نیشنل جوڈیشل پالیسی پر پنجاب بار کونسل کا رد عمل

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

پالیسی کے بارے میں کمیٹی کے ایک حالیہ اجلاس کے بعد دو فیصلے سامنے آئے ہیں- ایک قتل کیس کا چار دن میں فیصلہ اور دوسرے ۲۲- الف ب کی درخواستوں کی عدالتوں سے پولیس کے شکایت سیل منتقلی- پہلے فیصلے پر پنجاب بار کونسل کا ردِ عمل یہ آیا ہے کہ یہ دستور کے تحت منصفانہ فیئر ٹرائیل کے حق کی نفی ہے اور احتجاج کے طور پر جمعہ ہڑتال منائی جائے گی- 

نیشنل جوڈیشل پالیسی کی شروعات جسٹس افتخار محمد چوہدری نے فرمائیں- اس پر مفصل تبصرہ ہم حقیر سی کاوش “انصاف کرو گے ؟”میں کر چکے ہیں- بعد کی جاری کردہ پالیسی اقدامات پر بار کونسل کا ردِ عمل اوپر ذکر ہو چکا ہے- مزید کے طور پر کونسل کا جاری کردہ سرکلر درج ذیل ہے:

نیشنل جوڈیشل پالیسی 2009ء کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ نئی جوڈیشل پالیسی قانون اور آئین سے متصادم ہے جس کے مطابق قتل کے مقدمہ کا 4دن میں فیصلہ آئین کے آرٹیکل 10-Aاور ضابطہ فوجداری میں خضر حیات کیس (PLD2005-LHR-470) اور یونس عباسی کیس (PLD2016-SC-581) کی موجودگی میں بلاترمیم ان قوانین کے خلاف کوئی پالیسی مرتب نہیں کی جاسکتی اور اسی طرح قانون جانشینی کی موجودگی میں ان کے خلاف کوئی نئی پالیسی نہیں بنائی جاسکتی۔ مزید یہ کہ مذکورہ نئی پالیسی بناتے وقت صوبائی بار کونسلز اور سینئر وکلاءکو اعتماد میں نہ لیا گیا اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی تجاویز لی گئیں۔ پالیسی مذکورہ بالا سے نہ صرف آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہوگی ، بلکہ وکلاءکا معاشی استحصال ہوگا اور سائیلان کے لیے انصاف کی حصول کو پیچیدہ ، مشکل اور ناممکن بنا دیا گیا ہے ۔ لہذا چیف جسٹس آف پاکستان سے گذارش ہے کہ موجودہ مرتب کردہ نئی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے اور از سر نو جائزہ لینے کے لیے سینئر وکلاء، بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز سے تجاویز طلب کی جائیں تاکہ بینچ اور بار کا رشتہ جڑار ہے اور انصاف کی فراہمی کا تسلسل بطریق احسن اور موثر انداز میں جاری رہے۔ پنجاب بار کونسل نئی جوڈیشل پالیسی کے نفاذ کی مکمل نفی کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اس کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ 

بار کونسل کے سرکلر کے ایک ایک لفظ کا نوٹس لیا جانا ضروری ہے مگر یہاں اس کی گنجائش نہیں- صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ یہ الفاظ اور تراکیب کا گورکھ دھندا کے سوا کچھ اہمیت نہیں- اسے“قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا” بھی کہاجا سکتا ہے- بینچوں کا مطالبہ بے حد جائز ہے مگر ہائیکورٹ بار کے مفادات کے خلاف ہونے کی وجہ سے حل طلب چلا آرہا ہے اور شاید بڑا عرصہ یہی صورت حال رہے گی- تفصیل میں صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ ہائیکورٹ میں پریکٹس کرنے والے ڈویژنل بار ز سے متعلقہ وکلا بھی عملی طور پر مطالبے کی مخالفت کرتے ہیں اور نہ ہی حمایت کرتے ہیں- متعلقہ عدالتی اور انتظامی حکام بظاہر ہائیکورٹ بار کے ہاتھوں یرغمال ہیں- ڈویژنز میں جا کر بنچوں کی صورت میں کام کرنے کی صورت میں ہائیکورٹ عملی صورت میں انصاف کی فراہمی کے چیلنج کو زیادہ شدت سے سامنا کرنے کا خوف لاحق ہے- لاہور کی طرح بڑے شہروں کی سہولیات قربان کر کے گوجرانوالہ،فیصل آباد اور ڈیرہ غازی جیسے شہروں میں رہ کر عدالت کرنے میں فروتری محسوس کی جاتی ہے۔ 

چلئے بنچوں کا مسئلہ تو سال ہا سال سے چل رہا ہے- چار دن میں قتل کی سماعت اور فیصلہ بھی کوئی نئی بات نہیں- جب سیشن جج ۲۲- الف اور ب کی درخواستوں کے اسیر ہو کر ناکارگی پر قانع نہیں ہوئے تھے تو کم و بیش قتل کے فیصلے چار دن ہی میں کئے جاتے تھے- سیشن سپردگی کے بعد باری پر کیس لگتا تھا- فرد جرم کے بعد ایک ہفتے کے لئے شہادت کے لئے کیس مقرر ہوتاتھا- پہلے روز رسمی گواہ اور دوسرے اور تیسرے دن چشم دید ، پھر بحث اور فیصلہ- سیشن جج سے التوا مانگنے کی روایت تھی اور نہ ہی ہڑتال منانے کو رواج حاصل ہوا تھا- بعد ازاں تو پیشی پریکٹس ہی اصل پریکٹس ہو گئی تو کام کئے بغیر ٹھگی کو وکالت کی معراج سمجھ لیا گیا- اس طرح اب چار دن کے بجائے چار سال میں بھی اگر قتل کیس طے ہو جائے تو اسے کارنامہ خیال کیا جائے گا- بار کونسل کا ادارہ مملکت کے ہر ادارے کی طرح اپنی مقصدیت اور افادیت کھو کر بربادی اور پستی کا شکار ہو چکا ہے- حالات کا رخ یہی رہا تو عدالتیں یا تو سپر انداز ہو کر انصاف کے عمل سے اور بھی پیچھے ہٹ جائیں گی یا فریقین کو سن کر فیصلے پر مجبور ہو جائیں گی- شہادت اور جرح کے مراحل کو مختصر کر کے سماعت کی تکمیل کرنا پڑے گی- وکلا ٹھگی پر گذر اوقات کر کے اپنی شاہینی پر ناز کرتے رہیں گے- ایک بڑے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر پر ہر روز کم و بیش دس ہزار افراد انصاف کے لئے آتے ہیں اور آئے دن ہڑتال کی خبر سن کرخیر سے ”انصاف“ حاصل کر کے گھر کو “لوٹ”جاتے ہیں-

۲۲-الف اور ب کی درخواستوں کی منتقلی کا فیصلہ اہم ہے- اس کے نتائج کیا ہوں گے، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے- نئے چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ سے اچھی امیدیں رکھی جا سکتی ہیں- ۲۲-الف اور ب کی درخواستوں کی سابقہ بھر مار پہلے بھی بلا جواز تھی- اس میں ماتحت اور اعلیٰ عدالتوں کا طرز عمل سخت غیر ذمہ دارانہ رہا-ضابطہ فوجداری کے تحت انچارج تھانہ قابل دست اندازی جرم کی اطلاع پر مقدمہ درج کرنے کا پابند ہے- وہ مقدمہ درج کرنے سے فرار اختیار کر کے قانون پر عمل سے اجتناب کرتا ہے- اس طرح تعزیرات پاکستان کی دفعہ۱۶۶کے تحت جرم کا ارتکاب کرنے کے علاوہ اپنے قواعدِ ملازمت کی تضحیک بھی کرتے ہے- عدالتیں ایس ایچ اوز کے اس طرز عمل پر اندرونی طور پر خوش رہتی ہیں- انہوں نے اندراج مقدمہ کے بارے میں واضح اور مہمل احکامات کو معمول بنائے رکھا- اس کے نتیجہ میں پولیس گردی میں شدت تو آنا تھی- اگر عدالتیں واقعتا انصاف چاہتیں تو ایک ہی راستہ تھا کہ مقدمہ درج نہ کرنے والے چند افسران کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت موثر کاروائی کروائی ہوتی تو پولیس اندراج مقدمہ کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتی اور عدالتوں میں ۲۲-الف اور ب کا بازار نہ لگتا- 

اب یہ بازار سی پی او کی سربراہی میں قائم شکایت میں سیل لگے گا یا نہیں لگے گا- چیف صاحب یہی چاہتے ہیں- اس طرح خبروں کے مطابق ساٹھ لاکھ کی پنڈینسی کا خاتمہ ہو گیا- 

عملی کیفیت یہ ہے کہ سی پی اوز پہلے ہی حکمرانوں کی الٹی سیدھی خدمت سے فارغ نہیں ہوتے- شکایت سیل میں گھس کر یا سیل سی پی او میں گھس کر کیا کر لے گا، وہی بات جیسے ایک بڑے لیڈر کہتے ہیں کہ “وہ کرپشن کے قریب گئے اور نہ کرپشن ان کے قریب آئی ہے- ”کھوسہ صاحب بتائیں گے یا نہیں، مہینے دو میں صورت حال واضح ہو جائے گی- کاش ایس ایچ اوز کو قانون کا پابند بنانے کی کوئی صورت پیدا کر لی جاتی اور سیل کو واسطہ بنائے بغیر ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۱۵۴ کو موثر طور پر نافذ کرنے کا اہتمام کر لیا جاتا تو بہتر ہوتا- 

چیف جسٹس صاحب کی زیر التوا کام نپٹانے کی عظیم شہرت تلے ایک درخواست ہم بھی پیش کر دیتے ہیں- کورٹ فیس سے متعلقہ قوانین کو وفاقی شرعی عدالت خلاف شریعت قرار دے چکی ہے- اس کے خلاف اپیل کم و بیش تین عشروں سے معرض التوا میں ہے- اس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ نے کرنا ہے- اس التوا اور فیصلہ سے لاکھوں کروڑوں لوگ متاثرہوتے آرہے ہیں- بظاہر فیصلے میں کوئی بہت بڑے قانونی اور آئینی نکات اور پیچیدگیاں بھی نہیں ہیں- مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ یہ متواتر عمل دستور، قانون اور انصاف کے ہر تقاضے سے مجرمانہ فرار سے کسی طور کم نہیں- میری چیف صاحب سے استدعا ہے کہ اس اپیل کا فیصلہ فرصت نکال کر ارشاد فرمائیں-یہ بنیادی اہمیت کا فیصلہ ہے وگرنہ انصاف کے دعوں کی حقیقت وعدہِ محبوب کی طرح ہو گی اور عاشق کہرام بپا رہے گا۔

دنیا کی عدلیہ میں جو سچ کے ترجماں ہیں

امن و سلامتی کے وہ دیوتا کیوں چپ ہیں

انصاف کی دہائی ، دیتی ہے بے نوائی

روتی ہیں آرزوئیں ارمان جل رہا ہے

حالات و واقعات