پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی قائدین نے ’’مجلس اتحادِ امت پاکستان‘‘ کے حالیہ متفقہ اعلامیہ کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعلامیہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی شعور، آئینی تقاضوں اور پاکستان کے اسلامی تشخص کا حقیقی ترجمان ہے۔ قائدین نے کہا کہ اعلامیہ میں جن قومی، دینی اور نظریاتی امور کی نشاندہی کی گئی ہے وہ وقت کی اہم ضرورت ہیں اور پوری قوم کے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی، جنرل سیکرٹری مولانا عبد الرؤف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات حافظ منیر احمد، اور دیگر قائدین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ مجلس اتحاد امت پاکستان نے آئینِ پاکستان کی اسلامی دفعات، شریعت کے نفاذ، خاندانی نظام کے تحفظ، دینی مدارس کی آزادی، قومی خود مختاری اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے حوالے سے جو واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا ہے، پاکستان شریعت کونسل اس کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
قائدین نے کہا کہ مغربی فکری یلغار، غیر اسلامی سماجی ایجنڈوں، خاندانی نظام کو کمزور کرنے کی کوششوں، اور دینی اقدار کے خلاف کسی بھی اقدام کو قوم کبھی قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی اصطلاحات اور قوانین کو مسخ کر کے غیر اسلامی نظریات مسلط کرنا ناقابل قبول ہے اور مجلس اتحاد امت پاکستان کا اس حوالے سے موقف بروقت اور قابل تحسین ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ دینی مدارس پاکستان کے نظریاتی قلعے ہیں جنہوں نے ہمیشہ قرآن و سنت، ملکی سلامتی، اور معاشرتی استحکام کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ مدارس کے نصاب، نظام اور آزادی میں کسی بھی غیر ضروری مداخلت کو پاکستان شریعت کونسل مسترد کرتی ہے، اور مجلس اتحاد امت پاکستان کے اس مطالبے کی مکمل تائید کرتی ہے کہ اصلاح کے نام پر دینی تشخص کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی جائے۔
اسی طرح انہوں نے برادر اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی ختم کر کے دانشمندی اور حکمت کے ساتھ مسئلہ حل کرنے پر بھی زور دیا۔
پاکستان شریعت کونسل کے قائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مجلس اتحاد امت پاکستان کے متفقہ اعلامیہ کو سنجیدگی سے لے، علماء و مشائخ کے مشترکہ موقف کا احترام کرے، اور آئینِ پاکستان کے اسلامی تقاضوں کے مطابق قانون سازی اور عملی اقدامات کو یقینی بنائے۔
دریں اثناء پاکستان شریعت کونسل کے رہنماؤں مولانا مفتی رویس خان ایوبی، مولانا عبدالرزاق، مولانا رشید احمد درخواستی، مولانا تنویر الحق تھانوی، مولانا شبیر احمد کشمیری، چوہدری خالد محمود ایڈووکیٹ، مولانا رمضان علوی، مولانا قاری اللہ داد، مفتی محمد نعمان پسروری، مولانا عبدالحفیظ محمدی، مولانا اسد اللہ غالب، مولانا عبد الحسیب خوستی، مولانا محمد امین، مولانا قاسم عباسی، مولانا حافظ علی محی الدین، مولانا قاری عثمان رمضان، سعید احمد اعوان، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا صاحبزادہ نصر الدین خان عمر، مفتی جعفر طیار، مولانا عطاء اللہ علوی، مولانا ڈاکٹر سیف الرحمن آرائیں، مولانا عبید الرحمٰن معاویہ، ذوالفقار گل ایڈووکیٹ، اور دیگر نے بھی مجلس اتحاد امت پاکستان کے اعلامیہ کو بروقت اور امت کے لیے رہنمائی قرار دیتے ہوئے تمام دینی جماعتوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اتحاد و اتفاق کو فروغ دیں اور پاکستان کے اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں۔

