کیا فرعون مسلمان ہو گیا تھا؟

شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

(امام الصوفیاء حضرت الشیخ محی الدین بن عربی قدس اللہ سرہ العزیز سے منسوب ایک قول میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ فرعون نے جب غرق ہوتے وقت اللہ تعالیٰ پر ایمان کا اظہار کیا تو اس کا ایمان قبول ہو گیا تھا اور وہ شہادت سے ہمکنار ہوا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ تعالیٰ ایک استفسار کے جواب میں اس دعوٰی کا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں۔ ادارہ)


ایمانِ فرعون کے بارے میں جو کچھ شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے وہ جمہور کی رائے کے خلاف ہے۔ استدلال کی سخافت سے شبہ ہوتا ہے کہ غالباً یہ قول ان کا نہیں بلکہ جیسا بعض علماء کا قول ہے کہ ملاحدہ نے ان کی کتاب میں اپنی طرف سے زیادہ کر دیا ہے۔ بہرحال جو کچھ بھی ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس مقالہ پر رد کے لیے ایک مستقل رسالہ تصنیف کیا ہے جس کو عرصہ ہوتا ہے، میں نے مدینہ منورہ زید شرفا میں دیکھا تھا، یہ نہیں  معلوم کہ وہ چھپ گیا ہے یا نہیں۔

(۱) استدلال میں اولاً امراۃ فرعون رضی اللہ عنہا کا قول پیش کیا گیا ہے مگر یہ استدلال نہایت کمزور ہے۔ جس وقت یہ قول ان سے صادر ہوا جب تک وہ خود بھی ایمان نہیں لائی تھیں۔ پھر ان کا عالم الغیب ہونا یا امور مستقبلہ پر مطلع ہونا کسی وقت میں بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ان کا کشف و الہام کسی زمانے شرعی حجت ہو سکتا ہے، پھر کس طرح یہ قول قابلِ استدلال ہو سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر محض ان کے قول کو نقل فرمایا ہے، اس کی تصحیح اور تصدیق نہیں فرمائی۔ یہ عادت اقوالِ صحیحہ اور باطلہ دونوں میں جاری ہے۔ نیز قرۃ العین ہونا محبوبیہ سے کنایہ ہے جو کہ ’’القیت علیک محبۃ منی‘‘ (اور  ڈال دی میں نے تجھ پر محبت اپنی طرف سے) کا نتیجہ تھا۔ اس لیے ہر مومن اور غیر مومن کے اس زمانہ طفولیت میں حضرت موسٰی علیہ السلام محبوب اور قرۃ عین تھے۔ اس سے ایمانِ فرعون پر استدلال نہایت ہی کمزور ہے، بالخصوص جبکہ اس کے خلاف قواعد کلیہ اور آیات جزئیہ دونوں کھلے بندوں دلالت کر رہی ہوں۔

علیٰ ہذا القیاس اس کو آیت قرار دینا بھی اسلام پر دال نہیں۔ ہر وہ شے جس سے جناب باری عز اسمہ کے صفات و افعال و ذات پر کسی وجہ سے استدلال ہو سکتا ہو، وہ آیۃ ہو سکتی ہے۔ اس میں ذی روح ہونے کی بھی شرط نہیں ہے چہ جائیکہ اسلام مشروط ہو۔

قواعدِ کلیّہ شرعیہ جو کہ قطعی طور پر اس کے بطلان کے شاہد ہیں

فلما رأوا بأسنا قالوا اٰمنا باللہ وحدہ وکفرنا بما کنا بہ مشرکین فلم یک ینفعھم ایمانھم لما رأوا بأسنا سنۃ اللہ التی قد خلت فی عبادہ وخسر ھنا لک الکافرون (سورہ مومن  ۸۴ و ۸۵)

(ترجمہ) ’’پھر جب انہوں نے دیکھ لیا ہماری آفت کو، بولے ہم یقین لائے اللہ اکیلے پر اور ہم نے چھوڑ دیں وہ چیزیں جن کو شریک بتلاتے تھے، پھر نہ ہوا کہ کام آئے ان کو یقین لانا ان کا جس وقت دیکھ چکے ہمارا عذاب، رسم پڑی ہوئی اللہ کی جو چلی آئی ہے اس کے بندوں میں اور خراب ہوئے اس جگہ لشکر۔‘‘

اس آیت سے قاعدہ کلیہ اور سنتِ الٰہی کا پتہ چلتا ہے کہ عذابِ الٰہی کے دیکھنے  کے بعد ایمان معتبر نہیں۔ دوسری جگہ ارشاد ہے:

فلما احسوا بأسنا اذا ھم منھا یرکضون لا ترکضوا وارجعوا الٰی ما اترفتم فیہ ومساکنکم  لعلکم تسئلون قالوا یا ویلنا انا کنا ظالمین فما زالت تلک دعواھم حتی جعلناھم حصیدًا خامدین (سورہ انبیاء ۱۲۔۱۵)

(ترجمہ) ’’پھر جب آہٹ پائی انہوں نے ہماری آفت کی تب لگے وہاں سے  بھاگنے، مت بھاگو اور لوٹ جاؤ جہاں تم نے عیش کیا تھا اور اپنے گھروں میں شاید تم کو کوئی پوچھے، کہنے لگے ہائے خرابی ہماری ہم تھے گنہگار، پھر برابر یہی رہی ان کی فریاد یہاں تک کہ ڈھیر کر دیے گئے کاٹ کر بجھے پڑے ہوئے۔‘‘

دوسری جگہ ارشاد ہے:

فلولا کانت قریۃ اٰمنت فنفعھا ایمانھا الا قوم یونس لما اٰمنوا کشفنا عنھم عذاب الخزی فی الحیاۃ الدنیا ومتعناھم الی حین (سورہ یونس۹۸)

(ترجمہ) ’’سو کیوں نہ ہوئی کوئی بستی کہ ایمان لاتی پھر کام آتا ان کو ایمان لانا، مگر یونس کی قوم جب وہ ایمان لائی اٹھا لیا ہم نے ان پر سے ذلت کا عذاب دنیا کی زندگانی میں اور فائدہ پہنچایا ہم نے ان کو ایک وقت تک۔‘‘

الغرض عذاب کے دیکھنے کے بعد ایمان لانا نفع دیتا۔ اس قاعدے کلیے سے صرف قوم یونس علیہ السلام کو مستثنٰی قرار دیا گیا ہے جس کی وجہ یہ تھی کہ حقیقتاً ان پر عذاب نہیں آیا تھا بلکہ حضرت  یونس علیہ السلام کی جلدبازی کی بنا پر صورتِ عذاب نمودار کی گئی تھی۔ ادھر حضرت یونس علیہ السلام پر اس جلدبازی پر متابات متعددہ وارد کیے گئے تھے۔ اس قاعدے کلیے کو سورہ نساء میں مندرجہ ذیل کلمات کے ساتھ مشرح فرمایا گیا ہے:

ولیست التوبۃ للذین یعملون السیئات حتی اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الاٰن ولا الذین یموتون وھم کفار اولئک اعتدنا لھم عذابا الیما۔ (سورہ النساء ۱۸)

(ترجمہ) ’’اور ایسوں کی توبہ نہیں جو کیے جاتے ہیں برے کام یہاں تک کہ جب سامنے آجاوے ان میں سے کسی کو موت تو کہنے لگا میں توبہ کرتا ہوں، اور نہ ایسوں کی توبہ جو کہ مرتے ہیں حالت  کفر میں، ان کے لیے تو ہم نے تیار کیا ہے عذاب دردناک۔‘‘

جس نے صاف طور پر ظاہر کر دیا کہ موت حاضر ہو جانے کے وقت میں (جب کہ علاماتِ موت ظاہر ہو جائیں اور انسان کو عالمِ غیب کی اشیاء دکھائی دینے لگیں) توبہ مقبول نہیں ہے، نہ عذابِ دنیوی دور ہوتا ہے اور نہ عذابِ آخرت سے رستگاری ہوتی ہے۔ نیز ان آیات نے صاف طور پر یہ بھی ظاہر کر دیا کہ فرعون، جس نے ادراکِ غرق اور عذابِ الٰہی کے مشاہدے کے بعد ایمان کے کلمات کہے، وہ ایماندار عند  اللہ اور عند الشرح نہیں ہوا اور اس کی توبہ مقبول نہیں ہوئی۔ ادراکِ غرق کا مرتبہ تو رویتِ عذابِ الٰہی اور رویت یاسِ خداوندی سے بعد کا ہے، جب کہ رویت ہی سے ایمان  کا نفع دینا ممنوع ہو جاتا ہے تو ادراکِ عذاب سے بدرجہ اولٰی ممنوع ہو  گا۔

حضرت موسٰیؑ کا فرعون اور فرعونیوں کے لیے بد دعا میں ارشاد فرمانا ’’فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم‘‘ خود اس کے لیے شاہد عدل ہے۔ اگر ایسے وقت میں ایمان نافع ہوتا تو اس بددعا کے کوئی معنی نہیں تھے حالانکہ یہ دعا مقبول ہوئی اور فرمایا گیا ’’قد اجیبت دعوتکما‘‘ اور اسی بددعا کا بھی اثر تھا کہ فرعون نے مرتے وقت تک ایمان قبول نہ کیا۔ بہرحال ان آیات سے جو حکم اور قاعدۂ خداوندی مفہوم ہوتا ہے وہ نہایت قوی ہے اور ’’فصوص الحکم‘‘ میں جو استدلال ذکر کیا گیا ہے وہ اس کے مقابلے میں کوئی بھی وقعت اور قوت نہیں رکھتا۔ غور فرمائیے۔ فرعون کے متعلق آیاتِ خصوصیہ بھی جمہور ہی کی تائید کرتی ہیں۔ سورہ ہود میں فرمایا جاتا ہے:

ولقد ارسلنا موسٰی باٰیاتنا وسلطان مبین۔ الٰی فرعون وملئہ فاتبعوا امر فرعون وما امر فرعون برشید۔ یقدم قومہ یوم القیامۃ فاردھم النار وبئس الورد المورود۔ واتبعوا فی ھذہ لعنۃ و یوم القیامۃ بئس الرفد المرفود۔ (سورہ ہود ۹۶۔۹۹)

(ترجمہ) ’’اور البتہ ہم بھیج چکے ہیں موسٰی کو اپنی نشانیاں اور واضح سند دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس۔ پھر وہ چلے حکم پر فرعون کے اور نہیں بات فرعون کی کچھ کام کی۔ آگے ہو گا اپنی قوم کے قیامت کے دن پھر پہنچائے گا ان کو آگ پر، اور برا گھاٹ ہے جس پر پہنچے۔ اور پیچھے ملتی رہی اس جہاں میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، برا انعام ہے جو ان کو ملا۔‘‘

آیت مذکورہ بالا ’’یقدم قومہ الخ‘‘ کے جملے پر غور کریں، اگر اس کا ایمان عند اللہ معتبر ہوتا تو دوزخ کے وارد کرنے میں وہ سب سے آگے آگے کیوں ہوتا اور دنیا و آخرت میں لعنت کیوں اس پر کی جاتی؟ بالخصوص صاحبِ فصوصؒ کے اس قول کی بنا پر

فقبضہ طاھر او مطھر الیس فیہ شیئ من الحیف لانہ قبضہ عند ایمانہ قبل ان یکتسب شیئا من الاثام والاسلام یجب ما قبلہ۔

’’فرعون دنیا سے طاہر اور مطہر مرا، اس کے اندر کوئی گناہ نہیں رہا، کیونکہ اس کی موت قبل اس کے کہ کچھ گناہ کرے ایمان کے ساتھ ہو گئی۔ اور اسلام ما قبل گناہوں کو محو اور قطع کر دیتا ہے۔‘‘

تو اس آیت کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے اور بالکل ہی مناقظہ لازم آتا ہے۔

نوٹ: یہ تاویل کرنا کہ ضمیریں صرف ملاء کی طرف راجع ہیں فرعون اس میں داخل نہیں ہے، خلافِ عربیت اور خلافِ لسانِ عربی ہے۔ بالخصوص جبکہ ’’یقدم‘‘ اور ’’قومہ‘‘ کی ضمیر خصوصیت کے ساتھ فرعون ہی کی طرف راجع ہوتی ہے اس لیے آئندہ کی ضمیری مجموعہ کی طرف ہی عائد ہوں گی۔

نیز یہ تاویل کہ وہ اپنی قوم کو تو داخل فی النار کرا دے گا مگر خود داخل نہیں ہو گا، بالکل غلط ہے۔ اگر اس کا امر بالمعصیت معصیت نہیں رہا تھا اور اسلام نے حسبِ ارشاد ’’یجب ما قبلہ‘‘ گزشتہ کو محو کر دیا تھا تو پھر یہ جزا ’’یقدم قومہ الخ‘‘ کیوں دی گئی اور وہ اگواکار کیوں بنایا گیا؟ اور جب کہ وہ طاہر اور مطہر ’’لیس فیہ شیئ من الحیف‘‘ ہے تو قیامت میں یہ معاملہ کیوں ہے؟ ایسے لوگوں کے لیے تو ارشاد کیا گیا ہے ’’لا یسمعون حسیسھا‘‘ نیز دوزخ کی گرمی اور تغیظ زفیر شہیق وغیرہ مسیرۃ سبعین سنہ تک پہنچتی ہے، کیا اس ایراد قوم میں وہ خود عذاب میں مبتلا نہیں ہو گا؟ سورہ قصص میں  ہے:

واستکبر ھو وجنودہ فی الارض بغیر الحق وظنوا انھم الینا لا یرجعون۔ فاخذناہ وجنودہ فنبذناھم فی الیم فانظر کیف کان عاقبۃ الظالمین۔ وجعلناھم ائمۃ یدعون الی النار ویوم القیامۃ لا ینصرون۔ واتبعناھم فی ھذہ الدنیا لعنۃ و یوم القیامۃ ھم من المقبوحین۔ (سورہ قصص۳۹۔۴۲)

’’اور بڑائی کرنے لگے وہ اور اس کے لشکر ملک میں ناحق، اور سمجھے کہ وہ ہماری طرف پھر کر نہ آئیں گے۔ پھر پکڑا ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں سو دیکھ لیا کیسا انجام ہوا گنہگاروں کا۔ اور کیا ہم نے ان کو پیشوا کہ بلاتے ہیں دوزخ کی طرف اور قیامت کے دن ان کو مدد نہ ملے گی۔ اور پیچھے رکھ دی ہم نے ان پر اس دنیا میں پھٹکار اور قیامت کے دن ان پر برائی ہے۔‘‘

ان آیات پر غور فرمائیے، اشک بار کی معصیت میں فرعون کی نسبت خاص طور پر ذکر کی گئی اور پھر مابعد کی ضمیریں مجموعہ کی طرف عائد کی جا رہی ہیں۔ نیز ’’ائمہ یدعون الی النار‘‘ کا حقیقی مصداق خود فرعون ہے، اس کے ملا کے لوگ تو ثانیاً و بالعرض ہوں گے اور ان سب کو قیامت میں مقبوح فرماتے ہیں۔ کیا ایمان اور اس کے اثار کے ہوتے ہوئے یہ جزائیں مترتب ہو سکتی ہیں؟ آیت:

فوقاہ اللہ سیئات ما مکروا وحاق باٰل فرعون سوء العذاب۔ النار یعرضون علیھا غدوًا وعشیا ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا اٰل فرعون اشد العذاب۔ (سورہ مومن۴۵۔۴۶)

’’پھر بچا لیا موسٰیؑ کو اللہ نے برے داؤں سے جو وہ کرتے تھے اور الٹ پڑا فرعون والوں پر بری طرح کا عذاب۔ وہ آگ ہے کہ دکھلا دیتے ان کو صبح اور شام، اور جس دن قائم ہو گی قیامت حکم ہو گا داخل کرو فرعون والوں کو سخت سے سخت عذاب میں۔‘‘

حضرت شیخؒ کی یہ تاویل کہ آلِ فرعون میں خود فرعون داخل نہیں ہے، قرآن کے محاورے کے خلاف ہے۔ فرمایا جاتا ہے ’’اعملوا اٰل داود شکرًا‘‘ (الآیۃ) میں بالاتفاق حضرت داؤدؑ مخاطب ہیں۔ اسی طرح آیت ’’ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین‘‘ (الآیۃ) میں فرعون بھی بالاتفاق اس مواخذے میں داخل ہے۔ حضرت شیخ اکبرؒ بہت بڑے پائے کے بزرگ ہیں اور بہت بڑے محقق ہیں، اس لیے  یہ قول یا تو درحقیقت ان کا ہے ہی نہیں بلکہ ان کی تصانیف میں ملاحدہ نے چھپا کر داخل کر دیا ہے جیسا کہ امام العارفین شیخ عبد الوہاب شعرانیؒ اور دیگر اکابر کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے۔ اور اگر ان کا قول ہی ہو تو یقیناً اس میں ان سے خطا ہوئی ہے، وہ بڑے ہیں مگر معصوم نہیں ہیں، اس لیے جمہور کا قول صحیح ہے۔

حدیث قوی میں وارد ہے کہ اس کے اس قول کے وقت میں حضرت جبرائیلؑ نے دریا سے گارا نکال کر اس کے منہ میں بھر دیا کہ کہیں رحمتِ خداوندی اس کی نگرانِ کار نہ بن جائے ’’مخافۃ ان تدرکہ الرحمۃ‘‘ یہ فعل ان کا یقیناً بغض فی اللہ ہی کی بنا پر ہو سکتا ہے جو کہ اعلیٰ درجات ایمان میں سے ہے۔ مگر جو ہستی کہ ’’لا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون ما یؤمرون‘‘ کے مصادیق کی امام اور عند ذی عرش مکین مطاع اور امین ہو، بغیر مرضی خداوندی کب ایسا فعل اور عمل کر سکتی ہے۔ لہٰذا یہ جملہ تاوییلات غیر مرضی اور غیر قابلِ التفات ہیں، قدرتِ خداوندی میں کلام نہیں، واقعات سے بحث ہے، واللہ اعلم۔ رحمتِ الٰہی کی وسعت اور نصوص سے معلوم ہوتی ہے اسی پر منحصر نہیں ہے۔

آراء و افکار

(مئی ۱۹۹۰ء)

مئی ۱۹۹۰ء

جلد ۲ ۔ شمارہ ۵

مسلم سربراہ کانفرنس ۔ وقت کا اہم تقاضہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مسلم اجتماعیت کے ناگزیر تقاضے
مولانا ابوالکلام آزاد

قرآنِ کریم میں تکرار و قصص کے اسباب و وجوہ
مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ

بعثتِ نبویؐ کے وقت ہندو معاشرہ کی ایک جھلک
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

امامِ عزیمت امام احمد بن حنبلؒ اور دار و رَسَن کا معرکہ
مولانا ابوالکلام آزاد

مولانا آزادؒ کا سنِ پیدائش ۔ ایک حیرت انگیز انکشاف
دیوبند ٹائمز

کیا فرعون مسلمان ہو گیا تھا؟
شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

دُشمنانِ مصطفٰی ﷺ کے ناپاک منصوبے
پروفیسر غلام رسول عدیم

آزاد جموں و کشمیر ۔ پاکستان میں نفاذِ اسلام کے قافلے کا ہراول دستہ
ادارہ

ایسٹر ۔ قدیم بت پرستی کا ایک جدید نشان
محمد اسلم رانا

مسیحی مشنریوں کی سرگرمیاں اور مسلم علماء اور دینی اداروں کی ذمہ داری
محمد عمار خان ناصر

تہذیبِ جدید یا دورِ جاہلیت کی واپسی
حافظ محمد اقبال رنگونی

پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد اور علماء کرام کی ذمہ داریاں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی شعائر کے ساتھ استہزاء و تمسخر کا مذموم رجحان
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا اجلاس
ادارہ

شریعت کا نظام اس ملک میں اک بار آنے دو
سرور میواتی

آپ نے پوچھا
ادارہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ

ذیابیطس کے اسباب اور علاج
حکیم محمد عمران مغل

والدین اور اولاد کے باہمی حقوق
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ

سود کے خلاف قرآنِ کریم کا اعلانِ جنگ
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

تلاش

Flag Counter