہ کے ساتھ یہاں پیش کیے جا رہے ہیں۔ (ادارہ الشریعہ)

اعلامیہ

تمام مکاتبِ فکر کے علماء اور مختلف دینی جماعتوں اور تنظیموں کا یہ اجتماع مندرجہ ذیل امور پر مکمل اتفاقِ رائے رکھتا ہے:

(1) آئینِ پاکستان دفعہ 277 کی رو سے حکومت پر لازم ہے کہ وہ ملکی قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنائے اور کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہ بنائے۔ اس غرض کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی مکمل سفارشات تیار کی ہوئی ہیں۔ آئین کی رو سے ان کو پارلیمنٹ میں پیش کر کے ان کے سلسلے میں قانون سازی حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن افسوس ہے کہ سالہا سال گزرنے کے باوجود اب تک انہیں پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔ یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ نفاذِ شریعت کو اولیت دے اور یہ سفارشات پارلیمنٹ میں پیش کر کے ان کے مطابق قانون سازی کی جائے۔

(2) ملک میں اسلامی قوانین کے جاری اور غیر اسلامی قوانین کے خاتمے کے لیے مؤثر ترین ادارہ ’’وفاقی شرعی عدالت‘‘ اور سپریم کورٹ کی ’’شریعت اپیلٹ بینچ‘‘ ہے۔ آئین کی رو سے وفاقی شرعی عدالت میں تین علماء جج ہونے چاہئیں، لیکن عرصہ دراز سے یہ عدالت علماء ججوں سے خالی ہے، نیز شریعت اپیلٹ بینچ میں بھی علماء کی موجودگی ایک سوالیہ نشان ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان عدالتوں کی طرف رجوع کی شرح بہت کم ہو گئی ہے۔ یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ آئین کے مطابق علماء ججوں کا تقرر یقینی بنایا جائے۔

(3) آئین کی چھبیسویں ترمیم کا یہ ایک مستحسن فیصلہ تھا کہ ملک سے ربا (سود) کے مکمل خاتمے کے لیے ایک معین مدت مقرر کر دی گئی تھی جو 31 دسمبر 2027ء کو ختم ہو رہی ہے، اور یکم جنوری 2028ء سے سودی نظام کو مکمل ختم کر کے اسلامی مالیاتی اور بینکاری نظام کو نافذ کرنا تھا۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک سے تمام بینکوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ مذکورہ مدت میں اپنے تمام مالی معاملات کو سود سے پاک کر لیں۔

لیکن اس دوران اس مبارک عمل کو سبوتاژ کرنے اور رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ باوثوق ذرائع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ وزارتِ قانون کی طرف سے ایک یادداشت تیار کی گئی ہے جس میں ان بینکوں کو اس حکم سے مستثنیٰ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جن میں غیر ملکی افراد کی حصہ داری (شیئر ہولڈنگ) ہے۔ اور باوثوق ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بڑے بینکوں کی اکثریت کو استثناء دے بھی دیا گیا ہے۔ اس استثناء کی وجہ اس تحریر میں یہ بتائی گئی ہے کہ کچھ بین الاقوامی معاہدات کا یہی تقاضا ہے۔

ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کو برتری حاصل ہے اور جو کوئی غیر ملکی کمپنی پاکستان میں کام کرتی ہے، اسے پاکستان کے قانون کے تابع رہ کر ہی کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک مسلّم اصول ہے کہ بین الاقوامی معاہدات جب تک پارلیمنٹ کے ذریعے قانون نہ بن جائیں، انہیں دستور اور قانون پر بالاتری حاصل نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہ عذر کسی طرح قابلِ قبول نہیں ہے اور یہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ سے جنگ جاری رکھنے کے مترادف ہے۔

ان حالات میں یہ اجتماع متفقہ طور پر یہ مطالبہ کرتا ہے کہ دستور میں سود ختم کرنے کی جو مدت مقرر کی گئی ہے اس پر لفظاً و معناً‌ مکمل طور سے عمل کیا جائے۔

(4) حال ہی میں دستورِ پاکستان میں ستائیسویں ترمیم انتہائی عجلت میں منظور کی گئی ہے۔ اس ترمیم میں متعدد امور عدلیہ کی آزادی پر قدغن کے حکم میں ہیں، لیکن ایک بات قرآن و سنت سے صراحتاً متصادم ہے اور وہ یہ کہ صدرِ مملکت اور افواجِ پاکستان کے بعض اعلیٰ مناصب پر فائز افراد کو نہ صرف ان کی مدتِ کار میں بلکہ تاحیات ہر قسم کی فوجداری کارروائی سے استثناء دیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے کام چھوڑنے کے بعد بھی زندگی بھر وہ ہر قسم کے جرم کی باز پرس سے آزاد رہیں گے۔ یہ استثناء قرآن کریم کے بالکل خلاف ہے جس نے یہ دو ٹوک ہدایت عطا فرمائی ہے کہ:

یا ایہا الذین آمنوا کونوا قوامین بالقسط شہداء للہ ولو علیٰ انفسکم او الوالدین والاقربین (النساء: 135)
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! انصاف قائم کرنے والے بنو، اللہ کی خاطر گواہی دینے والے، چاہے وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف پڑتی ہو، یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔‘‘

شعارِ نبوت تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ بدر میں عین حالتِ جنگ میں خود اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کیا، خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے عہد میں اپنے آپ کو عدالت میں فریقِ ثانی کے ساتھ مساوی حیثیت میں پیش کر کے بلا امتیاز اور شفاف عدل کا نمونہ پیش کیا۔

ہم اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ ’’بنیان مرصوص‘‘ کے معرکہ میں کامیابی پر افواجِ پاکستان مبارک باد کی مستحق ہیں لیکن ان کے اعلیٰ مناصب کو استثناء دینا ان کے مناصبِ جلیلہ کے شایانِ شان نہیں ہے بلکہ کردار پر دھبہ لگانے کے مترادف ہے۔

بفضلہ تعالیٰ ہمارا آئین سن 1973ء سے تمام حلقوں کی طرف سے متفقہ چلا آ رہا تھا، ستائیسویں ترمیم کی بنا پر آئین کو بھی متنازع بنا دیا گیا ہے، لہٰذا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ اس ترمیم کو منسوخ کیا جائے، یا قومی مشاورت اور پارلیمنٹ کے اتفاق سے دستورِ پاکستان کی روح کے مطابق ڈھالا جائے، کیونکہ دستور کسی قوم و ملت کا اجماعی میثاق ہوتا ہے۔

(5) جون 2025ء میں اسلام آباد دارالحکومت کے علاقے کے لیے ایکٹ نمبر 11 نافذ کیا گیا ہے، اس میں اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کے نکاح کرنے، کرانے، اور نکاح پڑھانے کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے، اور اس کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اندیشہ ہے کہ یہ قانون تمام صوبوں سے بھی منظور کرایا جا سکتا ہے، جبکہ سندھ کی حکومت پہلے ہی ایک ایسا قانون بنا چکی ہے۔

یہ اجلاس واضح الفاظ میں قرار دیتا ہے کہ یہ قانون قرآن و سنت کے بالکل خلاف ہے۔ اسلام میں نکاح کی کوئی عمر مقرر نہیں ہے۔ بالخصوص بلوغ کے بعد، جو ہمارے ملک میں عموماً بارہ سے پندرہ سال کی عمر تک ہو جاتا ہے، کسی شخص کے لیے نکاح پر پابندی عائد کرنا موجودہ ماحول میں ناجائز تعلقات اور زنا کاری پر آمادہ کرنے کے مترادف ہے، لہٰذا اس اجلاس کا متفقہ مطالبہ ہے کہ اس وفاقی قانون اور سندھ کے پابندی کے قانون کو منسوخ کیا جائے۔

(6) ٹرانس جینڈر ایکٹ سن 2018ء میں نافذ ہوا تھا جسے وفاقی شرعی عدالت نے قرآن و سنت کے خلاف قرار دے دیا تھا، لیکن حکومت نے اس کے خلاف سپریم کورٹ شریعت اپیلٹ بینچ میں اپیل دائر کر دی جو ابھی تک زیرِ التواء ہے، جس کے نتیجے میں وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ معطل ہے، اور قانون فی الحال جوں کا توں موجود ہے۔ البتہ شنید ہے کہ پارلیمنٹ کی کوئی کمیٹی اس میں ترمیم پر غور کر رہی ہے۔

یہ اجلاس واضح الفاظ میں یہ قرار دیتا ہے کہ تخلیقی طور پر جس شخص کی جنس مشتبہ ہو، اسے اسلامی اصطلاح میں ’’خنثٰی‘‘ کہا جاتا ہے، اس کے لیے شریعت میں مفصل احکام موجود ہیں، جن میں یہ بھی داخل ہے کہ اسے معاشرے میں باعزت شہری کے طور پر تسلیم کیا جائے اور اس کی بے عزتی سے پرہیز کیا جائے۔

لیکن ’’ٹرانس جینڈر‘‘ کی اصطلاح جس معنی میں مغرب کی طرف سے گھڑی گئی ہے اس کا ’’خنثٰی‘‘ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ’’ٹرانس جینڈر‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اپنے مذکر یا مؤنث ہونے کا فیصلہ اپنی حیاتیاتی یا تخلیقی بنیاد پر نہیں، بلکہ خود اپنی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر کر سکتا ہے، یہ درحقیقت ہم جنس پرستی کو لائسنس دینے کے لیے ایک مخفی دروازہ ہے۔ مغرب نے انسان کی اصناف صرف مرد، عورت، اور خنثٰی کی حد تک محدود نہیں رکھیں، بلکہ انسان کی بہت سی اصناف بنا دی ہیں جنہیں LGBTQ کہا جاتا ہے اور ان میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، اسلامی معاشرے میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

(7) یہ اجتماع اس بات پر یقین رکھتا ہے اور علماء کی طرف سے اس کا بار بار اعلان کیا گیا ہے کہ ملک میں حالات کی اصلاح اور شریعت کے نفاذ کے لیے صرف پُر امن آئینی جدوجہد ہی واحد راستہ ہے اور اس غرض کے لیے مسلح جدوجہد نہ موجودہ حالات میں اسلام کا تقاضا ہے نہ مصلحتِ شریعت کا۔ اس وقت متعدد بیرونی طاقتیں ملک کو کمزور کرنے اور داخلی انتشار کے ذریعے اس کو تقسیم کرنے پر تلی ہوئی ہیں، ایسے حالات میں کوئی مسلح جدوجہد، چاہے وہ اسلام کے نام پر ہو یا قومیت کے نام پر، اس کا فائدہ صرف ملک دشمن عناصر ہی کو پہنچ سکتا ہے۔ لہٰذا ہم ایک بار پھر ملک میں مسلح کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں، البتہ حکومت سے بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان شورشوں کو ختم کرنے کے لیے جائز مطالبات پر عمل بھی کرے اور اس مسئلہ کو حکمت اور تدبر کے ذریعے حل کرے۔

(8) یہ اجتماع اسلامی جمہوریہ پاکستان اور امارتِ اسلامیہ افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدہ حالات پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتا ہے، یہ صورتحال دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے اور اس سے صرف اسلام دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ہم امارتِ اسلامیہ افغانستان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو ان مفسد گروہوں اور طبقات کی آماجگاہ نہ بنائے جو وہاں دستیاب سہولتوں سے فائدہ اٹھا کر پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

قوموں اور ملکوں کے مسائل باہمی مکالمے سے حل ہوتے رہے ہیں اور اب بھی اس کا قابلِ عمل اور قابلِ قبول دیرپا حل یہی ہے۔ لازم ہے کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت مل بیٹھے اور مزید کسی نقصان کے بغیر سارے مسائل کا مثبت اور قابلِ عمل حل نکالا جائے تاکہ دونوں پڑوسی برادر ممالک کے تعلقات معمول پر آئیں اور ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ دونوں ممالک کے درمیان نقل و حمل اور تجارت کا سلسلہ جاری رہے، ان میں دونوں ممالک کا فائدہ ہے۔ اور ماضی کی اچھی باتوں کو یاد رکھا جائے اور ناخوشگوار باتوں سے صرفِ نظر کیا جائے، یہی دونوں کے ملکی، ملی اور قومی مفاد میں ہے۔

(9) آج کا یہ تمام مکاتبِ فکر کا نمائندہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ دینی مدارس و جامعات کے ساتھ کیے گئے میثاق اور اس کی بنیاد پر نافذ ہونے والے قانون پر لفظاً و معناً‌ عمل کیا جائے اور اس میں نِت نئی رکاوٹیں نہ پیدا کی جائیں۔ حکومتی اداروں کے اپنے بعض اعداد و شمار کے مطابق تقریباً تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر بیٹھے ہیں، ریاست و حکومت ان کی تعلیم کا انتظام کرنے سے قاصر ہے۔ ایسے میں دینی مدارس و جامعات کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے کہ یہ اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے دینی و عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ کفالت کا بھی انتظام کرتے ہیں اور بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات ان اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ ادارے انہی علاقوں سے، جہاں آج شورش ہے، قوم کے بچوں کو لا کر پاکستان کے محبِ وطن شہری اور اچھے مسلمان بناتے ہیں، شرحِ تعلیم میں اضافہ کرتے ہیں۔

ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دینی مدارس و جامعات اپنے نظامِ تعلیم اور نصاب کے لیے پہلے کی طرح آزاد رہیں گے۔ دینی مدارس و جامعات نے کسی بھی حکومتِ وقت کے لیے نہ پہلے مسائل پیدا کیے ہیں اور نہ اب کریں گے۔ اور حکومت ان اداروں کو اپنا حریف سمجھنے کے بجائے اپنا حلیف سمجھے، کیونکہ تعلیم کا فروغ اور ملک و ملت کا مفاد ہم سب کے درمیان قدرِ مشترک ہے۔

یہ اجتماع اس بات پر افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن کا قانون بننے کے بعد بھی ان کی رجسٹریشن عملاً بند ہے اور انہیں ناشائستہ تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، حالانکہ وہ قومی خزانے پر ایک روپے کا بوجھ ڈالے بغیر لاکھوں طلبہ اور طالبات کو نہ صرف تعلیم دے رہے ہیں بلکہ ان کے ذریعے خدمتِ خلق کا کام ان جگہوں پر بھی ہو رہا ہے جہاں حکومت کی بھی پہنچ نہیں ہے۔

ہم یہ بات دو ٹوک الفاظ میں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دینی مدارس کا بنیادی کام شریعتِ حق کی تعلیم ہے، جس کے ذریعے حکومت سمیت کسی بھی حلقے کی ترغیب و تحریص یا کسی قسم کے دباؤ کے بغیر مستند اور حق گو علماء پیدا کرنا ہے۔ اس لیے ان کا اپنے نصاب و نظام میں مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ہونا ضروری ہے۔ اور دینی مدارس کسی ایسے اقدام کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوں گے جو ان کے اس بنیادی اہداف کے راستے میں رکاوٹ ہو، اور ان پر ایسے کسی نظام میں داخل ہونے پر مجبور کرنا سراسر زیادتی اور متفقہ قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ، وہ اس معاملے میں عرصے سے مزاحمت اور زبردستی پر آمادہ ہے، ملک پہلے ہی مسائل کا شکار ہے، ایسے حالات میں اس تنازعے کو پالتے رہنے سے مسائل مزید الجھیں گے اور یہ ملک کے لیے سخت مضر ہوگا۔

مدارس پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ وہ عصری تعلیم نہیں دیتے۔ اول تو اس وقت بیشتر مدارس اپنے وسائل کے تحت دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی دے رہے ہیں اور ان کے طلبہ سرکاری بورڈوں کے امتحانات میں پوزیشن لے رہے ہیں، اور جہاں اس کی کمی ہے دینی مدارس اسے خود اپنی ضرورت سمجھ کر اس کے لیے کوشاں ہیں۔ دوسرے، یہ ادارے قرآن و حدیث اور اسلامی فقہ کی تعلیم کے لیے مختص ہیں، ضروری عصری تعلیم کے بعد اگر ان کا سارا زور قرآن و حدیث اور فقہ پر ہو تو اسپیشلائزیشن کے اِس دور میں اس کی حکمت ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ کسی لاء کالج سے یہ مطالبہ کرنا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کیوں پیدا نہیں کرتا، ایک لغو مطالبہ ہے۔ لیکن ہمارا تجربہ یہ ہے کہ عصری تعلیم کا شوشہ دراصل انہیں حکومت کے ماتحت کرنے کے لیے چھوڑا گیا ہے تاکہ علماء اور اہلِ مدارس کو دینی معاملات میں حق گوئی سے روکا جا سکے۔

یہ متفقہ اجتماع واضح کرنا چاہتا ہے کہ مدارس ایسی کسی کاوش کو کسی قیمت پر قبول نہیں کریں گے۔

(10) یہ اجتماع بیت المقدس اور فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کی دل و جان سے نہ صرف حمایت کرتا ہے، بلکہ اس بات کو ہر مسلمان کا فریضہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی استطاعت کی حد تک اس مقصد کے حصول کے لیے کسی کوشش سے دریغ نہ کرے۔ اگرچہ ظاہری سطح پر جنگ بندی کا اعلان ہو گیا ہے، لیکن اسرائیل کی طرف سے بے گناہوں کو نشانہ بنانے اور ان کو امداد پہنچانے میں رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں مسلمان ملکوں سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی افواج وہاں بھیج کر حماس کو غیر مسلح کریں، متعدد مسلمان حکومتیں اس سے انکار کر چکی ہیں اور اب پاکستان پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔

یہ اجتماع پوری تاکید کے ساتھ حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے اپنی افواج کو بھیجنے سے گریز کرے اور اس سلسلے میں کسی دباؤ میں نہ آئے۔ الحمد للہ پاکستان کی افواج جذبۂ جہاد سے آراستہ ہیں اور انہیں آزادئ بیت المقدس یا آزادئ فلسطین کی کسی مقدس جدوجہد کے خلاف کھڑا کرنے کا تصور بھی قوم کے لیے ناممکن ہے۔ اس سازش سے ملک کو محفوظ بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے جس کا ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔

فہرست علمائے کرام و معزز شخصیات

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب

حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن صاحب

حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب

حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب

حضرت مولانا محمد یاسین ظفر صاحب

حضرت جناب شجاع الدین صاحب

حضرت علامہ سید ریاض حسین نجفی صاحب

حضرت مولانا سید حامد سعید کاظمی صاحب

حضرت مولانا عبد الغفور حیدری صاحب

حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب

حضرت مولانا راشد سومرو صاحب

حضرت ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر صاحب

حضرت مولانا عبد القیوم ہالیجوی صاحب

حضرت مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمٰن صاحب

حضرت علامہ ابتسام الٰہی ظہیر صاحب

حضرت امداد اللہ صاحب

حضرت مولانا عبد الحق ثانی صاحب

حضرت مولانا سعید یوسف صاحب

حضرت مولانا پیر نورالحق قادری صاحب

حضرت مولانا محمد یوسف خان صاحب

حضرت علامہ صاحبزادہ محمد ریحان امجد نعمانی صاحب

حضرت مولانا مفتی محمد طیب صاحب

حضرت قاری محمد عثمان صاحب

حضرت مولانا فضل الرحمٰن درخواستی صاحب

حضرت مولانا محمد سلفی صاحب

حضرت مولانا اعجاز مصطفیٰ صاحب

حضرت مولانا ڈاکٹر محمد زبیر اشرف عثمانی صاحب

حضرت مولانا مفتی محمد زبیر صاحب

حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عمران اشرف عثمانی صاحب

حضرت مولانا مفتی عبد الرؤف سکھروی صاحب

حضرت مولانا عبد الستار صاحب

حضرت مولانا حکیم محمد مظہر صاحب

حضرت مولانا احمد افنان صاحب

حضرت علامہ یاسر نواز صاحب

مولانا عبد الکریم عابد صاحب

علامہ سید فیاض حسین نقوی صاحب

حضرت مولانا سمیع الحق سواتی صاحب

حضرت مولانا قاضی احسان صاحب

حضرت مولانا عبد الوحید صاحب

حضرت مولانا مفتی اویس ارشاد صاحب

جناب بابر قمر عالم صاحب

حضرت مولانا قاری عبد الرشید صاحب

حضرت سید حماد اللہ شاہ صاحب

حضرت مولانا خلیل احمد اعظمی صاحب

حضرت مولانا راحت علی ہاشمی صاحب

حضرت مولانا محمد منظور مینگل صاحب

حضرت مفتی یوسف قصوری صاحب

حضرت مولانا انس عادل صاحب

حضرت مولانا محمد غیاث صاحب

حضرت مولانا ڈاکٹر خلیل احمد اعظمی صاحب

حضرت مولانا قاری اللہ داد صاحب

حضرت علامہ احمد ربانی صاحب

حضرت مولانا ڈاکٹر قاسم محمود صاحب

حضرت علامہ اکرام سیالوی صاحب

حضرت علامہ شعیب معینی صاحب

حضرت علامہ ثاقب صدیق گلستان صاحب

حضرت مولانا ضیاء الرحمٰن صاحب

حضرت نصیر الدین سواتی صاحب

حضرت مولانا قاضی احسان صاحب

حضرت مولانا عابد مبارک صاحب

حضرت مولانا مفتی جان نعیمی صاحب

facebook.com/share/1B5DnSpr3a

مطالبات

کراچی میں مختلف مسالک کے نمائندہ علماء کرام کا اہم مشاورتی علمی اجتماع منعقد ہوا جس میں قوم و ملت کے اہم ترین مسائل پر مبنی درج ذیل 10 نکاتی ایجنڈا غور و فکر کے لیے پیش کیا گیا، جس کو تمام مسالک کے علماء کرام نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ مدارس نیوز ٹیم نے دس نکاتی اعلامیہ کو مختصر الفاظ میں مرتب کیا ہے۔

نفاذِ شریعت

آئین اور دستور کی رو سے مملکتِ خداداد پاکستان میں شریعتِ اسلامیہ کے فوری نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔

سودی نظام کا خاتمہ

26 ویں آئینی ترمیم کے مطابق طے شدہ مدت کے اندر ملک سے سودی نظام کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔

استثناء کا خاتمہ

27 ویں آئینی ترمیم کے تحت دیے گئے تاحیات استثنا کو ختم کیا جائے۔

نکاح پر پابندی

18 سال سے کم عمر کی شادی کے خلاف بنائے گئے خلافِ شریعت قانون کا خاتمہ کیا جائے۔

ٹرانس جینڈر ایکٹ

موجودہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کے تحت جنس کی تبدیلی کے غیر شرعی اختیار کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔

مسلح گروہوں کی مخالف

ریاست کے اندر کسی بھی قسم کی نجی مسلح جدوجہد کی غیر مشروعیت کا اعادہ کرتے ہیں۔

پاک افغان تعلقات

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے خطرات کو مذاکرات اور باہمی بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

مسئلہ فلسطین

حماس کو غیر مؤثر کرنے، یعنی بالواسطہ اسرائیل کو تقویت پہنچانے کے لیے کسی بھی قسم کی فوج بھیجنے کی تجویز کی مکمل مخالفت کرتے ہیں۔

عدالتی و پارلیمانی اصلاحات

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اہتمام کیا جائے نیز وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعت بینچ میں مستند علمائے کرام کا تقرر عمل میں لایا جائے۔

مدارس رجسٹریشن

26 ویں آئینی ترمیم کے موقع پر منظور شدہ قانون کے مطابق دینی مدارس و جامعات کی رجسٹریشن کو یقینی بنایا جائے اور انہیں وفاقی وزارت تعلیم کے تحت رجسٹریشن کے دباؤ میں نہ ڈالا جائے۔

facebook.com/share/p/14V8KZDX996


(الشریعہ — جنوری ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جنوری ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۷)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۱)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۱)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

A Prophetic Lesson on News, Responsibility, and Restraint
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان مباحثے کا تجزیہ
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی

خدا کی زمان و مکان سے ماورائیت اور تصورِ ہمیشگی
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۲)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۱)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت کُعیبہ بنت سعد اسلمیہ رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

بیمار کی عیادت: ایک انسانی حق، ایک اخلاقی فریضہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

اولڈ ایج ہاؤس کی شرعی حیثیت
مفتی سید انور شاہ

27 ویں ترمیم پر وکلا اور قانون کے اساتذہ کا مکالمہ (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

زنا بالجبر یا زنا بالرضا؟ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ایک نظر
طاہر چودھری

حضرت پیر ذوالفقار نقشبندیؒ اور حضرت پیر عبدالرحیم نقشبندیؒ کی وفات پر اظہار تعزیت
مولانا حافظ اسعد عبید

مجلس اتحاد امت پاکستان کا اعلامیہ اور مطالبات
الخیر میڈیا سیل
مدارس نیوز

مجلس اتحادِ امت پاکستان کے متفقہ اعلامیہ کی بھرپور تائید
پروفیسر حافظ منیر احمد
پاکستان شریعت کونسل

الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام سالانہ ’’دورہ احکام القرآن و محاضراتِ علومِ قرآنی‘‘
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter