سود، کرایہ و افراط زر: غلط سوال کے غلط جواب کا درست جواب

محمد زاہد صدیق مغل

صدر مملکت کے حالیہ بیان کے بعد بعض اہل علم احباب ایک مرتبہ پھر سود کے جواز کے لیے وہی دلائل پیش کرنے میں مصروف ہیں جو اپنی نوعیت میں کچھ نئے نہیں۔ اس ضمن میں پیش کئے جانے والے بعض دلائل کی نوعیت تو دلیل سے زیادہ غلط فہمیوں کی ہے۔ مثلاً ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سود لینا اس لیے معقول ہے کیونکہ وقت کے ساتھ افراط زر کی وجہ سے کرنسی کی قدر میں کمی ہوجاتی ہے۔ اسی طرح ایک اور دلیل میں سود کو اثاثوں کے کرایے پر قیاس کرلیا جاتا ہے۔ اس مختصر تحریر میں سود کے حق میں دیے جانے والے ان دو دلائل کا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔ 

جدید محققین نے کرایے کے جواز اور سود و کرایے میں فرق بیان کرنے کے لیے کرایے کی توجیہات مختلف انداز میں بیان کی ہیں۔ چنانچہ اس تھیورائزیشن میں کرائے کے جواز میں ایک عمومی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ کرایہ لینا اس لئے جائز ہے کیونکہ اثاثہ استعمال کرنے سے اس کی کی "قدر" میں "ٹوٹ پھوٹ یا فرسودگی" (depreciation) کی وجہ سے کمی آجاتی ہے، لہٰذا مکانوں ودیگر اثاثہ جات کا کرایہ لینا جائز ہے۔ کرائے کے جواز کے لئے یہ ایک غلط دلیل ہے۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ اس غلط دلیل کی آڑ میں سود کے حامی حضرات بھی ایک غلط دلیل قائم کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ اگر دیگر اثاثوں کا کرایہ اس لیے جائز ہے کہ اثاثے کی قدر میں استعمال کی وجہ سے کمی آجاتی ہے تو زر یعنی کرنسی کی قدر میں بھی وقت کے ساتھ "افراط زر کی وجہ" سے کمی آجاتی ہے، لہٰذا اس کا کرایہ بھی جائز ہونا چاہیے۔ اس دلیل اور جواب دلیل میں قدر، اثاثے کی فرسودگی،کرائے و افراط زر جیسے مختلف معاشی تصورات کو خلط ملط کردیا گیا ہے۔ پہلے افراط زر اور سود کے تعلق سے سہو نظر کرتے ہوئے کرائے و سود کے فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ 

کرایہ اور سود

پہلی بات یہ کہ کرائے کا جواز اثاثے کی فرسودگی نہیں۔ اگر مکان کے کرائے کا جواز فرسودگی کی وجہ سے اس کی قدر میں کمی ہوجانا ہے تو پھر مکان کا کرایہ صرف اسی صورت میں جائز ہونا چاہیے جب اس کی قدر کم ہوجائے، لیکن اگر وقت کے ساتھ اس کی قدر بڑھ جائے تو اس صورت میں اس کا کرایہ لینا جائز نہیں ہونا چاہیے۔ نیز اس تعبیر کی رو سے مکان کا کرایہ صرف اتنا ہی ہونا چاہیے جس شرح سے اس میں فرسودگی ہوتی ہو مگر عموما ایسا نہیں ہوتا۔ 9/11 کے بعد اسلام آباد میں دیگر شہروں کے مقابلے میں کرایوں میں زیادہ اضافہ ہوا، تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ 9/11 کے بعد اسلام آباد میں فرسودگی کے قوانین فطرت دیگر شہروں کے مقابلے میں زیادہ تیز ہوگئے تھے؟ دراصل کسی شے کی قدر پر فرسودگی کے علاوہ بازار کی قوتیں بھی اثر انداز ہوتی ہیں، چنانچہ عین ممکن ہے کہ کسی اثاثے مثلاً مکان کی قدر فرسودگی کے باوجود وقت گزرنے کے ساتھ ان قوتوں کی وجہ سے کم ہونے کے بجائے بڑھ جائے لیکن پھر بھی اس کا کرایہ لینا جائز ہوگا۔ کسی شے میں فرسودگی کا عمل کائنات کے مادی قوانین کی وجہ سے بہرحال جاری و ساری رہتا ہے، چاہے کوئی اسے استعمال کرے یا نہ کرے، چاہے وہ اثاثہ اپنی ملکیت میں رکھ کریوں ہی رکھ چھوڑ دیا جائے یا کسی کو کرائے پر دے دیا جائے۔ ہرصورت میں وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکررہے گا ،مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی "مارکیٹ قدر" بھی لازما کم ہوجائے گی۔ الغرض کرائے کا جواز نہ تو استعمال کے بعد قدر میں کمی آجانا ہے (کیونکہ یہ لازما کم نہیں ہوتی) اور نہ ہی فرسودگی ہوتا ہے کہ وہ تو بہرحال ہوکر رہتی ہے (صرف رفتار کا فرق ہوسکتا ہے)۔ اگر کسی شے میں نفع ہے تو باوجود اسکے کہ دوران استعمال اس میں کوئی خاطر خواہ فرسودگی نہ ہو تب بھی اسکا کرایہ بہرحال جائز ہوگا۔ 

کرایہ دراصل "نفع کی بیع" ہے، یعنی ایک شے میں جو نفع ہے اس نفع کو حاصل کرنے کی قیمت ادا کی جائے۔ کسی شے سے منفعت اٹھانے کی دو صورتیں ممکن ہیں، ایک یہ کہ جب اس سے منفعت لی جائے تو وہ شے اپنی اصل پر برقرار نہ رہے جیسے آلو کھا کر اس سے نفع اٹھانے کے عمل میں آلو ختم ہوجاتاہے۔ اس کے مقابلے میں بعض اشیاء کا وجود دیرپا (durable) ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کی منفعت فوری نہیں بلکہ دیرپا اور طویل المدت نفع (stream of benefits) کی صورت میں ہوتی ہے۔ مثلاً گاڑی یا فرج کہ یہ اشیاء صرف ایک مرتبہ نفع اٹھانے سے ختم نہیں ہوجاتیں بلکہ ایک طویل مدت تک نفع آور رہتی ہیں۔ پہلی صورت میں شے کے نفع کی قیمت ایک ہی مرتبہ ممکن ہے، ایک آلو کو ایک مرتبہ کھانے کی باربار قیمت لینے کا کوئی معنی نہیں کیونکہ شے اور اس کا نفع صرف کرنے کے بعد معدوم ہوجائے گا۔ دوسری صورت میں شے کا نفع چونکہ یک بار نہیں بلکہ بار بار حاصل کرنا ممکن ہے لہذا ہر مرتبہ نفع اٹھانے کی قیمت لینا ممکن ہے۔ اصطلاحا اول الذکر اشیاء کے نفع کی خرید و فروخت کو بیع کا معاہدہ کہتے ہیں جبکہ مؤخر الذکر کو کرائے کا۔ 

اس گفتگو سے ظاہر ہے کہ اسی شے کے نفع کا کرایہ لینا ممکن ہے جو نفع اٹھانے کے عمل کے باوجود اپنی ’’منجمد صورت‘‘ برقرار رکھ سکے۔ اگر کوئی شخص کسی سے آلو اس لئے مانگے کہ انہیں وقتی طور پر کسی تصویر میں پیوست کر کے تصویری نمائش میں دکھانا ہے اور چند گھنٹوں بعد آلو واپس کردئیے جائیں گے تو اب آلو والا ان کا کرایہ طلب کرسکتا ہے کہ اس صورت میں نفع اٹھانے کے بعد آلو برقرار رہا۔ اس کے مقابلے میں "کھانے کے لئے دئیے گئے آلو" کا کرایہ نہیں ہوسکتا۔پس واضح ہوا کہ کرایہ کسی "منجمد اثاثے" کے "منجمدنفع" کی بیع کہلاتی ہے۔ اثاثہ جب منجمد صورت میں ہو تو اس کا نفع چونکہ ماقبل طور پر منجمد ( معین) ومعلوم ہوتا ہے (اسی لئے تو اثاثہ کرائے پر لیا جاتا ہے) نیز دوران استعمال اثاثے کی صورت بھی نہیں بدلتی جو اس سے متوقع مخصوص نفع کے برقرار رہنے کی علامت ہوتی ہے لہذا "نفع کی اس بیع" کی قیمت دیگر بیوع کی طرح پہلے طے کی جاتی ہے۔ کسی انسان کی اجرت بھی اسی اصول پر سمجھی جاسکتی ہے کہ چونکہ انسان کی پیداواری صلاحیت بھی طویل المدت نفع کے طور پر ہوتی ہے لہذا اس سے ہر مرتبہ نفع اٹھانے کے لئے ہر مرتبہ اجرت (یعنی کرایہ) ادا کرنا پڑتی ہے۔ 

درج بالا گفتگو کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ کرنسی کا کرایہ ممکن نہیں کیونکہ کرنسی کو جب تک خرچ نہ کرلیا جائے (یعنی اسے کسی دوسری صورت میں تبدیل نہ کرلیا جائے) اس سے نفع اٹھانا ممکن نہیں۔ کرنسی کی صورت میں یہ تو ممکن ہے کہ کرنسی سے جو دیرپا شے یا منجمد اثاثہ خریدا جائے اس منجمد اثاثے کے نفع کا کرایہ لیا جائے لیکن بذات خود کرنسی کا کرایہ کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ کرنسی "بذات خود" نفع آور نہیں، اس کی نفع آوری ان اشیاء4 پر منحصر ہے جو اس سے خریدی جاتی ہیں۔ کرنسی منجمد نہیں بلکہ سیال سرمایہ ( liquid capital) ہے جسے سرمایہ کاری کے بعد کسی "منجمد سرمائے" میں تبدیل ہوکر نفع آور ہونا ابھی باقی ہے۔ جو حضرات کرنسی کے کرائے کی بات کرتے ہیں ان کی اس دلیل پر معاشی نکتہ نگاہ سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر سیال سرمائے پر "منجمد نفع کا تعین" چہ معنی دارد؟ یعنی جو ہے ہی "غیر منجمد" اسکے نفع کے "تعین" کا کیا مطلب؟ الغرض کرایہ ایک "معین منجمد سرمائے" کے نفع کی بیع ہے جبکہ نقدی قرض پر طلب کیا جانے والا نفع (سود) سیال سرمائے پر مانگا جانے والا ایک قیاسی (speculative) نفع ہے۔ دوسرے لفظوں میں کرایہ ایک معین اثاثے ( formed capital) کے نفع کی معین قیمت ہے جبکہ نقدی قرض پر مانگا جانے والا سود ایک غیر منجمد شے ( unformed capital) کی معین قیمت طلب کرنا ہے جبکہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ غیر منجمد اثاثے کی قیمت (نفع) بھی غیر منجمد ہی ہونی چاہئے۔ شماریات کی زبان میں سیال سرمائے سے حاصل ہوسکنے والا نفع ایک random variable (غیر منظم طور پر بدلنے والی شے) ہے، جبکہ منجمد سرمائے کا کرایہ ایک fixed variable(معین طور پر بدلنے والی شے)۔ جو حضرات نقدی قرض کے سود کو اثاثوں کے کرائے پر قیاس کرکے سود کا جواز دینے کی کوشش کرتے ہیں وہ دو مختلف قسم کے تصورات یا variables کو خلط ملط کردیتے ہیں۔ 

افراط زر اور سود

سود کے حامی حضرات ایک دلیل یہ دیتے ہیں کہ زر یعنی کرنسی کی قدر میں وقت کے ساتھ "افراط زر کی وجہ" سے کمی آجاتی ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص کسی کو رقم قرض پر رقم دے تو لازم ہے کہ اس کی نقدی کی قدر میں اس کمی کی تلافی کی جائے، یعنی اسے کم از کم افراط زر کے مساوی سود دیا جائے۔ سود کے حق میں دی جانے والی یہ معاشی دلیل اصولاً غلط ہے کیونکہ کسی بھی معاشی نظری کی رو سے افراط زر سود کا وجہ جواز نہیں۔ "سود کیوں دیا جانا چاہئے" اور "سود کا تعین کیسے ہوتا ہے"، یہ دو الگ سوالات ہیں۔ سود کے جواز کے دلائل کی بحث کا تعلق پہلے سوال سے ہے۔ اس ضمن میں درج ذیل نظریات مشہور و معروف ہیں: 

1) ) سود positive time preference (مستقبل کے مقابلے میں زمانہ حال کے لئے ترجیح) کی وجہ سے طلب کیا جانا چاہئے ، یعنی یہ آج روپیہ صرف کرسکنے کے امکان کی قربانی دینے کی قیمت ہے۔قرض دینے کا عمل رقم کو آج خرچ کرسکنے کی صلاحیت سے دستبردار ہوکر اسے مستقبل میں منتقل کرنے کا نام ہے اور مستقبل میں اسے صرف کرنا چونکہ غیر یقینی ہے لہٰذا آج خرچ کرنے کی قربانی دینے کی قیمت ہونی چاہئے۔ مستقبل کے مقابلے میں زمانہ حال کے لئے یہ ترجیح مستقبل کے غیر یقینی ہونے نیز زر کے افادہ مختتم (marginal utility of money) کم ہوجانے کی وجہ سے ہے۔ (اس دلیل سے سود کے تعین کی supply and demand for loanable funds theory وجود میں آتی ہے)۔

2) ) سود سرمائے کی پیداواری صلاحیت کی وجہ سے طلب کیا جاتا ہے، یعنی زر سے چونکہ نفع آور کاروبار کیاجاتاہے لہذا اس قرض پر لی گئی رقم کا منافع لیاجانا چاہئے (اس دلیل سے سود کے تعین کی theory of marginal productivity of capital وجود میں آتی ہے)

3 ) سود اس لیے لیا جانا چاہیے کیونکہ زر (liquidity) بذات خود لذت (utility) کا ذریعہ ہے اور اس سے دور رہنے کی قیمت ہونی چاہیے۔ ( اس نظرئیے کی رو سے سود کے تعین کی liquidity preference theory وجود میں آتی ہے)۔

درج بالا نظریات سود کے جواز کے تین بڑے نظریات ہیں۔ ان تینوں میں سے کسی ایک بھی دلیل کا افراط زر سے کوئی واسطہ نہیں۔ جو حضرات افراط زر کو سود ادا کرنے کا جواز قرار دیتے ہیں، انہیں بتانا چاہئے کہ کس معاشی نظرئیے کی رو سے سود کا وجہ جواز افراط زر ہوتا ہے نیز اس سے سود کے تعین کا کونسا نظریہ وجود میں آتا ہے۔

اس ضمن میں یہ کہنا کہ جدید میکرو اکنامکس ماڈل یا اعداد و شمار کے مطابق افراط زر اور سود میں تعلق پایا جاتا ہے، نفس مسئلہ میں درست دلیل نہیں کیونکہ کسی شے کی طلب کا وجود کس بنا پر متحقق ہوتا ہے اور اس شے کی مارکیٹ قیمت کے تعین میں کون کون سے عناصر کردار ادا کرسکتے ہیں، یہ دو الگ سوالات ہیں۔ "سود کی وجہ جواز کیا ہے" اور "مارکیٹ سود کن کن عناصر سے متعین ہوتا ہے" یہ دو الگ سوالات ہیں۔پہلے سوال کا تعلق اس امر سے ہے کہ سود طلب کرنا کس بنیاد پر جائز ہے، یعنی جس شے کا سود لیا جارہا ہے اس میں ایسی کونسی معاشی صفت ہے جس کی بنا پر اس کا سود لیا جانا چاہئے۔ معاشی نکتہ نگاہ سے سود طلب کرنے کی بنیاد اوپر دی گئیں تین میں سے کوئی ایک وجہ ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے سوال کا تعلق اس امر سے ہے کہ مارکیٹ میں اس شے کی خرید و فروخت کس قیمت (شرح سود) پر ہوگی۔ کسی شے کی مارکیٹ قیمت پر بہت سے ایسے امور بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں جو اس شے کی قیمت طلب کرنے کا وجہ جواز نہیں ہوتے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ مارکیٹ اجرت پر اثر انداز ہونے والے تمام عناصر اجرت کی ادائیگی کا جواز نہیں ہوتے۔ چنانچہ افراط زر اور سود کے ایک ساتھ گھٹنے یا بڑھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ افراط زر سود ادا کرنے کی 'بنیاد' ہے، یہ دلیل پیش کرنا نفس مدعا میں دو مختلف امور کو خلط ملط کردینے کے مترادف ہے۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں، مگر معاشیات دان اس امر سے بھی واقف ہیں کہ معروف میکرواکنامک ماڈل کی رو سے سود افراط زرکا تعین کرتا ہے نہ کہ افراط زر سود کا۔ اس اعتبار سے افراط زر کو سود کا جواز قرار دینا غلط ٹھرتا ہے۔ الغرض یہ کہنا کہ نقدی قرض پر اضافی رقم (سود) افراط زر کی وجہ سے ملنی چاہیے اصولاً معاشی نظریات کی رو سے کوئی متعلقہ دلیل نہیں۔ 

دوسری بات یہ کہ افراط زر کی وجہ قرض لینے والے کا عمل نہیں ہوتا کہ اس کی ادائیگی اس کے ذمے لگادی جائے۔ موجودہ معاشی نظریات کی رو سے افراط زر کا اہم سبب ریاست و کمرشل بکور ں کا بلا کسی عوض کرنسی کو تخلیق کرتے رہنا ہے۔ گویا اگر قرض کی صورت میں افراط زر کی بنا پر نقدی کی قوت خرید کم ہوجانا اضافی رقم کا جواز ہے، تو قوت خرید میں اس کمی کا ازالہ ریاست کے ذمے ڈالنا چاہیے نہ کہ مقروض کے۔ پھر فرض کریں زید اپنی یہ اضافی رقم کسی کو قرض پر نہ دے بلکہ اپنے ہی پاس محفوظ کرلے تو کیا اس صورت میں افراط زر کی بنا پر اسکی نقدی کی قدر کم نہ ہوگی؟ اگر ہوگی، تو آخر محض اس "قرض دینے کے عمل" میں ایسا کیا ہے جو اس کی نقدی کی قوت خرید کو برقرار رکھنے کی ضامن ہو؟ رقم زید کی ملکیت میں رہے یا صہیب کو ادھار پر دے دی جائے، افراط زر دونوں صورتوں میں اس پر یکساں طور پر اپنا عمل دکھاتا ہے۔ اب یہ تو کوئی منطقی بات نہ ہوئی کہ اپنی نقدی کو "نقدی کی صورت میں رکھ کر" جس افراط زر کے اثرات سے میں خود محفوظ نہیں کرسکتا اسکا حل یہ بتایا جائے کہ اس نقدی کو کسی دوسرے کے حوالے کردو! چنانچہ معاملہ بالکل واضح ہے، قرض دینے کے بعد زید کو اپنی اصل رقم مستقبل میں "اسی طرح" واپس لینے کا حق تو ہے جس طرح یہ خود اس کی اپنی ملکیت میں رہتے ہوئے موجود رہتی مگر کسی کو صرف قرض دینے کے بعد یہ تقاضا کرنا کہ نہیں تم مجھے مستقبل میں اس کے ساتھ وہ اضافی رقم بھی دو گے جسے میں خود محفوظ نہیں رکھ سکتا تھا ایک غیر منطقی بات ہے۔ 

اب فرض کریں زید اور صہیب بارٹر اکانومی کے باشندے ہیں جہاں اشیاء کا تبادلہ براہ راست اشیاء سے ہوتا ہے۔ اگر زید کے پاس صرف کرنے کے بعد کچھ زائد دولت بچ جائے تو زید اسے کسی مادی اثاثے کی صورت میں محفوظ کرسکتا ہے۔ اس صورت میں زید کو اثاثہ سٹور اور محفوظ کرنے کے کچھ اخراجات بھی لازماً اٹھانا ہوں گے۔ اس کے علاوہ کائنات کے مادی قوانین کی رو سے اس کا اثاثہ لازماً فرسودگی کا شکار ہوگا جس کا تعلق اس امر سے ہے کہ اس نے اضافی دولت کو کس قسم کے اثاثے کی صورت میں محفوظ کیا ہے۔ اس کے علاوہ زید کے پاس ایک آپشن یہ ہے کہ وہ یہ اثاثہ (مثلاً کلہاڑی) کام کرنے کے لیے صہیب کو ادھار پر دے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ زید خود یا صہیب بطور مقروض اس کلہاڑی سے کام بھی کرے مگر اس کے باوجود بھی کلہاڑی عین اپنی "اصل حالت" (با اعتبار عمر اور معیار) پر قائم رہے؟

چنانچہ موجودہ کرنسی نظام میں قرض پر افراط زر کے مساوی رقم مانگنے کا جواز ثابت کرنے والوں کے اس دعوے کو اگر بارٹر اکانومی پر منطبق کیا جائے تو اس کا مطلب اس مفروضے کے سوا کچھ نہیں کہ کائنات کے مادی قوانین کی رو سے یہ ممکن ہے کہ کلہاڑی استعمال کرنے سے مزید پیدوار بھی حاصل ہوجائے مگر اس کے باوجود کلہاڑی پوری عمر یکساں حالت پر برقرار بھی رہے! مگر کائنات پر لاگو مادی قوانین کی رو سے ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ اس کائنات میں ایسی کوئی شے نہیں جو فرسودگی (decay) کے عمل کا شکار نہ ہو۔ یہاں اس بات پر بھی دھیان رہے کہ قرض دینے کے اس عمل میں قرض دینے والا اپنے ذمے اثاثے کو سٹور اور محفوظ رکھنے کی لاگت کو بھی قرض خواہ پر منتقل کردیتا ہے، ایک ایسی لاگت جسے اثاثہ اپنے پاس رکھنے کی صورت میں کسی بھی طرح ختم کرنا ممکن نہیں۔ یوں سمجھئے کہ افراط زر کو کرنسی پر سود کا جواز بتانے والے حضرات کرنسی (سیال سرمائے) کو کائنات کے مادی قوانین سے ماوراء4 بتانا چاہتے ہیں، یعنی جو اصول اثاثے (منجمد سرمائے) کی ملکیت و قرض پر لاگو ہوتے ہیں انہیں سیال سرمائے پر لاگو نہیں ہونا چاہئے۔ ظاہر ہے اس کائنات میں اس مفروضے کی کوئی دلیل نہیں۔

درج بالا بات سمجھنے کے لئے سودی حساب کتاب پر مبنی ایک مثال پر غور کرتے ہیں۔ فرض زید آج صہیب کو ایک کلہاڑی قرض پر دیتا ہے۔ زید اس پر 10 فیصدسالانہ (ماہانہ کے لحاظ سے جواب مختلف آتا ہے) افراط زر کے حساب سے سود طلب کرتا ہے۔ اگر صہیب قرض نہ اتارے تو ایک سال بعد صہیب پر 1.1 کلہاڑی واجب الاداء ہوگی جبکہ دو سال بعد 1.21۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ زید پر کتنی کلہاڑیاں واجب الاداء ہوں گی، اس کا حساب کچھ ہوں ہے: 

5 سال بعد : 1.61

10 سال بعد: 2.59

50 سال بعد: 117.4

100 سال بعد: 13,780

200 سال بعد: 189,905,276.46

300 سال بعد: 2,617,010,996,188.45

400 سال بعد: 36,064,014,027,525,400

500 سال بعد: 496,984,196,731,244,000,000

1000 سال بعد: 246,993,291,800,599,000,000,000,000,000,000,000,000,000 (یہ عدد کئی کئی کئی کئی کئی بلین ہے) 

یہ حساب 10 فیصد سالانہ شرح سود کے حساب سے ہے۔ اگر 10 فیصد سالانہ سود ماہانہ کے حساب سے لاگو کیا جائے، تو جواب یہ ہوگا:

1000 سال بعد: 

17,761,973,832,231,500,000,000,000,000,000,000,000,000,000

سالانہ و ماہانہ حساب کے جواب میں فرق یہ ہے: 

17,514,980,540,430,900,000,000,000,000,000,000,000,000,000

اس حساب کتاب کا معنی یہ ہے کہ مثلاً سو سال بعد زید پر 13,780 کلہاڑیاں واجب الاداء ہوں گی، اس لئے کہ مجوزین کی دلیل کے مطابق اس دس فیصد شرح سود کے حساب سے آج کی ایک کلہاڑی سو سال بعد 13780 کلہاڑیوں کے مساوی ہے۔ مگر یہ کہتے وقت وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جو کلہاڑی ابتدا میں ادھار دی گئی تھی نیز ایک سال اور پھر ہر گزرتے سال کے بعد اس پر جو اضافی کلہاڑی واجب الاداء ہوتی گئی تھی، وقت گزرنے کے ساتھ وہ کائناتی قوانین کی رو سے لازماً بوسیدگی (decay) کا شکار ہوکر رہے گی۔ نیز انہیں محفوظ رکھنے کی بھی قیمت ہے جو کلہاڑیوں کی تعداد بڑھنے سے بڑھتی چلی جائے گی۔ یعنی فزیکل اثاثہ بوسیدگی کا شکار ہوکر رہتا ہے۔

زر پر افراز زر کے مساوی سود کا جواز دینے والے حضرات کا کہنا ہے کہ ادھار پر دئیے گئے ایک روپے کے بدلے 100 سال بعد 13,780 روپے جبکہ 1000 سال بعد 

246,993,291,800,599,000,000,000,000,000,000,000,000,000 

روپے ادا کی جانا چاہئیں۔ گویا ان حضرات کے مطابق سیال سرمائے کو مادی کائنات کے قانون بوسیدگی سے ہرصورت ماوراء ہونا چاہیے، یعنی اس کی قوت خرید ہر صورت برقرار رہنی چاہیے۔ زر کے کائناتی قوانین سے ماوراء4 ہونے کا یہ مفروضہ "یتخبطہ الشیطان من المس" کا ایک پہلو ہے کیونکہ اس کائنات میں کسی شے کو دوام نہیں۔ درحقیقت سود کائنات کے مادی وجود ( ontological structure) سے ہم آہنگ نہیں۔ سودی حساب اس مفروضے پر مبنی ہے کہ سرمایہ وہ شے ہے جو کائنات میں کار فرما بوسیدگی کے عمل سے ماوراء ہے، یعنی یہاں ایک ایسے عمل کا وجود ہے جو سرمائے میں ہر لمحے و لحظے مسلسل اضافے کا باعث بنتا رہتا ہے۔ 

آراء و افکار

جنوری ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۱

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی ادارتی ذمہ داریوں کی منتقلی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بھارتی وزیر اعظم کا دورۂ پاکستان
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۴)
ڈاکٹر محی الدین غازی

اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق‘‘
محمد زاہد صدیق مغل

بیل ۔ سینگوں کے بغیر؟
خورشید احمد ندیم

جدید علم الکلام
مولانا مفتی منیب الرحمن

بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست کے سوال و جواب
محمد عمار خان ناصر

حسینہ واجد کی انتقامی سیاست
محمد اظہار الحق

رفیق احمد باجوہ ۔ ایک بھولا بسرا کردار
محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

پروانہ جمعیت صوفی خدا بخش چوہانؒ
ابو محمد سلیم اللہ چوہان سندھی

سود، کرایہ و افراط زر: غلط سوال کے غلط جواب کا درست جواب
محمد زاہد صدیق مغل

سید احمد شہید کی تحریک اور تحریک طالبان کا تقابلی جائزہ
مولانا محمد انس حسان

ممتاز قادری کی سزا ۔ ڈاکٹر شہباز منج کے خیالات پر ایک نظر
مولانا قاضی نثار احمد

مکاتیب
ادارہ

ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان : بین المذاہب اور بین المسالک تناظرات کی نئی تشکیل
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

سانحہ ہائے ارتحال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی