قرآن کریم محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ یہ زندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی رہنمائی کرنے والا آخری اور ابدی ضابطہ حیات ہے۔ دورِ حاضر کے پیچیدہ مسائل اور فکری یلغار کے تناظر میں علومِ قرآن کی تفہیم اور احکامِ الٰہیہ کی عصری تطبیق کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ہر سال کی طرح الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کا یہ خصوصی کورس اس سال بھی دینی مدارس کے طلبہ اور علومِ قرآن کے شائقین کے لیے ایک نادر موقع ہے کہ وہ قرآن مجید کے علمی و تحقیقی پہلوؤں سے آگاہی حاصل کریں۔ اس کورس کا بنیادی مقصد شرکاء میں قرآن فہمی کا وہ ملکہ پیدا کرنا ہے جس کے ذریعے وہ جدید دور کے چیلنجز کا علمی بنیادوں پر سامنا کر سکیں۔
نصابی مضامین
عقائد سے متعلقہ مباحث اور عصرِ حاضر
اس مضمون میں قرآنی عقائد کو جدید فلسفیانہ اعتراضات اور الحادی رجحانات کے تناظر میں پڑھایا جائے گا، تاکہ طلبہ اپنے ایمان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ دوسروں کی فکری رہنمائی بھی کر سکیں۔
احکام القرآن اور عصرِ حاضر
قرآن مجید کے قانونی اور سماجی احکامات کی دورِ حاضر کے مسائل پر تطبیق اس وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس موضوع کے مطالعہ سے شرکاء کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ قرآنی قوانین کس طرح آج کے دور میں بھی عدل و انصاف کی فراہمی کا بہترین ذریعہ ہیں۔
قرآن و سنت کا باہمی تعلق
قرآن اور سنت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اس پہلو کو اجاگر کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ ان فتنوں کا سدِ باب کیا جا سکے جو سنتِ نبوی کو قرآن سے جدا کر کے اسلامی تشخص کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
تقابلِ ادیان
دعوتِ دین کے کام کے لیے دیگر مذاہب کے بنیادی نظریات سے واقفیت ضروری ہے۔ اس مضمون کے ذریعے قرآنی نقطہ نظر سے دیگر الہامی و غیر الہامی مذاہب کا موازنہ پیش کیا جائے گا، جو مبلغین کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔
تاریخ و جغرافیہ قرآنی
قرآن میں مذکور اقوام، انبیاء اور مقامات کی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کو سمجھے بغیر بہت سے قرآنی اشارات کی تفہیم ادھوری رہتی ہے۔ یہ مضمون قرآن کے بیانیہ کو ٹھوس شواہد کے ساتھ سمجھنے میں معاون ثابت ہوگا۔
متنِ قرآن و رسمِ عثمانی
قرآن مجید کی حفاظت کا معجزہ اس کے رسمِ خط سے بھی وابستہ ہے۔ اس موضوع کے تحت متنِ قرآن کی تاریخ اور رسمِ عثمانی کی فنی و علمی حیثیت پر گفتگو کی جائے گی، جو علومِ قرآن کے ہر طالب علم کے لیے جاننا ناگزیر ہے۔
مشکلات القرآن
قرآن کریم کی وہ آیات جن کی تفہیم میں بظاہر تعارض یا ابہام محسوس ہوتا ہے، ان کی علمی و لغوی توجیہ اس مضمون کا خاصہ ہے۔ یہ مطالعہ طلبہ کے علمی ذوق کو جلا بخشنے اور تشکیک کے دروازے بند کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
علمی سرپرستی اور لائقِ صد احترام محاضرین
اس کورس کی سب سے بڑی انفرادیت حضرت مولانا ابوعمار زاہد الراشدی مدظلہ العالی کی سرپرستی ہے۔ مولانا کی علمی بصیرت اور دورِ حاضر کے مسائل پر گہری نظر محتاجِ تعارف نہیں۔ ان کی نگرانی اس کورس کو ایک خاص وقار اور اعتدال فراہم کرتی ہے۔ مزید برآں، لیکچرز دینے والے اساتذہ میں ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر، ڈاکٹر سمیع اللہ فراز، مفتی فضل الہادی، ڈاکٹر طیب عثمانی، ڈاکٹر وقار احمد اور ڈاکٹر عبد الرشید جیسے جید علماء اور محققین شامل ہیں۔ ان ماہرینِ فن کی موجودگی اس بات کی ضمانت ہے کہ شرکاء کو روایتی علم کے ساتھ ساتھ جدید تحقیقی اسلوب سے بھی روشناس ہونے کا موقع ملے گا۔
حصولِ علم کا ایک سنہری موقع
اگر آپ قرآن کریم کے معانی و مفاہیم کی گہرائیوں میں اترنا چاہتے ہیں اور اپنے اندر علمی و تحقیقی ذوق پیدا کرنے کے خواہشمند ہیں، تو یہ کورس آپ ہی کے لیے ہے۔ یہ محض چند دن کی نشستیں نہیں بلکہ علم و عرفان کے بند دروازے کھولنے کی ایک کلید ہے۔ دینی مدارس کے وہ طلبہ جو اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں یا آخری سالوں میں ہیں، انہیں اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ وہ میدانِ عمل میں اترنے سے پہلے قرآنی علوم کے جدید تقاضوں سے لیس ہو سکیں۔
کورس کا شیڈول اور انتظامی معلومات
یہ تعلیمی دورہ ۲۵ جنوری تا ۱۵ فروری ۲۰۲۶ء تک جاری رہے گا۔ پروگرام کا انعقاد الشریعہ اکادمی، ہاشمی کالونی، گوجرانوالہ کے پرسکون اور علمی ماحول میں ہوگا۔ انتظامیہ کی جانب سے تمام شرکاء کے لیے قیام و طعام کا مناسب انتظام کیا گیا ہے، البتہ شرکاء کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ موسم کی شدت کے پیشِ نظر اپنا بستر ہمراہ لائیں۔
رابطہ اور رجسٹریشن
کورس میں داخلے یا مزید معلومات کے لیے درج ذیل ذمہ داران سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
مفتی محمد عثمان جتوئی: 03015797737 ![]()
مولانا محفوظ الرحمٰن: 923246438464 ![]()
مولانا محمد عامر حبیب: 923007423383 ![]()
مولانا اسامہ قاسم: 03048832430 ![]()

