ایک تحریک بغاوت کی ضرورت

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد امین کا مضمون الشریعہ کے اپریل ۲۰۱۰ء کے شمارے میں دیکھا تو بڑی الجھن ہوئی۔ دقت یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب سے پرانی یاد اللہ ہے۔ وہ سید مودودی کے فکری حلقے سے متعلق ہیں۔ غامدی صاحب کے ساتھ بھی ان کو بحث کرتے دیکھا۔ سید مودودی نے انقلاب کی جو چنگاری ان کے ذہن میں سلگا دی، وہ ابھی تک سرد نہیں ہوئی۔ وہ تعلیم و تدریس کے شعبہ سے متعلق ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس شعبے میں ان کی کارکردگی غیر معمولی ہو، مگر سید کے حلقے میں فکری اور عملی لحاظ سے انہیں قبولیت نصیب نہیں ہوئی۔ لہٰذا وہ نوابزادہ نصراللہ کی طرح اتحادی ذہن کو بروے کار لانے کی جانب مائل ہوئے۔ اس کے لیے ان کے سامنے سید کے حلقے سے وابستگان کی ٹکڑیاں تھیں مگر ان ٹکڑیوں نے ان کو میزبانی کی حیثیت دینے سے انکار کر دیا۔ اس پس منظر سے نکل کر انہوں نے موجودہ مضمون تحریر کیا۔ مضمون کا عنوان ہے: ’’ایک نئی دینی تحریک کی ضرورت‘‘۔

عنوان سے ’’ایک صالح جماعت کی ضرورت‘‘ کی نقالی کا تاثر واضح ہے۔ اسی طرح کی نقالی کا مظہر ڈاکٹر فاروق خان کی کتاب ’’ایک نئی سیاسی جماعت کی ضرورت‘‘ کے عنوان میں بھی ہے۔ نقالی کے مظاہر جماعت اسلامی، تنظیم اسلامی، تحریک اسلامی کے ناموں کے اختیار کرنے میں واضح ہیں۔ ان جماعتوں کے دساتیر کو دیکھا جائے تو وہ جماعتی دستور کا بہت کمزور چربہ ہیں۔ کہیں تخلیقی اور اجتہادی بصیرت نظر نہیں آتی۔ ان میں اسلامی جمعیت طلبہ کے دستور سے بھی زیادہ کمزور نقالی پائی جاتی ہے۔ محترم ڈاکٹر امین صاحب، میری طرح،اپنے قلب و ذہن میں ساری عمر انقلاب کی آرزو پالتے رہے۔ ہر قدم پر شکست کی مایوسیوں نے گہرے صدمے دیے، اس کے باوجود انقلاب کی آرزو کو مرنے نہیں دیا۔ تازہ صورت یہ ہے کہ اسے زندہ رکھنے کے لیے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا ہوا ہے۔ اوکسیجن، گلو کوز اور مصنوعی خون کے سہارے فراہم کرنے کا پورا اہتمام کر رکھا ہے۔ محترم جناب ڈاکٹر محمد امین کا تازہ مضمون پڑھ کر ان کی سخت جانی کی داد دینا پڑتی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم اپنی صلاحیت، اوقات اور حالات کار کو پہچانے بغیر ایسی پرواز پر مائل ہو جاتے ہیں جس کے لیے ہمارے مصنوعی تصورات بھی ہمارا ساتھ نہیں دیتے۔ در اصل نقال ذہنیت جب مفکرانہ مقام پر فائز ہونے کی کوشش کرے تو ایسے لطیفے سر زد ہو جاتے ہیں۔ دینی جماعتوں کے مایوس کن کردار اور کارکردگی سے صرف نظر کر کے انتخابی کشا کش سے عافیت کی بنیاد پر، دینی تحریک کی ضرورت پر ذہنی قوتوں کو صرف کر کے مضامین تو طویل سے طویل لکھے جا سکتے ہیں، مگر معاشرے میں کسی تبدیلی کا خواب نہیں دیکھا جا سکتا۔ حالات کا اندازہ زمینی حقائق کی روشنی میں قائم کیا جائے تو یہ امر واضح ہے کہ روایتی یا نیم روایتی، کسی طرح کی تنظیم یا تحریک کی محترم ڈاکٹر امین صاحب ضرورت پیش نہیں کر سکے۔

اچنبھے کی بات یہ ہے کہ انقلاب کی آرزو بھی کی جاتی ہے اور مداہنت کو بطور پالیسی، اعلان کر کے اختیار کیا جائے۔ انقلابی سوچ کا تقاضا تو یہ ہے کہ دین و سیاست کے نام پر آج تک کے کرداروں کا بھرپور تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ ان کی کامیابیوں و ناکامیوں کا میزان تیار کیا جائے۔ کردار و بد کرداریوں کا پورا محاکمہ کیا جائے۔ بالکل اسی طرح جس طرح سید مودودی نے خلافت و ملوکیت میں تاریخ پر نقد کیا۔ یہی نہیں، سید مودودی نے ایک صالح جماعت کے قیام کی ضرورت سے پہلے بر صغیر کی سیاسیات کا کتنا بھر پور جائزہ پیش کیا، محترم ڈاکٹر امین صاحب اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش ‘‘ کے عنوان کے تحت طویل سلسلہ ہاے مضامین جماعت کے قیام کا پس منظر تھا۔ جناب غامدی صاحب نے بھی ایک دور میں انصار المسلمون قائم کی۔ اس سے پہلے انہوں نے جماعت اسلامی، فکر پرویز، تبلیغی جماعت غرض کم و بیش دینی حوالے سے کام کرنے والی ہر تحریک کا بھر پور جائزہ پیش کیا۔ قاضی حسین احمد کے اسلامک فرنٹ میں بھی شامل ہوئے، مگر آخر کار المورد کے ذریعے تحقیقی اور دعوتی سرگرمیوں کے لیے اپنے آپ کو مخصوص کر لیا۔ یہاں بھی ان کا دعویٰ احقاق حق ہے۔اپنی اس حیثیت کو وہ کس حد تک بر قرار رکھ سکے ہیں، یہ اس مضمون کا موضوع نہیں۔ محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کا دینی جماعتوں اور تحریکوں کے ماضی کے کردار سے صرف نظر کر کے کسی تحریک کی ابتدا کی دعوت دینا اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر صاحب اپنے مضمون میں ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں:

’’اس ملک میں کئی دینی سیاسی جماعتیں اسلامی حوالے سے سیاست کے میدان میں کام کر رہی ہیں اور بہت سی دعوی و اصلاحی تحریکیں، تنظیمیں اور ادارے دعوتی واصلاحی میدان میں کام کر رہے ہیں۔ مجوزہ نئی تحریک ان میں سے کسی کی حریف نہیں ہو گی اور تنقید اور ان کی تنقیص نہیں کرے گی، بلکہ تحریک کا ماٹو سب کے لیے محبت اور ہر خیر سے تعاون ہو گا۔‘‘ (الشریعہ اپریل ۲۰۱۰ء، ص ۳۷)

محبت کے نام پر مداہنت کی یہ معراج اور پھر انقلاب کی آرزو،

خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھیے

باقی مضمون میں وہ روایتی انداز فکر سے کچھ بھی ہٹے بغیر وہ سب کچھ کہتے ہیں جو سید مودودی کے حلقے کے لوگ کہتے ہیں۔ پھر اس تناظر میں انقلابی فکر اختیار کرنا بے جوڑ ہے۔ مولانا مودودی علیہ الرحمہ بلا شبہہ انقلابی رجحانات رکھتے تھے، مگر انہوں نے ان رجحانات کو ایک طرف رکھ کر، روایتی فکر اور اقدامات کی راہ اختیار کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے جو طاقت جمع کی، وہ دین کی بنیاد پر تھی۔ دینی مزاج کے لوگ ہی ان کے گرد جمع ہوئے۔ ان میں انقلابی فکر راہ نہیں پا سکتی تھی۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ دینی جذبے کی بنیاد پر قائد اعظم نے ایک مملکت کے حصول میں کامیابی حاصل کر لی ہے، لہٰذا انہوں نے بھی اسی جذبے کو کیش کرانے کی حکمت عملی اختیار کی۔

یہ سب کچھ اپنی جگہ ٹھیک ہو سکتا تھا، مگر انہوں نے اپنی انتہائی طاقت ور تحریروں کے ذریعے بر صغیر کے دینی ٹیلنٹ کو اپنے گرد جمع کیا۔ اس طرح جو طاقت جمع ہوئی، اسے تحریکی اور انقلابی بنیاد فراہم کرنے کے بجائے ایک ایسے طاقت ور جمودی ڈھانچے پر متفق کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کے جمود کو آج ستر سال گزرنے کے بعد بھی کوئی توڑ نہیں سکا۔ مولانا علیہ الرحمہ انتہائی پڑھے لکھے شخص تھے۔ جدید و قدیم دینی و دنیاوی لٹریچر پر ان کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ میری ذہنی و تربیتی تشکیل ان کے لٹریچر اور شخصیت کا نتیجہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مجھے آزادی فکر دی ہے۔ انہوں نے مجھے حاضر و موجود سے بے نیاز بلکہ مکمل طور پر بیزار بنایا۔ اس سے بغاوت پر آمادہ کیا۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ سید علیہ الرحمہ انقلابی حکمت عملی کیوں نہ دے سکے۔ میں نے اس کی وجہ یہی سمجھی ہے کہ انہوں نے انقلاب کی جدید حکمت عملی کے مطالعے کے باوجود اس کے عملی تقاضوں اور افادیت کا ضروری احساس نہیں کیا۔ اس کے لیے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ انقلاب کو بنیاد بنانے کا دعویٰ کیا۔ ان کی تمام تر کوشش دین سے وابستگی کے جذبے کو کیش کرانے کی تھی ۔ انہوں نے قائد اعظم کی پر امن، آئینی اور قانونی جد و جہد سے استفادہ کیا۔ کانگریس اور جمعیت علماے ہند اور مسلم لیگ کے فکری اور عملی پہلوؤں پر حالات کے تناظر میں شدید تنقید کی۔ اس سے انہوں نے اپنا قد، اپنے تئیں قائد اعظم سے بھی بلند کر لیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ قومی سطح پر اپنے آپ کو قائد اعظم کے مرتبے پر فائز کرنے کی تیاری کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ اس خوش فہمی میں تھے کہ قائد اعظم کے بعد مسلم لیگ کے کھوٹے سکوں کو قوم مسترد کر دے گی اور ان کو قائد اعظم تسلیم کر لیا جائے گا۔ اس طرح وہ اسلامی انقلاب کا راستہ صاف طور پر دیکھ رہے تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے تیز رفتاری اور جلد بازی سے کام لیا۔ ان کے برابر کے ساتھی اس تیز رفتاری میں ان کا ساتھ نہیں دے سکتے تھے۔ چنانچہ جماعت کے قیام کے بعد دو سال کے اندر ہی وہ بہت سے گراں قدر ساتھیوں سے محروم ہو گئے۔ ساتھیوں کی محرومی کے بعد، وہ تنہائی کا احساس کرنے کے بجائے زیادہ طاقتور ہو کر بڑے سے بڑے چیلنجوں کو عبور کرنے پر میدان میں اتر آئے۔ 

قیام پاکستان کے فوراً بعد اسلامی دستورکے مطالبے کے لیے ان کی عوامی سطح پر مہم بڑی موثر تھی۔ ملک میں زبردست فضا قائم ہوئی۔ ۱۹۵۳ء کے انتخابی معرکے میں انہوں نے ایک ایسی انتخابی حکمت عملی اختیار کی جو واقعتا ہمارے معاشرے کے لحاظ سے بے مثال اور انتہائی موثر تھی۔ میں آج بھی اس کے محاسن یاد کر کے جھوم جاتا ہوں۔ اس سکیم کا پہلی بار تجربہ کچھ زیادہ خوش گوار نہیں تھا۔ نتائج کا جائزہ شروع ہوا تو جماعت میں توڑ پھوڑ کا عمل شروع ہو گیا۔ توڑ پھوڑ کا یہ عمل مولانا کی جلد بازی اور زمینی حقائق کے ادراک میں کمی کا نتیجہ تھا۔ جماعت کا جمودی ڈھانچہ جائزاتی عمل کا متحمل ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ اس سے اندرونی کھچاؤ کی جو صورت پیدا ہوئی، اس کے نتیجے میں جماعت میں مولانا کی برابری کا دعویٰ رکھنے والے آخری شخص، جناب امین احسن اصلاحی بھی جماعت سے باہر ہوگئے یا اس پر مجبور کر دیے گئے۔ مولانا مودودی نے اس کو جماعت کی قوت میں کمی کے بجائے اضافہ کے طور پر قیاس کیا۔انہوں نے جم کر اختلاف کرنے والی اس شخصیت سے نجات پا کر سکھ کا سانس لیا۔ ان کو جماعت سے باہر کا راستہ دکھانے کے لیے انہوں نے امارت جماعت سے استعفیٰ دے کر اسے خوب پھیلایا۔ ساتھ ہی یہ اصرار بھی پریس کے ذریعے پھیلایا گیا کہ وہ کسی قیمت پر اپنا ستعفیٰ واپس نہیں لیں گے۔ اس طرح کے ماحول اور فضا پیدا کر کے ماچھی گوٹھ کا اجتماع طلب کیا گیا۔ ارکان استعفیٰ سے سخت مشتعل تھے۔ وہ مولانا سے اختلاف کرنے والوں کو سکون و اطمینان سے سننے کے تیار نہ تھے۔ اس کے نتیجے میں اصلاحی صاحب اور ان کے ساتھیوں نے جماعت سے علیحدگی کی راہ اختیار کر لی۔ اسے فکری جمود کی طاقت و تاثیر قرار دینے کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں ۱۹۵۳ء کی انتخابی سکیم کو یکسر نظر انداز کر کے بغیر کسی اصول اور حکمت کے ہر انتخابی معرکے میں اترے۔ یہ معرکے چالیس پچاس سال پر محیط ہیں۔ ان معرکوں میں کامیابیوں اور ناکامیوں کا سنجیدہ جائزہ لینے کی کبھی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔ جماعت کے لیے ۱۹۵۳ء کا جائزہ ہی اتنا جان لیوا ثابت ہوا کہ بعد ازاں جائزہ لینے کی ضرورت ایسی جسارت تھی جو کہ اہل جمود کے لیے سرخ رومال بن گئی۔ لے دے کر ایک جناب خرم مراد تھے جو نقد و جائزے کے ذہن سے کام لیتے رہے اور اس کا بر ملا اظہار بھی کرتے رہے۔

ایک مرحلے پر قاضی حسین احمد کے ساتھ مل کر انہوں نے جماعتی جد وجہد کو انقلابی رجحانات پر استوار کرنے کی کوشش کی مگر روایتی ٹیم کے ساتھ انقلابی حکمت عملی اختیار کرنا کیسے ممکن تھا۔ اس سارے عمل میں صلاحیتوں، وسائل اور اوقات کا جو ضیاع ہوا، اس کا حساب تو حشر کے دن ہی ہو گا۔ سید مودودی سے لے کر سید منور حسن تک سب جواب دہ ہوں گے۔ ڈاکٹر امین اور جناب جاوید غامدی جیسے لوگوں کو اب بھی ٹامک ٹوئیاں مارنے سے فرصت نہیں۔ دونوں بزرگ میدان عمل سے پیچھے ہٹ کر سکون و عافیت میں بیٹھ کر اپنے تئیں فکری کام کر رہے ہیں، لیکن اس فکری کام اور میدان عمل کی جد و جہد کے تقاضوں میں کہیں کوئی ملاپ اور جوڑ کی صورت نظر نہیں آتی۔ ان کی تمام تر چاند ماری میدان عمل پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ خاص طور پر جناب جاوید غامدی کاطرز عمل زیادہ ہی جواں تر ہے۔ ان کی فکری کاوشیں جب اثرات پیدا کرتی ہیں تو پھر وہی میڈیا تک رسائی کے بدلے بلکہ خمیازے کے طور پر، سرکاری پروٹو کول اور پھر مملکت پاکستان سے عملی جلا وطنی کی نوبت آ جاتی ہے۔ اسے ہجرت سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے، مگر ہجرت میں سرکاری تراغیب و سہولیات قبول کرنا پڑتی ہیں۔ اس سے ان کی فکری حیثیت بری طرح مجروح ہوئی ہے۔

اس پس منظر میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کی پریشان فکری کی طرف واپس آتا ہوں۔ اگر ڈاکٹر صاحب اجازت دیں تو میں ان کی پریشان فکری میں حصہ دار بننا چاہتا ہوں۔ میرے نزدیک ڈاکٹر صاحب نے جس تصوراتی دنیا کی بات کی ہے، وہ عملاً سوسائٹی میں پہلے ہی مختلف صورتوں میں کار فرما ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی تمام تر فکری کاوش کسی نئی تحریک کا خاکہ دینے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ بین السطور میں وہ اس کا اعتراف بھی کر رہے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ مسئلہ عملی جدوجہد کا ہے مگر میدان اور زمینی حالات سے دوری کو پہلے سے بھی بڑھا کر عافیت گوشوں میں قید ہو کر اجتہادی کام کیا جا رہا ہے۔ ایک نئی دینی تحریک کی ضرورت سے پہلے یہ تو واضح کیا جانا چاہیے کہ اب تک کی دینی تحریکوں کا بنیادی روگ کیا ہے۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ماضی کا مکمل جائزہ آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے لازمی ہے۔ کم از کم یہ میرے نزدیک کردار و صلاحیت کا بحران بیماری کی اصل جڑ ہے۔ یہ امر تو بالکل واضح ہے کہ کردار اور صلاحیت کے ایک کم سے کم معیار کے بغیر تحریک دینی ہو یا سیاسی، یہاں تک کہ گمراہی کی تحریک بھی کردار و اصلاحیت کے بلند معیار کے بغیر پیش رفت نہیں کر سکتی۔ تن آسانی کی انتہا یہ ہے کہ ہم میدان میں موجود دینی سیاسی جماعتوں کے کھوکھلے کردار اور صلاحیت سے عاری ایک طویل دور سے آنکھیں بند کر کے ایک نئی تحریک کا جواز اور راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ دیانت و امانت دیندار اور دین سے عاری، دونوں کے لیے لازم ہے۔ جب ہم صرف ایک دیانت و امانت کے اصول پر ہی دینی و سیاسی بلکہ سماجی تنظیموں کو دیکھتے ہیں تو سخت مایوسی ہوتی ہے۔ 

میرا منشا یہ ہے کہ کسی بھی اجتماعی کام کے لیے بنیادی کردار کا اہتمام لازم ہے۔ یہ بنیادی کردار انسانی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ قرآن وسنت کی تعلیمات اس کردار کو پختہ تر کر سکتی ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ یہ کردار موجود ہو۔ اگر بنیادی کردار موجود ہی نہ ہو تو پھر دین داری اسے کھوکھلے پن کی معراج کی جانب لے کر جائے گی۔ قرآن میں ہے کہ نماز برائیوں سے روکتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ ہم نماز پڑھتے ہیں تو برائیوں سے لازماً رک بھی جاتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ نماز ہمیں برائیوں سے روکنے کے بجائے برائیوں کے انجام اور خمیازے سے بچانے کے لیے ذہنی طور پر آسودگی فراہم کرتی ہے۔ میں لاکھ بد دیانتیوں اور خیانتوں کے بعد بھی چار نماز وں یا دو چار حج کے فریضوں سے اپنے تئیں ہر طرح کی معافی کا حقدار بن جاتا ہوں۔ ایک نیک نیتی میرے حق میں رہے گی۔

ہمارے ہاں تنظیم کو بطور سائنس کے دیکھا ہی نہیں گیا۔ ہر سطح پر چھوٹی اور بڑی سے بڑی لا تعداد تنظیمیں قائم ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی تنظیمی اصولوں کی ابجد پر پورا نہیں اترتیں۔ وہ سب بلا استثنا بد انتظامی، کرپشن اور اپنے مقاصد سے دوری کا شکار ہیں۔ تنظیم جتنی بڑی ہو گی، اسے استوار رکھنا اتنا ہی مشکل اور پیچیدہ کام ہے۔ ہمارے ہاں نئی تنظیموں کی ضرورت پر تو نت نئے خاکے آتے رہتے ہیں، مگر آج تک کسی نے موثر اور شفاف تنظیمی ڈھانچہ مرتب کرنے کی جانب توجہ نہیں دی۔ سید مودودی نے بلا شبہہ جماعت کے قیام سے ایک تجربہ کرنا چاہا مگر یہ تجربہ روز اول ہی سے ناکامی کی بنیادوں پر استور کیا گیا۔

میرے نزدیک کسی نئی تحریک یا تنظیم کی ضرورت سے پہلے لازم یہ ہے کہ بغیر کسی دینی یا مذہبی حوالے کے، پختہ کردار اور اعلیٰ صلاحیت والے لوگوں کی ایک ایسی تنظیم قائم کی جائے جو اپنے متعین مقاصد کے لیے دنیا بھر میں مسلمہ تنظیمی اصولوں کی بنا پر استوار ہو۔ اس تنظیم میں اطاعت نظم کا اہتمام ہو، مگر اس سے زیادہ اہتمام نظم کے احتساب کا ہونا چاہیے۔ احتساب کے انتہائی موثر اور فعال اہتمام کے بغیر اطاعتِ نظم محض کرپش کے فروغ کا اہتمام بن کر رہ جاتا ہے۔ کرپشن کو راہ ملتے ہی نظم اور تنظیم اخلاقی زوال کی راہ پر چل نکلتی ہے جس کے بعد زوال کے عمل کو روکنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔ لہٰذا احتساب نظم کا اہتمام اتنا طاقت ور ہونا چاہیے کہ بغاوت کی سطح تک پہنچا ہوا ہو۔ بد عنوانی کو ناقابل برداشت ماحول کا سامنا کرنا پڑے، جس طرح حضور کا فرمان ہے کہ برائی کو ہاتھ اورزبان سے روکا جائے۔ احتساب نظم میں بغاوت کا ماحول کارکن کی تربیت کا بنیادی مزاج ہو گا۔ اطاعت نظم کا مزاج معاشرے میں بھی برائی کے خلاف معرکہ آرائی سے پہلو تہی کرتا ہے۔ بغاوت کا یہ مزاج سوسائٹی میں اسے باغی کے طور پر متعارف کرائے گی۔ اپنے اپنے دائرہ کار میں، مناسب ترجیحات کے تحت، ایشوز پر بغاوت کا اہتمام سوسائٹی کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہر کوئی اپنے ماحول میں باغی بنے، بغاوت کرے، بغاوت کے لیے معاشرے میں بیزاری پیدا کرے۔ بغاوت سے مراد مسلح بغاوت نہیں، بلکہ پر امن، قانون، آئین اور ضابطے کی حدود کے اندر رہ کر، ایشوز پر ترجیحات قائم کر ے، ٹائم شیڈول کے ساتھ طے شدہ ٹارگٹس حاصل کرنے کے لیے موثر لائحہ عمل اختیار کرے۔ ایشوز پر کام کی بہترین مثال حالیہ وکلا تحریک ہے۔ ایک ہی ٹارگٹ تھا اور وہ عدلیہ کی بحالی اور آزادی کا تھا۔ وہ پورا ہوا۔ خدا نہ کرے اسے نظر بد لگے۔ انصاف کسی کے لیے بھی خوشگوار نہیں۔ اسی رو میں انصاف کے لیے پریشر گروپس بنانے اور اوپر کی سطح پر ایشوز وار، تواتر کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک کے بعد دوسرا ایشو سامنے رکھ کر موثر جد و جہد، متعین وقت میں کامیابی کے ہدف کے ساتھ، اس طرح سوسائٹی میں خود اعتمادی پیدا ہو گی۔ یہی خود اعتمادی جد و جہد کا اثاثہ ثابت ہو گی۔یہاں ایشوز سے مراد لوگوں کے روز مرہ کے مسائل ہیں۔ ان میں مقامی اور قومی سطح کے ایشوز اہمیت رکھتے ہیں۔ ایشوز پر کام میں ترجیحات کی بنیاد متعینہ ٹائم کے اندر موثر اور نتیجہ خیز جد و جہد ہے۔

وکلا تحریک شروع ہوئی تو اس نے ہمارے ہاں سوسائٹی اور اس کے ہر طبقے کو متاثر کیا۔ وکلا سوسائٹی میں بہت مختصر تعداد میں ہیں۔ پندرہ کروڑ کی آبادی میں ایک لاکھ وکلا کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر تحریک میں براہ راست سرگرم شرکت کرنے والے وکلا کی تعداد مشکل ہی سے دس ہزار بھی نہیں ہو گی، لیکن عدلیہ کی آزادی اور بحالی کو ایک ایشو کے طور پر لے کر لگا تار جد و جہد کی گئی۔ مقابلہ فوج سے تھا۔ فوج کی تعداد پانچ چھ لاکھ بیان کی جاتی ہے۔ ان کے وسائل ، قوت اور غصبِ اقتدار کو دیکھا جائے تو عدلیہ کی بحالی کے امکانات کسی طرح آسان نہیں۔ فوج کا ایک جرنیل مان نہیں، پانچ جرنیلوں کے سامنے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا، یقیناًیہ بہت بڑا واقعہ تھا۔ پی سی او کے نفاذ کے وقت تریسٹھ ججوں نے چیف کے ساتھ یکجہتی کے طور پر استقامت دکھائی۔ فوج اقتدار سے رخصت ہوئی، انتخابات کرائے گئے، جنرل مشرف مستعفی ہوئے۔ سیاسی جماعتیں کونوں کتھروں میں تھیں۔ تمام بڑے لیڈر انتخابات سے پہلے تک جلا وطن تھے۔ مشرف ان کو کسی قیمت پر وطن آنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں تھے۔ آخر کار ایسا بھی ہو کر رہا۔ بے نظیر انتخابی مہم کی بھینٹ چڑھا دی گئی۔ سیاسی حکومت اور منتخب صدر ایوان صدر میں آئے مگر بحالی کا امکان پیدا نہ ہوا۔ وعدے پر وعدے ہوتے رہے۔ ججوں کو نئی تقرری کا جھانسا دے کر پھاڑا گیا۔ صرف پندرہ جج چیف جسٹس کے ساتھ کھڑے رہ گئے۔ انہوں نے تحریک کو بہر صورت منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیا۔ 

