’’حیات سدید‘‘ کے چند ناسدید پہلو (۱)

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

(ہمارا تبصرہ کتاب ’’حیات سدید‘‘ پر ہے، زیر بحث شخصیت پر نہیں۔ کتاب میں زیر بحث شخصیت کا ہمیں پورا احترام ہے۔ البتہ سوانحی کتاب کے عنوان اور پھر اس پر تبصرہ کے لیے ہمارے عنوان سے شبہہ ہو سکتا ہے کہ ہم چوہدری نیاز علی کی حیات سے نا سدید پہلو پیش کر رہے ہیں۔ خاکم بدہن ایسا کیسے ممکن ہے۔البتہ کتاب کے مولف نے کتاب میں جو ناسدید سمت اختیار کی ہے، ہم نے اس پر گرفت کی ہلکی سی کوشش کی ہے۔ متوقع شبہہ کے ازالے کے لیے شروع ہی میں وضاحت لکھ دی ہے۔ مصنف)


ابتدائیہ 

حیات سدید چوہدری نیاز علی خان کی سوانح ہے۔ یہ کتاب، حال ہی میں نشریات، ۴۰۔اردو بازار لاہور نے شائع کی ہے۔ ضخامت ۵۸۳ صفحات ہے۔ کتاب دیدہ زیب اور کافی معیاری کاغذ اور روز مرہ استعمال سے موٹے خط میں کمپوز کرائی گئی ہے۔ کتابت کی غلطیاں بھی کم ہیں۔ اس طرح یہ کتاب، مقامی مارکیٹ میں کافی غیر مقامی نظر آتی ہے۔ البتہ اگر اس میں مفصل اشاریہ شامل کر دیا جاتا تو یہ بین الاقوامی معیار کی برابری کرتی۔ 

کتاب کو تالیف کرنے والے کے ایم اعظم صاحب ہیں۔ یہ حضرت، جناب چوہدری نیاز علی خان مرحوم کے فرزندانِ ارجمندان میں سے ہیں۔ تالیف میں جناب نیاز علی مرحوم کی عظمت وعزیمت ، اپنے حقیقی امیج کے ساتھ سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مولف اس کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ اس پر کلام کرنا ہمارا ذمہ نہیں۔ البتہ اتنا کہنے میں کچھ حرج نہیں کہ ہمارے لیے تو اس کتاب سے چوہدری صاحب کی شخصیت کا مثبت تاثر اور بھی گہرا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اتنا عرض کر دینا لازم ہے کہ کتاب کے مصنف نے کتاب کی ترتیب اس طرح سے کی ہے کہ اس سے بحیثیت مجموعی سید مودودی کا امیج مجروح ہو۔ انہوں نے اس بات کا بھی خیال نہیں کیا کہ سید مودودی کا ان کے والد محترم انتہائی احترام کرتے تھے۔ وہ ان کو دارالاسلام (پٹھانکوٹ، بھارت)میں آنے کے لیے آمادہ کرنے کے کیے دوتین سال تک اصرار کرتے رہے۔ ان کے دل میں ان کی اس وجہ سے بھی قدر تھی کہ مولانا مودودی کے سوا کسی نے ان کے ہاں قیام کی دعوت قبول نہیں کی۔ کوئی بھی اپنی مجبوریوں سے نکلنے پر آمادہ نہ ہوا۔ فقط مولانا مودودی ہی تھے جو چوہدری نیاز علی خان کے خلوص سے مجبور ہوئے۔ انہوں نے اپنی ہر مجبوری پر قابو پایا اور کشتیاں جلا کر دارالاسلام پہنچے۔ یہ بد قسمتی ہی کہیے کہ قریباً آٹھ مہینے دارالاسلام میں قیام کے دوران صورت حال ایسی پیدا ہو گئی کہ دونوں بزرگوں نے تمام امور باقاعدہ طے اور بے باق کیے۔ معاملات میں کوئی امر طے طلب نہ چھوڑا۔ اس کے بعد مولانا لاہور سدھار گئے۔ مولانا مودودی کی آٹھ ماہ میں یہ دوسری نقل مکانی تھی۔ پہلی حیدرآباد دکن سے پٹھانکوٹ، دوسری پٹھانکوٹ سے لاہور۔ 

مولانا اس صورت حال میں کس ذہنی اذیت سے گذرے ہوں گے، اس کا اندازہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ مگر مولانا مودودی بہت بلند عزم شخص تھے۔ انہوں نے اس دورِ اذیت کے حوالے سے کبھی چوہدری نیاز علی خان سے اپنے اختلافات پر ایک جملہ بھی نہیں کہا۔ اس خاموشی کی وجہ مولانا کا مستحکم مزاج تھا۔ وہ وقتی حادثات سے متاثر نہیں ہوتے تھے۔ ہوں بھی تو ان کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ علاوہ ازیں چوہدری نیاز علی خان کے خلوص کا بھی تقاضا تھا کہ اس اختلاف کو لوگوں میں پھیلا کر دو نہایت مخلص بزرگ اپنے آپ کے بارے میں منفی تاثر کو عام کرنے کا سبب نہ بنیں۔ اس کے علاوہ یہ وقتی علیحدگی تھی۔ بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ اس اختلاف کے بعد بھی چوہدری نیاز علی، محض اپنے خلوص کی بنا پر مولانا کو واپس دارالاسلام لانے کے لیے پیچھا کرتے رہے اور آخر کار مولانا دوبارہ دارالاسلام آ گئے ۔ پھر مولانا قیام پاکستان تک چوہدری نیاز علی خان کے ساتھ دارالاسلام میں مقیم رہے۔ ان کے ما بین اس بار مکمل ہم آہنگی اور باہم مفاہمت قائم ہو چکی تھی۔ تقسیم ہند تک مولانا دارالاسلام میں قیام پذیر رہے۔ مولانا مودودی اور چوہدری نیاز علی خان نے، دارالاسلام سے اکٹھے ہی ہجرت کی۔ مولانا لاہور منتقل ہو گئے اور چوہدری نیاز علی خان دارالاسلام کے پاکستانی ایڈیشن کی جستجو میں مصروف ہوگئے۔ پہلی نقل مکانی جن اختلافات کے تحت ہوئی، ان کی کوئی اہمیت دوبارہ دارالاسلام میں منتقلی کے بعد باقی نہیں رہتی۔ سید مودودی اور چوہدری نیاز علی نے ان اختلافات کو اپنے سینوں میں مستور رکھا۔ مصنف کے لیے اپنے والد کے دوست اور مہمان کے طور پر مولانا مودودی کا احترام واجب تھا مگر جس باب کی پردہ داری مصنف کے والد اور سید مودودی نے پورے اہتمام سے کی، مصنف نے پوری کوشش سے ان اختلافات کو پون صدی گزرنے کے بعد سامنے لانے کی جستجو کی ہے۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ اس کی ضرورت تھی اور نہ ہی کوئی اہمیت۔ یہ سب کچھ کیسے کیا گیا، کتاب کے طائرانہ نظر ڈالنے سے اندازہ ہو جاتا ہے، ہم اس بارے میں تفصیل سے پہلے پیش لفظ کو لیں گے۔ 

جناب مجید نظامی کا پیش لفظ 

یہ پیش لفظ جناب مجید نظامی کی طرف سے ہے۔ وہ کتاب کے صفحہ نمبر ۱۴ پر لکھتے ہیں:

’’مولانا مودودی کی علامہ اقبال سے قربت کے قصے گھڑے گئے تھے حالانکہ چوہدری نیاز علی خان کے وقفِ دارالاسلام میں علامہ اقبال نے جامعہ الازہر سے ایک عالم بھجوانے کی درخواست کی۔ درخواست کو بوجوہ پذیرائی نہ ملی تو علامہ نے چوہدری غلام احمد پرویز سے دارالاسلام کے امور سنبھالنے کو کہا، ان کو قائد اعظم نے اجازت نہ دی۔ علامہ کی سب سے پہلی ترجیح تو علامہ اسد تھے، ان کے آڑے ان کی مصروفیات آ گئیں۔ آخر میں چوہدری نیاز علی خان نے مولانا مودودی کا نام دیا تو علامہ نے اتفاق کیا۔ علامہ نے مولانا مودودی کو ملا قرار دیا تھا جو بادشاہی مسجد کی امامت کے لیے موزوں ہیں۔ تاہم مولانا کے علامہ کے بارے میں کبھی اچھے خیالات اور جذبات ہوا کرتے تھے پھر دھوپ اور سائے کی طرح بدلتے رہے۔
’’مولانا مودودی قیام پاکستان کے حق میں نہیں تھے، اس کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ بہت سے اس کتاب میں درج کر دیے گئے ہیں۔ جماعت اسلامی آج اگر مولانا کو تحریک پاکستان کا رہنما اور پاکستان بنانے والی تیسری شخصیت قرار دے تو یہ حقائق کو مسخ کرنے کی دانستہ کوشش ہے، جس سے شاید جماعتیوں کے سینے میں کچھ ٹھنڈ پڑ جاتی ہو لیکن یہ قوم کو گمراہ کرنے کی ایک لا یعنی کوشش ہے۔ ایک مرتبہ مولانا مودودی سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا ، آپ نے پاکستان کی مخالفت کی۔ اب کہتے ہیں سیاست یوں کریں (اور یوں نہ کریں)۔ آپ کو سیاسی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں پہنچتا۔ جماعت کے لیے میرا آج بھی یہی مشورہ ہے کہ وہ فلاحی اور رفاہی کام کرے، سیاست اس کے بس کا روگ نہیں۔ کتاب کے مصنف نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا ہے۔ تاہم قاری پر اپنی رائے مسلط کرنے کے بجائے، فیصلہ اس کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے۔‘‘

مجید نظامی ہمارے لیے انتہائی محترم ہیں۔ وہ صاحبِ رائے شخص ہیں۔ رائے کے اظہار میں ہمیشہ بلند آہنگ واقع ہوئے ہیں۔ بڑے سے بڑے مقتدر کے سامنے انہوں نے اس کا بر ملا اظہار کیا ہے۔ یہ ان کی ایسی خوبی ہے جو کم از کم آج کل تو بالکل نایاب ہو گئی ہے۔ انہوں نے جو کچھ فرمایا، ان کی رائے ہے۔ مگر یہ رائے اب مولانا سے نجی ملاقات میں اظہار سے آگے نکل کر ایک کتاب کے پیش لفظ کا حصہ بننے کے بعد، پبلک حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ لہٰذا اس کا سنجیدہ جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ ہم جب یہ دیکھتے ہیں کہ سیاست پاکستان میں قیام پاکستان سے اختلاف ہی نہیں بلکہ کسی معاملے میں اختلاف کو برداشت تک نہیں کیا جاتا۔ مولانا مودودی کی جانب سے قیامِ پاکستان کی مخالفت اور اس بنا پر مجید نظامی صاحب کے کہنے کے مطابق سیاست سے باز رہنے کے مشورے کے بارے میں تو ہم بعد میں عرض کریں گے، البتہ سیاستِ پاکستان میں عدم روا داری اور عدم برداشت کے رویوں کی شروعات کو سامنے لائیں گے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ ان شروعات پر مملکت کی تعمیر جس رخ پر چلی گئی ہے، اس کا اندازہ ہو سکے۔ اس سے اس مسئلے کی نزاکت کا بھی اندازہ ہوسکے گا۔

البتہ شروع ہی میں یہ عرض کر دینا لازم ہے کہ مسلم لیگ پاکستان کی منہ بولی ماں بنتی ہے۔ اپنی اس حیثیت میں وہ پاکستان کی واحد وارث چلی آ رہی ہے۔ مسلم لیگ کی یہ حیثیت، پاکستان کے خالق جماعت، کی وجہ سے عمومی طور پر تسلیم کی گئی ہے، البتہ ایک محدود نقطہ نظر اس حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ مسلم لیگ کو خلاق پاکستان یا خالقہ پاکستان ہونے کے باوجو، داپنی اہلیت ثابت کرنا پڑے گی۔ اگر یہ اپنی اہلیت، کار کردگی سے، ثابت نہ کر سکی تو اس کے دعوے کا حقیقی جواز ختم اور اس کی حیثیت غصب میں بدل جائے گی۔ یہی بات سید حسین شہید سہر وردی کا منشا تھا۔ اس کے نتیجے میں سہروردی کے ساتھ کیاہوا، ان کی خدمات کو کس طرح گہنایا گیا، یہ ذمہ دارانِ مسلم لیگ پر ایک لمبی فرد جرم ہے۔ اتنا تو سوال کیا جا سکتا ہے کہ سہر وردی صاحب ۱۹۳۶ء کے بنگال اسمبلی کے انتخابات میں دو نشستوں سے منتخب ہوئے جب کہ خواجہ ناظم الدین اپنی نشست ہا ر گئے۔ سہر وردی نے ایک نشست خالی کی اور اس نشست سے خواجہ ناظم الدین کو منتخب کرایا۔ سہر وردی متحدہ بنگال کے پارلیمانی قائد اور وزیر اعلی منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان تک وہ اس منصب پر فائز رہے۔ بنگال تقسیم ہوا اور پاکستان بنا تو انہوں نے اس منصب کا چارج ہندی بنگال کے پارلیمانی قائد کو منتقل کیا ۔ پاکستان بنا تو سہروردی نے ہندی بنگال سے پاکستانی بنگال آنا چاہا تو خواجہ ناظم الدین نے ان پر پاکستانی بنگال آنے پر پابندی لگا دی۔ ان واقعات کی تفصیلات کے لیے سید حسین شہید سہروردی کی یادداشتوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ یادداشتیں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے ۲۰۰۹ء میں چھپی ہیں۔ 

خواجہ ناظم الدین کی طرح لیاقت علی خان بھی مسلم لیگ میں مرد ثانی کے مرتبے پر رہے۔ ان کا رویہ بھی جناب سہروردی کے بارے میں اسی قسم کا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ ناظم الدین کی جانب سے سہروردی کو بنگال میں داخلے سے روکنا اپنے طور پر نہ ہو وزیر اعظم لیاقت علی خان کے اشارے پر ہو۔ وجہ یہ ہے کہ ناظم الدین اپنی طبیعت کے لحاظ سے اس طرح کا فیصلہ خود نہیں کر سکتے تھے۔ البتہ مولاے اعلیٰ کی بات کو ٹالنے کی ان میں ہمت نہیں تھی۔ بعد ازاں حسین شہید سہروردی کی قیام پاکستان کے لیے خدمات کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ ان پر غداری کا الزام تک لگایا گیا ۔ ایوب خان تک معاملات پہنچتے پہنچتے تو زیادہ ہی بگڑ چکے تھے۔ ایوب خان خوشامد اور سازش کی بیساکھیوں پر چل کر اقتدار کو غصب کرنے میں کامیاب ہوئے، مگر وہ خلا میں رہ رہے تھے۔ لیاقت اور ناظم الدین بہر حال ایک سیاسی پس منظر رکھتے تھے۔ ایوب خان ایسے پس منظر سے یکسر محروم تھے۔ ان کے پاس تو سہر وردی سے گلو خلاصی کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔ تفصیلات کا موقع نہیں۔ ہم یہاں جناب مجید نظامی کی ایک گفتگو کا مختصر اقتباس درج کر کے بات بڑھائیں گے:

’’مجید نظامی کہتے ہیں کہ ہماری تاریخ میں ایسی اموات پر سوالیہ نشان موجود ہیں۔ ۔ ۔ ایسی اموات کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کون کس طرح موت کے تاریک راستوں کا حصہ بن گیا۔ پاکستان کے ایک سابق وزیر اعظم سید حسین شہید سہروردی بیروت میں مارے گئے۔ پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان راولپنڈی کے جلسے میں مارے گئے اور ان کے قاتل سید اکبر کو پولیس پہرے میں مار دیا گیا۔ بانی پاکستان قائد اعظم گورنر جنرل کی حیثیت سے شدید علالت کے باعث کوئٹہ سے کراچی آ رہے تھے تو وزیر اعظم لیاقت علی خان انہیں ریسیو کرنے نہیں آئے، جو ایمبولینس ان کے لیے بھیجی گئی تھی ائیر کنڈیشنر کے بغیر تھی اور اس کا انجن راستے میں فیل ہو گیا وہ سڑک کے کنارے کھڑی رہ گئی۔ اسی طرح ضیا الحق ہوا میں مارے گئے، جس حادثہ میں امریکہ کا سفیر بھی مارا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ ضیا الحق کیس میں جنرل اسلم بیگ زندہ ہیں مگر وہ روشنی نہیں ڈالتے۔ ۔ ۔ لہذا اس قسم کی اموات پسِ پردہ اندھیروں میں چلی جاتی ہیں۔ ۔ ۔ مادر ملت کو کس نے مارا۔ یہ ابھی تک راز ہی ہے لیکن گذشتہ روزایک پیر پختہ کار پیرزادہ شریف الدین صاحب کا بیان نظر سے گزرا کہ محترمہ کو ان کے پشتو سپیکنگ ملازم نے ڈنڈوں سے مارا تھا۔‘‘ (’’جب تک زندہ ہوں، مجید نظامی کی کہانی ‘‘ مرتبہ عائشہ مسعود، شائع کردہ فیکٹ پبلیکیشنز اسلام آباد صفحہ نمبر ۶۶)

سہر وردی کو پاکستانی سیاست میں پابند کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ تحریک پاکستان میں ان کی خدمات لیاقت علی اور ناظم الدین سے بہر حال زیادہ تھیں۔ لیاقت علی کو تو قائد اعظم کا دست راست ہونے کا edge حاصل تھا۔ سہر وردی کا سیاسی کردار بظاہر بنگال تک محدود تھا مگر حقیقت میں وہ مسلم لیگ میں بر صغیر کی سطح کے قائد تھے۔ تحریک پاکستان میں ان کی خدمات تاریخ کا حصہ ہو گئی ہیں۔ اس کے باجود ان کو سیاست پاکستان سے باہر نکالنے کے لیے جو کچھ کیا گیا وہ پا کستان کی سیاست کے مزاج کی تشکیل میں بنیادی کجی کی وجہ سے ہی تھا۔ ہمیں شک پڑتا ہے کہ حیات سدید کے پیش لفظ میں مجید نظامی کی مندرجہ بالا سطور کا کچھ تعلق اس کجی سے بھی ہے۔ اگرچہ مجید نظامی کسی کے حریف نہیں۔ جب کہ لیاقت علی خان تو واضح طور پر سہر وردی مرحوم کے حریف تھے۔ 

اس کجی کو اختیار کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔ عوامی سطح پر اور صلاحیت کے اعتبار سے طاقت ور حریف کو نیچا دکھانے کے لیے، اس طرح کے منفی حربے اس لیے اختیار کیے جاتے ہیں کہ اپنی مرضی کی پالیسیاں اختیار کی جائیں۔ ایسی پالیسیاں جن کا پبلک کی سطح پر جواز پیش کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ آئیے دیکھیں لیاقت علی خان نے اس مملکت خدا داد کے ساتھ کیا کیا۔ ان کا سب سے بڑا ’’کارنامہ ‘‘ ایوب خان کو سپاہ پاکستان کا سربراہ مقرر کرنا تھا۔ ایوب خان نہایت حریص شخص تھا۔ قائد اعظم اس کو بے حد نا پسند کرتے تھے اور اسے فوج سے فارغ کر دینا چاہتے تھے۔ وہ مہاجرین کی پر امن اور محفوظ منتقلی میں اپنی ذمہ داریوں سے بے پرواہ رہا۔ اس کے باوجود لیاقت علی خان کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس میں ایوب خان کا خوشامدی رویہ بار آور ہو کر رہا۔ یہ تقرری میرٹ کے خلاف تھی۔ اس کے نتائج سے آج تک ملک نہیں نکل سکا۔ تاریخ پاکستان کی تمام تر سیاہی اسی ایک خلاف میرٹ فیصلے سے شروع ہوئی۔ 

جناب لیاقت جھرلو انتخابات کے موجد ہوئے۔ خارجہ پالیسی میں امریکی غلامی کے بیج بونے کا کریڈٹ بھی جناب لیاقت علی خان ہی کو جاتا ہے۔ کشمیر میں یکم جنوری ۱۹۴۹ء کو جنگ بندی قبول کرنے کے بعد،کشمیر محاذ پر لڑنے والے بہادر افسروں کو چن چن کر عتاب کا نشانہ بنایا گیا۔ پنڈی سازش کیس بظاہر ایک ڈرامہ معلوم ہوتا ہے۔ پھر جماعت کی سیادت اور حکومت کی سربراہی کو اپنی ذات میں جمع کرنے کی بدعت بھی جناب لیاقت علی نے ایجاد کی۔ ان کو مزید خدمات کا موقع نہ ملا اور شہید ہو گئے۔

اس مرحلہ پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مملکت پاکستان کی سیاست کی یہی ادائیں، صف اول کے زعمائے پاکستان کے شایان شان تھیں۔ یہ نازک ادائیں کیا کوئی مستحکم سیاسی ماحول تشکیل دے سکتی تھیں۔اس پس منظر میں ہم جناب مجید نظامی سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ ان کا جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کو یہ مشورہ کہ وہ سیاست سے باز رہیں، اس لیے کہ وہ قیام پاکستان کے مخالف رہے ہیں۔ اس میں معقولیت کا کون ساپہلوہے۔

مولانا مودودی اور جماعت اسلامی نے قیام پاکستان کی مخالفت کی یا نہیں کی۔ اگر کی بھی تو وہ کسطرح اور قدر۔ اس کی نوعیت کیا تھی۔ اس کی تفصیل ہم بعد کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ قیام پاکستان کی مخالفت کی بنیاد پر پاکستانی شہریوں کے سیاسی حقوق کا تعین ہو گا۔ قائد اعظم تو اس پہلو سے مسلم اور غیر مسلم تک کے امتیاز کو بھی خاطر میں نہیں لانا چاہتے تھے۔ ترقی پسند حلقے قائد کی تقریر کو اپنے مفاد میں تروڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے اسے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں پر کلہاڑے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ہمارا منشا یہ تو نہیں ہو سکتا۔ البتہ مسلمانوں اور پاکستانی شہریوں کے حقوق کے بارے میں قیام پاکستان کی حمایت یا مخالفت کی بنیاد پر فیصلہ کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ ہم دیکھیں گے قائد اس بارے میں کیا فرماتے ہیں۔

قائد کے رہنما اصول

قائد اعظم نے ۱۱۔ اگست ۱۹۴۷ء کو دستور ساز اسمبلی سے اپنے صدارتی خطبہ میں ارشاد فرمایا:

’’مجھے معلوم ہے کہ ہم میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ہندوستان کی تقسیم سے متفق نہیں ہیں اور بنگال و پنجاب کی تقسیم پر اعتراض کرتے ہیں ۔ لیکن اب جب کہ سب کچھ ہو چکا ہے اور اسے قطعیت حاصل ہونے کے بعد قبول کر لیا گیا ہے۔ ہم سب اس کے پابند ہیں۔ اب ہمارا فرض ہے کہ ہم تقسیم کے اس معاہدے پر ایمان داری اور با وقار طریقے سے عمل کریں۔ تقسیم بہر صورت ہونا تھی۔ ہندوستان اور پاکستان، دونوں طرف ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو اس سے متفق نہ ہوں۔ جو اسے پسند نہ کریں۔ مگر میرے خیال میں مسئلے کا کوئی اور حل ممکن نہیں تھا۔ مجھے یقین ہے کہ تاریخ کا فیصلہ تقسیم کے حق میں ہو گا۔ لیکن یہ تجربہ سے واضح ہو گا۔ یہ واضح ہے متحدہ ہندوستان کا کوئی تصور عملی طور پر ممکن نہیں تھا۔ میرے فہم میں اس پر اصرار کا نتیجہ مکمل تباہی ہوتا۔ میری رائے درست ہو سکتی ہے اور غلط بھی۔ اس کے لیے ہمیں تاریخ کے فیصلہ کا انتظار کرنا ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ اگر ہم اس عظیم مملکت پاکستان کو خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں عوام الناس خاص طور غریب لوگوں کی بھلائی کے لیے یکسوئی سے کام کرنا ہو گا۔ اگر ہم ماضی کو فراموش کر کے باہم تعاون کے جذبے سے کام کریں گے۔ اس بات سے کوئی واسطہ نہ رکھیں کہ کوئی آپ سے کیا تعلق رکھتا ہے۔ کسی کا کون سا رنگ ہے۔ ذات کیا ہے اور وہ کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمیں اول و آخر یہ دیکھنا ہو کہ وہ مملکت کا شہری ہے۔ وہ برابر کے حقوق اور مراعات کا حق دار ہے۔ ایسی صورت میں ہماری ترقی اپنے عروج پر ہی نہیں بلکہ اس کی ایک انتہا کے بعد دوسری انتہا سامنے ہو گی۔ ۔ آپ مکمل طور پر آزاد ہیں۔ اپنے مندروں، مسجدوں اور دیگر عبادت خانوں میں جانے کے لیے پوری طرح آزاد ہیں۔ کسی پر کوئی روک ٹوک نہیں ہو گی۔ ۔ ۔ اب میرا خیال یہ ہے کہ ہمیں اس مثالی صورت حال کو سامنے رکھنا چاہیے۔ وقت کے ساتھ کوئی شخص بھی مذہبی بنیاد پر تعصب نہیں برتے گا۔ کوئی متعصب ہندو رہے گا اور نہ متعصب اور تنگ نظر مسلمان۔ میرا منشا یہ نہیں کہ میں مذہبی حوالے یہ بات کر رہا ہوں۔ مذہب تو ہر ایک کا شخصی معاملہ ہے۔ میرا منشا سیاسی لحاظ سے مملکت کے ایک شہری کے طور پر ہے۔ جہاں میرا تعلق ہے میں ہمیشہ بے لاگ انصاف پر کار بند رہوں گا۔ کسی تعصب، وابستگی کے بغیر۔ کامل عدل اور غیر جانب داری میرا طریقہ ہو گا۔‘‘ (Jinnah Speeches as Governor General 1947-48 page 8-10)

کیا مجید نظامی سے یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ قائد اعظم کے اس واضح فرمان کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کبھی اقتدار کے ایوانوں کے لطف اٹھا آئے ہوتے تو ہم ان کی بات کا نوٹس ہی نہ لیتے۔ ایک صاحب کردار اور عظیم صحافی کے طور پر، ان کے پیش لفظ سے مجھے سخت مایوسی ہوئی ہے۔ ایک عظیم شخصیت کی سوانح کا پیش لفظ لکھتے ہوئے جناب نظامی کا یہ اندازِ تحریر، نرم سے نرم الفاظ میں غیر ذمہ دارانہ ہے۔ در اصل سوچنے کا یہی انداز ہے جس نے ہمارے ہاں سیاسی ماحول اور کلچر کی تعمیر کی ہے۔ ایسی تعمیر میں خرابی کی یہی صورت مضمر ہے۔ اب تو یہ تعمیر اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے۔ اب عمارت بوسیدہ ہوچکی ہے اور اس نے گرنا شروع کر دیا ہے۔ مگر کتنے بڑے نقصان اور تباہی و ہلاکت کے بعد، اس کا قصہ بیان کرنے لگیں تو قلم تھک جائے گا۔ قرطاس ختم ہو جائے گا اور لکھنے والے کی ہمت جواب دے جائے گی۔ ایک دو برس کی بات نہیں، زائد از نصف صدی کا معاملہ ہے۔

اجارہ دارانہ رجحان

تحریک پاکستان میں شرکت کی بنیاد پر اجارہ داری کا رجحان، شاید قائد زندہ رہتے تو رواج نہیں پا سکتا تھا۔ اگر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کے طور پر تقرری میں سب سے بڑی آبادی کے نمائندے کے طور پر حسین شہید سہر وردی کو جگہ دی جاتی تو یقینی طور پر پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔ لیاقت علی کی تقرری کن حالات میں ہوئی۔ کون سی مصلحتیں اس کا محرک ہوئیں، پردہ تاریخ میں مستور ہیں۔ اس کے بعد اجارہ دارانہ کردار پوری طرح چھا گئے۔ جناب لیاقت علی خان اپنے پونے چار سالہ وزارت عظمے کے دور میں ان رجحانات کو اتنا مستحکم کر گئے کہ بعد میں ان کو کوئی چیلنج کرنے والا سامنے ہی نہ آیا، آیا بھی تو کسی نے اس کو اہمیت ہی نہ دی۔ نتیجہ کیا نکلا ؟

یاران بزم !صبح ِ وطن سی عزیز شے 
کیوں کر ہوئی ہے شام غریباں نہ پوچھئے

ہم تفصیل میں نہیں جانا چاہتے، مشیر کاظمی کا نوحہ درج کر دیتے ہیں۔ یہ نوحہ یوم اقبال پر یونیورسٹی سینٹ ہال میں، میں نے خود بھرے مجمع میں سنا۔ وہ بھی رو رہے تھے اور مجمع بھی رو رو کر نڈھال ہو رہا تھا:

پھول لے کر گیا، آیا روتا ہوا، بات ایسی ہے کہنے کا یارا نہیں

قبر سے آ رہی تھی صدا، یہ چمن مجھ کو آدھا گوارا نہیں

قبر پر قوم ساری تھی نوحہ کناں، آنکھ سے آبگینے تھے پھوٹے ہوئے

چند ہاتھوں میں گلشن کی تصویر تھی، چند ہاتھوں میں آئینے ٹوٹے ہوئے

سب کے دل چور، سب ہی مجبور تھے، بیکسی وہ کہ تابِ نظارا نہیں

شہرِ ماتم تھا اقبال کا مقبرہ، تھے عدم کے مسافر بھی آئے ہوئے

خوں میں لت پت کھڑے تھے لیاقت علی، روحِ قائد بھی تھی سر جھکائے ہوئے

کہہ رہے تھے سبھی، کیا غضب ہو گیا، یہ تصور تو ہرگز ہمارانہیں

سرنگوں قبر پہ تھا منارِ وطن، کہہ رہا تھا کہ اے تاجدارِ وطن

آج کے نوجواں کو بھلا کیا خبر، کیسے قائم ہوا یہ حصارِ وطن

جس کی خاطر کٹے قوم کے مرد و زن، ان کی تصویر ہے، یہ منارا نہیں

کچھ اسیرانِ گلشن تھے حاضر وہاں، کچھ سیاسی مہاشے بھی موجود تھے 

چاند تارے کے پرچم میں لپٹے ہوئے، چاند تاروں کے لاشے بھی موجود تھے

میرا ہنسنا تو پہلے ہی اک جرم تھا، میرا رونا بھی ان کو گوارا نہیں

کیا فسانہ کہوں ماضی و حال کا، شیر تھا ایک میں، ارضِ بنگال کا

شرق سے غرب تک میری پرواز تھی، ایک شاہیں تھا میں ذہنِ اقبال کا

ایک بازو پہ اڑتا ہوں میں آج کل، دوسرا دشمنوں کو گوارا نہیں

اس چمن کے تھے بلبل ستائے ہوئے،اس چمن کے بھی بلبل ستائے ہوئے

آج شاخ و شجر، رنگ بوئے چمن، باغبانوں سے ہیں خوف کھائے ہوئے

وہ نہ زندوں میں ہیں اور نہ مردوں میں ہیں، ایسی موجیں ہیں جن کا کنارا نہیں

وہ جو تصویر مجھ کو دکھائی گئی، میرے خونِ جگر سے بنائی گئی

قوم کی ماؤں بہنوں کی جو آبرو، میرے خون جگر سے سجائی گئی

موڑ دو آبرو، یا وہ تصویر دو، ہم کو حصوں میں بٹنا گوارا نہیں

یقین کیجیے، اگر مشیر کاظمی لاہور میں علامہ اقبال کی قبر کے بعد، یہی پھول لے کر، کراچی میں قائد کے مزار پر بھی جاتے تو یہی صدا آتی اور یہی نوحہ بلند ہوتا۔ میں یہاں تک کہوں گا کہ اگر وہ حمید نظامی، چوہدری نیاز علی یا مولانا مودودی کی نشان ہاے خاک پر جا کر یہ نوحہ پڑھتے تو یقینی طور پر یہی صدائیں آتیں۔ لیکن یہی پھول لے کر اگر مشیر کاظمی تو کیا، کوئی بھی لیاقت علی خان، شیخ مجیب الرحمان، ممتاز محمد دولتانہ، ذوالفقار علی بھٹو، ایوب خان، یحییٰ خان اور ضیاء الحق جیسے وارثان اقتدار کی قبر پر جاتے تو کوئی صدا بلند ہوتی؟ ہوتی تو وہ یہی ہوتی یا اس سے مختلف ہوتی؟ اجارہ دارانہ رجحانات کا نتیجہ یہاں تک پہنچا کہ دور مشرف میں ماؤں بہنوں اور نوخیز پھولوں تک کو فروخت کر دیا گیا۔ 

اس کے تذکرے کی تفصیل سے بچتے ہوئے عافیہ صدیقی کی امریکی عدالت کے چوراسی سال کی سزائے قید پر لکھی ہوئی ایک نظم نقل کر کے حیات سدید کی طرف آتا ہوں۔ یہ نظم ایک غیر معروف شاعر، ناصر بشیر کے احساساتِ خونچکاں ہیں۔ مصرِ عِ اول نظم کا عنوان ہے،

میرے منصف نے عجب فیصلہ لکھا ہے مرا
ایک میں ہی نہیں، حیران زمانہ ہے مرا
شہر والو! مجھے حیرت سے نہ دیکھو ایسے
یہ مرے اشک نہیں، خونِ تمنا ہے مرا
روح یہ پوچھتی پھرتی ہے گلی کوچوں میں
مجھ کو بتلاؤ! بدن کتنے میں بیچا ہے مرا؟
دیکھتی رہتی ہوں ،بیٹھی در و دیوارِ قفس
دل رہا ہونے کی امید پہ ہنستا ہے مرا
آج بھی قفل پڑا ہے، درِزنداں پہ وہی
آج بھی دل ، کسی آہٹ کو ترستا ہے مرا
موج در موج مری پیاس بڑھی جاتی ہے
یہ الگ بات ،مری آنکھ میں دریا ہے مرا
ہیں میرے اہل وطن میرے لیے محو دعا
کس بلندی پہ ،مقدر کا ستارہ ہے مرا
سرخ رو ہو کے کبھی، اپنے وطن آؤں گی
میں ہوں سچائی، مرے ساتھ زمانہ ہے مرا

حیاتِ سدید میں جنابِ مجید نظامی کے پیشِ لفظ میں درج، جملوں کو دیکھ کر ہم نے ابتدائی تاثر کے طور پر جو کچھ عرض کیا ہے، اس سے آگے ذرا اس پیش لفظ پر کھل کر گفتگو کی ضرور ت ہے۔ البتہ اتنا شروع ہی میں عرض کر دیتا ہوں کہ یہ حیات سدید ہے کتابِ سدید نہیں۔ استاذی و عزیزم پروفیسر سلیم منصور خالد اس کتاب کی تقریب رونمائی میں مولف کی تقریر کے حوالے سے قولِ سدید کی تلاش میں خواہ مخواہ سر گرداں ہوئے(نوائے وقت ۱۴۔تا ۱۶ نومبر ۲۰۱۰)۔ کتاب میں مرحوم و مغفور چوہدری نیاز علی خان کے حوالے سے خطوط اور دیگر دستاویزات تو قولِ سدید کا صحاح ہیں مگر جناب مولف نے جہاں کہیں خود سے کچھ لکھا ہے یا اس میں دوسروں کی جو تحریریں، بھرتی کی صورت میں جمع کی ہیں وہ خالص کھوٹ ہے۔ اگرچہ جناب مجید نظامی پیش لفظ میں یہی فرماتے ہیں کہ کے ایم اعظم صاحب نے ’’دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی‘‘ کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کتاب کو بغور پڑھنے کا کسی کے پاس وقت ہو تو پتہ چلتا ہے کہ دودھ اور پانی کو الگ الگ کرتے ہوئے جناب کے ایم اعظم صاحب نے خود کتنا پانی شامل کیا اور یہ پانی شامل کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ پانی جوہڑ سے لے رہے ہیں یا نہر سے۔

جناب کے ایم اعظم کی صوابدید ہے۔ ہم اس صورت حال کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ کہیں گے کہ چوہدری نیاز علی مرحوم نے اپنی عمر بھر کی کمائی سے، جمال پور ضلع پٹھانکوٹ (بھارت) میں دارالاسلام تعمیر کیا۔ متحدہ ہند کی تقسیم کے موقعہ پر، دارالاسلام کے موسس و واقف، اس ٹرسٹ کو پٹھانکوٹ میں چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ پاکستان آ کربھی دارالاسلام کے تصور نے ان کو بے چین رکھا۔ چنانچہ انہوں نے اس کا دوسرا ایڈیشن تعمیر کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ ان کوششوں میں انہوں نے سرکار مدار میں اپنے استوار رابطے آزمائے۔ سرخ فیتے کو ناپنے میں ہر ممکن جادہ پیمائی کرتے ہوئے، انہوں نے ’’کوہ کن‘‘ جیسے مراحل سر کیے۔ تب جا کر اس تصوراتی نقشے میں عملی رنگ دکھائی دینے لگا۔ وہ دارالاسلام اول (پٹھانکوٹ) میں سید مودودی اور ان کے کچھ ساتھیوں کو اقامت پر مائل کر چکے تھے مگردارالاسلام دوئم (جوہر آباد) میں اقامت کے لیے، کوئی نمایاں شخص ان کی دستبرد میں نہ آ سکا۔ اس مقصد کے لیے تگ و دو میں انہوں نے کوئی کمی نہ چھوڑی۔

خوابوں کی عملی تعبیر بے نتیجہ ہونے پر جب کسی مشنری شخص کے قلب و ذہن، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں تو زندگی موت سے زیادہ بد تر اور مایوسی کا شکار ہوجاتی ہے۔ چودھری نیاز علی خان کو تو ان مراحل سے پار ہوتے ہوئے قبر کے لیے دو گز جگہ تو نصیب ہو گئی۔ یہ ان کی خوش نصیبی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی قبر کو ان کی اولاد نے بے نشان کر دیا۔ اس کا گلا جناب کے ایم اعظم صاحب نے کتاب میں بھی کیا ہے۔ وہ یہ گلا کس سے کر رہے ہیں، مولانا مودودی سے، جماعت اسلامی سے یا اپنے برادر بزرگ سے یا اپنے آپ سے، اس بارے میں مصنف نے چپ سادھ لی ہے۔ حالانکہ اس پہلو سے ان کو اپنے والد کے جائز وارث ہونے کے ناطے سے کتاب میں سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت تھی۔

آئندہ صفحات میں ہم ’’حیاتِ سدید‘‘ پر تفصیل سے گفتگو کریں گے۔

 (جاری)

تعارف و تبصرہ

(نومبر ۲۰۱۱ء)

Flag Counter