ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان : بین المذاہب اور بین المسالک تناظرات کی نئی تشکیل

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مرکز برائے فروغ تعلیم وثقافت مسلمانانِ ہند( CEPECAMI)، علی گڑھ پلیٹ فارم اورفیوچراسلام ڈاٹ کام کے اشتراک سے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں 17دسمبر2015کوایک یک روزہ عالمی کانفرنس بین المذاہب اوربین المسالک تناظرات کی تشکیل نوکے موضوع پر منعقدہوئی۔اس کانفرنس میں خصوصی خطاب پیش کرتے ہوئے خصوصی مہمان وزیرخارجہ ملائشیااوراوآئی سی کے خصوصی ایلچی سیدحامدالبرسابق نے کہاکہ موجودہ زمانہ میں مسلمان ہرجگہ محاصرہ کی حالت میں ہیں۔ ان کا دین ہی نہیں، ان کی نقل وحرکت ،آمدورفت اورگفتگوسب پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ 9/11کے واقعہ نے مسلمانوں اورمغرب کے تعلقات پر زبردست منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ہم ایک بحرانی حالت میں ہیں لہٰذاہمیں اپنے مسائل کوحل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی ہوں گی جس کے لیے دوسر ی قوموں سے زیادہ سے زیادہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ قرآن نے قوموں اور قبیلوں کے درمیان بہتر تعلقات پر زور دیا ہے، انسانیت کا احترام سکھایا ہے۔ ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم دوسروں سے اپنے آپ کو اعلیٰ اور برتر سمجھتے ہیں، ان سے کچھ سیکھتے نہیں۔ہمیں سوچناچاہیے کہ ہم ناکام کیوں ہیں کیونکہ ہم جمودپسندہیں۔

امریکہ سے آئے ہوئے ورلڈ پارلیمنٹ کے صدرپروفیسرگلن ٹی مارٹن نے اسلام کے تصورخودی پرایک پُرمغزخطبہ پیش کیا۔ انہوں نے حاضرین سے سوال کیاکہ آج اسلام فرانس،امریکہ اورہرجگہ محاصرہ میں کیوں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام کے تصورخودی کوبھلادیاگیاہے۔انہوں نے 9/11کے بارے میں اپنی یہ رائے بھی ظاہرکی کہ وہ خودامریکہ کی اندرونی ایجنسیوں کا ہی کیا دھرا تھا۔ اپنے طویل خطبہ میں پروفیسرمارٹن نے پوری دنیاکے امن وسلامتی کے لیے عالمی شہریت کا ایک دستوربھی پیش کیا۔

آریہ سماج کے متحرک رہنماسوامی اگنی ویش نے کہاکہ لاالہ الااللہ ایک انقلابی کلمہ ہے اورتمام انسانوں کوجوڑنے والاہے۔انہوں نے کہاکہ ہم سب انسان ایک ہی فیملی ہیں، ہم نقلی بحثوں میں کیوں پڑے ہوئے ہیں۔

پروفیسرراشدشازنے اپنے مختصرکلمات میں بین المذاہب اوربین المسالک مذاکرات کی اہمیت کو اجاگرکیا۔ نیز بین المسالک مذاکرات کے لیے نئے زاویوں سے سوچنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ امت مسلمہ پر اس کی طویل تاریخ میں چار بڑے بحران آئے ہیں۔پہلابحران قتلِ عثمانؓ سے شروع ہوتاہے ،دوسرابڑابحران سقوط بغداد تھا اور تیسرا بڑا بحران خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ تھاجس کے بعدامت مسلمہ اپنی چھتری سے محروم ہوکرکھلے آسمان کے نیچے آگئی۔ چوتھا بحرانی دور آج کا ہے جس میں شرق اوسط میں مسلسل خانہ جنگی کی کیفیت ہے جس میں قاتل بھی مسلمان اورمقتول بھی مسلمان۔ آج مسلم دنیاکے مرکزی علاقہ سے اس کا Depopulation ہو رہا ہے۔

مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے امیرمولانااصغرعلی امام مہدی سلفی نے بھی اپنے خیالات کا اظہارکیااورعالمی امن کی کوششوں کی تائیدکی۔ اس نشست کی نظامت ڈاکٹرمحمدزکی کرمانی کررہے تھے۔ کانفرنس کے اغراض ومقاصدکا تعارف راحیل احمدنے کرایااوراحمدفوزان نے ایسسکوکے چیئرمین عبدالعزیزعثمان التویجری اوردوسری شخصیات کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔

ا س کانفرنس کا دوسراسیشن بہت اہم تھاجس کوٹاؤن ہال سیشن کا نام دیاگیا۔اس کا اندازراؤنڈٹیبل کانفرنس کا تھا۔ تقریباً دو درجن شرکائے بحث ایک گول دائرہ میں بیٹھے تھے،سب کوان کی جگہ ہی مائک مہیا کیے گئے تھے۔ شرکاء میں علما، پروفیسرز، محققین ،سماجی ایکٹوسٹ، رضاکار، صحافی دانشور، نوجوان اسکالر مردوخواتین سبھی شامل تھے۔ تقریباً 18 شرکاء نے اس بحث میں پورے جوش وخروش اورسنجیدگی سے حصہ لیا۔ اس سیشن کومرکزبرائے فروغ تعلیم وثقافت مسلمانانِ ہند کے ڈائرکٹر پروفیسر راشد شاز نے چلایا۔ ان کے ساتھ شیعہ تھیولوجی کے صدر پروفیسر علی محمد نقوی، ڈاکٹر زکی کرمانی، سید حامدالبر اور مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی بھی ڈائس پر موجود رہے۔ سوال اصل یہ تھاکہ وہ کیااسباب وحالات تھے کہ امت افتراق اورانتشارکا شکارہوگئی اورمتبعینِ محمدﷺمیں سے کٹ کٹ کرکتنے ہی لوگ قافلہ سے جداہوکرنئے نئے فرقے بناتے چلے گئے۔ اور اب کیاکیاجائے کہ امت پھرسے ایک پلیٹ فارم پر آجائے۔ 

مولانا محمد میاں قاسمی سنبھلی نے جوایک بڑے مدرسہ کے مہتمم ہیں، بحث کا آغازکرتے ہوئے کہاکہ میں قرآن کا مطالعہ موجودہ حالا ت کے تناظرمیں بغیرشان نزول اورتفاسیرکی محتاجی کے کرتاہوں اور قبلہ، نماز اور حج کی بنیادپر اہل قبلہ کے لیے وحدت کا ایک پروگرام بنایاجاسکتا ہے، بلکہ حج پوائنٹ پرتوتمام انسانیت کوجمع کیا جا سکتا ہے، کیونکہ قرآن حج، مسجد نبوی اورمسجد حرام کا باربارذکرکرتاہے اورکہیں پر بھی غیرمسلموں کوداخلہ سے نہیں روکتا بلکہ وہ ہر جگہ الناس کا تذکرہ کرتا ہے۔ 

مسلم یونیورسٹی کے استاد اور ڈبیٹر ڈاکٹرمحب الحق نے موجودہ دورمیں مسلمانوں کے تین رویوں کا ذکرکیا۔ 

۱۔ مسلم علما کے مذہبی جدا ل سے تنگ آکرمذہب بیزاری جس میں سیکولرحلقہ معاشرہ کو Deislamize کرنے کی آوازلگارہاہے۔

۲۔دوسرارویہ مذہب پسندحضرات کا یہ سامنے آرہاہے کہ قرآن پر basedاسلام کواختیارکیاجائے اورمذاہب فقہ اورروایات سے پیچھا چھڑایا جائے۔

۳۔تیسرارویہ جمع وتطبیق کا ہے۔ یہ رویہ تیونس کے ماڈل کو، جس کو اسلامی سیکولرزم کہا جا سکتا ہے، اختیار کرنے کی بات کہتاہے۔ڈاکٹرمحب الحق نے بھی اسی تیسری رائے کی وکالت کی ۔

دہلی سے آئے جناب نظام الدین صاحب نے کہاکہ قرآن کے ترجموں اورتفاسیرسے قرآ ن کے بہت سے الفاظ کی پوری وضاحت نہیں ہوتی، ا س لیے قرآن فہمی پر زیادہ زوردینے کی ضرورت ہے۔

پروفیسررحیم اللہ نے کہاکہ اگرچہ مدارس میں 4فیصدہی بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں اوران میں بھی ایک فیصدلوگ ہی معاشرہ کی مذہبی قیادت میں آتے ہیں، مگرمعاشرہ کے سوفیصدلوگ انھی ایک فیصدکوfollow کرتے ہیں جس کی وجہ سے پورامعاشرہ مسلکی جھگڑوں میں جی رہا ہے۔ کوئی بھی آدمی الاماشاء اللہ اس سے باہرنہیں۔

شعبہ فلسفہ کے صدرپروفیسرمحمدمقیم الدین نے وحدت امت کے لیے چندتجاویزدیں:

۱۔تاریخ کے حوالہ سے جوبات ہوگی، وہ کامیاب نہ ہوگی ۔جوکچھ تاریخ میں ہوگیا، اب اس کو درست نہیں کیا جا سکتا۔

۲۔سب فرقوں کا تعلق شخصیا ت سے ہے، اس لیے ان شخصیات پرجارحانہ تنقیدیاحملہ نہ کیاجائے۔

۳۔اب جو کچھ ہو سکتا ہے، وہ یہ کہ انسان کو انسان بنایا جائے۔ اچھا انسان اور اچھا مسلمان بنانے کے لیے عقل کو معیار بنایا جائے۔ عقل کا استعمال ہواورایکReasonalble اورحقیقت پسندمسلمان بنایاجائے۔

ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی نے براہ راست موضوع پر گفتگوکی کہ امت فرقوں اور ٹکڑوں میں کیوں بٹتی چلی گئی۔ اس بات پرغورکرتے ہیں تواس کے بہت سے اسباب میں سے ایک بڑاسبب یہ بھی نظرآتاہے کہ امت میں اظہارخیال اور اظہار رائے کی آزادی چھین لی گئی۔ اشخاص اورجماعتوں کی تکفیرکی باقاعدہ مہمیں مذہبی طبقہ نے چلائیں، بات بات پر تکفیرکے فتوے دیے جانے لگے۔ ڈاکٹر غطریف ندوی نے تاریخ سے اورحا ل کے دنوں سے کئی مثالیں بھی دیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ہاں جوآدمی بھی سلف سے اختلاف کرتا یا لکیر سے ہٹ کرکچھ سوچتایاتحقیق پیش کرتا ہے، اس پر کفرکے فتوے لگ جاتے ہیںیااُسے یہودی وصہیونی ایجنٹ قراردیاجانے لگتا ہے۔ حقیقت پسندی کی اتنی کمی ہے کہ ہمارا ہر لکھنے بولنے والاشروعات ہی مغرب کوگالیوں اورلعن طعن سے کرتا ہے۔ سازشی تھیوری میں ہم جیتے ہیں۔ جب تک ہم اس جمودِفکرسے باہرنہیں آئیں گے، چیزوں کو حقیقت پسندی سے نہیں دیکھیں گے، تب تک ہمارے مسائل حل نہ ہوں گے۔

پروفیسرگلریزاحمدنے کہاکہ موجودہ زمانہ میں multiculturalسوچ کوآگے بڑھاناچاہیے اوراسی کوبنیادبناکرہم اپنی بات کوآگے بڑھائیں۔ کرنل سراج الحق نے سوامی اگنی ویش کی تقریرچندسوالات اٹھائے۔ پروفیسرصوفی نے بھی وحدت امت کے سلسلہ میں اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے اس اصول کی طرف بلایاکہ ’’اپنے مسلک کو چھوڑو نہیں، دوسرے کے مسلک کوچھیڑونہیں‘‘۔

شرکاء سے سوال کیاگیاکہ مسلمان کسے کہیں گے اورامت مسلمہ سے کون خارج سمجھاجائے گا؟ اس سوال کے جواب میں پروفیسرعلی محمدنقوی نے کہا کہ مسلمان ہونے کے لیے’’ توحید،رسالت وآخرت پر ایمان ،ختم نبوت اورقرآن کے محفوظ وغیرمحرف ہونے پر ایمان ویقین رکھنا‘‘یہ اصول ہیں۔پھریہ بھی دیکھاجائے گاکہ وہ فردیافرقہ خود کو اسلام کا پیروکارکہتاہے یانہیں۔ تمام شرکاء نے اسلام کی اس تعریف کوجامع ومانع قراردیا۔ 

اس کے بعدایک خاتون پروفیسرنے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ ’’ہم میں بحث کے آداب نہیں۔ ادب اختلاف نہیں، عدم تحمل ہے ،برداشت نہیں ہے۔جومسالک ہیں، وہی دین بن گئے ہیں۔ اس وجہ سے نئی نسل دین سے برگشتہ ہورہی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ دعوت کا نصب العین کیاہو،اقامتِ دین اورغلبۂ دین یاکچھ اور؟انہوں نے مشورہ دیاکہ ایک ایسی جامعہ بنائی جائے جوNeutral ہواورصرف اسلام کوRepresentکرے۔

بزرگ دانشورجنا ب عابدرضابیدارنے وحد ت امت پر گفتگوکرتے ہوئے رائے دی کہ حدیثوں کی بجائے قرآن کوبنیادبنائیں توبہت سے مسئلے حل ہوجائیں گے کیونکہ ہرفرقہ اپنے مطلب کی حدیثیں بیان کردیتاہے۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ مسلمانوں کے درمیان جوفرقے بن گئے ہیں، ان کے درمیان مذاکرا ت کے لیے اہل قبلہ کے بجائے کوئی اوراصطلاح استعمال کی جائے توبہترہوگا۔

مولاناضیاء الرحمان علیمی کے نزدیک قادیانیوں اوربہائیوں سے بھی کلمہ سواء کی بنیادپر مکالمہ کا جواز پیدا ہوتا ہے۔ یہ سوال جب مولاناذیشان رضامصباحی سے پوچھاگیاتواصولی طور ،پر پروفیسرعلی محمدنقوی کی تعریف سے اتفاق کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ فقہاء کا طریقہ تحفظی ہے۔ وہ کفرکی لسٹ بناتے ہیں کہ جویہ کرے، وہ کافروہ، کرے توکافر،جبکہ متکلمین کی اپروچ زیادہ مناسب ہے جن کی رائے ہے کہ جو ضروریاتِ دین کا انکارنہ کرے، وہ مسلمان ہوگا۔ 

ڈاکٹرعبدالرؤف نے کہاکہ میراعلماسے سوال ہے کہ اگرکسی کے اندراجتہادکی صلاحیت ہے توکیاوہ اجتہاد کر سکتا ہے؟ انہوں نے مزیدکہاکہ امت عالمی طورپرپروپیگنڈے کا بھی شکارہے، اس پر بھی ہماری نظرہونی چاہیے۔

سنی تھیولوجی کے چیئرمین مفتی زاہدصاحب نے فرمایاکہ اصولِ دین میں شیعہ وسنی دونوں مشترک ہیں۔ جہاں تک قیاسی مسائل کی بات ہوتی ہے تووہ لازمی نہیں ہوتے، انفرادی ہوتے ہیں۔ البتہ ہمیں مسائل میں تشدد نہیں برتنا چاہیے۔ 

پروفیسرمبارک علی نے رائے دی کہ تاریخی اسلام میں Rebuildکرنے کی ضرورت ہے۔ 

مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی نے کہاکہ ہم اس کانفرنس کے روحِ رواں راشدشازکی دردمندی کوسمجھیں اوراپنے دل میں یہی درد لے کر جائیں۔

پروفیسرعلی محمدنقوی کی رائے تھی کہ ہمیں اسلامی فکرمیں موجودکثرت کا اعتراف کرتے ہوئے وحدت ملی قائم کرنی چاہیے کیونکہ چودہ سو سال کے تاریخی سفرمیں جوفرقے اورمسالک بن گئے ہیں، نہ توان کوختم کیاجاسکتاہے اورنہ کسی ایک مسلک پر سب کو لایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر محمد زکی کرمانی مدیر’’آیات‘‘ نے طلبہ وطالبات کوخاص طورپر مشورہ دیاکہ ہم کوقرآن پاک سے براہ راست مربوط ہوناچاہیے اوراسی سے اپنے مسائل کا جواب مانگناچاہیے۔

اس سیشن میں برج کورس کے کئی طلبہ وطالبات عائشہ ،آرزوفاطمہ ،روشنی امیر،سرورعالم ،شرافت ندوی، ارشد احمد وغیرہ نے بہت اختصارکے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مترجم قرآن اورکئی کتابوں کے مصنف جناب سکندر احمد کمال اور وکیل خالد احمد نے بھی مختصراًا س موضوع پر گفتگوکی۔

اس سیمینارکی مجموعی اپروچ لکیر سے ہٹ کر اورغیرروایتی اندازمیں سوچنے کی تھی ۔عام سیمیناروں میں لوگ اپنے اپنے پیپرپڑھ کرچلے جاتے ہیں، گھسی پٹی باتیں دہراتے ہیں جن پر کوئی سوال جواب اوربحث ومباحثہ نہیں ہوتا۔اس سیمینارمیں شرکاء اورحاضرین نے کھل کر ہر چیز پر بحث کی۔ یہ توممکن نہیں کہ ایک نشست میں پیچیدہ مسئلے حل ہو جائیں، تاہم اس کا فائدہ یہ ہوگاکہ لوگوں میں غیر روایتی طورپر سوچنے کی اورغوروفکرکرنے کی عاد ت پروان چڑھے گی۔ ایک Rationalاورحقیقت پسندانہ رویہ ترقی پائے گا۔ اِس کانفرنس کی یہی سب سے بڑی دین امت کوہوگی جس کی وہ موجودہ بحرانی دورمیں سب سے زیادہ محتاج ہے۔ضرورت اس کا فولواپ کرنے اوراس قسم کے مذاکرات زیادہ سے زیادہ کرنے کی ہے۔

اخبار و آثار

جنوری ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۱

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی ادارتی ذمہ داریوں کی منتقلی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بھارتی وزیر اعظم کا دورۂ پاکستان
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۴)
ڈاکٹر محی الدین غازی

اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق‘‘
محمد زاہد صدیق مغل

بیل ۔ سینگوں کے بغیر؟
خورشید احمد ندیم

جدید علم الکلام
مولانا مفتی منیب الرحمن

بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست کے سوال و جواب
محمد عمار خان ناصر

حسینہ واجد کی انتقامی سیاست
محمد اظہار الحق

رفیق احمد باجوہ ۔ ایک بھولا بسرا کردار
محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

پروانہ جمعیت صوفی خدا بخش چوہانؒ
ابو محمد سلیم اللہ چوہان سندھی

سود، کرایہ و افراط زر: غلط سوال کے غلط جواب کا درست جواب
محمد زاہد صدیق مغل

سید احمد شہید کی تحریک اور تحریک طالبان کا تقابلی جائزہ
مولانا محمد انس حسان

ممتاز قادری کی سزا ۔ ڈاکٹر شہباز منج کے خیالات پر ایک نظر
مولانا قاضی نثار احمد

مکاتیب
ادارہ

ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان : بین المذاہب اور بین المسالک تناظرات کی نئی تشکیل
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

سانحہ ہائے ارتحال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی