تاریخ کی درستی: بھٹو سے فیض تک

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

سلمان تاثیر کے قتل کے بعد، توہین رسالت کیس کو تبدیل کرنے کے بارے میں حکومت پر بین الاقوامی دباؤ ختم ہوا، چنانچہ کم و بیش ہر روز زعیمان مملکت قانون میں کسی طرح کی تبدیلی نہ کرنے کا یقین دلاتے رہے۔ رحمان ملک کی یقین دہانی کو تو کوئی مانتا نہیں تھا۔ آخر کار وزیر اعظم صاحب نے پارلیمنٹ کے بھرے اجلاس میں یقین دلایا۔ اس کے باوجود پبلک احتجاج جاری رہا۔ اسی اثنا میں ریمنڈ ڈیوس کا قصہ شروع ہو گیا۔ حکومت پھر دباؤ میں آگئی۔ دو اڑھائی مہینے تک دباؤ چلتا رہا۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ہی نہیں، فوج، آئی ایس آئی اور عدلیہ نے بھی ڈیوس کی رہائی اور پاکستان سے رخصتی میں بھر پور حصہ ڈالا۔ مقتولوں کے ورثا لا پتہ ہیں۔ لگتا ہے کہ سینکڑوں دیگر لا پتہ لوگوں میں وہ بھی شامل ہو گئے ہیں۔ ابھی ان کی تلاش اور جستجو دم نہیں توڑ پائی تھی کہ مجید نظامی کے بقول، مرد حر نہ کہ مردِ حریت جناب آصف علی زرداری نے تاریخ کی درستی کے نام پر ریفرنس دائر کر دیا ہے۔ اس کی رو سے وہ بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دلوانا چاہتے ہیں۔ اس ریفرنس کی پیروی کا کریڈٹ بھی اس شخص کو گیا جس کے بارے میں روایت یہ ہے کہ اس نے بھٹو کی پھانسی پر مٹھائی تقسیم کی تھی۔ کریڈٹ کی تقسیم حاکم مطلق کے ہاتھ میں ہے۔ 

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

کمال ڈرامہ ہوا۔ سپریم کورٹ میں ریفرنس کی پیروی کے لیے وفاقی وزیر قانون پیش ہوگئے۔ یوں جیسے جانتے نہیں تھے کہ انہوں نے اپنا لائسنس وکالت خود وزارت کی خاطر معطل کرایا ہوا ہے۔ عدالت نے وزیر صاحب کو پیروی کی اجازت کے لیے وزارت سے مستعفی ہونے کو کہا تو فوراً ہی استعفا پیش کر دیا۔ نالائقی یا ہشیاری کی حد دیکھیے کہ وزیر قانون چیف جسٹس کو استعفا پیش کر رہے ہیں۔ در اصل ڈرامہ کیا جا رہا تھا۔ میڈیا میں سٹوری بنانا مقصود تھا۔ صدرِ مملکت کی نظر میں نمبر بنائے جا رہے تھے۔ کچھ حرج نہیں، نمبر گیم جاری رہے۔ تاریخ کی درستی کا عمل شروع ہو لے، اس عمل کے دوران نمبر گیم الٹنے کا سلسلہ شروع ہو گاتو پھر کسے ہوش رہے گا۔ اس گیم کے حصہ دار کنتی بھول جائیں گے۔ بہر حال تاریخ کی درستی کا عمل تو اسی روز شروع ہو گیا تھا جب افتخار حمد چوہدری نے چھ وردی پوش جرنیلوں (بشمول جنرل کیانی) کی جانب سے مستعفی ہونے کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اڑھائی سال تک، پاکستان کے گلی کوچوں میں جب یہ نعرے لگتے تھے، ’’کرنل جنرل ۔ ۔ بے غیرت‘‘ تو یہ تاریخ کے پہیے کو الٹا پھیرنے کی کاوش ہی تو تھی۔ نتیجتاً یہ عوام کا فیصلہ سامنے آ گیا۔ یہ ایک فیصلہ تھا جس نے ساٹھ سالہ نظریہ ضرورت کو لنگوٹی چھوڑے بغیر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ لیکن یہ عوام کا فیصلہ آخری فیصلہ تو نہیں تھا۔ ابھی بہت سے فیصلے باقی ہیں۔ ہم جناب زرداری کے ریفرنس کا خیر مقدم کریں گے۔ ریفرنس پر فنی فیصلہ تو سپریم کورٹ نے کرناہے، لیکن یہ امر یقینی ہے کہ فیصلہ جو بھی ہو گا، حکومت تو صرف اس کا احترام کرے گی، مگر عوام فیصلے کو اپنی پراپرٹی کے طور پر دل و جان سے عزیز تر جانیں گے۔

اس مرحلہ میں ہماری گذارش یہ ہے کہ تاریخ کی درستی کا عمل بڑا احسن ہے، مگر کسی ترتیب سے شروع ہو تو زیادہ اچھا ہوگا۔ زمانی ترتیب سے ریمنڈ ڈیوس کیس ۲۰۱۱ء کا کیس ہے۔ یہ تازہ ترین کیس ہے۔ اس کے بر عکس راولپنڈی سازش کیس ۱۹۵۱ء ہماری ملکی تاریخ کا پہلا کیس تھا۔ کوئی بھی ترتیب اختیار کی جا سکتی ہے۔ پہلے کیس سے شروع کریں یا تازہ ترین کیس سے، یہ حکومت کی مرضی ہے۔ چلیے اگر درستی کا عمل بھٹو کیس ہی سے کرنا ہو تو اس پر بھی اعتراض نہیں، مگر اس کیس کو مرکزی کیس مان لیا جائے اور اس سے پیچھے اور آگے، تقدیمی و تاخیری ترتیب بھی اختیار کی جا سکتی ہے۔ تاریخ تو اپنا عمل شروع کر چکی ہے۔ وہ ہماری اختیار کردہ ترتیب کی پابند بھی نہیں۔ 

بھٹو صاحب کا مقدمہ کھلی عدالت میں چلایا گیاتھا۔ ہر روز بھٹوصاحب کو کوٹ لکھپت جیل سے سماعت کے لیے لایا جاتا تھا۔ مرڈر ٹرائل کے نامور ترین وکلا نے ان کے کیس کی پیروی کی۔ سپریم کورٹ میں اپیل اور نظر ثانی کی سماعت بھی کھلی عدالت کے طور پر ہوئی۔ ساری دنیا نے سماعت کا منظر دیکھا۔ ٹرائل کے دوران ایک ایک گواہ پر کئی کئی روز جرح جاری رہتی تھی۔ سپریم کورٹ میں عدالت نے بھٹو صاحب کے وکلا کے ہوتے ہوئے بھی بھٹو صاحب کو خود طلب کر کے بحث کرنے کا موقع دیا۔ بھٹو صاحب نے یہ موقع استعمال کیا۔ پھر عدالت پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ اس کے بعد فیصلہ ہوا۔ فیصلہ قانونی جرائد میں چھپا ہو اہے۔ سماعت کے دنوں میں روزانہ کی کارروائی لفظ بلفظ چھپتی تھی۔ بھٹو صاحب کو کوٹ لکھپت جیل سے عدالت عالیہ میں پیشی کے لیے لانے اور سماعت کے بعد واپس جیل لے جانے کی تمام کارروائی رواں تبصرے کی طرح اخبارات کی زینت بنتی۔ کیس کا فیصلہ ہوا تو فیصلے کے متن کے اردو ترجمے بھی شائع ہوئے۔ اب ریفرنس کی کارروائی شروع ہوئی ہے تو لوگ لمحہ بہ لمحہ ٹی وی چینلز کے ذریعے با خبر ہو رہے ہیں۔ 

راولپنڈی سازش کیس کی صورت دوسری تھی۔ اس کی سماعت خصوصی عدالت نے کی تھی۔ جملہ سماعت بھی بند کمرے میں جیل کے اندر ہوئی۔ رپورٹنگ کی اجازت نہیں تھی۔ سماعت کے لیے خصوصی قانون بنایا گیا۔ کیس کے بارے میں جملہ معلومات کو مملکت کا راز قرار دیا گیا۔ کیس کی ایف آئی آر، سماعت کی کارروائی اور فیصلہ، سب کچھ خفیہ ہے۔ کسی کو اس کی آج تک بھنک نہیں پڑنے دی گئی۔ ملزمان نے کیس کی پیروی کے لیے سید حسین شہید سہروردی کو وکیل رکھا۔ سہروردی نے کیس میں گواہ کے طور پیش ہونے والے فوجی افسران پر فن جرح کے جوہر دکھائے تو مسلح افواج کے سربراہ ایوب خان کے پسینے چھوٹ گئے۔ ایوب خان کی ’’فرینڈز، ناٹ ماسٹرز‘‘ ملاحظہ فرما لیں، لگتا ہے کہ کتاب لکھواتے ہوئے بھی پسینہ خشک نہیں ہوا تھا۔ ہو سکتا ہے، قبر میں بھی یہ پسینہ خشک نہ ہوا ہو۔

جناب زرداری نے موجودہ سال کو فیض کا سال قرار دیاہے۔ اس حوالے سے اس کیس کا ریفرنس بھی دائر ہو جائے تو نہایت بر موقع ہوگا۔ تاریخ کی درستی کا اطلاق صرف عدالتی فیصلوں پر ہی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مجلس قانون ساز کو بھی اپنے گھر میں جھاڑو پھیرنا چاہیے۔ پارلیمان میں سرکاری طور پر ایک قرار داد پاس ہونی چاہیے جس میں ۱۹۵۱ء کے راولپنڈی سازش کیس کی سماعت کے لیے بنائے گئے خصوصی قانون کو سیاہ قانون قرار دیا جائے۔ قرارداد میں ۱۹۵۱ء کے اس امتیازی قانون کو پاس کرنے والی دستوریہ یا مقننہ کے ارکان کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ البتہ مشکل یہ ہے کہ ہماری معلومات کے مطابق ۱۹۵۱ء کے راولپنڈی سازش خصوصی ٹربیونل ایکٹ پر اس وقت کی پارلیمنٹ میں جو بحثیں (debates) ہوئی تھیں، وہ مہیا نہیں۔ اگر وہ بحثیں فراہم ہو جائیں تو مولانا شبیر احمد عثمانی، ڈاکٹر عمر ملک جیسے بہت سے بڑے بڑے مقننین کے بارے میں لوگوں کو علم ہو جائے گا کہ انہوں نے اس سیاہ قانون کے بارے میں کیا کچھ ارشادات فرمایا تھا۔ واقعات کی جستجو کی جائے تو معلومات میسر نہیں۔ سرکاری سطح پر کیس کی کوئی تفصیل مہیا ہی نہیں۔ جب سرکاری سطح پر تفصیل نہ ہو تو افسانے اور کہانیاں راہ پالیتی ہیں۔ مگر ان کہانیوں کو اتنا احترام بھی حاصل نہیں ہوتا جتنا جعلی ڈگری کو حاصل ہوتا ہے۔ 

اس کیس کے بارے میں ایک کہانی ایوب خان کی ’’فرینڈز، ناٹ ماسٹرز‘‘ میں موجود ہے۔ ایوب خان کی سوانح میں بہت سی دوسری سازشوں کی تفصیلات بھی درج ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ایوب خان اس کتاب کا نام ’’سازش نامہ‘‘ رکھ لیتے تو یہ کتاب فٹ پاتھوں پر دو دو روپے میں فروخت نہ ہوتی۔ وجہ یہ ہے کہ ان سازشوں کا مرکزی کردار تو صاحب کتاب خود تھے۔ یہ کتاب اس وقت تک کی سازشوں کی مستند ترین تاریخ کا درجہ حاصل کر لیتی۔ بہر حال سچ یہی ہے اور رہے گا بھی کہ بغاوت کامیاب ہو جائے تو احسن الانقلاب اور ناکام ہو جائے تو سازش اور غداری کہلاتی ہے۔ اس کے باوجود تاریخ کا منصف کسی کو لٹکانے کاحکم دیتا ہے اور نہ ہی کسی کو پس دیوار زنداں بند بھیجتا ہے۔ وہ جب اپنا کام شروع کرتا ہے تو اس وقت تک فریقین مٹی میں مل چکے ہوتے ہیں۔ ۱۹۵۱ء کی راولپنڈی سازش کے مصنف اس وقت کے گورنر سرحد جناب آئی آئی چندریگر، زیر اعظم جناب لیاقت علی خان، ایوب خان اور ان سب کے قانونی باپ جناب جسٹس محمد منیر تھے۔ سازش کا الزام جنرل اکبر خان، بریگیڈیر صدیق اور فیض احمد فیض وغیرہ پر تھا۔ یک طرفہ تاریخ کی رو سے قصور وار ثانی الذکر ہی ہوں گے۔ آئیے ہم تاریخ کی درستی کی بات کو ترک کر کے تلواروں کے سائے میں مرتب کردہ تاریخ کے صفحات الٹنے کی کوشش کریں۔

سب سے پہلے ان سازشیوں میں سے جناب فیض احمد فیض کی گرفتاری کا منظر ملاحظہ فرمائیں۔

یہ ۱۹۵۱ء کی بات ہے۔ مارچ کی ۹ تاریخ۔ صبح کے ساڑھے چھ بجے۔ پاکستان کے ممتاز شاعر اور موقر انگریزی روزنامے پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر جناب فیض احمد فیض کے گھر کو پولیس نے گھیرا ہو اہے۔ پولیس والے باربار فیض صاحب کو آوازیں دے رہے ہیں۔ جناب فیض کی اہلیہ ایلیا شور سے بیدار ہوئیں۔ بالکونی سے نیچے جھانکا تو مسلح پولیس والے لان میں داخل ہو کر جمع ہو چکے تھے۔ ان کی تعداد خاصی زیادہ تھی۔ انہوں نے گھر کو گھیر رکھا تھا۔ اگلے روز صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہونے والے تھے۔ ان حالات میں فیض صاحب نے ایلیا کو پہلے سے بتا رکھا تھاکہ ان کو الیکشنز کے کافی بعد تک نظر بند کیے جانے کا اندیشہ ہے۔ اس نظر بندی کا منشا ان کو خاموش کرنا ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ فیض کی اہلیہ موقعہ کی صورت حال کے بارے میں کچھ بتا سکے، سپاہیوں نے دروازہ توڑنے کی کوشش کی اور مکان کے اوپر کا صحن پولیس والوں سے بھر گیا۔ وہ سب بندوقیں تانے ہوئے تھے۔

پولیس کے موجود افسران کو فیض کے جرم کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، مگر وہ فیض کو اپنے ساتھ لے جانے پر مصر تھے۔ فیض نے پاکستان ٹائمز کے اپنے ساتھی مظہر علی خان کے مشورہ کے بغیر ساتھ جانے سے انکار کردیا۔ اسی دوران مظہر علی خان گھر پر آگئے۔ ساتھ ہی پولیس نے غیر معینہ عرصے تک کی نظر بندی کا وارنٹ دکھایا۔ یہ وارنٹ بنگال ریگولیشن کے تحت جاری شدہ تھا۔ مذکورہ ریگو لیشن انگریز دور میں حکومت کے مخالفین کو قابو کرنے کے لیے وضع کیے گئے تھے۔ قانون کالعدم ہو چکاتھا۔ قانون کے کالعدم ہونے کی کسی کوکیاپروا ہو گی۔منشا تو اس کو استعمال میں لاکر فوری طور پر بندے کو قابو کرنا تھا۔ مظہرخان نے یقین دلایاکہ انتخابات سے پہلے کی مختصر نظر بندی ہے، لہٰذا فیض کو پولیس کے ساتھ جانے میں کسی ہچکچاہٹ کی ضرورت نہیں۔ اس طرح ان کو کچھ کپڑے اور بستر ہمراہ لینے کا موقع دیا گیا۔ پھر ان کو ایک جیپ کے ذریعے سرگودھا جیل لے جایا گیا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کو ان کی آمد کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔ جیل سپرنٹنڈنٹ فون پر رابطہ کررہاتھا کہ یکا یک وزیراعظم لیاقت علی خان نے ریڈیو پر آکریہ اعلان کیاکہ حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی گئی ہے۔ سازشیوں میں میجر جنرل اکبر خان چیف آف جنرل سٹاف، ان کی اہلیہ نسیم اکبر خان، کوئٹہ کے بریگیڈ کمانڈر بریگیڈیرعبداللطیف خان اور فیض احمد فیض گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ لیاقت علی خان نے منصوبے کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا، البتہ یہ کہا کہ سازشی پاکستان کی سلامتی اور استحکام کو طاقت کے زور پر نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ وزیر اعظم صاحب کا اچانک اعلان، عین صوبائی اسمبلی کے انتخابات (المعروف جھرلو انتخابات) سے عین ایک دن پہلے، بذات خود تمام تر سازشی اداؤں کا آئینہ دار نظر آتا ہے مگر اس کے لیے آنکھیں کھول کر دیکھنا پڑے گا۔

یہ تفصیلات فیض کی گرفتاری اور بعد میں وزیراعظم کے اعلان کی ہیں۔ 

سوال یہ ہے کہ ایک سویلین، جس نے شاید کبھی غلیل بھی نہ چلائی ہو، وہ فوج میں تعلقات عامہ کے افسر رہے۔ اب مکمل سویلین تھے۔ انہیں فوجی جرنیلوں کے ساتھ نتھی کر کے شریک سازش ظاہرکرنا کس طرح قابل یقین ہو گا۔ چلیے شواہد کا معاملہ ہے، مگر انہیں گرفتارکرنے کے لیے جوطریقہ اختیار کیاگیا، کیا کسی مہذب حکومت کا طرز عمل اسی طرح کا ہو سکتا ہے؟ چار سال ہی پہلے، طویل جد و جہد کے بعد، ہم نے آزادی حاصل کی تھی تو ہماری قومی حکومت، قائد اعظم کے خلیفہ اول کی یہ روش،ان کے شایانِ شان تھی؟ گرفتاری کے لیے صبح سویرے کا وقت، پھر مسلح پولیس کی بھاری نفری کا اس طرح فیض کے گھر پر ریڈ ایسے ہی تھا جیسے کسی دشمن ملک پر حملہ کرنا مقصود ہو۔ فوجیں دشمن پر حملہ کے لیے، بالعموم سورج نکلنے سے پہلے کا وقت منتخب کرتی ہیں۔ یہاں ایسے ہی کیا گیا۔ چادر اورچار دیواری کے حقوق کے تصور کا اجتہاد تو ضیاء الحق کے دور میں اتحادی فقہ (PNA's jurisprudence) کا وضع کردہ تھا، لہٰذا ان کا کوئی سوال نہیں کیا جاسکتا۔ کیا گرفتاری کے لیے اچانک اور اتنی بڑی مسلح نفری کی مدد سے کارروائی کا کوئی جواز ہو سکتا ہے؟ مبینہ سازش کو بروئے کار لانے کے لیے کسی بھی ملزم نے ابھی تک کوئی عملی اقدام شروع بھی نہیں کیا تھا۔ اگرکوئی سازش تھی بھی تو وہ لوگوں کے ذہنوں میں ہو سکتی تھی، لیکن سازش کو ناکام بنانے کے لیے ریاستی کارروائی، جس کا براہ راست وزیر اعظم نے حکم دیا تھا، ضرورت سے کہیں زیادہ افرا تفری سے کی گئی۔ اگرچہ افسر شاہی ہمیشہ ہی افرا تفری کا شکار رہتی ہے۔ سکون سے، سوچ سمجھ کر، صورت حال میں ضرورت کے مطابق مناسب ضابطے اور اخلاق کی حدود میں رہ کر، کارروائی کرنا افسر شاہی اور مقتدر لوگوں کا مزاج نہیں۔ مقتدر لوگ ہمیشہ سے خوداعتمادی کے فقدان بلکہ بحران کا شکاررہتے ہیں۔ پنڈی سازش کیس میں کارروائی کے بارے میں، وزیر اعظم لیاقت علی خان صاحب خود ریڈیو پر آ کر اعلان فرمائیں۔ مقصود یہ تاثر دینا تھاکہ جیسے مملکت کے ساتھ کوئی بہت بڑا حادثہ پیش آنے کو تھا۔ سازش کے محرکات اور وجوہات ہم الگ سے زیربحث لائیں گے۔ سرکاری اقدام اور اس کی انجام دہی کے لیے اختیار کردہ طریقہ کار کو ریاستی دہشت گردی سے مختلف کیسے تعبیرکیا جا سکتا ہے۔

آرمی ایکٹ کے تحت کسی سویلین کو کورٹ مارشل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لہٰذا اس گرفتاری کے قریباً ڈیڑھ ماہ بعد، خصوصی عدالت کے قیام کا قانون منظور کیا گیا۔ یہ قانون صرف اس کیس کی سماعت کے لیے مر تب کیا گیا۔ اس طرح یہ ہر لحاظ سے امتیازی قانون تھا۔ ایک اچھی حکومت اس طرح کے قانون نہیں بناتی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کی مقننہ کے جملہ ارکان اس امتیازی قانون پاس کرنے کی پاداش میں کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لائق ہیں، لیکن جو کچھ کل تک ناروا تھا، اب روا ہو چکا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ اقتدار کی حکمتیں اور مصلحتیں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ہم اس خصوصی قانون کا جائزہ بعد میں لیں گے، لیاقت علی خان کا بیان ذیل میں درج ہے:

’’پاکستان کے دشمنوں کی تیار کردہ ایک سازش کا انکشاف ابھی ہوا ہے۔ اس سازش کی غرض و غایت یہ تھی کہ متعدد ذرائع سے ملک میں ہلچل پید اکی جائے اور اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان کی دفاعی فوجوں کی وفا داری ختم کر دی جائے۔ حکومت کو اس سازش کا بر وقت علم ہوا۔ چنانچہ آج سازش کے سرغنہ لوگوں کو گرفتار کر لیاگیا۔ میجر جنرل اکبر خان چیف آف جنرل سٹاف، بریگیڈیر ایم اے لطیف بریگیڈ کمانڈر کوئٹہ، مسٹر فیض احمد فیض ایڈیٹر پاکستان ٹائمز اور بیگم نسیم اکبر خان اہلیہ میجر جنرل اکبر خان پرمشتمل ہیں۔ سازش میں شریک دونوں فوجی افسروں کو فوراً ملازمت سے بر طرف کر دیا گیا ہے۔ قومی تحفظ کے وجوہ کی بنا پر میرے لیے یہ بتانا نا ممکن ہے کہ جو لوگ سازش میں شریک تھے، ان کی اسکیم کی تفصیل کیا ہے۔ میں اس موقع پر صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر خدانخواستہ ان لوگوں کی اسکیم کامیاب ہو جاتی تو اس سے ہماری فوجی زندگی کی بنیاد پر کاری ضرب لگتی اور پاکستان کا استحکام در ہم برہم ہو جاتا۔ اگر یہ سازش ناکام ہوئی ہے تو اس کا سہرا ان لوگوں کے سر ہے جو پاکستان کی سلامتی کے تحفظ کی ذمہ دار ہیں۔ یقیناًسازش کی ناکامی پاکستان کی مسلح افواج کی غیر متزلزل وفاداری کے لیے ایک خراج تحسین ہے جو چند شر انگیز غدار سازشیوں کی شرارت سے بالکل متاثر نہ ہوئے اور انہوں نے پاکستان کے ان دشمنوں کی ساری ناپاک کوششوں پرپانی پھیر دیا۔ ہم سب کو ان کی چوکسی کی وجہ سے خدائے تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔‘‘
’’پوری قوم اس سلسلے میں مسلح افواج کی شکر گذار ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس طرح خراج تحسین پیش کرنے میں پوری قوم میری ہم نوا ہے۔ ان افراد کو ریگولیشن ۸۰ کی دفعہ ۳ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، لیکن ان کے ساتھ ہی کرنل محمد راجا، کیپٹن نیاز محمدارباب، میجر ضیاء الدین،میجر حسن خان، گروپ کیپٹن ظفراللہ خان پوشنی، لیفٹیننٹ خضر حیات، کیپٹن محمد اسحاق، لیفٹیننٹ کرنل نذیر احمد، محمد خان جنجوعہ، سجاد ظہیر، میجر خواجہ محمد شریف، محمد حسن عطا اور خواجہ محمد یوسف کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘‘ (واقعات پاکستان جلد اول صفحہ نمبر ۳۴۸، ۳۴۹، مرتبہ زاہد حسین انجم، مطبوعہ نذیر سنز پبلشرز، ۴۰ اردو بازار لاہور، سال اشاعت ۲۰۰۷ء )

اس وقت کے کمانڈر انچیف، جنرل محمد ایوب خان کی خود نوشت سے متعلقہ حصہ درج ذیل ہے:

’’میں نے کمانڈر انچیف کا منصب ۱۷ جنوری ۱۹۵۱ء کو سنبھالا۔ جنرل گریسی نے چارج دیتے ہوئے کچھ بتایا اور نہ ہی ایسے موقعوں پرایسا ممکن ہوتا ہے۔ انہوں نے صرف اتنا ذکر کیا کہ فوج میں نوجوان ترکوں کا ایک گروہ ہے۔ اکبر خان جیسے کچھ لوگ اس میں شامل ہیں۔ دو تین ماہ بعد اکبر سازش سامنے آئی۔ یہ راولپنڈی سازش کے طور پر معروف ہوا۔ ۔ ۔ سازش کے بارے میں مجھے لیاقت علی سے علم ہوا۔ وہ انتخابی مہم پر تھے۔ انہوں نے مجھے اور اسکندر مرزا (سیکرٹری دفاع) کو سرگودھا ریلوے اسٹیشن پر ملنے کے لیے بلوایا۔ میں لاہور اور اسکندر مرزا کراچی سے پہنچے۔ ہم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ وزیر اعظم معمول کے مطابق پر سکون تھے۔ کھانے کے بعد کہنے لگے، ’’آپ کے لیے بری خبر ہے۔کچھ فوجی افسران نے حکومت الٹنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ وہ اسے جلد ہی بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔ ‘‘میں نے تفصیلات پوچھیں تو انہوں نے صوبہ سرحد کے گورنر آئی آئی چندریگر کی بھیجی ہوئی رپورٹ کا متن فراہم کیا۔ میں نے واقعات کی پڑتال کا مشورہ دیا۔ اسکندر اور میں گورنر سے ملنے پشاور گئے۔ ہم نے گورنر، پولیس افسر کیانی اور مخبر سے انکوائری کی۔ یہ واضح ہوا کہ طوفان آنے والا ہے۔ سازشیوں میں سے ایک بریگیڈیر صدیق خان تھے۔ وہ میرے یونٹ میں رہے۔ جذباتی اور مضطرب طرح کے شخص تھے۔ میں نے ان کو طیارے کے ذریعہ بلوایا اور ان کو بتا دیاکہ وہ سچ سچ کہہ دے، وگرنہ الٹا لٹکا دیا جائے گا۔ انہوں نے انکار کرتے ہوئے رپورٹ کو مکمل طور پر جھٹلا دیا۔ میں نے انہیں واپس بنوں جانے کی اجازت دے دی۔ بنوں پہنچ کر انہوں نے ایک شریک سازش کرنل ارباب کو فون پر بتایا کہ بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ اس سے مجھے یقین ہو گیا کہ حکومت الٹنے کا منصوبہ بنا ہے۔ ہم نے وزیر اعظم کو اپنی انکوائری سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ہمیں کارروائی کی ہدایت کی۔ انسپکٹر جنرل قربان علی خان کو منظر پر لایا گیا اور تمام سازشی افسران اور سویلینز کو ان کے گھروں سے ایک ہی رات میں گرفتارکر لیا گیا۔ میرا ارادہ کورٹ مارشل کا تھا، مگر سویلینز کے ملوث ہونے کی وجہ سے ایسا کرنا مشکل تھا۔ وزیر اعظم نے خصوصی ٹربیونل کے ذریعے بند کمرے کی سماعت کا فیصلہ کیا۔ حیدرآباد جیل میں مقدمہ چلا اور ملزمان نے سہروردی کو صفائی کا وکیل مقرر کیا۔ سہر وردی عجیب و غریب شخصیت تھے۔ مقدمہ میں جو فوجی افسران گواہ کے طور پر پیش ہوئے، سہروردی نے ان پر جرح میں شدید حملے کیے۔ میری نظر میں سہروردی نے حدود سے تجاوز کیا، البتہ عدالت کا رویہ مثبت ہی رہا۔ ملزمان سزاپا گئے۔ چند سال بعد،سہروردی اور ان کے ساتھی حکومت پر حاوی ہو گئے اور وہ رہا کر دیے گئے۔ سزاؤں کی معافی حکومت کا اختیارتھا۔ میں اعتراض نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ فوجی افسران پر سہروردی کی جانب سے سخت، غیر ضروری اور بے وقار کرنے والی جرح کو فراموش نہیں کر سکتا تھا۔ میرے لیے سہروردی کا یہ عمل ناقابل معافی تھا۔ بعد میں ہم کابینہ میں اکٹھے ہوئے، ایک موقع پر پنڈی سازش کا ذکر آیا تو میں نے سہر وردی کو گھیرا اور کہا کہ انہوں نے سماعت میں فوج کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور وہ کسی طرح بھی پاکستان کے ہمدرد نہیں۔ سہروردی خاموش رہے۔ بعد ازاں جب وہ وزیر اعظم ہوئے تو میں کراچی میں تھا۔ اسکندر مرزا نے مجھے بتایا کہ وہ سہروردی کو وزیر اعظم بنانے جا رہے ہیں۔ اس حیثیت میں وہ آپ کے وزیر دفاع بھی ہوں گے۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ آپ کے ساتھ پرانا حساب طے کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے ان سے ملنے کے لیے کہا گیا۔ سہروردی ایوان صدر آئے۔ میں نے ان کو بتایا ہم دونوں ایک دوسرے کے بارے میں جواحساسات رکھتے ہیں، ان سے دونوں بخوبی واقف ہیں۔ اس کے باوجود کمانڈر انچیف کے طور وہ ہر جائز اور قانونی احکامات کی اطاعت کریں گے۔ البتہ میں یہ توقع بھی رکھتاہوں کہ وہ فوج کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دیں گے۔ سہر وردی نے صورت حال کو قابل قبول محسوس کیا۔ مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے کبھی میرے معاملات میں دخل نہ دیا۔ میں جب بھی ان کے پاس گیا تو وہ ہمیشہ سننے پر آمادہ اور فیصلہ کرنے کے لیے تیار رہے۔‘‘
’’راولپنڈی سازش کی جڑیں گہری تھیں۔ اس کے بیج بے چینی اور بد اعتمادی کے ماحول میں نمو ہوئے۔ پھر مختلف اسباب نے ان کی مزید پرورش کی۔ فوج میں جونیئر افسران کو سینئرز پر ترقی دینے کی وجہ سے کافی بے اطمینانی تھی۔ اس طرح ترقی پانے والوں کی توقعات کی کوئی حد باقی نہ رہی۔ ہر کوئی یہ خیال کرنے لگا کہ جب تک وہ کمانڈر انچیف نہ بنا تو اس کا کیریئر بیکار ہی رہا۔ یہ عجیب و غریب صورت حال تھی۔ اچھے خاصے سمجھ دار لوگ، بریگیڈیئر اور جنرل رینک والے، اپنی لاٹری نکلنے کے انتظار میں رہنے لگے۔ ہر کوئی بونا پارٹ کے کردارکے لیے تیار تھا۔ میں آزادی کے بعد، بریگیڈیئر بننے پراپنے آپ کو مطمئن کرتا رہتا تھا، یہاں تک کہ آزادی کے بعد، میجر جنرل ہو کر اپنے آپ کو کافی سے زیادہ کامیاب خیال کرتا تھا۔ لیکن فوج میں صورت حال کافی خراب ہو چکی تھی۔۔ ۔ اس دوران کشمیر میں لڑائی شروع ہو گئی۔ یہ بے قاعدہ مہم کے طور پر شروع ہوئی۔ ہیڈ کوارٹرز سے کچھ زیادہ ڈائریکشن نہیں تھی۔ جونیئر افسر اپنے طور پر لڑائی میں مصروف و ذمہ دار تھے۔ میرے خیال میں بے اطمینانی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ہماری حکومت اپنے فرائض مناسب طور پر ادا نہیں کر رہی تھی۔ ہم نے جب جنرل اکبر خان کے کاغذات قبضہ میں لیے تو ان میں ایک مقالہ موجود تھا۔ اس میں وزیر اعظم اور ہر دوسرے ذمہ دار شخص پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ غیر مستعد اور بر وقت فیصلے کرنے کی اہلیت سے محروم ہیں۔ اکبر خان غیر معمولی طور پر مستعد حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔ وہ بہادر افسر اور فوج میں کافی وقار کے حامل تھے۔ البتہ وہ بہت باتونی اور آرزوئیں پالنے والے شخص تھے۔وہ لوگوں کومتاثر کرنے کا فن بخوبی جانتے تھے اور اپنا ایک وسیع حلقہ اثر قائم کیے ہوئے تھے۔۔ اگرچہ مجھے کبھی یہ خیال نہیں ہوا کہ وہ کبھی حکومت الٹنے کا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔ البتہ کبھی کبھی مجھے ان کی کار کردگی پر کچھ شبہہ ہوتا تھا۔ میں ان کی تمناؤں، خاندانی پس منظر اور نظریاتی رجحانات کو جانتا تھا۔ مجھے اکبر خان سمیت، جب افسران کو میجر جنرل کے طور پر ترقی دینا تھی تو کچھ وقت تک اکبر خان کے بارے میں متردد رہا۔ میں نے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں چیف آف سٹاف کے طور پر ان کے تقرر کا فیصلہ کیا۔ میرا منشا ان کو اپنی نظروں کے سامنے رکھنا اور فوج کے کسی حصے کو براہ راست ان کے زیر کمان رکھنے سے بچنا تھا۔ میں نے نوٹ کیا کہ وہ چیف آف سٹاف کے طور پر اپنے فرائض سے غفلت برتتے ہوئے آزاد کشمیر میں تعینات افسران سے ملنے کو ترجیح دیتے۔ میں نے ایک دو کام ان کے سپرد کیے مگر انہوں نے وہ انجام نہ دیے۔ مثال کے طور پر میں نے ان سے کہا کہ ہمیں دشمن کے علاقے میں اپنے فوجیوں کے کیے خشک راشن جمع کرنا چاہیے۔ انہوں نے مجھ سے گریز شروع کر دیا۔ یوں محسوس ہوا کہ یہ شخص یا تو غیر مستعد ہے یا اپنے کام میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ دوسری صورت یہ ممکن ہے کہ اس کا ذہن کسی اور کام میں لگا ہوا ہے۔ یہ صورت حال خطرے کی جانب اشارہ کرتی تھی۔ اس طرح مجھے اور فوج میں صحیح سوچ رکھنے والوں کے لیے شدید دھچکامحسوس ہوا۔ فوج کا وقار سخت مجروح ہوا۔ لوگ بجا طور پر سوال کر سکتے تھے کہ پاک فوج اسی قسم کا حصار ہوتی ہے۔ فوج وفاداری، فرض شناسی، حب الوطنی اور سول اتھارٹی کے مکمل اتباع کی شاندار روایات رکھتی تھی۔ کوئی شخص اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ مملکت اتنے نازک دور میں ہو اور فوج اس طرح ابتری کا شکار ہو۔ میں نے سوچنا شروع کیا کہ اگر سازش کامیاب ہو جائے تو کیاہو گا۔ میرے اندازے میں سازش کی کامیابی کی دو صورتیں ہو سکتی تھیں، ایک مکمل کامیابی کی جس میں فوج کی جانب سے مزاحمت نہ ہوتی۔ اس صورت میں میرے جیسے سینئر افسران کو کسی جوابی کارروائی سے پہلے گرفتار کر لیتے۔ فوج اس تبدیلی کو قبول کر لیتی یا قبول نہ کرتی، بہر صورت اس الجھی ہوئی کیفیت میں اکبر خان اگر ہشیاری سے کام لیتے تو وہ اور ان کے ساتھی اپنے کنٹرول کو مستحکم کر لیتے۔ دوسری صورت میں اگر فوج کے کچھ لوگ مزاحمت کرتے تو فوجی یونٹوں میں تصادم ہو جاتا۔ نتیجے کے طور پر بھارتی فوج مداخلت کرتی۔ مجھے یہی خوف کھائے جا رہا تھا۔ میں اس مخمصے سے جلد ہی نکل آیا اور میں نے فوج کے وقار کو بحال کرنے کا تہیہ کر لیا۔ چنانچہ بیمار ذہنوں سے فوج کو پاک کیا۔‘‘ (Friends not masters pages 35-40)

ایوب خان کی کتاب سے سازش کے بارے میں درج تمام تفصیلات نقل کر دی گئی ہیں۔ سازش سے نبٹنے میں وزیر اعظم اور کمانڈر چیف کے کردار کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔ ایوب خان نے سازش کے اسباب کی تفصیل بیان کر دی ہے۔ ہم اس کو متنازعہ بنائے بغیر عدالتی کارروائی اور وکیل صفائی کے بارے میں ایوب کے طرز عمل پر کچھ کہنا لازم خیال کرتے ہیں۔ لگتا ہے کہ ایک فوجی ذہن ہونے کی وجہ سے وہ صفائی کے وکیل کے حق جرح اور گواہوں کے وقار میں تصادم کے غلط تصور کا شکار ہیں۔ در اصل کورٹ مارشل میں جرح کا حق بہت محدود بلکہ برائے نام ہی ہوتا ہے، جبکہ ایک اہل اور جرات مند وکیل صفائی گواہوں کی پیش کردہ کہانی کو ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے۔ اس میں کسی گواہ کے منصب اور وقار کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایوب خان وکیل صفائی کی اس حیثیت کا شعور نہیں رکھتے یا اسے مخصوص اغراض کے تحت تسلیم نہیں کرتے۔ اس بارے میں ان کی سہروردی سے کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کا لہجہ کتنا رعونت پسندانہ ہے۔ ان کے جملوں سے اس بیماری کی نشان دہی ہو جاتی ہے جو ہماری فوج میں تقسیم ہند کے بعد کینسر کی طرح پھیل گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کینسر کا سرچشمہ ایوب خان کی ذات تھی۔ یہاں انہوں نے فوج کی طرف سے سول اتھارٹی کی اطاعت کی جن اعلیٰ روایات کا ذکر کیا ہے، حقیقت میں ان کا قلع قمع کرنے کا تمام تر کریڈٹ ایوب خان کو ہی جاتا ہے۔ 

در اصل فوجی ذہن صرف طاقت کی زبان ہی جانتا ہے۔ اس کے ذہن میں انصاف کا تصور، امریکی ڈرل مشین کے ذریعے بھی داخل نہیں کیا جا سکتا۔ شروع ہی سے سول اقتدار میں فوج کی شریک ہو گئی۔ سول نظامِ incubator میں تھا،اس کے باوجود سانس بھی لینے نہ دیا گیا۔ جنرل اکبر خان اور ان کے ساتھیوں نے جو کچھ کیا، اس کی حقیقی تفصیلات کہیں بھی میسر نہیں۔ حیدر آباد جیل میں بند کمرے میں مقدمہ چلایا گیا۔ خصوصی ایکٹ کے تحت قائم ٹربیونل کی جملہ کارروائی افشا کرنے کی صورت میں سرکاری راز داری کے قانون کا طلاق کر کے مقدمے کی تفصیلات پبلک تک پہنچانے سے بچایا گیا۔ اندر کیا ہوتا رہا، اس کی کسی کو کوئی خبر نہیں۔ مقدمہ کتنا منصفانہ رہا، ایوب خان کے اپنے جملے بہت واضح ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تابڑ توڑ جرح کے باوجود عدالت کا رویہ مثبت رہا۔ وہ جرح کے انداز پر برہم ہیں۔ خصوصی عدالت میں بند کمرے کی سماعت، مخصوص قانون اور ضابطے کی قید میں چلایا گیا مقدمہ، نمائشی حیثیت سے زیادہ کیا اہمیت رکھتا ہے! کاش سہر وردی کی جرح کی تفصیلات مہیا ہو جائیں تو مقدمے کی ساری حقیقت کھل جاتی۔ مقدمے میں ریکارڈ شدہ شہادت میں جعل سازی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ میں نے کہیں اس طرح کے ریمارکس پڑھے ہیں مگر حوالے ذہن سے اتر گئے ہیں۔ ایوب خان وکیل صفائی کی جانب سے سہر وردی کی جرح پر کتنے بر ہم ہیں، اس کا اندازہ اوپر ان کے اپنے جملوں سے ہو سکتا ہے۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ انصاف دینے والوں کے ذہن میں انصاف کی کون سی سطح تھی۔

راولپنڈی سازش کی مختصر سی تفصیلات زاہد حسین کی ’’واقعات پاکستان ‘‘کی پہلی جلد میں درج کی گئی ہیں۔ ملاحظہ ہو۔

’’راولپنڈی سازش کی تحقیقات کے لیے پیرزادہ عبدالستار نے ۱۳ -اپریل ۱۹۵۱ء کوقانون ساز اسمبلی میں ایک بل پیش کیا جس کے تحت جسٹس سر عبد الرحمان، جسٹس چوہدری محمد شریف اور جسٹس امیرالدین احمد پر مشتمل ایک ٹربیونل کا قیام عمل میں آیا۔ 
فرد جرم میں قتل، شاہ برطانیہ کو سلطنت کے ایک حصے (پاکستان) سے جبراً محروم کرنے اور دوسرے حصے (بھارت) پر حملہ آور ہونے اور ملک معظم کے اغوا کی منصوبہ بندی کا ذکر کیا گیا تھا۔
۳۰۔مئی ۱۹۵۱ء کو میجر جنرل اکبر خان اور ان کی اہلیہ کو جسٹس محمد شریف کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ 
۱۰۔جون لیفٹیننٹ کرنل صدیق راجا اور میجر خواجہ محمد یوسف راولپنڈی سازش کیس میں سلطانی گواہ بن گئے۔ 
۱۸۔ جون کو اس مقدمہ میں استغاثہ کا بیان مکمل کیا گیا۔ 
یکم اگست کو بیگم نسیم اکبر خان کے وکیل زیڈ ایچ لاری نے سرکاری گواہ پر جرح ختم کر لی۔ 
۵ جنوری ۱۹۵۲ء کوراولپنڈی سازش کیس کے فیصلے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے تحت ۱۵ ملزمان میں سے گیارہ افسر اور چار شہری شامل تھے۔ بیگم نسیم اکبر خان کو بری کر دیا گیا۔ جبکہ میجر جنرل اکبر خان کو بارہ سال، گروپ کیپٹن جنجوعہ کو سات سال، میجر صادق کو سات سال، میجر ضیا الدین اور کیپٹن نیاز ارباب کو پانچ پانچ سال کی سزا سنائی گئی، جبکہ لیفٹیننٹ خضر حیات، کیپٹن حسن یاخان، کیپٹن اسحاق، لیفٹیننٹ ظہیر اللہ، فیض احمد فیض، سجاد ظفر، حسن عطا کو چار چار سال قید با مشقت سنائی گئی۔ لیفٹیننٹ کرنل نذیر کو تا برخواست عدالت قید کی سزا سنائی گئی۔ (واقعات پاکستان جلد اول صفحہ نمبر ۳۴۸، ۳۴۹، مرتبہ زاہد حسین انجم، مطبوعہ نذیر سنز پبلشرز ۴۰ اردو بازار لاہور، سال اشاعت ۲۰۰۷ء )

اس کیس کے حوالے سے، اس مختصر مضمون میں ہم کچھ زیادہ تبصرہ کرنے کے بجائے، وارث میر کے ایک مضمون سے کچھ اقتباسات درج کرنے پر اکتفا کریں گے۔ یہ مضمون ان کی کتاب ’’فوج کی سیاست’’ مطبوعہ جمہور پبلی کیشنز لاہور کینٹ، شائع شدہ ۲۰۰۷ء میں شامل ہے۔ اس مضمون میں وہ سازش کے ایک ملزم میجر اسحاق کے ہفت روزہ اشتراک لاہور کو ۲۱۔مئی ۱۹۷۲ء کو دیے گئے کے صفحہ نمبر ۱۱۲ تا ۱۱۴ میں لکھتے ہیں:

’’بہت سے لوگوں نے پنڈی سازش کیس کے بارے میں کئی مفروضے گھڑ لیے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کیس سے متعلق کارروائی صیغہ راز میں رکھی گئی ۔ جب پردہ ہٹے گا تو معلوم ہو گا کہ پنڈی سازش کیس کوئی سازش تھی ہی نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں پاکستان کی حکومت پاک امریکی فوجی معاہدے کے لیے رضامند ہو چکی تھی لیکن اسے فوج میں محب وطن عناصر کی طرف سے خطرہ تھا کہ وہ ملک کو امریکہ کی غلامی میں نہیں جانے دیں گے۔ دوسرے کشمیر میں یکم جنوری ۱۹۴۹ء کو جو جنگ بندی کی گئی، وہ پاکستان، بھارت کے حکمران طبقوں اور انگریزوں کے درمیان ایک سازش کا نتیجہ تھی۔ اس کے خلاف فوج میں شدید رد عمل ہوا تھا جیسے معاہدہ تاشقند کے بعد عوام میں ہوا۔ کشمیر کی جنگ پاکستان کی طرف سے چونکہ خفیہ طور پر لڑی جا رہی تھی، اس لیے یہ رد عمل صرف ان فوجوں تک محدود رہا جو کشمیر کی جنگ میں حصہ لے رہی تھیں۔ یاد رہے کہ جن فوجی افسروں کو پنڈی سازش کیس میں ملوث کیا گیا، وہ سب کشمیر میں لڑے تھے۔ ‘‘
’’نشان امتیاز چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل اکبر خان کے کشمیر محاذ پر غیر معمولی جرات مندانہ کردار نے انہیں نوجوان افسروں میں بہت مقبول بنا دیا تھا۔ اسی مقبولیت نے ان میں حد سے زیادہ خود اعتمادی کی کمزوری اور خواہش انقلاب پیدا کر دی تھی۔ جنگ کشمیر میں سری نگر اڈے تک پہنچ جانے کے بعد حکومت پاکستان کے فیصلہ جنگ بندی کو اکبر خان ہضم نہ کر سکے تھے اور اسی لیے انگریز کمانڈر انچیف اور اس کے قریبی اعلیٰ فوجی افسروں کی نظر میں’مشکوک‘ تھے۔ یہ افسران صاحب مطالعہ اور صاحب تخیل تھے اور کھل کر اختلاف کا اظہار کر دینے کے بھی عادی تھے۔ جنرل گریسی نے ان کی خقیہ رپورٹ میں لکھا تھا ،’اکبر خان اپنے کیرئیر کے دوراہے پر کھڑا ہے، اسے سیاست اور فوج میں سے کسی ایک کیرئیر کا انتخاب کرنا ہو گا۔‘ میجر جنرل اکبر خان کا تقاضا تھا کہ انگریز فوجی افسروں کو انگلینڈ واپس بھیجا جائے۔‘‘ (ص ۱۱۲)
’’پنڈی سازش کیس میں ملوث جنرل نذیر محمدجنجوعہ نے اگرچہ ایک بار ریسٹ ہاؤس اٹک میں اکبر کی طرف سے دیے گئے پکنک لنچ میں شرکت کی تھی لیکن لیاقت علی خان کے سامنے اس نے بھی یہی مطالبہ کیا تھا۔ یہ بات لیاقت علی خان اور ایوب خان دونوں کو سخت ناگوار‘‘ گزری تھی۔ چنانچہ فرینڈز ناٹ ماسٹرز میں ایوب نے لکھا ہے’پاکستان کے فوجی افسر انگریزوں کو فوراً ملک سے نکال کر خود نپولین بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔‘‘(ص ۱۱۳)
’’۲۳۔فروری ۱۹۵۱ء کو چیف آف دی سٹاف جنرل آفیسر میجر جنرل محمد اکبر خان کے بنگلے میں بعض فوجی افسروں کی ایک میٹنگ ہوئی جو گھنٹوں ’نقد جان پیش کروں نہ کروں‘ کے مسئلے پر غور و خوض کے بعد گو مگو کی حالت میں ختم ہوئی۔ اس قسم کے اجلاسوں کے بارے میں بعد ازاں اکبر خان کا تبصرہ یہ رہا کہ ’ہم نے وطن عزیز کے متعلق اظہارِ تشویش اور شکوہ و شکایت کے سوا، کیا ہی کیا ہے؟ہم عدالت کا سامنے کریں گے۔’ فرد جرم میں خان قربان علی خان کے قتل، شاہِ برطانیہ کو سلطنت کے ایک حصے (پاکستان) سے جبراً محروم کرنے اور دوسرے حصے (بھارت) پرحملہ آور اور ملک معظم کے اغوا کی منصوبہ بندی کا ذکر تھا۔ (سازش کیس کے ایک ملزم) کرنل حسن کے نزدیک یہ محض الزامات تھے اور گورنمنٹ پراسیکیوٹر کی فکری کاوشوں کا نتیجہ تھے۔‘‘

ایوب خان کی کتاب سے درج کردہ اقتباسات اور وارث میر کے حوالے سے ملزمان میں سے بعض کے حوالوں میں کیس کے پس منظر پر کافی یکسانیت پائی جاتی ہے۔ ایوب خان بھارت کی طرف سے حملے پر ہمیشہ ہی خوف زدہ رہے ہیں۔ ۱۹۶۵ء میں بھی کشمیر میں ہماری جانب سے مداخلت کے بعد ۱۹۴۹ء والی صورت حال پیدا ہوئی۔ ایوب خان کو وزارت خارجہ کی جانب سے بین الاقوامی بارڈرز کراس نہ کرنے کا یقین دلایا گیا تھا۔ اس طرح کشمیر میں ہمارے مجاہدین اٹاری تک ایڈوانس کر چکے تھے۔ پھر بھارت نے واہگہ پار کیا تو محافظ لاہور سوئے ہوئے تھے۔ واہگہ اور چونڈہ کے محاذوں پر فوج کے اعلیٰ افسران اور جوانوں نے عظیم الشان قربانیوں سے دفاعِ وطن کاحق ادا کیا، وگرنہ ہمارے سربراہان فوج اور زعمائے مملکت تو بھارت سے دو دو ہاتھ کرنے کا تصور بھی بھول چکے ہیں۔ لیکن جنہوں نے اس تصور کو پالا، ایسے میں وہ وطن دشمن، باغی اور غدار قرار نہ پائیں تو اور کیا ہوگا! 

آراء و افکار

(مئی ۲۰۱۱ء)

Flag Counter