حسینہ واجد کی انتقامی سیاست

محمد اظہار الحق

’’آدم بو، آدم بو‘‘ ۔۔۔

چڑیل نے اپنے بے حد چوڑے نتھنے سیکڑے، پھر پھیلائے۔ اس کے پر چمگادڑ کے پروں کی طرح تھے۔ پھیلے ہوئے اور ڈراؤنے۔ آسمانی بلا کی طرح زمین پر اتری۔ جو سامنے آیا اسے کھا گئی، کھاتی گئی۔ خلق خدا نے پناہ مانگی۔ لوگ چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دینے لگے۔ ماؤں نے بچوں کو گھروں سے باہر بھیجنا بند کر دیا۔ خاندانوں کے خاندان تہہ خانوں میں جا چھپے!

حسینہ واجد کی پیاس ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے! بلور کے بنے ہوئے ساغر اور ان میں انسانی خون۔ مگر آہ! پیاس بجھ نہیں رہی۔ تاریخ نے بڑے بڑے ظالم دیکھے ہیں۔ سولہویں صدی میں ملکہ میری نے پروٹسٹنٹ عقیدہ رکھنے والوں کو آگے میں جلانے کا حکم دیا۔ پادریوں کو پھانسیاں دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ملکہ کا نام ’’خونی میری‘‘ پڑ گیا۔ سٹالن خلق خلق خدا کے لیے عذاب بنا۔ آج ملکہ میری ہے نہ سٹالن۔ حسینہ واجد بھی تاریخ کے گمنام صفحے پر خون کے ایک بدنما دھبے کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔ بہت جلد! بہت جلد! جب پنڈلی سے پنڈلی جڑے گی! جھاڑ پھونک کرنے والوں کو بلایا جائے گا! آنکھوں کے سامنے فلم چلے گی! حسینہ واجد کی رحم طلب نگاہوں کے سامنے پروفیسر غلام احمد، قمر الزمان، عبد القادر ملا، صلاح الدین چودھری اور علی احسن مجاہد کے چہرے ابھریں گے۔ وہ چیخے گی، مگر چہرے بار بار نظر آئیں گے۔ موت کی غشی اس اذیت سے نجات نہیں دے گی۔ یہ تومحض آغاز ہوگا! آغاز جس کا کوئی انت، کوئی آخر نہیں ہوگا۔

۱۹۶۹ء کا اگست تھا جب ڈھاکہ یونیورسٹی کے طالب علم عبد المالک کو شہید کیا گیا۔ ٹیچر سٹوڈنٹ سنٹر میں تعزیتی اجتماع تھا۔ یہ کالم نگار بھی سامعین میں موجود تھا۔ عبد المالک سے ہماری اچھی علیک سلیک او ر خوب گپ شپ تھی۔ تمام مغربی پاکستانی طلبہ سے وہ محبت سے ملا کرتا۔ اجتماع میں پروفیسر غلام اعظم نے تقریر کی اور رُلا کر رکھ دیا۔ پروفیسر صاحب سے جب بھی ملاقات ہوئی، انھیں تبسم کے ساتھ ہی پایا۔ نرم ملائم ہاتھ جن میں ملنے والے کے ہاتھوں کووہ تھامے رکھتے! پھر وہ خبر پڑھی کہ عمر رسیدہ غلام اعظم کو نوے سال قید کی سزا سنائی گئی۔ پروفیسر نے زنداں کا مرہون احسان ہونا گوارا نہ کیا اور جان، جلد ہی جان آفریں کے سپرد کر دی۔ یہی غلام اعظم تھے جنھوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی سنٹرل سٹوڈنٹس یونین کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے سامنے بنگلہ کو اردو کے شانہ بشانہ قومی زبان قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایک دن کے لیے، نہیں! ایک دن تو بہت لمبی مدت ہوتی ہے۔ ایک لمحے کے لیے بھی اس اٹل سچائی میں کبھی شک نہیں کیا کہ ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے نتیجہ میں عوامی لیگ جیتی تھی اور وفاق میں حکومت کی تشکیل اس کا حق تھا۔ کچھ لوگوں نے اس وقت کہا کہ عوامی لیگ کی نشستیں یہاں نہیں ہیں اور مغربی پاکستان میں جیتنے والوں کی وہاں نہیں ہیں اور یہ تو پولرائزیشن ہوگی! یعنی دو انتہائیں۔ پولرائزیشن، کون سی پولرائزیشن! ع

تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا

آج کے پاکستان میں پولرائزیشن کے سوا کہیں کچھ نظر ہی نہیں آ رہا۔ وسطی پنجاب میں جیتی ہوئی پارٹی وفاق میں حکومت کر رہی ہے۔ سندھ میں اس کی حیثیت صفر ہے۔ بلوچستان اور کے پی کے میں اس کی موجودگی تبرک سے بڑھ کر نہیں۔ وفاقی کابینہ میں پشتو بولنے والے کتنے ہیں؟ دل پرہاتھ رکھ کر سوچیے! دفاع، خزانہ، داخلہ، ریلوے، بجلی، توانائی، تجارت، اطلاعات، ترقی ومنصوبہ بندی، جہاز رانی سب وزارتیں کیسے بانٹی گئی ہیں؟ ایوان اقتدار میں ریٹائرڈ ضعیف بیورو کریٹ کہاں کہاں سے ہیں؟ مشرقی پاکستان علاقہ نہ ہوتا، انسان ہوتا تو آج قہقہہ لگا کر کہتا ’’دیکھا، کیسی بد دعا لگی ہے! اب بتاؤ کیسی ہے پولرائزیشن!‘‘

مگر جب پاکستان ایک ملک تھا تو اس وقت سیاسی اختلاف کرنے والوں پر یا فوج کا ساتھ دینے والوں پر، آج غداری کا الزام کیسے لگ سکتا ہے؟ کیا یہ آسمانی کتاب میں لکھا ہے کہ عوامی لیگ سے سیاسی اختلاف نہیں ہو سکتا تھا؟ اگر پاکستان متحد رہ جاتا تو کیا اختلاف کرنے پر عوامی لیگ کو مطعون کیا جا سکتا تھا؟ نہیں، ہرگز نہیں! تو پھر صلاح الدین چودھری، علی احسن مجاہد اور دوسرے سیاست دانوں کو کس طرح قصور وار ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ اس وقت بنگلہ دیش کا وجود کہیں نہ تھا۔ ملک ایک تھا، سیاسی رائے کچھ بھی ہو سکتی تھی۔ حسینہ واجد غداری کے عذر لنگ پر سیاست دانوں کو قتل کرا رہی ہیں، بلکہ کر رہی ہیں۔ یہ ایک بھیانک روایت ہے جس کا آغاز اس عورت نے کیا ہے۔ یہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوگا۔ یہ خون اپنا حساب لے گا۔ مجیب الرحمن آخری آدمی نہیں ہیں جو گھر کی سیڑھیوں پر قتل ہوئے!

رہا بہت سے ان دوستوں کا شکوہ جو ایک مذہبی سیاسی جماعت کی اس معاملے میں خاموشی کا رونا رو رہے ہیں، ان حضرات کا شکوہ ناروا ہے۔ وہ کس سے شکوہ کر رہے ہیں؟ امید ہی کیوں رکھی تھی؟ کچھ جماعتوں کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے کہ ہمیشہ صحیح وقت پر غلط فیصلہ اور صحیح فیصلہ غلط وقت پر کریں۔ اُس وقت عوامی امنگوں کے سامنے بند باندھنا بھی سیاسی کم نظری (Political Myopia) تھا اور اِس وقت شور محشر بپا نہ کرنا بھی افسوس ناک ہے۔ فارسی کے شاعر نے انھی کا ماتم کیا ہوگا۔ ع

زیں ہمرہانِ سست عناصر دلم گرفت

کم کوشی ان ہمراہیوں کے خمیر میں گوندھ دی گئی ہے! دل جیسے مٹھی میں جکڑا جا رہا ہے!!

(بشکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘)

حالات و واقعات

جنوری ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۱

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی ادارتی ذمہ داریوں کی منتقلی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بھارتی وزیر اعظم کا دورۂ پاکستان
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۴)
ڈاکٹر محی الدین غازی

اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق‘‘
محمد زاہد صدیق مغل

بیل ۔ سینگوں کے بغیر؟
خورشید احمد ندیم

جدید علم الکلام
مولانا مفتی منیب الرحمن

بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست کے سوال و جواب
محمد عمار خان ناصر

حسینہ واجد کی انتقامی سیاست
محمد اظہار الحق

رفیق احمد باجوہ ۔ ایک بھولا بسرا کردار
محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

پروانہ جمعیت صوفی خدا بخش چوہانؒ
ابو محمد سلیم اللہ چوہان سندھی

سود، کرایہ و افراط زر: غلط سوال کے غلط جواب کا درست جواب
محمد زاہد صدیق مغل

سید احمد شہید کی تحریک اور تحریک طالبان کا تقابلی جائزہ
مولانا محمد انس حسان

ممتاز قادری کی سزا ۔ ڈاکٹر شہباز منج کے خیالات پر ایک نظر
مولانا قاضی نثار احمد

مکاتیب
ادارہ

ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان : بین المذاہب اور بین المسالک تناظرات کی نئی تشکیل
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

سانحہ ہائے ارتحال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی

Since 1st December 2020

Flag Counter