وکلا رہنماؤں نے کئی مواقع پر ان کو ایسے مشورے دیے جو چیف کے شایان شان نہ تھے۔ ان کو امریکہ یاترا بھی کرائی گئی۔ بحالی سے پہلے امریکہ جانا قبل ازوقت تھا۔ ہارورڈ یونیورسٹی اور نیو یارک بار ایسو سی ایشن کے اعزازات کی وصولی کے لیے چیف صاحب کا اصالتاً امریکہ جانا انتہائی بے موقع تھا۔ وکلا قائدین امریکہ میں ڈیل کے شواہد بہت واضح ہیں۔ البتہ چیف صاحب کے کردار اور موقف سالم و سلامت رہے۔ انہوں نے کسی طرح کی کوئی لچک نہ دکھائی۔ انہوں نے کسی ذمہ دار ریاست سے ملا قات نہیں کی۔ چیف کی استقامت ہی تحریک کا سب سے بڑا سبب ثابت ہوئی۔ چیف کا ذرا سا تزلزل پوری سوسائٹی کی قربانیوں اور جد و جہد کو ضائع کر سکتا تھا۔ چیف کو اللہ نے ایسی استقامت دی کہ بحالی کی منزل طے ہو کر رہی۔ سید مودودی نے درست کہا ہے کہ انقلاب ہمیشہ محدود اقلیت لے کر آتی ہے۔ میدان لگانے کی جرات کرنے والا شخص نایاب ہوتا ہے۔ ایسا شخص ہزاروں میں کوئی ہوتا ہے۔ ساٹھ سال کی ہماری تاریخ میں افتخار چوہدری تو ایک ہی ہوا ہے۔ میدان میں اتر کر استقامت اختیار کر لی جائے تو کامیابی یقینی ہے۔ وکلا تحریک کے مزاج پر پوری ایک کتاب لکھی جانی چاہیے۔ انقلاب کی حکمت عملی کے مطالعے کے طور یہ تحریک بہت اہم ہے۔ اعتزاز احسن نے عدلیہ کی آزادی اور بحالی کو ایشو بنانے اور زندہ رکھنے کے لیے جس قدر محنت اور اہلیت کا مظاہرہ کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔

اوپر میں نے جس ہمہ جہت بغاوت اور مزاحمت کی تحریک کی اہمیت واضح کرنے کی کوشش کی ہے، اس کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کے لیے مزاحمت کاروں کی سوانحی خاکوں کو بغور دیکھنا ہو گا۔ ایسے مزاحمت کار اور باغی ہر جگہ موجود ہیں۔ ان کا بلا تعصب مطالعہ لازم ہے۔ ہمارے ہاں ڈاکٹر نذیر شہید کی مثال بڑی روشن ہے۔ ۸ جون ان کی برسی کا دن ہے۔ حالیہ دور میں جاوید ہاشمی کی مثال بھی بڑی زبردست ہے۔ ان کی کتاب ’’میں باغی ہوں‘‘ مطلوبہ تحریک بغاوت کی رہنمائی کے لیے بڑی جاندار اور موثر ہے۔ پیپلز پارٹی کے لاہور سے ایک سابق ایم این اے ڈاکٹر سید محمود بخاری کی پارٹی کے اندر ناقدانہ اور باغیانہ طرز عمل بھی بہت سبق آموز ہے۔ ان کی یاد داشتیں ’’روئدادِ وفا‘‘ کے نام سے پروین خان نے مرتب اور المعارف شاہ عالم مارکیٹ لاہور نے شائع کی ہیں۔ ماحول کے اندر رہ کر موثر طور پر بغاوت اور مزاحمت کو ایک موضوع کے تحت مطالعہ کرنا مقصود ہو تویہ شخصیات بڑی اہم ہیں ۔ ان کے کردار بڑے جاندار اور موثر رہے ہیں۔ ایسے کرداروں کو رہنما بنا کر پورے ماحول میں، ہر شعبے، ادارے اور جماعت میں پختہ کردار کے لوگوں کو اطاعت کے بجائے بغاوت پر آمادہ کرنا، سوسائٹی کی حقیقی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر امین صاحب بسم اللہ ہی دینی جماعتوں کے باہمی اختلافات اور ان کی کمزوریوں سے صرف نظر کرنے سے کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح کی مداہنت کو بطور پالیسی بنا کر چلنا چہ معنی دارد! ہماری سوسائٹی کا سب سے بڑا روگ ہی مداہنت ہے۔ سارتر نے کیا خوب کہا ہے کہ:

’’اچھائی اور برائی کے معرکے میں کوئی غیر جانبد ار نہیں رہ سکتا۔ خیر و شر کی معرکہ آرائی میں محض تماشائی کا کردار ادا کرنے والے یا تو بزدل ہوتے ہیں یا غدار۔‘‘

مداہنت اپنے اثرات کے لحاظ سے منافقت کا دوسرا نام ہے۔ یہ گناہ کبیرہ سے کسی طرح کم نہیں۔ یہ کفر سے بد تر ہے۔ اپنے گرد وپیش اور ماحول سے مصالحت اختیار کر کے حق و سچ کو زور کے ساتھ ظاہر نہ کرنا منافقت کی معراج ہے۔ اسے اختیار کر کے کوئی نتیجہ خیز جد جہد کرنا احمقوں کی جنت بسانے والی بات ہے۔ لوگوں کو درپیش مسائل سے بچ کر رشد و ہدایت کی محفلیں خدا کے ہاں اجر کا باعث ہوں تو ہوں مگر سوسائٹی میں ایسے لوگ کسی طرح قبولیت نہیں پا سکتے۔ کتنے ظالم ہیں وہ لوگ کہ جب چینی اور آٹے کے لیے قطاروں میں لوگ جانیں دے رہے تھے تو وہ عالی شان ہوٹلوں میں افطار پارٹیوں میں ایک گلاس پانی اور دو کھجوروں پر بد نظمی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ یہ اکا دکا واقعات نہیں، اجتماعی افطاریوں میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ 

اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام پیغمبر غریبوں، مظلوموں اور روندے ہوئے طبقات کے محافظ تھے۔ تمام پیغمبروں نے ظالموں کا مقابلہ کیا ہے۔ فرعون، نمرود، شداد، اہل مدین جبر کے نمائندے تھے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے میں سمجھوتے، بے نیازی، مداہنت اور اور بے پروائی کے رویے کو ترک کر کے اپنے ماحول کے خلاف بغاوت، مزاحمت اور اسے چیک کرنے کے رویے کو فروغ دینے کے بارے میں سوچا جائے۔ ایسے لوگ ہزار میں ایک بھی پیدا نہیں کیے جا سکتے، مگر ایسا ایک شخص ہزار پر بھاری ہوتا ہے۔اوپر جو تفصیلات درج کی گئی ہیں، وہ میری انفرادی کوششیں ہیں۔ میں نے اپنے ماحول کو توڑا ہے۔ یہ مشکل کام ہے، مگر میں نے اسے انجام دیا ہے۔ اب تو یہ کام میرے مزاج کا حصہ بن گیا ہے۔ میں نے یہی مزاحمت اور بغاوت جماعت کے اندر جاری رکھی ہے۔ جماعت کے وکلا ونگ میں بھی اسے ترک نہ کیا۔ بار کے ممبر کے طور پر بھی میرا رول نمایاں ہے۔ موجودہ صدر جناب ضیغم اللہ سانسی کے اقدامات نے مجھے کچھ زیادہ ہی انسپائر کیا ہے اور کامیابی بھی بہت بڑی نصیب ہوئی ہے۔ اس موقعے پر ’’وار اگینسٹ کرپشن‘‘ کے نعرے کے تحت اس جد وجہد کو اداراتی شکل دینا چاہتا ہوں۔ انفرادی سطح پر جد و جہد کے معرکہ شروع کر رکھا ہے۔ کچھ عزیز اور دوست تعاون کر رہے ہیں۔ خواہش ہے کہ اسے باقاعدہ تنظیم کی صورت دی جائے۔ ایک سہ ماہی بلیٹن واک کے نام سے شروع کر کے اپنے قلم کی قوت کو کرپشن کے خلاف جنگ میں بروئے کار لانا چاہتا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ ابتدائی مرحلہ میں کرپشن کے خلاف جنگ پہلے محاذ کے طو رپر میدان لگا چکا ہوں۔ کرپشن کو ہدف بنا کر، ایک پر امن، قانون کے دائرے کے اندر مگر پوری جرات سے موثر احتجاجی اقدامات کے ذریعے کام کرنا چاہتا ہوں۔ موثر احتجاجی اقدامات کے طور پر میرا اعلان ایک اہم مثال ہے۔ میں نے یہ اعلان کیا تھا کہ بار میں کرپشن کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنے کالے کوٹ کو نذر آتش کروں گا۔ میرے اعلان کے عام ہونے کے بعد وکلا برادری اور میڈیا میں زلزلہ کی کیفیت پید ہو گئی۔ صوبائی حکومت کو ہر صورت اقدامات کرنا پڑے۔ میں نے پہلی بار دیکھا کہ رجسٹری برانچ سے رشوت مکمل طور پر ختم ہوئی ہے۔ اس کامیاب مرحلے کے بعد اپنی جد و جہد کو جاری رکھنا چاہتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے کہ اس طرح کے موثر اقدامات سے نتیجہ خیز جدوجہد ویک وسیع بنیاد رکھی جائے۔

آراء و افکار