بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست کے سوال و جواب

محمد عمار خان ناصر

مورخہ ۸ دسمبر ۲۰۱۵ء کو فیصل آباد کے ہوٹل وَن میں کرسچین اسٹڈی سنٹر اسلام آباد کے زیر اہتمام بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست میں شرکت اور حاضرین کے درجنوں سوالات کے جواب میں اپنے فہم کے مطابق گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا۔ بڑے اچھے ماحول میں سوالات اور ان کے جوابات کا تبادلہ ہوا۔ مجلس کی منتظم محترمہ فہمیدہ سلیم نے آخر میں سب کا شکریہ ادا کیا اور تحمل وبرداشت کے حوالے سے کہا کہ ’’آپ کا ریموٹ کنٹرول آپ ہی کے پاس ہونا چاہیے’’، مطلب یہ کہ مکالمہ ومباحثہ میں کوئی دوسرا شخص اپنی کسی غیر محتاط یا اشتعال انگیز بات سے آپ کو بھڑکانے میں کامیاب نہ ہونے پائے۔ ایک اور بزرگ نے پتے کی بات کی کہ اس طرح کی مخلوط مجالس میں ہم جن اچھے اچھے خیالات اور جذبات کا اظہار کرتے ہیں، تبدیلی اس وقت آئے گی جب ہم یہی باتیں اپنے اپنے ماحول میں واپس جا کر بھی کرنے لگیں گے۔

اس نشست میں جن سوالات کے جوابات دیے گئے، ان میں سے بعض اہم سوال وجواب موضوع سے متعلق بعض دیگر سوالات کے اضافے کے ساتھ یہاں پیش کیے جا رہے ہیں۔


سوال۔ اسلام کا تصور توحید کیا ہے؟

جواب۔ اسلام میں توحید کا تصور یہ ہے کہ اس کائنات کی خالق ومالک ایک ہی ہستی ہے جو اپنے اقتدار واختیار اور اپنے خاص حقوق میں کسی کو شریک نہیں کرتی اور نہ ایسی شرکت کو گوارا کرتی ہے۔

سوال۔ کافر کس کو کہتے ہیں؟

جواب۔ کافر کا لفظ قرآن میں ان لوگوں کے لیے بولا گیا ہے جنھوں نے پیغمبر علیہ السلام کی طرف سے حق کو پوری طرح واضح کر دیے جانے کے باوجود اسے قبول نہیں کیا۔ یہ چونکہ دل کی کیفیت ہے، اس لیے اس مفہوم میں کسی کو کافر (یعنی جانتے بوجھتے حق کا انکار کرنے والا) کہنا اللہ تعالیٰ کی تصریح کے بغیر کسی انسان کے لیے روا نہیں۔ البتہ ایک عمومی مفہوم میں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مذہبی گروہوں کو جو اسلام کی مبنی برحق تعلیم کو قبول نہیں کرتے، ’’کفار‘‘ سے تعبیر کر دیا جاتا ہے۔ ان کے دل کی کیفیات کا فیصلہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ہی کریں گے۔ دنیا میں انھیں ظاہری احکام کے لحاظ سے ’’کافر‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم ہر مذہب کے ماننے والے چونکہ اپنے خیال میں حق ہی کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے لیے ’’کافر‘‘ کی تعبیر پسند نہیں کرتے، اس لیے فقہائے اسلام نے اس کی اجازت نہیں دی کہ کسی غیر مسلم کو طعن کے انداز میں ’’کافر‘‘ کہہ کر مخاطب کیا جائے۔ فقہ اسلامی کی رو سے ایسا کرنے والے کو دوسروں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی پاداش میں تعزیری سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

سوال۔ مختلف مسلمان فرقے آپس میں ایک دوسرے کو کافر کیوں کہتے ہیں؟

جواب۔ فرقہ واریت صرف مسلمانوں میں نہیں، ہر مذہب کے پیروکاروں میں پائی جاتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہر مذہب کے ماننے والوں میں کچھ نہ کچھ مذہبی اختلافات بہرحال پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب ان مذہبی اختلافات میں ہر گروہ اپنی ہی تعبیر کو عین حق اور مخالف تعبیر کو عین باطل تصور کرتا ہے تو اس سے باہمی تکفیر کا رویہ پیدا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ مذہبی تعبیر کے اختلاف کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں، اصل مذہب کی طرف نسبت اگر موجود ہے تو اس کا احترام کرنا چاہیے۔ اس لحاظ سے جب تک کوئی گروہ خود کو ازخود اسلام سے لاتعلق قرار نہ دے یا اسلام کے کسی بنیادی عقیدے کا یہ کہہ کر انکار نہ کرے کہ میں اس عقیدے کو قبول نہیں کرتا یا پیغمبر علیہ السلام کے بعد کسی نئے نبی سے اپنے آپ کو وابستہ کر کے کوئی نئی مذہبی شناخت اختیار نہ کر لے، اسے دائرۂ اسلام میں ہی شمار کرنا چاہیے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ مسلمان فرقے عموماً اس اصول کو ملحوظ نہیں رکھتے جس کی وجہ سے وہ باہمی اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے کی تکفیر کرتے رہتے ہیں۔

سوال۔ اگر سب کا خالق و مالک ایک ہے تو مذاہب کا اختلاف کیسے پیدا ہوا؟

جواب۔ مذہبی عقائد کا اختلاف پیدا ہونے کا سبب بھی انسان کو ملنے والی وہی ارادہ واختیار کی آزادی ہے جس کی وجہ سے دنیا میں اخلاقی خیر وشر وجود میں آیا ہے۔ یعنی انسان اپنے عمل میں بھی آزمائش سے دوچار ہے اور فکر ونظر میں بھی، بلکہ فکر ونظر کی آزمائش زیادہ سنگین ہے، کیونکہ اس دائرے میں انسان کو ایک طرف حق وباطل کے التباس کو الگ الگ کرنے اور حق کی پہچان کا امتحان درپیش ہے اور اس کے بعد حق کو عملاً قبول کر لینے کا۔ قرآن مجید نے بتایا ہے کہ یہ مذہبی اختلاف اللہ تعالیٰ کی اسکیم کا حصہ ہے اور اس دنیا میں اسی طرح ہمیشہ برقرار رہے گا۔

سوال۔ کیا مذہبی اختلاف کے ہوتے ہوئے احترام انسانیت فروغ پا سکتا ہے؟

جواب۔ جہاں دوسرے اسبابِ اختلاف انسانوں کے مابین نفرت اور بے توقیری کا رویہ پیدا کرتے ہیں، وہاں مذہبی اختلاف بھی اس کا سبب بن سکتا ہے اور بنتا ہے۔ لیکن اصولی طور پر اگر مذہب کی تعلیم کو درست طور پر سمجھ کر اس کے مطابق رویے اپنائے جائیں تو مذہبی اختلاف کے باوجود یہ ممکن ہے کہ انسان، ایک ہی رب کے بندے اور ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہونے کی حیثیت سے ایک دوسرے کا احترام کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہمارے لیے اس کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ ایک یہودی کے جنازے کے احترام میں کھڑے ہو گئے تھے اور لوگوں کے تعجب ظاہر کرنے پر فرمایا تھا کہ ’’کیا وہ ایک انسان نہیں ہے؟‘‘ آپ نے اپنے پیروکاروں کو بتایا کہ اگر کسی نے کسی غیر مسلم معاہد کے ساتھ زیادتی کی تو قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں اس کے خلاف آپ خود استغاثہ کریں گے۔ آپ نے یہ تعلیم دی کہ میدان جنگ میں اگر بدترین دشمن بھی مارا جائے تو اس کی لاش کو بگاڑنا اور اس کی توہین کرنا جائز نہیں۔ یہ سب باتیں واضح کرتی ہیں کہ مذہبی اختلاف کے باوجود انسانی سطح پر سارے انسانوں کی یکساں تکریم واحترام کا رویہ اپنایا جا سکتا ہے۔

سوال۔ جب اسلام لا اکراہ فی الدین پر یقین رکھتا ہے تو اسلام چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کرنے والوں کے لیے موت کی سزا کیوں رکھی گئی ہے؟

جواب۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ قوانین اور ضابطے اس دنیا کے عمومی حالات کے لحاظ سے مقرر کیے ہیں اور کچھ ضابطے بعض مخصوص حالات میں اختیار کیے جاتے ہیں۔ مذہبی آزادی کے حوالے سے اللہ کا عمومی قانون یہی ہے کہ اس دنیا میں انسان پر کسی مخصوص عقیدے یا مذہب کے حوالے سے جبر نہ اللہ نے خود کیا ہے اور نہ انسانوں کو اس کی اجازت دی ہے۔ البتہ جب اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت کسی قوم میں اپنا پیغمبر بھیجتا ہے اور اس کے ذریعے سے حق ان لوگوں کے سامنے واضح فرما دیتا ہے تو پھر اس کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قوم اسے لازماً قبول کرے، ورنہ اس دنیا میں ہی عذاب الٰہی کا شکار ہو جائے گی۔ اسی اصول کے تحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے براہ راست مخاطب گروہوں کے متعلق یہ قانون بیان فرمایا کہ ان میں سے جو اسلام قبول کر لینے کے بعد اسے چھوڑنا چاہے تو اسے اس کی اجازت نہ دی جائے بلکہ ایسا کرنے والے کو قتل کر دیا جائے۔

دور جدید میں یہ مسئلہ مسلمان علماء کے درمیان خاصا زیر بحث ہے۔ جہاں ایک بڑا طبقہ یہ رائے رکھتا ہے کہ ارتداد کی مذکورہ سزا کا نفاذ ہمیشہ اسی طرح واجب العمل ہے، وہاں کچھ مختلف نقطہ ہائے نظر بھی سامنے آ رہے ہیں جن کی رو سے اِس دور میں شکوک وشبہات کا شکار ہو کر اسلام کو چھوڑنے والے مسلمانوں پر موت کی سزا کا لازمی نفاذ شریعت کا منشا نہیں۔ ایسے لوگوں کو حکمت اور دانش کے ساتھ ہی واپس دائرۂ اسلام میں لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

سوال۔ قرآن مجید میں مسلمانوں کو اہل کتاب کے ساتھ دوستی کرنے سے کیوں منع کیا گیا ہے؟

جواب۔ اسلام کا اصول یہ ہے کہ وہ غیر مسلموں کے کسی بھی گروہ کے ساتھ تعلقا ت کی نوعیت کا فیصلہ خود اس گروہ کے رویے کی روشنی میں کرتا ہے۔ اس اصول کی روشنی میں قرآن مجید میں مختلف گروہوں کے اختیار کردہ رویے کے مطابق ان کے ساتھ تعلقات رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرۂ عرب میں قرآن کی دعوت پیش کی تو اس کا رد عمل مختلف گروہوں کی طرف سے مختلف انداز میں سامنے آیا۔ بعض نے کھلم کھلا دشمنی کا طریقہ اختیار کیا، بعض نے اہل اسلام کے ساتھ ہمدردی اور مشکل حالات میں ان کی مدد کا رویہ اپنایا، جبکہ بہت سے گروہوں نے غیر جانب دار رہنے کو ترجیح دی۔ 

ان میں سے جو گروہ اسلام اور مسلمانوں کا وجود برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور موقع ملنے پر انھیں نابود کر دینے کے خواب دیکھ رہے تھے، ان کے ساتھ کوئی ہمدردی یا تعلق خاطر رکھنے کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے منافی قرار دیا اور ان کے لیے محبت اور دوستی کے جذبات ظاہر کرنے والے مسلمانوں کو سخت تنبیہ فرمائی۔ اس کے برخلاف جو گروہ اسلام کی دعوت کو قبول نہ کرتے ہوئے بھی مسلمانوں کی جان ومال یا ان کے مذہب کے دشمن نہیں بنے، ان کے ساتھ مصالحانہ تعلقات اور اچھے برتاؤ کی تلقین کی گئی۔ (سورۂ ممتحنہ، آیت ۸) اسی طرح اس دور کے اہل کتاب میں کچھ گروہ ایسے بھی تھے جو دیانت داری اور خدا خوفی جیسے اوصاف سے متصف تھے اور مذہبی تعلیمات کے اشتراک کی وجہ سے اسلام او رمسلمانوں کے ساتھ تعلق خاطر بھی محسوس کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایسے گروہوں کا ذکر تحسین کے انداز میں کیا ہے۔ (سورۂ مائدہ، آیت ۸۲) 

عہد نبوی میں ہمیں ایسے اہل کتاب بھی ملتے ہیں جنھوں نے اسلام اور مسلمانوں کے متعلق ہمدردانہ اور دوستانہ طرز عمل اختیار کیا، بلکہ نازک مواقع پر مسلمانوں کی مدد بھی کی۔ اس حوالے سے سب سے نمایاں مثال حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی ہے جس نے کفار مکہ کے ظلم وستم سے تنگ آ کر حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مظلوم مسلمانوں کو اپنے ملک میں نہ صرف پناہ فراہم کی، بلکہ مشرکین کے مطالبے کے باوجود ان مسلمانوں کو ان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ نتیجتاً مکہ سے ہجرت کر کے جانے والے بہت سے مسلمان کئی سال تک امن وعافیت کے ساتھ حبشہ کی سرزمین میں مقیم رہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی تناظر میں صحابہ کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ آپ کے بعد جب مسلمان ارد گرد کے ممالک کو فتح کرنے کے لیے نکلیں تو اہل حبشہ جب تک مسلمانوں کے خلاف جنگ میں پہل نہ کریں، ان کے خلاف جنگ نہ کی جائے۔ (سنن ابی داود، کتاب الملاحم، حدیث ۴۳۰۲)

سوال۔ کیا مسلمان اور مسیحی مردوں کو ایک ہی قبرستان میں دفن کیا جا سکتا ہے؟

جواب۔ اس معاملے میں شریعت کی رو سے کوئی لازمی پابندی تو مسلمانوں پر عائد نہیں کی گئی۔ ابتدائی دور میں مدینہ میں ایک ہی مشترک قبرستان تھا جہاں مشرکین اور مسلمانوں کو دفن کیا جاتا تھا۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں ایسے آثار بھی منقول ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کے دور میں بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا اور اہل کتاب کے بعض مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے دیا گیا۔ البتہ کچھ باتوں کا اہتمام عملی مصلحت کے لحاظ سے کیا جاتا ہے اور اس کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ مختلف مذہبی گروہ جن کے اعتقادات اور عملی احکام وقوانین باہم مختلف ہوں، وہ جب ایک جگہ اکٹھے رہتے ہیں تو باہمی نزاع سے بچنے کے لیے کچھ احتیاطی تدابیر رفتہ رفتہ اختیار کر لی جاتی ہیں جو مفید ہوتی ہیں۔ اس پہلو سے عموماً ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ مختلف مذہبی گروہوں نے اپنے مردوں کے لیے قبرستان بھی الگ الگ کر لیے۔ یہی طریقہ مسلمانوں نے بھی اختیار کیا ہے اور اس کی پابندی کرنے میں بہت سے مصالح مضمر ہیں۔

سوال۔ مسلمانوں یا مسیحیوں کا ایک دوسرے کی عبادت گاہوں میں عبادت کرنا یا مشترکہ عبادت میں شریک ہونا کیسا ہے؟

جواب۔ مسلمانوں کے لیے ساری زمین کو مسجد قرار دیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے وہ کسی بھی جگہ جہاں کوئی اضافی شرعی مانع موجود نہ ہو، نماز ادا کر سکتے ہیں۔ جہاں تک اہل کتاب کے، مسلمانوں کی مسجد میں عبادت کا تعلق ہے تو اس ضمن میں بھی اسلام اصولاً بہت روادارانہ رویہ رکھتا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے نجران کے مسیحیوں نے مسجد نبوی میں ہی اپنے طریقے پر اپنی نماز ادا کی تھی۔ تاہم اس معاملے کو ایک عمومی عمل کی حیثیت سے اختیار کرنا بہت سے عملی مصالح کی روشنی میں مشکل ہے۔ عبادت گاہوں کے حوالے سے مذہبی گروہوں میں خاصی حساسیت پائی جاتی ہے اور سب لوگوں کی ذہنی سطح بھی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اس لیے کسی موقع پر اس اجازت سے فائدہ یہ دیکھ کر ہی اٹھانا چاہیے کہ اس سے کوئی اور بڑا مسئلہ نہ کھڑا ہو جائے۔ حضرت عمر نے بیت المقدس میں ایک کلیسا میں نماز ادا کرنے سے اسی لیے انکار کر دیا تھا کہ آگے چل کر کہیں مسلمان یہ کہہ کر اس جگہ اپنا حق نہ جتا دیں کہ یہاں ہمارے خلیفہ نے نماز ادا کی تھی۔

جہاں تک مشترکہ عبادت ادا کرنے کا تعلق ہے تو دیکھیے، ہر مذہب میں عبادت کے اپنے کچھ مخصوص مراسم اور طریقے ہوتے ہیں جن کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔ مثلاً نماز کا طریقہ اہل اسلام کے ہاں اس طریقے سے بہت مختلف ہے جو مسیحیوں کے ہاں پایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں مشترکہ عبادت کی ادائیگی نہیں ہو سکتی۔ البتہ عبادت کے ایسے طریقے جن کا تعلق مخصوص مراسم سے نہیں، مثلاً اللہ کے سامنے دعا کرنا یا اس کی حمد ومناجات کرنا، ان میں اگر مختلف مذاہب کے ماننے والے باہم شریک ہونا چاہیں اور مذہبی نقطہ نظر سے اس میں کوئی مانع موجود نہ ہو تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

سوال۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی باہمی شادیوں سے متعلق اسلام کی تعلیم کیا ہے؟

جواب۔ اس حوالے سے اسلامی شریعت میں اہل کتاب اور ان کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لیے الگ الگ احکام مقرر کیے گئے ہیں۔ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے کے ذبح کیے ہوئے جانور کا گوشت کھانا اسلام میں حرام ہے اور ان میں سے کسی مرد یا عورت کے ساتھ نکاح کرنا بھی مسلمانوں کے لیے جائز نہیں رکھا گیا، لیکن اہل کتاب کے متعلق یہ اجازت دی گئی ہے کہ ان کے ذبح کیے ہوئے جانور کا گوشت بھی کھایا جا سکتا ہے اور ان کی پاک دامن عورتوں سے مسلمان مرد نکاح بھی کر سکتے ہیں۔ (سورۂ مائدہ، آیت ۵) یہ اجازت اسلامی شریعت میں یک طرفہ ہے، یعنی مسلمان مرد تو اہل کتاب کی خواتین سے نکاح کر سکتے ہیں، لیکن مسلمان عورتوں کو شریعت نے اس کو روا نہیں رکھا کہ مسلمانوں کے علاوہ کسی بھی دوسرے مذہب کے مردوں سے شادی کریں۔

سوال۔ حضرت مسیح کے پیروکاروں کو عیسائی کہا جائے یا مسیحی؟

جواب۔ قرآن میں چونکہ ’عیسیٰ’ کا نام آیا ہے، اس لیے مسلمانوں میں اس نسبت سے عام طور پر ’’عیسائی‘‘ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ اس میں تحقیر یا توہین کا کوئی پہلو مسلمانوں کے ذہن میں نہیں ہوتا۔ البتہ مسیحی حضرات اپنے لیے ’’مسیحی‘‘ کا لفظ استعمال کرنے کو ہی پسند کرتے ہیں جو ان کا حق ہے اور اگر انھیں کسی وجہ سے ’’عیسائی‘‘ کے لفظ کے استعمال سے توحش ہوتا ہے یا انھیں ناگوار گزرتا ہے تو ہمیں بھی اس کا خیال رکھنا چاہیے اور ان کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے انھیں ’’مسیحی’’ کے نام سے ہی یاد کرنا چاہیے۔

سوال۔ سابقہ آسمانی صحائف کو پڑھنا اسلام کی نظر میں کیسا ہے؟

جواب۔ قرآن مجید نے سابقہ آسمانی صحائف کی عظمت وفضیلت واضح کی ہے اور بتایا ہے کہ قرآن بھی انھی تعلیمات کا تسلسل ہے، کوئی نیا دین نہیں لے کر آیا۔ قرآن اپنی تعلیمات کے، سابقہ صحائف کے موافق ہونے کو اپنی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے اور اس پہلو سے قرآن مجید کی تعلیم کو تاریخی تناظر میں سمجھنے کے لیے علمی سطح پر سابقہ آسمانی صحائف کا مطالعہ اور ان سے استفادہ ایک بہت مفید چیز ہے۔ مسلمان علماء اس حقیقت سے واقف رہے ہیں اور اپنی علمی ومذہبی تحقیقات میں کتب سماویہ سے استفادہ کرتے رہے ہیں۔

مسلمانوں کے نقطہ نظر سے بائبل میں موجود تمام صحائف اور ان کے تمام مندرجات تاریخی طور پر ایسے محفوظ نہیں کہ انبیاء کی طرف ان کی نسبت پورے اعتماد کے ساتھ کی جا سکے۔ پھر بھی اگر دینی تعلیمات کے حوالے سے قرآن اور صحائف انبیاء کا تقابل کیا جائے تو حیرت انگیز مشابہت اور مماثلت دکھائی دیتی ہے۔ ماضی قریب میں بعض بڑے علماء مثلاً مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم نے دین کی اہم تعلیمات کے حوالے سے ان تمام صحائف کا تقابلی مطالعہ کیا ہے اور اس سے یہی حقیقت واضح ہوتی ہے۔

سوال۔ قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر اور پندرہ اگست کا بیان بظاہر متضاد دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے کس کو ترجیح دی جائے؟

جواب۔ گیارہ اگست کی تقریر میں قائد اعظم نے اس ملک کی غیر مسلم اقلیتوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ ان کے مذہبی وسیاسی حقوق پوری طرح محفوظ ہوں گے اور ریاست پاکستان اس ضمن میں کوئی جانب دارانہ رویہ اختیار نہیں کرے گی۔ پندرہ اگست کے بیان میں انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ مسلمانوں کے لیے ملکی نظام اور قانون کے دائرے میں راہ نمائی کا سرچشمہ اسلام کی ابدی تعلیمات ہیں جن کا بہترین نمونہ حضرت عمر کے عہد میں ملتا ہے۔ میرے نزدیک ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں اور دونوں اپنی اپنی جگہ بالکل درست ہیں۔ اسلام چونکہ دین ومذہب کے معاملے میں کسی قسم کے جبر کا قائل نہیں، اس لیے وہ مسلمان مملکت میں بسنے والے غیر مسلم گروہوں کو مکمل مذہبی اور معاشرتی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ غیر مسلم اپنے مذہب پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہر قسم کی معاشرتی اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں اور ملکی فلاح وبہبود میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسلامی شریعت کے مخصوص قوانین ان پر لاگو نہیں ہوتے اور وہ اپنے معاملات اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق انجام دینے کے لیے پوری طرح آزاد ہیں۔

یہی حق ملک کی مسلمان اکثریت کو بھی حاصل ہے۔ چنانچہ جب اکثریت ملک کے نظام اور قانون کی تشکیل کرے گی تو ملک کی اکثریتی آبادی کے لیے ان کے مذہب کی تعلیمات کے مطابق ہی کرے گی۔ نہ اکثریت کو یہ حق ہے کہ وہ اقلیت پر اپنے مذہبی خیالات کی پابندی مسلط کرے اور نہ اقلیتوں کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اکثریت سے اپنے مذہبی حقوق اور اختیارات سے دست برداری کا مطالبہ کریں۔ قائد اعظم نے یہی دونوں پہلو اپنی مذکورہ تقریروں میں واضح کیے ہیں۔ گیارہ اگست کی تقریر اقلیتوں کے مذہبی وسیاسی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے اور پندرہ اگست کا بیان یہ بتاتا ہے کہ مسلمان اکثریت جب اپنی سیاست ومعاشرت اور معیشت کی تشکیل کرے گی تو اپنے مذہب سے صرف نظر یا اس سے دست بردار ہو کر نہیں کریں گی۔

مذاہب عالم

جنوری ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۱

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی ادارتی ذمہ داریوں کی منتقلی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بھارتی وزیر اعظم کا دورۂ پاکستان
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۴)
ڈاکٹر محی الدین غازی

اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق‘‘
محمد زاہد صدیق مغل

بیل ۔ سینگوں کے بغیر؟
خورشید احمد ندیم

جدید علم الکلام
مولانا مفتی منیب الرحمن

بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست کے سوال و جواب
محمد عمار خان ناصر

حسینہ واجد کی انتقامی سیاست
محمد اظہار الحق

رفیق احمد باجوہ ۔ ایک بھولا بسرا کردار
محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

پروانہ جمعیت صوفی خدا بخش چوہانؒ
ابو محمد سلیم اللہ چوہان سندھی

سود، کرایہ و افراط زر: غلط سوال کے غلط جواب کا درست جواب
محمد زاہد صدیق مغل

سید احمد شہید کی تحریک اور تحریک طالبان کا تقابلی جائزہ
مولانا محمد انس حسان

ممتاز قادری کی سزا ۔ ڈاکٹر شہباز منج کے خیالات پر ایک نظر
مولانا قاضی نثار احمد

مکاتیب
ادارہ

ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان : بین المذاہب اور بین المسالک تناظرات کی نئی تشکیل
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

سانحہ ہائے ارتحال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی

Flag Counter