جناب عثمان عمر ہاشمیؒ کی نماز جنازہ آج ادا کی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے والد حاجی یوسف علی صاحبؒ تو شاید میری پیدائش سے پہلے وفات پا چکے تھے، لیکن عثمان ہاشمی صاحب کو بچپن سے ہی والد گرامی کے بہت قریبی حلقہ احباب میں دیکھا۔ حاجی یوسف علی صاحب کھیالی کے علاقے میں وسیع اراضی کے مالک تھے جو رفتہ رفتہ ان کی اولاد میں تقسیم ہو گئی۔ بہت سی اراضی مساجد اور دینی اداروں کے لیے وقف کی جو ان کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ ہاشمی کالونی کنگنی والا میں مدرسہ ختم نبوت اور اسی گلی میں الشریعہ اکادمی کی جگہ انھی کے خاندان کی وقف کردہ ہے۔
ہاشمی صاحب اپنے وسائل کے مطابق مخیر بھی تھے، اور انسانی بساط کی حد تک بے لوثی کے ساتھ خادمانہ مزاج بھی پایا تھا، جو ایک بہت ہی نادر امتزاج ہے۔ عموماً اصحاب وسائل حضرات دینی حلقوں میں متحرک ہوتے ہیں تو فطری طور پر پر اداروں اور تنظیموں میں نمایاں حیثیت کے بھی خواہاں ہوتے ہیں۔ ہاشمی صاحب کے ہاں یہ چیز نہ ہونے کے برابر تھی۔ شخصی تعلق بھی علماء و مشاہیر کے ساتھ ساتھ عام سادہ کارکنوں کے ساتھ یکساں مخلصانہ تھا اور جماعتی و تنظیمی سرگرمیوں میں بھی بے غرضانہ متحرک رہتے تھے۔
۱۹۹۸ یا ۱۹۹۹ میں کسی وقت وہ جامع مسجد تشریف لائے۔ باتوں باتوں میں والد گرامی نے ذکر کیا کہ کسی جگہ پر الشریعہ اکادمی کا چھوٹا سا سیٹ اپ قائم کرنے کا ارادہ ہے، لیکن ایسی جگہ کی تلاش ہے جو کسی نے ادارے کے لیے وقف کی ہو، اور قریب کوئی ایسا پلاٹ مل جائے جو ہم ذاتی رہائش کے لیے خرید لیں۔ ہاشمی صاحب نے اسی وقت کہا کہ اٹھیں اور والد گرامی کو موٹر سائیکل پر کنگنی والا بائی پاس کے قریب سرتاج فین کے عقب میں اس جگہ لے گئے جہاں ان کی خاندانی زمینیں تھیں۔ اس وقت یہاں چاروں طرف کھیت ہی کھیت تھے اور بیچ میں ایک چھوٹی سے کچی مسجد بنی ہوئی تھی جو ہاشمی خاندان کی وقف کردہ جگہ پر قائم تھی۔ ہاشمی صاحب نے کہا کہ یہ جگہ ادارے کے لیے وقف ہے اور یہاں اردگرد ساری ہماری اپنی زمین ہے، آپ ذاتی رہائش کے لیے جو بھی پلاٹ منتخب کرنا چاہیں، وہ آپ کا ہے۔
یوں اکادمی کے زیر اہتمام مسجد اور دینی ادارے کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا۔ ذاتی رہائش کے لیے جو پلاٹ خریدا گیا، اس کی قیمت اس وقت تقریباً پونے تین لاکھ روپے تھی، لیکن یکمشت ادائیگی کے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے والد گرامی نے سال میں کبھی پندرہ کبھی بیس ہزار ادا کر کے آٹھ دس سال میں ادائیگی مکمل کی اور کہیں ۲۰۰۹ء میں جا کر ہم تعمیر کا سلسلہ شروع کرنے کے قابل ہوئے۔ تعمیر کے لیے اپنا خاص مستری بھی ہاشمی صاحب نے فراہم کیا اور ساتھ ساتھ کام کی نگرانی کرتے رہے۔ جب پہلی منزل کی چھت ڈالی گئی تو وہ اس طرح خوش اور مسرور تھے جیسے ان کے اپنے مکان کی چھت ڈالی گئی ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کا بہترین صلہ اور ان سب لوگوں کی طرف سے اجر جزیل عطا فرمائے جو ان کی زندگی میں ان کے جذبہ خیر سے مستفید ہوتے رہے۔ آمین
حاجی عثمان عمر ہاشمیؒ کی وفات
نہایت افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ حضرت استادِ گرامی مولانا زاہد الراشدی صاحب کے دیرینہ رفیق، گوجرانوالہ کے بزرگ رہنما، اور الشریعہ اکادمی کی مجلسِ انتظامیہ کے فعال رکن مخدوم مکرم جناب عثمان عمر ہاشمی صاحب رضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں۔ ہاشمی صاحب مرحوم ایک طویل عرصے تک گوجرانوالہ کی مساجد، مدارس اور دینی تحریکات کے معاملات میں نہایت سرگرمی اور اخلاص کے ساتھ پیش پیش رہے۔
الشریعہ اکادمی کا ’’ہاشمی کالونی، کنگنی والا کیمپس‘‘ ہاشمی خاندان ہی کی علم دوستی اور دینی جذبے کا مرہونِ منت ہے، جو ان کے خاندان نے اکادمی کے مقاصد کے لیے وقف فرمایا۔ ان کی وفات سے گوجرانوالہ ایک مخلص سماجی و دینی رہنما اور حضرت استادِ گرامی ایک باوفا دوست سے محروم ہو گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی تمام سیاسی، سماجی، دینی اور تحریکی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرما کر مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
اعلانِ جنازہ
جمعیت علماء اسلام گوجرانولہ کے بزرگ رہنما اور جمعیت اہلِ سنت کے سرپرست جناب عثمان عمر ہاشمی صاحب رضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں۔نمازِ جنازہ بتاریخ 13 اپریل صبح 10 بجے پیپلز کالونی گوجرانواالہ قبرستان میں ادا کی جائے گی۔
مولانا زاہد الراشدی کا خراجِ عقیدت
گزشتہ روز مغرب کی نماز کے بعد الشریعہ اکادمی (کنگنی والا، گوجرانوالہ) میں اساتذہ و طلبہ کی ایک تقریب میں مولانا زاہد الراشدی نے جمعیۃ اہلِ سنت گوجرانوالہ کے سرپرست حاجی عثمان عمر ہاشمی مرحوم کی دینی و ملی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کھیالی گوجرانوالہ کا ہاشمی خاندان ہمیشہ دینی کاموں میں پیش پیش رہا ہے۔
حاجی عثمان عمر ہاشمی صاحب کے والد گرامی حاجی یوسف علی قریشی رحمہما اللہ تعالیٰ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ کے فداکار ساتھیوں میں سے تھے اور انہوں نے پوری زندگی مجلس احرار اسلام اور پھر جمعیۃ علماء اسلام کے ایک سرگرم رہنما کے طور پر گزاری ہے۔
مولانا زاہد الراشدی نے بتایا کہ ہاشمی کالونی (کنگنی والا) میں مسجد ختم نبوت اور الشریعہ اکادمی دونوں اسی خاندان کی وقف کردہ زمین پر قائم ہیں اور وہ ہمیشہ ان اداروں کی معاونت میں پیش پیش رہے ہیں۔ حاجی عثمان عمر ہاشمی اپنے والد گرامی کی روایات و حسنات کے امین رہے اور شہر میں مساجد و مدارس کے کاموں میں آخر دم تک معاونت کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ میری ان کے ساتھ رفاقت ساٹھ سال کے لگ بھگ عرصہ سے چلی آ رہی ہے اور انہوں نے دینی، مسلکی اور جماعتی کاموں میں ہمیشہ بے لوث تعاون کیا ہے۔ آج ہم ایک باوفا دوست، بزرگ راہنما اور سرگرم دینی کارکن سے محروم ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
اس سے قبل صبح دس بجے پیپلز کالونی کے قبرستان میں ان کی نماز جنازہ ان کے فرزند حاجی یاور عثمان ہاشمی صاحب نے پڑھائی جس میں مولانا زاہد الراشدی، مولانا ڈاکٹر عمار خان ناصر، مولانا عامر حبیب اور الشریعہ اکادمی کے دیگر احباب بھی شریک ہوئے۔
ہاشمی صاحب مرحوم کی یاد میں ایک نشست
جمعیت اہل السنہ والجماعہ حنفی دیوبندی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام الشریعہ اکادمی (ہاشمی کالونی کیمپس) میں بزرگ راہنما حاجی عثمان عمر ہاشمی رحمہ اللہ کی دینی اور مسلکی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت ہاشمی صاحبؒ کے بیٹے محترم یاور عثمان ہاشمی نے کی۔
مولانا مفتی نعمان احمد، مولانا جواد محمود قاسمی اور مولانا امجد محمود معاویہ نے جمعیت اہل السنہ والجماعہ حنفی دیوبندی رجسٹرڈ گوجرانوالہ کے سرپرست حاجی عثمان عمر ہاشمی صاحبؒ کی دینی، تحریکی، مسلکی اور مساجد و مدارس کی جملہ خدمات کے حوالے سے زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ الشریعہ اکادمی کے بارے میں ہاشمی صاحب مرحوم کی خدمات اور سرپرستی کے حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر عبد الرشید نے مختلف اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی نے اپنی طویل المدت رفاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے ہاشمی صاحب کی مختلف دینی امور اور شعبہ جات میں جملہ خدمات اور سرپرستی اور ہر سطح کے قابل قدر تعاون کو سراہتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے لیے مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔
تقریب میں مولانا قاری محمد ریاض، شیخ محمد امتیاز، حاجی بابر رضوان باجوہ، مولانا مفتی عثمان جتوئی، مولانا حافظ فضل الہادی، مولانا حافظ عامر حبیب، مولانا محمد اسامہ قاسم، مولانا طبیب الرحمان، قاری عباس فاروقی، حافظ عبد الجبار، عبد القادر عثمان، مولانا نور حسین عارف، ظہور احمد فاروقی، عمر شکیل، قاری محمد اکمل، یحیٰی زکریا، حسین احمد مدنی اور دیگر نے شرکت کی۔
