ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی ادارتی ذمہ داریوں کی منتقلی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میں نے اپنے والد ماجد امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صاحب صفدر قدس سرہ کی ہدایت کے مطابق تعلیم و تربیت پائی ہے، اور تقلیداً بھی اور تحقیقاً بھی انہی کے مسلک و مشرب کے مطابق اس بات کا قائل ہوں اور رہا ہوں کہ ہدایت و سلامتی جمہور امت کے ساتھ منسلک رہنے میں ہے، اور کوئی بھی ایسا نظریہ جو جمہور امت کے مسلمات کے خلاف ہو، درست نہیں ہے اور جمہور امت کے مسلمات کے خلاف کوئی انفرادی رائے ہرگز قابل اتباع نہیں ہے۔ میں نے اپنی متعدد تحریروں اور تقریروں میں یہ بات پوری طرح واضح کی ہے اور جن لوگوں نے جمہور امت کے مسلمات کے خلاف کوئی راستہ اختیار کیا ہے، میں نے اس کی تردید میں الحمد للہ اپنی دانست کی حد تک کسی مداہنت سے کام نہیں لیا۔ البتہ میں مخالف نظریات پر تنقید میں سنجیدگی، متانت اور علمی اسلوب کا قائل ہوں اور اسی کو اپنے اکابر کا طریقہ سمجھتا ہوں۔ چنانچہ اسی اسلوب کے ساتھ میں نے جناب جاوید غامدی صاحب کے متعدد افکار پر بھرپور تنقید کی ہے جو شائع ہو چکی ہے۔ 

البتہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ میں، میں نے ایک ایسا فورم مہیا کرنے کی کوشش کی تھی جس میں ایسے مخالف افکار کے لوگ بھی اپنا مدعا اپنے الفاظ میں بیان کر سکیں تاکہ جب ان پر کوئی تنقید ہو تو یہ نہ کہا جا سکے کہ ان کی بات پوری طرح نہیں سنی گئی یا اسے سیاق و سباق سے کاٹ کر بیان کیا گیا ہے۔ اسی تناظر میں ’’الشریعہ‘‘ کے مدیر اور میرے بیٹے حافظ عمار ناصر سلّمہ کے متعدد مضامین بھی ایسے شائع ہوئے ہیں جن میں انہوں نے بعض مسائل میں جناب غامدی صاحب کی تائید کی ہے یا انہی کا نقطہ نظر اپنایا ہے۔ اس بنا پر بعض حضرات کو یہ شبہہ پیدا ہوگیا کہ میں ان افکار میں ان کا ہم نوا ہوں، حالانکہ یہ حقیقت نہیں ہے۔ میں ایک مرتبہ پھر وضاحت کرتا ہوں کہ میرا مسلک و مشرب جمہور امت کے مسلمات کی اتباع ہے، اور اس کے خلاف میرے بیٹے سمیت جس کسی نے کچھ کہا یا لکھا ہے، مجھے اس سے شدید اختلاف ہے اور میں اس سے اپنی مکمل براء ت کا اظہار کرتا ہوں۔ 

اگرچہ ’’الشریعہ‘‘ میں نے مذکورہ بالا مقصد کے تحت خود جاری کیا تھا، لیکن اس کا مقصد جدید لکھنے والوں کا یہ شکوہ دور کرنا تھا کہ ان کی بات سنجیدگی سے نہیں سنی جاتی۔ لیکن چونکہ میرے مسلک و مشرب کے بارے میں مغالطے اسی رسالے کے مضامین کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں یا کیے گئے، اس لیے بزرگوں نے جن کی رائے میری نظر میں قابل صد احترام ہے، مجھے یہ مشورہ دیا ہے کہ میں یہ بیان جاری کرنے کے ساتھ ’’الشریعہ‘‘ سے علیحدگی اختیار کر لوں تاکہ اس میں شائع ہونے والے مضامین کی کسی بھی طرح میری طرف نسبت نہ کی جا سکے۔ میں ان بزرگوں کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ’’الشریعہ‘‘ سے علیحدگی اختیار کرتا ہوں اور اپنے بیٹے حافظ عمار خان ناصر سلّمہ کو بھی، جو آئندہ ’’الشریعہ‘‘ کے ذمہ دار ہوں گے، یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ جمہور امت کے مسلمات سے کسی بھی مسئلے میں علیحدہ روش اختیار نہ کریں۔ لیکن چونکہ وہ خود صاحب قلم ہیں، اس لیے اگر وہ ایسا کوئی رویہ اختیار کریں گے تو یہ ان کا اپنا فیصلہ ہوگا، میری طرف اس کی نسبت کسی طرح درست نہیں ہوگی۔

ابوعمار زاہد الراشدی، گوجرانوالہ 

۱۴ نومبر ۲۰۱۵ء


مذکورہ تحریر حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم، حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری زید مجدہم اور مولانا مفتی کفایت اللہ مانسہروی زید مجدہم کے مشورہ کے مطابق مرتب کر کے حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم کی خدمت میں بھجوائی گئی جس کے جواب میں حضرت شیخ مدظلہ نے مندرجہ ذیل مکتوب گرامی ارسال فرمایا ہے:


باسمہ سبحانہ

مکرم و محترم جناب مولانا ابوعمار زاہد الراشدی حفظہ اللہ و رعاہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ایک عرصہ سے ’’ماہنامہ الشریعہ‘‘ کا قضیہ تشویش و اضطراب کا سبب بنا ہوا تھا، آپ نے ہمت و حوصلے اور وسعت قلب سے کام لے کر اس کو حل فرما دیا۔ احقر جناب کو ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہے۔ جناب کے اس فیصلے سے بے حد خوشی ہوئی اور بے اختیار دل سے آپ کے لیے، مع جملہ متعلقین حسنات و خیرات کی دعا نکلی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو والد ماجد ابوالزاہد سرفراز خان صفدر کا سچا اور حقیقی جانشین بننے کی توفیق سے نوازے، آمین یا رب العالمین۔ 

احقر ہمیشہ آپ کی اعلیٰ و عمدہ صلاحیتوں کا قائل و معترف رہا ہے۔ میرے دل میں کبھی بھی اس میں تردد پیش نہیں آیا۔ 

مجھ جیسے محروم کو حق نہیں کہ نصیحت کرے، بزرگوں کا ارشاد نقل کر رہا ہے۔ ’’عافیت اور فتنوں سے حفاظت کا ذریعہ بزرگوں (جن کا برحق ہونا مسلمات میں شمار ہوتا ہے) کی اتباع و پیروی میں منحصر ہے اور سکون و طمانیت کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ ‘‘

سلیم اللہ خان

خادم جامعہ فاروقیہ کراچی

۴ صفر ۱۴۳۷ھ /۱۷؍ نومبر ۲۰۱۵ء


چنانچہ زیر نظر شمارہ سے میں ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی ادارتی ذمہ داری مکمل طور پر عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلّمہ کے سپرد کر رہا ہوں جس کی علمی صلاحیت، تحقیقی ذوق اور دینی صلابت پر، ذاتی طور پر بعض مسائل میں اختلاف رائے کے باوجود، مجھے مکمل اعتماد ہے اور قوی امید ہے کہ وہ ’’الشریعہ‘‘ کو اس کے اہداف، دائرۂ کار اور معیار کے مطابق زیادہ بہتر طور پر آگے بڑھا سکے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

حالات و واقعات

جنوری ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۱

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی ادارتی ذمہ داریوں کی منتقلی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بھارتی وزیر اعظم کا دورۂ پاکستان
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۴)
ڈاکٹر محی الدین غازی

اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق‘‘
محمد زاہد صدیق مغل

بیل ۔ سینگوں کے بغیر؟
خورشید احمد ندیم

جدید علم الکلام
مولانا مفتی منیب الرحمن

بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست کے سوال و جواب
محمد عمار خان ناصر

حسینہ واجد کی انتقامی سیاست
محمد اظہار الحق

رفیق احمد باجوہ ۔ ایک بھولا بسرا کردار
محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

پروانہ جمعیت صوفی خدا بخش چوہانؒ
ابو محمد سلیم اللہ چوہان سندھی

سود، کرایہ و افراط زر: غلط سوال کے غلط جواب کا درست جواب
محمد زاہد صدیق مغل

سید احمد شہید کی تحریک اور تحریک طالبان کا تقابلی جائزہ
مولانا محمد انس حسان

ممتاز قادری کی سزا ۔ ڈاکٹر شہباز منج کے خیالات پر ایک نظر
مولانا قاضی نثار احمد

مکاتیب
ادارہ

ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان : بین المذاہب اور بین المسالک تناظرات کی نئی تشکیل
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

سانحہ ہائے ارتحال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی