تعارف و تبصرہ

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

’’مولانا مودودیؒ کی تحریک اسلامی‘‘ ۔ چند تاثرات واحساسات

نام کتاب: مولانا مودودی کی تحریک اسلامی مع جماعت اسلامی اور اسلامی دستور

مصنف: پروفیسر محمد سرور

ناشر: دار الکتاب، کتاب مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار لاہور

سال اشاعت: جولائی ۲۰۰۴ء

قیمت: ۲۰۰ روپے

سید مودودیؒ کا دور (۱۹۰۳ تا ۱۹۷۹) برصغیر ہند و پاک کی تاریخ میں بڑا اہم دور تھا۔ مسلمانوں میں رہنماؤں کے قحط کا رونا پرانا رونا ہے، مگر اس دور میں مسلمانوں ہی میں بڑے سر برآوردہ رہنما سامنے آئے۔ سرسید، عبیداللہ سندھی، جمال الدین افغانی، محمد علی جوہر، علامہ اقبال، ابو الکلام آزاد، سید عطا ء اللہ شاہ بخاری، مولانا ظفر علی خان اور آخر میں سید مودودی۔ رہنماؤں کی پوری ایک کھیپ نظر آتی ہے، لیکن تاریخ نے قائد اعظم محمد علی جناح علیہ الرحمہ کو ان سب پر بھاری کر دیا۔ 

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

اوپر کے تمام نام دینی اور سیاسی شناخت رکھتے ہیں، جبکہ سیادت و قیادت میں سبقت لے جانے والا نام دینی شناخت کے لحاظ سے کسی درجے میں شمار نہیں ہوتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے۔ قیادت کی عطا میں اس کی کیا حکمت ہے، یہ ایک الگ موضوع ہے۔ قیادت میں قائد اعظم کی سبقت کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح ہے کہ قائد اعظم کو ایک بنی بنائی جماعت ملی اور وہ اس جماعت میں موجود لوگوں کو ساتھ لے کر اپنی منزل کی جانب رواں ہونے پر مجبور تھے۔ ان کے پاس اپنی صحت کے پیش نظر محدود وقت تھا۔ اس میں حصول منزل کے لیے عملی طور پر قریب ترین راستہ اختیار کرنا لازم تھا۔ وہ اسی ٹوٹی پھوٹی تنظیم کے لوگوں کو لے کر چلے اور منزل پر جا کر ہی دم لیا۔ ان کے ساتھی کسی درجے کے لوگ نہیں تھے۔ ان کے بارے میں ایک معروف روایت کے مطابق قائد اعظمؒ نے خود کہا تھا کہ میری جیب میں تمام سکے کھوٹے ہیں۔ یہ کمال قیادت ہی تھا کہ کھوٹے سکوں کی مدد سے ایک انتہائی بیمار ااور لاغر شخص، جو صحیح اردو بھی نہیں بول سکتا تھا، مقتدر انگریز اور برصغیر کی سب سے بڑی قوم یعنی ہندؤں سے چومکھی لڑائی لڑ کر ان سب کو پچھاڑنے میں کامیاب ہوا۔ یہ ان کی بہترین حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ مسلم لیگ کیا تھی اور کیا نہیں تھی، اس بارے میں زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ قائد محترم نے خود کہا: ’’مسلم لیگ کیا ہے ، میں اور میری بہن‘‘، ’’مسلم لیگ کیا ہے ،میں اور میرا ٹائپ رائٹر‘‘۔ تاریخ کا شعور رکھنے والا شخص یہ کہے بغیر نہیں رہے گا کہ حصول پاکستان کی تمام تر جد وجہد یقینی طور پر ایک شخص کی مرہون منت ہے۔ بر صغیر میں دوسرا قائد اعظم تو ہو ہی نہیں سکا، نہ ہو گا۔ قائد کو جو تنظیم میسر تھی، اسے مسلم لیگ کے نام سے پکارا جاتا ہے مگر اسے تنظم کہنے کے لیے دل اور دماغ پر پتھر رکھنا پڑے گا۔ 

ان حالات کے تناظر سے بالکل الگ رہ کر ایک شخص لوگوں کی تنظیم کے لیے مخصوص ہو کر رہا۔ اسے سید مودودی کہتے ہیں۔ سید ۱۹۰۳ء میں پیدا ہوئے اور انہوں نے ۱۹۷۹ء میں وفات پا ئی۔ دین اسلام کو ایک مشن کی صورت میں، صحافیانہ استعداد کو بروے کار لا کر انہوں نے قوم کی تنظیم کے لیے بھر پور کام کیا۔ ان کی قائم کردہ جماعت، جماعت اسلامی ابھی زندہ و سرگرم عمل ہے۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ سید مودودی کا دور ابھی تک جاری ہے۔ سید علیہ الرحمہ سے براہ راست استفادہ کرنے والے ابھی باقی ہیں۔ وہ کسی حد تک سرگرم بھی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ مایوسیوں کے خلاف نبرد آزما رہے، مگر اپنی جگہ یہ بھی حقیقت ہے کہ انقلاب کی منزل، سید حاصل کر سکے اور نہ ان کی جماعت۔ اس کے باوجود، پرانے لوگ اسلامی انقلاب کی آرزؤں کی اپنے سینوں میں پرورش کر رہے ہیں۔ البتہ اب ان میں سے زیادہ تر لوگ مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں۔ 

افسوس صد افسوس کہ مایوسیوں کی تخم ریزی اور افزایش اور اس کی بار آوری کے تمام مراحل بھی جماعت کی پوری تاریخ کے ساتھ ساتھ ہی رہے۔ خود سید مودودی کی اپنی تحریریں دیکھیں تو یہ بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ قیام جماعت سے پہلے اور بعد کی تحریروں میں بہت فرق ہے۔ اس دور کے ’’ایک صالح جماعت کی ضرورت‘‘ جیسے مضامین بڑے ہی جاندار ہیں۔ پھر سیاسی کشمکش کے فولادی تحزیے ذہن و دل ہلا دینے والے ہیں۔ اس دور میں ان کا قلم آگ اور بارود سے کم طاقت ور نہیں تھا، مگر جماعت کے قیام کے بعد کی تحریروں میں وہ انداز ہی معدوم ہو گیا۔ یوں لگتا ہے کہ سید نے اپنی زور دار تحریروں سے برصغیر کا دینی ٹیلنٹ جمع کرنے کا منشا حاصل کر لیا ہے۔ اب اسے چھانٹنا لازم ہے۔ چنانچہ دو تین سال کے اندر اندر اسے چھانٹنے میں کام یاب ہو گئے۔ لے دے کر ایک ہی شخص رہ گیا جو کشتیاں جلا کر آیا تھا، اس کے لیے واپسی کا راستہ ہی نہیں تھا، چنانچہ وہ خم ٹھونک کر ڈٹا رہا، لیکن کب تک! آخر کار ۱۹۵۷ء میں اس کے لیے جماعت کی اندرونی فضا تنگ ہو گئی۔ وہ بھی باہر آزاد فضا میں آ نے پر مجبور ہوا۔ اس کانام گرامی امین احسن اصلاحی ہے۔

قائد کے لیے سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ وہ مایوسیوں کے خلاف مزاحمت کے لیے ماحول تیار کرے، مگر خود کبھی مایوسی کا اظہار نہ کرے۔ اگر اس کے کسی ایک جملے سے بھی مایوسی کا اظہار ہو جائے تو تاریکیوں اور مایوسیوں کو خود کمک فراہم کر دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ ترجمان القرآن جماعت کی فکر کا جشمہ جاری ہے۔ قیام جماعت کے بعد، مولانا مودودی سے لے کر مولانا نعیم صدیقی، پروفیسر عبدالحمید صدیقی اور پروفیسر خورشید احمد صدیقی تک ہر دور کے اشارات دیکھ لیں۔ ان سے مایوسی پھوٹتی نظر آتی ہے۔ یہ کہنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ اشارات پڑھ پڑھ کر بوڑھا ہو گیا ہوں۔ بلاشبہ میں نے ان تحریروں سے اپنی استعداد کے مطابق استفادہ کیا، لیکن ایک بات ہمیشہ ذہن میں کھٹک پیدا کرتی رہی کہ ان تحریروں کا مجموعی اثر مایوسی کا ہے۔ بلاشبہ میں خود متاثر نہ ہوا، لیکن ترجمان کے دیگر قاریوں کو پڑھنے کے بعد مایوسیاں پھیلانے کے مشن پر رواں دواں دیکھا۔ نتیجہ کیا ہو سکتا تھا؟ مایوسیاں اور تاریکیاں پھیلتی گئیں۔ اس پر مزید یہ ہوا کہ ان تاریکیوں اور ناکامیوں کی تعبیر روشنی اور کامیابی کی صورت میں کر لی گئی۔ اس کے لیے تمام تر اجتہادی بصیرت کام میں لائی گئی۔

فکری سرچشموں پر بیٹھ کر مایوس کن تحریریں ایسا زہر گھولتی ہیں جس پر دشمن پلتا اور دوست گھل گھل کر مر جاتا ہے۔ ایک حساس اور دل زندہ رکھنے والے کارکن کے طور پر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں ، کوئی سنے یا نہ سنے، مجھے اس سے کیا غرض ہو گی۔ 

نوا را تلخ تر می زن چوں محمل را گراں بینی

یہ بات بہر حال صاف ہے کہ ایسے لوگ اپنے منصب کے لائق نہیں۔ یہ فقہ کا مسئلہ نہیں، دل کی بات ہے۔ میری ’’اہلیت‘‘ صرف یہ ہے کہ میں نے ان حضرات کی مایوس کن تحریروں کو اپنے اندر خوب جذب کیا مگر مایوسی کو فلٹر کر کے۔ مطلب یہ ہوا کہ مایوسی کو اپنے اندر داخل نہیں ہونے دیا۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ایک کارکن کی سطح سے اوپر نہیں گیا لیکن ذہن کو کارکن کی سطح سے بلند رکھنے کی کوشش کی۔ مایوسیوں کے خلاف جنگ آزما رہا مگر مایوسیوں کو قریب پھٹکنے نہ دیا۔ 

بہر حال میری زندگی کی پوری کہانی اسی ساز وستیز کے گرد گھومتی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں اپنے سے بر تر پوزیشن والے شخص کے ساتھ گزارا کر سکا ہوں۔ اس میں بھی ایک بات قطعی ہے کہ جنگ کی ابتدا کبھی میری جانب سے نہیں ہوئی۔ فطری بات بھی یہ ہے کہ فروترشخص با لا دست سے چھیڑ چھاڑ کی ابتدا نہیں کر سکتا۔ جماعت اسلامی سے میرے اخراج کی اصل حقیقت صرف اتنی ہے۔ اخراج کرنے والے ارباب جماعت، با اختیار لوگ، میں ان کا کیا بگاڑ سکتا ہوں، مگر ہمیشہ یہی خیال کیا کہ وہ بھی اخراج کے سوا میرا کیا بگاڑ سکے ہیں۔ اخراج کے بعد تو ان سمجھ داروں نے مجھے مکمل آزادی دے دی ہے۔ چلیے میں اس آزادی کو برتنے میں تو آزاد ہوں، چنانچہ یہ میرے لیے سب سے بڑی متاع حیات ہے۔

بڑا دکھ ہوتا ہے کہ مجھے نکالنے والے مجھ پر خیانت، بد دیانتی، نالائقی اور کم کاری کا کوئی بھی الزام نہ لگا سکے، مگر ان کے دامن ایسی آلائشوں سے ’’روشن ‘‘رہے۔ کاش ایسا نہ ہوتا۔ مجھ پر ایسے الزامات لگتے، جھوٹے ہی لگ جاتے۔ کچھ تو کالک میرے چہرے پر آ جاتی۔ اس سے میرے مربیوں کا چہرہ تو روشن ہی رہتا۔ لیکن آج تو کیفیت یہ ہے میں ان کے روشن چہروں کو مزید روشن کرنے کی کوشش میں منہمک ہوتا ہوں تو دوست مجھ سے اصرار پوچھتے ہیں: ’’اتنے برے لوگوں کی جماعت میں دوبارہ گھسنے پر بضد کیوں ہو؟‘‘ میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ ’’اگر میرے گھر سے، چور اور ڈاکو مجھے گھر سے نکال کر قبضہ کر لیں تو کیا میں اس ناجائز قبضے کو تسلیم کر لوں؟ ہرگز نہیں، مجھے قبضہ واپس ملے نہ ملے، میں ان کا قبضہ جائز تسلیم نہیں کروں گا۔ میں سر پھوڑتا رہوں گا۔‘‘

مجھے ہر دور میں ایسی آزمائش سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ پہلی بار میرے ساتھ یہ تجربہ طالب علمی کے دور میں ہوا۔ ہم چار پانچ دوست اسلامی جمعیت طلبہ کے رفقا پر مشتمل تھے۔ اس دور میں عشرے کے بعد جمعیت کی کل کائنات تھی۔ خواجہ امتیاز احمد مقامی ناظم تھے۔ انہوں نے میرے خلاف تادیبی کاروائی کی اور اخبارات میں خبر بھی چھپوائی۔ ہم آپس میں ایک دوسرے کو بڑے پروٹو کول کے ساتھ پکارا کرتے تھے۔ قبلہ و کعبہ کے بغیر تخاطب ممکن نہیں تھا۔ میرے بارے میں اخباری خبر یوں تھی: ’’اسلامی جمعیت طلبہ کے مقامی رفیق محمد یوسف بتخانہ کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔‘‘ گویا مجھے جو پروٹوکول دیا گیا، وہ کچھ زیادہ ہی تھا۔ بہر حال میں نے اس پر خاموشی اختیار کی، اس کے بعد کئی سال جمعیت سے کوئی تعلق نہ رکھا، ما سواے اس کے کہ پنجاب یونی ورسٹی میں جہانگیر بدر کے مقابلے میں حافظ ادریس اور حفیظ خان کو دونوں دفعہ جتوانے کے لیے نعرے لگائے اور ووٹ دئیے۔ حفیظ خان کے ساتھ جاوید ہاشمی سیکریٹری منتخب ہوئے۔

لا کالج میں تعلیم کے دوران میری سرگرمیاں زیادہ تر تعلیم تک محدود رہیں۔ قانون کی ڈگری لی۔ دو سال کی تربیت حاصل کی۔ میرے سینئر چوہدری مختار احمد ایڈووکیٹ تھے۔ پنجاب بار کونسل کی انرولمنٹ کمیٹی کے روبرو پیش ہوا۔ اس طرح یہ مرحلہ پورا ہونے کو تھا کہ والد محترم نے گوجرانوالہ سے نکال دیا اور ان کے حکم کے مطابق کوٹ ادو ضلع مظفر گڑھ میں پریکٹس کی ابتدا کی۔ یکم اپریل ۱۹۷۲ء کو کوٹ ادو میں سب ڈویژنل کورٹس میں بسم اللہ کی۔ یہ شہر میرے لیے مکمل اجنبی تھا۔ کوئی شخص میرا واقف تھا اور نہ ہی اس سے پہلے میں نے کبھی یہ شہر دیکھا تھا۔ میرے خاندان کے لوگ دس میل دور قصبہ سنانواں میں رہتے تھے۔ گوجرانوالہ سے یہاں آ کر برف خانہ کھولنے والے حافظ عبد الماجد ایڈووکیٹ مجھ سے پہلے یہاں وکالت اور کارو بار کر رہے تھے۔ اہل جماعت نے مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ بار میں میرا نمبر سولہواں تھا۔ سب سے سینئیر وکیل جناب عبد الغفور گرمانی تھے۔ گیارہ سال پلک جھپکنے میں گزر گئے۔ جماعت کا رکن ہی نہیں، مقامی سطح پر جماعت کی جانب سے نہایت منہ زور نمائندہ بھی تسلیم کیا گیا۔

یکم ستمبر ۱۹۸۳ء کو والد مرحوم کے حکم پر واپس گھر لوٹا۔ گھر لوٹے تو جماعت کی رکنیت کا متاع غرور ہی میرا سرمایہ تھا۔ اسے لے کر یہاں پہنچا تو ایک بار پھر زیرو پوزیشن تھی۔ کوٹ ادو گیا تو صفر سے ابتدا کی۔ گیارہ سال بعد گوجرانوالہ صفر ہی سے پریکٹس شروع کی۔ پرائمری سے لے کر ایل ایل بی تک کے زمانہ اسی شہر میں گزارنے کے بعد ایک بار پھر اجنبی کے طور پر داخل ہوا۔ گوجرانوالہ جماعت کا ماحول ہمیشہ ہی سے صاف ستھرے شخص کے لیے بیزاری کا رہا۔ ہر جانب با صلاحیت اور پڑھے لکھے شخص کی جو کچھ نمایاں کار کردگی انجام دینے والا سامنے آیا، اسے کوئے یار سے سوئے دار تک کا سفر کرنا پڑا۔ اسی انجام سے خوف کھاتے ہوئے میرے والد محترم جماعت کے رکن بننے سے گریزاں رہے۔ میں بھی یہاں وکالت شروع کرتا تو کبھی رکن نہ بنتا۔ خیال تھا کہ شاید اکتیس سال بلا فصل امیر ضلع رہنے والے شخص کے شہرت کے راکٹ پر چاند تک پہنچنے کے بعد شاید حالات میں معمولی فرق ہوا ہو، مگر حالات پہلے سے بھی سخت تھے۔ لہٰذا مجھے اخراج کے سنچری ٹارگٹ پورا کرنے کا پندرہ سال بعد موقعہ ملنے لگا تو میں نے اپنی گردن پیش کر دی۔ ٹارگٹ کے جانب کا یہ سفر بڑا دلچسپ اور خوبصورت ہے۔ اس کی روئیداد میرے لیے زندگی بڑھانے والی ہے۔

ایک روز ایک بزرگ سے گفتگو ہو رہی تھی۔ ان کی یہ بات میرے دل کی بات تھی، اس لیے بہت اچھی لگی۔ فرمانے لگے، اہل جماعت نے سخت غلطی کی۔ وہ اگر جماعت کے اندر کڑے ڈسپلن اور ماحول میں تم کو درست نہیں کر سکے تو نکال کر بدل دینے کا مطالبہ کرنے میں کیسے حق بجانب ہو سکتے ہیں؟ بہر صورت جماعت سے اخراج کے بعد اسلامی جمعیت وکلا اور اس کی قائم قام تنظیم اسلامک لائرز موومنٹ میں مجھے آخری پناہ ملی ہوئی ہے۔ یہاں سے مجھے نکالنے کی کوششیں رہتی ہیں، کبھی کبھی میں بے حمیتی اختیار کر کے لچک اختیار کر لیتا ہوں، اس طرح یہ رشتہ و پیوند بتان وہم وگماں کی طرح چل رہا ہے، لیکن اس کے باوجود میرے جیسے بے شمار دوستوں کے سینوں میں انقلاب کی آرزو مر نہیں سکی۔ جماعت کو تو میں تاریخ کا اثاثہ خیال کرتا ہوں۔ اثاثہ اس معنے میں کہ اس کا مطالعہ کیا جائے اور معلوم کرنے کی کوشش کی جائے کہ اتنی منظم تحریک اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام کیوں رہی تاکہ آئندہ اٹھنے والی تحریکیں اس تحریک کی ناکامی کے اسباب سے خبر دار رہیں۔

خود سید مودودی نے اپنے دور سے پہلے کی تحریکوں کا اس پہلو سے بھر پور جائزہ لیا۔ اس لحاظ سے ان کی ’’تجدید و احیاے دین‘‘ دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں تو پوری اسلامی تاریخ پر گرفت کی۔ سیاسی تاریخ پر نقد بالکل ایک نیا موضوع تھا۔ سید مودودی علیہ الرحمہ نے اس موضوع کو دریافت کیا۔ اردومیں اس موضوع پر خلافت و ملوکیت اولین کتاب ہے۔ مجھ سے اگر کوئی پوچھے تو اس کتاب کو سید کا سب سے بڑا کارنامہ قرار دوں گا۔ تصنیف کے طور پر اس کتاب کو دیکھا جائے تو سید مودودی کی شاید یہ واحد معیاری تصنیف ہو گی۔ سید کی باقی کتابیں فنی لحاظ سے مکمل تصنیف کے درجے میں مشکل ہی سے شمار ہوتی ہیں۔

سید مودودی کی خدمات کا تذکرہ یہاں مقصود نہیں۔ اس پر تو ان کا پورا دور گواہ ہے اور آئندہ کتنے زمانوں تک یہ شہادت باقی رہے گی، اس کا تعین نہیں ہو سکتا۔ سید کی فکری خدمات اور اثرات تو عالمگیر ہیں۔ ایک شخص اپنی صلاحیتوں، وسائل اور توانائیوں کے بل بوتے پر اک دنیا کو متاثر کر جائے تو اس کی زندگی کے پلس اور نیگیٹو پوانٹس کا بیلنس نکالنا بے معنی سا کام ہے۔ پھر یہ کام میرے لیے اس لیے مشکل ہے کہ میرے ذہن کا تانا بانا سید علیہ الرحمہ کی فکر سے مرتب ہوا ہے۔ یہ انہی کا دیا ہوا درس ہے کہ آنکھیں بند کر کے پیچھے چلنے کے بجائے آکھیں کھول کر سفر کیا جائے۔ وہ تو نمار میں، خدا کے حضور بھی آنکھیں بند کر کے کھڑے ہونے کو ترجیح دینے پر آمادہ نہیں، تو ایک شعوری سفر میں آنکھیں بند کر کے سفر کرنے پر اگر کوئی جماعت آمادہ ہو جائے تو ایسی جماعت کو اندھوں کی جماعت تو کہا جا سکتا ہے مگر سید کی جماعت نہیں کہا جا سکتا۔ سید مودودی علیہ الرحمہ کی خدمات کے اعتراف کرنے والے بے شمار ہیں۔ مجھے اس سے انکار کیسے ہو سکتا ہے۔ کسی کے کام کی نقد، تحسین و تعریف کے مقابلے پر کافی مشکل ہے۔ پھر اس کو اہمیت بھی نہیں دی جاتی، مگر اس کی اہمیت سے انکار بھی ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ نقد و جرح کرنے والا ہزار میں ایک بھی نہیں ملتا۔ پھر نقد و جرح میں یہ بھی مشکل پیش آتی ہے کہ اس میں مقصدیت اور افادیت کا پہلو سامنے رکھا جائے تو کام تو بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

نقد و جرح میرا دل پسند موضوع ہے۔ پچھلے دنوں پروفیسر محمد سرور صاحب کی ایک کتاب دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کتاب میں موصوف نے سید مودودی کی تحریک اور فکر کا مطالعہ پیش کیا۔ یہ کتاب پہلی بار ۱۹۵۶ء میں شائع ہوئی۔ جولائی ۲۰۰۴ء میں اسے سندھ ساگر اکیڈیمی لاہور نے دوبارہ شائع کیا ہے۔ یہ ۴۱۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ موضوع سے اپنی دلچسپی کی بنا پر میں نے کتاب کو پورے انہماک سے پڑھا۔ کتاب کے مرتب پروفیسر محمد سرور جامعہ ملیہ دہلی کے استاذ رہ چکے ہیں۔ دینی حلقوں میں ایک بڑا نام ہیں۔ شاہ ولی اللہ اور مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار و تحریک پر پھی اپنے کام کی وجہ سے معروف ہیں۔ شورش کاشمیری کے مطابق پاکستان کے دو چار پڑھے لوگوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ پروفیسر صاحب نے مولانا سید مودودی علیہ الرحمہ کی شخصیت اور فکر کو ان کے ماحول کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ اس میں انہوں نے اس دور کی ہم عصر شخصیات کے ساتھ ان کا تقابل کے ساتھ ساتھ تاریخی پس منظر کو بھی پیش کیا ہے۔ اس طرح یہ مطالعہ اور دلچسپ ہو جاتا ہے۔

پروفیسر محمد سرور خود مولانا مودودی علیہ الرحمہ کے ہم عصر ہیں۔ پروفیسر صاحب ۱۹۰۶ء میں پیدا ہوئے، جب کہ سید مودودی علیہ الرحمہ کی ولادت ۱۹۰۳ء کی ہے۔ سید مودودی ۱۹۷۹ء میں وفات پا گئے تو پروفیسر سرور صاحب ان کا تعاقب کرتے ہوئے ۱۹۸۳ء میں خدا کے حضور پہنچے۔ اس طرح ان کا مطالعہ اپنے دور کا مطالعہ ہے۔ اس پہلو سے بھی ان کے مشاہدات وزن رکھتے ہیں۔ سید مودودی کے بارے میں ان کا مشاہدہ یہ ہے کہ وہ اپنے دور اور ماحول کی پیداور تھے۔ یہی بات ان کے مشاہدات کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ انہوں نے سید مودودی کو جامعہ ملیہ کے ماحول میں دیکھا ہے۔ اس طرح سید مودودی علیہ الرحمہ کا مطالعہ کرتے ہوئے پروفیسر صاحب اپنے مخصوص نقطہ نظر کے دائرہ سے باہر نہیں نکل سکے۔ اپنے مطالعے میں پروفیسر صاحب نے سید مودودی کے دور کی شخصیات سے تقابل بھی کیا ہے اور اس تقابل میں انہوں نے کسی لاگ لپیٹ سے کام نہیں لیا۔ ابوالکلام آزاد سے تقابل کرتے ہوئے انہوں نے سید مودودی کی فکر کو مولانا آزاد کی فکر کا نقش ثانی قرار دیا ہے۔ اپنے جائزے میں وہ سید کے ذہنی ڈھانچے کو سید کے خاندانی پس منظر کو اور تاریخی پس منظر کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ اس طرح وہ سید مودودی رحمہ اللہ کی نظریاتی فکر کی صداقت کوچیلنج کرتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ اللہ کی حاکمیت اور اس کی بنیاد پر کسی نظام کا تصور کوئی ٹھوس بنیاد نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق یہ طرز فکر خلافت اور بنو امیہ کے دور تک بھی موجود نہیں تھی۔ اس کی شروعات بنو عباس کے دور میں ہوئیں۔ ان کے بقول بنو عباس کے دور میں ظل الٰہی جیسے تصورات نے رواج پایا اور حکمرانوں نے مذہبی تقدس کو اپنے سیاسی اقتدار کے ساتھ جوڑا۔ وہ آئندہ کے لیے بھی اسلامی نظام یا انقلاب کے منشا کے ساتھ میدان عمل میں آنے کو کسی طرح قابل عمل تسلیم نہیں کرتے۔ 

سید کے فکری نظام سے اتنے واضح اختلاف کے ساتھ ساتھ وہ جماعت کے ارکان کو بڑے درد مندانہ طور پر اپیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں آ کر ان کے تجزیوں کی تمام تر عمارت بوسیدہ بنیادوں پر تعمیر شدہ معلوم ہوتی ہے۔ در اصل سید مودودی کی تحریروں کے زور میں آ کر جو دینی ٹیلنٹ ان کے گرد جمع ہوا، وہ جلد ہی چھٹ گیا۔ اس میں پروفیسر صاحب کا حلقہ بھی شامل ہے۔ اس طرح یہ حلقہ سید کی تحریروں اور فکر کے بارے میں اسی طرح کے نقطہ نظر کو پیش کرتا رہتا ہے۔ یہاں تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔ جماعت کے ارکان سے ہمدردانہ اپیل کرنے کا یہ انداز میرے لیے ناقابل فہم ہے۔ تجزیہ نگار خود تو کبھی میدان عمل میں اترے ہی نہیں۔ دور بیٹھ کر خالی خولی علمی تجزیے کرنے کا شغل بڑی اچھی علمی تفریح ہو سکتی ہے، مگر وہ اپنے اندر کوئی تاثیر نہیں لا سکتی۔ یہ بات میں کسی علمی سند کے ساتھ کہنے کے بجائے اپنے تجربات کی روشنی میں کہ سکتا ہوں۔ میرا اپنا جائزہ یہ ہے کہ سید مودودی علیہ الرحمہ کی تحریروں سے کھنچ کر آنے والوں کو مولانا ساتھ لے کر نہیں چل سکے۔ سید مودودی کا یہ رویہ ان کی تحریک کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ اس میں کسی کو قصور وار ٹھہرانا تو ممکن نہیں، لیکن اس کی ذمہ داری بہر صورت بطور ’’تاحیات امیر جماعت‘‘ سید مودودی پر ہی عائد ہو گی۔

بہرصورت یہاں اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ ان کی تمام تر کاوش out of range firing(ہدف چھوڑ کر گولہ باری) کے مترادف ہے۔ ظاہر ہے کہ مجھے ایسی فائرنگ سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔ جناب سرور صاحب کے مخاطبین کو بھی اس سے مشکل ہی سے کوئی دلچسپی ہو گی۔ بلا شبہ ان کا انداز بیان بڑا ٹھوس اور مناظرانہ ہے۔ علمی لحاظ سے بھی انہوں نے کافی محنت کی ہے مگر ہدف واضح نہیں ہوتا۔ لگتا ہے کہ کسی خاص ماحول میں، فرمائش کے تحت لکھاگیا ہے۔ جماعت کے بارے میں پروفیسر صاحب نے جو کہنا چاہا، وہ آج کے دور میں دینی سیاسی کارکن قبول نہیں کرے گا۔ ہاں میرے علم میں اضافہ ہوا ہے کہ شاہ ولی اللہ کی فکر کا ایک سرچشمہ ان کے خواب بھی ہیں۔ بلاشبہ علم نفسیات کی رو سے خواب علم کا ذریعہ ہیں۔ اس مرحلہ پر کیانی کی ایک تقریر کا عنوان یاد آ گیا ہے ’’ساڈیاں خواباں وچ آیا کرو‘‘، لیکن خواب کو ہدایت اور حکمت مان لینا، کم از کم میرے لیے مشکل ہے۔ 

جناب پروفیسر محمد سرور صاحب نے سید مودودی پر فکری، نظریاتی لحاظ سے اپنے نقطہ نظر سے شدید اختلاف کیا ہے مگر سید مودودی کی تحریری اور تنظیمی صلاحیتوں کا کھل کر اور بار بار اعتراف کیا ہے۔ سید کی تحریری اسلوب کے بارے میں ان کا فرمان تو درست ہے مگر ان کی تنظیمی صلاحیتوں اور جماعت کی تنظیمی خوبیوں کے بارے میں ان کے اعترافات پر مجھے شدید تحفظات لاحق ہیں۔ اس سلسلہ میں مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ وہ سید کے تنظیمی پہلوؤں کی حقیقت سے شناسا نہیں۔ ویسے بھی جماعت پر تنقید کے سلسلہ میں میری ساری دلچسپی کا نیوکلیس تنظیمی امور ہی ہیں۔ میرے نزدیک سید مودودی کی ناکامیوں کا ایک بہت بڑا سبب جماعت کی تنظیمی خرابیاں ہیں۔ ان خرابیوں اور کمزوریوں کی نوعیت، ان کی ابتدا اور معراج، پورا ایک سلسلہ ہے جس کا مطالعہ میرا خاص موضوع ہے۔ ان کمزوریوں اور انحطاط کی ابتدا کے بارے میں میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ

تیری تعمیر میں مضمر ہے اک خرابی کی

میرا منشا یہ ہے کہ جماعت کی تنظیمی صورت اپنی ابتدا ہی سے بے حد کمزور اور دقیانوسی تھی۔ اس میں سید مودودی رحمہ اللہ نے اپنی میزبانی کی حیثیت سے فائدہ اٹھایا اور اپنے لیے تاحیات امارت کا اہتمام کر لیا۔ جماعت کا نظام ایسا متشکل ہوا کہ سید علیہ الرحمہ کے برابری کے کسی شخص کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا کوئی امکان نہ تھا۔ اس وجہ سے سید کے ہم مرتبہ لوگ جماعت کی تشکیل کے ایک دو سال بعد ہی جماعت سے دور ہو گئے۔ جماعت کی تشکیل کے موقع پر جتنا زبردست ٹیلنٹ جمع ہوا تھا، وہ چھٹ گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۹۷۲ء میں جب سید علیہ الرحمہ کی توانائیاں جواب دے گئیں اور وہ جماعت کی امارت ترک کرنے پر مجبور ہوئے تو اس منصب کو سنبھالنے والا کوئی صاحب صلاحیت شخص، جماعت کے اندر موجود ہی نہیں تھا۔ چاروناچار جناب میاں طفیل محمد کو یہ بار گراں اٹھانا پڑا۔ محترم میاں صاحب کی سید مرحوم کے قیم کے طور پر خدمات درجہ کمال کی ہیں مگر امارت جماعت کے منصب پر ان کا فائز ہونا بہر حال خانہ پری سے زیادہ نہیں تھا۔ اس انتخاب کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ میاں صاحب تیس سال قیم رہ کر حقیقت میں ایگزاسٹ ہو چکے تھے۔ ایک ایگزاسٹ شخص سے کسی بڑی کارکردگی کا توقع مشکل ہوتی ہے۔ ذرا ان سے پہلے کا عرصہ دیکھیں تو سید مرحوم بھی ایوب خان کے خلاف تحریک کے بعد اگزاسٹ ہو چکے تھے۔ اس ضعف کو دیکھا جائے تو امارت جماعت کے منصب پر سید مودودی علیہ الرحمہ کا تواتر سے طویل عرصہ تک فائز رہنا بھی جماعت کی تنظیمی قوت کو گھن کی طرح کھا گیا تھا۔ بہر حال ان پہلوؤں سے ہم دقت نظر سے اپنی معروضات مرتب کریں گے۔

پروفیسر محمد سرور صاحب کی کتاب پر ہم جو کچھ کہہ سکتے تھے، کہہ چکے ہیں۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جماعت کے بارے میں لکھنے کا جو ارادہ مدت سے محتاج تکمیل چلا آ رہا تھا، اب شاید میرے اوقات میں سے کچھ زیادہ حصہ لے سکے۔ موجودہ تبصرے کو اس سلسلے کی اولین کڑی خیال کیا جا سکتا ہے۔ سردست اتنا کہنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ ترجمان القرآن کا گرتا ہوا معیار میرے لیے سخت صدمے کا باعث ہے۔ اس ماہنامے کے مدیر جناب پروفیسر خورشید احمد کی ادارت میں یہ انحطاط ناقابل فہم ہے۔ پروفیسر صاحب محترم کو لڑکپن سے پڑھتا آ رہا ہوں۔ ان کے تجزیے بڑے چشم کشا ہوتے ہیں، مگر جماعتی پالیسی کی حدوں میں قید۔ جولائی ۲۰۰۸ء کے شمارے میں پروفیسر صاحب نے آئینی پیکیج کا پوسٹ مارٹم پیش کیا ہے۔ ان کی یہ پیشکش واقعتاً بڑی ہی خوب ہے، لیکن ایک مقام پر آ کر ایک لفظ ایسا لکھ دیا ہے جو میری دانست میں ان کے موقر و محترم قلم سے سر زد نہیں ہو سکتا۔ لکھتے ہیں:

’’چیف جسٹس کی میعاد کی تحدید تین سال ہو یا پانچ سال، اس سے کم زیادہ بھی اسی قبیل کی شے ہے۔ ایک خاص شخص سے نجات اور کسی خاص شخص کو اس عہدے پر لانے کے لیے یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے جو دستور کے ساتھ بد دیانتی بلکہ بد فعلی کے مترادف ہے۔‘‘ (ترجمان القرآن جولائی ۲۰۰۸ء صفحہ نمبر ۱۳)

تعارف و تبصرہ