’’حیات سدید‘‘ کے چند ناسدید پہلو (۳)

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

یہ کہنا کہ ’’علامہ کا مطمح نظر دارالاسلام میں فقہ اسلامی کی تدوین نو تھا، جب کہ حضرت مولانا فقیہ نہیں تھے۔ ویسے بھی انہیں اس کام میں دلچسپی نہ تھی۔ بعد کے واقعات نے ثابت کیا۔‘‘ (حیات سدید صفحہ نمبر ۱۷۳) مولانا مودودی اور اقبال دونوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ اقبال نے بہر حال مولانا کو اس کام کی ابتدائی تیاری کے لیے دارالاسلام منتقل ہونے کے لیے کہا تھا۔ وہ اس انتخاب کے لیے موزوں نہیں تھے تو مطلب یہ ہوا کہ اقبال کا انتخاب غلط تھا۔ مولانا مودودی اپنے خط نمبر ۹ مورخہ ۲۶۔مارچ ۱۹۳۷ء بنام چوہدری نیاز علی میں حیات سدید کے صفحہ نمبر ۴۹۹، ۵۰۰ پر لکھتے ہیں:

’’ہم خالص قرآن کی بنیاد پراسلام کی نشاتِ جدیدہ (Renaissance) چاہتے ہیں۔ قرآن کی اسپرٹ اور اسلام کے اصول ہمارے نزدیک غیر متبدل ہیں۔ مگر افکار اور معلومات کی ترتیب اور عملی زندگی کے احوال پر اس روح اور ان اصولوں کا انطباق ہمیشہ احوال کے تغیر اور علم کی ترقی کے ساتھ ساتھ بدلنا ضروری ہے۔ متقدمین اسلام اس چیز کو سمجھتے تھے۔ انہوں نے اپنے زمانے میں عملاً اس کو برتا، مگر متاخرین یہ سمجھے کہ اصول اور اسپرٹ کی طرح ان کا انطباق بھی غیر متبدل ہے۔ اس چیز نے وہ جمود پیدا کیا جو سات سو برس سے ہمارے علوم اور ہمارے قوانین حیات پر طاری ہے، موجودہ دور میں مسلمانوں کے ایک گروہ نے اس جمود کو توڑنا چاہا مگر انہوں نے نشات جدیدہ پیدا کرنی چاہی، وہ اسلام کی نشات جدیدہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ روح قرآنی اور اصول اسلامی سے بے بہرہ ہیں۔ ان کی فکر و نظر اسلامی نہیں ہے۔ اس لیے وہ نہ مسلمان کی حیثیت سے سوچ سکتے ہیں اور نہ اسلامی طریق پر معلومات کو مرتب کر سکتے ہیں، نہ زندگی کے معاملات کو مسلمان کی نظر سے دیکھ سکتے ہیں۔
ہمارا راستہ متاخرین اور متقدمین دونوں سے الگ ہے۔ ہمیں ایک طرف روح قرآنی کو ٹھیک ٹھیک اپنے اندر جذب کرنا اور اپنی قوت فکر و نظر کو اصول اسلامی سے پوری طرح متحد کرنا ہے۔
دوسری طرف علم کی ان ترقیات اور احوال کے ان تغیرات کا پورا پورا جائزہ لینا ہے جو گذشتہ سات آٹھ سو برس کی مدت میں ہوئی اور تیسری طرف صحیح اسلامی طریق پر افکار و معلومات کو مرتب اور قوانینِ حیات کو مدون کرنا ہے تاکہ اسلام پھر سے بالفعل ایک Dynamic force بن جائے اور دنیا میں مقتدی اور امام بن کر رہے۔
یہ ایک Herceulean task ہے۔ اول تو ہم اس کو اس طرح شروع کر رہے ہیں کہ ہم سے پہلے کوئی اس کے نشاناتِ راہ چھوڑ کر نہیں گیا۔ ہمیں خود ہی اپنی منزل مقصود کو پیش نظر رکھ کر راستہ بنانا اور اس پر چلنا ہے۔ دوسرے یہ اتنا بڑا کام ہے کہ میری اور آپ جیسے سینکڑوں آدمیوں کی پوری پوری زندگیاں بھی اس کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اگر ہم یہ امید کریں کہ ہماری زندگی ہی میں اس کے پورے نتائج سامنے آ جائیں گے تو یہ غلط امید ہو گی۔یہ کھجور کا درخت لگانا ہے۔ جو اس کو بوتا ہے، وہ اس کے پھل نہیں توڑ سکتا۔ ہم اس درخت کو لگائیں گے اور اپنے خون جگر سے اس کو سینچ کر چلے جائیں گے۔ ہمارے بعد وہ دوسری نسل آئے گی اور شاید وہ بھی اس کے پھلوں سے پوری طرح لذت آشنا نہ ہو سکے گی۔ کم از کم دو تین پشتیں اس کے پورے نتائج ظاہر ہونے کے لیے درکار ہیں۔ لہٰذا ہمیں نتائج کے لیے بے صبر نہ ہونا چاہیے۔
ہمارا کام یہ ہے کہ عمارت کا نقشہ ٹھیک ٹھیک (جیسا ٹھیک کہ ہم بنا سکتے ہیں)بنا دیں اور اس کی بنیادیں اٹھا کر نئی آنے والی نسل کو تعمیر کا کام جاری رکھنے کے لیے تیار کر دیں۔ اس سے زیادہ غالباً ہم کچھ نہ کر سکیں گے۔‘‘

مولانا مودودی کا خط بنام سید نذیر نیازی تحریر ہذا کے آخر پر ضمیمہ کے طور پر شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ خط مورخہ مورخہ ۲۶ جولائی ۱۹۳۷ء کو لکھا گیا۔ اس کی آخری سطور درج ذیل ہیں:

’’علامہ کے ساتھ عمرانیات اسلامی کی تشکیل جدید میں حصہ لینا میرے لیے موجب سعادت ہے۔ میں ہر ممکن خدمت کے لیے حاضر ہوں۔ مگر اس سلسلے میں کسی مالی معاوضہ کی مجھے ضرورت نہیں۔‘‘

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مولانا کو اس کام سے دلچسپی نہیں تھی، مولانا کے بعد کے کام سے مصنف کی بات کی تصدیق نہیں، تردید ہوتی ہے۔ خاص طورپر رسائل و مسائل کو دیکھ کر ماننا پڑے گا کہ مولانا فقہی اپچ رکھتے تھے۔ پھر ان کی کتاب حقوق الزوجین، عائلی قوانین پر تدوین جدید کی جانب بڑی اہم چیز ہے۔ البتہ یہ بات میں تسلیم کرتا ہوں کہ فقہ کی تدوین جدید کا کام مولانا کی اپنی ترجیحات میں اولیت نہیں رکھتا تھا، لیکن اس بات سے بھی انکار کسی کے لیے بھی ممکن نہیں کہ مولانا جس کام کا بیڑہ اٹھا لیں، اسے پورا کر کے دم لیتے تھے۔ ان میں ہر کام کی صلاحیت موجود تھی۔ فقہ کی تدوین کے لیے اقبال کی رہنمائی اور شرکت سے اگر یہ کام شروع ہو جاتا تو لازمی طور پر تکمیل کو پہنچتا۔ علامہ اقبال کی وفات کی وجہ سے کام کی ابتدا ہی نہ ہو سکی تو پھر اس کا الزام مولانا پر تو نہیں آ سکتا۔

یہ کہنا کہ مولانا اقبال کی بیمار پرسی کے لیے آئے اور نہ ہی شریکِ جنازہ ہوئے، یہاں تک لکھا گیا کہ انہوں نے تعزیت کرنا تک گوارا نہ کیا، بیمار پرسی اور جنازے میں شرکت سے گریز کی بات کرنے والوں کو احساس نہیں کہ مولانا حیدرآباد سے اجڑ کر ایک نئی جگہ پر اقبال کے دیے ہوئے تیاری کے مرحلے میں پھنسے ہوئے تھے جس سے فارغ ہو کر علامہ کے حضور حاضری کا مکمل پروگرام رکھتے تھے۔ جسے کبھی نقل مکانی کا تجربہ ہو، وہ ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔ باقی رہی تعزیت نہ کرنے کی بات تو اس کے لیے مولانا کا سید نذیر نیازی کے نام مفصل خط کئی جگہوں پر چھپ چکا ہے۔ ہم اسے اس مضمون کے آخر پر بطور ضمیمہ شامل کر رہے ہیں۔

مجید نظامی نے مولانا پر قیام پاکستان کی مخالفت کی پرانی فرد جرم کاحوالہ دے کر سیاستِ وطن کو ان کے بس سے نکالنے کی بات فرمائی ہے۔ مجید نظامی کا مشورہ ایسا ہی ہے جیسا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب افتخار حسین ممڈوٹ کا تھا۔ اگست ۱۹۴۷ء کے آخر پر مولانا مودودی دارالاسلام پٹھانکوٹ سے ہجرت کر کے لاہور پہنچے تھے۔ گرداسپور کی صورت حال کو قریب سے دیکھ کر آئے تھے۔ سخت ہیجان کا شکار تھے۔ ایک دو روز بعد ممڈوٹ صاحب سے ملے۔ ان سے کہا کہ :

’’صرف ایک بٹالین فوج کو حرکت دے کر مشرقی پنجاب سے کشمیر جانے والا راستہ بند کیا جا سکتا ہے۔‘‘

اقتدار کے نشے سے سرشار وزیر اعلیٰ کا جواب تھا:

’’مولوی صاحب، آپ اپنا کام کیجیے اور ہمیں اپنا کام کرنے دیجیے۔‘‘ (ترجمان القرآن اشاعت خاص مئی ۲۰۰۴ء ، مضمون ہارون الرشید صفحہ نمبر ۱۳۰)

اسی قسم کا مشورہ مولانا مودودی کو ایوب خان نے بھی دیا۔ مصیبت یہ ہے کہ ہر بوالہوس، حسن پرستی شعار کر لیتا ہے اور ہر دوسرے کو اس سے باز رکھنے پر اصرار کرتا ہے۔ بہر حال مجید نظامی صاحب کی جانب سے قیام پاکستان کی مخالفت کی پرانی فرد پر تو ہم فی الحال تفصیل سے کچھ کہنے کے بجائے صرف مولانا کی اس زمانے کی تحریروں سے ایک دو اقتباس درج کریں گے:

’’مسلمان ہونے کی حیثیت سے میری نگاہ میں اس سوال کی کوئی اہمیت نہیں کہ ہندوستان ایک ملک رہے یا دس ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے۔ تمام روئے زمین (فی الحقیقت) ایک ملک ہے۔ انسان نے اس کو ہزاروں حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ یہ اب تک کی تقسیم اگر جائز تھی تو آئندہ مزید تقسیم ہو جائے گی تو کیا بگڑ جائے گا۔ اس بت کے ٹوٹنے پرتڑپے وہ جو اسے معبود سمجھتا ہے۔ مجھے اگر یہاں ایک مربع میل رقبہ بھی ایسا مل جائے جس میں انسان پر انسان کے سوا کسی کی حاکمیت نہ ہو تو میں اس کے ایک ذرہِ خاک کو تمام ہندوستان سے زیادہ قیمتی سمجھوں گا۔‘‘ (ترجمان القرآن جنوری ۱۹۴۰ء)

اس کے علاوہ یہ بات بھی اہم ہے کہ تقسیم ہند کے لیے مسلم لیگ کی قرار داد، لاہور میں ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کو منظور ہوئی۔ اس سے بھی دو سال پہلے مولانا مودودی نے تقسیم کے لیے جو فارمولا پیش کیا ، اس کی پوری تفصیل یہاں درج کرنے کی ضرورت نہیں۔ بہت سے غیر متعصب مسلم لیگی مصنفین نے اپنی تحریروں میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ یہاں ان تجاویز کا کچھ حصہ درج کیا جاتا ہے۔

’’جن جن علاقوں میں جس قوم کی اکثریت ہے، وہاں ان کی آزاد ریاستیں قائم کر دی جائیں اور یہ آزاد ریاستیں مل کر ایک کینفیڈریشن بنا لیں۔ اگر یہ تجویز بھی قابل قبول نہ سمجھی جائے تو ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کر لیا جائے جو مسلم انڈیا اور ہندو انڈیا پر مشتمل ہو اور باہم اتفاق کے ساتھ ایک مدت مقرر میں امن اور صلح صفائی کے ساتھ ہندو مسلم انڈیا سے ہندو انڈیا منتقل ہو جائیں اور ہندو انڈیا سے مسلمان مسلم انڈیا میں منتقل ہو جائیں اور دونوں طرف انہیں اپنی جائیدادیں بیچنے اور تبادلہ کرنے کے پورے مواقع بہم پہنچائے جائیں۔‘‘ (ترجمان القرآن اکتوبر تا دسمبر ۱۹۳۸ء)

مسئلہ قومیت پر مولا نا مودودی کی تحریریں اتنی جان دار اور موثر تھیں کہ پختہ کانگرسی ذہن بھی ہل جاتے تھے۔ ایک مثال محض حوالے کے لیے درج کی جاتی ہے، اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔ مولانا محمد چراغ اپنے انٹرویو میں اس کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں:

’’ایک بار جواہر لال نہرو گوجرانوالہ بڑے ریلوے اسٹیشن پر تقریر کے لیے آئے۔ میں اور میرے دوست مولانا محمد اسماعیل سلفی (ہم دونوں اس وقت کانگریسی تھے) تقریر سننے جا رہے تھے۔ مولانا مودودی کی تحریروں کے تذکرے پر مولانا اسماعیل صاحب فرمانے لگے ’’مودودی نے کانگریس سے ہمارا وضو تو توڑ دیا۔‘‘ (ترجمان القرآن اشاعت خاص مئی ۲۰۰۴ء صفحہ نمبر ۷۱)

دو قومی نظریہ پر مولانا مودودی کی تحریروں سے متاثرین میں خان آف قلات کے علاوہ کئی دیگر بلوچ رہنما بھی شامل تھے۔ نوابزادہ جہانگیر شاہ جوگیزئی نے اپنے مضمون ’’حضرت مولانا مودودی‘‘ میں لکھا:

’’پاکستان کی تحریک شروع ہوئی تو دو قومی نظریہ ایک نعرہ بن گیا، مگر اس کی علمی و عقلی توجیہات کسی کے پیش نظر نہ تھیں۔ مسلم لیگی قیادت بھی محض جذباتی نعروں میں بہے چلے جا رہی تھی۔ میرے والد محترم نواب محمد خان جوگیزئی مرحوم بلوچستان سے پہلی دستوریہ ہند کے واحدرکن تھے، جن کے ووٹ سے بلوچستان، پاکستان میں شامل ہوا۔ میں نے پاکستان کے حق میں انہیں جس قدر ہموار کیا اور جن جن دلائل سے کام لیا، علم و عقل کاسارا سلحہ مولانا مودودی کی کتب سیاسی کش مکش سے لایا تھا۔ اسی طرح مولانا کی کتاب مسئلہ قومیت نے بھی وہ کام کیا جو ایک تحریک کر سکتی تھی۔ ‘‘ (ترجمان القرآن اشاعت خاص اکتوبر ۲۰۰۳ء صفحہ نمبر ۲۴۲ بحوالہ ہفت روزہ چٹان لاہور ۱۳۔اکتوبر ۱۹۸۰ء صفحہ ۳۲)

اس کے علاوہ حیاتِ سدید میں مسئلہ قومیت اور مولانا مودودی کے دیگر مضامین کی دارالاسلام اور دیگر مسلم لیگی حلقوں کی جانب سے وسیع اشاعت اور تقسیم، ان مضامین کے موثر ہونے کا ثبوت ہے۔ اس کا کریڈٹ مولانا مودودی کو مجید نظامی کے مشورے کی صورت ہی میں ملنا تھا تو مولانا نے مشورہ پر کوئی تیوری نہیں چڑھائی۔ وجہ یہ ہے کہ مولانا اس طرح کا مزاج ہی نہیں رکھتے تھے، لیکن بات جب مشورہ سے بڑھ کر ایک کتاب کے پیش لفظ کی صورت میں آ جائے تو اس کا نوٹس لینا ضروری ہو جاتا ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود اگر جناب مجید نظامی یہی کہیں کہ مولانا نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی تو اس پرانی بحث پر مزید صفحے سیاہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ جناب نظامی کے نقطہ نظر کو مان لیا جائے تو قیام پاکستان سے اختلاف کرنے والوں پر پاکستانی سیاست میں داخلہ، شروع سے ہی ممنوع قرار دے دینا چاہیے تھا۔ ایسے لوگوں کو مملکت میں دوسرے درجے کے شہری بن کر رکھا جانا لازم تھا۔ مسلم لیگ کے بس میں ہوتا تو قرارداد مقاصد اور دستور پاکستان میں ایسے لوگوں کے لیے سیاست پاکستان شجر ممنوعہ قرار دے دی جاتی۔ سیاستِ پاکستان فوجی اور سول بیوروکریسی اور مسلم لیگ کے کھوٹے سکوں کے لیے چوپٹ رہتی۔ 

مسلم لیگ کیا ہے، قائد کا فرمان تو واضح ہے مگر مسلم لیگ کی تو پوری تاریخ ناقابل فہم ہے۔ ایک واضح منزل رکھنے کے بعد بھی اس کا گروپوں کی شکل پر اصرار، جمہوریت کی خوبی کے طور پر تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ اسے جمہوری ادا تو اس صورت میں کہہ سکتے ہیں جب یہ ایک پلیٹ فارم پر رہے۔ مسلم لیگ کے نام کو اتنا تقدس حاصل رہا کہ ہر ایک نے اسے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ دوسرے انداز میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ ایسی ماں ہے جس کی کثیر العیالی کی انتہا یہ ہے کہ سرخ پوشوں، کمیونسٹوں، خدائی خدمت گزاروں، احرار، جماعت اسلامی اور کانگریس کے سوا پاکستان کی تمام جماعتوں نے مسلم لیگ کی کوکھ سے ہی سے جنم لیا۔ مسلم لیگ کا کمال ولادت یہ ہے کہ قرارِ حمل کے بعد بعض اوقات، ولادت فوراً ہی ہو جاتی ہے۔ ایسے بھی ہوا کہ جو کل تک قائد کو گالیاں دیتے تھے، وہ مسلم لیگ کی نظر عنایت سے مزار قائد پر فاتحہ پڑھنے پہنچ گئے۔ ذکر کو بار محسوس نہ کیا جائے تو جناب رفیق تاڑر کی بات اس لیے کروں گا کہ وہ ہماری بار کے ممبر رہے، سارا دن بار میں بیٹھ کر قائد علیہ الرحمہ کو گالیاں دینے کے سوا ان کا کوئی شغل نہیں تھا، لیکن ان کی عمر بھر کے دشنام جب لیگیائے گئے تو وہ مسلم لیگ کے کھاتے سے صدر مملکت ہو گئے۔ 

ہمارے ضلع کے مسلم لیگ کے سب سے بڑے مامے، ایوب خان کی مسلم لیگ میں تھے۔ مادر ملت نے ایوب کے مقابلے پر صدارتی الیکشن ہارا تو جلوس کی قیادت کر رہے تھے۔ اس جلوس میں کتیا کے گلے میں مادر ملت کی تصویر لٹکا کر اسے جوتے مارتے ہوئے پوچھا جاتا تھا کہ ’’پھر الیکشن لڑو گی؟‘‘ پاکستانی سیاست تو ایسے ہی لوگوں کے بس کی ہے۔ 

ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں کہ سید شریف الدین پیرزادہ مادر ملت کی موت کو غیر طبعی اور قتل قرار دیتے ہیں، مگر ہمیشہ مقتدر حلقوں کے مشیر کی اعلیٰ ترین منصب پررہنے کے باوجود رپورٹ ابتدائی (ایف آئی آر) بھی درج کرانے کی جرات نہیں کر سکے۔ ایوب خان اور سید مشرف کی رفاقت بلکہ چاکری کرنے والے مسلم لیگی قرار پائیں تو پھر کوئی بھی غیر مسلم لیگی نہیں ہو سکتا۔ ملک غلام محمد، ایوب اور اسکندر مرزا کی سازشوں سے ادھر ایک کابینہ ٹوٹ کر نئی بنتی تو پرانی کابینہ کے اکثر وزرا نئی کابینہ میں بدستور موجود رہے۔ ایسا بھی ہوا کہ اسمبلی گھر بھیج دی گئی مگر وزیر اعظم اسی طرح اپنے منصب پر قائم رہے۔ سادہ دل لوگوں کو گمراہ کرنے کی انتہا یہ ہے کہ مولوی تمیزالدین کیس میں ایک ایسا شخص بھی مسؤل علیہ تھا جو ۱۹۵۶ء کے دستورکے خالق اور ایوب خان کے خلاف تحریکِ جمہوریت میں سرخیل لیڈر رہا۔ ۱۹۶۵ء کی جنگ کے بعد، اعلان تاشقند کے نتیجہ میں ہونے والے رد عمل پر نیشنل کانفرنس اسی لیڈر کے گھر پر منعقد ہوئی۔ 

بعد ازاں کے مسلم لیگیوں نے کیا کچھ کیا؟ ملکی خزانہ خالی کر دیا اور اپنی تجوریاں بھریں۔ ملک غریب اور رؤسا امیر سے امیر ہوتے گئے۔سید المشرفین کے دور میں تو ’’پاکستان فار سیل‘‘ کے اشتہار عام ہوئے۔ شہریوں کے جسم و جاں، ماؤں بہنوں اور بیٹیوں تک کو بیچ ڈالا گیا۔ کہاں تک بیان کیا جائے! اگر سیاستِ پاکستان کو بس میں لانے کے لیے اس طرح کے لچھن اختیار کرنے لازم ہیں تو واقعتا مولانا مودودی کے لیے مجید نظامی کا مشورہ صحیح تھا۔ یہی مشورہ مولانا مودودی کو فیلڈ مارشل ایوب خان نے بھی لاہور کے گورنر ہاؤس میں ملاقات کے وقت دیاتھا۔ ایوب خان کے الفاظ یہ تھے کہ:

’’مولانا گندی سیاست میں حصہ لینے سے آپ کے اجلے دامن پر داغ لگ جاتے ہیں۔ آپ دین کی خدمت کریں، ہم ہر طرح تعاون کریں گے۔ گندی سیاست سے اپنے آپ کو بچائیں‘‘۔ 

مولانا نے بر جستہ جواب دیا تھا کہ :

’’سیاست کی گندگی کو صاف کرتے کرتے اگر میرا دامن گل بھی جائے تو یہ مہنگا سودا نہیں۔ تطہیر و صفائی کا یہ کام، بہرصورت جاری رکھوں گا۔‘‘

قرب اقبال کے ’’قصے‘‘ اور تحریک پاکستان کی ’’مخالفت‘‘

معذرت کے ساتھ ہم ایک بار پھر پیش لفظ کی جانب لوٹتے ہیں۔ اس میں مجید نظامی نے کہا کہ اقبال اور مولانامودودی کے قرب کے قصے گھڑے گئے۔ مولانا مودودی نے کبھی اقبال سے قرب کا دعویٰ نہیں کیا۔ وہ اقبال کے مداح تھے۔ انہوں نے اقبال سے صرف دو ملاقاتوں کی بات کی ہے۔ ان ملاقاتوں کو انہوں نے ابتدائی نوعیت کی بتایا ہے۔ لاہور آمد کے لیے جنابِ نیاز علی خان نے اصرار کیا تو وہ ان کے ہمراہ اقبال سے ملے۔ اس سے ان کو اندازہ ہوا کہ اقبال ان کی تحریروں سے واقف ہیں۔ یقینی طور پر اس دور کے مولانا کے تجزیے معروف و عام تھے۔ خاص طور پر مسئلہ قومیت پر مولانا کی تحریریں مسلم لیگی حلقوں کا فکری اور علمی اسلحہ ثابت ہوا۔ یہاں ہم نوائے وقت ہی کے دیرینہ اور مستقل کالم نویس جناب میم شین ( محمدشفیع ) کے الفاظ حیات سدید ہی سے نقل کریں گے۔ کتاب کے صفحہ نمبر ۱۸۰ پر ان کے حوالے سے تحریر ہے کہ:

’’حقیقت یہ ہے کہ پورے ہندوستان میں نظریہ وطنی قومیت کے خلاف قلمی جہاد کرنے میں مولانا مودودی سے زیادہ کسی اور شخص نے علامہ اقبال کا ساتھ نہیں دیا۔‘‘

اب رہا یہ سوال کہ مولانا اور اقبال کے قرب کے قصے گڑھے گئے، اس بارے میں مولانا نے جو تفصیلات بیان کی ہیں، وہ اس قدر ہیں۔ ۳۰۔ مارچ ۱۹۵۱ء کو ایک خط میں انہوں نے تحریر کیا:

’’ ڈاکٹر اقبال مرحوم سے میرے تعلقات کوئی بہت وسیع تو نہ تھے، البتہ قلبی حیثیت سے گہرے ضرور تھے۔ میں جب حیدرآباد سے رسالہ ترجمان القرآن نکالا کرتا تھا، اس زمانے میں مجھے خبر تک نہ تھی کہ ڈاکٹر صاحب مجھ سے واقف ہیں، مگر بعد میں معلوم ہو کہ وہ برابر اس رسالہ کو منگوا کر میرے مضامین دلچسپی کے ساتھ پڑھوا کر سنتے رہتے تھے۔ مجھے پہلی مرتبہ ان کی دلچسپی کا علم اس وقت ہو جب ۱۹۳۷ء کے آغاز میں ان کا عنایت نامہ مجھے ملا جس میں انہوں نے اس خواہش کا اظہار فرمایا تھا کہ میں حیدرآباد چھوڑ کر پنجاب چلا آؤں اور لاہور میں رہ کر فقہ اسلامی کی تدوین جدید میں ان کے ساتھ تعاون کروں۔ اس کے بعد کچھ مراسلت شروع ہوئی اور ۳۷ء کے آخر میں لاہور آکر دو تین مرتبہ ان سے ملا۔ ان ملاقاتوں میں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میری اور ان کی بہت پرانی واقفیت ہے اور ہم ایک دوسرے کے دل سے بہت قریب ہیں۔ یہاں میرے اور ان کے درمیان یہ بات طے ہو گئی کہ میں پنجاب منتقل ہو جاؤں اور پٹھان کوٹ کے قریب اس وقف کی عمارات میں جس کا نام ہم نے بالاتفاق ’’دارالاسلام ‘‘تجویز کیا تھا، ایک ادارہ قائم کروں جہاں دینی تحقیقات اور تربیت کا کام کیا جائے۔ انہوں نے مجھ سے وعدہ فرمایا کہ میرے وہاں منتقل ہو جانے کے بعد وہ بھی ہر سال چند مہینے وہاں آکر قیام فرمایا کریں گے۔ چنانچہ اس قرار داد کے مطابق میں نے حیدرآباد جا کر ہجرت کی تیاریاں شروع کر دیں اور مارچ ۳۸ء میں نقل مقام کر کے دارالاسلام پہنچ گیا مگر افسوس کہ مرحوم کی زندگی کے وہ آخری ایام تھے۔ دوسرے ہی مہینے ان کا انتقال ہو گیا اور میں اس کام کے لئے تنہا رہ گیا جسے ان کے ساتھ مل کر کرنا چاہتا تھا۔

یہ میرے اور ان کے تعلقات کی مختصر داستان ہے۔ رحمۃ اللہ علیہ۔‘‘ (اقبال اور مودودی صفحہ۷۵، ۷۶ مرتبہ ابو راشد فاروقی مطبوعہ مکتبہ تعمیر انسانیت لاہور سال اشاعت ۱۹۸۰ء )

اقبال اور مولانا مودودی کے تعلق کی جملہ حدود مولانا مودودی نے بیان کر دی ہیں۔ ان پر کچھ کہا جائے تو جناب مجید نظامی حق بجانب ہوں گے، مگر غیر متعین انداز میں وہ یہ کہہ دیں کہ اقبال اور مودودی کے قرب کے قصے گڑھے گئے، اور کس نے گڑھے، کیسے اور کہاں کہاں اور کیوں؟ اس کی وہ کوئی وضاحت نہ کریں اور تان اس بات پر ٹوٹے کہ وہ میدان سیاست میں کیوں بر سر عمل ہوئے، یہ طرز عمل عجیب ہے۔ 

اپنی بات میں زور پیدا کرنے کے لیے جناب مجید نظامی ارشاد فرماتے ہیں کہ مولا نا مودودی، قیام پاکستان کے حق میں نہ تھے۔ ان کا پیش لفظ میں یہ بھی کہنا کے اس کے نا قابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ کچھ اس کتاب میں شامل کیے گئے ہیں۔ پوری کتاب میں زبانی روایات کے سوا کوئی بات اس پہلو سے شامل نہیں، جب کہ مولانا کی تحریریں بڑی واضح ہیں۔ ہم اوپر ان کا حوالہ دے چکے ہیں۔ ہم نے ابتدائی رسائل کا حوالہ دیا ہے۔ حیات سدید کے مصنف اور پیش لفاظ حوالوں کی تصدیق کر سکتے ہیں، بلکہ مجھے یقین ہے وہ ان حوالوں سے کسی طور بے خبر نہیں ہو سکتے۔ تقریب رونمائی میں مجید نظامی نے خود یہ فرمایا کہ:

’’جب میں طالب علم تھا تو ترجمان القرآن کا باقاعدہ قاری تھا‘‘۔ 

یہی وجہ ہے کہ کتاب کی تقریب رونمائی میں جناب مجید نظامی نے جو تقریر فرمائی، اس میں انہوں نے اپنے پیش لفظی جملوں کی ’’تعبیر‘‘ کرتے ہوئے ذرا مختلف صورت اختیار کی۔ ان کی تقریر کی نوائے وقتی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ ارشاد فرمایا:

’’الیکشن میں جماعت اسلامی کی غیر جانبد داری قیام پاکستان کی مخالفت تھی۔ ان انتخابات میں جماعت اسلامی کا یہ کہناتھا کہ ہم ان انتخابات میں غیر جانبد دار رہیں گے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ غیر جانب داری، قیام پاکستان کی مخالفت تھی، کیونکہ آپ کے اگر چند ووٹ بھی فیصلہ کن ہوتے اوروہ پاکستان کے خلاف ہوتے تو پاکستان ہرگز نہ بنتا۔‘‘ (نوائے وقت، ۱۴؍اکتوبر ۲۰۱۰ء)

غیر جانب داری کو مخالفت سمجھنا جناب مجید نظامی کی صواب دید ہے، لیکن جماعت کی غیر جانب داری ثابت تو کی جائے۔ جماعت نے اس بارے میں کوئی قرار داد منظور کی؟ کوئی بیان جاری کیا؟ مولانا مودودی کی تحریروں نے تو واضح طور پر تقسیم ہند کی حمایت کی۔ سلہٹ اور صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کے موقع پر جماعت کے ارکان کو پاکستان کے حق میں ووٹ دینے کی واضح ہدایت جاری کی گئی۔ ۱۹۴۶ء کے انتخابات میں جماعت نے بائیکاٹ کا اعلان تو نہیں کیا۔ جماعت کے ارکان نے، انفرادی طورپر، اپنی صوابدید پر مسلم لیگی امیدواروں کی حمایت کی۔ اس امر پر دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ قیام پاکستان سے پہلے تک جماعت، عملی سیاست میں داخل نہیں ہوئی تھی۔ جماعت کے قائد علمی اور فکری کام کرتے رہے۔ جماعت کا حجم بے حد مختصر تھا۔ عملی سیاست میں شرکت اس وقت تک اس کے بس میں نہیں تھی۔ فکری کام بھی جماعت کی سطح پر نہیں تھا۔ یہ تو محض مولانا کی صحافیانہ حیثیت سے تھا۔ اس پہلو کو سامنے رکھا جائے تو پھر کسی بحث کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس موضوع پر بار بار بحث ہوتی رہی ہے۔ یہ بحث بھی اب تو تاریخ کا حصہ ہو گئی ہے۔البتہ صحافیانہ حیثیت سے مولانا نے جو کچھ لکھا، وہ کسی مینڈیٹ کے تحت نہیں تھا۔ ان کا ذہن اور قلم آزاد تھا۔ انہوں نے کانگریس اور جمعیت علمائے ہند پر بھر پور تنقید کی۔ اس تنقید کو آج بھی کم از کم دیوبند سے وابستہ لوگ معاف نہیں کر سکتے۔ اسی طرح مولانا نے اس وقت کی مسلم لیگ پر بھی تنقید میں کوئی رو رعایت نہیں کی تھی۔ اس تنقید کو دیکھا جائے تو یہ مولانا کے انفرادی خدشات تھے۔ ان کو جماعت کے کھاتے ہیں نہیں ڈالا جاسکتا۔ جماعت کی کوئی قرارداد یا بیان ان کی تائید میں نہیں آیا۔ اس تنقید کو قلم اور فکر کی آزادی کے طور تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ اس کا جائزہ لینا مقصود ہو توحالات کے تناظر ملحوظ رکھنا پڑے گا۔ 

متحدہ وطنی قومیت کے خلاف مولانا کے فکری کام کا حوالہ دیے بغیر کوئی بات کرنا ممکن نہیں۔ بد قسمتی یہ ہوئی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے مختلف مسلم لیگی اڈیشنز حکمران چلے آرہے ہیں۔ ان سب کا ایک ایک لمحہ، قیام پاکستان سے قبل، مولا نا نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا ان کی اپنے عملی سے متواتر تصدیق کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ان حکمرانوں کو اپنے طرز عمل کی اصلاح پر کوئی آمادہ نہیں کر سکتا۔ مولانا کی دور اندیشی کی داد دینے کے بجائے ان کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ بہر حال یہ ہر ایک کا ظرف ہے۔ کسی پر اظہار میں کوئی قدغن نہیں ۔ ہم نے بھی جو کچھ عرض کیا ہے، یہ قلم اور سوچ کی آزادی کے تحت ہی کیا ہے۔ اس آزادی کے لیے پاکستان میں جتنی طویل اور کٹھن جد و جہد کی گئی ہے، مجید نظامی اور حمید نظامی سے زیادہ کون واقف ہو گا۔ علامہ اقبال اور قائد اعظم کے وارثوں نے اس آزادی کو سلب کرنے کے لیے کیا کچھ نہ کیا، مگر کوئی ہم سے ہماری آزادی چھیننے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ہم مجید نظامی سے بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ وہ حالات کے پورے تناطر میں جو کچھ بھی کہیں گے، وہ مناسب طور پر لیا جائے گا۔ اس ملک میں مسلم لیگ کی لاٹھی لے کر چلنے والے اندھوں کے علاوہ دیدہ و بینا لوگ بھی رہتے ہیں۔ ان کے ہاں نوائے وقت کی ہمیشہ سے قدر موجود ہے اور موجود رہے گی۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ ادارہ قائد اور علامہ کی متعین کردہ راہ پر گامزن چلا آرہا ہے۔ اس کے سربراہ کسی بڑے سے بڑے فرعون کو بھی خاطر میں نہیں لائے۔ کسی سے کوئی غرض نہیں رکھی۔ اقتدار کی غلام گردشوں میں نوائے وقت کے چیف کا کبھی گزر نہیں رہا مگر ان کو مسلم لیگ سے پہلی محبت اب بھی ہے۔ اس محبت پر کسی کو اعتراض نہیں ہو گا، شرط یہ ہے کہ وہ خواہ مخواہ کسی کو اپنا رقیب نہ بنائیں۔

جناب مجید نظامی کو گلہ ہے کہ ’’جماعت اسلامی آج اگر مولانا (مودودی )کو تحریک پاکستان کا رہنما اور پاکستان بنانے والوں میں تیسری شخصیت قرار دے تو یہ حقائق کو مسخ کرنے کی دانستہ کوشش ہے جس سے جماعتیوں کے سینے میں تو کچھ ٹھنڈ پڑ جاتی ہو لیکن یہ قوم کو گمراہ کرنے کی ایک لا یعنی کوشش ہے۔‘‘ گلہ کرتے ہوئے جذباتی ہو جانا کسی درجے میں جائز ہو گا مگر جناب مجید نظامی واضح تو کریں کہ جماعت اسلامی نے کب مولانا مودودی کو تحریک پاکستان کا رہنما قرار دیا ہے؟ کسی شخص نے انفرادی طور پر ایسی کوئی بات کہی ہو تو اسے جماعت کے کھاتے میں ڈالنا زیادتی ہو گی۔البتہ یہ بات واضح ہے کہ تحریک پاکستان اور پاکستان میں پہلے اور دوسرے کی درجہ بندی میں اختلاف کی گنجائش تو رکھی جاسکتی ہے۔ کوئی اگر لیاقت علی خان کو تیسری شخصیت کہے تو دولتانہ اور عبدالمنعم خان کو بھی چوتھے اور پانچوے درجے میں لکھا جائے گا، لیکن اگر کوئی مولوی تمیزالدین اور سید حسین شہید سہر وردی کو دوسرے اور تیسرے درجے میں رکھے تو اس پر اعتراض کی کتنی گنجائش ہو گی، اس کی صراحت، تحریک کارکنان پاکستان کے کار پرداز کے طور پر جناب مجید نظامی کے ذمے ہے۔

اوپر ہم نے حیات سدید میں غیر سوانحی مواد شامل کرنے پر شدید اعتراض کیا ہے۔ البتہ ہم یہ اعتراف کریں گے کہ کتاب میں دارالاسلام کے ابتدائی پروجیکٹ اور اس کی مختلف مجوزہ صورتیں روایت کی گئی ہیں، ان پر خطوط میں بڑی مفید بحث کی گئی ہے۔ الشریعہ اور اس کے قارئین کے دینی مدارس کی اصلاح کے پہلو سے ذوق وجہ سے دلچسپی کا باعث ہے۔ یہ پروجیکٹ بروئے کار تو نہ آسکے مگر یہ مباحث آج بھی دینی مدارس کی اصلاح کے حوالے سے چشم کشا ہیں۔ خاص طور پر جھنگ کی اسلامی یونیورسٹی کی اسکیم، مولانا عبدالباری، امیر الدین قدوائی کے خطوط بڑے اہم ہیں۔کتاب کا یہ حصہ اثاثی حیثیت رکھتا ہے۔

ضمیمہ اول: خط نمبر ۱، مولانا مودودیؒ بنام سید نذیر نیازیؒ 

’’۱۷۔جمادی الاول ۵۶ھ، (۲۶ جولائی ۱۹۳۷ء)
محترمی و مکرمی، السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عنایت نامہ ملا۔ میں بہت شکر گذار ہوں کہ آپ نے بہت صفائی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔ میں بھی چند باتیں اسی بے تکلفی کے ساتھ عرض کیے دیتا ہوں۔
میں نے اپنی زندگی کے لیے چند اصول، ایک خاص نصب العین کے ساتھ مقرر کر لیے ہیں اور خد اکے فضل سے میرے اندر اتنی استقامت موجود ہے کہ میں سخت سے سخت مشکلات میں بھی اپنے نصب العین سے ہٹنا اور اپنے اصولوں میں ترمیم کرنا گوارانہیں کرتا۔ اس وقت میں جن مشکلات میں مبتلا ہوں، وہ تمام تر میری اپنی عاید کی ہوئی پابندیوں کی وجہ سے ہیں، ورنہ یہ طوفانِ مصائب آج دور ہو سکتا ہے۔ میں نے اپنے اوپر جو پابندیاں عاید کی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ میں کسی سے اپنی ذات کے لیے کوئی مالی مدد نہ لوں گا۔ دوسری یہ ہے کہ قومی و مذہبی خدمت کے سلسلہ میں کوئی معاوضہ لینے کا خیال بھی نہ کروں گا اور تیسری یہ ہے کہ ایسی منفعت کے لالچ میں اپنے آپ کو گرفتار نہ ہونے دوں گا جو مجھ کو دین و ملت کے مفاد کے لیے اپنی صواب دید کے مطابق آزادانہ کام کرنے سے روکتی ہو۔ (چند پابندیاں اور بھی ہیں مگر وہ زیر بحث معاملات سے غیر متعلق ہیں)۔ اب آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ جو صورتیں آپ نے بیان فرمائی ہیں، انہیں قبول کرنا میرے لیے کس قدر مشکل ہے۔ میں اپنی ذات کے لیے سو روپے کیا معنی، ایک پیسے کی بھی مدد نہیں چاہتا۔ اپنے ذاتی مصارف کے لیے میں نے ایک تجارتی کام شروع کر رکھا ہے۔ اسی کو میں لاہور میں بھی کر سکتا ہوں۔ شاہی مسجد کی امامت میرے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے۔ اس سے بہتر موقع کام کرنے کا اور کیا ہو سکتا ہے، مگر معاوضہ لے کر امامت کرنا، میرے نزدیک ناجائز نہیں تو سخت مکروہ ضرور ہے۔ مسلمانوں میں چار سو برس تک یہ مسئلہ متفق علیہ رہا کہ نماز کی امامت اور قرآن کی تعلیم کا معاوضہ لینا جائز نہیں۔ بعد میں حالات کی خرابی نے اس کو جائز کرا دیا اور اس وقت سے یہ دونوں منصب ذلیل اور بے روح ہو گئے ہیں۔ اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ اس لیے معاوضہ لے کر امامت کرنے کا تو خیال بھی نہیں کر سکتا۔ ہاں اگر بلا معاوضہ یہ خدمت میرے سپرد کی جائے تو دل و جان سے اس کے لیے حاضر ہوں۔ رہی سیاست سے کنارہ کشی تو اس کے لیے میں قطعاً تیار نہیں ہوں۔ میں نے کسی فوری جذبے کے تحت سیاسیات کی طرف قدم نہیں بڑھایا بلکہ خوب سوچ سمجھ کر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اب مجھے گوشہ عزلت سے نکل کر کچھ کرنا چاہیے۔ مسلمان اس وقت سخت خطرے میں مبتلا ہیں۔ جن سے صحیح رہنمائی کی امید نہ تھی، انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ جن سے تمام تر امیدیں وابستہ تھیں، آج وہ بھی غلط رہنمائی کر رہے ہیں۔ کانگریس تحریک کے فروغ نے مسلمانوں کے کیمپ میں عام بھگدڑ بر پا کردی ہے۔ روزانہ desertion کی خبریں دھڑا دھڑ چلی آ رہی ہیں۔ جواہر لال کی امت عوام میں تیزی کے ساتھ اپنا اثر پھیلا رہی ہے۔ جھانسی کے انتخاب نے ظاہر کر دیا کہ مسلمانوں کی رائے عام کس حد تک متاثر ہو چکی ہے اور اب کانگریس اور غیر کانگریس کے درمیان کتنا تھوڑا margin رہ گیا ہے۔ مسلمان لیڈروں کے بیانات اور اسلامی جرائد کے مضامین پڑھنے سے اندازہ ہو رہا ہے کہ کس قدر کم آدمی ہیں جو اسلامی ہند کی صحیح پوزیشن کو سمجھتے ہیں اور جن کے سامنے راہ راست بالکل واضح ہے۔ ایسی حالت میں آپ غور کیجیے کہ جو چند گنے چنے آدمی ایسے باقی رہ گئے ہیں، ان میں سے بھی ایک شخص کا اپنے اوپر ملازمت کی پابندی عائد کرلینا اور وہ بھی ڈیڑھ دو سوروپے کی آمدنی کے لئے کیونکر جائز ہو سکتا ہے۔ اگر میں اس کو جائز سمجھ لوں تو مجھے لاہور جانے کی کیا ضرورت ہے! جامعہ عثمانیہ میں چار سوروپے کی جگہ مجھے اس وقت مل رہی ہے، اس کو کیوں نہ قبول کر لوں؟ میں جس غرض کے لیے لاہور کا رخ کرنا چاہتا ہوں، وہ صرف یہ ہے کہ میرے نزدیک اسلامی ہند کا فیصلہ (جو اب قریب ہی آ گیا ہے) شمال کے تینوں صوبوں کی طاقت پر منحصر ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس ’’دارالاسلام‘‘ کے قلب میں جا کر بیٹھوں اور دیکھوں کہ وہاں اسلام کی قوت کو بڑھانے اور اس سے کام لینے کی کون سے مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔ یہاں سے میں کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔ وہاں پہنچ کر مواقع تلاش کروں گا اور جو موقع بھی مجھ کو ملے گا، اس سے فائدہ اٹھاؤں گا۔ میں اس قسم کے استفادہ کے لیے اپنے دل و دماغ اور دست و پا کو بالکل آزاد رکھنا چاہتا ہوں اور کسی قیمت پر بھی ایسی کوئی پابندی قبول نہیں کر سکتا جو دین و ملت کی خدمت کے کسی موقع سے فائدہ اٹھانے میں مانع ہو۔
امید ہے کہ آپ میرے نقطہ نظر کو اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے۔ میں نے جن مشکلات کا اپنے پچھلے خط میں ذکر کیا تھا، ان کی تفصیل یہ ہے کہ ترجمان القرآن کا ماہوار خرچ تقریبا تین سو روپے ہے۔ پبلک میں اتنے خریدار نہیں کہ رسالہ کے مصارف ان کے چندہ سے چلائے جاسکیں۔ نظام گورنمنٹ ۲۷۵ پرچے خریدتی ہے۔ اسی کی بدولت یہ چل رہا ہے۔ اگر میں لاہور منتقل ہو جاؤں تو اغلب ہے کہ نظام گورنمنٹ کی خریداری بند ہو جائے گی۔ اس صورت میں مجھ پر اپنے ذاتی مصارف کے ساتھ پرچے کے مالی نقصان کا بار بھی پڑ جائے گا اور اس کو سنبھالنا میرے لیے تقریباً محال ہو گا۔ اس مشکل کا حل صرف یہ ہو سکتا ہے کہ پنجاب میںآپ حضرات اپنے ذرائع سے کام لے کر ترجمان القرآن کی توسیع اشاعت کے لیے کوشش فرمائیں۔ اگر مجھے یہ توقع ہو کہ پانچ سو تک خریدار ہو سکتے ہیں تو میں رسالے کی طرف سے مطمئن ہو جاؤں گا۔ میں رسالہ سے کچھ لینا نہیں چاہتا، مگر مجھ میں اتنی استطاعت بھی نہیں کہ اس کو کچھ دے سکوں۔
علامہ اقبال کے ساتھ ’’عمرانیاتِ اسلامی کی تشکیل جدید‘‘ میں حصہ لینا میرے لیے موجب سعادت ہے۔ میں ہر ممکن خدمت کے لیے حاضر ہوں۔ مگر اس سلسلے میں کسی مالی معاوضہ کی مجھے ضرورت نہیں۔
خاکسار ۔ ابوالاعلی‘‘ 

خط کی اصل کاپی سید نذیر نیازی کے کاغذات میں ہے۔

ضمیمہ نمبر ۲ : خط نمبر ۲، مولانا مودودیؒ بنام سید نذیر نیازیؒ 

’’مورخہ ۲ جمادی الاخری ۵۶ھ
محترمی و مکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عنایت نامہ مورخہ ۲۔اگست وصول ہوا۔ جیسا کہ آپ نے تحریر فرمایا ہے، میں عزیمت اور توکل ہی سے کام لے کر ہجرت کروں گا۔ لاہور کو اپنا آئندہ مستقر بنانے کا فیصلہ کر چکا ہوں۔ محض چند عملی مشکلات ہیں جن کو حل کرنے کی تدبیر میں کچھ مدت صرف ہو گی۔ یہاں سے اپنا سامان منتقل کرنے اور اپنے مالی واجبات ادا کرنے کے لیے مجھے کافی روپے کی ضرورت ہے۔ ایک ہزار سے زیادہ کا قرض ترجمان القران پر ہے۔ اس کو ادا کرنا ہے۔ پھر اپنا سامان منتقل کرنے اور اپنے تجارتی کاروبار کو یہاں ختم کر کے لاہور میں از سر نو جاری کرنے کے لیے بھی تقریباً ایک ہزار روپے کی ضرورت ہے۔ اس غرض کے لیے میں اپنی زمین اور اپنا ناقابل انتقال اناث البیت فروخت کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ تین چار مہینہ میں یہ سب مراحل طے ہو جائیں گے۔ اس دوران میں ایک مرتبہ لاہور حاضر ہو کر دیکھ لوں گا کہ مجھے وہاں قیام کرنے کے لیے کیا بند و بست کرنا ہے۔ آئندہ رجب کے آخر میں سفر کا ارادہ ہے۔ چار پانچ روز دھلی ٹھہر کر غالباً ختم رجب یا آخر شعبان میں لاہور پہنچوں گا۔ اس موقع پر ان شاء اللہ یہ بھی طے ہو جائے گا کہ قادیانیت کے متعلق مجھے کیا لکھنا چاہیے۔ میں نے اب تک در حقیقت اس موضوع پر زیادہ مطالعہ بھی نہیں کیا ہے۔ جو کچھ معلومات حاصل ہوئی ہیں، ان کا ماخذ محض برنی صاحب کی کتاب ہے مگر کوئی تحقیقی چیز لکھنے کے لیے وہ کافی نہیں ہے۔ لاہور میں جو حضرات قادیانیت پر وسیع معلومات رکھتے ہوں، ان سے مشورہ کر کے مواد فراہم کر لوں گا۔
خاکسار۔ ابوالاعلیٰ‘‘

ضمیمہ نمبر ۳: خط سید نذیر نیازیؒ بنام مولانا مودودیؒ 

’’۱۸۔اپریل ۳۸ء
مکرمی۔ السلام علیکم۔
امید ہے آپ بفضلہ تعالی خیر و عافیت سے ہوں گے۔ کچھ دن ہوئے سید محمد شاہ صاحب سے معلوم ہوا تھا کہ آپ جمال پور تشریف لے آئے ہیں اور عنقریب لاہور بھی آئیں گے۔ اس وقت سے برابر آپ کا انتظار ہے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ اگر آپ کا ارادہ فی الواقعہ لاہور آنے کا ہے تو جلدی تشریف لائیے تاکہ ملاقات ہو جائے۔ اپنی طرف سے یہ گزارش ہے کہ ڈاکٹر صاحب قبلہ کی حالت نہایت اندیش ناک ہے۔ ایک لمحے کا بھی بھروسہ نہیں مگر اس بات کو صرف اپنی ذات تک محدود رکھیے گا۔ کسی سے ذکر نہ کیجیے گا۔ لہٰذا بہتر یہی ہو گا کہ آپ جس قدر ہو سکے، جلدی تشریف لے آئیں۔ ڈاکٹر صاحب کی صحت کے لیے دعا فرمائیے۔ 
آپ کا مخلص۔ نیازی‘‘

ضمیمہ نمبر ۴: پروجیکٹ دارالاسلام، شائع کردہ غلام احمد پرویز

بورڈ آف ٹرسٹیز

(۱) میاں نظام الدین صاحب رئیس اعظم لاہور

(۲) خاں صاحب شیخ محمد نصیب ، بیرسٹر گوداسپور

(۳) خاں صاحب چوہدری نیاز علی خاں جمال پور

(۴) خاں صاحب چوہدری رحمت علی صاحب ڈپٹی کلکٹر انہار

(۵) خاں بہادر مولوی فتح الدین صاحب ایم بی ای، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت

(۶) مولانا محمد اسد صاحب (لیو پولڈ۔ نومسلم)

(۷) مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، مدیر ترجمان القرآن

ٹرسٹ کے خارجی انتظامات میں عمارات، باغ، مزروعہ اراضی موجود ہے۔ سکونتی مکانات میں کئی متاہل حضرات کی رہائش کی جگہ ہے۔ یہ کوارٹرز نہایت عمدہ تیار ہوئے ہیں۔ دارالاقامہ میں کم و بیش پچیس طلبہ کی رہائش کا سامان موجود ہے۔ دارالمطالعہ ایک وسیع ہال کی شکل میں ہے۔ لائبریری بھی ابتدائی ضرورت کے لیے کافی ہے۔ تجویز یہ ہے کہ ایک یا دو ایسے ’’مرد مسلمان‘‘ یہاں مستقل طور پر قیام پذیر ہوں جو قلب و دماغ اور علم و عمل کے اعتبار سے صحیح معنوں میں مسلمان ہوں۔ ایک طرف مشرقی اور مغربی علوم میں ماہر ہوں اور دوسری طرف ان کی عملی زندگی ایک مرد مجاہد کی زندگی ہو۔ وہ دارالاسلام ان کی ضروریات کا کفیل ہو گا۔

(۱) اس کے بعد ایسے طلبہ کو یہاں رہنے کے کیے منتخب کیا جائے جو یا توانگریزی تعلیم میں بہرہ وافر رکھتے ہوں (مثلاً گریجوایٹ ہوں) اور یا دینی مدارس مثل دیو بند وغیرہ کے فارغ التحصیل ہوں۔ ان طلبہ کو جانچ لیا جائے کہ وہ ذکاوت و ذہانت سنجیدگی و متانت اور حسن اخلاق کے اعتبار سے اس قابل ہیں کہ انہیں دارالاسلام میں رکھا جائے۔ عربی دان طلبہ علوم مغرب کا سبق پڑھیں۔ انگریزی خواں طلبہ مشرقی علوم کی تحصیل کریں اور اس کے ساتھ دونوں گروہ ،ایک یا ایک سے زیادہ معلم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کے خالص دینِ فطرت کا درس لیں اور دورِ حاضر کے انقلابات سے روشناس ہوں۔ اندازہ ہے کہ اس میں کم و بیش دو تین برس کا عرصہ صرف ہو گا۔ اس دوران طلبا کے خورد و نوش کی کفالت بھی دارالاسلام کے ذمہ ہو گی۔

(۲) دینی علوم کے ساتھ ساتھ دارالاسلام میں دیال باغ آگرہ کے نمونہ پر ایک صنعتی ادارہ کھول دیا جائے جس میں مختلف دستکاریوں کی تعلیم کا انتظام ہو تاکہ جب یہ طالب علم دارالاسلام سے مبلغ بن کر نکلیں تو دنیا میں آزادی سے رزقِ حلال کما سکیں۔ ان کا مقصد زندگی تبلیغ ہو گا۔ ایسی تبلیغ نہیں جو آج کل کے پیشہ ور مبلغین کے ذریعے ننگ اسلام بن رہی ہے بلکہ اس قسم کی تبلیغ جس کی درخشندہ مثالیں ہمیں عہد صحابہ میں ملتی ہیں۔ دارالاسلام سے نکل کر یہ طالب علم مختلف مقامات پر اسلامی مراکز قائم کریں گے اور قوم میں صحیح اسلامی اجتماعیت اور مرکزیت کی روح پھونکیں۔ شروع شروع میں جامع مسجد اور بعد میں عام مساجد کے ائمہ بھی اسی زمرہ سے مقرر کیے جائیں گے۔ یہ طالب علم جہاں بھی رہیں، اپنا تعلق مستقل طور پر مرکز دارالاسلام سے وابستہ رکھیں گے۔

(۳) موسم گرما میں کالجوں میں تعطیلات ہوتی ہیں۔ اس زمانہ میں طالب علم بالعموم پر سکون مقامات کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ دارالاسلام دامن کوہسار (سلسلہ ہمالیہ) میں ایک بہت بڑی نہر کے کنارے واقع ہے۔ شور و شغب سے دور پر فضا ماحول اور اس کے ساتھ ہی عہد حاضرہ کی سہولتوں مثلاً ریل، موٹر، بجلی اور ڈاکخانہ سے بہرہ یاب، بشرطیکہ وہ احکام شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس دوران میں یہ بھی انتظام کیا جائے کہ دارالاسلام میں مختلف اکابر ملت کے لیکچروں کاسلسلہ شروع ہو اور یوں دو تین ماہ کے عرصہ میں متعدد لیکیچر مختلف اسلامی موضوعات پر ہو جایا کریں۔ ان خطبات کے لیے ہندوستان اوربیرون ہند سے ممتاز زعمائے امت کو دعوت دی جائے۔

(۴) جو طلبہ مستقل دارالاسلام میں قیام پذیر ہوں انہیں تحریر و تقریر کی بھی مشق کرائی جائے۔ دوران طالب علمی میں ان سے مختلف مضامین لکھائے جائیں اور مختلف تقاریب پر اجتماعات منعقد کر کے ان سے تقاریر کرائی جائیں۔

یہ مختصراً دارالاسلام کے مقاصد کا خاکہاگر اس میں اللہ تعالی کے فضل وکرم سے کامیابی ہو جائے تو پھر یہ چیز بھی پیش نظر ہے کہ اس میں پانچ سال کے بچوں کو داخل کیا جائے اور اخیر تک ان کی تعلیم و تربیت اسی اسلامی ماحول میں ہو۔ اس خاکہ کو عملی نظام بنانے کے لیے ہم ہندوستان کے تمام دردمند مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حسب ذیل طریقوں سے ہماری معاونت فرمائیں۔

(۱)سکیم میں جہاں جہاں ترمیم و تنسیخ کی ضرورت محسوس کریں، اس سے ہمیں مطلع فرمائیں۔

(۲) اگرآپ اس اسکیم کے اصول سے متفق ہوں تو پھر فرمائیے کہ آپ کس حد تک اس میں عملاً شریک ہو سکتے ہیں۔ کم سے کم ادارہ کی رکنیت یا معاونت قبول فرمائیں جس کا چندہ سالانہ صرف دو روپیہ اور پانچ روپیہ علی الترتیب ہوگا۔

(۳) جن صفات کے معلمین کا ذکر کیا جا چکا ہے، ان کی تلاش میں ہماری رہنمائی فرمائیے یعنی اگر آپ کی نگاہ میں ایسے حضرات موجود ہوں تو ہمیں ان سے مطلع فرمایا جائے اور انہیں اس سکیم سے متعارف کرایاجائے۔ ہم چاہتے تو یہ ہیں کہ کوئی ایک ہستی ایسی مل جائے جو ان تمام صفات کی جامع ہو (یعنی بیک وقت مشرق و مغرب کے علوم پردستگاہ رکھے اور اس کی زندگی عملی لحاظ سے صحیح اسلامی زندگی ہو) لیکن اگر دونوں علوم ایک جگہ نہ مل سکیں تو پھر مجبوراً دو حضرات کا انتخاب کر لیا جائے۔

(۴) جو طالب علم میں قیام پذیرہونا چاہیں، وہ اپنے ارادے سے ہمیں مطلع کریں۔

(۵) ابتدائی اخراجات کے لیے عطیات اور مستقل خرچ کے لیے مستقل امداد فرمائیں۔ واضح رہے کہ دارالاسلام چونکہ باقاعدہ رجسٹری شدہ ہے، اس لیے اس کاحساب کتاب باقاعدہ رکھا جاتا ہے نیز ٹرسٹیوں کی فہرست سے آپ اندازہ فرما لیا ہو گا کہ یہ حضرات ہیں جن کی دیانت بفضلہ ہر قسم کے شبہ سے بالا تر ہے۔

(۶) دارالاسلام کے صنعتی شعبے میںآپ کیا اور کس قسم کی مدد کرسکتے ہیں؟ نیز آپ کے پیش نظر اس کی بابت کیاعملی تجاویز ہیں۔

(حیات سدید صفحہ نمبر ۱۵۹، ۱۶۰ بحوالہ طلوع اسلام اگست ۱۹۳۹ء )

تعارف و تبصرہ