عہدِ نبوی کی جن خواتین کا ذکر تاریخ کے صفحات میں نمایاں طور پر درج ہے، ان میں ایک نام ’’کُعَیْبہ بنت سعید/سعد اسلمیہ‘‘ ہے۔
بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ ’’کُعیبہ‘‘ ہی ’’رُفیدہ‘‘ ہیں؛ چنانچہ سمیرہ الدیب ایک عربک پورٹل ’’الجمہوریۃ آنلائن‘‘ میں لکھتی ہیں: کعیبہ بنت سعد، جو رفیدہ اسلمیہ کے نام سے مشہور ہیں، مدینہ منورہ کے قبیلۂ اسلم سے تعلق رکھتی تھیں۔
جب کہ بعض دونوں کو علاحدہ شمار کرتے ہیں، ڈاکٹر شوکت شطی کے مطابق رفیدہ اور کعیبہ دو الگ خواتین ہیں، رفیدہ طبیبہ تھیں اور سرجری میں مہارت رکھتی تھیں، جب کہ کعیبہ طبیبہ تھیں؛ لیکن سرجری میں مہارت نہیں رکھتی تھیں، انھیں نرسنگ میں مہارت تھی؛ البتہ دونوں ہی قبیلۂ اسلم سے تعلق رکھتی تھیں (تاریخ العلوم الطبیۃ، ص:۱۷۵-۱۷۶)۔
ہم یہاں پر دونوں کو علاحدہ شمار کرتے ہوئے میسر معلومات حضرت کعیبہؓ کے تعلق سے ذکر کریں گے۔
یہ ان خوش نصیب خواتین میں ہیں، جو اسلام کی کرنوں سے ہجرت سے قبل ہی منور ہوئیں اور ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت بھی کی۔ ابن سعد لکھتے ہیں: ہجرت کے بعد بیعت کی (الطبقات الکبری: ۱۰؍۲۷۶)۔
یہ عرب کی معروف طبیبہ تھیں اور جنگ کے علاوہ بھی علاج کیا کرتی تھیں۔ محمد ابراہیم سلیم لکھتے ہیں: یہ عرب کی چند گنی چنی نیک سیرت خواتین طبیبات میں سے ایک تھیں، ان کا معزز پیشہ (طب) صرف جنگوں کے مواقع تک محدود نہیں تھا (بل کہ عام دنوں میں بھی یہ جاری رہتا تھا) (نساء حول الرسولﷺ، ص: ۱۶۱)۔
ان کے لئے بھی مسجد میں خیمہ ہوا کرتا تھا، جہاں یہ مریضوں کا علاج کیا کرتی تھیں۔ ابن سعد لکھتے ہیں: یہ وہ طبیبہ ہیں، جن کے لئے مریضوں اور زخمیوں کے علاج کی خاطر مسجد میں خیمہ ہوا کرتا تھا (الطبقات الکبری: ۱۰؍۲۷۶)۔
بتایا جاتا ہے کہ حضرت سعد بن معاذؓ جب خندق کے دن زخمی ہوئے تو علاج کے لئے انھیں اِن کے ہی خیمہ میں منتقل کیا گیا، جہاں وفات تک ان کا علاج ہوتا رہا (أعلام النساء فی عالمی العرب والإسلام:۴؍۲۴۵)۔
غزوۂ خیبر میں یہ بھی ان خواتین میں شامل تھیں جنھیں رسول اللہ ﷺ نے اس غزوہ میں شرکت کی اجازت مرحمت فرمائی تھی اور نبی کریم ﷺ نے جنگ ختم ہونے کے بعد ان کی خدمات کے صلہ میں انھیں مالِ غنیمت میں سے مردوں کے جیسے حصہ عطا فرمایا۔ حافظ ابن عبد البر لکھتے ہیں: یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک تھیں؛ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں مردوں کا حصہ عطا فرمایا (الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، ص: ۹۳۵)۔
ان کی وفات کب ہوئی؟ مؤرخین کے قلم نے اس پر کچھ بھی خامہ فرسائی نہیں کی ہے، لہٰذا ہم بھی کچھ کہنے سے قاصر ہیں، رحم اللہ علی ہذہ الصحابیۃ الجلیلۃ الطبیبۃ الرائدۃ فی عالم الطب و رضی عنہا۔

