نومبر و دسمبر ۲۰۰۹ء

مذہبی طبقات، دہشت گردی اور طالبان ۔ ایک سوالنامہ کے جوابات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۔ پاکستان میں موجودہ کشمکش کے بارے میں اور خاص طورپر طالبان کی قسم کے گروہوں کے سامنے آنے سے جو صورت حال پیدا ہوئی ہے، اس کے اسباب کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ اس میں پاکستانی ریاست، ایجنسیوں اور امریکا کا کیا کردار ہے؟ جواب : پاکستان کی موجودہ کشمکش کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اس فکری اور نظریاتی پس منظر کوسامنے رکھا جائے جس میںیہ کشمکش اس مقام تک پہنچی ہے۔ یہ فکری اور نظریاتی کشمکش قیام پاکستان کے بعد فوراً ہی شروع ہوگئی تھی کہ پاکستان کے معاشرتی ڈھانچے اور دستوری وقانونی نظام کی بنیا د کیاہو گی؟ وہ عناصر جنھوں نے برصغیر میں ایسٹ انڈیا...

اسلامی یونیورسٹی دہشت گردی کا نشانہ کیوں بنی؟

― محمد مشتاق احمد

۲۰ اکتوبر ۲۰۰۹ء کو ہماری مادر علمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد بد ترین دہشت گردی کا نشانہ بنی ۔ سہ پہر تین بجے کے قریب ایک خود کش حملہ آور نے خواتین کے کیمپس کے سامنے بنے ہوئے کیفے ٹیریا میں خود کو دھماکہ سے اڑادیا اور دوسرے خود کش حملہ آور نے اس کے چند لمحوں بعد امام ابو حنیفہ بلاک میں کلیۂ شریعہ و قانون میں شعبۂ شریعہ کے سربراہ کے دفتر کے سامنے خود کو دھماکہ سے اڑا دیا ۔ سوال یہ ہے کہ ان خود کش حملہ آوروں کا ہدف کیا تھا اور وہ کیا پیغام دینا چاہتے تھے ؟ مختلف لوگوں نے اس سوال کے مختلف جواب دیے ہیں جن کا ہم ذیل میں جائزہ لیں گے۔ دہشت...

آزادی کی پر تشدد تحریکیں: سبق سیکھنے کی ضرورت

― ڈاکٹر عبد القدیر خان

کشمیر کے مجوزہ حل کے بارے میں پرویز مشرف اور خورشید محمد قصوری نے کئی بیانات دیے ہیں اور یہ غلط تاثر دیا ہے کہ جیسے ہندوستان کشمیر کو پلیٹ پر رکھ کر ان کو دے رہا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کا بنیادی اصول یہ رہا ہے کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ یعنی ناقابل جدا حصہ ہے اور ہندوستان بشمول کشمیر کی سرحد میں ایک انچ کا بھی ردوبدل نہ ہوگا۔ آپ خود ہی سوچیے اور ان دو سابق حکمرانوں سے دریافت کیجیے کہ وہ کون سی شرائط تھیں جن پر ہندوستان قضیہ کشمیر کوحل کرنے پر راضی تھایا ہمیں دینے کو تیار تھا؟ حیدر آباد، جونا گڑھ اور مانا ودر کو بھی نہ بھولیے۔ حقیقت یہ...

جہاد کی فرضیت اور اس کا اختیار ۔ چند غلط فہمیاں

― محمد عمار خان ناصر

معاصر جہادی تحریکوں کی طرف سے اپنے تصور جہاد کے حق میں بالعموم جو طرز استدلال اختیار کیا جاتا ہے، اس کی رو سے جہاد ایک ایسا شرعی حکم کے طورپر سامنے آتا ہے جو عملی حالات اور شرائط وموانع پر موقوف نہیں، بلکہ ان سے مجرد دین کے ایک مطلق حکم کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے جب بھی ایسے حالات پائے جائیں جن میں نظری اور اصولی طور پر جہاد کی ضرورت اور تقاضا پید اہو جائے تو جہاد فرض ہو جاتا ہے اور اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے عملاً اقدام نہ کرنے والے مسلمان اور ان کے حکمران گناہ گار اور ایک شرعی فریضے کے تارک قرار پاتے ہیں۔ اسی تصور کے زیر اثر کسی مخصوص صورت حال...

موجودہ پر تشدد تحریکیں اور دیوبندی فکر و مزاج

― مولانا مفتی محمد زاہد

گزشتہ دنوں بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پراس کے ایک نامہ نگار کا ایک شذرہ شائع ہوا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے اپنی بات کا آغاز اسی کو نقل کرنے سے کیا جائے: ’’بائیس اور تیئس مئی کے دو روز میں نے اتر پردیش کے قصبے دیوبند میں گزارے، وہی دیوبند جس نے گزشتہ ڈیڑھ سو برس میں ہزاروں جید سنی علماء پیدا کیے، جن کے لاکھو ں شاگرد بر صغیر اور دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ آج بھی دارالعلوم دیوبند سے ہر سال چودہ سو کے لگ بھگ طلباء عالم بن کر نکل رہے ہیں۔ دیوبند، جس کی ایک لاکھ سے زائد آبادی میں مسلمانوں کا تناسب ساٹھ فیصد ہے، وہاں پہنچنے سے قبل میرا تصور یہ...

معاصر مجاہدین کے معترضین سے استفسارات

― محمد زاہد صدیق مغل

پچھلے کچھ عرصے میں مجاہدین کی انقلابی و جہادی حکمت عملی (یعنی ریاست کے اندرتعمیر ریاست) کے حوالے سے بہت سے خدشات کا اظہار کیا جانے لگا ہے اور اس ضمن میں ماہنامہ ’الشریعہ‘ نے باقاعدہ اس موضوع پر خاص نمبر نکالنے کا اہتمام کیا۔ یہاں ہمارا مقصد ان مضامین پر کوئی نقد پیش کرنا نہیں۔ پہلے ان کے پیش گزاروں کے سامنے چند سوالات رکھنا ہے تاکہ معاملے کا دوسرا رخ ان کے سامنے آسکے۔ امید ہے یہ حضرات سوالات کے علمی جوابات مہیا فرمائیں گے۔ دھیان رہے کہ اس سوال نامے کا مقصد نفس موضوع پر اپنی کوئی اصولی رائے بیان کرنا نہیں (کیونکہ اس کے لیے ایک الگ مضمون اور...

حدیث غزوۃ الہند اور مسئلہ کشمیر پر اس کا انطباق

― مولانا محمد وارث مظہری

کشمیر کے تنازع کی بنیاد پر ایک عرصے سے پاکستان کی جہادی تنظیموں نے ہندوستان کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اقدامی اور جارحانہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ شخصی اور خفیہ (proxy) نوعیت کی جنگ ہے جس کی اسلام میں کسی بھی صورت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ اسلام کے تمام تر مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے۔ پاکستان کے معتبر دینی و علمی حلقے اسے محض ایک قومی و سیاسی لڑائی تصور کر تے ہیں۔ اسے اسلامی جہاد کی شکل میں نہیں دیکھتے۔ لیکن پاکستان کی مختلف جہادی تحریکیں، جنھیں ملک کے علما اور اسکالر ز کے ایک گروپ کی بڑے پیمانے پر عوامی تائید حاصل ہے، دونوں ملکوں کے اس تنازع کو جہاد...

مولانا فضل محمد کے جواب میں

― حافظ محمد زبیر

ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے مئی/جون ۲۰۰۹ء کے شمارے میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے استاذ الحدیث مولانا فضل محمد صاحب کا محبت نامہ پڑھنے کو ملا۔ مولانا نے راقم الحروف کے ایک مضمون پر نقد کرتے ہوئے بندہ ناچیز کی طرف الحاد، ظلم، کفر، امریکہ کی وفاداری، یہود و نصاریٰ کی ہمدردی، قرآن و حدیث کے ساتھ تمسخر، حدیث کے انکار، قرآن کے مفہوم میں تحریف، اجماع امت کی خلاف ورزی، نئی شریعت بنانے اور ڈھٹائی اور سرکشی وغیرہ اوصاف کی نسبت کی ہے۔ مولانا کی ان مہربانیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم اس علمی مسئلے کی تنقیح کی طرف آتے ہیں جسے مولانانے اپنی سادہ لوحی اورفرقہ...

مکاتیب

― ادارہ

(ا) محترم قارئین الشریعہ اور اکابر تبلیغ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مفتی محمد عیسیٰ خان صاحب گورمانی کی کتاب ’’کلمۃ الہادی الیٰ سواء السبیل‘‘ پر تقریظ کے نام سے میرا ایک خط چھپا ہے۔ میںیہ وضاحت کر دیناضروری سمجھتا ہوں کہ یہ تقریظ نہیں، بلکہ میرا ذاتی خط ہے جومیں نے مفتی محمدعیسیٰ صاحب کو اس کتاب پر تبصرہ کی خواہش پر تحریرکیا اور محض ازراہ تفنن طبع کچھ جملے مزاح کے شامل کیے گئے۔ خط کے آخر میں مولانا کویہ مشورہ دیا گیا تھا کہ نہ اس خط کو شائع فرمائیں اور نہ ہی کتاب شائع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے ہمارا اپنانقصان ہے۔ صرف ایک شخصیت کی تقریروں...

’’دینی مدارس کا نظام بین الاقوامی تناظر میں‘‘

― ادارہ

(۱۷ اگست ۲۰۰۹ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’دینی مدارس کا نظام بین الاقوامی تناظر میں‘‘ کے زیر عنوان ایک فکری نشست منعقد ہوئی جس میں اقبال انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ممتاز احمد اور ڈھاکہ یونی ورسٹی کے شعبہ تاریخ کے استاد ڈاکٹر افتخار اقبال نے گفتگو کی، جبکہ الشریعہ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عمار خان ناصر نے نقابت کے فرائض انجام دیے۔ اس تقریب کی روداد افادۂ عام کے لیے یہاں شائع کی جا رہی ہے۔) محمد عمار خان ناصر۔ دینی مدارس کا نظام اور ان کا سماجی کردار، یہ اس وقت ہر سطح پر، ملکی سطح پر اور بین الاقوامی...

امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت کی تقریب رونمائی

― ادارہ

(۴ اکتوبر ۲۰۰۹ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں شائع ہونے والی، ماہنامہ ’الشریعہ‘ کی خصوصی اشاعت کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت پروفیسر حافظ خالد محمود نے کی جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر حافظ محمود اختر (چیئرمین شیخ زاید اسلامک سنٹر لاہور) شریک ہوئے۔ تقریب میں نقابت کے فرائض الشریعہ اکادمی کے رفیق مولانا حافظ محمد یوسف نے انجام دیے جبکہ بزرگ عالم دین مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے تقریب کے اختتام پر دعائیہ کلمات ارشاد فرمائے۔ تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف...

الشریعہ کی خصوصی اشاعت کے بارے میں تاثرات

― ادارہ

(۱) محترم المقام مدیر الشریعہ گوجرانوالہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ’ الشریعہ‘ کا انتہائی جامع ومبسوط خصوصی شمارہ موصول ہوا۔ کتابت، طباعت، ترتیب وتہذیب اور عناوین کے اعتبا ر سے یہ ایک مثالی کتاب ہے جس میں امام اہل سنت کی زندگی کے تقریباً ہر گوشے پر فاضل اہل قلم اور ارباب علم ودانش نے دل کی گہرائیوں سے مقالات سپر دقلم کیے ہیں۔ ام عمار کی تحریر خوبصورت اور دل میں اتر جانے والی ہے۔ اس میں بے ساختگی ہے، تصنع سے کوسوں دور۔ جناب مولانا عبدالحق خان بشیر کا امام اہل سنت کی کتب کامفصل تعارف لاجواب ہے۔ا للہ تعالیٰ الشریعہ کو آسمان صحافت کا...

’’دینی تعلیم اور عصری تقاضے‘‘ کے عنوان پر سیمینار

― ادارہ

۱۷ اکتوبر ۲۰۰۹ء کو لاہور کے ایک ہوٹل میں ’’دینی تعلیم اور عصری تقاضے‘‘ کے عنوان پر ایک سیمینار منعقد ہوا جس کا اہتمام ’’تحریک اصلاح تعلیم‘‘ اور ’’صفہ اسلامک سنٹر‘‘ کے سربراہ ڈاکٹر محمدامین نے ایک قومی اخبار کے مذہبی ونگ کے تعاون سے کیا۔ سیمینار سے ڈاکٹر محمد امین کے علاوہ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان، صوبائی وزیر جیل خانہ جات چودھری عبدالغفور، جسٹس منیر احمد مغل، معروف صحافی جناب عطاء الرحمن، ڈاکٹر محمد طاہر مصطفی، سید افتخار حسین شاہ اور دیگر مقررین کے علاوہ مولانا زاہد الراشدی نے بھی گزارشات پیش کیں۔ ڈاکٹر محمد امین...

انا للہ وانا الیہ راجعون

― ادارہ

مولانا اللہ یار خانؒ۔ گزشتہ دنوں گوجرانوالہ کے بزرگ عالم دین مولانا اللہ یار خان طویل علالت کے بعد تریسٹھ برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا اللہ یار خان مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے سینئر اساتذہ میں سے تھے اورنعمانیہ روڈ پر جامع مسجد فیروزی کے خطیب تھے۔ انہوں نے کم وبیش بیس برس تک مدرسہ نصر ۃ العلوم میں تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ ان کی نماز جنازہ مدرسہ نصرۃ العلوم میں نماز عصر کے بعد مولانا زاہدا لراشدی نے پڑھائی جس میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں، علماء کرا م ، طلبہ اور دینی کارکنوں نے شرکت کی اور اس کے بعد...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’علامہ اقبال کا تصور اجتہاد‘‘۔ مرتبین: ڈاکٹر ایوب صابر، محمد سہیل عمر۔ صفحات: ۲۸۱۔ زیر تبصرہ کتاب اقبال اکادمی پاکستان اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام ’’اقبال کا تصور اجتہاد‘‘ کے زیر عنوان منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں پڑھے جانے والے مقالات پر مشتمل ہے جو ۲۸ تا ۳۰؍اکتوبر ۲۰۰۷ء علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ سیمینار ہر مکتب فکر کا نمائندہ تھا۔ اس طرح موضوع پر متنوع ذہنوں کا کھلا اظہار سامنے آتا ہے۔ جو لوگ کھلے ذہن کے ساتھ پڑھتے ہیں، ان کے لیے بھر پور اور متنوع مواد یکجا صورت میں فراہم...

نومبر و دسمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۱۱ و ۱۲

مذہبی طبقات، دہشت گردی اور طالبان ۔ ایک سوالنامہ کے جوابات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی یونیورسٹی دہشت گردی کا نشانہ کیوں بنی؟
محمد مشتاق احمد

آزادی کی پر تشدد تحریکیں: سبق سیکھنے کی ضرورت
ڈاکٹر عبد القدیر خان

جہاد کی فرضیت اور اس کا اختیار ۔ چند غلط فہمیاں
محمد عمار خان ناصر

موجودہ پر تشدد تحریکیں اور دیوبندی فکر و مزاج
مولانا مفتی محمد زاہد

معاصر مجاہدین کے معترضین سے استفسارات
محمد زاہد صدیق مغل

حدیث غزوۃ الہند اور مسئلہ کشمیر پر اس کا انطباق
مولانا محمد وارث مظہری

مولانا فضل محمد کے جواب میں
حافظ محمد زبیر

مکاتیب
ادارہ

’’دینی مدارس کا نظام بین الاقوامی تناظر میں‘‘
ادارہ

امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت کی تقریب رونمائی
ادارہ

الشریعہ کی خصوصی اشاعت کے بارے میں تاثرات
ادارہ

’’دینی تعلیم اور عصری تقاضے‘‘ کے عنوان پر سیمینار
ادارہ

انا للہ وانا الیہ راجعون
ادارہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